Al-Ahzaab 33:6

Al-Ahzaab · from ayah 6

33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ ؕ— وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤی اَوْلِیٰٓىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ؕ— كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا ۟اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌ ؕ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰٓى اَوۡلِيٰٓئِكُمۡ مَّعۡرُوۡفًا‌ ؕ كَانَ ذٰ لِكَ فِى الۡكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا‏

پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے)۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Prophet is more worthy of the believers than themselves, and his wives are [in the position of] their mothers. And those of [blood] relationship are more entitled [to inheritance] in the decree of Allah than the [other] believers and the emigrants, except that you may do to your close associates a kindness [through bequest]. That was in the Book inscribed.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:6

بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے)۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دارو دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں) زیادہ حق رکھتے ہیں الا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے ان) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو یہ کتاب میں لکھا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ نبیِ (مکرّم) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور آپ کی اَزواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں، اور خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (دیگر) مومنین اور مہاجرین کی نسبت (تقسیمِ وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ان کا بعض، بعض پر دوسرے ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کوئی نیکی کرو۔ یہ (حکم) کتاب میں ہمیشہ سے لکھا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ نبی مومنوں کے لئے ان کی اپنی ذات سے بھی مقدم ہے اور آپ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔ اور کتاب اللہ کی رو سے مومنین اور مہاجرین کی نسبت، رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ (ترکہ کے) حقدار ہیں۔ البتہ اگر تم اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) کتاب اللہ میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نبی کا حق مومنوں پر خود ان کے اپنے مقابل میں اولیٰ ہے اور ازواجِ نبی کی حیثیت مومنین کی مائوں کی ہے اور رحمی رشتے رکھنے والے آپس میں، دوسرے مومنین و مہاجرین کے مقابل، اولیٰ ہیں، اللہ کے قانون ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ تم اپنے اولیاء و اقرباء کے ساتھ کوئی حسنِ سلوک کرنا چاہو۔ یہ چیز کتاب میں نوشتہ ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یہ حقیقت واضح رہے کہ) نبی ایمان والوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشہ دار اللہ کی کتاب کی رو سے آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے مگر یہ کہ تم لوگ اپنے طور پر اپنے دوستوں کیساتھ کوئی بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) یہ بات اس کتاب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور کتاب اللہ میں رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے۔ مگر ہاں تم اپنے دوستوں سے کچھ (سلوک) کرنا چاہو (تو وہ جائز ہے)۔ یہ بات نوشتہ (الہی) میں لکھی جاچکی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا نبی ﷺ کا حق مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ ہے اور نبی ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رحمی رشتے رکھنے والے اللہ کی کتاب کے مطابق مومنین و مہاجرین کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ } یہ سب باتیں (پہلے سے) کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایمان والوں کے لیے اپنی جان سے زیادہ نبی ﷺ مقدم ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے (مسلمانوں) انصار اور مہاجروں سے ایک دوسرے کے تر کے کے زیادہ حق دار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ یہ حکم قرآن میں لکھ دیا گیا ہے“۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the Prophet has a greater claim over the believers than they have over each other, and his wives are their mothers. According to the Book of Allah, blood relatives have greater claim over each other than the rest of the believers and the Emigrants (in the cause of Allah), except that you may do some good to your allies (if you so wish). This is inscribed in the Book of Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Prophet is closer to the believers than their own selves, and his wives are their mothers; and those having mutual kinship are closer to one another (for the purpose of inheritance) than (other) believers and emigrants according to the Book of Allah, unless you do some good to your friends (by making a will in their favor). This had been written in the Book (the Preserved Tablet).

— Muhammad Taqi Usmani

The Prophet is closer to the believers than their own selves, and his wives are their mothers; and those having mutual kinship are closer to one another (for the purpose of inheritance) than (other) believers and emigrants according to the Book of Allah, unless you do some good to your friends (by making a will in their favor). This had been written in the Book (the Preserved Tablet).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Prophet is closer to the believers than themselves, and his wives are their mothers. And blood relations among each other have closer personal ties in the decree of Allah than the believers and the Muhajirin, except that you do kindness to those brothers. This has been written in the Book.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Prophet is closer to the believers than their selves, and his wives are (as) their mothers. And the owners of kinship are closer one to another in the ordinance of Allah than (other) believers and the fugitives (who fled from Mecca), except that ye should do kindness to your friends. This is written in the Book (of nature).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Prophet is more worthy of the believers than themselves, and his wives are [in the position of] their mothers. And those of [blood] relationship are more entitled [to inheritance] in the decree of Allah than the [other] believers and the emigrants, except that you may do to your close associates a kindness [through bequest]. That was in the Book inscribed.

— Saheeh International

The Prophet has more authority over the believers than themselves. His wives are their mothers. The relatives are closer to each other, according to the Book of God, than the believers and the emigrants. However, you may show kindness to your guardians. This also is written in the Book.

— Muhammad Sarwar

The Prophet has a greater claim on the faithful than they have on themselves, and his wives are (as) their mothers; and the possessors of relationship have the better claim in the ordinance of Allah to inheritance, one with respect to another, than (other) believers, and (than) those who have fled (their homes), except that you do some good to your friends; this is written in the Book.

— Muhammad Habib Shakir

The Prophet is nigher unto the believers than themselves, and his wives are their mothers. And kinsmen are nigher one to another in the ordinance of Allah than other believers and the emigrants except that ye may act reputably unto your friends. This hath been written in the Book.

— Abdul Majid Daryabadi

The Prophet is closer to the Believers than their own selves, and his wives are their mothers. Blood-relations among each other have closer personal ties, in the Decree of Allah. Than (the Brotherhood of) Believers and Muhajirs: nevertheless do ye what is just to your closest friends: such is the writing in the Decree (of Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

تکمیل ایمان کی ضروری شرط چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں جیسے فرمایا آیت (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4۔ النسآء :65) ، تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 12 یعنی نبی ﷺ کا مسلمانوں سے جو تعلق ہے وہ تو تمام دوسرے انسانی تعلقات سے ایک بالا تر نوعیت رکھتا ہے۔ کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی اور اہل ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ﷺ ان کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی حقیقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر نبی ﷺ مومنین کے ساتھ تو ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں (کیونکہ انسان کا نفس تو کبھی اس کو نفع پہنچاتا ہے کبھی نقصان، کیونکہ اگر نفس اچھا ہے اچھے کاموں کی طرف چلتا ہے تو نفع ہے اور برے کاموں کی طرف چلنے لگے تو خود اپنا نفس ہی اپنے لئے مصیبت بن جاتا ہے، بخلاف رسول اللہ ﷺ کے کہ آپ کی تعلیم نفع ہی نفع اور خیر ہی خیر ہے۔ اور اپنا نفس اگر اچھا بھی ہو اور نیکی ہی کی طرف چلتا ہو پھر بھی اس کا نفع رسول اللہ ﷺ کے نفع کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اپنے نفس کو تو خیر و شر اور مصلحت و مضرت میں مغالطہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کو مصالح و مضار کا پورا علم بھی نہیں، بخلاف رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

النبی اولی بالمومنین من انفسھم وازوجہ امھتھم اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ من المومنین والمھجرین الا ان تفعلوا الی اولئیکم معروفا کان ذلک فی الکتب مسطورا (6) یہ اس فرق مراتب کو واضح فرمایا ہے جو اسلامی معاشرے میں مسلمانون کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت ہوئی۔ اس وضاحت سے مقصود مسلمانوں کی اس خلط مجث سے بچانا ہے جس کی بعض مثالیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ’ النبی اولی بالمومنین من انفسھم ‘۔ ’ اولی ‘ کے معنی احق کے ہیں۔ مثلا ان اولی الناس بابرھیم للذین اتبعوہ (ال عمران 681) یعنی نبی ﷺ کا حق ہر مسلمان پر دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ خود اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ اس مضمون کی وضاحت آگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6-1نبی اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپکو مومنوں کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حق دار، آپ کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے جن مالوں کا مطالبہ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ پر نچھاور کردیں چاہے انھیں خود کتنی ہی ضرورت ہو۔ آپ سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں (جیسے حضرت عمر کا واقعہ ہے) آپ ﷺ کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ ﷺ کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی (فَلَا وَرَبِّکَ لَا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ تمام مسلمانوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، اور آپ کی ازواج مطہرات کو سب مسلمان اپنی ماں سمجھتے ہیں، لیکن اس وجہ سے آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو میراث کے معاملے میں کسی مسلمان کے اپنے رشتہ داروں پر فوقیت حاصل نہیں ہوئی، چنانچہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی میراث اس کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ یا آپ کی ازواج مطہرات کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا، حالانکہ دینی اعتبار سے آپ اور آپ کی ازواج مطہرات دوسرے رشتہ داروں سے زیادہ حق رکھتی ہیں۔ جب آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو ان کے دینی رشتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

النبی اولیٰ بالمومنین ۔۔۔۔۔ فی الکتب مسطورا (6) ” “۔ مہاجرین نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر مدینہ چلے آئے ، اللہ کی طرف بھاگ نکلے ، صرف دین لے کر بھاگ گئے۔ انہوں نے اپنے عقیدہ کو اپنی برادری کے تعلقات ، اپنے مال کے ذخائر ، اپنے اسباب حیات ، بچپن کی یادوں ، یاروں اور دوستوں کی محفلوں پر ترجیح دے دی۔ یہ لوگ صرف اپنا عقیدہ بچا کر نکل آئے اور اس کے سوا سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیا۔ اس انداز پر ہجرت کرکے انہوں نے وہ تمام چیزیں چھوڑ دیں جو ہر انسان کے لیے عزیز ہوتی ہیں۔ اہل و عیال ، بیٹے بیٹیاں اور دوسرے رشتہ دار۔ یہ ایک زندہ مثال تھی اور یہ اس کرہ ارض پر واقع ہوئی کہ لوگوں نے صرف عقائد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نور اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبر ﷺ ہوئے۔ بنا بریں مومن (من حیث ھو مومن) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے حرکت فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پیشتر اس کو پیغمبر ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور ــــ اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اس سے بھی بمراتب بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چناچہ سنن ابی داؤد میں " انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ۔ " اور ابی بن کعب وغیرہ کی قرآت میں آیت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 { اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ } ”یقینا نبی ﷺ کا حق مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ ہے“ تمام اہل ِایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جانوں سے زیادہ حضور ﷺ کی جان کی فکر کریں اور آپ ﷺ کو اپنے ماں باپ ‘ اپنی اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر محبوب رکھیں۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان صحیحین میں ذرا سے لفظی فرق کے ساتھ نقل ہوا ہے : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلِدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ 1 ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے باپ ‘ اس کی اولاد اور سب انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائوں۔“ {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 آپ مومنوں کے ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں :۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ تم خود بھی اپنے اتنے خیر خواہ نہیں ہوسکتے جتنا کہ نبی تمہارا خیر خواہ ہے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی لحاظ سے آپ کی تمام امت کو آپ ہی کی وساطت سے ہدایت کا راستہ ملا جس میں ہماری دنیوی اور اخروی فلاح ہے۔ آپ ہمارے معلم بھی ہیں اور مربی بھی، اس لحاظ سے آپ تمام امت کے روحانی باپ بھی ہوئے اور روحانی استاد بھی۔ اور دنیوی پہلو میں آپ کی سب سے زیادہ خیرخواہی درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جتنے بھی مومن ہیں میں ان سب کا دنیا اور آخرت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ کیا انتہاء ہے اس شفقت وتعلق کی جو ہمارے نبی کو اپنی تمام امت کے ساتھ ہے۔ انسان خود اپنا دشمن وبدخواہ تو ہو بھی سکتا ہے اور بعض اوقات جہل وغباوت کی بناء پر بھی ہوجاتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ سے تو جن پر خفی سے خفی مصالح ومنافع روشن ہیں کسی حال میں بھی بدخواہی کا امکان نہیں۔ فانہ لایامرھم ولا یرضی منھم الا بما فیہ صلاحھم ونجاحھم بخلاف النفس فبذالک اطلق (بیضاوی) آیت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت مطلق اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے اور اس کے اندر تمام احکام ومعاملات آگئے۔ اے اولی لھم فی الحکم علیھم ولزومھم اتباعہ وطاعتہ (جصاص) فی نفوذ حکمہ فیھم ووجوب طاعتہ علیھم (معالم) 12۔ (وجوب تعظیم کے لحاظ سے) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

آیت نمبر 1 تا 8 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

النبی اولی بالمومنین من انفسھم . نبی مؤمنوں کے ساتھ خود ان کے نفسوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی مؤمنوں کا جو تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہے ‘ ان سب سے زیادہ نبی کا مؤمنوں سے تعلق ہے۔ اسی تعلق کی وجہ سے نبی کا حکم مؤمنوں پر نافذ ہے اور پیغمبر کی اطاعت سب پر واجب ہے۔ ماں باپ کا حکم بھی اگر نبی کے حکم کے خلاف ہو تو اس کی مخالفت بھی لازم ہے۔ پس پیغمبر کو ہی جہاد پر بھیجنے اور راہ خدا میں جان خرچ کرنے کا حکم دینے کا حق حاصل ہے۔ حضرت ابن عباس اور عطاء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب نبی کسی کو کسی کام کی دعوت دیں اور اس کا نفس کسی دوسری بات کا خواہش مند ہو تو نفس کی اطاعت سے نبی کی اطاعت اولیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مسلمانوں کے انتقال کرجانے کے بعد نبی اکرم ﷺ ان کی اولاد سے خود ان کی ذات سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں کیونکہ آپ کا فرمان ہے کہ مسلمان انتقال کرجائے اور عیال چھوڑے تو میں اس کا متولی ہوں اور اگر قرض چھوڑے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں یا مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارث لے لیں۔ اور رسول اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور وجوب تعظیم میں مسلمانوں کی ماؤں کی طرح ہیں۔ اور نسبی قرابت والے وراثت میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مگر یہ کہ تم نے جن سے قرض لیا ہے یا اپنے دوستوں کے لیے تہائی مال میں وصیت کرنا چاہو تو وہ جائز ہے اور رشتہ داروں کو وراثت اور دوستوں وغیرہ کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ : پچھلی آیات میں منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارنے کا حکم دیا، جس میں زید ؓ کو زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہنا بھی شامل تھا، تو ضروری تھا کہ نبی کریم ﷺ کا مسلمانوں سے تعلق واضح کیا جائے کہ باپ کی طرف نسبت کی تاکید کو دیکھ کر باپ کے تعلق کو نبی کے تعلق سے زیادہ اہم نہ سمجھ لینا، کیونکہ نبی ﷺ کے ساتھ تمہارا جو تعلق ہے وہ باپ ہی نہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ قرب کا ہے۔ اَلنَّبِيُّ ‘ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ نبی“ کیا گیا ہے۔ ”اَوْلٰى“ کا معنی ”أَقْرَبُ“ (زیادہ قریب) بھی ہے اور ”أَحَقُّ“ (زیادہ حق…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت النبی اولی بالمومنین من انفسھم یہ وہ آیت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو زائل فرمایا جو ابتدائے اسلام میں تھے۔ (1) نبی کریم ﷺ اس آدمی کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس کے ذ مہ کوئی قرض ہوتا جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتوحات سے نوازا فرمایا : ” میں مومنوں سے ان کی ذاتوں سے زیادہ قریب ہوں جو مومن فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنا میں ذمہ داری ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے وارثوں کا ہے “ (1) ۔ دونوں صحیحوں نے نقل کیا ہے۔ ان میں یہ بھی ہے : ” تم میں سے جو قرض یا بال بچے چھوڑجائے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں “۔ ابن عربی نے کہا : اب معاملہ گناہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ البخاری وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مومن نہیں ہے مگر میں دنیا آخرت میں تمام لوگوں سے میں اس کا زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم سو جس مومن نے مال چھوڑا اس کا خفیہ دوست ہو یا اس نے قرض چھوڑا جس میں کسی کا نقصان نہیں تھا۔ تو اس کو چاہیے کہ میرے پاس آجائے میں اس کا مولی ہوں۔ نبی کریم ﷺ کا امت سے محبت و شفقت 2۔ الطیالسی وابن مردویہ نے ابوہریر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فوت ہوجاتا تھا اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آتے آپ پوچھتے کہ اس نے مال چھوڑا ہے جو اس کے قرض کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلنَّبِيُّ [یہ نبی ﷺ ] اَوْلٰى [زیادہ قریب ہیں ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کے ] مِنْ اَنْفُسِهِمْ [ان کی جانوں سے (بھی زیادہ)] وَاَزْوَاجُهٗٓ [اور ان ﷺ (نبی) کی بیویاں ] اُمَّهٰتُهُمْ ۭ [ان (مومنوں) کی مائیں ہیں ] [وَاُولُوا الْاَرْحَامِ : اور رحمی رشتوں والے ] بَعْضُهُمْ [ان کے بعض ] اَوْلٰى [زیادہ قریب ہیں ] بِبَعْضٍ [بعض کے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [اللہ کی کتاب میں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں میں سے ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [اور مہاجروں میں سے ] اِلَّآ اَنْ [سوائے اس کے کہ ] تَفْعَلُوْٓا [تم لوگ کرو ] اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ [اپنے رفیقوں کی طرف ] مَّعْرُوْفًا ۭ [کوئی بھلائی ] كَانَ ذٰلِكَ [ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومنین سے نبی کا تعلق اس سے زیادہ ہے جو ان کا اپنے نفسوں سے ہے اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس آیت میں بظاہر چار باتیں بتائی ہیں، اول یہ کہ نبی اکرم ﷺ کو مومنین سے جو تعلق ہے وہ اس تعلق سے بھی زیادہ ہے جو مومنین کو اپنی جانوں سے ہے، اس میں بہت سے مضامین آجاتے ہیں، اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو ایمان والوں کے ساتھ جو رحمت اور شفقت کا تعلق ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ مومنین کو بھی اپنی جانوں سے رحمت و شفقت کا اتنا تعلق نہیں ہے، اس کا کچھ بیان سورة توبہ کی آیت کریمہ (لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے وہاں آپ ﷺ کی رحمت اور شفقت کے بارے میں بعض احادیث گزر چکی ہیں، آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔ (ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ النبی اولی الخ، یہ مومنوں سے پہلا خطاب ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا ایمان والوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے۔ اس لیے اے ایمان والو ! پیغمبر (علیہ السلام) نے رسم جاہلیت کو توڑا ہے اب کفار و منافقین آپ کی مخالفت کریں گے تم آپ ﷺ کا ساتھ دینا اور بوقت ضرورت اپنی جانیں بھی آپ پر قربان کردینا اور آپ کی ازواج مطہرات کو اپنی ماؤں کی طرح قابل حرمت سمجھنا اگر دشمن ان کی عزت پر حملہ کریں تو ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے کٹ مرنا۔ ازواج مطہرات عزت و احترام اور حرمت نکاح میں ماؤں کے حکم میں ہیں باقی حجاب اور وراثت کے احکام میں اجنبیات کے حکم میں ہیں۔ ای منزلات منزلۃ الامہات فی التحریم و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : سورۃ احزاب کے بنیادی مضامین اللہ کے نبی کا ادب واحترام اور عورتوں سے متعقل بعض احکام ہیں ، گزشتہ درس میں اللہ نے فرمایا تھا کہ کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے ، نیز یہ کہ اگر تم اپنی بیویوں کو ظہار کے طریقے پر ماں کہ دو تو وہ مائیں نہیں بن جاتیں ، یہ محض تمہارے منہ کی باتیں ہیں جن میں حقیقت نہیں ہے ۔ پھر فرمایا کہ جس کو تم منہ بولا بیٹا نا لیتے ہو وہ تمہارا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا لہٰذا اس کو اس کے حقیقی باپ کی طرف ہی نسبت کر کے پکارنا چاہئے اور اگر ایسے کسی شخص کے باپ کا نام پتہ معلوم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور ساتھی ہیں ان کو بھائی کہہ کر پکارا کرو۔ فرمایا اگر غلطی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝ 0 ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا۝ 0 ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا۝ 6 نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

چونکہ اخوت فی الدین اور ولایت کا ذکر تھا اور ضمناً زید بن حارثہ کا بیٹا ہونا بھی باطل کردیا گیا تھا جس سے وہم گزرتا تھا کہ نبی کو اب کسی امتی سے کوئی تعلق نہیں رہا، اس لیے اس آیت النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسہم میں نبی ﷺ کا رشتہ بتلاکر اس وہم کو دفع کردیا گیا کہ نبی کا رشتہ قرابت مسلمانوں کے لیے ان کی ذات سے بھی زیادہ ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ہر ایک مومن کے لیے میں سب سے زیادہ ولی ہوں، دنیا اور آخرت میں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ دیکھو، النبی اولٰی الآیۃ جو کوئی مسلمان مال چھوڑ کر مرے تو اس کو اس کے قرابت دار لیویں جو کوئی ہوں، اگر قرض چھوڑے یا عیال چھوڑے تو میرے پاس قرض خواہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰـتُھُمْ ط وَاُوْلُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓـئِکُمْ مَّعْرُوْفًا ط کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔ (الاحزاب : 6) (نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں، اور ان کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں، اور رحمی رشتے رکھنے والے آپس میں دوسرے مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت اللہ کی کتاب کی رو سے زیادہ حقدار ہیں، اِلَّا یہ کہ تم اپنے اولیاء و اقرباء کے ساتھ کوئی حُسنِ سلوک کرنا چاہو، یہ حکم کتاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو کسی کو اپنا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا ہے اب نبی اکرم ﷺ کا امت کے ساتھ رشتہ اور مسلمانوں کے آپس میں رشتے کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس فرمان میں یہ بتلایا ہے کہ سروردوعالم ﷺ کا اپنی امت کے ساتھ اور امت کا اپنے نبی ﷺ کے ساتھ کیا رشتہ ہے یہ ایسا رشتہ ہے جو تمام رشتوں سے زیادہ مقدس اور مقدم ہے اور ہونا چاہیے۔ سروردوعالم ﷺ اپنے ساتھیوں کے لیے خود ان کی جانوں سے زیادہ خیرخواہ ہیں۔ لہٰذا مومنوں کے لیے بھی نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ محبوب اور مقدم ہونے چاہیں۔ اس خصوصیت کے ساتھ نبی ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کی بیویاں اسی طرح ان کے لیے حرام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نبی کا حق جان سے زیادہ : 6: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ (نبی زیادہ حقدار ہیں ایمان والوں کیلئے ان کی جانوں سے بڑھ کر) یعنی دین و دنیا کے تمام معاملات میں زیادہ حقدار ہیں اور آپ کا حکم ایمان والوں پر ان کے اپنے نفس کے حکم سے زیادہ نافذ ہونے والا ہے پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نفوس کو آپ کے حکم پر قربان کردیں۔ اور آپ کی ذات پر قربان کردیں نمبر 2۔ آپ زیادہ مہربان ہیں ایمان والوں پر ان کی جانوں سے بڑھ کر اور زیادہ نرمی کرنے والے اور زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں جیسا کہ فرمایا بالمؤمنین رء وف رحیم ] التوبہ : 128[ قراءت ِابن مسعود۔ : النبی اولٰی بالمؤمنین من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم کی تفسیر 6، النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم ، یعنی مؤمنوں کا جو تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہے اسی تعلق کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کا حکم مؤمنوں پر ناقذ ہے اور پیغمبر کی اطاعت سب پر واجب ہے ۔ ابن عباس اور عطاء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب نبی کسی کو کسی کام کی دعوت دیں اور اس کا نفس کسی دوسری بات کا خواہش مندہوتو نفس کی اطاعت سے نبی کی اطاعت اولی ہے کیونکہ نبی تمام مسلمانوں کے مصالح اور مفاسد سے بوحی الٰہی خوب واقف ہیں ۔ نبی مؤمنوں کے لیے اس بات کو پسند کرتے ہیں اور اسی کام کا حکم دیتے ہیں جس میں مؤمنوں کی بہودی اور کا میابی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

6۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اسی کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں بنے گا یہاں تکہ میں اس کی جان اور اس کے مال اور اولاد اور تمام لوگوں سے اس کے نزدیک زیادہ عزیز نہ ہوجاؤحضرت عمر ؓ نے عرض کیا 3 ؎ اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول آپ مجھ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں (3 ؎ تفسیر ابن کثیرص 467 ج 3۔ ) یہاں تک کہ میری جان سے بھی آپ نے جواب دیا اے عمر ؓ ایمان اسی کو کہتے ہیں صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی اسی مضمون کی روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ تفسیر فتح البیان ص 591 ج 3۔ ) جس میں اللہ کے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 6 اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیٰ ﷺ کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبے کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں ‘ اس لیے فرمایا (النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم) ” نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ “ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ ﷺ ان کی خیر خواہی کرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–20

نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

13 پیغمبر کے ایمان والوں پر حق کی عظمت شان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " پیغمبر ایمان والوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں "۔ کیونکہ امر واقع کے اعتبار سے پیغمبر اہل ایمان کے ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان کی نفسانی خواہشات و میول اس کے لئے نقصان دہ اور مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔ بلکہ واقعتاً اور اکثر و بیشتر ایسے ثابت ہوتی ہیں۔ اور وہ اس کو کو نقصان اور دھوکہ دے سکتی ہیں بلکہ وہ بالفعل اور فی الواقع اس کو نقصان میں ڈالتی اور دھوکہ دیتی بھی ہیں کہ نفس انسانی کا تو کام ہی شرو فساد اور برائی پر ابھارنا ہے ۔ { اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

رسول اللہ ﷺ کا رتبہ تشریح : ایک اور بہترین نکتہ جو یہاں بیان کیا گیا ہے وہ ہے نبی اکرم ﷺ کا رتبہ، کہ آپ مومنوں کے انکی اپنی جانوں سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔ اس لیے تمام انسانوں سے بہترین ہیں۔ کہ آپ محسن انسانیت ہیں آپ نے اللہ کا بہترین پیغام قرآن کی صورت میں ہمیں دیا اور اپنی بہترین سیرت و کردار سے اس کی تشریح کردی کیونکہ آپ کا ہر عمل قرآن کے مطابق ہے اور یوں آپ نے عملی طور پر قرآن کا ہر حکم کھول کر بیان کردیا۔ اسی لیے قرآن و سنت پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اسی اعلیٰ رتبہ کی وجہ سے آپ کی بیویوں کو مسلمانوں کی مائیں کہا ہے۔ مگر میراث کی حق داران کو بھی قرار نہیں دیا گیا۔ مہاجرین و انصار میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الاحزاب آیات 1 تا 8 اسرارو معارف کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 کیونکہ آنحضرت ﷺ روحانی زندگی بخشتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، اجنبی نائب ہے اللہ کا اپنی جان مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی ﷺ کا اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی ﷺ کا حکم کرے تو فرض ہے “۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت، اس کے باپ اور اطاد کی محبت سے حتیٰ کہ خود اس کی اپنی ذات کی محبت سے بڑھ کر نہ ہوجائے۔ (شوکانی)10 یعنی تعظیم و تکریم اور حرمت نکاح کے اعتبار سے باقی رہے۔ دوسرے احکام ( مثلاً پردہ، ان کی اولاد سے شادی) سو ان میں ماں کی طرح نہیں ہیں۔ (شوکانی) ۔ 1 ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ نے مہاجرین ؓ اور انصار ؓ مدینہ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:6) اولی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے ای احق واقرب الیہم۔ زیادہ مستحق اور زیادہ قریب (نیز ملاحظہ ہو آیت سابقہ) جب اولی کا صلہ لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ نزدیک اور زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے۔ جیسے کہ اولی لک فاولی (75:34) تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم کا ترجمہ دو طرح ہوسکتا ہے :۔ (1) اہل ایمان کے لئے نبی کی ذات ان کی اپنی جانوں پر مقدم ہے۔ (2) نبی کی اہل ایمان کے ساتھ قربت اہل ایمان کی اپنی جانوں کی قربت سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی اہل ایمان جتنا اپنی جانوں کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہیں نبی کریم ﷺ اس سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر (6) ۔ اولی (خیر خواہ ۔ ہمدرد۔ تعلق رکھنے والے) ۔ انفس (نفس) (جانیں) ۔ ازواج (زوج) (جوڑے۔ بیویاں) ۔ امھت (ام) (مائیں) ۔ اولوالارحام (رشتہ دار) ۔ ان تفعلوا (یہ کہ تم کرو) ۔ اولیاء (ولی) (دوست۔ مخلص ساتھی) ۔ معروف (قاعدہ۔ دستور ) ۔ مسطور (لکھ دیا گیا) ۔ نشریح : آیت نمبر (6) ۔ ” ہر ایک نبی اور رسول اپنی امت کا سب سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہوتا ہے۔ وہ بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ہو وقت ان کو اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ جہنم کا راستہ چھوڑکر جنت کے راستے پر آجائیں۔ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور دنیا کے تمام معاملات میں اللہ ہی کے احکامات کی پانبدی کریں۔ اس سچی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

محبت رسول ﷺ اصل ایمان۔ (ف 1) صحیح بخاری ومسلم میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں بنے گا یہاں تک کہ میں اس کی جان اور اس کے مال اور تمام لوگوں سے اس کے نزدیک زیادہ عزیز نہ ہوں جاؤں، ۔ حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ کی قسم ، آپ مجھ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں یہاں تک کہ میری جان سے بھی۔ آپ نے جواب دیا اے عمر ایمان اسی کو کہتے ہیں ، آگے فرمایا کہ جو بیویاں اللہ کے رسول کے نکاح میں آچکی ہیں تمہاری مائیں ہیں یعنی جس طرح ماں کا ادب تعظیم واجب بلکہ فرض ہے اسی طرح ان کا بھی ہے اور جس طرح سگی ماں سے نکاح حرام ہے اسی طرح امت میں کسی مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] یعنی نبی ﷺ مسلمانوں کے لئے ان کے اپنے نفس اور ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔ کیونکہ انسان کا نفس اس کو کبھی نفع پہنچاتا ہے اور کبھی نقصان، لیکن نبی ﷺ کی تعلیم نفع ہی نفع ہے اور خیر ہی خیر ہے۔ اگر اپنا نفس اچھا ہو اور نیکی کی طرف چلتا ہو پھر بھی اس کا نفع نبی ﷺ کے نفع کے برابر نہیں ہوسکتا اور جب نفع رسانی میں رسول اکرم ﷺ ہمارے نفس سے بھی زیادہ ہیں تو ان کا حق ہم پر ہماری جان سے بھی زیادہ ہے اور وہ حق یہ ہے کہ ہم ہر کام میں آپ ﷺ کی اطاعت کریں۔ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم تمام مخلوقات سے زیادہ کریں۔ [6] یعنی دینی مائیں ہیں تعظیم اور احترام اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے اس لئے ان سے نکاح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–10

ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6۔ نبی مسلمانوں کے ساتھ خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو رکھتا ہے اور نبی امور مسلمین میں تصرف کرنے کے بارے میں خود ان مسلمانوں کے نفسوں اور ان کی جانوں سے لائق تر ہے اور پیغمبر کی بیویاں ان مسلمانوں کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ اور حکم شرعی کی رو سے رشتے دار آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں با اعتبار دوسرے مؤمنین اور مہاجرین کے الا یہ کہ تم اپنے دوستوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی سلوک اور بھلائی کرنا چاہو تو کرسکتے ہو یہ حکم لوح محفوظ ہیں لکھا جاچکا تھا۔ اولیٰ کا ترجمہ احری ، اجدر ، الیق سے کیا ہے یعنی سزا وار تر ، مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے نفوس کے مقابلے میں پیغمبر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

ف 4۔ یعنی مسلمان پر اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کا حق ہے اور آپ کی اطاعت مطلقا اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے، اور اس میں احکام و معاملات آگئے۔ 5۔ ازواج کا امہات ہونا باعتبار تعظیم کے ہے، اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے، اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی۔ 6۔ یعنی اخیر حکم شریعت کا توارث بالارحام ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسول اللہ ﷺ ایمان والوں کے لئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں 6) ” نبی کریم ﷺ ایمان والوں کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں “ ۔ کیا انتہا ہے اس شفقت وتعلق کی جو نبی کریم ﷺ کو اپنی تامام امت کے ساتھ ہے۔ انسان خود اپنا دشمن اور بدخواہ تو ہوسکتا ہے اور بعض اوقات جہل وغباوت کی بنا پر بھی ہوجاتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ سے تو جن پر خفی وخفی منافع ومصالح بھی روشن ہیں کسی حال میں بھی بدخواہی کا امکان نہیں۔ بلا شبہ ایک سچے مسلمان کا جو رشتہ اپنے رسول ﷺ سے قائم ہوتا ہے اور جو تعلق اس تعلق سے جو نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کے درمیان ہے آپس میں کوئی نسبت نہیں رکھتا کہنے کو تو آدمی معلوم نہیں کیا کچھ کس کس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary As stated earlier, most of the subjects in Surah al-Ahzab relate to the reverence of the Holy Prophet t and to the unlawfulness of causing pain to him. After the mention of pains caused to him by disbelievers and hypocrites at the beginning of the Surah, some instructions were given to the Holy Prophet ﷺ following which three customs of the Jahiliyyah were refuted. Out of these, the last custom related to such a pain inflicted on the Holy Prophet ﷺ because the disbelievers had - at the time of the marriage of Sayyidah Zainab ؓ the divorced wife of Sayyidna Zayd, and on the basis of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 That is, "The relationship of the Holy Prophet with the Muslims and of the Muslims with the Holy Prophet is of a superior nature, over and above alI human relationships. No other relationship is in any way comparable with the relationship that exists between the Holy Prophet and the believers. The Holy Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) is more compassionate and affectionate and a greater well-wisher of the Muslims than their own parents, even theft own selves. Their parents and their wives and children can harm them, can treat them in a selfish manner and mislead them,…

Read the full tafseer →