Ayah 33:4سورة الاحزاب
کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں، کا کیا مطلب ہے
قول باری ہے (ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ قبیلہ قریش میں ایک شخص تھا جو اپنے مکروفریب اور چستی وچالا کی کی بنا پر ” دودلوں والا “ کہلاتا تھا۔ مجاہد اور قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق منافقین کہا کرتے تھے کہ حضور ﷺ دو دلوں والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس قول کی تکذیب کردی۔
حسن کہتے ہیں کہ ایک شخص تھا جو یہ کہا کرتا تھا کہ ” میری ایک جان تو مجھے حکم دیتی ہے اور دوسری جان روکتی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی ۔ مجاہد سے مروی ہے کہ بنو فہر کا ایک شخص کہا کرتا تھا کہ میرے سینے میں دو دل ہیں۔ میں ان میں سے ہر ایک کے ذریعے محمد حضور ﷺ سے زیادہ عقل اور سمجھ کا مالک ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی تکذیب فرمادی۔
ابو جعفر طحاوی نے ذکر کیا کہ زیر بحث آیت کی تفسیر میں درج بالا اقوال کے سوا اور کوئی بات منقول نہیں ہے۔ ابوجعفر نے مزید کہا ہے کہ امام شافعی نے بعض اہل تفسیر سے جس کا انہوں نے نام نہیں لیا یہ نقل کیا ہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ایک شخص کے دو باپ نہیں بتائے۔ امام شافعی نے دو آدمیوں کے نطفے سے ایک بچے کی پیدائش کی نفی کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کیا ہے، ان کا یہ استدلال امام محمد کے قول کے خلاف ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لفظ کے اندر اس مفہوم کا احتمال نہیں ہے جو امام شافعی نے اس سے اخذ کیا ہے۔ اس لئے کہ قلب کے لفظ کے ساتھ باپ سے تعبیر نہیں ہوتی نہ تو حقیقتہً اور نہ ہی مجازاً نہ ہی شریعت میں بات کے لئے قلب کو اسم کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس لئے آیت کے یہ معنی لینا کئی وجوہ سے غلط ہے۔
حضرت ابوسعید خدری نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ کو ایک حاملہ لونڈی نظر آئی جس کے منہ سے تھوک نکل رہی تھی۔ آپ نے دریافت کیا کہ یہ لونڈی کس کی ہے ، عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کی ہے، آپ نے پھر پوچھا۔ آیا یہ شخص اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرتا ہے۔ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے، یہ شخص پیدا ہونے والے بچے کو کس طرح اپنا وارث قرار دے گا حالانکہ وہ بچہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگا یا اسے کسی طرح اپنا غلم بنائے گا جبکہ اس نے اسے آنکھوں دیکھے اور کانوں سے غذا بہم پہنچائی ہے۔ “ آپ کا ارشاد ” اسے آنکھوں دیکھے اور کانوں سے غذا بہم پہنچائی ہے “ اس پر دلالت کرتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ دو مردوں کے نطفوں سے بنا تھا۔
حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے بھی مروی ہے کہ ان دونوں حضرات نے دو مردوں سے بچے کا نسب کردیا تھا۔ ان دونوں کے سوا کسی صحابی سے اس کے قول کے خلاف کوئی روایت منقول نہیں ہے۔
(یہاں اس مسئلے کا ذکر بےجانہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص حاملہ لونڈی خریدے تو جب تک وضع حمل نہ ہوجائے اس وقت تک وہ اس کے ساتھ ہم بستری نہیں کرسکتا۔ درج بالا صورت میں حضور ﷺ نے اپنی ناراضی کا اس بنا پر اظہار کیا کہ اس شخص نے وضع حمل سے پہلے ہی اس لونڈی کے ساتھ ہمبستری شروع کردی تھی۔ مترجم)
بیوی ماں کی طرح حرام نہیں ہوسکتی
قول باری ہے : (وما جعل ازواجکم اللائی تظاھرون منھن امھاتکم اور تمہاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنادیا ہے) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لوگ اپنی بیویوں سے ان الفاظ میں ظہار کرلیتے تھے کہ ” تو میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس قول سے بیوی تحریم کے لحاظ سے ماں جیسی نہیں ہوسکتی نیز اس قول کو جھوٹ اور قابل نفرت قول قرار دیا۔
چنانچہ ارشاد ہوا (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور ھوٹ کہہ رہے ہیں) اس قول کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسی تحریم لازم کردی جو کفارہ ظہار کے ذریعے رفع ہوتی ہے اور ظہار کرنے والے کے اس قول کو باطل قرار دیا جس میں وہ اپنی بیوی کو اپنی ماں جیسی قرار دیتا ہے کیونکہ ماں کی تحریم تو ہمیشہ کے لئے تحریم کی صورت ہے۔
اسلام میں منہ بولا بیٹا بنانا ناجائز نہیں
قول باری ہے (وما جعل ادعیاء کم ابناء کم ۔ اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا بنادیا) ایک قول کے مطابق یہ آیت حضرت زید بن حارثہ ؓ کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے انہیں اپنا متبنیٰ بنا لیا تھا چناچہ انہیں زید بن محمد کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
مجاہد ، قتادہ اور دوسرے حضرات سے اسی طرح کی روایت ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ چیز قرآن کے ذریعے سنت کے نسخ کی موجب ہے کیونکہ پہلا قرآن کی بجائے سنت سے ثابت تھا جسے قرآن نے منسوخ کردیا۔
قول باری ہے (ذلکم قولکم باھواھکم۔ یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے) یعنی اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ایک بےمعنی اور غیر حقیقت پسندانہ بات ہے۔
Ayah 33:5قول باری ہے (ادعولھم لا بائھم ھواقسط عندالہ فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم ۔ ) انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (آخر) وہ تمہارے دین کے تو بھائی ہی ہیں اور تمہارے دوست، اس میں نسب کے بغیر کسی شخص پر بھائی کے سام کے اطلاق کی اباحت اور باپ کے اسم کے اطلاق کی ممانعت ہے۔
اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ کہے کہ وہ میرا بھائی ہے تو غلام آزاد نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ یہ کہے کہ میں نے نسبی بھائی مراد نہیں لیا ہے اس لئے کہ ایک شخص پر دینی لحاظ سے بھائی کے لفظ کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر وہ اپنے غلام کے متعلق یہ کہے کہ یہ میرا بیٹا ہے تو وہ غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ نسب کے بغیر اس اسم کا اطلاق ممنوع ہے۔
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (من ادعی الی غیر ابیہ وھو یعلم انہ غیرابیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور شخص کی طرف باپ ہونے کی نسبت کرے گا جبکہ اسے معلوم ہو کہ وہ شخص اس کا باپ ہیں ہے ، اس پر جنت حرام ہوجائے گی۔ )
قول باری ہے (ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ۔ تمہارے اوپر اس کا کوئی گناہ نہیں جو تم سے بھول چوک ہوجائے) ابن ابی نجیع نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ خطاء کی صورت یہ ہے اس تبنی کے مسئلے میں یا اس کے علاوہ دوسرے مسائل میں نہی کے وردہ سے پہلے جو کچھ ہوچکا (ولکن ما تعمدت قلوبکم) عمد کی صورت ہے کہ اس مسئلے میں یا اس کے علاوہ دوسرے مسائل میں نہی کے ورود کے بعد تم اس نہیں کے خلاف طریق کار کو ترجیح دو ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی کہ اگر تم کسی شخص کو اس کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسبت کرکے پکارو اور تمہیں معلوم ہو کہ وہ شخص اس کا باپ ہے تو اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ لازم نہیں آئے گا۔
حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا۔ ” اے اللہ ! میری خطائیں معاف کردے۔ “ آپ نے اس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ان خطائوں کی معافی مانگو جو تم نے عمداً کی ہیں، باقی رہ گئیں تمہاری وہ خطائیں جو تم نے جان بوجھ کر نہیں کیں تو ان کی تمہیں ازخود معافی مل جائے گی۔
قتادہ نے مزید کہا کہ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے۔” تم سے غلطی کی بنا پر سرزد ہونے والی خطائوں کا مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے، مجھے تو صرف ان خطائوں کی فکر ہے جو تم سے جان بوجھ کر سرزد ہوئی ہوں۔ “ کہ مجھے قتال کی بنا پر تمہارے بارے میں کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن مجھے مال ودولت کی کثرت کی بنا پر تمہارے بارے میں خطرہ ہے، مجھے یہ خطرہ نہیں ہے کہ تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ خطرہ ضرور ہے کہ کہیں تم اپنے اعمال کو کثیر نہ سمجھنے لگ جائو۔ “
Ayahs 33:6–20نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض چھوڑ کر مرے گا تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور اگر مال چھوڑ جائے گا تو اس کا مال اس کے ورثا کو مل جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ جس بات کی دوسروں کو دعوت دیتے ہیں ان کے مقابلہ میں حضور ﷺ کو اپنی بات اختیار کرلینے کا زیادہ حق ہے۔
ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کو یہ حق حاصل ہے کہ دوسروں پر ایسا حکم عائد کردیں جسے خود اپنی ذات پر عائد نہ کریں کیونکہ آپ کی اطاعت واجب ہے اور آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ پیوستہ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے سب سے پہلے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ بعد میں بیان ہونے والے معانی کی ضامن نہیں ہے اور نہ ہی اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آیت کے مفہوم کو صرف قرض کی ادائیگی کے دائرے تک محدود رکھا جائے۔ کیونکہ آیت میں گنجائش موجود ہے کہ ا س سے یہ مراد لی جائے کہ حضور ﷺ اہل ایمان کے ساتھ خودان کے نفس سے بھی اس لحاظ سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں کہ آپ انہیں جس بات کی دعوت دیں اسے وہ قبول کرلیں اور اس کے مقابلہ میں اس بات کو ترک کردیں جس کی دعوت یہ لوگ خود دیں۔
اسی طرح ان پر حکم عائد کرنے کا زیادہ حق حاصل ہے اور ان پر آپ کے حکم کی پیروی اور آپ کی اطاعت لازم ہے۔ اس ضمن میں حضور ﷺ نے مرنے والے ہر مقروض مومن کے قرض کی ذمہ داری اٹھانے کی بات بھی بتادی۔
حضور ﷺ کی بیویاں مسلمانوں کی روحانی مائیں ہیں
قول باری ہے (وازواجہ امھاتھم۔ اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں) اس کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے اول یہ کہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات تعظیم وتکریم اور جلالت قدر کے وجوب میں مسلمانوں کی اپنی مائوں کی طرح ہیں۔ دوم یہ کہ نکاح کی تحریم میں یہ مائوں کی طرح ہیں۔
یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ ازواج مطہرات ہر لحاظ سے مائوں کی طرح ہیں کیونکہ اگر بات اس طرح ہوتی تو کسی مسلمان کے لئے ان کی بیٹیوں سے نکاح جائز نہ ہوتا کیونکہ اس صورت میں وہ اس کی حقیقی بہنیں ہوتیں جبکہ حضور ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کا خود نکاح کرادیا تھا۔ اسی طرح اگر امہات المومنین حقیقی معنوں میں مائیں ہوتیں تو انہیں مسلمانوں کی وراثتوں میں حصہ بھی ضرور ملتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں۔ ” وھو اب لھم “ (اور آپ مسلمانوں کے باپ ہیں) اگر یہ درست تسلیم کرلیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ شفقت وتعلق نیز یہی خواہی وہمدردی کے لحاظ سے مسلمانوں کے لئے آپ کی ذات اقدس ایک شفیق باپ کی طرح تھی۔
جس طرح یہ قول باری ہے (لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رئوف رحیم بیشک تمہارے پاس ایک پیغمبر آئے ہیں تمہاری ہی جنس میں سے جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے وہ انہیں بہت گراں گزرتی ہے تمہاری بھلائی کے حریص ہیں، ایمان لانے والوں کے حق میں بڑے ہی شفیق ہیں، مہربان ہیں) ۔
جو مذہبی طور پر ولی نہ ہو وہ نسبی طور پر ولی ہوسکتا ہے
قول باری ہے (الا ان تفعلوا الی اولیاء کم معروفا۔ مگر ہاں تم اپنے دوستوں سے کچھ (سلوک) کرنا چاہو تو وہ جائز ہے) محمد بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول یہودی اور نصرانی کے لئے مسلمان کی وصیت کے جواز کے سلسلے میں ہوا ہے۔ حسن بصری نے اس کی تفسیر میں کہا ہے ” الا یہ کہ تم صلہ رحمی کرو۔ “
عطاء کا قول ہے ۔ اس سے مراد ایسے مسلمان اور کافر ہیں جن کے مابین قرابت داری ہو مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ کافر کو اپنی زندگی بھر کچھ نہ کچھ دیتا رہے اور مرتے وقت اس کے لئے وصیت کرجائے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے۔ انہیں معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں نقل کیا۔ الا یہ کہ تمہارا کوئی قرابت دار ہو جو تمہارا ہم مذہب نہ ہو اور تم اسے کے لئے کچھ وصیت کرجائو۔ وہ نسب کے لحاظ سے تمہارا دوست اور ولی ہوگا دین کے لحاظ سے تمہارا ولی نہیں ہوگا۔ “
Ayah 33:21رسول ﷺ بہترین نمونہ عمل ہیں
قول باری ہے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ تمہارے لئے اللہ کے رسول کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے) بعض حضرات نے اس آیت سے حضور ﷺ کے افعال میں آپ کے اسوہ پر چلنے کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ ان کے مخالفین بھی اس آیت سے آپ کے افعال کے ایجاب کی نفی پر استدلال کرتے ہیں۔
پہلے گروہ کا مسلک یہ ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنا آپ کی اقتدا کے ہم معنی ہے اور یہ آپ کے قول وفعل دونوں کے لئے عام ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی فرمادیا (لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ اس کے لئے جو اللہ اور یوم آخر سے ڈرتا ہو) یہ قول باری اس پر دال ہوگیا کہ آپ کے اسوہ پر چلنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی شرط قرار دیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (واتقوا اللہ ان کنتم مومنین۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو) اور اسی طرح کے الفاظ جنہیں ایمان کے ساتھ مقرون کردیا گیا ہے۔ یہ بات وجوب پر دلالت کرتی ہے۔
مخالفین کی استدلال یہ ہے کہ قول باری (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) ظاہری طور پر استحباب کا مقتضی ہے، ایجاب کا مقتضی نہیں ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (لکم) اس کی مثال قائل کا یہ قول ہے ۔” لک ان تصلی، لک ان تتصدق ۔ “ (تمہیں نماز پڑھنے کا) اختیار ہے تمہیں صدقہ دینے کا اختیار ہے۔ اس میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے بلکہ اس قول کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے اس کام کے کرلینے اور نہ کرنے کا اختیار ہے۔ ایجاب پر اس کی دلالت ہوتی اگر آپ کے الفاظ یہ ہوتے ” علیکم التاسی بالنبی ﷺ (تم پر حضور ﷺ کے اسوہ پر چلنا واجب ہے) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ آیت میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ بلکہ استحباب پر اس کی دلالت ایجاب پر دلالت کی بہ نسبت زیادہ واضح ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اسکے باوجود اگر آیت امر کے صیغہ کی صورت میں وارد ہوتی تو پھر بھی حضور ﷺ کے افعال میں وجوب پر اس کی دلالت نہ ہوتی اس لئے کہ آپ کے اسوہ پر چلنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کریں جس طرح آپ نے کیا اور اگر ہم کسی فعل کے اعتقاد یا اس کے مفہوم کے سلسلے میں آپ کے خلاف کریں گے تو یہ آپ کے اسوہ پر چلنا نہ ہوگا۔
آپ نہیں دیکھتے کہ حضور ﷺ نے اگر ایک عمل استحباب کی بنا پر کیا ہو اور ہم اسے وجوب کی بنا پر کرلیں تو ہم آپ ﷺ کے اسوہ پر چلنے والے قرار نہیں پائیں گے۔ اگر آپ نے کوئی عمل کیا ہو تو ہمارے لئے اس وقت تک وجوب کے اعتقاد کے ساتھ اسے اپنانا جائز نہیں ہوگا جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا۔
جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا تو ہم پر اس عمل کو اس علم کی وجہ سے کرنا واجب ہوگا آیت کی جہت سے واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ آیت میں تو وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے، ہم پر اس کا وجوب اس جہت سے ہوگا کہ دوسری آیات میں ہمیں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 33:22مومن کا ایمان آزمائشوں میں مزید پختہ ہوتا ہے
قول باری ہے (ولمارای المومنون الاحزاب قالوا ھذا ما وعد نا اللہ ورسولہ۔ اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہی وہ (موقع) ہے جس کی ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی)
ایک قول کے مطابق مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ جب مشرکین کے مقابلہ پر اتریں گے انہیں ان پر کامیابی حاصل ہوجائے گی اور وہ ان پر چھا جائیں گے ۔ جس طرح یہ قول باری ہے (لیظھرہ علی السلاین کلد تاکہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے) ۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو اس قول باری میں ان سے کیا گیا تھا (ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا مین قبلکم کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے جبکہ ابھی تمہارے پاس ان لوگوں کی مثال نہیں آئی ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں)
قول باری ہے (ومازادھم الا ایمانا وتسلیما۔ اور اس سے ان کے ایمان وطاعت میں ترقی ہی ہوئی) آزمائش کے موقعہ پر صحابہ کرام کی کیفیت کی اس آیت میں عکاسی کی گئی ہے۔ اس آزمائش کی گھڑی میں ان کا یقین اور پختہ ہوگیا اور ان کی بصیرت میں چمک پیدا ہوگی۔ اللہ پر ایمان رکھنے والے اصحاب بصیرت کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔
Ayahs 33:23–25نذر کو پورا کرنا چاہیے
قول باری (فمنھم من قضی نجہ ۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ) ایک قول کے مطابق نحب کے معنی نذر کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کے سلسلے میں انہوں نے جو نذر مانی تھی وہ نذر انہوں نے پوری کرلی۔ حسن کا قول ہے کہ (قضی نجہ) کے معنی ہیں کہ ان کی موت اسی عہد پر واقع ہوئی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ نجب، موت کو کہتے ہیں اور نجب ایک دن ایک رات تسلسل کے ساتھ چلنے کو بھی کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” انہوں نے اپنا عہد پورا کردیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ نحب کے نقط میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سے عہد اور نذر مراد لی جائے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اسے بعینہ پورا کرنے پر ان کی مدح سرائی کی ہے۔
اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ جو شخص کسی عبادت وقربت کی نذر مانے گا اس پر اسے بعینہ اس کا پورا کرنا واجب ہوگا۔ اس پر کفارہ یمین واجب نہیں ہوگا۔
Ayah 33:26اہل کتاب سے کیا سلوک کیا جائے ؟
قول باری ہے (وانزل الذین ظاھروھم من اھلی الکتاب من صیاصیھم اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا) ایک قول کے مطابق صباصی وہ قلعے تھے جن میں یہ اہل کتاب یعنی یہود مدینہ مورچہ بند تھے۔ صیصہ دراصل گانے کے سینگ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرتی ہے۔ مرغ کے خار کو بھی صیصہ کہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ذریعے اپنا دفاع کرتا ہے۔ اسی مفہوم کی بنا پر قلعوں کو صیاصی کہا گیا ہے۔
ایک روایت کے مطابق اس سے بنو قریضہ مراد ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے اپنے عہد کو توڑا کر مدینہ پر حملہ آور گروہوں کی مدد کی تھی ۔ جس کا قول ہے کہ اس بےبنو نضیر مراد ہیں۔
تاہم تمام راویوں کا اس پر اجماع ہے کہ یہ بنو قریظ تھے۔ ظاہر آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ قول باری (فریقا تقتلون وتاسرون فریقا۔ پھر تم ایک گروہ کو قتل کرنے لگے اور ایک گروہ کو قید کرلیا) حضور ﷺ نے بنو نضیر کو نہ تو قتل کرنے کا حکم دیا تھا نہ گرفتار کرنے کا بلکہ انہیں جلا وطن کردیا تھا۔
Ayah 33:27مفتوحہ زمینوں کے بارے میں فیصلہ
قول باری ہے (واورثکم ارضھم ودیارھم واموالھم وارضالم تطوھا اور تمہیں ان کی زین کا، ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی مالک بنادیا جس پر تم نے اب تک قدیم نہیں رکھتا تھا) یعنی بنو قریظہ کی سرزمین کا یا بنو نضیر کی سر زمین کا جیسا کہ بعض حضرات نے آیت سے بنو نضیر مراد لیا ہے۔
قول باری (وارضنا لم تطوھا) کی تفسیر میں حسن کا قول ہے کہ اس سے ارض فارس وروم مراد ہیں۔
قتادہ کے اقوال کے مطابق اس سے مراد ارض مکہ ہے۔ یزید بن رومان نے کہا ہے کہ یہ ارض خیبر ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کافروں کی جس سرزمین پر مسلمانوں کا غلبہ ہوجائے اور مسلمان بزور شمشیر اسے فتح کرلیں امام المسلمین اس سر زمین کو فاتحین کی ملکیت میں دے دے گا۔
امام کے لئے وہاں کے باشندوں کو اس سرزمین پر مالکانہ طور پر برقرار رہنے کی اجازت دینا جائز نہیں ہوگا کیونکہ ارشاد باری ہے (واورثکم ارضھم) حالانکہ ظاہر آیت اس سرزمین کے اصل باشندوں کی ملکیت کے ایجاب کا مقتضی ہے اس میں ان حضرات کے قول پر کوئی دلالت نہیں ہے اس لئے کہ قول باری (واورثکم) ط اوراً ملکیت کے ایجاب کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اس میں غالب آجانے فتحیاب ہوجانے اور قبضہ کرلینے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مفہوم اگر وجود میں آجائے گا لفظ کا استعمال درست ہوجائے گا۔
قول باری ہے (ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا ۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث بنادیا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں منتخب کرلیا تھا) یہاں ملکیت مراد نہیں ہے اگر یہ بات درست بھی ہوتی کہ اس سے ملکیت مراد لی جائے تو یہ بنو قریظہ کی سرزمین کے بارے میں ہوتی۔ اور اس کا تعلق قول باری (واورثکم ارضھم) سے ہوتا۔ لیکن قول باری (وارضا لم تغثوھا) صرف ایک سر زمین کا مقتضی ہے تمام سر زمینوں کا مقتضی نہیں ہے۔
اگر اس سے خیبر مراد ہے تو مسلمان اس کے مالک بن گئے تھے۔ اگر ارض فارس وروم مراد ہے تو مسلمان ان سر زمینوں کے بعض حصوں کے مالک ہوگئے تھے۔ اس طرح آیت کا مقتضیٰ وجود میں آگیا تھا اور اس میں یہ دلالت نہیں تھی کہ مسلمان تمام زمینوں کے مالک ہوجاتے۔ کیونکہ قول باری (و ارضا لم تطوھا) صرف ایک سر زمین کو شامل تھا اس لئے مخالف کے قول پر اس میں کوئی دلالت نہیں ہے۔
Ayahs 33:28–29حضور ﷺ نے اپنی ازواج کو اختیار دے دیا کہ چاہیں نکاح ہی میں رہیں یا طلاق لے لیں
قول باری ہے (یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا۔ اے نبی ﷺ ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی بہار کو مقصود رکھتی ہو) تاآخر آیت۔
ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع الجر جانی نے ، انہیں معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے، وہ فرماتی ہیں کہ جب آیت (وان کنتن تردن اللہ ورسولہ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو مقصود رکھتی ہو) نازل ہوئی تو حضور ﷺ سب سے پہلے میرے پاس آئے اور فرمایا : عائشہ ؓ ! میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اس کے متعلق جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ اپنے والدین سے مشوروہ کرلینا۔ “ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ کو یہ معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ ﷺ سے جدا ہوجانے کا کبھی مشورہ نہیں دیں گے۔
بہرحال حضور ﷺ نے اپنی بات مکمل کرکے (یایھا النبی قل لازواجک) تا اخر آیت مجھے سنائی۔ میں نے عرض کیا : میں کیوں اپنے والدین سے مشورہ لوں، میں تو اللہ ، اس کے رسول اور دار آخرت کو مقصود رکھتی ہوں۔ “
حسن بن ابی الربیع جرجانی کے علاوہ دوسرے راوی نے عبدالرزاق سے روایت کی ہے کہ معمر نے کہا مجھے ایوب نے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا۔” اللہ کے رسول ﷺ ! آپ اپنی بیویوں کو اختیار دیں گے تو میں آپ کی رفاقت اختیار کروں گی۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ تکلیف پہنچانے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اختیار دینے کا جو حکم مذکور ہے اس کے مفہوم کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تھا کیونکہ قول باری ہے (ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا) تا قول باری (وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والداء الاخرۃ) ۔
دوسرا حضرات کا قول ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ انہیں طلاق کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تھا اور شرط یہ تھی کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زیب وزینت کو پسند کرلیں تو گویا انہوں نے طلاق کا انتخاب کرلیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسر حکن سراحا جمیلا) اگر تم دنیوی زندگی اور اس کو بہار کو مقصود رکھتی ہو تو آئو میں تمہیں کچھ متاع دنیوی دے دلا کر خوبی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے دنیا اختیار کرنے کا طلاق اختیار کرنا قرار دیا۔
یہ حضرات اس پر اس روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جو مسروق نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کی ہے کہ جب ان سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا تھا تو انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حضور ﷺ نے اختیار دیا تھا ، کیا یہ اختیار طلاق کی صورت میں تبدیل ہوگیا تھا ؟ “ بعض طرق کے الفاظ یہ ہیں ” ہم نے حضور ﷺ کو اختیار کرلیا تھا۔ آپ نے اسے طلاق شمار نہیں کیا تھا۔ “
ان حضرات نے مزید کہا ہے کہ یہ بات ثابت نہیں کہ حضور ﷺ نے انہیں اس اختیار کے سوا اور کوئی اختیار دیا ہو جس کا آیت میں حکم دیا گیا تھا۔ اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب زیر بحث آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا : عائشہ ؓ ! میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اس کے متعلق جلد بازی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے اس بارے میں مشورہ کرلینا۔ “ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ کو یہ معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی کا کبھی مشورہ نہیں دیں گے۔
حضور ﷺ نے اپنی بات ختم کرکے آیت تلاوت کی۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے کہا : ” میں تو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دار آخرت کو مقصود رکھتی ہوں۔ “
ان حضرات کا کہنا ہے کہ اس روایت میں بھی کئی وجوہ سے اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ آپ نے انہیں دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا نیز طلاق لینے اور حضور ﷺ کے عقد میں باقی رہنے میں سے ایک کو پسند کرلینے کا اختیار دیا تھا۔ کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا تھا : اس معاملہ میں جلد بازی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرلینا۔ “ اور یہ بات تو واضح ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اختیار کرلینے کے لئے باہمی مشورے نہیں ہوتے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مشورہ طلب کرنے کے معاملہ طلاق لے لینے یا عقد نکاح میں باقی رہنے میں سے ایک کے انتخاب کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ پھر حضرت عائشہ ؓ کا یہ قول کہ ” اللہ کو علم تھا کہ میرے ماں باپ مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کرنے کا کبھی مشورہو نہیں دیں گے۔ “ نیز یہ قول کہ ” میں اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دار آخرت کو مقصود رکھتی ہوں۔ “
یہ تمام باتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آیت طلاق اور نکاح کے درمیان تخییر کی مقتضی ہے جن حضرات کے نزدیک آیت میں طلاق کی تخییر نہیں ہے وہ قول باری (ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحا جمیلا) سے استدلال کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے نبی کو صرف انہیں طلاق دینے کا حکم دیا ہے بشرطیکہ وہ دنیا کا انتخاب کرلیں۔ لیکن یہ بات دنیا کے انتخاب کی صورت میں ان پر وقوع طلاق کی موجب نہیں ہے جس طرح مثلاً کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے ” اگر تو فلاں چیز کا انتخاب کرلے تو تجھے طلاق “ اس کی مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ بیوی جب اس چیز کا انتخاب کرلے گی تو وہ نئے سرے سے اسے طلاق دے گا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت لامحالہ حضور ﷺ سے علیحدگی اور آپ کے عقد میں رہنے کے درمیان تخییر کی مقتضی ہے کیونکہ قول باری (وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاخرۃ) اس پر دلالت کررہا ہے کہ قول باری (ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا) میں ان کے لئے حضور ﷺ سے علیحدگی اختیار کرنے کی بات بھی پوشیدہ تھی۔ کیونکہ مذکورہ بالا پہلی آیت میں جس اختیار کر ذکر ہے اس سے حضور ﷺ کی رفاقت اور دارآخرت کو اختیار کرنا مراد ہے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سلسلہ تلاوت میں پہلی دفعہ جس اختیار کا ذکر ہے وہ حضور ﷺ سے علیحدگی کا اختیار تھا۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (فتعالین امتعکن) اور ظاہر ہے کہ بیوی کو متعہ کی صورت میں نقد وجنس اسی صورت میں دی جاتی ہے جب وہ طلاق کا انتخاب کرلے اور مطلقہ بن جائے۔
قول باری (واسرحکن) سے طلاق کے بعد انہیں ان کے گھروں سے رخصت کردینا مراد ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (اذا نکحتم المومنات ثم طلقتموھن۔ جب تم مومنات سے نکاح کرو اور پھر انہیں طلاق دے دو ) تاقول باری (سراجاً جمیلا۔ اچھی طرح رخصت کردو) یہاں طلاق کے بعد متعہ دینے کا ذکر ہوا اور تشریح کے لفظ سے انہیں اچھی طرح گھر سے رخصت کرنا مرا د لیا گیا ہے۔
کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے کر میرے نکاح میں رہنا ہے یا نہیں،
تو کیا طلاق واقع ہوگی ؟
ایک شخص اگر اپنی بیوی کو اختیار دے دیتا ہے تو اس مسئلے میں سلف کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ اگر عورت نے شوہر کا انتخاب کرلیا یعنی اس کے عقد میں رہنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس پر ایک رجعی طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر شوہر کے مقابلہ میں اپنی ذات کا انتخاب کرلیا تو ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔ حضرت علی ؓ سے زادان نے یہی روایت کی ہے۔
ابوجعفر نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ پہلی صورت میں اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور دوسری صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔
حضرت عمر ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ کا قول ہے کہ اگر شوہر بیوی کو اختیار دے دے اور اس سے کہے کہ ” امرک بیدک “ (اب تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے) اگر وہ اپنی ذات کا انتخاب کرے گی تو اس پر ایک رجعی طلاق واقع ہوگی اور اگر شوہر کا انتخاب کرے گی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نے خیار کے مسئلے میں فرمایا کہ اگر وہ شوہر کا انتخاب کرے گی تو اس پر کوئی طلاق نہیں ہوگی لیکن اگر وہ اپنی ذات کا انتخاب کرے گی تو اس پر تین طلاق واقع ہوجائے گی۔ اگر شوہر نے اسے ” امرک بیدک “ کہا ہو اور اس نے اپنی ذات کا انتخاب کرلیا ہو تو اس صورت میں اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔
اس مسئلے میں فقہاء امصار کے مابین بھی اختلاف رائے ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف امام محمد اور امام زفر کا قول ہے کہ اگر وہ شوہر کو اختیار کرلے گی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر اپنی ذات کا انتخاب کرے گی تو ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ شوہر نے تخییر کے اندر طلاق کا ارادہ کیا ہو۔
تاہم تین طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ شوہر اس تعداد کا ارادہ کیوں نہ کرچکا ہو۔ ان حضرات نے ” امرک بیدک “ کی صورت میں بھی یہی کہا ہے البتہ اس صورت میں اگر شوہر تین طلاق کا ارادہ کرے گا تو بیوی پر تین طلاق واقع ہوجائے گی۔
ابن ابی لیلیٰ ، سفیان ثوری اوزاعی کا قول ہے کہ خیار کی صورت ہیں اگر وہ اپنے شوہر کو اختیار کرے گی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر اپنی ذات کا انتخاب کرے گی تو اس پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی اور شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہوگا۔
امام مالک کا قول ہے کہ خیار کی صورت میں اگر عورت اپنی ذات کا انتخاب کرلیتی ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر وہ اپنی ذات کو ایک طلاق دے گی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ امام مالک نے ” امرک بیدک “ کی صورت میں کہا ہے کہ اگر عورت یہ کہے کہ میرا ارادہ ایک طلاق کا ہے تو اس پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی تاہم شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار باقی رہے گا لیکن خیار کی صورت میں اگر شوہر کہے کہ اس نے صرف، ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس کے اس قول کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ اگر شوہر نے یہ کہا ہو۔ ” اختاری تطلیقۃ “ (ایک طلاق کا انتخاب کرلو) پھر عورت نے طلاق دے دی ہو تو یہ ایک طلاق رجعی ہوگی۔
لیث بن سعد نے خیار کی صورت کے متعلق کہا ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کو اختیار کرے تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر اپنی ذات کا انتخاب کرلے تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
امام شافعی نے ” اختادی “ نیز ” امرک بیدک “ کی صورت میں کہا ہے کہ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی الا یہ کہ شوہر اس سے طلاق کا ارادہ کرچکا ہو۔ اگر شوہر نے طلاق کا ارادہ کیا ہو اور بیوی کہے کہ میں نے اپنی ذات کا انتخاب کرلیا ہے یہ کہتے ہوئے بیوی بھی اگر طلاق کا ارادہ کرے گی تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر بیوی طلاق کا ارادہ نہیں کرے گی تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ تخییر فی نفسہٖ طلاق نہیں ہے نہ صریحاً نہ کنایۃً ۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ تخییر کی صورت میں تین طلاقیں واقع نہیں ہوتیں خواہ شوہر نے ان کا ارادہ کیوں نہ کیا ہو۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا تھا سب نے آپ کی ذات کو اختیار کرلیا لیکن یہ اختیار طلاق نہیں کہلایا۔ نیز خیار صرف طلاق کے ساتھ خاص نہیں ہوتا اس میں دوسری باتیں بھی شامل ہوتی ہیں اس لئے خیار طلاق پر دلالت نہیں کرتی۔
مخالفین کے نزدیک اس کی حیثیت اس فقرے جیسی نہیں ہے جو شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے یعنی ” اعتدی “ (تو عدت گزار) اس فقرے سے اگر شوہر طلاق کا ارادہ کرتا ہے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے کیونکہ عدت طلاق کی بنا پر واجب ہوتی ہے اس لئے اس لفظ میں طلاق پر دلالت موجود ہے۔
فقہاء نے خیار کو بالاتفاق اس وقت طلاق قرار دیا ہے جب عورت اپنی ذات کا انتخاب کرے ۔
فقہاء کے اتفاق کے علاوہ اس کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضور ﷺ نے جب ازواج مطہرات کو اختیار دیا تھا تو سب جانتے ہیں کہ یہ اختیار علیحدگی اختیار کرنے اور عقد نکاح میں باقی رہنے کے درمیان تھا۔ اگر اس صورت میں ازواج مطہرات اپنی ذات کا انتخاب کرلیتیں تو علیحدگی واقع ہوجاتی۔ اگر اپنی ذات کا انتخاب کرلینے کے بعد بھی علیحدگی واقع نہ ہوتی تو تخییر بےمعنی ہوتی۔
نکاح کے اندر پیدا ہونے والے خیار کی تمام صورتوں مثلاً نامرد اور محبوب (مقطوع الذکر) کی بیویوں کے خیار کے ساتھ درج بالا خیار کو تشبیہ دے کر یہ مسئلہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر اس خیار میں عورت اپنی ذات کا انتخاب کرلے تو علیحدگی واقع ہوجائے گی۔ اسی بنا پر اس خیار کے نتیجے میں فقہاء کے نزدیک تین طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ اصول کے اندر پیدا ہونے والے خیار کی صورتوں میں تین طلاق واقع نہیں ہوتی۔
فصل
نا ونفقہ مہیا نہ کر سکنا اس زمرے میں نہیں آتا
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بعض حضرات اس آیت سے ایجاب خیار اور اس عورت کی علیحدگی پر استدلال کرتے ہیں جس کا شوہر نان ونفقہ دینے سے عاجز ہوگیا ہو کیونکہ حضور ﷺ کو جب دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا اور آپ نے آخرت اور فقر کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی بیویوں کی تخییر کا حکم دیا۔
چنانچہ ارشاد ہوا (یایھا النبی قل لا زواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا) تا آخر آیت۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان حضرات نے آیت سے جو استدلال کیا ہے اس پر آیت کی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ازواج مطہرات سے علیحدگی کا جو اختیار دیا تھا وہ اس شرط پر معلق رکھا گیا تھا کہ ازواج مطہرات دنیاوی زندگی اور اس کی بہار کا انتخاب کرلیں۔
اب یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہماری عورتوں میں اگر کوئی دنیاوی زندگی اور اس کی بہار کا انتخاب کرلے تو یہ بات اس کے شوہر سے اس کی علیحدگی کی موجب نہیں بنتی۔ جب وہ سبب جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور تخییر کو واجب کردیا تھا۔ حضور ﷺ کے سوا دوسرے شوہروں کی بیویوں میں تخییر کا موجب نہیں ہے تو اس صورت میں یہ سبب ایک عورت اور اس کے نان ونفقہ دینے سے عاجز شوہر کے درمیان تفریق پر دلالت نہیں کرے گا۔
نیزحضور ﷺ کا دنیا کی بجائے آخرت اور دولتمندی کی بجائے فقر کو اختیار کرلینے سے یہ بات واجب نہیں ہوتی کہ آپ زاواج مطہرات کے نان ونفقہ سے عاجز تھے کیونکہ ایک شخص فقیر ہونے کے باوجود اپنی بیویوں کے نان ونفقہ پر قدرت رکھتا ہے۔ کسی اہل علم نے یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس قسم کی کوئی روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ ازواج مطہرات کوئی نان ونفقہ مہیا کرنے سے عاجز تھے۔
اس کے برعکس یہ روایات موجود ہیں کہ آپ ازواج مطہرات کے لئے سال بھر کی خوراک کا ذخیرہ کرلیتے تھے۔ اس لئے جس شخص نے بھی اپنے مذکورہ قول پر اس آیت سے استدلال کیا ہے وہ دراصل آیت کے حکم سے ہی ناواقف ہے۔
Ayahs 33:30–31مرتبہ کے لحاظ سے جزاوسزا ہے
قول باری ہے (یا نساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین) اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اسے دہری سزا دی جائے گی۔
دہری سزا دینے کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازواج مطہرات پر دوسری عورتوں کی بہ نسبت اللہ کا زیادہ فضل و انعام تھا، انہیں حضور ﷺ کی بیویاں ہونے کا شرف حاصل تھا، ان کے گھروں میں نزول وحی کا سلسلہ رہتا تھا اور اس کی بنا پر انہیں ایک فضیلت حاصل تھی۔
اس صورت حال کے تحت اگر ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کا اظہار ہوتا تو یہ بات ان کی سزا کی تضعیف کا سبب بن جاتی۔ اس لئے کہ نعمت جس قدر عظیم ہوتی ہے اس کی ناشکری بھی اتنی ہی سنگین ہوتی ہے اور اس بنا پر یہ ناشکرا شخص اتنی ہی زیادہ سزا کا مستحق قرار پاتا ہے، کیونکہ سزا کا استحقان کفر ان نعمت کی سنگینی پر مترتب ہوتا ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو طمانچہ ماردیتا ہے تو اس صورت میں جس سزا کا وہ مستحق بن جاتا ہے وہ اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے جو اسے کسی اجنبی کو طمانچہ مارنے کی صورت میں ملتی ہے اس لئے کہ اس پر اجنبی کے مقابلہ میں اس کے باپ کا احسان زیادہ ہوتا ہے اس لئے اس احسان ناشناسی کی سزا بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔
آیت کی اس تاویل پر سلسلہ تلاوت میں یہ قول باری دلالت کرتا ہے (واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ۔ اور تم اللہ کی ان آیتوں اور اس علم کو یادرکھو جو تمہارے گھروں میں پڑھ کر سنائے جاتے رہتے ہیں) یہ بات اس پر دلالت کتری ہے کہ معصیت کی بنا پر ان کی سزا میں تضعیف کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھروں میں اللہ کی آیات کی تلاوت ہوتی رہتی ہے جو ان پر اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی بنا پر ان کی طاعات کا درجہ بھی بہت بلند ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے (ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا نو تھا اجرھا مرتین) اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل صالح کرتی رہے گی ہم اس کا اجر دہرادیں گے) اس لئے کہ طاعت کی بنا پر اجر کا استحقاق معصیت کی بنا پر سزا کے استحقاق کے بالمقابل ہوتا ہے۔
دہری سزا دینے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ازواج مطہرات کی طرف سے معصیت کے ارتکاب کی صورت میں حضور ﷺ کو اذیت ہوتی کیونکہ یہ چیز آپ کی بدنامی اور رنج وغم کا سبب بن جاتی۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ حضور ﷺ کو تکلیف پہنچانے کا جرم دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے جرم سے زیادہ سنگین ہوتی ہے۔
ارشاد باری ہے (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے رہتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ لعنت کرتا ہے) پھر ارشاد ہوا (والذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو وہ بہتان اور صریح گناہ کا بار اپنے اوپر لیتے ہیں)
جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کی طاعات کا درجہ بلند کرکے ان کے لئے دہرا اجر واجب کردیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اہل علم عامل کا اجر ، غیر اہل علم، عامل کے اجر سے افضل واعظم ہوگا۔ قول باری (واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ) کی اس پر دلالت ہورہی ہے۔
Ayah 33:32خواتین غیر محرموں سے لچکدار گفتگو نہ کریں
قول باری ہے (فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ تو تم گفتگو میں نزاکت اختیار نہ کرو کہ اس سے ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایسی لچک پیدا نہ کریں جو کسی بدقماش انسان کے لئے ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کا سبب نہ بن جائے۔
اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ گفتگو میں ایسا نرم لہجہ اختیار نہ کریں جس کی بنا پر کوئی بدچلن انسان ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کو اپنے دل میں جگہ دے کر ان کے اس نرم لہجہ کو اپنی طرف ان کے میلان کی دلیل بنالے۔
اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ عورت کے لئے احسن طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی آواز اتنی بلند نہ کرے کہ وہ اجنبی مردوں کے کانوں تک پہنچ جائے۔
اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ عورت کو اذان دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔
ایک اور آیت میں ارشاد باری ہے (ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن اور عورتیں اپنے پیر، زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے) جب عورت کو پازیب کی جھنکار کی آواز اجنبی مردوں کو سنانے سے روک دیا گیا ہے تو خود اس کی آواز ، خاص طور پر جب کہ وہ جوان ہو اور اس کی وجہ سے فتنے کا خطرہ ہو، اس نہی کی زیادہ حقدار ہوگی۔
Ayahs 33:33–35عورتوں کا وقار گھر کا قرار ہے
قول باری ہے (وقرن فی بیوتکن اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو) ہشام نے محمد بن سیرین سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ سے کہا گیا کہ آپ بھی اپنی بہنوں کی طرح باہر نکلا کریں۔ انہوں نے جواب میں فرمایا : ” بخدا ! میں نے حج اور عمرہ کیا پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر میں قرار پکڑنے کا حکم دے دیا، خدا کی قسم، اب میں اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھوں گی۔ “ چناچہ انہوں نے گھر سے کبھی قدم باہر نہیں نکالا حتیٰ کہ اس گھر سے ان کا جنازہ ہی نکلا۔
ایک قول کے مطابق (وقرن فی بیو تکن) کا مفہوم یہ ہے کہ وقار وتمکنت اور سکون واطمینان سے اپنے گھروں میں رہو۔ جب ایک شخص اپنے گھر میں سکون واطمیان سے رہتا ہو تو کہا جاتا ہے۔
آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم ہے اور انہیں باہر نکلنے سے منع کردیا گیا ہے۔
خواتین نازوادا اور اظہار زینت کے لئے گھر سے نہ نکلیں
قول باری ہے (ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیٰ ۔ اور جاہلیت ، قدیم کے مطابق اپنے کو دکھاتی نہ پھرو) ابن ابی نجیح نے مجاہد سے اس کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ عورت مردوں کے سامنے چلا پھرا کرتی تھی یہی تبرج جاہلیت کی صورت تھی۔ سعید نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ جب تم اپنے گھروں سے نکلو۔
قتادہ کہتے ہیں کہ عورتیں جب گھروں سے باہر قدم رکھتیں تو ان کی چال کا ایک خاص انداز ہوتا جس سے نازونخرہ ٹپکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو ایسی چال اختیار کرنے سے منع فرمادیا۔ ایک قول کے مطابق تبرج جاہلیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں غیر مردوں کے سامنے اپنے حسن وجمال اور فطری محاسن کا اظہار کریں۔
ایک قول ہے کہ جاہلیت اولیٰ سے ماقبل اسلام کا زمانہ مراد ہے اور جاہلیت ثانیہ سے اس شخص کی حالت مراد ہے جو زمانہ اسلام میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں جیسا رویہ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو ان باتوں کی تعلیم دی تاکہ وہ ہر طرح محفوظ ہوکر زندگی گزاریں۔ مسلمانوں کی عورتیں بھی اس تعلیم میں شامل ہیں۔
آیت زیر بحث اہل بیت اور ازواج مطہرات دونوں پر محیط ہے
قول باری ہے (انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت۔ اے نبی کے گھر والو ! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے آلودگی کو دور رکھے) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ ، حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کے بارے میں ہوا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس کا نزول ازواج مطہرات کے بارے میں ہے۔ اس قول کی دلیل یہ ہے کہ آیت کی ابتداء اور سلسلہ بیان کا تعلق ازواج مطہرات کے ساتھ ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (” واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحمۃ “ ) بعض حضرات کا قول ہے کہ آیت کا نزول حضور ﷺ کے اہل بیت اور ازواج مطہرات دونوں کے بارے میں ہے کیونکہ لفظ میں ان سب کا احتمال موجود ہے۔
Ayah 33:36اللہ اور رسول کا حکم ماننا واجب ہے
قول باری ہے (وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا اقضی اللہ ورسولہ امر ا ان لیکون لھم الخیرۃ من امرھم) کسی مومن یا مومنہ کے لئے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔
اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے اوامروجوب پر محمول ہوتے ہیں اس لئے کہ آیت میں اس بات کی نفی کردی گئی ہے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کو ترک کرنے کا کوئی اختیار ہوتا ہے۔
اگر یہ اوامروجوب پر محمول نہ ہوتے تو ہمیں ان کو ترک کرنے اور ان پر عمل کرنے کا اختیار ہوتا جبکہ آیت نے اس اختیار کی نفی کردی ہے۔
خدا اور رسول کے حکم اختیاری نہیں ہیں
قول باری ہے (ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلا لا مبینا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑے گا) اوامر کے ذکر کے سلسلہ میں اس آیت کا ورود بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کو ترک کرنے کا اختیار نہیں ہے، نیز یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کا تارک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہے۔
پوری آیت اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کے وجوب پر دو طرح سے دلالت کررہی ہے اول یہ کہ آیت نے اللہ اور اس کے رسول کے اوامر میں تخییر کی نفی کردی اور دوم یہ کہ امر کا تارک اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔