Explained with ayahs 4–5
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلا ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔ بیان فرمایا کہ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہوجاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنالینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہوجاتا۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہہ دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتیں مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 5
یعنی ایک آدمی بیک وقت مومن اور منافق، سچا اور جھوٹا، بدکار اور نیکو کار نہیں ہو سکتا۔ اس کے سینے میں دو دل نہیں ہیں کہ ایک دل میں اخلاص ہو اور دوسرے میں خدا سے بےخوفی۔ لہٰذا ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہو سکتی ہے۔ یا تو وہ مومن ہوگا یا منافق۔ یا تو وہ کافر ہوگا یا مسلم۔ اب اگر تم کسی مومن کو منافق کہہ دو یا منافق تو اس سے حقیقت نفس الامری نہ بدل جائے گی۔ اس شخص کی اصل حیثیت لازماً ایک ہی رہے گی۔
سورة الْاَحْزَاب 6
" ظِہار " عرب کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ قدیم زمانے میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑتے ہوئے کبھی یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ " تیری پیٹھ میری لئے میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے "۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور (اسی طرح) تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنایا اور (اسی طرح سمجھ لو) کہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا (بھی) نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے (جو غلط ہے واقعہ کے مطابق نہیں) اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے (اور جب منہ بولے بیٹے واقعہ میں تمہارے بیٹے نہیں تو) تم ان کو (متنبیٰ بنانے والوں کا بیٹا مت کہو، بلکہ) ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور گر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (ان کو اپنا…
Read the full tafseer →ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ وما جعل ازواجکم الی تظھرون منھن امھتکم وماجعل ادعیاء کم ابناء کم ذلک قولکم بافواھکم واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل (4)
اوپر کی تمہید کے بعدیہ بعض ایسے مور کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں قرآن کی اصلاحات کا کفارو منافقین نے آنحضرت ﷺ کے خلاف فتنہ انگیز کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
’ ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ یہ ٹکڑا بعد کی باتوں کے ذکر کے لئے بطور تمہید ہے۔ چونکہ یہ باتیں فکر و ارادہ کے تضاد کا مظہر ہیں اس وجہ سے ان کے ذکر سے پہلے نفس تضاد ارادہ پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کو اگر منظور ہوتا کہ انسان ہمیشہ متضاد و متناقض ارادوں کی کشمکش میں گرفتار رہے تو اس کو…
Read the full tafseer →4-1بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منافق یہ دعوی کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا دل کفر اور کافروں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت اس کی تردید میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، جو بڑا ہوشیار مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوی تھا کہ میرے تو دو دل ہیں جن سے میں سوچتا سمجھتا ہوں۔ جب کہ محمد کا ایک ہی دل ہے۔ یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔ (ایسر التفاسیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آگے جو دو مسئلے بیان کیے جا رہے ہیں، یہ ان کی تمہید ہے یعنی جس طرح ایک شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرلے یعنی یہ…
Read the full tafseer →2: اس معجزانہ جملے کا تعلق پچھلی آیت سے بھی ہے، اور اگلی آیت سے بھی۔ پچھلی آیت سے اس کا تعلق یہ ہے کہ کافر اور منافق لوگ آپ کو یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کو بھی خوش رکھئے، اور ان کے مطالبات مان کر ان کو بھی خوش کر دیجئے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سینے میں ایک ہی دل پیدا فرمایا ہے، اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا ہو رہے تو پھر اس کی مرضی کے خلاف کسی اور کو خوش رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ایک دل اللہ تعالیٰ کو دیدے، اور دوسرا دل کسی اور کو۔ اور اگلی آیت سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اہل عرب میں یہ رسم تھی کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہہ دیتا تھا کہ : تم میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ ” اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ ہر انسان کے اندر ایک ہی دل اور ایک ہی دماغ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا تصور بھی ایک ہوگا اور اس کا نظام بھی ایک ہوگا۔ وہ ایک ہی صراط مستقیم پر چل سکتا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی پیمانہ ہوگا جس سے وہ حسن وقبح کو ناپے گا۔ اور ایک ہی پیمانے سے وہ واقعات اور اقدار کو ناپے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی زندگی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ وہ منافق ہوگا۔ اس کی زندگی میں نشیب و فراز ہوں گے اور وہ صراط مستقیم پر نہ ہوگا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق و آداب ایک سرچشمے سے لے اور اپنا دستور و قانون کسی دوسرے سرچشمے سے لے اور اپنا…
Read the full tafseer →2 یعنی جس طرح ایک آدمی کے سینہ میں دو دل نہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کی حقیقۃً دو مائیں یا ایک بیٹے کے دو باپ نہیں ہوتے۔ جاہلیت کے زمانہ میں کوئی بیوی کو ماں کہہ دیتا تو ساری عمر کے لئے اس سے جدا ہوجاتی۔ گویا اس لفظ سے وہ حقیقی ماں بن گئی۔ اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تو سچ مچ بیٹا سمجھا جاتا تھا اور سب احکام اس پر بیٹے کے جاری ہوتے تھے۔ قرآن کریم نے اس لفظی و مصنوعی تعلق کو حقیقی اور قدرتی تعلق سے جدا کرنے کے لئے ان رسوم و مفروضات کی بڑی شدو مد سے تردید فرمائی۔ اس نے بتلایا کہ بیوی کو ماں کہہ دینے سے اگر واقعی وہ ماں بن جاتی ہے تو کیا یہ دو ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ؟ ایک وہ جس نے اول جنا…
Read the full tafseer →آیت 4 { مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ } ”اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔“
جوف کے معنی خالی جگہ کے ہیں اور یہاں اس سے سینے کا اندرونی حصہ chest cavity مراد ہے جس کے بائیں جانب دل ہوتا ہے۔ یعنی ہر انسان کے سینے میں اللہ نے ایک ہی دل رکھا ہے۔ اور اگر محاورۃً یوں کہا جائے کہ فلاں اور فلاں کے دل یکجا ہوگئے ہیں یا فلاں کا دل فلاں کے دل سے مل گیا ہے تو محض اس طرح کہہ دینے سے کسی کے سینے کے اندر حقیقت میں دو دل نہیں ہوجاتے۔ چناچہ جس طرح یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ‘ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی شخص کی دو…
Read the full tafseer →2 اللہ کا دو دل نہ بنانے کا مفہوم :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین حقائق بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسانوں کا اللہ نے ایک ہی دل بنایا ہے دو نہیں بنائے۔ لہذا ایک دل ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کو تسلیم کرسکتا ہے۔ دو متضاد حقیقتوں کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت مومن بھی ہو اور منافق بھی۔ یا وہ کافر بھی ہو اور مسلم بھی۔ ان میں سے ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کی تسلیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ دو متضاد باتوں میں سے حقیقت ایک ہی ہوسکتی ہے۔ اور اگر کوئی منافق دل میں نفاق چھپا کر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ حقیقت بیان نہیں کرتا۔ بلکہ جھوٹ بولتا اور دھوکا دیتا ہے اور اس نکاح کے…
Read the full tafseer →6۔ عرف عام میں یہ جو کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں کے ایک نہیں، دو زبانیں ہیں، تو کہیں اس کا یہ مطلب تھوڑے ہی ہوتا ہے کہ واقعۃ اس کے منہ میں کے جوف کے اندر دو زبانیں ہیں۔ اسی طرح زبان کے اس مجاز استعارہ کے کہ فلاں کے دل ایک نہیں دو ہیں، یہ مطلب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں کہ اس کے جوف صدر کے اندر قلب بھی دو ہیں ..... تو اسی طرح کسی کو مجازا بیٹا کہہ دینے یا سمجھ لینے سے یہ کیوں لازم آجائے کہ معاملات بھی اس کے ساتھ صلبی بیٹوں کی طرف برتے جانے لگیں۔ آیت میں کوئی مسئلہ تشریع الابدان (اناٹومی) کا نہیں بیان ہورہا ہے صرف تمثیل کے پیرایہ میں یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ زبان میں جو مجاز مستعمل رہتے ہیں انہیں لفظی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ . اللہ نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے۔
دل ‘ روح حیوانی اور تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے اسی وجہ سے ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے۔ اگر بالفرض دو دل ہوں تو وہ یا ایک دل سے سارے قلبی افعال سرانجام دے گا ‘ اس صورت میں دوسرا دل بےکار ہوگا ‘ یا دونوں دلوں سے ایک ہی کام کرے گا تب بھی دو ہونے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ‘ یا ایک دل سے ایک کام اور دوسرے دل سے پہلے کام کے خلاف کام لے گا اس سے افعال قلبی میں کھلا ہوا تناقض پیدا ہوجائے گا۔
بغوی اور ابن ابی حاتم نے سدی اور ابن نجیح کی روایت سے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ ایک شخص تھا ابومعمر جمیل بن معمر فہری ‘ اس شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے یہ آیت ابو معمر جمیل بن اسد کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ قوی حافظے کی وجہ سے اس کو دو دلوں والا کہا جاتا تھا۔
اور اسی طرح تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم اظہار کرلیتے ہو حرمت ابدی میں تمہاری ماں نہیں بنا دیا یہ آیت اوس بن صامت اور ان کی بیوی خولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور اسی طرح تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنا دیا۔ یہ تو صرف تمہارے کہنے کی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ حق بات بتانا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔
شان نزول : مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ (الخ)
امام ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِهٖ۔۔ : ”أَدْعِیَاءُ“ ”دَعِیٌّ“ (فَعِیْلٌبمعنی مفعول) کی جمع ہے۔ اصل مقصود کو بیان کرنے سے پہلے تمہید کے طور پر یہ بات بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے کہ ایک میں ایمان ہو اور ایک میں کفر۔ سینے میں دل ایک ہی ہے، وہ یا مومن ہوگا یا منافق یا کافر۔ اسی طرح ہر شخص کی ماں ایک ہی ہے، جس کے پیٹ میں سے وہ پیدا ہوا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے بعد کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ اس کی ماں بن جائے، نہ تمہارے اپنی بیویوں کو ماں کی طرح حرام کہنے سے وہ ماں بن جاتی ہیں، اور ہر شخص کا باپ بھی ایک ہی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ مجاہد نے کہا : یہ آیت قریش کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی، اس کی ذہانت کی وجہ سے اسے ذا القلبین (دودلوں والا) کہا جاتا۔ وہ خود بھی کہتا : میرے پیٹ میں دو دل ہیں میں ان دونوں میں سے ہر ایک سے حضرت محمد ﷺ کی عقل سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کہا : وہ فہر قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ واحدی، قشیری وؔغیرہما نے کہا : یہ آیت جمیل بن معمر فہری کے بارے میں نازل ہوئی وہ جو سنتا اسے یاد کرلیتا۔ قریش نے کہا : وہ اشیاء کو یاد نہیں رکھتا مگر اس کے دو دل ہیں۔ وہ کہتا : میرے دو دل ہیں میں ان دونوں کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کی سمجھ بوجھ سے بہتر سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر…
Read the full tafseer →1۔ احمد والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وصححہ وابن مردویہ والضیاء فی المختارہ وابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ایک دن نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ سے ایک کلمہ چھوٹ گیا تو ان منافقوں نے کہا جو آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان کے دو دل ہیں ایک دل تمہارے ساتھ ہے اور ایک دل ان کے ساتھ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماجعل اللہ لرل من قلبین فی جو فہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے لیے اس کے پیٹ میں دو دل نہیں بناتے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے خصیف کے طریق سے سعید بن جبیر و مجاہد و عکرمہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ ایک ایک آدمی دو دلوں والا پکارا جاتا تھا تو اللہ…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ اللّٰهُ [نہیں بنایا اللہ نے ] لِرَجُلٍ [کسی مرد کے لئے ] مِّنْ قَلْبَيْنِ [کوئی بھی دو دل ] فِيْ جَوْفِهٖ ۚ [اس کے اندرونی حصے (سینے) میں ] وَمَا جَعَلَ [اور اس نے نہیں بنایا ] اَزْوَاجَكُمُ اڿ [تمہاری ان بیویوں کو ] تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ [تم لوگ ظہار کرتے ہو جن سے ] اُمَّهٰتِكُمْ ۚ [تمہاری مائیں ] وَمَا جَعَلَ [اور اس نے نہیں بنایا ] اَدْعِيَاۗءَكُمْ [تمہاری منہ بولے بیٹوں کو ] اَبْنَاۗءَكُمْ ۭ[تمہارے بیٹے ] ذٰلِكُمْ [یہ ] قَوْلُكُمْ [تم لوگوں کا کہنا ہے ] بِاَفْوَاهِكُمْ ۭ [اپنے مونہوں سے ] وَاللّٰهُ يَـقُوْلُ [اور اللہ کہتا ہے ] الْحَـقَّ [حق (بات)] وَهُوَ يَهْدِي [اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
منہ بولے بیٹے تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو
تفسیر قرطبی جلد نمبر 14 ص 116 میں لکھا ہے کہ جمیل بن معمر فہری ایک آدمی تھا اس کی ذکاوت اور قوت حافظہ مشہور تھی، قریش اس کے بڑے معتقد تھے اور کہتے تھے کہ اس کے سینہ میں دو دل ہیں اور وہ خود بھی یوں کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں ان دونوں کے ذریعہ جو کچھ سمجھتا ہوں وہ محمد ﷺ کی عقل سے زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی باتوں کی تردید فرمائی اور فرمایا، (مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ) (کہ اللہ نے کسی بندہ کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے) جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعوے کی سزا ضرور ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین
وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔
(ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…
Read the full tafseer →6:۔ ما جعل اللہ الخ یہ ماقبل کی دلیل ہے بطور تمثیل فرمایا جس طرح ایک جوف میں دو دل جمع نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک دل میں دو اعتقاد جمع نہیں ہوسکتے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ اللہ کو بھی نافع و ضار سمجھیں اور مشرکین کے باطل معبودوں کو بھی۔ لا یجتمع الکفر والایمان با اللہ تعالیٰ فی قلب کما لایجتمع قلبان فی جوف فالمعنی لا یجتمع اعتقادان متغایران فی قلب الخ۔ (قرطبی ج 4 ص 117) ۔ یا دو دل ہونے سے دو رخ ہونا مراد ہے کہ خدا کو بھی نافع سمجھے اور غیر اللہ کو بھی خدا سے بھی ڈرے اور غیر خدا سے بھی، دو دل بودن بجز بےحاصلی نیست۔
یکے بینوی کے دانوی کے گو
یکے خواہ و یکے خوانوی کے جو
7:۔ و ما جعل ازواجکم الخ۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں بلکہ وحی الٰہی کا اتباع کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام کو جاری رکھیں۔ کفار ، مشرکین اور منافقین کے غلط پراپیگنڈا کا شکار نہ ہوں اور زمانہ جاہلیت کی غلط باتوں پر دھیان نہ دیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی تین باتوں کا ذکر کیا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھیں اور اپنے نبی کو ان کے مقابلے میں صحیح باتوں کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔
(حاشیہ : 1 ؎ ابو سعود ص 303 ج 4 و معالم التنزیل ص 161 ج 3 و خازن ص 922 ج 5 ، 2 ؎ ابن کثیر ص 664 ج 3 و طبری ص…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِہٖ 0 ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ اڿ تُظٰہِرُوْنَ مِنْہُنَّ اُمَّہٰتِكُمْ 0 ۚ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ 0 ۭ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاہِكُمْ 0 ۭ وَاللہُ يَـقُوْلُ الْحَـقَّ وَہُوَيَہْدِي السَّبِيْلَ 4
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی…
Read the full tafseer →تفسیر … کسی کے دو دل نہیں : پہلے فرمایا تھا کہ خلوص کے ساتھ وحی کا اتباع کرو، اب ماجعل اللہ الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ مقتضائے خلوص یہی ہے کہ ایک طرف کا ہوجائے، دو دلی اچھی نہیں۔ اس دو دلی کو اس جملہ میں رد کیا۔ دو دلی یا دو رنگی کے باطل کرنے کے لیے یہ جملہ ضرب المثل ہے۔ محاورہ عرب میں اس محل پر یہی جملہ بولا کرتے ہیں کہ اللہ نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے ہیں، دل ایک ہی ہوتا ہے، اب اس میں محبت و اطاعت بھرلو یا بغض و نافرمانی۔ یہ نفاق کی قطع و برید کے لیے بڑا پراثر جملہ ہے، عرب کے شاطر و فہیم تفاخراً یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ ہمارے دو دل ہیں اور اسی لیے ابی عرب جمیل بن معمر کا یہ لقب ہوگیا…
Read the full tafseer →مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ج وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰـِٔیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰـتِکُمْ ج وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآئَ کُمْ اَبْنَـآئَ کُمْ ط ذٰلِکُمْ قَوْلُـکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ ط وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَیَھْدِی السَّبِیْلَ ۔ (الاحزاب : 4)
(اللہ نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل نہیں رکھے، اور نہ تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمہاری مائیں بنایا، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ )
فکروارادہ کے تضاد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو ” اللہ “ پر توکل کرنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلم معاشرے سے رسومات کو ختم کرنے کا اعلان۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے ہی لوگوں کی مخالفت کی پر وہ کیے بغیر رسومات کا خاتمہ کیا کرتے ہیں۔
عرب معاشرہ میں متبنّٰی بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دینا اور جذبات میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ بیٹھنا حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ ان الفاظ اور رسومات کے خلاف کرنا اس طرح تھا جیسے کوئی شخص خودکشی کرنے کا اعلان کردے۔ لوگوں کے دلوں سے ان رسومات کو کھرچ ڈالنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے کہ ایک دل میں اپنے رب کا خوف رکھے اور دوسرے دل میں…
Read the full tafseer →جیسے دل ایک ہے اسی طرح ایک عورت آدمی کی یا ماں ہوگی یا بیوی :
4: مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ وَمَا جَعَلَ (اور اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور تمہاری ان بیویوں) اَزْوَاجَکُمُ الّٰئِٓیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ وَمَا جَعَلَ (کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنادیا اور تمہارے منہ بولے) اَدْعِیَآ ئَ کُمْ اَبْنَآ ئَ کُمْ (بیٹوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنادیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک سینے میں دو دل جمع نہیں کیے اور نہ ہی کسی عورت میں زوجیت اور امومت اور نہ بنو ّت اور دعوی ابنیت کو جمع کیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان کے…
Read the full tafseer →آیت ماجعل اللہ لرجل من قلبین کی تفسیر
4، ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ ، اس آیت کا نزول ابومعمرجمیل بن معمرفہری اس شخص کی سمجھ بھی تیز تھی اور حافظہ بھی اتنا قوی کہ جو کچھ سنتا تھا یاد کرلیتا قریش کہتے تھے کہ ابو معمرکاجو حافظہ اتنا قوی ہے اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے دودل ہیں وہ خود بھی کہتا تھا کہ میرے دودل ہیں محمد جو کچھ سمجھتے ہیں اس سے زیادہ سمجھ تو میرے ہر ایک دل ہے میں ایک دل سے بھی ان سے زیادہ جانتا ہوں اور بہترجانتا ہوں ۔
بدر کے دن جب قریش کو شکست ہوگئی ، ابومعمر بھی بھاگ کھڑا ہوا ایک پاؤں میں جوتی تھی اور دوسری جوتی ہاتھ میں تھی۔ اس حالت می ابوسفیان کا سامنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4‘ 5۔ یہ آیتیں زید بن حارثہ ؓ کے باب میں اتری ہیں وہ حضرت ﷺ کے لیے پالک تھے حضرت ﷺ نے ان کو متبنیّٰ کرلیا تھا نبوت سے پہلے کے رواج کے موافق لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کے نام سے پکارتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند معلوم ہوئی اس واسطے اس مصنوعی طریقہ کے توڑنے کا ارادہ فرما کر فرمایا کہ خدا نے تمہارے منہ بولوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبدللہ بن عباس ؓ سے معتبر روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 466 ج 3۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز پیغمبر ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز میں آپ کو کوئی وسوسہ پیدا ہوا تو جو منافق آپ کے ساتھ نماز پڑ رہے تھے کہنے لگے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت نمبر : 5 ۔ 4
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے ‘ جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو ‘ خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے ‘ مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت وقوع اور ان کے بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ) ” اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ “ یہ…
Read the full tafseer →سورة الاحزاب
کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں، کا کیا مطلب ہے
قول باری ہے (ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ قبیلہ قریش میں ایک شخص تھا جو اپنے مکروفریب اور چستی وچالا کی کی بنا پر ” دودلوں والا “ کہلاتا تھا۔ مجاہد اور قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق منافقین کہا کرتے تھے کہ حضور ﷺ دو دلوں والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس قول کی تکذیب کردی۔
حسن کہتے ہیں کہ ایک شخص تھا جو یہ کہا کرتا تھا کہ ” میری ایک جان تو مجھے حکم دیتی ہے اور دوسری جان روکتی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →6 ہر شخص کے پہلو میں قدرت نے ایک ہی دل رکھا ہے : سو ارشاد فرما گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے کسی کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے "۔ کہ ایک کفر و شرک کے لئے ہو اور دوسرا ایمان و یقین کے لئے۔ سو جب دل ایک ہی ہے تو وہ ہر حال میں اور خالصتًا اللہ کی توحید اور اس کی محبت ہی کے لئے وقف ہونا چاہیے۔ اور ایک ہی کیلئے وقف ہوسکتا ہے یا صرف اللہ کیلئے یا غیر اللہ کیلئے۔ لہذا غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ پر ایمان و یقین کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور غیر اللہ کے آگے بھی جھکتے اور سرتسلیم و نیاز خم کرتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دوستی و وفاداری کا عہد بھی باندھتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
صرف منہ سے کہہ دینے سے رشتے حقیقت نہیں بن سکتے۔
متبنّٰی (منہ بولے بیٹے) والی رسم کا خاتمہ
تشریح : ان آیات میں تین غلط رسموں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو کہ جاہلیت کے زمانے میں عام تھیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ عقلمند انسان کو محاروتاً کہتے کہ ” اس کے تو دو دل ہیں۔ “ یہ طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو بالکل غلط ہے۔ اللہ نے انسان کا ایک ہی دل بنایا ہے۔
دوسرا مسئلہ یا رسم یہ تھی کہ کوئی شخض اپنی بیوی کو کہہ دیتا کہ ” تو میری ماں کی طرح ہے “ تو یہ کہنے سے اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس رسم کو اللہ نے یوں ختم کیا کہ بیوی بہرحال بیوی ہی رہتی ہے اگر کوئی شخص غلطی سے یہ کہہ دے تو اس کو معافی مانگنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 3 کہ ” ایک دل میں ایمان و اخلاص ہو اور دوسرے میں کفر و نقاق “ کفر و اسلام اور ایمان و نفاق بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ صاحب ” و جیز “ لکھتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت کو توجہ الی اللہ اور توکل کا حکم دیا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ آدمی کے دو دل نہیں جو ایک اللہ کی طرف متوجہ کرے اور ایک غیر کی طرف، بلکہ دل ایک ہے سو اللہ تعالیٰ کی طرف لگانا چاہیے۔ ( حاشیہ جامع البیان) ۔4 یعنی جس طرح ایک سینہ میں دو دل نہیں ہوسکتے اور نہ بیوی ” ظہار “ کرنے یعنی ” انت علی کظھر امی “ کہہ دینے سے اس کی حقیقی ماں بن جاتی ہے، اسی طرح کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(33:5) ادعوہم ادعوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع ادعیاء ہے دعوۃ مصدر (باب نصر) تم ان کو پکارو۔ لاباء ہم : ای انسبوہم الی اباء ہم ان کو ان کے اصلی باپ کی طرف نسبت کرو۔
اقسط۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ قرین انصاف و عدل۔ قسط ھروف اضداد میں سے ہے۔ قسط بمعنی انصا بھی ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے واقیموا الوزن بالقسط (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مارنا بھی ہے اس لئے یہ ظلم وجور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً واما القاسطون فکانوا لجھنم ضطیا (72:15) اور وہ جو بےراہ گنہگار ہیں تو وہ دوزخ کے ایندھن ہیں۔ باب افعال سے انصاف کے معنی میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
لغات القرآن آیت نمبر ( 4 تا 5) ۔
ماجعل (اس نے نہیں بنایا) ۔ رجل (مرد) ۔ جوف (سینہ) ۔ الی (وہ عورتیں) ۔ تظہرون (تم ظہار کرتے ہو (بیوی کو ماں کہہ دیتے ہو) ۔ ادعیاء (پکارنا) ۔ افواہ (فوہ) (منہ ۔ چہرے) ۔ ادعوا (تم پکارو) ۔ اقسط (بہترین انصاف۔ پورا انصاف) ۔ موالی (مولی) (تونے ارادے سے کیا) ۔
نشریح : آیت نمبر 4 تا 5) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ معاشرہ میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو زبان سے کہی جاتی ہیں لیکن آنے والے گوگ زبان سے کہی گئی باتوں کو حقیقت کا روب دیدیتے ہیں حالانکہ ان باتوں کی حیثیت کوئی نہیں ہوتی جیسے عربوں میں مشہور تھا کہ جا آدمی عقل مند اور سمجھ دار ہوتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) شان نزول :
ایک کافر ابومعمر حمید فہری کی یا داشت اچھی تھی کفار نے کہا اسے کے دودل جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود بھی کہتا تھا کہ دودل ہیں ہر ایک میں محمد ﷺ سے زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری ہے جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابومعمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں می، ابوسفیا نے اس سے پوچھا کہ جنگ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا کچھ تو مارے گئے اور کچھ بھاگ گئے، ابوسفیا نے کہا، اے بدبخت تیرا کیا حال ہے جو ایک جوتی تو پہن رکھی ہے اور دوسری ہاتھ میں لے رکھی ہے اس نے کہا اس کی خبر مجھے نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ دو دل ہوتے…
Read the full tafseer →[1] ظہار سے مراد ہے بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے کبھی یہ بات کہہ بیٹھتے تھے کہ تیری پیٹھ ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ اور یہ ظہار طلاق سمجھی جاتی تھی۔
[2] یعنی تمہارا بیوی کو ماں کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بےحقیقت باتیں ہیں۔ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں اسی طرح ایک شخص کی حقیقتاً دو مائیں یا بیٹے کے دو باپ نہیں۔
Read the full tafseer →4۔ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو سچ مچ تمہاری مائیں نہیں بنادیا ہے اور اس نے تمہارے لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں کردیا ہے یہ صرف تمہارے اپنے منہ کی کہی بات ہے اور اللہ تعالیٰ حق اور سچ بات کہتا ہے اور وہی سیدھا راستہ اور سیدھی راہ دکھاتا اور بتایا ہے۔
یہاں سے زمانہ جاہلیت کے چند اقوال باطلہ کا رد فرمایا اور کافرانہ روش اور کافرانہ رسوم کا رد کیا مثلاً کوئی آدمی ذہین اور طباع اور سمجھ دار ہوتا تو زمانہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے اس مرد کے اندر دو دل ہیں اور یہ دو دل والا آدمی ہے ۔ اسی طرح ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ جاہلیت میں یہ تینوں غلط باتیں مشہور تھیں کہ ذہین و عقیل آدمی کے دو دل سمجھا کرتے، اور ظاہر موبدہ کا حکم کرتے اور متنبی کو تمام احکام میں مثل حقیق بیٹے کے قرار دیتے، یہاں سیاق کلام سے زیادہ مقصود تیسری غلطی کا رفع کرنا ہے، مگر تقویت کے لئے دو غلطیاں اور بھی رفع کردیں۔
Read the full tafseer →انسانوں کی بیک وقت دو حالتیں ممکن نہیں اور نہ ہی کوئی دو دل رکھتا ہے
4) ” اللہ تعالیٰ نے کسی مرد کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے “۔ اس کا نہ تو یہ مطلب ہے کہ بعض عورتوں کے پہلو میں دو دل ہوتے ہیں اور نہ ہی دل سے مراد اس جگہ وہ گوشت کالوتھڑا ہے جس کو ہماری زبان میں دل اور عربی زبان میں قلب کہتے ہیں۔ صاف اور سیدھا مطلب تو اس کا یہی ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مومن اور کافر ، سچا اور جھوٹا ، برا اور اچھا ، نیک عمل اور بد عمل ، صحیح اور غلط نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان ، سچائی ، اچھائی ، نیک عمل اور صحیح ہونا قلب کے فعل ہیں او اسی طرح کفر ، جھوٹ ، برائی ، بد عملی اور غلط ہونا بھی قلب کے افعال ہیں اور ایک دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Commentary
Previous verses carried instructions to the Holy Prophet ﷺ asking him not to act upon their advice and not to be cajoled into what they wanted to achieve. In the cited verses, there is a refutation of three customs prevailing among disbelievers as well as of their false notions.
(1) During jahiliyyah, Arabs used to say about a person who was smarter than others that he had two hearts in his chest cage.
(2) Then they had a custom about their wives following which a person would declare his wife to be like the back of his mother, or some other part of the body, and go on to say, 'you…
Read the full tafseer →5 That is, "One and the same person cannot be a believer and a hypocrite, truthful and false, wicked and righteous, at one and the same time. He dces not have two hearts in this chest that one should have sincerity in it and the other fearlessness of God. Therefore, a man can have only one kind of character. at a time: either he will be a believer or a hypocrite, a disbeliever or a Muslim. Now if you call a believer a hypocrite, or a hypocrite a believer, it will not change the reality. The true character of the person will inevitably remain the same."
6 Zihar is a term in Arabic. In old days…
Read the full tafseer →