Explained with ayahs 7–8
میثاق انبیاء
فرمان ہے کہ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہد وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے۔ اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ 81) 3۔ آل عمران :81) یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب وحکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آجائے تو…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 15
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ بات یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ سے بھی اللہ تعالیٰ ایک پختہ عہد لے چکا ہے جس کی آپ کو سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے۔ اس عہد سے کونسا عہد مراد ہے ؟ اوپر سے جو سلسلۂ کلام چلا آر ہا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد یہ عہد ہے کہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی خود اطاعت کرے گا اور دوسروں سے کرائے گا، اللہ کی باتوں کو بےکم وکاست پہنچائے گا اور انہیں عملاً نافذ کرنے کی سعی و جہد میں کوئی دریغ نہ کرے گا۔ قرآن مجید میں اس عہد کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً
شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا (کہ احکام آلہیہ کا اتباع کریں، جن میں خلق اللہ کو تبلیغ و دعوت اور باہمی تعاون و تناصر بھی داخل ہے) اور (ان پیغمبروں میں) آپ سے بھی (اقرار لیا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی اور (یہ کوئی معمولی عہد و اقرار نہیں تھا بلکہ) ہم نے ان سب سے خوب پختہ عہد لیا تاکہ (قیامت کے روز) ان سچے لوگوں سے (یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے) ان کے سچ کی تحقیقات کرے (تا کہ ان کا شرف و اعزاز اور نہ ماننے والوں پر حجت مکمل ہوجائے، اس عہد اور اس کی تحقیقات سے دو باتوں کا وجوب ثابت ہوگیا کہ صاحب وحی…
Read the full tafseer →واذا اخذنا من النبین میثاقھم ومنک ومن نوح وابراھیم و موسیٰ عیسیٰ ابن مریم واحذنا منھم میثاقا غلیظا (7)
آیات 1۔ 2 میں آنحضرت ﷺ کو ہر خوف و اندیشہ سے بےپروا ہو کر صرف وحی الٰہی کی پیروی اور اس کی دعوت کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے، پیرے کے آکر میں اسی بات کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تاریخ تمام نبیوں کو کی اور ان سے یہ عہد لیا کہ اللہ کی طرف سے ان کو جو وحی کی جا رہی ہے خود بھی اس کی پیروی کریں اور بےکم وکاست اس کو لوگوں کو بھی پہنچائیں۔ فرمایا کہ یہ میثاق ہم نے تم سے بھی لیا، نوح ؑ سے بھی لیا، ابراہیم ؑ سے بھی لیا، موسیٰ ؑ بھی لیا اور عیسیٰ ؑ ابن مریم سے بھی لیا۔ عام کے بعد یہ خاص خاص جلیل…
Read the full tafseer →7-1اس عہد سے مراد ہے ؟ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے جو ایک دوسرے کی مدد اور تصدیق کا انبیاء (علیہم السلام) سے لیا گیا تھا (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ) 3۔ آل عمران :81) میں ہے، بطور خاص پانچ انبیاء (علیہم السلام) کا نام لیا گیا جن سے ان کی اہمیت و عظمت واضح ہے اور ان میں بھی نبی کا ذکر سب سے پہلے ہے درآں…
Read the full tafseer →8: پیچھے جو حقیقت بیان فرمائی تھی کہ نبی ہر مومن کے لئے اپنی جان سے بھی زیادہ قربت کا مقام رکھتے ہیں، اس کی وجہ اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ان کی ذمہ داری بڑی سخت ہے ؛ کیونکہ ان سے بڑا سخت عہد لیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا کر ان کی ہدایت کا سبب بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔
ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی ﷺ سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ قول وقرار کہ ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرے گا۔ اور دین کے قائم کرنے اور حق تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے گا۔ " آل عمران " میں اس میثاق کا ذکر ہوچکا ہے۔ " حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اوپر پیغمبر ﷺ کے حق میں فرمایا تھا کہ مومنین پر ان کی جان سے زیادہ تصرف رکھتا ہے، یہاں اشارہ کردیا کہ یہ درجہ نبیوں کو اس لئے ملا کہ ان پر محنت (اور ذمہ داری بھی) سب سے زیادہ ہے۔ اکیلے ساری خلق سے مقابل ہونا اور کسی سے خوف ورجاء نہ رکھنا۔ " پیغمبروں کے سوا کس کا کام ہوسکتا ہے۔ یہ پانچ پیغمبر جن کے نام یہاں خصوصیت سے لئے اولوالعزم پیغمبر کہلاتے ہیں۔ ان کی ہدایت کا اثر ہزاروں برس رہا…
Read the full tafseer →آیت 7 { وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ } ”اور یاد کرو جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا“
”میثاق النبیین“ کا ذکر اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت 81 اور 82 میں بھی آچکا ہے۔
{ وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ } ”اور آپ ﷺ سے بھی ‘ اور نوح علیہ السلام ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ علیہ السلام ٰ اور عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم سے بھی۔“
{ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا } ”اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔“
یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق ِتوجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ارواح کے علیحدہ وجود کا منکر ہو اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →12 انبیاء کا عہد کیا ہے ؟ انبیاء کا عہد، عہد الست سے الگ ہے۔ اور اس عہد کا بھی قرآن میں متعدد بار ذکر آیا ہے (2: 83، 3: 187، 5: 67، 7: 169 تا 171، 42: 13 میں) اور وہ عہد یہ تھا کہ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی سب سے پہلے خود اطاعت کرے گا پھر دوسروں سے کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بلاکم وکاست دوسروں تک پہنچائے گا اور ان احکام کو عملاً نافذ کرنے میں اپنی مقدور بھر کوشش سے دریغ نہ کرے گا۔ اور اس مقام پر اس عہد کو یاد دلاتے اور بالخصوص منک کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے…
Read the full tafseer →16۔ (احکام کے اتباع وتبلیغ کا) میثاق انبیاء پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکا۔
17۔ ان انبیاء کے ناموں کی تخصیص کی وجہ عجب نہیں کہ یہ ہو کہ یہ صاحب شریعت انبیاء تھے، یا جو بھی وجہ ہو۔ لفظ میثاق کے ساتھ غلیظ کے اضافہ سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ عہدوپیمان کو حلف یا دوسرے قیود کے ساتھ مؤکد کرنا اولی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم واخذنا منھم میثاقا غلیظا . اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے (تمام) انبیاء سے اور (خصوصاً ) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ بن مریم سے عہد لیا تھا اور ان (سب) سے پکا وعدہ لیا تھا۔
یہ عہد اس وقت لیا گیا تھا جب پشت آدم سے سب کو برآمد کیا گیا تھا۔ اللہ نے سب سے عہد لیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں گے ‘ دوسروں کو بھی اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دیں گے ‘ اپنی اپنی امت کے بہی خواہ رہیں گے اور ہر ایک دوسرے کی مدد کرے گا۔
اَلنَِّییِّیْنَکا لفظ تمام انبیاء کو شامل ہے ‘ سب ہی پیغمبر اس میں آگئے لیکن اس کے بعد…
Read the full tafseer →اور جبکہ ہم نے تمام پیغمبروں سے وعدہ لیا کہ دوسروں کو احکام پہنچائیں گے اور ان میں سب سے پہلے آپ سے اقرار لیا کہ آپ اپنی قوم کو ایمان لانے کا حکم دیں گے اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء کرام گزرے ہیں اور جو جو ان پر کتابیں نازل ہوئی ہیں سب سے اپنی قوم کو باخبر کریں گے اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی عہد لیا کہ پہلے بعد والوں کو احکام پہنچائیں گے اور بعد والے پہلوں کی تصدیق کریں گے اور سب اپنی اپنی قوموں کو ایمان لانے کا حکم دیں گے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ۔۔ : جاہلی معاشرے میں منہ بولے بیٹوں کی ان کے باپ کی طرف نسبت کرنے کے حکم، پھر آپ ﷺ کے متبنٰی زید ؓ کی طلاق کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کے حکم پر عمل نہایت مشکل تھا، کیونکہ متبنٰی کا مسئلہ ان کے دینی عقیدے کی شکل اختیار کرچکا تھا اور ان کے رگ و پے میں رچ چکا تھا۔ پھر زینب ؓ سے نکاح میں طرح طرح کی باتوں کا اندیشہ بھی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس عہد کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تمام انبیاء سے اور خود رسول اللہ ﷺ سے لیا، جس میں ان پر یہ فریضہ عائد کیا کہ وہ ہر حال میں احکام پر عمل کرنے میں اور انھیں لوگوں تک پہنچانے میں کوئی تنگی محسوس نہیں…
Read the full tafseer →آیت واذ اخذنا من النبین میثاقھم یعنی انبیاء کو جو ذمہ داریاں دی گئیں ان کو پورا کرنے کا وعدہ لیا گیا، یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو بشارت دیں گے اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں گے یعنی وہ مسطور تھا جب اللہ تعالیٰ نے کہا جو کچھ ہونے والا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : کان مسطورا حین کتاب اللہ ما ھو کائن حین اخذ اللہ تعالیٰ المواثیق من الانبیاء، ومنک ضمیر سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے۔ آیت ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم ان پانچ انبیاء ورسل کو خاص کیا اگرچہ یہ انبیاء کے زمرہ میں داخل تھے۔ یہ الو العزم رسولوں اور امتوں کے ائمہ میں سے تھے۔ یہ احتمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذاخذنا من النبیین میثاقہم یعنی نبیوں سے وعدہ لیا اور یہ آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے اس وقت لیا گیا آیت واخذنا منہم میثاقا غلیظا یعنی لوگ جو وعدہ لیتے ہیں اس سے بھی مضبوط وعدہ لیا آیت لیسئل الصدقین عن صدقہم تاکہ قیامت کے دن سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے جو پیغام پہچانے والے ہیں اور اس فریضہ کو ادا کرنے والے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ اخذنا من النبین میثاقہم الایۃ سے مراد ہے۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا [اور جب ہم نے لیا ] مِنَ النَّـبِيّٖنَ [نبیوں سے ] مِيْثَاقَهُمْ [ان کا عہد ] وَمِنْكَ [اور آپ ﷺ سے ] وَمِنْ نُّوْحٍ [اور نوح (علیہ السلام) سے ] وَّاِبْرٰهِيْمَ [اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ] وَمُوْسٰى [اور موسیٰ (علیہ السلام) سے ] وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ [اور مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) سے ] وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ [اور ہم نے لیا ان سے ] مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا [ایک پختہ عہد ] ۔
Read the full tafseer →حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے عہد لینا
اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے جو عہد لیا تھا اس آیت میں اس کا ذکر ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا عمومی اور حضرت خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ بن مریم کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا ہے، ان حضرات کی محنتیں اپنی اپنی امتوں کو تبلیغ کرنے سے متعلق بہت زیادہ تھیں، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ان حضرات کی فضیلت زائدہ ظاہر فرمانے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ حضرات گذشتہ اصحاب شرائع والے انبیاء ( علیہ السلام) میں مشہور ہیں ان حضرات کا خصوصی تذکرہ فرمایا ہے۔
صاحب روح المعانی ؓ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
کر عہد انبیاء سابقین دربارہ اتباع وحی تبلیغ دین
قال اللہ تعالیٰ واذ اخذنا من النبیین میثاقہم۔۔۔ الی۔۔۔ واعد للکفرین عذابا الیما۔
گذشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیا کہ وحی خداوندی کا اتباع کرنا اور کافرین اور منافقین کے کہنے پر نہ چلنا آگے یہ بتلائے ہیں کہ ہم نے اسی قسم کا عہد انبیا سابقین سے بھی لیا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے اس وقت کا ذکر کیجئے کہ جب ہم نے تمام پیغمبروں سے بوقت عطا (ف 1) نبوت یا بوقت عہد الست عہد واثق لیا کہ تم ہماری وحی کا اتباع کرنا اور دعوت وتبلیغ میں ثابت قدم رہنا اور مخالفین کے طعن اور ایذا کی پروا نہ کرنا اور کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
14:۔ واذا اخذنا الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے پہلا خطاب ہے ہم تمام نبیوں سے عموماً ، آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) سے خصوصاً تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا نہایت پختہ عہد لے چکے ہیں۔ ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد مؤکد بالایمان لیا تھا کہ تبلیغ رسالت کا فریضہ کما حقہ ادا کرنا اور حق بیان کرنے میں نرمی یا سستی سے کام نہ لینا۔ اس لیے اب آپ دیگر احکام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ رسوم جاہلیت کو ختم کرنے میں کسی رواداری یا تساہل کو روا نہ رکھیں اور کفار و منافقین کی شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا فریضہ انجام دینے میں ذرا نرمی اختیار نہ فرمائیں۔ المیثاق الغلیظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کو مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو ہے۔ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں لہٰذا نبی کا اتباع اور ادب و احترام ضروری ہے اور دوسرا مسئلہ اللہ نے قرابت داروں کے متعلق فرمایا کہ عام مومنوں اور مہاجروں کی نسبت قرابت داروں کا وراثت میں حق فائق ہے۔ البتہ دوسرے لوگوں سے حسن سلوک اور احسان کیا جاسکتا ہے اس سے پہلی آیت میں پیغمبر (علیہ السلام) کا مرتبہ اور آپ کا اجلال و اکرام بیان ہوا تھا۔ نبی (علیہ السلام) کو جو خیرخواہی اور ہمدردی بنی نوع انسان سے بالعموم اور اہل ایمان کے ساتھ بالخصوص ہے ، وہ کسی دوسری ذات میں نہیں۔ جس قسم کی…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ 0 ۠ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا 7ۙ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ…
Read the full tafseer →ترکیب : واذ مقدر باذکر میثاقہم مفعول لاخذنا ومن النبیین متعلق بہ و منک معطوف علی النبیین عطف الخاص علی العام ومن نوح وکذا ما بعدہ عطف علیٰ منک باعادۃ الجار لیصح العطف علی الضمیر المتصل واخذنا منہم الخ الجملۃ معطوف علی الجملۃ السابقۃ لبیان ہذا الوصف واعد عطف علی اخذنا او علیٰ ماول علیہ لیسئل کانہ قال فاثاب المؤمنین واعد للکافرین۔ بیضاوی
تفسیر : اتباع وحی کے حکم کو اول ماجعل اللہ الرجل من قلبین سے مؤکد کیا تھا کہ دل ایک ہے دو نہیں جو دو طرف لگاؤ پس خاص اللہ ہی کی طرف لگانا چاہیے۔ اب اسی حکم کو واذاخذنا من النبیین میثاقہم سے موکد کرتا ہے کہ تم کو وحی کا اتباع کرنا پر ضرور ہے، کس لیے کہ تم اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْـکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ص وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا۔ لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ ج وَاَعَدَّلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 7، 8)
(اور یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کے عہد لیے، اور آپ سے بھی، اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا۔ تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں) اور کافروں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اور مخالفت کرنے والے جس قدر چاہیں حق کی مخالفت کرنے پر تل جائیں اے پیغمبر ﷺ آپ نے لوگوں تک حق پہنچانا اور ہر حال میں حق پر قائم رہنا ہے۔ اس حوالے سے آپ کے سامنے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ارشاد ہوا کہ ہم نے انبیاء کرام، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ ﷺ سے عہد لیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں تک حق پہنچانا اور اس پر قائم رہنا ہے۔ اس بارے میں آپ اور دوسرے انبیاء سے سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کے حق کے بارے میں جذبات کچھ بھی ہوں آپ کو پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ سچائی کا انکار کریں گے…
Read the full tafseer →7: وَاِذْاَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ (جب ہم نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ عہد لیا) یعنی اس وقت کو یاد کرو (اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے) جب ہم نے انبیاء (علیہم السلام) سے تبلیغ رسالت کا عہد لیا اور دین قیم کی طرف دعوت دینے کا وعدہ لیا۔ وَ مِنْکَ (اور آپ سے) خصوصاً ۔
نکتہ تقدیم :
رسول اللہ ﷺ کو نوح اور بعد والے انبیاء (علیہم السلام) پر مقدم کیا کیونکہ یہ عطف بیان فضیلت کیلئے ہے اس لئے کہ یہ اولوالعزم انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ اور سارے صاحب شریعت ہیں۔ جبکہ حضرت محمد ﷺ ان سب سے افضل تھے اسی لئے آپ کو مقدم کردیا۔ اگر ایسا ملحوظ نہ ہوتا تو جن کا زمانہ مقدم ہے ان کو مقدم کیا…
Read the full tafseer →تفسیر 7۔ ، واذاخذنا من النبیین میثاقھم، اس وعدہ کو پورا کرو جو تم نے ہمارے ساتھ کیا ہے اور یہ کہ تم بعض بعض کی تصدیق کرو اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ نے تم سے وعدہ لیاتھا کہ اسی کی عبادت کروگے اور اللہ کی طرف عبادت کرنے کی دعوت دوگے اور تم میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کروگے اور قوم کو نصیحت کروگے۔ ، ومنک نوح وابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم ، ان پانچ انبی اکرام (علیہم السلام) کا خصو صی طور پر تذکرہ اس وجہ سے کیا کہ یہ پیغمبر اولوالعزم تھے ۔ ان پر کتابیں اور صحیفے نازل کیے گئے تھے، ان کو الگ الگ مستقل شریعتیں دی گئی تھیں۔
پھر رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان ظاہر کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7‘ 8۔ اس آیت میں انبیاء کے عہد کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم رواح میں ہر ایک پہلے نبی سے مابعد میں آنے والے نبی کے باب میں یہ عہد لیا ہے کہ پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو اس مابعد کی شریعت پر ایمان لاوے اور اگر اس زمانہ کے پانے کی امید نہ ہو تو اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جا وے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے زمانہ میں نماز روزے کے احکام بدلتے رہے ہیں ورنہ توحید الٰہی اور احکام الٰہی کی فرمانبرداری میں سب شریعتیں ایک ہیں مسند امام احمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت نمبر : 8 ۔ 7
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء ومرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آکر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13 پیغمبر کے ایمان والوں پر حق کی عظمت شان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " پیغمبر ایمان والوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں "۔ کیونکہ امر واقع کے اعتبار سے پیغمبر اہل ایمان کے ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان کی نفسانی خواہشات و میول اس کے لئے نقصان دہ اور مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔ بلکہ واقعتاً اور اکثر و بیشتر ایسے ثابت ہوتی ہیں۔ اور وہ اس کو کو نقصان اور دھوکہ دے سکتی ہیں بلکہ وہ بالفعل اور فی الواقع اس کو نقصان میں ڈالتی اور دھوکہ دیتی بھی ہیں کہ نفس انسانی کا تو کام ہی شرو فساد اور برائی پر ابھارنا ہے ۔ { اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اولوالعزم انبیاء سے پختہ عہد
تشریح : ان آیات میں انبیاء کی فضیلت کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے۔ کہ ایک عہد تو کل مخلوق سے لیا تھا عالم ارواح میں جو عہد الست کے نام سے مشہور ہے اور یہ عہد وہ خاص عہد ہے جو نبیوں سے لیا گیا کہ اپنی تبلیغ پوری دیانتداری سے کریں گے۔ پورے خلوص اور محنت سے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں گے۔ یہاں خاص طور سے پانچ انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے اور آخری رسول ﷺ کو ان سب پر فضیلت دیتے ہوئے مخاطب کیا گیا ہے۔ اور یہ عہد اس لیے لیا گیا ہے تاکہ ایک دوسرے کی گواہی دے سکیں۔ ویسے بھی سب نبی ایک دوسرے کو مانتے ہیں۔ اور قیامت کے دن ان کے لیے گواہی لی جائے گی کہ کیا انہوں نے اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →ف 2 یہ اقرار کہ دین کو قائم کریں گے اور اس میں کوئی تفرقہ نہیں ڈالیں گے۔ ( دیکھئے شوریٰ آیت 13) یہ عہد گو تمام انبیاء سے لیا گیا مگر اس آیت میں اور ” شوریٰ “ کی آیت 13 میں خاص طور پر پانچ اولوالعزم پیغمبروں ﷺ کے نام ذکر کئے جس سے مقصد دوسرے انبیا ﷺ پر ان کی عظمت و فضلیت ظاہر کرنا ہے اور آنحضرت ﷺ کو باوجود متأخر زماں ہونے کے یہاں مقدم ذکر کیا کیونکہ آپ سب سے افضل ہیں۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اوپر پیغمبر ﷺ کو فرمایا کہ وہ سب لوگوں پر تصرف رکھتا ہے ان کی جان سے بھی زیادہ، یہاں فرمایا کہ یہ درجہ نبیوں ﷺ کو ملا کہ ان پر محنت بھی زیادہ ہے، ساری خلق سے مقابل ہونا اور کسی سے خوف و جا…
Read the full tafseer →(33:7) واذا اخدنا : ای واذکر حین اخذنا۔ وہ وقت یاد کر جب ہم نے (عہد) لیا تھا۔
میثاقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا عہد۔ ان کے ساتھ کیا ہوا عہد و پیمان (یعنی احکام شریعت کی تبلیغ اور اس کے اتباع کا وعدہ)
ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم۔ اور آپ سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی۔ النبیین کے بعد بالتخصیص آپ کا اور دوسرے پیغمبروں کا نام لینا ان کے اولوا العزم اور صاحب شریعت ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کی عظمت و شان کو واضح کرنا مقصود ہے پھر آپ ﷺ کا ذکر مبارک دوسرے پیغمبروں سے قبل لانا۔ حالانکہ زمانہ کے لحاظ سے آپ بعد میں تشریف لائے آپ جناب کی دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8
میثاق : معاہدہ عہد
غلیظ : سخت۔ پکا
لیسئل : تاکہ وہ پوچھے، سوال کرے۔
صڈق : سچائی
اعد : اس نے تیار کر رکھا ہے۔
تشریح آیت نمبر 7 تا 8 :
میثاق، عہد، معاہدہ تمام لوگوں سے اور خاص طور پر انبیا کرام سے بھی لیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود بھی اللہ سے کیے ہوئے عہد و میثاق کو پورا کریں اور دوسروں کو بھی سچائی پر لانے کی بھر پور جدوجہد اور کوشش کریں۔ اور اللہ نے جو بھی حکم دیا ہو اس پر بغیر کسی جھجک اور شرم کے عمل کریں کیونکہ قیامت کے دن اللہ ہر ایک کی کوششوں اور عمل سے متعلق سوال فرمائیں گے۔ سچے لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور جو لوگ جھوٹ اور باطل پر جمے رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدہ لیا اور خصوصا آپ سے اے محبوب ﷺ اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے سے بڑا مستحکم عہد لیا کہ اس میں کبھی فرق نہ آسکے ۔ نبی کو جب اسرار غیب کا راز داں بنایاجاتا ہے تو اس سے اس قسم کا سخت عہد بھی جاتا ہے اب گفتگو اسمیں ہے کہ وہ کیا عہد تھا اور کب لیا گیا تھا دوسری بات کی بابت حضرت کعب سے یوں منقول ہے کہ یہ عہد اس وقت لیا کہ جب روز میثاق میں لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے باہر نکالا تھا اور تمام بنی آدم سے عہدلیا تھا، اول بات کی بابت مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →[10] یہ اس عہد یا میثاق کا ذکر ہے جو سورة آل عمران آیت 187 اور سورة شوری آیت 13 میں بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات…
Read the full tafseer →7۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا عہد اور اقرار لیا اور ان نبیوں میں آپ ؐ سے اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی عہد لیا اور عہد بھی خوب پختہ عہد لیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 4۔ یعنی مسلمان پر اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کا حق ہے اور آپ کی اطاعت مطلقا اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے، اور اس میں احکام و معاملات آگئے۔
5۔ ازواج کا امہات ہونا باعتبار تعظیم کے ہے، اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے، اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی۔
6۔ یعنی اخیر حکم شریعت کا توارث بالارحام ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →7) ” اور جب ہم نے سارے نبیوں سے پختہ عہد لیا اور آپ ﷺ سے بھی اے پیغمبر اسلام ! “ اس عہد سے کون سا عہد مراد ہے ؟ ہمارے مفسرین کی اکثریت نے اس عہد سے وہ عہد مراد لیا ہے جس عہد کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 80 میں کیا گیا ہے۔ وہ کیا عہد ہے جو محولہ آیت میں لیا گیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ ” اور دیکھو جب ایسا ہوا تھا کہ نبیوں سے عہد لیا تھا کہ ہم نے تم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے پھر اگر ایسا ہو کہ کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا تمہارے پاس آئے جو تمہارے ساتھ ہے تو ضروری ہے کہ تم اسے مانو اور اس کی تائید کرو “۔ ایک ایک لفظ پر غور کرو اور خوب فکر کرتے ہوئے بتائو کہ کیا اس بات کا جو اس جگہ اس عہد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
Commentary
At the beginning of the Surah, by saying: وَ اتَّبع مَا یُوحٰٓی اِلَیکَ , the Holy Prophet ﷺ was asked to follow the Divine revelation sent to him. Then, in the previous verse: اَلنَّبِیُّ اَولٰی بِالمُؤمِنِینَ , the believers have been obligated with the implementation of the orders of the recipient of the revelation. It is to further confirm and emphasize these very two things that, in the present two verses as well, the same two subjects have been reiterated, that is, the recipient of the revelation has been obligated to follow the revelation received by him from Allah and the…
Read the full tafseer →15 Allah in this verse has reminded the Holy Prophet that, like alI other Prophets, He has taken from him too a solemn covenant which he should abide by strictly. A study of the preceding verse shows that the Covenant implies: "The Prophet will first himself obey and follow every Command received from Allah, and then make others also to obey and follow it: he will convey Allah's Commands intact to others and will show no laxity in the struggle to enforce them practically." This Covenant has been mentioned at several other places in the Quran, e.g.
(1)"He has appointed for you the same way of…
Read the full tafseer →