33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

(سورۃ نمبر ٣٣) ۔ (کل رکوع ٩) ۔ آیات ٧٣) ۔ (الفاظ و کلمات ١٢١٠) ۔ (حروف ٥٩٠٩) ۔ (مقام نزول مدینہ منورہ) ۔ (تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے ظلم و زیادتی کے لیے کسی قوم اور ملک پر جنگ کو مسلط نہیں کیا اور اگر کبھی ضرورت ہوئی تو اپنی جنگی اور اخلاقی طاقت سے دنیا کے دلوں کو فتح کیا۔ اس کے برخلاف کفروشرک اپنے آپ کو اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ وہ دوسری قوموں پر جنگ مسلط کرنے کے لیے دوسروں کو ساتھ ملا کر متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں اور ان کو اتحادی فوجیں کہتے ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت پیش آئی جب کفار مکہ نے اسلام دشمنی پر کفر کی ساری طاقتوں کو جمع کر کے مدینہ کی چھوٹی سی اسلامی ریاست کو مٹانے کے لیے چاروں طرف سے حملہ کردیا تھا مگر اتحادی فوجوں کو سوائے ذلت و رسوائی کے اور کچھ حاصل نہ ہوسکا اور اللہ نے اہل ایمان کی اس طرح مدد فرمائی کہ کفر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ) الاحزاب کے معنی ہیں خندقیں، جماعتیں یعنی دین اسلام کی مخالفت اور اس کو جڑو بنیاد سے اکھاڑنے کے لیے بت پرست کفارومشرکین، یہودیوں اور انصاریٰ کا متحدہ محاذ۔ کفار عرب غزوہ احد میں بد ترین شکست اور ذلت کے بعد اپنی بوٹیاں نوچ رہے تھے اور جذبہ انتقام میں چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر اترآئے تھے اور انہوں نے طے کرلیا تھا کہ مسلمانوں کو اس طرح پریشان کیا جائے جس سے وہ اطمینان کا سانس نہ لے سکیں۔ چناچہ عضل وقارہ قبیلے والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمائش کی کہ چند مسلمانوں کو دینی تعلیم دینے کے لیے بھیجا جائے تاکہ نئے ہونے والے مسلمان ان سے دینی تعلیم حاصل کرسکیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ صحابہ (رض) کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ مگر انہوں نے غداری کی چار صحابہ کرام (رض) کو شہید کردیا اور دو کو مکہ مکرمہ جاکر غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اسی طرح بنی عامر کے سردار کی خواہش پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دینی تعلیم کے لیے ستر صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت کو بھیج دیا مگر انہوں نے بھی ان تمام جان نثاران مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید اذیتیں دے کر شہید کردیا۔ یہاں تک کہ بنو نضیر (یہودی قبیلہ) نے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کرنے کی سازش تیار کرلی تھی جو کھل کر سامنے آگئی تھی اور اللہ کی مدد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر طرح محفوظ رہے لیکن مسلسل سازشوں اور غداریوں کی وجہ سے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو میثاق مدینہ کی کھلی خلاف ورزیوں پر مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ خیبر کے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ یہ ان یہودیوں کی اتنی بڑی شکست تھی جس کو وہ برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے پورے جزیرۃ العرب میں ہر طرف اپنی سازشوں کے جال پھیلا دئیے کیونکہ مسلمانوں سے انتقام لینے کے جذبے نے انہیں پاگل بنادیا تھا۔ وہ ایک سازش تیار کر کے مکہ مکرمہ کے سرداروں کے پاس پہنچ گئے اور ان کو اس بات پر اکسایا کہ وہ پوری طاقت وقوت سے مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سے ریاست کو پوری طرح تباہ کردیں تاکہ بقول ان کے یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ مکہ مکرمہ کے لوگ بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ وہ تنہا صحابہ کرام (رض) کا مقابلہ نہیں کرسکتے لہٰذا کفار مکہ اور بنو نضیر نے بیت اللہ میں جا کر مکمل اتحاد کی قسمیں کھا کر فتح کی دعائیں کیں۔ اس کے بعد بنو نضیر کے یہ سازشی لوگ قبیلہ بنو غطفان کے پاس پہنچ گئے جو نہایت بہادر اور جنگ جو لوگ تھے ان سے کہا کہ مکہ کے لوگ اس پر تیار ہوگئے ہیں کہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کردیں تو اتنی بڑی فوج کا مقابلہ فقروفاقہ اور تنگ حلیوں میں زندگی گذارنے والے صحابہ کرام (رض) نہ کرسکیں گے۔ جب یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ بنو غطفان پوری طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں تو انہوں نے ایک زبردست لالچ یہ دیا کہ اگر بنو غطفان اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں گے تو اس سال خیبر میں ان کی جتنی بھی فصل ہوگی وہ ان کو دے دی جائے گی۔ بنو غطفان نے اس لالچ میں آکر اس جنگ میں حصہ لینے کی حامی بھرلی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت وقوت سے اس جنگ میں حصہ لیں گے۔ بنو نضیر کے لوگ اسی طرح عرب کے تمام قبائل کے سرداروں سے ملے اور ان کو مسلمانوں کے خطرے سے ڈرا کر ایک متحدہ محاذ بنانے پر آمادہ کرلیا اور پروگرام یہ بنایا گیا کہ جیسے ہی قریش روانہ ہوں گے تو ہر طرف سے فوجیں روانہ ہوجائیں گی اور مدینہ منورہ کو چاروں طرف سے گھیر کر مدینہ پر چڑھائی کردی جائے گی اور اس طرح ایک یا دو دن میں مدینہ منورہ کی ریاست کو ختم کر کے اس پر قبضہ کرلیا جائے گا۔ بنو نضیر نے تمام اتحادی فوجوں کو اس بات کا یقین دلادیا کہ وہ جیسے ہی مدینہ پر باہر سے حملہ کریں گے تو فوراً ہی یہودی قبیلہ بنو قریظہ اندر سے حملہ کر دے گا اس طرح مسلمانوں کو کہیں بھی پناہ نہ مل سکے گی۔ جیسے ہی قریش نے مکہ سے پوری تیاری کر کے مدینہ کی طرف رخ کیا تو تمام آس پاس کے قبائل ان کے ساتھ ملتے گئے اور بارہ پندرہ ہزارکا یہ اتحادی لشکر مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے نہایت مخر و غرور کے ساتھ گاتا بجاتا اور شراب کے جام لنڈھا تا مدینہ منورہ کی طرف چل پڑا۔ ادھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے کفارعرب کی ایک ایک نقل و حرکت کی اطلاع مل رہی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوگیا تھا کہ پورا عرب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے اور اس کی فوجوں نے پیش قدمی بھی شروع کردی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام حالات سے مطلع کرنے کے لیے صحابہ کرام (رض) کو بلا کر عرب کے قبائل اور یہودی سازشوں کی تفصیل ارشاد فرمائی تاکہ ہر شخص ذہنی طور پر اتنے شدید حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ تین ہزار جانثاروں نے کفار کے اس حملہ کا مقابلہ کرنے کا عزم کرلیا۔ مشورے کے دوران حضرت سلمان فارسی (رض) نے عرض کیا یا رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں ایک طریقہ یہ ہے کہ جنگ میں اپنی حفاظت کے لیے خندقیں کھود لیتے ہیں تاکہ دشمن ایک دم حملہ کر کے شدید نقصان نہ پہنچا سکے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس تجویز کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ مدینہ کے ان اطراف میں خندقیں کھودی جائیں جہاں سے کفار کے اندر آنے کا اندیشہ تھا۔ چناچہ تین ہزار صحابہ کرام (رض) (رض) نے تمام حالات کا جائزہ لے کر اور پروگرام بنا کر خندقوں کی کھدائی شروع کردی اور شمالی غربی رخ پر کوہ سلع کو پشت پر لے کر چھ دن اور چھ راتوں میں اتنی زبردست خندقیں کھو دلی گئیں کہ جس سے دشمن آپ پر ایک دم حملہ نہ کرسکے۔ آپ نے ان خندقوں پر تیرانداز بٹھا دئیے تاکہ جو بھی اس خندق کو پار کرنے کی کوشش کرے اس پر تیروں کی بارش کردی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقیہ صحابہ کرام (رض) کو خندق کے آس باس متعین کردیا صحابہ کرام (رض) مورچہ بند ہونے کے بعد کفار سے مقابلہ کرلیے تیار ہوگئے۔ (سورۃ الاحزاب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کثرت سے درودوسلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور ان کی اطاعت ہی سے دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں وابستہ ہیں۔ ) جب کفار کی یہ اتحادی فوجیں مدینہ منورہ کے قریب پہنچیں تو خندقوں کو دیکھ کر حیرت میں رہ گئیں کیونکہ وہ اس طریقہ جنگ سے ناواقف تھیں۔ بہر حال کفار کی اتحادی فوجوں نے خندق کے چاروں طرف پڑائو ڈال دیا اسی دوران کچھ لوگوں نے خندق کو پار کرنے کی کوشش کی مگر ان کو صحابہ کرام (رض) نے تیر برسا کر پیچھے بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ پھر کفار عرب نے یہ سازش تیار کی کہ کسی طرح مدینہ کے اندر رہنے والے (خاص طور پر یہودی قبیلے) مسلمانوں پر حملہ کردیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جیسے ہی معلوم ہوا آپ نے صورت حال معلوم کرنے کے لیے چند صحابہ کرام (رض) کو بھیجا جنہوں نے بڑی خاموشی سے آکر بتادیا کہ واقعی نبو قریظہ بغاوت پر آمادہ ہیں اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تحقیقات بڑی خاموشی سے کرائی تھیں مگر کسی طرح منافقین تک یہ بات پہنچ گئی کہ ان کے بال بچوں کو شدید خطرات لا حق ہوچکے ہیں۔ منافقین نے میدان چھوڑ کر بھاگنے کے بہانے بناناشروع کردیئے تاکہ کسی طرح ان کو مدینہ واپس جانے کی اجازت دے دی جائے۔ غزوہ خندق کے موقع پر کفار کے حملے سے بھی زیادہ یہ خبر بڑی دل دہلا دینے والی تھی کہ بنو قریظہ کے گھروں کے پاس مسلمان بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقام سمجھ کر رکھا گیا تھا لیکن بنو قریظہ کی بد نیتی نے مخلص صحابہ کرام (رض) کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا البتہ سچے اور مخلص اہل ایمان نے طے کرلیا تھا کہ آج ہمارا سب کچھ قربان ہوجائے مگر اسلام کی آبروبچ جائے تو وہ ان کے بال بچوں سے زیادہ اہم ہے۔ صحابہ کرام (رض) کا یہ عزم، حوصلہ، ولولہ اور جانثاری کا جذبہ اللہ کے ہاں قبول ہوگیا اور کفار کی تمام شازشیں نا کام ہوگئیں۔ اللہ نے اہل ایمان کی یہ مدد فرمائی کہ کفار کی صفوں میں زبردست پھوٹ پڑگئی اور دوسری طرف سمندر کی جانب سے ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوئیں ہوا کا ایک زبردست طوفان تھا جس میں سردی، کڑک، چمک اور اندھیرا تھا کہ کسی کو کچھ نظر نہ آتا تھا۔ دشمنوں کے خیمے الٹ گئے، چیزیں چاروں طرف بکھر گئیں اور سردی سے وہ لوگ بےحال ہوگئے۔ کفار عرب جو یہ سوچ کر آئے تھے کہ ایک دودن میں معاملہ ختم ہوجائے گا اور ہم کامیاب و بامراد ہو کر لوٹیں گے اتنے عرصہ کے محاصرے اور موسم کی شدت اور آپس کی پھوٹ نے ان میں ایک ایسی افراتفری پھیلا دی کہ وہ دل برداشتہ ہو کر راتوں رات میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ صبح دیکھاتو پورا میدان دشمنوں سے خالی تھا۔ مسلمانوں میں کفار کی اس پسپائی اور شکست سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب قریش تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان ہوگیا کہ ” اتحادی فوجیں “ میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ واپس جانے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ کفار کی اتنی زبردست شکست اور ذلت تھی اور مسلمانوں کی وہ عظیم فتح تھی جس کے بعد مسلمانوں کے قدم آگے ہی بڑھتے چلے گئے اور پھر دنیا کی سپرپ اورز (Super Powers ) بھی ان کا راستہ نہ روک سکیں بلکہ صرف اسلام اور مسلمان ہی ساری دنیا کے حکمران بن گئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے زبردست خوشی کا موقع بھی تھا مگر ان کی زبانوں پر سوائے شکر کے جذبات کے اور دوسرے الفاظ نہ تھے۔ کفار اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار ناچ گانے اور فضول ہنگاموں سے کرتے ہیں لیکن اہل ایمان ان باتوں کو خلاف اسلام اور ناجائز حرکت سمجھ کر کبھی اس طرف قدم نہیں بڑھاتے ۔ ہم کیسے بد قسمت دور میں ہیں کہ جہاں ہمارے مسلمان بھائی اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کفار کے طریقوں کو اپنا کر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان جہالتوں اور فضول حرکتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین غزوہ خندق کی صعوبتوں اور شدید پر یشانیوں سے تھکے ماندے مسلمان جب مدینہ منورہ پہنچ گئے تو حضرت جبرئیل امین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر کہا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں کیونکہ بنو قریظہ کی غداریوں سے نبٹنے کا مسئلہ درپیش ہے ان سے اسی وقت نبٹ لیا جائے چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرمادیا کہ کوئی شخص اس وقت تک عصر کی نماز نہ پڑھے جب تک وہ نبوقریظہ کے قبیلے تک نہ پہنچ جائے۔ چناچہ تمام صحابہ کرام (رض) نے اپنے ہتھیار کھولے بغیر اور عصر کی نماز کے وقت اچانک نبو قریظہ کا محاصرہ کرلیا۔ بنو قریظہ قلعہ بند ہو کر لڑنے پر آمادہ ہوگئے لیکن صحابہ کرام (رض) کے عزم و ہمت کو دیکھ کر وہ ڈرگئے۔ تین ہفتے کے شدید گھیرائو کے بعد بنو قریظہ سمجھ گئے کہ وہ اہل ایمان کا مقابلہ نہیں کرسکتے وہ بوکھلا اٹھے اور اس شرط پر صلح پر آمادہ ہوگئے کہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد ابن معاذ (رض) ان کے حق میں جو فیصلہ کریں گے وہ اس کو مان لیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے تمام حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کردیئے جائیں، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کی تمام جائیدادیں وغیرہ مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس فیصلے پر اسی وقت عمل ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ، تمام عرب قبائل اور سازشی یہودیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور جزیرۃ العرب سے ان کا زور ہمیشہ کے لیے توڑ دیا گیا۔ یہ تو جنگی حالات تھے جن میں اہل ایمان نے زبردست فتح و نصرت حاصل کرلی تھی لیکن مسلمانوں کے اخلاق و کردار کی اصلاح کا کام بھی جاری تھا۔ عرب معاشرہ میں سب سے کم تر حیثیت غلاموں کی تھی جن کے نہ تو انسانی حقوق تھے اور نہ ان کو زندگی کی سہولتیں حاصل تھیں۔ غلام اور آقا کا فرق اتنا زبردست تھا کہ کوئی آزاد قبیلہ اپنی بیٹی کسی غلام یا آزاد کردہ غلام کو دینے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چھوٹے بڑے اور آقا و غلام کے فرق کو مٹانے کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب (رض) کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ (رض) سے کرنا چاہا تو اس سے پورے بنو قریش میں ایک ہنگامہ مچ گیا کیونکہ وہ اس کے لیے قطعاً تیار نہ تھے کہ کسی آزاد کردہ غلام کا نکاح بنو قریش جیسے معزز خاندان کی کسی لڑکی سے کردیا جائے۔ مگر اللہ و رسول کا حکم آنے کے بعد کسی نے اس حکم سے سرتابی نہیں کی اور حضرت زینب (رض) کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ (رض) سے کردیا گیا۔ مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کہ وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے جھگڑے بڑھتے بڑھتے طلاق تک نوبت پہنچ گئی اور ایک دن انہوں نے حضرت زینب (رض) کو طلاق دے دی۔ طلاق کا یہ واقعہ نکاح سے بھی زیادہ ہیبت ناک بن گیا اور قریش اس کو پنی توہین سمجھنے لگے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رنج و غم اور افسوس سے نکالنے کے لیے اللہ کے حکم سے عدت گذرنے کے بعد حضرت زینب (رض) سے نکاح کرلیا تاکہ قریش جس بات کو اپنی توہین سمجھ رہے تھے وہ اس نکاح کے ذریعہ دور ہوجائے۔ لیکن منافقین اور کفار کو ایک اور پروپیگنڈے کا موقع مل گیا کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرت زید (رض) کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا اور اس دور کے دستور کے مطابق متبنیٰ یعنی بنایا ہوا بیٹا سگے بیٹوں کی طرح ہوتا تھا جو وراثت تک میں شریک سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے صاف صاف حکم آگیا کہ سگا اور حقیقی بیٹا صرف وہی ہوتا ہے جو انسان کے صلب یعنی پیٹھ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اگر کسی کو بیٹا بنا لیا جائے تو وہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اس طرح اللہ نے آقا و غلام ہی کا فرق نہیں مٹایا بلکہ کفار کی اس بری رسم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا کہ بنایا ہوا بیٹا حقیقی بیٹا ہوتا ہے۔ (١) مدینہ منورہ پر اتحدی فوجوں کا حملہ۔ (٢) بنوقریظہ کو ان کی غداری پر سخت سزا۔ (٣) اور حجرت زینب (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح۔ یہی تینوں اہم مسائل تھے جن کو سورٰ الاحزاب میں تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ چند اور ضروری مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے مثلاً * اسی دوران پردے کے احکامات کو نازک کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ عورتیں بغیر کسی شدید ضرورت کے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور جب نکلیں تو اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلیں۔ * اگر کسی کو ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو وہ پردے کے پیچھے سے پوچھے۔ اس حکم کے آنے کے بعد امہات المومنین نے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا لیے۔ چونکہ امہات المومنین کی زندگی بھی ایک بےمثال نمونہ عمل تھی اس لیے تمام اہل ایمان کی خواتین نے اپنے گھروں پر پردے ڈال لیے اور جب وہ باہر نکلتیں تو اپنے آپ کو اس طرح ڈھانپ کر نکلتی تھیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نمایاں یا ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ * اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے کر ان کے ادب و احترام کا حکم دیا جس سے ان کی عزت و سر بلندی میں چار چاند لگ گئے۔ * اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان و عظمت، آپ کی خدمت میں حاضری کے اوقات اور بات کرنے کے آداب بیان فرمائے۔ * مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کثرت سے درودوسلام بھیجیں تاکہ ان کی دنیا اور آخرت سنور جائے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درودوسلام بھیجنے کا طریقہ بھی متعین فرمادیا اور وہ یہ ہے کہ ہر نماز کی آخری رکعت میں بیٹھ کر سلام اور درود شریف پڑھا جائے۔ البتہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضری نصیب ہو تو کھڑے ہو کر سلام پڑھا جائے۔ گویا جہاں جیسا حکم ہے اس پر اسی طرح عمل کیا جائے اپنی طرف سے کوئی طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ ان تمام مذکورہ مسائل کی تفصیل انشاء اللہ سورة الاحزاب کی تشریح میں بیان کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت و اطاعت کا عظیم جذبہ عطا فرمائے اور ہمیں امہات المومنین اور صحابہ کرام (رض) جیسی پاکیزہ اور کامیاب زندگی نصیب فرمائے۔ (آمین)

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ اللہ سے ڈرتے رہیے۔ اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

آپ پر آپ کے رب کی طرف سے جو وحی کی جاتی ہے آپ اس کا اتباع کیجئے۔ بیشک آپ جو بھی کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اللہ ہی پر بھروسہ کیجئے۔ اور اللہ ہی کام بنانے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر ( ا تا 3) ۔ اتق (توڈر۔ تقویٰ اختیار کر) ۔ لا تطع (پیچھے نہ چل۔ اطاعت نہ کر) ۔ اتبع (تو پیروی کر۔ کہنا مان) ۔ یو حی (وحی کی گئی) ۔ توکل (بھروسہ کر۔ توکل کر) ۔ وکیل (کام بنانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” حضرت آدم (علیہ السلام) سے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب کے سب معصوم ہیں۔ وہ اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں نہ تو وہ گناہ کرتے ہیں نہ ان سے گناہ کا ارتکاب ممکن ہے بلکہ ان کی طرف گناہ کی نسبت کرنا بھی گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو پوری زندگی اور اس کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ آپ نے تقویٰ اور خوف الہی کے ساتھ زندگی گذاری ہے۔ لیکن پھر بھی ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ صرف اللہ سے ڈرئیے اور کفار و مشرکین کی کوئی بات نہ مانئے جو کچھ اللہ کے احکامات آپ پر وحی کئے جا رہے ہیں ان کی اتباع کیجئے۔ اسی ایک اللہ کی ذات پر بھروسہ کیجئے جو ہر طرح با خبر ہے اور سب کا مشکل کشا ہے۔ اس حکم کا ظاہری مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کے واسطے سے قیامت تک آنے والی امت کے ہر فرد کو بتایا جا رہا ہے کہ (1) اللہ کے سوانہ کسی سے ڈرا جائے نہ دبا جائے کیونکہ ایک اللہ سے ڈرنا ہی انسانی زندگی کی کامیاب بنیاد ہے۔ (2) دوسری بات یہ فرمائی کہ کافروں اور منافقوں کی کسی بات کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہر کام میں ان کی بد نیتی اور سازش شامل ہوتی ہے لہٰذا ان کی ہر حرکت سے ہوشیار رہ کر ان کی کسی بات کی اتباع اور پیروی نہ کی جائے۔ نہ ان کے مشوروں پر عمل کیا جائے ۔ نہ مشوروں میں شامل کیا جائے۔ (3) تیسری بات یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ جتنے احکامات عطا فرمائے ہیں ان کی ہر حال میں پیروی کی جائے تاکہ ہر ایک کی دنیا اور آخرت سدھر سکے۔ (4) چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ہر ایک کو اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ، اعتماد اور توکل کرنا چاہیے کیونکہ صرف ایک اللہ کی ذات ہی قابل اعتماد ہے۔ (5) پانچویں بات یہ فرمائی کہ انسان کے بگڑے ہوئے کاموں کو بنانے والا مشکل کشا صرف اللہ ہے اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں ہے۔ ان باتوں سے اس بات کا اندازہ لاگانا مشکل نہیں ہے کہ کفار، مشرکین اور منافقین سے رواداری تو برتی جائے لیکن ان کو اپنے کاموں اور مشوروں میں شریک نہ کیا جائے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ شرارت سے کوئی ایسی تجویز پیش کردیں جس سے مسلمانوں کی زندگی تباہی کے کنارے تک پہنچ جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے جب بھی کفارو مشرکین کو اپنا مخلص سمجھ کر ان کو اپنے معاملات میں شریک کیا ہے انہوں نے غلط مشورے دے کر ملت کا شیرازہ بکھیر نے میں کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ کفار و مشرکین اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے خیر خواہ بن کر آتے ہیں۔ جس طرح شیطان ایک مخلص دوست کی شکل میں آیا اور اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کو غلط مشورہ دے کر جنت سے نکلوادیا تھا۔ تاریخ کے صفحات پر موجود ہے کہ سلطنت عثمانیہ جو ایک عظیم سپر پاور تھی۔ اس سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے کفارو منافقین نے انسانیت، محبت اور خلوص کا بھیس بدل کر پوری سلطنت کو غلط راستے پر لگا دیا تھا۔ لارنس آف عربیہ نے تو بائیس سال تک مسلمانوں کے بھیس میں سلطنت عثمانیہ کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ لہذا کفار و منافقین کو اہم اور بنیادی مشوروں میں قریب نہ آنے دیا جائے نہ ان کی کسی بات کو تسلیم کیا جائے۔ یہی خیر اور سلامتی کا راستہ ہے۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے ایک آدمی کے سینے میں دودل نہیں بنائے۔ تمہاری وہ بیویاں جنہیں تم ماں کہہ بیٹھتے ہو (وہ تمہارے کہنے سے) تمہاری مائیں نہیں بن جایا کرتیں۔ اور اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو (سچ مچ) تمہارا بیٹا نہیں بنا دیا یہ تو صرف تمہارے منہ سے کہی جانے والی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق بات کہتا ہے اور وہی راستہ دکھاتا ہے۔

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

انہیں ان کے حقیقی باپ کی طرف سے منسوب کر کے پکارو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ہے ۔ پھر اگر تم ان کے باپ دادا کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں۔ تم سے جو بات بھول چوک میں ہوجائے اس پر گناہ نہیں ہے البتہ وہ بات جو تم دل کے ارادے سے کرتے ہو (اس پر گرفت ہے) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر ( 4 تا 5) ۔ ماجعل (اس نے نہیں بنایا) ۔ رجل (مرد) ۔ جوف (سینہ) ۔ الی (وہ عورتیں) ۔ تظہرون (تم ظہار کرتے ہو (بیوی کو ماں کہہ دیتے ہو) ۔ ادعیاء (پکارنا) ۔ افواہ (فوہ) (منہ ۔ چہرے) ۔ ادعوا (تم پکارو) ۔ اقسط (بہترین انصاف۔ پورا انصاف) ۔ موالی (مولی) (تونے ارادے سے کیا) ۔ نشریح : آیت نمبر 4 تا 5) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ معاشرہ میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو زبان سے کہی جاتی ہیں لیکن آنے والے گوگ زبان سے کہی گئی باتوں کو حقیقت کا روب دیدیتے ہیں حالانکہ ان باتوں کی حیثیت کوئی نہیں ہوتی جیسے عربوں میں مشہور تھا کہ جا آدمی عقل مند اور سمجھ دار ہوتا ہے اس کے سینے میں دودل ہوتے ہیں یا جس نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا کہ تیری پیٹھ میرے لئے میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے تو وہ ماں سے تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ اب اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے یا بعض لوگ کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا کرتے تھے اور اس کے وہی حقوق ہوجاتے تھے جو سگی اور حقیقی اولاد کے حقوق ہیں فرمایا کہ یہ زبانی کلامی باتیں ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے، بیوی کو ماں کہنے سے وہ ماں نہیں بن جاتی کیونکہ ماں تو اسی کو کہتے ہیں جس سے وہ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے کسی دوسرے کے بیٹے کو یا بیٹی کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ محبت اور پیار کے رشتے ہو سکتے ہیں لیکن کبھی حقیقی رشتے نہیں بن سکتے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ ابن حارثہ کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ آپ کو ان سے ایسی محبت تھی کہ لوگ ان کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی اس کے بعد سے لوگاں نے ان کو زید ؓ ابن حارثہ ہی کہنا شروع کردیا تھا۔ ان آیات کے سلسلہ میں دو باتیں عرض ہیں تاکہ بات واضح ہوجائے۔ (1) نبی کریم ﷺ نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام حضرت زید ابن حارثہ کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ جب وہ جو اس ہوگئے تو آپ نے دنیا سے آقا اور غلام کے فرق کو مٹانے اور قریش کی شدید مخالفت کے باوجود اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ سے ان کا نکاح کردیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے پورے عرب معاشرہ میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا کیونکہ عربوں میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں تھی کہ غلاموں یا آزاد کئے ہوئے غلاموں سے شریف اور باعزت کہے جانے والے خاندانوں کے لڑکے یا کڑکیوں کا نکاح کردیا جائے۔ مگر آپ نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ اور اس انسانی فرق کو مٹانے کے لئے آپ نے اپنے گھر سے ابتداء کی۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت زینب ؓ اور حضرت زید ؓ میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہوسکی اور حضرت زید ؓ نے حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دی۔ طلاق کا واقعہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک تھا۔ ان حالات میں جب کہ پورا خاندان ایک شرمندگی محسوس کر رہا تھا آپ نے اللہ کے حکم سے حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمالیا۔ جیسے ہی آپ نے نکاح فرمایا تو عرب معاشرہ میں چاروں طرف ایک شور مچ گیا اور مشرکین اور منافقین کو زبردست پروپیگنڈے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیسے پیغمبر ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے یا بنا لینے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا۔ لہذا اگر نبی کریم ﷺ نے بنو قریش کو شدید صدمے سے نکالنے کے لئے حضرت زینب سے نکاح کرلیا ہے تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ (2) فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ کسی کو پیار سے بیٹا یا بیٹی کہنے میں حرج نہیں ہے۔ لیکن جب کہ یہ بات اسی حد تک رہے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کوئی اگر کسی کو بیٹا یا بیٹی بنالے تو اس سے وہ حقیقی اولاد کی طرح نہیں بن جاتے۔ نبی کریم ﷺ نے تو اس سے بھی سخت منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے ہوتے ہوئے کیس دوسرے کو اپنا باپ کہے۔ چناچہ حضرت سعد ؓ ابن ابی وقاص سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔ (بخاری۔ مسلم۔ ابودائود) ۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

بیشک نبی ﷺ تو اہل یمان کے ساتھ خودان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں ان کی (یعنی امت کی) مائیں ہیں۔ اللہ کی کتاب میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ مامنین اور مہاجرین کے مقابلے میں آپس میں رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ البتہ اگر تم اپنے (مخلص) دوستوں کے ساتھ کچھ حسن سلوک کرنا چاہتے ہو تو قاعدے طریقے سے جائز ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (6) ۔ اولی (خیر خواہ ۔ ہمدرد۔ تعلق رکھنے والے) ۔ انفس (نفس) (جانیں) ۔ ازواج (زوج) (جوڑے۔ بیویاں) ۔ امھت (ام) (مائیں) ۔ اولوالارحام (رشتہ دار) ۔ ان تفعلوا (یہ کہ تم کرو) ۔ اولیاء (ولی) (دوست۔ مخلص ساتھی) ۔ معروف (قاعدہ۔ دستور ) ۔ مسطور (لکھ دیا گیا) ۔ نشریح : آیت نمبر (6) ۔ ” ہر ایک نبی اور رسول اپنی امت کا سب سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہوتا ہے۔ وہ بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ہو وقت ان کو اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ جہنم کا راستہ چھوڑکر جنت کے راستے پر آجائیں۔ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور دنیا کے تمام معاملات میں اللہ ہی کے احکامات کی پانبدی کریں۔ اس سچی بات کہنے کی وجہ سے وہ اپنوں میں غیر سے بن جاتے ہیں اور پورا معاشرہ ان کی دشمنی پر اتر آتا ہے۔ اس کے لئے نبی اور رسول کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ وہ ان اذیتوں اور تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں اور ان کی خیر خواہی اور بھلائی کی دعائیں کرتے ہیں۔ جب بات حد سے گذر جاتی ہے تو کبھی کبھی انبیاء کرام ؓ اللہ کی بارگاہ میں بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیتے ہیں تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے۔ تمام نبیوں اور رسولوں کے آخری نبی اور رسول سرور انبیاء سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بڑھ کر اپنی امت کا خیر خواہ، ہمدرد، شفیق و مہربان اور کون ہو سکتا ہے ؟ انسان کی جان اور اس کی قوتیں، محبت کرنے والے ماں اور باپ اور رشتہ دار انسان سے اتنی محبت نہیں کرتے جس قدر نبی کریم ﷺ اپنی امت کے ایک ایک فرد کے لئے بےچین رہتے ہیں اور دعائیں فرماتے ہیں۔ آپ کی سیرت پاک اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے اللہ کے دین کی سر بلندی اور اس کے سچے اصولوں پر امت کو لانے کے لئے دن رات جدوجہد کی۔ اس راستے میں اپنی جان کو گھلاڈالا اور کرار و مشرکین اور منافقین کی طرف سے سخت اذیتیں دیئے جانے کے باوجود آپ نے کبھی بد دعا نہیں فرمائی بلکہ امت کی ہدایت کے لئے تیر کھانا گورا کئے۔ وطن سے بےوطن ہوگئے۔ فقروفاقہ کی پریشانیوں کو برداشت کیا، سر سے کفن باندھ کر میدان جہاد میں کودنا پڑا اور آخر کا روہ وقت آگیا کہ ساراجزیرۃ العرب کفر و شرک کی گندگیوں سے پاک ہوگیا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ لوگو ! تمہارے اپنے نفس ، تمہاری جانیں تمہارے اپنے رشتہ دار اتنے خیر خواہ، ہمدرد اور مہربان نہ ہوں گے جتنے شفیق و مہربان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ ہماری جان اور ہمارے نفس سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں تو آپ کا حق بھی سب سے زیادہ ہے۔ آپ کا سب سے بڑا حق آپ سے ایسی محبت کرنا ہے کہ پھر کائنات میں اللہ کے بعد کسی دوسرے سے ایسی محبت نہ کی جائے۔ اطاعت و فرماں برداری، عزت و احترام اور آپ کی شان پر مر مٹنے کا وہ عظیم جذبہ موجزن ہو جس کے سامنے تمام جذبے ماند پڑجائیں۔ حضرت ابوھریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ کوئی ایسا مومن نہیں ہے۔ جس کے لئے میں دنیا و آخرت میں سارے انسانوں سے زیادہ اولی واقرب نہ ہوں۔ اگر تم اس کی تصدیق کرنا چاہتے ہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو ۔ ” ( النبی اولی بلمومنین ) “ اور ظالموں سے ان کی گردنیں چھڑانے کو جہنم سے نجات اور عبادت کا درجہ عطا فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کے جاں نثاروں نے ہزاروں غلاموں کو خرید کر آزادی کی نعمت سے ہم کنار کیا ۔ روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ کے حصے میں مختلف اوقات میں سوادو سو غلام آئے مگر آپ نے ان کو اسی وقت آزاد کردیا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا جس پر صحابہ کرام ؓ نے پوری طرح عمل کیا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ ابن حارثہ کو آزاد کردیا تھا جس کو لے پالک کہتے ہیں تو اس کا درجہ حقیقی اور سگے بیٹوں کی طرح ہوتا تھا جس کو وراثت میں شریک کیا جاتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ آپ اپنے حسن عمل سے ساری دنیا کو بتا دینا چاہتے تھے کہ غلام بھی انسان ہی ہیں ان کے ساتھ انسانی سلوک کرنا ضروری ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ نہ ہوتے تو دنیا سے غلامی کا رواج کبھی ختم نہ ہوتا۔ آپ نے غلامی اور آقائی ہر طرح کے فرق کو مٹانے کے لئے ایک اور مثال قائم فرمائی اور وہ یہ تھی کہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ کو حضرت زید ؓ سے نکاح پر رضا مند کرلیا۔ جب بنو اقریش جیسے معزز قبیلے کی ایک لڑکی کا نکح آزاد کردہ غلام سے کیا گیا تو سارے عرب قبائل میں ایک ہلچل مچ گئی کیونکہ اس سے پہلے کوئی ایک بھی مثال موجود نہ تھی کہ ایک شریف گھرانے کی آزاد لڑکی سے کسی غلام یا غلام زادے کا نکاح ہوجائے۔ مگر آپ نے کفار و مشرکین کی تنقید کے باوجود اس فرق کو مٹا کر چھوڑا۔ اس کے بعد حضرت زینب ؓ اور حضرت زید ؓ کے مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہوسکی اس وجہ سے شدید اختلافات ہوگئے اور آخر کار دونوں میں طلاق ہوگئی۔ ایک آزاد کردہ غلام سے ایک آزاد لڑکی کا نکاح تو پورے خاندان کے لئے صدمہ کا سبب تھا مگر طلاق کے اس واقعہ نے تو پورے بنو قریش کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس صدمے اور رنج و غم سے کیسے باہر نکلیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیں تاکہ سارا خاندان جو رنج و غم میں ڈوبا ہوا ہے وہ خوش ہوجائے۔ نبی کریم ﷺ اس معاملے میں ایک جھجک محسوس فرما رہے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرلیا جو اس دور کے رواج کے مطابق آپ کی بہو تھی (یعنی بیٹے کی بیوی) لیکن اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ دنیا سے اس رواج کو بھی ختم کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا سگے اور حقیقی بیٹیوں کی طرح ہوتا ہے۔ آپ نے اللہ کے حکم سے حضرت زینب کی عدت گذرنے کے بعد ان سے نکاح فرمالیا۔ اس واقعہ نے رسم و رواج میں بندھے ہوئے لوگوں کو شور مچانے کا ایک اور موقع دے دیا۔ انہوں نے ہنگامہ برپا کردیا کہ یہ کیسے نبی ہیں جنہوں نے اپنے منہ بولے بیٹے کو طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس موقع پر یہ زیر مطالعہ آیات نازل کی گئیں جن میں نبی کریم ﷺ کو ان کے منصب اور مقام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کے نفاذ میں کسی طرح کی جھجک محسوس نہ فرمائیں کیونکہ کفارو مشرکین اور منافقین تو اسی طرح شور مچاتے رہیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے گذرے ہوئے عزم و ہمت کے پیکر پیغمبروں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابرہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسٰی (علیہ السلام) اور حضرت عیسٰی ابن مریم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپ کو اللہ نے جس نبوت کے عظیم مقام سے نوازا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ خود بھی اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کی باپندی فرمائیں اور دوسروں کو بھی اسی طرف لانے کی بھرپور جدوجہد اور کوشش فرمائیں۔ اور آپ کو جو احکامات دیئے گئے ہیں ان کو اپنی ذات اور پورے معاشرے پر نافذ کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ کل قیامت کے دن اس عہد ومعاہدے کے متعلق سوال کیا جائے گا تاکہ وہ لوگ جو سچائی پر ثابت قدم رہے ان کو انعام و کرام سے نواز جائے اور وہ لوگ جو زندگی بھر اس سچائی سے منہ موڑ کر چلتے اور دین کی سچائیوں کا انکار کرتے رہے ہیں ان کو سخت سے سخت سزادی جاسکے ۔ اس عہد میثاق کے متعلق حضرت قتادہ ؓ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس معاہدہ میں یہ بھی شامل تھا کہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اس بات کا اعلان کرتے رہیں کہ ( 1) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ( 2) لا بنی بعدہ یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ( ابن جریر ۔ ابن ابی حاتم)
Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اے نبی یاد کیجیے جب ہم نے تمام نبیوں سے ، آپ سے، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے پختہ عہد لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ وہ ان سچے لوگوں سے سچائی کے بارے میں پوچھیں اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8 میثاق : معاہدہ عہد غلیظ : سخت۔ پکا لیسئل : تاکہ وہ پوچھے، سوال کرے۔ صڈق : سچائی اعد : اس نے تیار کر رکھا ہے۔ تشریح آیت نمبر 7 تا 8 : میثاق، عہد، معاہدہ تمام لوگوں سے اور خاص طور پر انبیا کرام سے بھی لیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود بھی اللہ سے کیے ہوئے عہد و میثاق کو پورا کریں اور دوسروں کو بھی سچائی پر لانے کی بھر پور جدوجہد اور کوشش کریں۔ اور اللہ نے جو بھی حکم دیا ہو اس پر بغیر کسی جھجک اور شرم کے عمل کریں کیونکہ قیامت کے دن اللہ ہر ایک کی کوششوں اور عمل سے متعلق سوال فرمائیں گے۔ سچے لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور جو لوگ جھوٹ اور باطل پر جمے رہیں گے ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ ان آیات کی مزید وضاحت سے پہلے ان آیات کے پس منظر کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی اور درندگی سے آزادی دلائی جائے۔ اس دور میں بھیڑ بکریوں کی منڈی کی طرح انسانی خریدوفروخت کی منڈیاں بھی لگتی تھیں جن میں غلام مردوں اور غلام عورتوں (باندیوں اور لونڈیوں) کو بیچا اور خریدا جاتا تھا۔ غلام بنانے کے بعد اس کے مالک اور آقا کو اس بات کا مکمل حق حاصل ہوتا تھا کہ وہ اپنے خریدے ہوئے غلام اور لونڈی کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اگر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، مارا پیٹا جاتا، ظلم کیا جاتا یا بھوکا رکھا جاتا تو اس معاملے میں کسی دوسرے کو بولنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ اس طرح ایک غلام اور جانور میں کوئی فرق نہ تھا۔ نبی کریم نے نہ صرف غلاموں کے انسانی حقوق بحال کرائے بلکہ ان کو بھی عام انسانوں کی طرح حسن سلوک کا مستحق قرار دیا۔ نبی کریم نے غلاموں کو آزادی دلانے اور ظالموں سے ان کی گردنیں چھڑانے کو جہنم سے نجات اور عبادت کا درجہ عطا فرمایا۔ نبی کریم کے جاں نثاروں نے ہزاروں غلاموں کو خرید کر آزادی کی نعمت سے ہم کنار کیا۔ روایات کے مطابق نبی کریم کے حصے میں مختلف اوقات میں سوا دو سو غلام آئے مگر آپ نے ان کو اسی وقت آزاد کردیا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حم دیا جس پر صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا۔ نبی کریم نے حضرت زید بن حارثہ کو آزاد کردیا تھا آپ ان سے ایسی محبت فرماتے تھے کہ لوگ ان کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے۔ اس دور میں ایسے لڑکے جن کو بیٹا بنا لیا جاتا تھا جس کو لے پالک کہتے ہیں تو اس کا درجہ حقیقی اور سگے بیٹوں کی طرح ہوتا تھا جس کو وراثت میں شریک کیا جاتا تھا۔ نبی کریم نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ آپ اپنے حسن عمل سے ساری دنیا کو بتا دینا چاہتے تھے کہ غلام بھی انسان ہی ہیں ان کے ساتھ انسانی سلوک کرنا ضروری ہے۔ اگر نبی کریم نہ ہوتے تو دنیا سے غلامی کا رواج کبھی ختم نہ ہوتا۔ آپ نے غلامی اور آقائی ہر طرح کے فرق کو مٹانے کے لیے ایک اور مثال قائم فرمائی اور وہ یہ تھی کہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کو حضرت زید سے نکاح پر رضا مند کرلیا۔ جب بنو قریش جیسے معزز قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح آزاد کردہ غلام سے کیا گیا تو سارے عرب قبائل میں ایک ہلچل مچ گئی کیوکنہ اس سے پہلے کوئی ایک بھی مثال موجود نہ تھی کہ ایک شریف گھرانے کی آزاد لڑکی سے کسی غلام یا غلام زادے کا نکاح ہوجائے۔ مگر آپ نے کفار و مشرکین کی تنقید کے باوجود اس فرق کو مٹا کر چھوڑا۔ اس کے بعد حضرت زینب اور حضرت زید کے مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہوسکی اس وجہ سے شدید اختلافات ہوگئے اور آخرت کار دونوں میں طلاق ہوگئی۔ ایک آزاد کردہ غلام سے ایک آزاد لڑکی کا نیاح تو پورے خاندان کے لیے صدمہ کا سبب تھا مگر طلاق کے اس واقعہ نے تو پورے بنو قریش کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس صدمے اور رنج و غم سے کیسے باہر نکلیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ وہ حضرت زینب سے نکاح کرلیں تاکہ سارا خاندان جو رنج و غم میں ڈوبا ہوا ہے وہ خوش ہوجائے۔ نبی کریم اس معاملے میں ایک جھجک محسوس فرما رہے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کیا جو اس دور کے رواج کے مطابق آپ کی بہو تھی (یعنی بیٹے کی بیوی) لیکن اللہ چاہتے تھے کہ دنیا سے اس رواج کو بھی ختم کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا سگے اور حقیقی بیٹیوں کی طرح ہوتا ہے۔ آپ نے اللہ کے حکم سے حضرت زینب کی عدت گزرنے کے بعد ان سے نکاح فرما لیا۔ اس واقعہ نے رسم و رواج میں بندھے ہوئے لوگوں کو شور مچانے کا ایک اور موق دے دیا۔ انہوں نے ہنگامہ برپا کردیا کہ یہ کیسے نبی ہیں جنہوں نے اپنے منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اموقع پر زیر مطالعہ آیات نازل کی گئیں جن میں نبی کریم کو ان کے منصب اور مقام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کے نفاذ میں کسی طرح کی جھجک محسوس نہ فرمائیں کیونکہ کفار و مشرکین اور منافقین تو اسی طرح شور مچاتے رہیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی اللہ نے آپ سے پہلے گزرے ہوئے عزم و ہمت کے پیکر پیغمبروں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپ کو اللہ نے جس نے جس نبوت کے عظیم مقام سے نوازا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ خود بھی اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کی پابندی فرمائیں اور دوسروں کو بھی اسی طرف لانے کی بھرپور جدودجہد اور کوشش فرمائیں گے۔ اور آپ کو جو احکامات دیئے گئے ہیں ان کو اپنی ذات اور پورے معاشرہ پر نافذ کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں، کل قیامت کے دن اس عہد و معاہدہ کے متعلق سوال کیا جائے گا تاکہ وہ لوگ جو سچائی پر ثابت قدم رہے ان کو انعام و اکرام سے نوازا جائے اور وہ لوگ جو زندگی بھر اس سچائی سے منہ موڑ کر چلتے اور دین کی سچائیوں کا انکار کرتے رہے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے۔ اس عہد و میثاق کے متعلق حضرت قتادہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس معاہدہ میں یہ بھی شامل تھا کہ تمام انبیا کرام اس بات کا اعلان کرتے رہیں کہ (1) حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں اور (2) لا نبی بعدہ یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم)
Ayahs 33:9–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اوپر اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آتے تھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ دیکھنے والا ہے۔

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

اور پھر جب تمہارے اوپر سے اور نیچے سے (لشکر لے کر) چڑھ دوڑے تھے اور جب تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں اور تمہارے کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

یہی وہ مقام تھا جہاں اہل ایمان کو آزمایا گیا اور (حا لات کی شدت میں) زبر دست انداز سے ہل کر رکھ دیا گیا تھا۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافقوں نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ تھا کہنے لگے تھے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کئے تھے وہ سوائے دھوکے اور کچھ نہ تھا۔

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور (یاد کرو ) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب والو ! تمہارے لیے کوئی جگہ (ٹھکانہ) نہیں ہے ۔ تم سب لوٹ چلو اور ایک گروہ نے اجازت مانگنا شروع کردی تھی اور کہنے لگے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ ان کے گھر غیر محفوظ نہ تھے بلکہ وہ صرف (میدان جنگ سے ) بھاگنا چاہتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13 جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر ریح : ہوا، آندھی لم تروا : تم نے نہیں دیکھا فوق : اوپر زاغت : کھلی رہ گئی الحناجر : کلیجہ ھنالک : اسی جگہ غرور : دھوکا۔ فریب ارجعوا : تم لوٹ جاؤ یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے عورۃ : غیر محفوظ فرار : بھاگنا تشریح : آیت نمبر 9 تا 13 مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری تخلیق کرلینے کے بعد آپ نے بنو نضیر کو دس دن کی مہلت دے کر فرمایا کہ وہ مدینہ منورہ سے نکل جائیں جا کر آباد ہوجائیں۔ دس دن کی مہلت گذرنے کے بعد آپ نے ان کا محاصرہ کرلیا ۔ تنگ آکر یہو دی نکلنے کے لئے تیار ہوگئے۔ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ تین آدمی ایک اونٹ پر جتنا سامان لاد کرلے جاسکتے ہوں لے جائیں بقیہ سب کچھ چھوڑ کر مضافات مدینہ سے نکل جائیں ۔ چناچہ یہودیوں کا یہ قبیلہ خیبر میں جا کر آباد ہوگیا۔ بنو نضیر چپ بیٹھنے والے نہ تھے انہوں نے بنی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مٹانے کی سازشیں شروع کردیں ۔ چناچہ بنو نضیر اور قبیلہ ابو دائل کے تقریبا ً بیس آدمی مکہ مکرمہ اور انہوں نے قریشیوں سے کہا وہ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ورنہ جس طرح آج بنو نضیر نکال دیئے گئے ہیں تمام لوگوں کا انجام اس سے مختلف نہ ہوگا۔ قریش تو جنگ بدر اور جنگ احد میں طرح شکست کھا کر انتقام کی آگ میں جل رہے تھے وہ تیار ہوگئے۔ ان بیس آدمیوں اور قریشیوں نے مسجد حرام میں جاکر بیت اللہ کی دیواروں سے اپنے سینے لگا کر عہد کیا کہ جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ ہے وہ (حضرت ) محمد ﷺ کے خلاف جنگ کرتا رہے گا۔ بنو نضیر کے یہودی اس کوشش میں کامیاب ہونے کے بعد ایک زبر دست جنگ جو قبیلہ بنو غطفان کے عینیہ ابن حصین کے پاس پہنچے انہوں نے اپنے اور قریشیوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی تفصیل بتائی اور بنو غطفان کو اس جنگ میں شریک کرنے کے لئے اس بات کا لالچ بھی دے دیا کہ اگر وہ اس جنگ میں ان کا بھر پور ساتھ دیں گے تو اس سال ان کے ہاں جتنی بھی کھجوریں پیدا ہوں گی وہ ان کو دے دی جائیں گی۔ سردار قبیلہ نے ان کی اس شرط کو مان کر ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا۔ قریشیوں اور بنو غطفان کی حمایت کے بعد انہوں نے عرب کے تمام قبائل کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ یہ اتحادی فوجیں (Collation) اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ مدینہ کے چاروں طرف سے زبر دست حملہ کریں گے اور غربت و افلاس کی زندگی گذارنے والے مسلمانوں کو پوری طرح تباہ و برباد کرکے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالیں گے۔ بنو نضیر نے مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قریظہ کو بھی اس جنگ میں شرکت کی دعوت دی تاکہ اندر اور باہر سے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی جائے ۔ نبی کریم ﷺ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعہ کی زبردست جنگی تیاریوں کی اطلاع مل رہی تھی ۔ آپ نے اس تمام صورتحال سے اپنے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو آگاہ کردیا۔ آپ نے حسب عادت صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے نہایت ادب و احترام سے غرض کیا یا رسول اللہ ہمارے ملک فارس میں خند قیں کھود کر پہلے اپنی حفاظت کی جاتی ہے اور پھر دشمن کا مقابلہ کیا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور طے کیا کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا۔ آپ مہاجرین و انصاری کو دس دس آدمیوں کی جماعت میں تقسیم کرکے ہر دس آدمیوں کو چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا حکم دیا ۔ تمام صحابہ کرام ؓ اور خود نبی کریم ﷺ نے پیٹ سے پتھرباندھ کر نہایت فقر و فاقہ کی حالت کے باوجودہ صرف چھ دن میں ساڑھے تین میل لمبی اور پانچ پانچ فٹ گہرائی اور مناسب چوڑائی کے ساتھ اس خندق کو مکمل فرمایا۔ خندق چوڑائی اور گہرائی اتنی زیادہ تھی کہ دشمن اس کو پار نہیں کرسکتا تھا۔ آپ نے خندق کے آس پاس تیر اندازوں کو بٹھا دیا تاکہ جو بھی اس خندق کو پار کرنے کی کوشش کرے اس کو تیروں سے چھلنی کردیا جائے۔ آپ نے اندرونی طور بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو بنو قریظہ کی بستیوں کے قریب ٹھہرا دیا کیونکہ بظاہر یہ جگہ عورتوں ، بچوں اور ضعیفوں کے لئے محفوظ تھی ۔ ادھر پورا عرب ان نہتے اور کمزور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے پر جوش طریقے پر تیاریوں میں لگ گیا تھا ۔ قریشیوں نے چار ہزر لڑاکا جوان، تین سو گھوڑے اور ایک ہزار اونٹ اس جنگ کے لئے تیار کر لئے۔ جب یہ لشکر مکہ مکرمہ سے اپنی پوری تیاریوں کے ساتھ نکلا تو راستے میں بنو غطفان اور دوسرے قبیلے بھی اس لشکر میں شامل ہوتے چلے گئے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی تعداد پندرہ ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ادھر مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی جس میں بہت سے منافق بھی شامل ہوگئے تھے۔ جب آپ نے کفار کی تیاریوں اور لشکروں کی روانگی کا حال سنا تو آپ نے فرمایا حسبنا اللہ و نعم الوکیل یعنی ہمیں اللہ کا فی ہے اور وہی مشکل کشا ہے۔ یہ وقت مسلمانوں کے لئے سخت آزمائش کا وقت تھا ایک طرف سارا عرب اور اس کی طاقت تھی جو ہر طرح کے ہتھیاروں سے مسلح تھا اور وہ بڑے فخر و غرور کے ساتھ تیزی سے مدینہ منورہ کی طرف بڑھ رہا تھا ادھر بےسرو سامانی اور فقر و فاقہ تھا۔ جب عام مسلمانوں کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس طوفانی کے آنے سے چاروں طرف خوف و ہر اس پھیل گیا اور کمزور دل مسلمانوں کے اوسطان خطا ہوگئے ۔ وہ منافق جو قتی طور پر ساتھ ہوگئے تھے انہوں نے کھلم کھلا کہنا شروع کردیا کہ ہم سے تو قیصرو کسری کے ایوانوں کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اب تو ہمارے کلیجے منہ کو آرہے ہیں اور پوری عرب کی طاقتیں جمع ہو کر ہمیں مٹانے کے لئے آنے ہی والی ہیں۔ ہم اتنے زبردست لشکر کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ انہوں نے یہ کہ کر نبی کریم ﷺ سے واپس جانے کی اجازت چاہی اور آپ سے، ہم اتنے زبر دست لشکر کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ انہوں یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ سے واپس جانے کی اجازت چاہی اور آپ سے جس نے بھی اجازت مانگی آپ نے اس کو اجازت دے دی۔ جن لوگوں کا اللہ پر اعتماد تھا انہوں نے کہا اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور وہ اللہ ہمیں ان کفار کے مقابلے میں پست نہیں فرمائے گا۔ ان کا اس بات پر ایمان تھا کہ انہیں ایک دن اللہ کے پاس جانا ہے اگر انہوں نے میدان جنگ کو چھوڑ دیا تو ان کو دنیا اور آخرت کی رسوائی سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ اس تصور کے ساتھ ہی اہل ایمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈٹ گئے۔ جب کفار کا لشکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو وہ اس خندق اور جنگ کے انداز کو دیکھ کر حیران رہ گیا اب اس خندق کے ایک طرف کفار و مشرکین کے لشکر نے پڑائو ڈال دیا تھا اور دوسری طرف مسلمان بڑی مستعدی سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ جب کفار کا لشکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو وہ اس خندق اور جنگ کے انداز کو دیکھ کر حیران رہ گیا اب اس خندق کے ایک طرف کفار و مشرکین کے لشکر نے پڑائو ڈال دیا تھا اور دوسری طرف مسلمان بڑی مستعدی سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ کفار کے لشکر میں سے کچھ لوگوں نے اس خندق کو پار کرنے کی کوشش کی تو ان پر تیروں کی بو چھاڑ کردی گئی جس سے وہ بھاگ گئے۔ یہ سردی کا سخت موسم تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں کی کمی تھی۔ بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے جذبہ جہاد سے سرشار اہل ایمان کفار کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ جب اس محاصرہ کو بیس دین سے زیادہ ہوگئے اور مدینہ منورہ میں گھسنے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے بنو قریظہ کو اس غداری پر آمادہ کرلیا کہ وہ اپنے وعدے کو توڑ کر اندر سے مسلمانوں پر حملے کریں اور باہر سے وہ حملے کریں گے۔ بنو قریظہ نے جب غداری پر کمر باندھی آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو اس کی اطلاع سے خاص تشویش پیدا ہوگئی کیونکہ تمام عورتیں ، بچے اور بوڑھے اسی علاقے میں جمع کرلئے گئے تھے جو بنو قریظہ کے قریبی علاقے تھے۔ جب اہل ایمان نے اپنے ایثار و قربانی کا عظیم مظاہرہ کیا تو اللہ نے ان کی اس طرح مدد فرمائی کہ کفار کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا۔ مکہ کے وہ لوگ جو اتنی سردی کے عادی نہ تھیان کے لئے موسم کی ٹھنڈک ناقابل برداشت ہوگئی تھی وہ تو یہ سمجھ کر آئے تھے کہ اتنی بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور ہم دو ایک دن میں فتح کے جھنڈے لہراتے ہوئے مدینہ پر قبضہ کرلیں گے لیکن تقریبا ایک مہینہ کے محاصرہ نے ان کو نڈھال کر کے رکھادیا۔ ادھر بنو قریظہ اور ان اتحادی فوجوں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہونے سے یہ متحدہ فوج مایوس ہوگئی تھی اور آخر کا شدید سردی اور طوفانی ہوائوں سے تنگ آکر یہ اتحادی فوجیں بھاگنے پر مجبور ہوگئیں اور ایک دن صبح کو اہل ایمان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رات کے اندھیرے میں ساری اتحادی فوجیں بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اہل ایمان صحابہ کرام ؓ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اب یہ لوگ کبھی ہم پر حملہ نہ کریں گے بلکہ ان پر حملہ کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں ان ہی واقعات کی طرف اشارہ کرکے اے ایمان والو ! تم اللہ کی اس نعمت کی قدر کرو جب کہ تمہارے اوپر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسے لشکر سے تمہاری مدد کی جو تمہیں نظر نہ آتا تھا۔ اللہ تو ہر اس عمل کو دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو فرمایا کہ تم اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے اوپر سے اور نیچے سے لشکر وہ چڑھ دوڑے تھے۔ جب تمہاری آنکھیں پتھرا گئی تھیں ۔ تمہارے کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کر رہے تھے یہ ایک شیدی آزمائش کا وقت تھا اور یاد کرو جب منافقین جن کے دل میں روگ تھا وہ کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو بھی وعدے کئے تھے وہ سوائے دھوکے اور کچھ نہ تھے ۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے یثرب والو ! (مدینہ والو ! ) ت تمہارے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے تم سب لوٹ چلو ۔ ایک گروہ نے اجازت مانگنا شروع کردی تھی اور کہنے لگے تھے کہ ہمارے گھر محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ سب ان عذر تھے در حقیقت وہ یونہی جان بچا کر بھاگنا چاہتے تھے۔ ولو دخلت ولا نصیرا ۔
Ayahs 33:14–17

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر ان پر (مدینہ ) کے اطراف سے (دشمن) داخل ہوجاتا اور ان سے اس فتنہ میں پڑنے کے لئے کہا جاتا تو وہ اس میں کود پڑتے اور کچھ دیر نہ لگاتے۔

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ وہ اس سے پہلے (غزوہ احد کے بعد) اللہ سے یہ وعدہ کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھریں گے۔ اور (یاد رکھو) اللہ سے کئے ہوئے وعدے کے متعلق پوچھا تو ضرور جائے گا۔

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم موت سے یا قتل کئے جانے سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمہارے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا اور اس سے تم چند دنوں کے سوا کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکو گے۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ان سے کہ دیجئے کہ اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہچانا چاہے تو کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچالے گا ؟ اور اگر وہ اپنا فضل و کرم کرنا چاہے تو اس کو کون روک سکتا ہے ۔ اور وہ اپنے لئے اللہ کے سوا کسی کو حمایتی اور مدد گا نہ پائیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17 دخلت : داخل کردیا گیا۔ اقطار : کنارے۔ اطراف سئلوا : سوال کیا گیا ما تلبثوا : دیر نہ لگائیں گے لا یولون : وہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ لا تمتعون : تم فائدہ نہ اٹھا سکو گے یعصم : وہ بچاتا ہے لا یجدون : وہ نہ پائیں گے نصیر : مددگار تشریح آیت نمبر 14 تا 17 گذشتہ آیات سے غزوہ احزاب کے متعلق بیا کیا جارہا ہے اب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب منافقین نے کفار و مشرکین کو آندھی اور طوفان کی طرح آتے دیکھا تو وہ گھبرائے گئے اور میدان جنگ سے بھاگنے کے راستے اور بہانے تلاش کرنے لگے ۔ اس کے بر خلاف وہ اہل ایمان جو اللہ کی ذات پر مکلمل بھروسہ اور ایمان رکھتے تھے انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اللہ ان کی ہر حال میں مدد فرمائے گا انہیں یقین تھا کہ اگر وہ اسلام دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے اور اپنی جانوں کی بازی لگا دی تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں سرخ رو فرمائے گا۔ انہیں معلوم تھا کہ اس وقت اس محاذ جنگ سے بھاگ جانا دنیا اور آخرت کی رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا کہ ان کا یہ حال ہے اگر کوئی ( اللہ و رسول کا ) دشمن مدینہ کے اطراف سے اندر داخل ہو کر کہنے لگے کہ تم اہل ایمان سے الگ ہو جائو اور ہمارے ساتھ مل کر لڑ و اور برپا کر دو تو یہ فرار کے راستے ڈھونڈنے والے ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے اور اہل ایمان سے لڑنے کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میدان جنگ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کرنے والے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جنگ احد کے موقع پر ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اس بات کا پکا وعدہ کیا تھا کہ اب وہ میدان جنگ سے پیٹھ پھر کر نہ بھا گیں گے۔ اب ان کا وہ عہد معاہدہ کیا ہوا ؟ فرمایا کہ وعدے اور عہد کے خلاف کرنے والوں کو اس کا جواب تو دینا ہوگا اور اپنی عہد شکنی کی سزا کے لئے بھی تیار رہیں۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے یہ تو پوچھئے کی یہ لوگ جس موت اور قتل کے خوف سے بھاگ پھر رہے ہیں کیا یہ لوگ ہمیشہ اسی دنیا میں رہیں گے ؟ ان کو موت نہ آئے گی ؟ یاد رکھیں جب موت آئے گی تو کیا وہ موت سے بچ سکیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ اللہ کا پورا اختیار ہے کہ وہ اگر کسی کو فائدہ دینا چاہے تو اس سے کوئی نہیں روک سکتا اور اگر وہ اس کو کسی خسارے یا نقصان میں مبتلا کردے تو سوائے اللہ کی حمایت اور مدد کے اور کون اس کو بچا سکے گی۔
Ayahs 33:18–20

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے ( جو دوسروں کو و جہاد سے ) روکنے والے ہیں۔ اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جوا پنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ آئو ہماری طرف آئو۔ اور (ایسے لوگ) جنگ میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(وہ جنگ میں تمہارا ساتھ دینے میں) بہت ہی کنجوس ہیں ۔ پھر جب کسی خوف (دہشت ) کا وقت آتا ہے تو وہ تمہاری طرف آنکھیں پھر پھرا کر اس شخص کر طرف دیکھتے ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ ٹل جاتا ہے تو تیز تیز زبانوں سے بولتے ہوئے لالچ کرتے ہوئے تمہارے ساتھ آجاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے اور اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیئے ۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کا لشکر ابھی گیا نہیں ہے۔ اور اگر لشکر پلٹ کر آجائے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاس وہ دیہات میں باہر نکلے ہوئے ہوتے اور تمہاری خبریں (دیہاتیوں سے) پوچھتے رہتے ۔ اور اگر وہ تمہارے اندر بھی ہوں گے تب بھی وہ جنگ میں بہت کم حصہ لیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 20 المعوقین : روکنے والے القائلین : کہنے ولے ھلم : آؤ ہماری طرف الباس : سختی۔ تنگی اشحۃ : کنجوسی کرنا تدور : گھماتی ہیں یغشی : وہ چھا جاتا ہے احبط : اس نے ضائع کردیا یودوا : وہ پسند کرتے ہیں تشریح : آیت نمبر 18 تا 20 غزوہ خندق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے دل کی گہرائیوں اور پختہ یقین کے ساتھ ایما قبول نہ کیا تھا بلکہ ان کے دل منافقت اور کفر سے بھرے ہوئے تھے اور انہوں نے بعض دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں جیسا انداز اختیار کرکے ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی ان بری حرکتوں سے خبردار رہنے کے لئے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے اندر کچھ ایسے لوگ گھس آئے ہیں جو ایسی باتیں کر رہے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے بالکل خلاف ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو جہاد سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم بھی اہل ایمان کا ساتھ چھوڑ کر ان کے ساتھ آجائو ۔ ان کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور ایثار قربانی کے موقع پر وہ انتہائی کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ان کی مفاد پرستی کا یہ حال ہے کہ اول تو مشکلات، پریشانیوں اور جنگ میں شرکت سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہوجائے کہ جنگ میں بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگ گیا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے چرب زبانی اور لالچ کا مظاہرہ کرنے چلے آئیں گے۔ فرمایا کہ اگر کسی طرف سے دشمن کا حملہ ہوجائے گا اور دشمنوں سے مقابلہ کا واسطہ پڑجائے گا تو خوف اور دہشت کے مارے وہ اس طرح آنکھیں پھرا پھرا کر باتیں کرینگے جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہوگئی ہے۔ اور اگر فتح و کامیابی حاصل ہوجائے تو وہ اپنی قینچی جیسی زبانوں کو چلا کر بلندو بانگ دعوے کریں گے کہ اگر ہم ساتھ نہ ہوتے تو یہ فتح و کامیابی حاصل نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے ان کے کسی عمل کی کوئی قیمت اور زبان نہیں ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے کئے ہوئے تمام اچھے اعمال غارت کردیئے ہیں اور ان کی دکھاوے کی نمازیں اور روزے قیامت میں کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ان کو نجات دی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کی بزدلی اور بےوقوفی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر چہ کفارومشرکین کی اتحادی فوجیں میدان جنگ سے بھاگ چکی ہیں لیکن ان کا اس کا یقین ہی نہیں آتا۔ فرمایا کہ ان کی بزدلی کا یہ حال ہے کہا گروہ فوجیں پلٹ کر حملہ کردیں تو ان کی تمنایہ ہوگی کہ وہ شہر میں ٹھہرنے کی بجائے دور کے کسی گاؤں دیہات میں چلے جائیں اور آنے جانے والوں سے پوچھتے رہیں کہ حالات کس رخ پر جارہے ہیں ؟ مقصد یہ ہے کہ وہ کسی طرح جنگ میں شریک نہ ہوں اور گھر بیٹھے ان کو ہر طرح کے فائدے پہنچ جائیں۔ اور فتح و نصرت کی حالت میں اپنی لمبی لمبی زبانوں کے لے کر آجائیں گے اور مال غنیمت زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کریں گے۔
Ayahs 33:21–27

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

یقیناً اللہ کے رسول ( حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ عمل موجود ہے جو اللہ پر ، آخرت کے دن پر امید اور توقع رکھتا ہے ۔ اور اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرتا ہے ۔

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

جب مومنوں نے ( مدینہ پر حملہ آور ) لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ اللہ اور رسول کا وہ ہے جس کا ہمیں یقین دلایا گیا تھا۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا تھا ۔ اور ( لشکر کی کثرت سے ) ان کے جذبہ ایمانی اور اطاعت و فرماں برداری میں اضافہ ہوگیا۔

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اپنی منت پوری کرچکے اور کچھ لوگ ابھی انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اپنے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا بدلہ عطا کرے۔ اگر چاہے تو وہ منافقین کو عذاب دے چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے۔ بیشک اللہ بہت مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے ۔

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اللہ نے کافروں کو ان کے دل کی جلن کے ساتھ پھیر دیا۔ اور انہوں نے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا۔ اور جنگ کے معاملے میں ایمان والوں کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ اللہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے (ان کفار کی) مدد کی تھی۔ اللہ انہیں ان کے قلعوں سے نیچے لے آیا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کررہے ہو، اور ایک گروہ کو قیدی بنا رہے ہو۔

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اللہ نے تمہیں ان کی زمین، ان کے گھروں ، ان کے مالوں اور اس سرزمین کا بھی مالک بنا دیا جہاں تم نے قدم نہ رکھا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27 اسوۃ : نمونہ یرجوا : امید رکھتا ہے تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت قضی : پورا کرلیا نحب : منت۔ نذر۔ مدت غیظ : غصہ صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ قذف : ڈال دیا الرعب : دہشت۔ ہیبت تاسرون : تم قیدی بناتے ہو اورث : اس نے مالک بنا دیا لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں نبی کریم ﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ عمل بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر انداز اور سیرت و کردار کا ہر پہلو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنما ہے لیکن آپ کی زندگی سے صرف وہی فائدے حاصل کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور دن ارات اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے کرتے ہیں۔ غزوہ خندق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس دہشت ناک ماحول میں جب کہ کفار مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی تھی اور چاروں طرف سے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے آپ نے ان حالات کا جس ہمت و جرات ، استقلال اور بےخوفی سے مقابلہ کیا تھا وہ اہل ایمان اور ساری دنیا کے لوگوں کے لئے ایک بہترین نمونہ زندگی ہے ۔ غزوہ خندق کے موقع پر ایک طرف تو وہ اہل ایمان تھے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردینے کو اپنی سعادت سمجھ رہے تھے دوسری طرف وہ بزدل منافقین تھے جو اتحادی فوجوں کی کثرت اور بنو قریظہ کی غداری اور عہد شکنی کی وجہ سے سخت پریشان اور مایوس تھے اور کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے عہد شکنی کی وجہ سے سخت پریشان اور مایوس تھے اور کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے کہ اگر انہوں نے دین اسلام کو قبول کرلیا تو ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی ساری دنیا پر انہیں فتح و نصرت عطا کی جائے گی اور قیصر و کسری کے محل اور خزانے ان کے قدموں تلے ہوں گے مگر اس وقت تو ہمارا یہ حال ہے کہ مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سی ریاست کو ختم کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے بڑے زبردست لشکروں کے ساتھ کفار نے مدینہ پر چڑ ھائی کردی ہے جن سے اپنی جان بچانا مشکل نظر آرہا ہے اور اندرونی طور پر بنو قریظہ کی شورش ، بغاوت اور غداری کی وجہ سے ان کی بیوی بچے تک محفوظ نہیں رہے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ آئو لوٹ چلیں تاکہ اس آفت سے نجات حاصل کرسکیں۔ اس کے برخلاف عزم و ہمت کے پیکر صحابہ کرام ؓ جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کے فیض صحبت سے جرات و ہمت اور بےخوفی کا سبق سیکھ لیا تھا انہوں نے کفار کی اس یلغار اور اتحادی فوجوں کی کثرت کو دیکھا تو ساری حقیقت سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ دین کی راہوں میں چلنے والے ہر شخص کو سخت آزمائشوں اور امتحانات سے گذرنا ہوگا۔ مصائب اور مشکلات کے کانٹوں سے الجھنا ہوگا اور ہر طرح کی قربانیاں دینا ہوگی تاکہ وہ اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن کر دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرسکیں۔ کفار کی فوجی کثرت اور ان کی جنگی تیاریوں سے خوف کرنے کے بجائے وہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت میں پورے عزم و یقین کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنے کے لئے بےچین ہوگئے اور پنے جان و مال سے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ فرمایا نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں کی زندگی بہتر ین نمونہ عمل ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی زندگی کو ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ زندگی اور نمونہ عمل بنایا ہے جو اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لا کر آخرت میں نجات اور کامیابی کی امید اور توقع رکھتا ہے اور دن رات کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جاں نثاران مصطفیٰ ﷺ کے عزم و ہمت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اہل ایمان (صحابہ کرام ؓ نے مدینہ پر بڑے بڑے لشکروں کو حملہ آور دیکھا تو انہوں نے گھبرانے اور مایوس ہونے کے بجائے کہا کہ یہی تو وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے کیا تھا ۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا کہ دین کی راہوں میں انہیں ہر طرح کی آزمائشوں سے گذرنا ہوگا ۔ ان لشکروں کی کثرت نے ان کے جذبہ ایمانی اور اطاعت و فرماں برداری میں اضافہ کردیا۔ فرمایا کہ ان ہی لوگوں میں وہ صاحبان ایمان بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آخرت کی کامیابیاں حاصل کرلیں اور کچھ لوگ ابھی اس انتظار میں ہیں کہ اگر ان کو موقع ملا تو وہ بھی اپنے جان و مال کی قربانی کی سعادت حاصل کریں گے ۔ ان کی ہمت و جرات یا یہ حال ہے کہ حالات کی سختی اور کفار کی یلٖغار سے مایوس نہیں ہوئے اور نہ انہوں نے اپنے کسی روئیے میں تبدیلی کی۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کی سچائی کا نعام عطا فرفائیں گے۔ جہاں تک منافقین کا معاملہ ہے تو اللہ کی مرضی پر ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یا ان کو تو بہ کی توفیق دے کر معاف فرما دے۔ اللہ تو اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے میں بہت زیادہ مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غزوہ احزاب میں کفار کے لشکروں کی کثرت اور اسلحہ کے ڈھیران کے کسی کام نہ آسکے۔ حالات اور موسم کی سختی سے تنگ آکر جلتے پٹختے میدان جنگ سے بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے اور جو بھی فائدے سوچ کر آئے تھے ان میں سے ایک فائدہ بھی حاصل نہ کرسکے بلکہ اس سے ان کو یہ زبردست نقصان پہنچا کہ وہ ساری دنیا میں ذلیل ور سوا ہو کر رہ گئے اور اہل ایمان کو مٹانے کے بجائے انہوں نے خود اپنے مٹنے کا سامان کرلیا۔ واقعی ساری طاقت وقوت صرف اللہ ہی کی ہے اور وہی اہل ایمان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ بنو قریظہ کی غداری اور معادہ شکنی کے متعلق فرمایا کہ اہل کتاب (بنو قریظہ) میں سے جنہوں نے ان کفار و مشرکین کی مدد کی تھی ان کو نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے مضبوط قلعوں سے نیچے آنا پڑا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں اہل ایمان کی ایسی ہیبت اور دہشت بٹھادی تھی کہ آج وہ ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے ہیں اور بعض لوگوں کو قید کررہے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں ان کی زمینون ، گھروں ، جائیدادوں اور مال دولت کا مالک بنادیا ہے اور اب اللہ نے فیصلہ فرما لیا ہے کہ تمہیں اس سرزمین (خیبر وغیرہ ) کا بھی مالک بنادیا جائے جہاں تم نے ابھی تک قدم بھی نہیں رکھا ۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوگا جو ساری طاقتوں اور قوتوں کا مالک ہے۔