Al-Ahzaab 33:8

Al-Ahzaab · from ayah 8

33:8

لِّیَسْـَٔلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ— وَاَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا ۟۠لِّيَسۡئَلَ الصّٰدِقِيۡنَ عَنۡ صِدۡقِهِمۡ‌ۚ وَاَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا اَ لِيۡمًا

تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That He may question the truthful about their truth. And He has prepared for the disbelievers a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:8

تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے اور اس نے کافروں کے لیے تو ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ (اللہ) سچوں سے اُن کے سچ کے بارے میں دریافت فرمائے، اور اس نے کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے اور کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ اللہ راست بازوں سے ان کی راست بازی کی بابت سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کی نسبت) اور کافروں کے لئے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ وہ (وحدہ لاشریک) پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں (کہ انہوں نے اس کی کہاں تک پابندی کی) اور کافروں کے لئے اس نے ایک بڑا ہی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ ان سچوں سے ان کے سچ کی بابت سوال کرے۔ اور کافروں کے لئے (اللہ نے) عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ سچ کہنے والوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so that (their Lord) may question the truthful about their truthfulness. As for the unbelievers, He has kept a painful chastisement in store for them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that He (Allah) may ask the truthful ones about their truth. And He has prepared a painful punishment for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

so that He (Allah) may ask the truthful ones about their truth. And He has prepared a painful punishment for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That He may ask the truthful about their truth. And He has prepared for the disbelievers a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may ask the loyal of their loyalty. And He hath prepared a painful doom for the unfaithful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That He may question the truthful about their truth. And He has prepared for the disbelievers a painful punishment.

— Saheeh International

This was a firm agreement. God will ask the truthful ones about their truthfulness and prepare a painful torment for the disbelievers.

— Muhammad Sarwar

That He may question the truthful of their truth, and He has prepared for the unbelievers a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

That he may question the truthful of their truth. And for the Infidels He hath gotten ready a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

That (Allah) may question the (custodians) of Truth concerning the Truth they (were charged with): And He has prepared for the Unbelievers a grievous Penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

میثاق انبیاء فرمان ہے کہ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہد وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے۔ اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ 81؀) 3۔ آل عمران :81) یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب وحکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آجائے تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 16 یعنی اللہ تعالیٰ محض عہد لے کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ اس عہد کے بارے میں وہ سوال کرنے والا ہے کہ اس کی کہاں تک پابندی کی گئی۔ پھر جن لوگوں نے سچائی کے ساتھ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو وفا کیا ہوگا وہی صادق العہد قرار پائیں گے۔ سورة الْاَحْزَاب 17 اس رکوع کے مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو اسی سورة کی آیات 36۔ 41 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا (کہ احکام آلہیہ کا اتباع کریں، جن میں خلق اللہ کو تبلیغ و دعوت اور باہمی تعاون و تناصر بھی داخل ہے) اور (ان پیغمبروں میں) آپ سے بھی (اقرار لیا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی اور (یہ کوئی معمولی عہد و اقرار نہیں تھا بلکہ) ہم نے ان سب سے خوب پختہ عہد لیا تاکہ (قیامت کے روز) ان سچے لوگوں سے (یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے) ان کے سچ کی تحقیقات کرے (تا کہ ان کا شرف و اعزاز اور نہ ماننے والوں پر حجت مکمل ہوجائے، اس عہد اور اس کی تحقیقات سے دو باتوں کا وجوب ثابت ہوگیا کہ صاحب وحی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لیسئل الصدقین عن صدقھم واعد للکفرین عذاب الیما (8) یہ میثاق لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اس تبلیغ کے بعد ہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اتام حجت ہوا۔ جس کے بعد وہ مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ راستبازوں سے ان کی راستبازی سے متعلق اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفرو نفاق کے متعلق پوچھ گچھ کرے اور پھر ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے۔ اس اتمام حجت کے بغیر اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی گمراہی پر سزا دیتا تو یہ چیز اسکے عدل و رحمت کے خلاف ہوتی اور لوگ قیامت کے دن عذر رسکتے۔ آگے آیات 24 اور 37۔ 40 کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ سورة نساء کی آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8-1یہ لام کئ ہے یعنی یہ عہد اس لئے لیا تھا تاکہ اللہ سچے نبیوں سے پوچھے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوموں تک پہنچایا تھا یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء سے پوچھے کہ تمہاری قوموں نے تمہاری دعوت کا جواب کس طرح دیا ؟ مثبت انداز میں یا منفی طریقے سے، اس میں داعیان حق کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ وہ دعوت حق کا فریضہ پوری تن دہی اور اخلاص سے ادا کریں تاکہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہو سکیں، اور ان لوگوں کے لئے بھی وعید ہے جن کو حق کی دعوت پہنچائی جائے کہ اگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے تو عند اللہ مجرم اور مستوجب سزا ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: یہ عہد اس واسطے لیا گیا تھا کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچ جائے، اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے پوچھ گچھ کرے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کس قدر سچائی سے کام لیا، اگر انبیاء کرام اپنے عہد کے مطابق اللہ تعالیٰ کا پیغام ان تک ٹھیک ٹھیک نہ پہنچاتے تو ان پر حجت قائم نہ ہوتی، اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس فرماتا، کیونکہ حجت تمام کئے بغیر کسی سے باز پرس کرنا اس کے انصاف کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔ ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی ﷺ سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی قول وقرار کے مطابق ان پیغمبروں کی زبانی اپنے احکام خلق کو پہنچائے اور حجت تمام کر دے تب ہر ایک سے پوچھ پاچھ کرے گا، تاکہ سچوں کا سچائی پر قائم رہنا ظاہر ہو اور منکروں کو سچائی سے انکار کرنے پر سزا دی جائے۔ آگے جنگ احزاب کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے سچے پیغمبر اور مومنین اور ان کے ظاہری ثمرات و نتائج ذکر کیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ } ”تاکہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔“ یہاں اس فقرے کے بعد یہ الفاظ گویا محذوف ہیں : وَالْـکٰذِبِیْنَ عَنْ کِذْبِھِم اور وہ جھوٹوں سے بھی پوچھ لے ان کے جھوٹ کے بارے میں ! تاکہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں اچھی طرح سے پوچھ گچھ کرلے۔ { وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔“ پہلے رکوع کے اختتام پر اس مضمون کا سلسلہ عارضی طور پر منقطع کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر تمہیداً ُ منہ بولے بیٹے کی قانونی حیثیت کو واضح کردیا گیا اور حضور ﷺ کو ہدایت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 انبیاء کے عہد کی ان سے باز پرس بھی ہوگی :۔ یہ محض عہد لینے تک ہی معاملہ نہیں ہوجاتا بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عہد سے متعلق پیغمبروں سے بھی سوال کرے گا۔ ان کی بھی بازپرس ہوگی۔ انھیں بھی پوچھا جائے گا کہ آیا تم نے اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ پھر اس قوم نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ یا تمہاری دعوت کا ردعمل کیا ہوا تھا ؟ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے۔ تاہم یہاں رسولوں کے بجائے صادقین کا لفظ آیا ہے۔ گویا ہر ایماندار سے اس کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کیا ہوگا وہی لوگ صادق العہد قرار پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” الصدقین “۔ سچوں سے یعنی پیغمبروں سے۔ لفظ (آیت) ” الصدقین “۔ لاکر یہ خود بتا دیا کہ انبیاء نے اپنا عہد پورا کیا، اور اقرار میں سچے تھے۔ (آیت) ” لیسئل “ میں ل۔ کے، کے مرادف ہے ل کے یسال الصادقین (معالم) (آیت) ” صدقھم “۔ یعنی تبلیغ رسالت کے باب میں۔ اے من تبلیغھم الرسالۃ (معالم) 19۔ (قیامت کے دن) الکافرین “۔ میں وہ سب لوگ آگئے، جو صاحب وحی کے اتباع کے منکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

آیت نمبر 1 تا 8 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیسئل الصدقین عن صدقھم . (ایسا اس لئے کیا) تاکہ (قیامت کے دن) سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے۔ یعنی ایسا کرنے کی غرض یہ تھی کہ انبیاء صادقین سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے اپنی اپنی امتوں سے کیا کہا تھا ‘ یا کافروں کو ذلیل کرنے اور لاجواب بنانے کیلئے کافروں سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی ‘ یا انبیاء کی تصدیق کرنے والوں سے ان کی تصدیق کے متعلق پوچھا جائے گا (کیا تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی) کیونکہ سچے کی تصدیق کرنے والا بھی سچا ہوتا ہے ‘ یا ان مؤمنوں سے جنہوں نے اپنے وعدوں کو سچ کر دکھایا تھا ‘ ان کے صدق کی بازپرس ہوگی یہاں تک کہ ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تاکہ قیامت کے دن مبلغین سے ان کی تبلیغ کی اور اقرار وعدہ کرنے والوں سے ان کے وفائے عہد کی اور اہل ایمان سے ان کے ایمان کی تحقیق کرے۔ اور انبیائے کرام اور اللہ کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے کہ اس عذاب کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِّيَسْـَٔـلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد محض قول و قرار کے لیے نہیں لیا، بلکہ اس لیے لیا ہے کہ وہ قیامت کے دن پیغمبروں سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے قوم کو میرا پیغام پہنچایا ؟ پھر قوم نے تمہیں کیا جواب دیا اور دعوت کا نتیجہ کیا ہوا ؟ پیغمبروں سے جو عہد لیا، وہ ان کی امت کے لوگوں کے لیے بھی ہے اور ”صادقین“ کا لفظ بھی عام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مومن سے بھی اس عہد کے متعلق سوال ہوگا، پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے اس عہد کو پورا کیا وہی صادق قرار پائیں گے اور اجر کے مستحق ہوں گے اور جنھوں نے اس کا انکار کیا، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب الیم تیار کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس کی چار توجہین ہیں : (1) اللہ تعالیٰ انبیاء سے پوچھے کہ انہوں نے اپنی قوموں تک پیغام حق پہنچایا ہے ؛ نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ اس میں تنبیہ ہے یعنی جب انبیاء سے پوچھا جائے گا تو دوسروں سے کیسے نہیں پوچھا جائے گا ؟ (3) (2) انبیاء سے یہ پوچھا جائے گا کہ ان کی قوموں نے انہیں کیا جواب دیا ہے ؛ یہ علی بن عیسیٰ نے بیان کیا ہے۔ (4) (3) اللہ تعالیٰ انبیاء سے اس وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں پوچھے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا تھا ؛ ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے۔ (5) (4) سچے مومنوں سے مخلص دلوں کے بارے میں پوچھے (6) قرآن حکیم میں ہے آیت فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین (الاعراف) یہ بحث…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

1۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذاخذنا من النبیین میثاقہم یعنی نبیوں سے وعدہ لیا اور یہ آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے اس وقت لیا گیا آیت واخذنا منہم میثاقا غلیظا یعنی لوگ جو وعدہ لیتے ہیں اس سے بھی مضبوط وعدہ لیا آیت لیسئل الصدقین عن صدقہم تاکہ قیامت کے دن سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے جو پیغام پہچانے والے ہیں اور اس فریضہ کو ادا کرنے والے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ اخذنا من النبین میثاقہم الایۃ سے مراد ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّيَسْـَٔـلَ [تاکہ وہ (اللہ) پوچھے ] الصّٰدِقِيْنَ [سچوں سے ] عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ [ان کی سچائی کے بارے میں ] وَاَعَدَّ [ اور اس نے تیار کیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ [کافروں کے لئے ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ایک دردناک عذاب ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لِّیَسْءَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِھِمْ ) (تاکہ اللہ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال فرمائے) اس میں میثاق لینے کی حکمت بیان فرمائی اور مطلب یہ ہے کہ یہ میثاق اس لیے لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نبیوں سے دریافت فرمائے جو عہد کرنے میں سچے تھے کہ تم نے اپنے عہد کے مطابق اپنی امتوں کو تبلیغ کی یا نہیں ؟ صحیح بخاری جلد 2 ص 465 میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت نوح (علیہ السلام) کو لایا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تم نے تبلیغ کی ؟ تو وہ عرض کریں گے کہ اے رب میں نے واقعتہً تبلیغ کی، پھر ان کی امت سے سوال ہوگا کہ کیا انہوں نے تمہیں میرے احکام پہنچائے ؟ وہ کہیں گے نہیں ! ہمارے پاس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

کر عہد انبیاء سابقین دربارہ اتباع وحی تبلیغ دین قال اللہ تعالیٰ واذ اخذنا من النبیین میثاقہم۔۔۔ الی۔۔۔ واعد للکفرین عذابا الیما۔ گذشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیا کہ وحی خداوندی کا اتباع کرنا اور کافرین اور منافقین کے کہنے پر نہ چلنا آگے یہ بتلائے ہیں کہ ہم نے اسی قسم کا عہد انبیا سابقین سے بھی لیا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے اس وقت کا ذکر کیجئے کہ جب ہم نے تمام پیغمبروں سے بوقت عطا (ف 1) نبوت یا بوقت عہد الست عہد واثق لیا کہ تم ہماری وحی کا اتباع کرنا اور دعوت وتبلیغ میں ثابت قدم رہنا اور مخالفین کے طعن اور ایذا کی پروا نہ کرنا اور کافروں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

14:۔ واذا اخذنا الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے پہلا خطاب ہے ہم تمام نبیوں سے عموماً ، آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) سے خصوصاً تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا نہایت پختہ عہد لے چکے ہیں۔ ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد مؤکد بالایمان لیا تھا کہ تبلیغ رسالت کا فریضہ کما حقہ ادا کرنا اور حق بیان کرنے میں نرمی یا سستی سے کام نہ لینا۔ اس لیے اب آپ دیگر احکام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ رسوم جاہلیت کو ختم کرنے میں کسی رواداری یا تساہل کو روا نہ رکھیں اور کفار و منافقین کی شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا فریضہ انجام دینے میں ذرا نرمی اختیار نہ فرمائیں۔ المیثاق الغلیظ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–8

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کو مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو ہے۔ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں لہٰذا نبی کا اتباع اور ادب و احترام ضروری ہے اور دوسرا مسئلہ اللہ نے قرابت داروں کے متعلق فرمایا کہ عام مومنوں اور مہاجروں کی نسبت قرابت داروں کا وراثت میں حق فائق ہے۔ البتہ دوسرے لوگوں سے حسن سلوک اور احسان کیا جاسکتا ہے اس سے پہلی آیت میں پیغمبر (علیہ السلام) کا مرتبہ اور آپ کا اجلال و اکرام بیان ہوا تھا۔ نبی (علیہ السلام) کو جو خیرخواہی اور ہمدردی بنی نوع انسان سے بالعموم اور اہل ایمان کے ساتھ بالخصوص ہے ، وہ کسی دوسری ذات میں نہیں۔ جس قسم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيَسْـَٔـلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ۝ 0 ۚ وَاَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝ 8 ۧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

لیسئل الصٰدقین عن صدقہم اس عہد لینے کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ یہ اس لیے لیا گیا کہ قیامت کے دن انبیاء سے سوال کرے جو اپنے عہد کے پورا کرنے میں صادق تھے کہ تم نے اپنے کام کو پورا اور عہد کو سچا کردیا۔ لوگوں کو احکام پہنچائے ؟ وہ کہیں گے ہاں۔ اس سے منکرین کا الزام دینا مقصود ہوگا اور ممکن ہے کہ صادقین سے انبیاء کی تصدیق کرنے والے لوگ مراد ہوں کیونکہ صادق کا مصدق بھی صادق ہے اور مومنین بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ جنہوں نے دنیا میں اپنا عہد سچا کردیا اور منکروں کو درد ناک عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْـکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ص وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا۔ لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ ج وَاَعَدَّلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 7، 8) (اور یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کے عہد لیے، اور آپ سے بھی، اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا۔ تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں) اور کافروں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اور مخالفت کرنے والے جس قدر چاہیں حق کی مخالفت کرنے پر تل جائیں اے پیغمبر ﷺ آپ نے لوگوں تک حق پہنچانا اور ہر حال میں حق پر قائم رہنا ہے۔ اس حوالے سے آپ کے سامنے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے انبیاء کرام، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ ﷺ سے عہد لیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں تک حق پہنچانا اور اس پر قائم رہنا ہے۔ اس بارے میں آپ اور دوسرے انبیاء سے سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کے حق کے بارے میں جذبات کچھ بھی ہوں آپ کو پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ سچائی کا انکار کریں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8: لِّیَسْئَلَ (تاکہ اللہ تعالیٰ تحقیقات کرے) الصّٰدِقِیْنَ (سچوں سے) یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے عَنْ صِدْقِہِمْ (ان کی سچائی کے متعلق) جو انہوں نے کہا اپنی اقوام کو نمبر 2۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کرنے والوں سے پوچھے۔ کیوں کہ جس نے صادق کو صدقت کہا وہ اپنی بات میں سچا ہے۔ نمبر 3۔ تاکہ انبیاء (علیہم السلام) سے پوچھے کہ ان کی امتوں نے ان کو کیا جواب دیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہے : یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم ] المائدہ : 109[ وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ (اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کیلئے) جو رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ عَذَابًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 8–9

8، لیسال الصادقین عن صدقھم، ایسا کرنے کی غرض یہ تھی کہ انبیاء صادقین سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے اپنی اپنی امتوں سے کیا کہا تھا یا کافروں کو ذلیل کرنے اور لا جواب بنانے کے لیے کافروں سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی یا انبیاء کی تصدیق کرنے والوں سے ان کی تصدیق کے متعلق پوچھا جائے گا کیوں کہ سچے کی تصدیق کرنے والا بھی سچا ہوتا ہے یا ان مؤمنوں سے جنہوں نے اپنے وعدوں کو سچ کردکھایا تھا ، ان کے صدق کی باز پرس ہوگی یہاں تک کہ ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا جائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے ان کے عمل کے بارے میں ۔ بعض نے کہا کہ صادقین سے سوال کرے ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–8

7‘ 8۔ اس آیت میں انبیاء کے عہد کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم رواح میں ہر ایک پہلے نبی سے مابعد میں آنے والے نبی کے باب میں یہ عہد لیا ہے کہ پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو اس مابعد کی شریعت پر ایمان لاوے اور اگر اس زمانہ کے پانے کی امید نہ ہو تو اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جا وے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے زمانہ میں نماز روزے کے احکام بدلتے رہے ہیں ورنہ توحید الٰہی اور احکام الٰہی کی فرمانبرداری میں سب شریعتیں ایک ہیں مسند امام احمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

آیت نمبر : 8 ۔ 7 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء ومرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آکر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–20

نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 اخذ میثاق کی حکمت و مصلحت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ تاکہ ان کا سچ سب کے سامنے اور علی رؤس الاشہاد ظاہر ہوجائے اور وہ اس کا بدلہ پائیں۔ سو اس ارشاد عالی سے اس عہد و میثاق کی حکمت اور مصلحت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ تاکہ اس طرح لوگوں پر اتمام حجت ہوجائے اور راستبازوں سے ان کی راستبازی کے بارے میں پرسش اور کفار و منافقین سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں پوچھ گچھ ہو۔ اور اسی کے مطابق ہر گروہ کو اس کے اجر و صلہ سے نوازا جائے۔ کیونکہ اتمام حجت کے بغیر کسی کو سزا و جزا دینا عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوسکتا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–8

اولوالعزم انبیاء سے پختہ عہد تشریح : ان آیات میں انبیاء کی فضیلت کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے۔ کہ ایک عہد تو کل مخلوق سے لیا تھا عالم ارواح میں جو عہد الست کے نام سے مشہور ہے اور یہ عہد وہ خاص عہد ہے جو نبیوں سے لیا گیا کہ اپنی تبلیغ پوری دیانتداری سے کریں گے۔ پورے خلوص اور محنت سے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں گے۔ یہاں خاص طور سے پانچ انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے اور آخری رسول ﷺ کو ان سب پر فضیلت دیتے ہوئے مخاطب کیا گیا ہے۔ اور یہ عہد اس لیے لیا گیا ہے تاکہ ایک دوسرے کی گواہی دے سکیں۔ ویسے بھی سب نبی ایک دوسرے کو مانتے ہیں۔ اور قیامت کے دن ان کے لیے گواہی لی جائے گی کہ کیا انہوں نے اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الاحزاب آیات 1 تا 8 اسرارو معارف کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 کہ اس اقرار کی کہاں تک پابندی کی گئی اور لوگوں نے ان کی باتوں کو سن کر کیا جواب دیا ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:8) لیسئل میں لام کی کا مرادف ہے ۔ اور میثاق لینے کی غایت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یسئل میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف اجع ہے۔ تاکہ (آپ کا رب) پوچھے۔ الصدیقین۔ امد فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ یسئل کے مفعول ہونے کے۔ الصادقین سے مراد پیغمبر ہیں۔ لفظ الصادقین لاکر یہ خود بتادیا کہ انبیاء نے اپنا عہد پورا کیا اور وہ اپنے اقرار میں سچے تھے۔ صدقہم۔ یعنی تبلیغ رسالت و دعوۃ الی الحق کے بارے میں۔ اعد ماضی واحد مذکر غائب ۔ اعداد (افعال) مصدر جس کے معنی تیار کرنے کے ہیں۔ یہ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں اسی اعتبار سے اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ وہ شمار کی جاسکے۔ الکافرین۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8 میثاق : معاہدہ عہد غلیظ : سخت۔ پکا لیسئل : تاکہ وہ پوچھے، سوال کرے۔ صڈق : سچائی اعد : اس نے تیار کر رکھا ہے۔ تشریح آیت نمبر 7 تا 8 : میثاق، عہد، معاہدہ تمام لوگوں سے اور خاص طور پر انبیا کرام سے بھی لیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود بھی اللہ سے کیے ہوئے عہد و میثاق کو پورا کریں اور دوسروں کو بھی سچائی پر لانے کی بھر پور جدوجہد اور کوشش کریں۔ اور اللہ نے جو بھی حکم دیا ہو اس پر بغیر کسی جھجک اور شرم کے عمل کریں کیونکہ قیامت کے دن اللہ ہر ایک کی کوششوں اور عمل سے متعلق سوال فرمائیں گے۔ سچے لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور جو لوگ جھوٹ اور باطل پر جمے رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدہ لیا اور خصوصا آپ سے اے محبوب ﷺ اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے سے بڑا مستحکم عہد لیا کہ اس میں کبھی فرق نہ آسکے ۔ نبی کو جب اسرار غیب کا راز داں بنایاجاتا ہے تو اس سے اس قسم کا سخت عہد بھی جاتا ہے اب گفتگو اسمیں ہے کہ وہ کیا عہد تھا اور کب لیا گیا تھا دوسری بات کی بابت حضرت کعب سے یوں منقول ہے کہ یہ عہد اس وقت لیا کہ جب روز میثاق میں لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے باہر نکالا تھا اور تمام بنی آدم سے عہدلیا تھا، اول بات کی بابت مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[11] یعنی تبلیغ رسالت کے بارے میں تاکہ سچوں کی سچائی پر قائم رہنا ظاہر ہو اور منکروں کو سچائی سے انکار کرنے پر سزا دی جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–10

ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8۔ تا کہ اللہ تعالیٰ ان سچوں سے ان کے سچ کو دریا فت کرے اور ان کے سچ کی تحقیقات فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے منکروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوم میثاق میں جس طرح عام انسانوں سے الست بربکم کا عہد لیا۔ اسی طرح عام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے تبلیغ توحید اسلام اور دعوت رسالت کا عہد لیا اور باہمی تناصر اور تعاون کا عہد لیا ، اگرچہ نبی تین میں سب میں سب ہی پیغمبر داخل ہیں لیکن ان میں سے اولوالعزم پیغمبروں کا خصوصیت سے نام لیا اور ان میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو مقدم فرمایا تا کہ آپ کی اولیت اور آپ کے مراتب علیا کا اظہار ہو کیونکہ حضور ﷺ اپنی خلق کے اعتبار سے اول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ اس عہد اور اس غایت سے دونوں امر کا وجوب ثابت ہوگیا، صاحب وحی پر اتباع وحی کا وجوب اور غیر صاحب وحی پر اتباع صاحب وحی کا وجوب۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچوں سے ان کی سچائی کے بارے سوال ہوگا اور کافروں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا 8) سچے کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے سچائی کی تصدیق کی اور جھوٹ کو جھوٹ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کردیا اور وہ لوگ جنہوں نے سچائی کا اعلان کیا اور اپنے اعلان کے مطابق عمل کرکے دنیا کو دکھا دیا اور اس ملامت کرنے والے کی ملامت کی انہوں نے کوئی پروانہ کی بلاشبہ اس جگہ الصادقین سے مراد خود انبیاء ورسل ہیں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے ان کی سچائی کو بسررو چشم قبول کیا۔ گزشتہ مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے جب محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے غلام اور آزاد کی تقسیم کو توڑنے کے لئے زید کی شادی کا پروگرام اپنی حقیقی پھوپھی کی بیٹی زینب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

Commentary At the beginning of the Surah, by saying: وَ اتَّبع مَا یُوحٰٓی اِلَیکَ , the Holy Prophet ﷺ was asked to follow the Divine revelation sent to him. Then, in the previous verse: اَلنَّبِیُّ اَولٰی بِالمُؤمِنِینَ , the believers have been obligated with the implementation of the orders of the recipient of the revelation. It is to further confirm and emphasize these very two things that, in the present two verses as well, the same two subjects have been reiterated, that is, the recipient of the revelation has been obligated to follow the revelation received by him from Allah and the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 That is, "Allah has not just taken the covenant but will also question as to how far it has been kept. Then only those who will have kept Allah's Covenant faithfully, will be declared to be the truthful. " 17 To understand the theme of vv. 1-8 well these should be read together with vv. 36-41 of this Surah.

Read the full tafseer →