33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsسراج البیان

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی اللہ سے ڈرا ور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مان ۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو تجھے تیرے رب کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے اسی کی پیروی کر ۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر توکل (بھروسہ) رکھ اور اللہ کام بنانے والا کافی ہے

Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی آدمی کے پیٹ میں دو دل پیدا نہیں کیے اور نہی تمہاری بیویوں کو جنہیں ماں کہہ بیٹھتے ہو ۔ تمہاری (حقیقی) ماں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا ٹھہرایا ۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں ، اور اللہ سچ کہتا ہے ، اور وہی راہ دکھلاتا ہے

Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں (ف 1) کی طرف (منسوب) کرکے پکارو ۔ یہی اللہ کے نزدیک پورا انصاف ہے ۔ پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور جس بات میں تم چوک جاؤ اس میں تم پر گناہ نہیں لیکن گناہ اس میں ہے جس کا دل سے ارادہ کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 1: ان آیات میں دراصل ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ اور ان غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ۔ جو اس واقعہ سے وابستہ تھیں ۔ واقعہ یہ تھا کے حضور ﷺ نے نبوت کے پہلے ازراہ شیفقت زید بن حارث کو جو کہ غلام تھے ۔ اپنا متبنیٰ قرار دیا تھا ۔ اور اس نسبت نے یہاں تک شہرت حاصل کی ۔ کہ ان کو عام طور پر زید بن محمد ﷺ کے نام سے یاد کیا جانے لگا ۔ حضور ﷺ کو یہ بہت عزیز تھے ۔ اور آپ چاہتے تھے کہ ان کے رتبہ کو سوسائٹی میں بلند کردیا جائے ۔ اور لوگوں کو بتایا جائے کہ غلام بھی جب اسلام کی آغوش میں آجاتے ہیں ۔ تو کس درجہ رفیع مرتبت ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ آپ نے حضرت زینب کو زید کے نکاح میں دے دیا ۔ پھر اتفاق یہ ہے کہ دونوں کی آپس میں نہ نبھ سکی ۔ زید ان سے حقوق زوجیت کی بنا پر بہت زیادہ خدمت کے متوقع تھے ۔ اور زینب بالطبع یہ چاہتی تھیں کہ مرتبہ ومقام کے لحاظ سے زید ان کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں میں جدائی ہوگئی ۔ اب حضرت زینب ملول تھیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی دلجوئی کے لئے اور نیز اس لئے کہ متبنی کی رسم کو توڑا جائے ۔ ان کو اپنے حرم میں داخل کرلیا ۔ اور اس طرح انہیں مہمات المومنین کی مقتدر جماعت میں شمول کا موقع مل گیا ۔ ادھر مخالفین نے یہ کہنا شروع کردیا ۔ کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے شادی کرلی ہے ۔ جو ان کے یہاں مذموم رسم تھی ۔ قرآن کی ان آیات میں ان کے خیال کو غلط بتلایا ہے ایک طرف تو حضور ﷺ سے خطاب ہے ۔ کہ آپ ان لوگوں کے خیالات اور جذبات کے تابع نہیں ہیں ۔ اور آپ کے پہلو میں جو دل ہے اس میں صرف اللہ کی خشیت کا جلوہ ہے ۔ اس لئے آپ ان لوگوں کے طعن وتشنیع سے ذرہ برابر دل برداشتہ نہ ہوں ۔ دوسری طرف ان مخالفین سے کہا ۔ کہ کم بختو ! کیا تم اتنی سی بات کو نہی سمجھتے کہ عرف اور حقیقت میں ایک نمایاں فرق ہوتا ہے ! وہ شخص جس کو آپ اپنے عرف میں بیٹا کہتے ہیں ۔ کیا وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے وہی بیٹا ہوسکتا ہے ۔ جو حقیقی بیٹا ہوتا ہے ۔ جس طرح اظہارگی صورت میں تم اپنی بیویوں کو اپنی مائیں بہنیں قرار دے لیتے ہو اور وہ فی الواقع تمہاری مائیں نہیں ہوجاتی ہیں ۔ اسی طرح سے پالک بیٹے بھی معاشرت انسانی میں وہ درجہ حاصل نہیں کرسکتے اور ان کے ساتھ وہ حقوق وابستہ نہیں ہوتے ۔ جو بیٹوں کے متعلق ہوتے ہیں ۔ اس لئے تمہیں چاہیے ۔ کہ تم اپنے اعتراضات کو واپس لے لو ۔ اور آئندہ کسی شخص کو اس کے مفروضہ بات کی طرف منسوب نہ کرو ۔ کیونکہ یہ عرف پھر آئندہ چل کر بہت سی غلط فہمیوں کا موجب بن جاتا ہے ۔ اگر تمہیں معلوم نہ ہو ۔ کہ ان کا باپ کون ہے ۔ تو اخوت دینی کا رشتہ کافی ہے ۔ انہیں اپنا بھائی کہو ۔ حل لغات : اولوالارحام ۔ رشتہ دار غلیظا ۔ گاڑھا ۔ پکا
Ayahs 33:6–10

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

نبی کا مسلمانوں پر ان کی جانوں سے زیادہ لگاؤ ہے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں ، اور رشتہ دار اللہ کی کتاب کے مطابق مومنین (ف 2) اور مہاجرین سے زیادہ ایک دوسرے کا لگاؤ رکھتے ہیں ۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کچھ احسان کرنا چاہو ۔ یہ کتاب میں لکھا ہے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے سب نبیوں سے عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ صادقوں (سچوں) سے ان کے صدق (سچ) کی بابت سوال کرے اور کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کیا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو ، جب تم پر خندق کے دن فوجیں آئیں ، تو ہم نے ان پر ہا اور ایسے لشکر بھیجے ، جو تم نے نہیں دیکھے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا ہے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ پر تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے (یعنی وادی مدینہ) کے نشیب و فراز سے آئے اور جب آنکھیں ڈگمگانے لگیں اور دل حلق تک آپہنچے ، اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح خیال کرنے لگے

ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات میں باپ سے کہیں بڑھ کر اولی بالمومنین پھر جب تک یہ ابوت موجود ہے ۔ دوسرے مدعی نبوت کی کیا ضرورت ہے ۔ حل لغات :۔ جدموا ۔ عساکر ۔ یعنی فرشتے ۔
Ayahs 33:11–12

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومنین کا امتحان کیا گیا اور وہ خوب ہلائے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا بول اٹھے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدہ دیا تھا سب فریب تھا

غزوہ احزاب 1: مسلمانوں نے جب مکہ چھوڑا اور مدینہ کو اپنی تگ ودو کا مرکز بنایا ۔ تو مکہ والوں کو یہ بہت ناگوار ہوا ۔ وہ تو یہ سمجھتے تھے ۔ کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ اور اب یہ مسافرت میں عسرت اور بےچینی سے زندگی بسر کرینگے ۔ مگر ہوا یہ کہ مسلمانوں کو آرام اور دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مستحکم کرنے کا موقع مل گیا ۔ بدر کی جنگ میں پہلی دفعہ قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ کہ ہم نے مسلمانوں کو ہجرت پر آمادہ کرکے کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ مسلمان اس طرح اور زیادہ مضبوط ہوگئے ۔ چناچہ بدر کے بعد وہ متواتر اس کوشش میں رہے کہ حضور ﷺ کی مخالفت میں ایک متحدہ محاذ قائم کریں ۔ اور ساری قوم کی کچھ اس طرح تنظیم کی جائے ۔ کہ مسلمان مقابلہ نہ کرسکیں ۔ ہجرت سے چار سال بعد ان کو یہ موقع مل گیا ۔ کہ یہودیوں کے مختلف قبائل ان کے ساتھ تھے ۔ بارہ ہزار کی تعداد میں یہ جمع ہوکر آئے ۔ اور مدینہ کے باہر خیمہ زن ہوگئے ۔ تقریباً ایک مہینہ تک ان کا محاصرہ قائم رہا ۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ مصیبت کے اس غیر متوقع اندازے سے بےقرار تھے ۔ شدت تھی ۔ کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ خندق کھودتے وقت حضور ﷺ کے پیٹ پر پتھر بندھے تھے ۔ نتیجہ یہ تھا کہ کلیجہ منہ کو آنے لگا ۔ خوف وہراس اور قنوط ومایوسی چھارہی تھی سخت آزمائش اور ابتلا کا وقت تھا ۔ ادھر منافقین مسلمانوں کو یہ کہہ کر اور گھبرا رہے تھے ۔ کہ دیکھو فتح ونصرت کے تمام وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ہماری طاقت زیادہ ہے ۔ اس لئے تمہارے لئے کامیابی کی تمام راہیں مسدود ہیں منافقین کو محاصرین اکسا رہے تھے ۔ کہ مسلمانوں کو دون ہمتی اور بزدلی پر آمادہ کردیں ۔ کہ تاب مقار مت نہ لاسکیں ۔ اور آسانی سے مدینہ فتح ہوجائے ۔ تاکہ مسلمانوں سے بدر کا انتظام لیا جاسکے ۔ چناچہ کمزور اور پست ہمت لوگ آء آء کر حضور ﷺ سے کہتے کہ جناب ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں ہم کو شرکت جہاد سے محفوظ رکھیئے نعمت اور مہربانی کو بھول گئے ہو ۔ کہ نہایت مشکل کے وقت میں تمہاری کس طرح مدد کی تھی ۔ اور تمہیں متحدہ کفر کی زد سے بچا لیا ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت اور تائید کے قوانین کیا ہیں ؟ کیا وہ بغیر مصیبت برداشت کرنے کے اپنی اعانت سے اپنے بندوں کو نوازتا ہے یا اس وقت جب سخت آزمائش میں ڈال کر آزمالے ۔ اور مصائب کی بھٹی میں ڈال کر پڑکھ لے ۔ حل لغات :۔ اذزاغت الابصا ۔ یعنی جب مارے خوف وشدت کے آنکھیں پھر گئیں احناجر ۔ جمع خنجر ۔ گلے انظنونا ۔ ظنون ۔ جمع ظن ۔ معنے گمان ۔ حل لغات :۔ یثرب ۔ نام مدینہ منورہ مقام ۔ مقاومت کا موقع عورۃ ۔ خالی
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے مدینہ والو تمہارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں ، سو پھر چلو اور ایک فریق ان میں سے نبی سے رخصت مانگتا تھا ۔ کہتے تھے کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں اور حالانکہ وہ ہرگز کھلے پڑے نہ تھے ان کا ارادہ صرف بھاگنے کا تھا

منافقین کا شرو فساد سے شغف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ منافقین جو جہاد سے جی چراتے ہیں ۔ اور یہ کہہ کر پیچھا چھڑاتے ہیں ۔ کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں ۔ تو یہ عذرات نیک نیتی پر مبنی نہیں ۔ بلکہ وہ محض بھاگنا چاہتے تھے ۔ یہ بات نہیں ۔ کہ ان میں لڑنے کی قوت نہیں ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے ساتھ نہیں دنیا چاہتے ۔ ورنہ یہی لوگ جواب معذرت کررہے ہیں ۔ اور جہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے اگر یہ دیکھیں کہ ہمارے مسلک کے لوگ مدینہ میں آگھسے ہیں اور ہماری اعانت کے طالب ہیں ۔ تو بڑی گرم جوشی کے ساتھ ان کے ساتھ آمادہ ہونے کا خیال ہو ۔ اور نہ پست ہمتی کا فرمایا کہ اس سے قبل تم عہد کرچکے ہو ۔ کہ اب آئندہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے ۔ اور مسلمانوں کے ساتھ ہوکر اعدار دین کا مقابلہ کریں گے پھر آج تمہیں کیا ہوگیا ۔ کہ اس نوع کے بہانے پیش کرکے وعدہ خلافی پر آمادہ ہو ۔
Ayahs 33:14–16

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر وہ (کفار) شہر میں اس کے اطراف سے ان پر گھس آتے پھر ان سے فتنہ برپا کرنے کو کہا جاتا ۔ تو وہ ضرور فتنہ پر با کرتے اور اپنے گھروں میں تھوڑی دیر ٹھہرتے

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ وہ پہلے اللہ سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد پوچھا (ف 1) جائے گا

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو بھاگنا ہرگز تمہارے کام نہ آئیگا اور بھاگ کر بچ بھی گئے ۔ تو تھوڑے ہی دنوں فائدہ اٹھاؤ گے (پھر اخیر مرنا ہے)

دنیوی زندگی عارضی ہے 2: فرمایا ہے کہ اگر تم ازراہ بزل بھاگ جاؤ گے ۔ تو پھر کیا ہوگا کیا ہمیشہ ہمیشہ تم زندہ رہو گے ۔ کیا پھر کبھی نہیں مرو گے ۔ کیا تم یہ سوچتے ۔ کہ یہ زندگی بظاہر طویل نظر آنے کے بہت کوتاہ اور قصیر ہے ۔ موت کا ایک دن مقدر اور معین ہے پھر جب ہر صورت میں مرنا ہے تو ان چند دنوں کی عارضی زندگی کو کیوں ٹھکراتے ہو ۔ عاجل کا نفع تمہارے سامنے ہے ۔ اور آجل کی بہرہ اندوزی سے محروم ہو ۔ یہ کہاں کی عقل مندی اور دانائی ہے کہ حیات چند روزہ کے عرض ابدی زندگی کو بیج ڈالا جائے ۔
Ayahs 33:17–18

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

پوچھو وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچائے گا اگر اللہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے یا تم پر مہربانی کرنا چاہے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہ پائیں گے (ف 1)

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم سے روکنے والوں کو خوب جانتا ہے اور ان کو (بھی) جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کبھی کبھی

ف 1: بتاؤ تمہارے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو تم یا تمہارا کوئی ساتھی اس کو روک سکے گا ۔ یا اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے تو کوئی اس سے ان کو باز رکھ سکے گا ۔ پھر جب ایسا کوئی شخص نہیں ہے تو کیوں آئی آیت میں اور اس کے دین کی حمایت میں صف آرا نہیں ہوجاتے ۔ کیوں بزدلی اور جین کو پسند کرتے ہو ۔ ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ جنگ اور جہاد سے باز رکھنے والے یہ نہ سمجھیں ۔ کہ وہ خدا کو دھوکہ دے رہیں ہیں اور خدا ان کے ارادوں سے آگاہ نہیں ۔ وہ خوب جانتا ہے ۔ کون لوگ مسلمانوں میں تعویق پیداکر رہے ہیں ۔ اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں ۔ کہ دیکھو ہمارے ساتھ مل جاؤ تم سے مقابلہ نہیں ہوسکے گا ۔ ان آیات میں منافقین کے خوف وہراس کی تصویر کھینچ دی ہے ۔ کہ یہ لوگ کس درجہ بزدل ہیں اور کس درجہ مرعوب اور متاثر ہیں ۔ فرمایا جب خوف وہراس کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں ۔ کہ ان کی آنکھیں اس طرح پھر رہی ہیں ۔ جس طرح موت کی غشی ان پر طاری ہے جب وہ خوف وہراس دور ہوجاتا ہے ۔ تو زبانوں پر طعن وتشنیع کے کلمات جاری ہوجاتے ہیں ۔ اور بڑی دیدہ دلیری سے مال غنیمت میں اپنے حصے لگاتے ہیں ۔ گویا ان کو نفاق وطمع کی اس وقت سوجھتی ہے ۔ جب بلا ٹل جاتی ہے ۔ اور مصیبت کے وقت یہ بالکل حواس باختہ ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات :۔ الاحزب ۔ گروہ ۔ حزت کی جمع ہے ۔ حل لغات :۔ سوء ۔ تکلیف ۔ دکھ المعوقین ۔ روکنے والے ۔ تعویق سے ہے اشحرہ ۔ لیجح کی جمع ہے ۔ معنے حریص ۔ بخیل ۔
Ayahs 33:19–20

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(وہ) تم مسلمانوں کے ساتھ بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آتا ہے تو تو ان کو دیکھتا ہے وہ تیری طرف تکتے ہیں ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھرتی ہی جس پر موت (ف 1) کی بےہوشی طاری ہو ۔ پھر جب خوف چلاجاتا ہے تو مال غنیمت پر بخیلی کرتے ہوئے تیز زبانوں سے چڑھ چڑھ بولتے ہیں ۔ وہی ہیں جو ایمان لائے ۔ سو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیئے ۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

o وہ گمان کرتے ہیں کہ فوجیں اب تک نہیں گئیں اور اگر وہ فوجیں پھر آجائیں تو تمنا کریں کہ کاش وہ باہر گئے ہوں گاؤں میں اور وہاں تمہاری خبر پوچھاکریں اور اگر یہ لوگ تم میں سے ہوتے تو بہت تھوڑا لڑتے

بزدلی کی انتہا 1: یہ منافقین کی انتہائی بزدل اور جبن تھا ۔ کہ مخالفین کے عساکر تو آندھی کے طوفات کی تاب نہ لاکر بھاگ چکے تھے مگر یہ اس وہم میں تھے کہ وہ ابھی تک محاصرہ کئے ہوئے ہیں اور اگر یہ عساکر خدانخواستہ پھر پلٹ کر آجائیں ۔ تو ان لوگوں کی طبعاً یہ خواہش ہوگی کہ کہیں جنگل میں جاکر رہیں اور آئے دن جو جنگ وجدال ہوتا رہتا ہے ۔ اس سے محفوظ رہیں ۔ یہ لوگ سخت بزدل ہیں ۔ اور اگرچہ رونا چارا نہیں لڑنا ہی پڑے ۔ تو جی داری سے نہیں لڑتے ۔ بلکہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے ۔ کہ کسی طح یہ مصیبت ٹل جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل قوت جو سپاہی کو میدان جنگ میں شجاعانہ اقدام پر مجبور کرتی ہے ۔ وہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے عقیدہ کی قوت سے وہ لڑتا ہے ۔ اور ان کی کیفیت یہ ہے کہ سرے سے کوئی عقیدہ ہی نہیں رکھتے ۔ نہ کفر کے لئے دلوں میں عصبیت ہے اور نہ ایمان کے لئے محبت ۔ اب لڑیں تو کیسے ۔ جہاد کریں تو کیونکر ۔
Ayahs 33:21–22

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے (یعنی) اس کے لئے جو اللہ اور پچھلے (ف 2) دن کی توقع رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے رسول ﷺ خدا کی چال سیکھنی اچھی تھی

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب ایمانداروں نے لشکر دیکھے تو کہا کہ وہی ہے جس کا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا تھا اور ان کا یقین اور (جذبہ) اطاعت اور بڑھا

اسوہ حسنہ 2: حضور ﷺ جس طرح اللہ کے پیغام کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان میں یہ بھی اہلیت تھی ۔ کہ شمشیر وسنان سے اس کی حمایت بھی کریں ۔ چناچہ اکثر غزاوات میں آپ نے داد شجاعت دی ۔ اور نازک سے نازک اوقات میں بھی پہاڑ کی طرح میدان جنگ میں قائم رہے ۔ جب کہ بڑوں بڑوں کا زہرہ آب ہوتا تھا ۔ ارشاد ہے کہ رسول ﷺ انسانیت کے لئے بہترین اسوہ ہے ۔ اس کی پیروی کرو اور اس کو دیکھ کر اپنے مصائب کو معلوم کرو ۔ اور جبن وبزدلی کی عادات کو ترک کرو ۔ تاکہ تم سعادت اخروی حاصل کرسکو ۔ یہاں اسوہ حسنہ کا لفظ اگرچہ سیاق جنگ میں آیا ہے ۔ مگر معنی اس میں عموم ہے ۔ ہر شخص جو اللہ سے اور روز آخرت کے خوف سے ڈرتا ہو ۔ اور اس کے دل میں ذکروشغل کی محبت ہو ۔ ضروری ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں حضور ﷺ رسالت پناہ کی زندگی کو اپنے سامنے رکھے کیونکہ آپ ہر لحاظ سے حسن و جمال کا پیکر ہیں ۔ تقویٰ و پاکیزگی کا مظہر ہیں ۔ وہ تمام پیغمبرانہ اوصاف جو چہرہ نبوت کا غازہ ہیں ۔ آپ کی ذات میں موجود ہیں آپ کے رخ زیبا میں ہر نوع کے عشاق کے لئے تسکین نظر کا وافر سامان مہیا ہے ۔ آپ خلاصہ انسانیت ہیں ۔ آپ کی کوی حرکت غیر جمیل نہیں ۔ آپ سیرت وعمل کا بہترین نمونہ ہیں ۔ اور جسم و قالب سے لے کر روح کی گہرائیوں تک آپ میں حسن ہی حسن ہے ۔ آپ قوموں اور بلتوں کے حالات پڑھیں ۔ اور ان میں قائدین اور حکماء وانبیاء کو دیکھیں ۔ اور ان میں حسن جس مقدار میں جہاں جہاں موجود ہے ۔ اس کو نگاہ میں رکھیں ۔ اور پھر اس کا مقابلہ کریں جمال حبیب سے ۔ آفتاب نبوت سے ۔ آپ یقینا یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہونگے کہ ع آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری حل لغات : ۔ بادون ۔ بادیہ سے ہے یعنی جنگ میں باہر جا رہنے والے اسوۃ ۔ لائق تقلید کو نہ ۔ پیشوا اور مہمات ۔ پیشوا ومقتدر ۔
Ayahs 33:23–25

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں کہ جس بات پر انہوں نے اللہ سے عہد باندھا (ف 1) تھا ۔ اس نے سچ کر دکھایا اور بعض ان میں سے دور ہیں ۔ جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کرلیا ۔ (یعنی جہاد میں ہی جان دیدی جیسے شہداء بدر مثل انس بن النضر ؓ کے) اور بعض ان میں وہ ہیں جو (ابھی راہ دیکھ رہے ہیں جام شہادت پینے کی) اور انہوں نے اپنی وعدہ وفائی میں ایک ذرہ تبدیلی نہیں کی

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا بدلا دے اور منافقوں کو اگر چاہے عذاب کرے یا ان کے دل پر توبہ ڈالے ۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصہ میں لوٹا دیا ان کے ہاتھ کچھ بھلائی نہ لگی ۔ اور لڑائی میں مسلمانوں کی طرف سے خدا کافی ہوگیا اور اللہ زور آور زبردست (ف 1) ہے

ف 1: ان آیتوں میں پھر نفس مضمون کی طرف براہ راست توجہ مبذول فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے کہ یا تو منافقین کی حالت آپ نے دیکھی ۔ کہ اپنے عہد کو بھی بھلا بیٹھے ۔ اور بدرجہ غایت بزدلی کا اظہار کیا ۔ اور یا یہ مومنین ہیں ۔ کہ عساکر کو دیکھ کر جوش ایمانی سے معمور ہوگئے ۔ اور کہنے لگے ۔ کہ اللہ کی نصرت اور فتح کا وعدہ آن پہنچا ہے ۔ اور اللہ اور رسول ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا ۔ وہ بالکل سچ اور درست ہے ۔ اس میں سرموشک او شبہ کی گنجائش نہیں ۔ ع بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا پھر ان میں ایسے بھی تھے ۔ جنہوں نے انس بن نضر کی طرح اپنے عہد کو پورا کیا ۔ اور بڑھ کر جام شہادت نوش فرمایا اور ایسے بھی تھے ۔ جو خلوص وبے تابی سے اس ساعت سعید کے منتظر رہے حل لغات :۔ قضی نحبہ ۔ موت سے کنایہ ہے ۔ وہ عادت اور خصلت جس سے اقتداء کی جائے ۔ خدا کمزوروں کی دستگیری کرتا ہے
Ayahs 33:26–28

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جو لوگ ان کے مددگار ہوئے تھے ان کو انہی کی گڑہیوں (ف 1) سے نیچے اتار ڈالا (ف 2) اور ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا کہ تم (مسلمان ان میں سے) بعض کو قتل اور بعض کو قید کررہے تھے

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اللہ نے ان کی اور انکے گھروں اور ان کے مالوں کا تمہیں وارث کردیا اور زمین کا (بھی خیبر میں) کہ اس پر تم نے پاؤں نہ رکھا تھا ۔ اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ فائدہ دوں ۔ تمہیں اچھی طرح سے رخصت کروں

ف 1: جنگ احزاب میں جو مخالفین کو شکست ہوئی ۔ وہ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمزوروں کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ اور مایوسوں کی مایوسی کو امیدوکامیابی میں بدل دیتے ہیں ۔ اللہ کا قانون اور مخلصی کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔ اور بظاہریاس کے بادل دلوں پر چھا جائیں ۔ عین اس وقت وہ بڑھے ۔ اور فرشتوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہو ۔ اور مخالفین کی صفوں میں ہلچل مچا دے ۔ وہ ہمیشہ سے اپنے قوی و عزیز ہونے کا ثبوت دیتا آیا ہے ۔ اس نے اپنی غیر متوقع اعانتوں سے دائماً اپنے بندوں کو یقین دلایا ہے ۔ کہ مادی قوتیں اس کے مقابلہ میں پرکاہ کے برابر وقعت نہیں رکھتیں ۔ وہ جب چاہے اور جن وسائل سے چاہے ۔ دشمنوں کو ہلاک کردے ۔ وہ ہمیشہ قوت کے مقابلہ میں عاجزی اور مسکت کی مدد فرماتا ہے ۔ وہ موسیٰ کو فرعون کی سر کوئی کے لئے بھیجتا ہے ۔ ابراہیم کو نمرود جیسے جبار کے واسطے مسیح کو یہود حکومت کے لئے مبعوث فرماتا ہے ۔ اور حضور ﷺ کو قیصروکسریٰ کی منظم حکومتوں کو درہم برہم کرنے کے لئے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمیشہ یہ پاکباز اور بےسروسامان بزرگ کامیاب رہے اور کفر باوجود اپنی شان و شوکت کے مغلوب رہا غرض یہ ہے ۔ کہ کمزور ایمان کے مسلمان اور منافقین ان واقعات پر غور کریں ۔ اور سوچیں ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ اپنے دین کو سربلند کرتا ہے ۔ اور کس طرح کفرذلیل ہوتا ہے وہ یہودی جو مزے کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ اپنی اس شرارت کی وجہ سے کہ انہوں نے معاہدہ شکنی کرکے مشرکین مکہ کا ساتھ دیا ۔ اپنی املاک کو کھو بیٹھے ۔ اور مضبوط قلعوں سے نکل جانے پر مجبور ہوئے ۔ حل لغات :۔ ظاھروھم ۔ ان کی مدد کی تھی قذف ۔ پھینکا ۔ ڈالا ۔
Ayahs 33:29–31

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور پچھلے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکوں کے لئے اجر عظیم تیار کیا ہے (ف 1)

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

نبی کی بیبیو ! جو کوئی تم میں سے صریح بےحیائی کا کام کرے گی ۔ اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا ۔ یہ اللہ پر آسان ہے

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور نیک عمل کرے گی ۔ ہم اس کو اس کا دونا اجردیں گے اور اس کے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کی ہے

کاشانہ نبوت 1: بات یہ تھی کہ کاشانہ نبوت میں عجمی بادشاہوں کی طرح دولت کی نمود نہیں تھی ۔ امراء اور مالداروں کی سی حالت نہیں تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو وہاں ضروریات زندگی کا بھی فقدان تھا ۔ اس لئے بالصبع پردہ نقسیان کرم نبوت کو بتقاضائے بشریت بعض دفعہ اس کا احساس ہوتا اور وہ طول خاطر ہوجائیں ایک دفعہ تو وہ اس دکھ کے اظہار پر مجبور ہوگئیں ۔ حضور ﷺ نے جب یہ سنا ۔ تو آپ کو بدرجہ غایت رنج ہوا ۔ آپ نے عہد کرلیا ۔ کہ ایک مہینہ تک ان خواتیں کے پاس نہ جائیں گے ۔ اس کے بعد تسکین خاطر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ اے پیغمبر اپنی محترم مخدرات سے کہہ دیجئے ۔ کہ میرے ہاں روح وقلب کی زینت و آرائش کا سامان تو موجود ہے ۔ مگر جس کی آسائشیوں کے لئے جگہ نہیں ۔ اگر تمہارا مقصد صرف دنیا کے منافع سے استفادہ ہے ۔ اور شرف صحبت نبوت کو تم کافی نہیں سمجھتیں ۔ تو آؤ میں تم کو سب حمائیت مال ومتاع دے کر رخصت کردوں ۔ یہاں کوئی جبر اور زبردستی نہیں ہے ۔ پیغمبر کا کاشانہ ہے ۔ بادشاہو کا حرم نہیں ۔ اور اگر تمہاری زندگی کا مقصد اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور عقبیٰ وآخرت ہے ۔ تو پھر میں تم کو خوشخبری سناتا ہوں ۔ کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کررکھا ہے ۔ ازواج مطہرات نے جب یہ آیتیں سنیں تو حقیقت وعرفان کا نور سامنے چمکتا ہوا نظر آیا حرم نبوت کی صحیح قدروقیمت معلوم ہوئی ۔ بول اٹھیں ۔ کہ ہمیں تو اللہ اور اس کا رسول پسند ہے ہم دنیا کو اس کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں دیتیں ۔ وہ لوگ جو تعدد ازدواج کی وجہ سے حضور ﷺ پر معترض ہیں ۔ وہ تصویر کے اس رخ کو دیکھیں ۔ کیا زندگی کا اس سے پاکیزہ نمونہ انہوں نے کہیں دیکھا ہے ۔ کیا اس کے بعد بھی وہ کہیں گے ۔ کہ آپ نے معاذ اللہ شادیاں حظوظ دنیوی کے لئے کیں ؟ حل لغات :۔ سراحا جمیلا ۔ سرح کے معنے چھوڑ دینا اور رخصت کرنا یسیرا ۔ آسان ۔ سہل
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

نبی کی بیبیو ! اور عورتوں (ف 1) کی مانند نہیں ہو اگر تم ڈر رکھو سو (تم مردوں) سے دب کر نہ بولو کہ جس کے دل میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ (کہیں) لالچ کرے اور معقول (ف 2) بات کہو

امہات المومنین 1: پردہ نشینان حرم نبوت کی ذمہ داریاں عام عورتوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ اس لئے جہاں ان کے لئے برائی کے ارتکاب پر دوگنی سزا تجویز فرمائی ہے ۔ وہاں ان کے لئے اجروثواب میں دوچند رکھا ہے ۔ کیونکہ وہ ساری امت کی عورتوں کے لئے پاکبازی اور عفاف میں نمونہ ہیں ۔ ان کے لئے ہر بات میں تقویٰ ووقار کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ان کے ہر فعل میں یہ ضروری ہے ۔ کہ پیغمبرانہ تربیت کا حسن نمایاں ہو ۔ اس لئے ان کو بالطبع اس درجہ آزادی اور سہولت میسر نہیں ہوتی ۔ جس درجہ کہ عام دوسری مومنات کو حاصل ہے ۔ بلکہ ان کی زندگی کا شانہ نبوی کی روایات تقدیس و وقار کے مطابق ہوتی ہے ۔ اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ یہ مخدرات اس پاکیزہ زندگی کے لئے رضاکارانہ طور پر بھی تیار ہوں ۔ ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا ۔ یہ خود اس معیار کو نبھانے کے لئے کوشاں رہتی ہیں ۔ جو ان کے لئے موزوں ہوتا ہے ۔ لہٰذا یہ قدرتاً دوسری عورتوں سے زیادہ ثواب اور اجر کی مستحق ہیں ۔ 2: اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے ۔ کہ امہات المومنین کا درجہ امت کی تمام عورتوں سے زیادہ ہے ۔ اس لئے انہیں مشکوٰۃ نبوت سے کسب انوار کا سب سے زیادہ موقع ملتا ہے ۔ یہ شمع رسالت پر ہر وقت پروانہ وار نثار ہونے کو تیاررہتی ہیں ۔ اور قرب حضوری کا جو درجہ ان کو حاصل ہے ۔ وہ دوسری عورتوں کو حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اسی آیت میں عقاف کے تحفظ اور ناموس کی بقاء کا ایک نہایت باریک ممکنہ ارشا فرمایا ہے ۔ جو تمام مخدرات کے لئے یکساں ضروری اور اہم ہے ۔ حقیقت یہ ہے ۔ کہ اس طرح کی حکیمانہ باتوں کو اگر عمل کا جامہ پہنا دیا جائے ۔ تو پھر بدی کا احتمال ہمیشہ کے لئے اٹھ جائے فرمایا : دیکھو جب تم دوسروں سے مسائل کے متعلق گفتگو کرو ۔ تو انداز بیان پر حشمت اور باوقار ہونا چاہئے ۔ اس طرح نہ گفتگو کرو کہ اس میں تمام نسائی لطافتیں جمع ہوجائیں ۔ اور سننے والے کے دل میں کسی نوع کی جنسی تحریک پیدا ہوسکے ۔ آنکھوں کے بعد زبان سب سے زیادہ بدی کی محرک ہے ۔ یہ وہ کامل التاثیر زہر ہے ۔ جس کا تریاق نہیں ۔ اس لئے رب العزت نے عورتوں کو غیر محرموں کے سامنے اس طرح استعمال سے روکا ہے جس میں طنیح ودخال مترشح ہو اور جو معصیت اور گناہ کے لئے بمنزلہ دعوت کے ہو ۔ حل لغات :۔ یقنت ۔ قنوت سے ہے بمعنی فرمانبرداری اور پوری پوری اطاعت وقرن ۔ گھروں میں ٹکی رہو ۔ باوقار کے ساتھ رہو ۔
Ayahs 33:33–34

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو (اپنا بناؤ سنگار) دکھاتی نہ پھرو جیسے زمانہ جاہلیت میں دکھاتے پھرنے کا دستور تھا ۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو ۔ اے گھروالو اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوف صاف کرے (ف 1)

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے جو کچھ تمہارے گھروں میں سے پڑھا جاتا ہے اسے یاد کرو بیشک اللہ بھید جاننے والا خبردار ہے

ف 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے عورتوں اور مردوں کی تگ ودو کے لئے دو الگ الگ دائرے ہیں ۔ مردوں کے لئے گھر سے باہر کی دنیا میں دلچسپی ہے ۔ اور عورتوں کے لئے انتظام خانہ داری کے مسائل ہیں ۔ مرد اس لئے پیدا کیا گیا ہے ۔ کہ وہ دنیت صالحہ کے لئے بہترین ثقافت کی تعمیر کرے ۔ اور عورت اس لئے پیدا کی گئی ہے ۔ کہ وہ اپنی آغوت میں ایسے بچوں کی تربیت کرے جو آئندہ نسل کے لئے فخر ومباہات کا باعث ہوسکیں ۔ دونوں کے لئے بالکل جدا جدا میدان عمل موجود ہیں اور یہ وہ نظریہ ہے جس کو یورت نے بالآخر ہر ار خرابی کے بعد تسلیم کرلیا ہے ۔ اور جس پر تمام نوع انسانی کی سعادتوں کا مدار ہے ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ اے عورتو ! تم اپنے گھروں میں وقار و حشمت کے ساتھ جمی بیٹھی رہو ۔ اور اپنی دوڑ و دھوپ کو صرف تدبیر منزل کے مسائل کو سلجھانے کے لئے وقف کردو ۔ تمہاری جگہ دفتروں اور ایوانوں میں نہیں ہے ۔ تم اپنے گھروں کی رونق اور روشنی ہو آرائش محفل غیر ہونے سے تم سعادت انسانی کو ختم کردوگی اور خود اپنی نسائی خصوصیات کھودوگی ۔ ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی سے مراد یہ ہے کہ ضروریات مدنیہ کے لئے حرکت کرنا ممنوع نہیں ہے ۔ تم گھروں میں محصور نہیں ہو ۔ کہ ابداً ابداً گھروں سے قدم باہر نہ رکھ سکو ۔ بلکہ تمہاری توجہات کا نصب العین گھر کی زینت و آرائش ہونا چاہیے ۔ اور جب گھروں سے باہر نکلو ۔ تو حسن و جمال کے تیروکمان سے مسلح ہوکر نہ نکلو ۔ اور جاہیت اولیٰ کی طرح عریانی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ بلکہ اسلامی آداب کو ہمیشہ ملحوظ رکھو آیت تطہیر میں یہ بات محلوظ رہے کہ اولاً اور اصالتاً صرف ازواج مطہرات مراد ہیں ۔ اور دوسرے لوگ اس میں محض ثانوی طور پر ہیں کیونکہ سیاق کا یہی تقاضہ ہے ۔ کہ خود لفظ اہل بیت کا پہلا استعمال ہمیشہ بیوی کے لئے ہوتا ہے اور دوسروں کو باقیع اس میں شامل کرلیا جاتا ہے ۔ حل لغات :۔ الرجس ۔ اخلاقی معائب والجمھۃ ۔ سنت ۔
Ayahs 33:35–36

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان دار مرد اور ایمان دار عورتیں فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابر عورتیں اور عاجز مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دارعورتیں اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے مرد اور محفوظ رکھنے والی عورتیں اور یاد کرنے والے مرد (ف 1) اور بہت سا یاد کرنے والی عورتیں ان کے لئے اللہ نے معافی اور اجر عظیم تیار کیا ہے

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور جب اللہ اور اس کا رسول کوئی بات مقرر کردے تو کسی ایمان دار مرد اور ایماندار عورت کے لائق نہیں کہ ان کو اپنے کام کا کچھ اختیار ہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہ ہوا

مرد اور عورت دونوں برابر کے مکلف ہیں ! 1: مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کی زندگی کے دائرے الگ الگ ہیں ۔ مگر جہاں تک اخلاق وروحانیت کا تعلق ہے ۔ دونوں کے لئے مراتب میں بڑھنے کے لئے شریعت کے دورازے کھلے ہیں ۔ دونوں اسلام وایقان کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں ۔ دونوں شیوہ اطاعتکو وہ تیار کرسکتے ہیں ۔ دونوں کے لئے صدق وصفاضروری ہے ۔ دونوں صبر اور شکر کے زیور سے آراستہ ہوسکتے ہیں ۔ دونوں کے لئے صدقات ، صوم وصلوٰت کے باب وا ہیں ۔ دونوں برابر کے مکلف ہیں ۔ کہ اپنی خواہشات نفس کو قابو میں رکھی ۔ دونوں ذکروفکر کی پاک وادیوں میں گامزن ہوسکتے ہیں ۔ یعنی تمام فیوض وبرکات سے بہرہ مندی کا استحقاق دونوں کو بلا لحاظ جنس پورا پورا ہے ۔ 2: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ کہ مسلمان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ یہ عقیدت ہونی چاہیے ۔ ارشاد ہے کہ جب خدا اور اس کا پیغمبر کسی مصلحت پر متفق ہوجائیں ۔ تو پھر کسی مومن اور مومنہ کو یہ اختیار باقی نہیں رہتا ۔ کہ وہ اس سے اختلاف کرے ۔ اور اپنی رائے کو ان کے مقابلہ میں قبح سمجھتے کیونکہ ایمان نام ہے عقل وہوش کی ساری ذمہ داریوں کو حضور ﷺ کے سپرد کردینے کا اور خود اس باب میں سبکدوش ہوجانے کا ۔ پھر اگر کتاب وسنت کا کوئی حکم کسی شخص کے دل میں کھٹکتا ہے ۔ تو اسے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے ۔ اور دیکھنا چاہیے ۔ کہ نفاق نے کیونکر اس کے پاک دل پر تسلط جمالیا ہے ! حل لغات :۔ فروجھم ۔ فرح کی جمع ہے ۔ شرمگاہ الخیرۃ ۔ استرواہ کا اختیار ۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تو اس سے جس پر خدا نے اور تونے انعام کیا کہتا تھا کہ اپنی عورت کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور (تو یہ بھی اسے کہتا تھا) اپنے دل میں اس بات کو چھپانا تھا ۔ جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا ہے ۔ اور تو آدمیوں سے ڈرتا تھا ۔ حالانکہ تجھے اللہ سے زیادہ ڈرنا چاہیے ۔ پھر جب زید اس عورت سے اپنی غرض پوری کرچکا تو ہم نے تیرا نکاح (ف 1) اسی عورت سے کردیا کہ ایمانداروں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی عورتوں پر تنگی نہ رہے ۔ جب وہ ان سے اپنی غرض پوری کرچکیں اور اللہ کا کام تو ہوکر ہی رہنا ہے

حضرت زینب کا قصہ 1: حضرت زید غلام تھے ۔ حضور نے انہیں آزادی کی نعمت بخشی ۔ اور پھر اپنی آغوش تربیت میں لے لیا ۔ یہ بڑھے اور پروان چڑھے ۔ حضور ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن ان کے نکاح میں دیدی ۔ تاکہ غلام کے رتبہ کو وشیا میں بلند کیا جائے ۔ اور یہ بتایا جائے کہ اسلام میں آقا و غلام کی کوئی تمیز نہیں ۔ جب کوئی شخص مسلمان ہوجاتا ہے اور آزادی کی نعمت کو بھی پالیتا ہے تو سابقہ غلامی کا داغ اس کے دامن پر نہیں رہتا ۔ بلکہ وہ اسلام کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے ۔ پھر ایسا اتفاق ہوا ۔ کہ حضرت زید کی وجہ سے سماج کی ایک اور رسم کو توڑنا اللہ کو منظور ہوا ۔ اس لئے میاں بیوی میں نبھاؤ نہ ہوسکا ۔ حضور ﷺ کی خواہش تو یہی تھ ۔ کہ ان دونوں میں بنی رہے ۔ اور حتی الامکان تعلقات قائم رہیں ۔ مگر اللہ کو یہ منظور تھا کہ ان دونوں میں جب جدائی واقع ہوجائے ۔ تو آپ اس رسم کو توریں ۔ کہ متبنیٰ کو وہی حیثیت حاصل ہے ۔ جو بیٹے کو حاصل ہے ۔ اور حضرت زنیب سے نکاح کرلیں ۔ حضور ﷺ اس وجہ سے کہ لوگ خواہ مخواہ اس پر معترض ہونگے ۔ چاہتے تھے کہ زید کے تعلقات نہ بگڑیں ۔ اور وہ آخر تک اس رشتہ کو نبھائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ خلوص کے ساتھ زید کو تقویٰ کی تلقین کرتے اور کہتے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک روا رکھو اور اسے نہ چھوڑو ۔ مگر فیصلہ خداوندی ہوچکا تھا ۔ کہ حضر زنیب کو ام المومنین کے شرف سے نواز جائے ۔ اور ان کی دلجوئی کی جائے اس لئے باوجود نہ جاہنے کے اور اس اشارہ خداوندی کو دل میں پنہاں رکھنے کے آپ بالآخر مجبور ہوگئے ۔ کہ حضرت زنیب سے نکاح کرلیں ۔ اتنی سب بات تھی جسے دشمنوں نے افسانہ کردیا ۔ اور یہ کہنا شروع کردیا ۔ کہ محمد ﷺ نے بہو سے شادی کرلی ہے ۔ بڑا شور اور غوغا ہوا ۔ اللہ تعالیٰ یہ جانتے تھے ۔ کہ یہ سب کچھ ہوگا ۔ مگر چونکہ مقصدیہ تھا کہ ہمیشہ ہمیشہ مسلمانوں کو یہ دقت پیش نہ آئے ۔ کہ وہ اپنے منہ بولے بیٹوں کے ساتھ کس نوع کے تعلقات رکھیں ۔ اس لئے ضروری تھا کہ حضور ﷺ خود بڑھ کر ایک دلیرانہ اسوہ قائم کریں ۔ اور مسلمانوں کے لئے صحیح راہ ہدایت متعین کردیں ۔ یہ بات عزیمیت کی تھی ۔ اور پیغمبرانہ جرات وجسارت کی تھی ۔ کہ کیونکر آپ نے سماج کے ایسے قانون کو اپنے عمل سے توڑا جس سے آپ پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے لگی ۔ دشمنوں کے لئے تو یہ بات قابل گرفت تھی ہی کہ بعض سادہ دل مفسرین نے بھی اس کو نہایت ذلیل انداز میں بیان کیا ہے ۔ اور تسلیم کرلیا ہے ۔ کہ معاذ اللہ حضور ﷺ حضرت زنیب کو اچانک دیکھ کر عاشق ہوگئے تھے اس لئے دل میں اس خواہش کو چھپائے تھے ۔ اور لوگوں پر ظاہر نہ ہونے دیتے تھے ۔ اور چاہتے تھے ۔ کہ کسی طرح زنیب کو اپنے لئے حاصل کرلیں ۔ قطع نظر اس کے یہ افسانہ کسی درجہ منصب نبوت کی توہین کا باعث ہے ۔ آپ یہ غور فرمائیے کہ عقلاً یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے ۔ جبکہ حضرت زنیب آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ آپ نے بار بار ان کو دیکھا تھا ۔ عمداً ان کی خواہش کے خلاف ان کو زید کے حوالے کیا تھا اور جب آپ نے سنا ۔ کہ ان میں باہم ناچاقی ہے ۔ تو دلسوزی سے ان کو ایسے اقدامات سے روکا تھا جو طلاق پر منتج ہوں ۔ اگر آپ چاہتے تو ابتداء ہی میں حضرت زینب کے لئے رشتہ فخر ومباہات کا باعث ہوتا امدوہ اس کو ضرور منظور کرلیتیں ۔ اصل بات یہ ہے ۔ کہ یہ قصہ محض لغو ہے ۔ ہمارے بعض مفسرین نے سادگی سے ایسی روایات کو جمع کردیا ہے ۔ جو دراصل مخالفین نے آپ کو بدنام کرنے کی خاطر جمع کی تھیں ۔ حل لغات :۔ وطراً ۔ حاجت ۔ ضرورت قدرا مقدورا ۔ طے شدہ بات ۔
Ayahs 33:38–39

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

جو بات اللہ نے نبی ﷺ کے لئے ٹھہرادی اس میں نبی پر کچھ تنگی نہیں (اسی طرح) اللہ کا دستور (ف 2) رہا ہے ان لوگوں میں جو پہلے ہوگزرے ہیں اور اللہ کا کام اندازہ پر مقرر کیا ہوا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

جو خدا کے پیغام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے

ف 2: حضرت زنیب کے نکاح کرکے حضور ﷺ نے ایک پرانی رسم کو توڑدیا ۔ مگر دل منقیض تھا ۔ اس لئے آپ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ اس طریق سے لوگوں کو نفس اسلام کے متعلق کچھ کہنے اور سننے کا موقع نہ ملے ۔ اس آیت میں آپ کی مزید طمانیت قلب کے لئے فرمایا کہ اس قسم کے معاملات میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ کہ پیغمبر ہمیشہ عوام الناس کی خواہشات کے خلاف اقدام کرکے خود ملامتوں اور طعنوں کا نشانہ بن جایا کرتا ہے ۔ وہ تو مبعوث ہی اس لئے ہوتے ہیں ۔ کہ سوسائٹی اور سماج کے غلط مقام کو درہم برہم کردیں ۔ ان کے آنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے ۔ کہ اپنے عمل سے اپنے لئے ایک بالکل اچھوتے اور جداگانہ طریق زندگی کی طرح ڈالیں اس لئے وہ بالطبع صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور لوگوں کے خیالات اور جذبات سے بالکل بےنیاز ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف خدا سے مدد چاہتے ہیں ۔ اس لئے آپ منقبض نہ ہوں اور یقین رکھیں ۔ کہ ایک طے شدہ حکمت کے ماتحت کیا گیا ہے جس کی مصلحتیں آئندہ نسلوں کو محسوس ہوں گی ۔