Explained with ayahs 4–5
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلا ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔ بیان فرمایا کہ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہوجاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنالینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہوجاتا۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہہ دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتیں مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 8
اس حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے جو اصلاح نافذ کی گئی وہ یہ تھی کہ نبی ﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کو زید بن محمد کہنے کے بجائے ان کے حقیقی باپ کی نسبت سے زید بن حارثہ کہنا شروع کردیا گیا۔ بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ اور نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایات نقل کی ہے کہ زید بن حارثہ کو پہلے سب لوگ زید بن محمد کہتے تھے۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد انہیں زید بن حارثہ کہنے لگے۔ مزید برآں اس آیت کے نزول کے بعد یہ بات حرام قرار دے دی گئی کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے۔ بخاری و مسلم اور ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور (اسی طرح) تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنایا اور (اسی طرح سمجھ لو) کہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا (بھی) نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے (جو غلط ہے واقعہ کے مطابق نہیں) اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے (اور جب منہ بولے بیٹے واقعہ میں تمہارے بیٹے نہیں تو) تم ان کو (متنبیٰ بنانے والوں کا بیٹا مت کہو، بلکہ) ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور گر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (ان کو اپنا…
Read the full tafseer →اُدعوھم لایایھم ھوا اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین و موالیکم ولیس علیک جناح فیما اخطاتم بہ ولکن ماتعمدت قلوبکم وکان اللہ غفور رحیما (5)
’ ادعوھم لا باھم ھوا اقسط عند اللہ ‘ یعنی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو تاکہ ان کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون میں حق و عدل سے اقرب و اوفق ہے۔ اگر اس کے خلاف ورزی کرکے منہ بولے بیٹوں کو بالکل بیٹوں کے درجے میں کردیا گیا تو وہ سارا نظام وراثت و قرابت و معاشرت بالکل تلپٹ ہوجائے گا جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ اسلام کے تمام احکام و قوانین…
Read the full tafseer →5-1اس حکم سے اس رواج کی ممانعت کردی گئی جو زمانہ جاہلیت سے چلا آرہا تھا اور ابتدائے اسلام میں بھی رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو جنہیں رسول اللہ ﷺ نے آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، حتی کہ قرآن کریم کی آیت ادعوھم لآبائھم نازل ہوگئی اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو حذیفہ کے گھر میں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوگیا، جنہوں نے سالم کو بیٹا بنایا ہوا تھا جب منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھنے سے روک دیا گیا تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگیا نبی ﷺ نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو کہا کہ اسے دودھ پلا کر اپنا…
Read the full tafseer →4: یعنی اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے منہ بولے بیٹے کے ساتھ محبت اور حسن سلوک میں بیٹے جیسا معاملہ کرو ؛ لیکن اس کی ولدیت بتانے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو اپنی طرف منسوب کرنے کے بجائے اس کی صحیح ولدیت بتاؤ۔
5: مطلب یہ ہے کہ اگر منہ بولے بیٹے کی صحیح ولدیت معلوم نہ ہو تب بھی اسے اپنی طرف منسوب کرنے کے بجائے اسے اپنا بھائی یا اپنا ہم قبیلہ دوست کہو۔
6: بھول چوک میں یا مجازی طور پر منہ بولے بیٹے کو بیٹا کہہ دینے کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرمایا ہے، البتہ جب سنجیدگی سے ولدیت بتائی جائے، اس وقت اسے اپنا بیٹا ظاہر کرنا درست نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ ” اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ ہر انسان کے اندر ایک ہی دل اور ایک ہی دماغ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا تصور بھی ایک ہوگا اور اس کا نظام بھی ایک ہوگا۔ وہ ایک ہی صراط مستقیم پر چل سکتا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی پیمانہ ہوگا جس سے وہ حسن وقبح کو ناپے گا۔ اور ایک ہی پیمانے سے وہ واقعات اور اقدار کو ناپے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی زندگی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ وہ منافق ہوگا۔ اس کی زندگی میں نشیب و فراز ہوں گے اور وہ صراط مستقیم پر نہ ہوگا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق و آداب ایک سرچشمے سے لے اور اپنا دستور و قانون کسی دوسرے سرچشمے سے لے اور اپنا…
Read the full tafseer →3 یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف کی جائے کسی نے " لے پالک " بنا لیا تو وہ واقعی باپ نہیں بن گیا یوں شفقت و محبت سے کوئی کسی کو مجازاً بیٹا یا باپ کہہ کر پکار لے وہ دوسری بات ہے۔ غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباہ و التباس واقع نہ ہونے پائے۔ ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو آزاد کر کے متبنّٰی کرلیا تھا۔ چناچہ دستور کے موافق لوگ انھیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارنے لگے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی سب زید بن حارثہ کہنے لگے۔
4 یعنی اگر باپ معلوم نہ ہو تو بہرحال تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں ان ہی القاب سے یاد کرو۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →آیت 5 { اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ } ”لہٰذا انہیں پکارا کرو ان کے باپوں کی نسبت سے ‘ یہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔“
اس واضح حکم کے بعد کسی کی ولدیت تبدیل کرنا حرام مطلق ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد حضرت زید رض کو زید رض بن محمد ﷺ کے بجائے زید رض بن حارثہ کہا جانے لگا۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ کسی وجہ سے کسی کا بچہ لے کر پالتے ہیں تو اس کی ولدیت کی جگہ اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب بڑے ہو کر بچے کو پتا چلے گا کہ وہ اس کے والدین نہیں تو اسے ذہنی طور پر شدید دھچکا لگے گا جو اس کے لیے بہت سے نفسیاتی مسائل کا باعث بنے گا۔ لیکن ایسا کرنا…
Read the full tafseer →4 سلیمان فارسی اور صہیب رومی ؓ :۔ جیسے سیدنا سلمان فارسی کے باپ کا علم خود انھیں بھی نہیں تھا۔ بچپن میں ہی انھیں غلام بنا لیا گیا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ مجھے دس سے زیادہ مرتبہ بیچا اور خریدا گیا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب اسلام سلمان الفارسی) اور جیسے سیدنا صہیب رومی ؓ جو اصل میں ایرانی تھے۔ مگر اہل روم نے جب فارس پر حملہ کیا تو انھیں بچپن ہی میں قیدی بنا کر روم لے گئے تھے اور دونوں صحابہ کرام ؓ ثکو اپنے اپنے والد کے نام تک معلوم نہ تھے۔
5 یعنی اگر کوئی کسی کو پیار سے بیٹا یا بیٹی کہہ دے یا کسی کا احترام ملحوظ رکھ کر کسی بزرگ کو باپ یا بزرگ عورت کو ماں کہہ دے یا محض اخلاقاً یہ الفاظ استعمال…
Read the full tafseer →8۔ چناچہ اس آیت کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ کے آزاد شدہ غلام جنہیں اب تک عرب اپنے مذاق ومحاورہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی انتہائی شفقت و رحمت دیکھ کر زید بن محمد ﷺ کہتے تھے، اب زید بن حارثہ کہے جانے لگے (آیت) ” ھو یھدی السبیل “ وہی سیدھا راستہ دکھاتا اور ہر جہل سے نکالتا ہے۔
9۔ (تو انہیں پکارنے کے لیے یہ بھائی اور دوست کے رشتے کیا کچھ کم ہیں ؟ ) (آیت) ” اخوانکم فی الدین “۔ یعنی وہ تمہارے بھائی دینی اعتبار سے ہوں گے نسبی حیثیت سے نہیں کہ میراث وغیرہ جاری ہوسکے، فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ کسی سے بھائی کا رشتہ لے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن باپ کا رشتہ لینے میں، تاوقتیکہ نسب ہی مقصود نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →ادعوھم لاباءھم . ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو۔ یعنی حقیقی باپوں سے ان کا نسب ملاؤ۔
ھو اقسط عند اللہ . یہی بات اللہ کے نزدیک بڑے انصاف کی ہے۔
اَقْسَطُ اسم تفضیل کا صیغہ ہے لیکن نسبتی زیادتی مراد نہیں ہے بکہ فی نفسہ عدل کی زیادتی مراد ہے ‘ یعنی کامل سچی بات۔ بخاری نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہم زید کو زید بن حارثہ نہیں کہتے تھے بلکہ زید بن محمد کہتے تھے یہاں تک کہ آیت اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عنْدَ اللہ نازل ہوئی (اس کے بعد ہم زید بن حارثہ کہنے لگے) ۔
وان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم . پھر اگر تم کو ان کے باپوں (کے ناموں) سے واقفیت نہ ہو تو وہ…
Read the full tafseer →تم ان کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل اور سچائی کی بات ہے اور اگر تم ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کرنا نہ جانتے ہو تو پھر تم ان کو اپنے دینی بھائیوں کے نام کے ساتھ مثلا عبداللہ، عبدالرحمن، عبدالرحیم کہا کرو یا اپنے دوستوں کے ناموں کے ساتھ پکارو اور اگر تم سے اس چیز میں بھول چوک ہوجائے تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ جو دل سے ارادہ کر کے کرو کہ ان کے حقیقی باپوں کے علاوہ دوسروں کی طرف جان بوجھ کر منسوب کرو تو اس پر اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سابقہ گناہوں کی مغفرت فرمانے والا اور آئندہ کے لیے رحیم ہے۔ یہ آیت حضرت زید بن حارثہ کے…
Read the full tafseer →اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ : یعنی جو متبنٰی بنائے جا چکے ہیں اب انھیں ان کے باپوں ہی کی نسبت سے پکارو۔ ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اصل باپ کے سوا کسی دوسرے باپ کی طرف منسوب کرنے سے منع کردیا اور اس کی سخت وعید بیان فرمائی، چناچہ زید ؓ کو بھی زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مَا کُنَّا نَدْعُوْہُ إِلاَّ زَیْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتّٰی نَزَلَ الْقُرْآنُ : (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ) [ بخاري، التفسیر، باب : (أدعوھم…
Read the full tafseer →اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ آیت ادعوھم لابائھم یہ آیت حضرت زید بن حارثہ کے حق میں نازل ہوئی جس طرح پہلے وضاحت گزرچکی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے : ہم حضرت زید بن حارثہ ؓ کو زید بن محمد پکارا کرتے تھے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ متبنی بنانا دور جاہلیت اور دور اسلام کا معمول تھا۔ اس کے ذریعہ باہم وارث بنا جاتا اور باہم ایک دوسرے کی مدد کی جاتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ اس عمل کو منسوخ کردیا : آیت ادعوھم لابائھم ھو اقسط عنداللہ یعنی انصاف والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متبنی بنانے کا حکم ختم کردیا یہ لفظ بولنے سے منع کردیا اور اپنے اس ارشاد کے ساتھ اس کی طرف رہنمائی کی کہ اولی اور…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ والبخاری والترمذی والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ زید بن حارثہ ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ہم ان کو زید بن محمد پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا آیت ادعوہم لاباۂم ہو اقسط عنداللہ کہ ان کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارو اور وہ زیادہ انصاف کی بت ہے اللہ کے نزدیک تو نبی ﷺ نے فرمایا تو زید بن حارث بن شراحیل ہے۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بدر میں حاضر ہونے والوں میں سے تھے انہوں نے سالم کو منہ بولا…
Read the full tafseer →اُدْعُوْهُمْ [تم لوگ پکارو ان (لے پالکوں) کو ] لِاٰبَاۗىِٕهِمْ [ان کے باپوں (کے نام) سے ] هُوَ اَقْسَطُ [یہ زیادہ انصاف ہے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے نزدیک ] فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا [پھر اگر تم لوگ نہ جانو ] اٰبَاۗءَهُمْ [ان کے باپوں کو ] فَاِخْوَانُكُمْ [تو (وہ) تمہارے بھائی ہیں ] فِي الدِّيْنِ [اس دین میں ] وَمَوَالِيْكُمْ ۭ [اور تمہارے ساتھی ہیں ] وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ [اور تم لوگوں پر نہیں ہے ] جُنَاحٌ [کوئی گناہ ] فِيْمَآ [اس میں ] اَخْطَاْتُمْ [تم لوگ چوک گئے ] بِهٖ ۙ [جس میں ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] مَّا [اس میں (گناہ ہے) جس کا ] تَعَمَّدَتْ [پختہ ارادہ کیا ] قُلُوْبُكُمْ ۭ [تمہارے دلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
منہ بولے بیٹے تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو
تفسیر قرطبی جلد نمبر 14 ص 116 میں لکھا ہے کہ جمیل بن معمر فہری ایک آدمی تھا اس کی ذکاوت اور قوت حافظہ مشہور تھی، قریش اس کے بڑے معتقد تھے اور کہتے تھے کہ اس کے سینہ میں دو دل ہیں اور وہ خود بھی یوں کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں ان دونوں کے ذریعہ جو کچھ سمجھتا ہوں وہ محمد ﷺ کی عقل سے زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی باتوں کی تردید فرمائی اور فرمایا، (مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ) (کہ اللہ نے کسی بندہ کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے) جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعوے کی سزا ضرور ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین
وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔
(ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…
Read the full tafseer →10:۔ ادعوھم الخ جسے متبنی بنا لیا جاتا تھا اسے اس کے منہ بولے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارتے تھے مثلاً زید بن محمد، سالم بن ابی حذیفہ، عامر بن خطاب وغیرہ حالانکہ ان تینوں کے نسبی باپ اور تھے۔ فرمایا ان کو ان کے اصل باپوں کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو کیونکہ اللہ کے نزدیک یہی طریقہ عدل و صدق کے مناسب ہے اور اگر تمہیں ان کے باپ نہ معلوم ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ انہیں اپنے بھائی کہہ کر آواز دے لیا کرو۔ غلطی سے جو پہلے ہوتا رہا معاف ہے اب آئندہ حکم واضح ہوجانے کے بعد اگر ان کو ان کے اصل باپوں سوا منہ بولے باپوں کی طرف منسوب کروگے تو یہ بہت بڑا جرم اور گناہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں بلکہ وحی الٰہی کا اتباع کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام کو جاری رکھیں۔ کفار ، مشرکین اور منافقین کے غلط پراپیگنڈا کا شکار نہ ہوں اور زمانہ جاہلیت کی غلط باتوں پر دھیان نہ دیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی تین باتوں کا ذکر کیا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھیں اور اپنے نبی کو ان کے مقابلے میں صحیح باتوں کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔
(حاشیہ : 1 ؎ ابو سعود ص 303 ج 4 و معالم التنزیل ص 161 ج 3 و خازن ص 922 ج 5 ، 2 ؎ ابن کثیر ص 664 ج 3 و طبری ص…
Read the full tafseer →اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاۗىِٕہِمْ ہُوَاَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ 0 ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ 0 ۭ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ 0 ۙ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا 5
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و )…
Read the full tafseer →تیسری بات کی بابت سیدھا رستہ بتانے کے لیے یہ حکم دیتا ہے۔ ادعوھم لابائھم الخ کہ ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہتر اور انصاف کی بات ہے۔ اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو بھائی یا مولیٰ فلاں کہہ کے پکارا کرو۔ قال الزجاج موالیکم ای اولیاء وکم فی الدین اور بعض کہتے ہیں۔ اگر آزاد ہے اور اس کے باپ کا نام معلوم نہیں تو بھائی کہہ کے پکارو اور اگر غلام ہو تو مولیٰ فلاں اس کے آقا کے نام سے پکارو۔ موالی مولیٰ کی جمع ہے جو ولاء سے مشتق ہے جس کے معنی قرابت اور نزدیکی کے ہیں۔ قرابت نسبی کے علاوہ اسلام میں قرابت نسبی بھی معتبر ہے، پھر اس کی دو قسم ہیں۔ ایک مولاۃ و مواخاۃ…
Read the full tafseer →اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ھُوَاَقْسَطُ عِنْدَاللّٰہِ ج فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُـکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ ط وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْ تُمْ بِہٖ لا وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 5)
(منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے، اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے موالی ہیں، اس باب میں تم سے جو غلطی ہوئی اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں، البتہ تمہارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کرلیا (اس پر مواخذہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو ” اللہ “ پر توکل کرنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلم معاشرے سے رسومات کو ختم کرنے کا اعلان۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے ہی لوگوں کی مخالفت کی پر وہ کیے بغیر رسومات کا خاتمہ کیا کرتے ہیں۔
عرب معاشرہ میں متبنّٰی بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دینا اور جذبات میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ بیٹھنا حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ ان الفاظ اور رسومات کے خلاف کرنا اس طرح تھا جیسے کوئی شخص خودکشی کرنے کا اعلان کردے۔ لوگوں کے دلوں سے ان رسومات کو کھرچ ڈالنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے کہ ایک دل میں اپنے رب کا خوف رکھے اور دوسرے دل میں…
Read the full tafseer →5: اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآپـھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچائی والی بات ہے) اقسط کا معنی عدل والی۔ وضاحت فرما دی کہ ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ ایک قول یہ ہے زمانہ جاہلیت میں جب کسی کو کسی شخص کی بہادری پسند آتی تو اس کو اپنے ساتھ شامل کرتا اور اپنی مذکر اولاد جیسا اس کا میراث میں حصہ مقرر کردیتا وہ اسی کی طرف منسوب ہوتا کہا جاتا یہ فلاں بن فلاں ہے۔
کمالِ فصاحت :
کتنا فصیح کلام ہے کہ انشائی اور طلبی جملوں کو ملایا پھر خبر یہ جملہ سے ان کا فاصلہ کیا پھر ان کے ساتھ ملایا پھر جملہ اسمیہ کو اس سے الگ…
Read the full tafseer →ادعوھم لابائھم کا شان نزول
تفسیر 5۔ ، ادعوھم لابائھم، جنہوں نے اپنے لیے لے پالک لے رکھے ہیں ۔ ، ھو اقسط، یہی بات اللہ کے نزدیک بڑے انصاف کی ہے۔ ، عنداللہ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ ہم زید کی زید بن حارثہ نہیں کہتے تھے بلکہ زید بن محمد کہتے تھے ۔ یہاں تک کہ آیت ، ادعوھم لابائھم ھواقسط عند اللہ نازل ہوئی ۔
، ادعوھم لا بائھم ھو القسط عند اللہ،۔۔۔۔۔۔۔ ، فان لم تعلموا اباء ھم فاخو انکم فی الدین وموالیکم ، یعنی تم ان کو دینی بھائی سمجھو۔ ، فی الدین وموالیکم، اگرچہ وہ تمہارے آزاد کردہ ہیں لیکن وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ان کو اپنے لیے دینی بھائی کہہ کر پکار سکتے ہو۔ بعض نے کہا کہ تم ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4‘ 5۔ یہ آیتیں زید بن حارثہ ؓ کے باب میں اتری ہیں وہ حضرت ﷺ کے لیے پالک تھے حضرت ﷺ نے ان کو متبنیّٰ کرلیا تھا نبوت سے پہلے کے رواج کے موافق لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کے نام سے پکارتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند معلوم ہوئی اس واسطے اس مصنوعی طریقہ کے توڑنے کا ارادہ فرما کر فرمایا کہ خدا نے تمہارے منہ بولوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبدللہ بن عباس ؓ سے معتبر روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 466 ج 3۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز پیغمبر ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز میں آپ کو کوئی وسوسہ پیدا ہوا تو جو منافق آپ کے ساتھ نماز پڑ رہے تھے کہنے لگے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت نمبر : 5 ۔ 4
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے ‘ جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو ‘ خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے ‘ مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت وقوع اور ان کے بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ) ” اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ “ یہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ادعولھم لا بائھم ھواقسط عندالہ فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم ۔ ) انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (آخر) وہ تمہارے دین کے تو بھائی ہی ہیں اور تمہارے دوست، اس میں نسب کے بغیر کسی شخص پر بھائی کے سام کے اطلاق کی اباحت اور باپ کے اسم کے اطلاق کی ممانعت ہے۔
اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ کہے کہ وہ میرا بھائی ہے تو غلام آزاد نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ یہ کہے کہ میں نے نسبی بھائی مراد نہیں لیا ہے اس لئے کہ ایک شخص پر دینی لحاظ سے بھائی کے لفظ کا اطلاق ہوسکتا…
Read the full tafseer →10 لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ ان ۔ لے پالکوں ۔ کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت ہی سے پکارا کرو "۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ اس کے بعد حضرت زید ؓ کو زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا جو کہ ان کے حقیقی باپ تھے۔ بہرکیف حکم فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت ہی سے پکارا کرو تاکہ ان کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون عدل و انصاف اور حق و صداقت کے زیادہ قریب اور اس سے زیادہ موافقت رکھنے والی ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان منہ بولے بیٹوں کو بالکل حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
صرف منہ سے کہہ دینے سے رشتے حقیقت نہیں بن سکتے۔
متبنّٰی (منہ بولے بیٹے) والی رسم کا خاتمہ
تشریح : ان آیات میں تین غلط رسموں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو کہ جاہلیت کے زمانے میں عام تھیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ عقلمند انسان کو محاروتاً کہتے کہ ” اس کے تو دو دل ہیں۔ “ یہ طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو بالکل غلط ہے۔ اللہ نے انسان کا ایک ہی دل بنایا ہے۔
دوسرا مسئلہ یا رسم یہ تھی کہ کوئی شخض اپنی بیوی کو کہہ دیتا کہ ” تو میری ماں کی طرح ہے “ تو یہ کہنے سے اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس رسم کو اللہ نے یوں ختم کیا کہ بیوی بہرحال بیوی ہی رہتی ہے اگر کوئی شخص غلطی سے یہ کہہ دے تو اس کو معافی مانگنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →ف 6 چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے زید ؓ سے فرمایا ” انت زید بن حلدثہ بن شراجیل “ کہ تم حارثہ کے بیٹے زید ؓ ہو۔ حدیث میں ہے کہ جس نے اپنے کو کسی دوسرے کی طرف بیٹا ہونے کی حیثیت سے منسوب کیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ہاں تگریم و محبت کے طور پر کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جاسکتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کو یابنی کہہ کر پکارا (ابن کثیر)7 یعنی انہیں بھائی یا دوست کہہ کر پکادو، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر حضرت زید ؓ سے فرمایا : انت اخونا و مولانا ( ابن کثیر)8 یعنی غلطی سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ کر پکار لیا تو کچھ ہرج نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(33:5) ادعوہم ادعوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع ادعیاء ہے دعوۃ مصدر (باب نصر) تم ان کو پکارو۔ لاباء ہم : ای انسبوہم الی اباء ہم ان کو ان کے اصلی باپ کی طرف نسبت کرو۔
اقسط۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ قرین انصاف و عدل۔ قسط ھروف اضداد میں سے ہے۔ قسط بمعنی انصا بھی ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے واقیموا الوزن بالقسط (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مارنا بھی ہے اس لئے یہ ظلم وجور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً واما القاسطون فکانوا لجھنم ضطیا (72:15) اور وہ جو بےراہ گنہگار ہیں تو وہ دوزخ کے ایندھن ہیں۔ باب افعال سے انصاف کے معنی میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
لغات القرآن آیت نمبر ( 4 تا 5) ۔
ماجعل (اس نے نہیں بنایا) ۔ رجل (مرد) ۔ جوف (سینہ) ۔ الی (وہ عورتیں) ۔ تظہرون (تم ظہار کرتے ہو (بیوی کو ماں کہہ دیتے ہو) ۔ ادعیاء (پکارنا) ۔ افواہ (فوہ) (منہ ۔ چہرے) ۔ ادعوا (تم پکارو) ۔ اقسط (بہترین انصاف۔ پورا انصاف) ۔ موالی (مولی) (تونے ارادے سے کیا) ۔
نشریح : آیت نمبر 4 تا 5) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ معاشرہ میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو زبان سے کہی جاتی ہیں لیکن آنے والے گوگ زبان سے کہی گئی باتوں کو حقیقت کا روب دیدیتے ہیں حالانکہ ان باتوں کی حیثیت کوئی نہیں ہوتی جیسے عربوں میں مشہور تھا کہ جا آدمی عقل مند اور سمجھ دار ہوتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) شان نزول :
ایک کافر ابومعمر حمید فہری کی یا داشت اچھی تھی کفار نے کہا اسے کے دودل جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود بھی کہتا تھا کہ دودل ہیں ہر ایک میں محمد ﷺ سے زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری ہے جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابومعمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں می، ابوسفیا نے اس سے پوچھا کہ جنگ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا کچھ تو مارے گئے اور کچھ بھاگ گئے، ابوسفیا نے کہا، اے بدبخت تیرا کیا حال ہے جو ایک جوتی تو پہن رکھی ہے اور دوسری ہاتھ میں لے رکھی ہے اس نے کہا اس کی خبر مجھے نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ دو دل ہوتے…
Read the full tafseer →[3] لہذا ان کے مناسب حال الفاظ سے انھیں پکارو۔
[4] اس لئے اگر ایسی بات قصداً کہہ ڈالنے کے بعد بھی استغفار کرو تو اللہ معاف کر دے گا۔
Read the full tafseer →ف 1: ان آیات میں دراصل ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ اور ان غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ۔ جو اس واقعہ سے وابستہ تھیں ۔ واقعہ یہ تھا کے حضور ﷺ نے نبوت کے پہلے ازراہ شیفقت زید بن حارث کو جو کہ غلام تھے ۔ اپنا متبنیٰ قرار دیا تھا ۔ اور اس نسبت نے یہاں تک شہرت حاصل کی ۔ کہ ان کو عام طور پر زید بن محمد ﷺ کے نام سے یاد کیا جانے لگا ۔ حضور ﷺ کو یہ بہت عزیز تھے ۔ اور آپ چاہتے تھے کہ ان کے رتبہ کو سوسائٹی میں بلند کردیا جائے ۔ اور لوگوں کو بتایا جائے کہ غلام بھی جب اسلام کی آغوش میں آجاتے ہیں ۔ تو کس درجہ رفیع مرتبت ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ آپ نے حضرت زینب کو زید کے نکاح میں دے دیا ۔ پھر اتفاق یہ ہے کہ دونوں…
Read the full tafseer →5۔ تم لوگ ان لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو یہی بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک راستی اور انصاف کی بات ہے پھر اگر تم ان لے پالکوں کے حقیقی باپوں کو نہ جانتے ہو اور ان سے واقف نہ ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی اور رفیق ہیں اور اس میں تم سے جو بھول چوک ہوجائے تو اس بھول چوک میں تم پر کوئی گناہ نہیں مگر ہاں جو دل سے قصد کر کے کرو تو مواخذہ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
چوک کا مطلب یہ ہے کہ حکم کے نزول سے پیشتر جو ہوتا رہا یہ کہ بھول سے کسی وقت زبان سے نکل گیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چوک کا گناہ تو کسی چیز میں نہیں اور ارادے کا ہے اس میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ جاہلیت میں یہ تینوں غلط باتیں مشہور تھیں کہ ذہین و عقیل آدمی کے دو دل سمجھا کرتے، اور ظاہر موبدہ کا حکم کرتے اور متنبی کو تمام احکام میں مثل حقیق بیٹے کے قرار دیتے، یہاں سیاق کلام سے زیادہ مقصود تیسری غلطی کا رفع کرنا ہے، مگر تقویت کے لئے دو غلطیاں اور بھی رفع کردیں۔
Read the full tafseer →سیدھی بات کو سیدھی طرح مان لو اور اولاد کی نسبت ان کے باپوں کی طرح کرو
5) ” لوگو ! تم اولاد کو ان کے باپوں ہی کے ناموں سے پکارا کرو یہی اللہ کے نزدیک درست بات ہے “۔ باپوں سے اس جگہ مراد اصل والدین ہیں کہ اگر تم کو معلوم ہے کہ فلاں فلاں بیٹا ہے تو اس کی طرف اس کی نسبت کرنا چاہیے۔ گویا کسی کو کسی بچے یا بچی کو لے کر تم نے اس کی پرورش کردی اور اس کو اپنی اولاد بنا لیا ہے اور اولاد کی سی محبت و پیار اس سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرسکتے ہو لیکن اس اولاد کی نسبت اپنی طرف مت کرو اپنے آپ کو ان کا کفیل کہہ سکتے ہو اور اس طرح اگر کوئی دوسرا نام رکھنا چاہتے ہو تو رکھ لو لیکن ان کی نسبت ان کے اصل باپوں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Commentary
Previous verses carried instructions to the Holy Prophet ﷺ asking him not to act upon their advice and not to be cajoled into what they wanted to achieve. In the cited verses, there is a refutation of three customs prevailing among disbelievers as well as of their false notions.
(1) During jahiliyyah, Arabs used to say about a person who was smarter than others that he had two hearts in his chest cage.
(2) Then they had a custom about their wives following which a person would declare his wife to be like the back of his mother, or some other part of the body, and go on to say, 'you…
Read the full tafseer →8 The first reform introduced in connection with the implementation of this Command was that Zaid, the adopted son of the Holy Prophet, began to be .called Zaid bin Harithah, after his real father, instead of Zaid bin Muhammad. Bukhari, Muslim, Tirmidhi and Nasa'i have related this tradition from Hadrat 'Abdullah bin `Umar that in the beginning the people called Zaid bin Harithah Zaid bin Muhammad. After the revelation of this verse they began calling him Zaid bin Harithah. Moreover, after this Revelation it was forbidden that a person should assign his parentage to any other man than his own…
Read the full tafseer →