Ayah 33:52قول باری ہے (لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ ان عورتوں کے بعد آپ کے لئے کوئی جائز نہیں اور نہ یہی کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری کرلیں) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ ان خواتین کے بعد جن کا اوپر ذکر ہوا ہے کسی سے نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہو یا یہود یہ یا نصرانیہ یا کافرہ۔
مجاہد سے قول باری (الا ما ملکت یمینک۔ مگر ہاں بجز ان کے جو آپ کی لونڈیاں ہوں) کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہودیہ یا نصرانیہ لونڈی سے ہم بستری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سعید نے قتادہ سے قول باری (لا یحل لک النساء ولا ان تبدل بھن من ازواج) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انتخاب کرلیا تو اس نے حضور ﷺ کو ان پر انحصار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ نو ازواج مطہرات تھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول نیز دار آخرت کو منتخب کرلیا تھا ۔ حسن کا بھی یہی قول ہے۔
اس روایت کے علاوہ ایک اور روایت بھی ہے جسے اسرائیل نے سدی سے ، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے قول باری (لا یحل لک النساء) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اگر حضور ﷺ ان سب کو طلاق دے دیتے تو اس صورت میں آپ کے لئے دوسری عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہ ہوتا۔ اس آیت کے نزول کے بعد بھی آپ نے نکاح کیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت آپ کے عقد میں نو ازواج تھیں۔ پھر آپ نے حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان اور جویریہ بنت الحارث سے نکاح کیا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر ان خواتین کے سوا جو نزول آیت کے وقت آپ کے عقد میں تھیں تمام دوسری خواتین حرام کردی گئی تھیں۔ ابن جریج نے عطاء سے، انہوں نے عبید بن عمبر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال تک آپ کے لئے عورتوں سے نکاح حلال رہا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ روایت اس بات کی موجب ہے کہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو اس آیت کے نسخ کی موجب ہو اس لئے اس کا نسخ سنت کی بناء پر عمل میں آیا ہے۔
اس میں سنت کی بنا پر قرآن کے نسخ کی دلیل موجود ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (لا یحل لک النساء من بعد) خیر کی صورت میں ہے اور خبر کے لئے اس بات کا جواز نہیں ہوتا کہ اس کے مجہرا کے سلسلے اسے منسوخ تسلیم کیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگرچہ یہ خبر کی صورت میں ہے لیکن معنی کے لحاظ سے یہ نہی ہے اور نہی پر نسخ وارد ہونا جائز ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت اس فقرے جیسی ہے۔ (لاتنزوج بعد ھن النساء ۔ ان ازواج کے بعد آپ دیگر عورتوں سے نکاح نہ کیجئے) اس لئے اس کا نسخ جائز ہے۔
قول باری ہے (ولواعجبک حسنھن ۔ خواہ ان کے حسن آپ کو بھلا ہی کیوں نہ لگے) یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجنبی عورت کے چہرے پر نظر ڈالنے کا جواز ہے۔ کیونکہ حسن کا بھلا لگنا اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب اس کے چہرے پر نظر ڈال لی جائے۔
Ayahs 33:53–54عورتوں کو پردہ کرنے کے حکم کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر ناظرین اناہ۔ اے ایمان لانے والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو بجز اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے اور (وہاں جاکر) اس کی تیاری کے منتظر نہ ہو) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ابوعثمان سے، ان کا نام جعد بن دینار ہے، اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے جب حضرت زینب ؓ سے عقد کیا تو حضرت ام سلیم ؓ نے نے پتھر کے ایک چھوٹے سے برتن میں آپ کے لئے ہدیہ کے طور پر حلوہ بھیجا۔ حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ باہر جاکر جو مسلمان بھی تمہیں ملے اسے میرے گھر بھیج دو ۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ لوگ آتے رہے اور کھانے کے بعد باہر چلے جاتے رہے۔ حضور ﷺ نے اس پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی تھی اور اللہ نے جو کچھ چاہا تھا آپ ﷺ نے اس پر پڑھا تھا۔ اس دن مجھے بھیجو ملتا گیا میں اسے حضور ﷺ کے گھر بھیجتا گیا جتنے لوگ آئے تھے سب نے سیر ہوکر کھایا تھا۔ آنے والے لوگوں میں سے کچھ لوگ وہیں ٹھہر گئے اور حضور ﷺ کے ساتھ دیر تک باتیں کرتے رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
بشربن المفضل نے حمید الطویل سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے حضرت زینب ؓ کے ساتھ شب عروسی گزارنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ ولیمہ کا انتظام تھا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ شب عروسی کی جب صبح ہوتی تو امہات المومنین کے حجروں سر پے آپ گزرتے انہیں سلام کہتے وہ بھی جواب میں سلام کہتیں۔ آپ ان کے لئے دعا کرتے وہ بھی آپ کے لئے دعا کرتیں۔ ولیمہ کھا کر لوگ جب فارغ ہوگئے اور اپنے اپنے گھر کی طرف واپس ہونے لگے تو گھر کے کونے سے آپ کی نظر دو آدمیوں پر پڑی جو کسی بحث میں مصروف تھے، اس وقت میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ یہ دیکھ کر آپ واپس مڑنے لگے جب ان دونوں نے آپ کو واپس جاتے ہوئے دیکھا تو فوراً اٹھ کر گھر سے نکل گئے۔ جب آپ کو ان کے چلے جانے کی اطلاع مل گئی تو آپ واپس ہوکر گھر میں داخل ہوگئے اور پردے لٹکا لیے اور پھر پردے کی آیت نازل ہوئی۔
حماد بن زید نے اسلم العلوی سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب پردے کی آیت نازل ہوئی تو میں آپ کے گھر پر آیا اور حسب معمول گھر کے اندر جانے لگا۔ اتنے میں آپ نے آواز دی۔ “ انس پیچھے جائو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت میں کئی احکام موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ اجازت کے بغیر حضور ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت نیز یہ کہ جب انہیں کھانے کے لئے بلایا جائے تو وہاں پہلے سے پہنچ کر کھانا تیار ہونے کے انتظار میں بیٹھے نہ رہیں۔ پھر جب کھانے سے فارغ ہوجائیں تو وہاں بیٹھ کر باتوں کا سلسلہ نہ شروع کردیں۔
مجاہد سے (غیر ناظرین اناہ) کی تفسیر میں منقول ہے کہ کھانا تیار ہونے کے وقت کے انتظار میں نہ رہیں۔ اور کھانے سے فراغت کے بعد گفتگو کا کوئی سلسلہ نہ شروع کریں۔ ضحاک کا قول ہے کہ آیت میں (اناہ) کے معنی کھانا تیار ہوجانے کے ہیں۔
قول باری ہے (واذا سالتموھن متاعا فاسئلو ھن من وراء حجاب اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو) یہ آیت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات پر نظر ڈالنے کی ممانعت پر مشتمل ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یہ چیز ان کے دلوں کے لئے نیز ازواج مطہرات کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ کیونکہ نظر پڑنے سے بعض دفعہ میلان اور شہوت کا خدشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر پردہ کا حکم واجب کرکے اس چیز کی جڑ کاٹ دی۔
قول باری ہے (وما کان لکم ان توذوا رسول اللہ ولا ان تنکحو ازواجۃ من بعدہ ابدا اور تمہیں یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو کسی طرح بھی تکلیف پہنچائو اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو)
اس سے مراد وہ احکامات ہیں جو آیت میں بیان کیے گئے ہیں کہ حضور ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، کھانا کھانے کے بعد وہاں بیٹھ کر گفتگو کو طوالت دینے کی ممانعت ہے۔ نیز ازواج مطہرات اور لوگوں کے درمیان پر وہ ضروری ہے۔ اس حکم کا نزول اگرچہ حضور ﷺ اور ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے جو آپ کے ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی شامل ہے کیونکہ آپ کی اتباع اور اقتداء کا حکم دیا گیا ہے الا یہ کہ کسی حکم کا تعلق صرف آپ کی ذات کے ساتھ ہوا اور اس حکم میں امت کو شریک نہ کیا گیا ہو۔
معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے یہ کہا تھا کہ جب حضور ﷺ کا انتقال ہوجائے گا تو میں حضرت عائشہ ؓ سے نکاح کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ نے جو بات بیان کی ہے وہ بھی آیت کے مضمون کا ایک پہلو ہے عیسیٰ بن یونس نے ابواسحق سے، انہوں نے صلۃ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ اگر تمہیں یہ بات پسندہو کہ جنت میں بھی میری بیوی رہو تو وہاں بھی ہم ایک ہی مکان میں رہیں تو میرے مرنے کے بعد کسی سے نکاح نہ کرنا کیونکہ عورت اپنے آخری خاوند کے ساتھ ہوگی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی ازواج پر آپ کے بعد نکاح کرنا حرام کردیا ہے۔
حمید الطویل نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ ایک عورت کے بعض دفعہ دو خاوند ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد سب جنت میں چلے جاتے ہیں۔ اس صورت میں یہ عورت کسی خاوند کو ملے گی۔ آپ نے جواب دیا۔” ام حبیبہ ! اس خاوند کو جس نے دنیا میں اس کے ساتھ حسن معاشرت کا زیادہ مظاہرہ کیا تھا اور اسی کے ساتھ زیادہ خوش خلقی سے پیش آیا تھا۔ یہ عورت اس کی بیوی بنے گی۔ ام حبیبہ ! ایسا شخص اپنے حسن اخلاق کی بنا پر دنیا اور آخرت کی بھلائیاں سمیٹ لے جائے گا۔ “
Ayah 33:55قول باری ہے (لا جناح علیھن فی ابآء ھن ولا ابنآئھن ان (رسول کی ازواج) پر کوئی گناہ نہیں (سامنے آنے میں) اپنے باپوں کے ، اپنے بیٹوں کے) تاآخر آیت ۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت مذکورہ افراد سے ازواج مطہرات کو کنار کش نہ رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے محرم رشتہ داروں اور ملنے جلنے والی خواتین کا ذکر کیا ہے۔ ان خواتین سے ۔ واللہ اعلم۔ آزاد عورتیں مراد ہیں (ولا ماملکت ایمانھن۔ اور نہ اپنی لونڈیوں کے) اس سے لونڈیاں مراد ہیں۔ کیونکہ عورتوں پر نظر ڈالنے کی اباحت کی جو صورتیں ہیں ان میں غلام اور لونڈی دونوں کا حکم یکساں ہے۔
Ayah 33:56صلوٰۃ کا مفہوم نسبت کے لحاظ سے ہے
قول باری ہے (ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین امنوا صلا علیہ وسلم وا تسلیما۔ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو) اللہ کی طرف سے صلاۃ کے معنی رحمت کے ہیں اور بندوں کی طرف سے دعا کے ہیں۔ اس پر پہلے بھی روشنی ڈالی جاچکی ہے۔
ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر صلاۃ بھیجتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے آپ کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس قول سے ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ پر رحمت بھیج رہا ہے اور ان پر اپنی نعمت تمام کررہا ہے۔ فرشتوں کے سامنے اللہ کی طرف سے آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کا یہی مفہوم ہے۔
حسن سے قول باری (ھوالذی یصلی علیکم وملائکتہ) کی تفسیر میں مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا تھا کہ آیا تمہارا رب نماز پڑھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سوال سے بڑا دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی بھیج کر یہ حکم دیا کہ ان سے کہہ دو کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور یہ ہی نماز میری وہ رحمت ہے جو میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔
درود کا وجوب
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما) آیت حضور ﷺ پر درود بھیجنے پر متضمن ہے۔ ظاہر آیت وجوب کا مقتضی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فرض ہے۔ ایک دفعہ جب انسان نماز یا غیر نماز میں اس کی ادائیگی کرلے گا تو فرض ادا ہوجائے گا۔
اس کی مثال کلمہ توحید اور حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق جیسی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی میں ایک دفعہ ان کی ادائیگی کرے تو فرض ادا ہوجائے گا۔ امام شافعی کا خیال ہے کہ نماز میں حضور ﷺ پر درود بھیجنا فرض ہے۔
تاہم جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے امام شافعی سے پہلے کسی اہل علم نے یہ بات نہیں کہی امام شافعی کی یہ بات ان آثار وروایات کے خلاف بھی ہے جو حضور ﷺ سے نماز میں درود پڑھنے کے سلسلے میں منقول ہیں۔
ایک روایت حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں تشہید کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا تھا (اذا فعلت ھذا وقلت ھذا فقد تمت صلوتک ۔ جب تم یہ کرلو یا یہ کہہ لو تو تمہاری نماز مکمل ہوجائے گی) آپ نے مزید فرمایا تھا (فان شئت ان تقوم فقم ۔ پھر اگر تم قیام کرنا چاہو تو قیام کرلو) پھر آپ نے فرمایا (ثم اختر من اطیب الکلام ماشئت۔ پھر پاکیزہ ترین کلام میں سے جو پڑھنا چاہو اس کا انتخاب کرلو)
حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (اذارفع الرجل راسہ من اخر سجدۃ وقعد فاحدث قبل ان یسلم فقد تمت صلوٰۃ۔ جب نمازی آخری سجدے سے اپنا سر اٹھا کر قعدہ کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو اس کی نماز مکمل ہوجائے گی۔ )
معاویہ بن الحلم السلمی نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان صلوتنا ھذہ لا یصلح شیء من کلام الناس انماھی التسبیح والتھلیل وقراۃ القران ۔ ہماری یہ نماز ایسی ہے کہ اس میں کلام الناس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں تو تسبیح وتہلیل اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے) اس روایت میں آپ نے درود کا ذکر نہیں کیا۔ ہم نے مختصر الطحاوی میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
قول باری ہے (وسلموا تسلیما) اس سے امام شافعی کے اصحاب نماز کے آخر میں سلام پڑھنے کی فرضیت پر استدلال کرتے ہیں۔ لیکن آیت میں ان کے قول پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں صلوٰۃ کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے متعلق بھی وہی حکم ہے جو آپ پر درود بھیجنے کے متعلق ہم نے بیان کیا ہے۔ امام شافعی کے اصحاب آیت سے تشہد کی فرضیت پر بھی استدلال کرتے ہیں کیونکہ نماز کے اندر حضور ﷺ پر سلام بھیجاجاتا ہے۔ لیکن ان کے اس مسلک پر بھی آیت میں کوئی دلالت نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں حضور ﷺ پر سلام بھیجنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
بلکہ یہاں یہ احتمال ہے اللہ تعالیٰ نے اس فقرے سے حضور ﷺ پر درود بھیجنے کے امر کی تاکید کا ارادہ فرمایا یعنی لوگ درود کے سلسلے میں اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیں جس طرح یہ قول باری ہے (ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجامما قضیت ویسلموا تسلیما۔ پھر وہ آپ کے فیصلے سے اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح اسے تسلیم کرلیں) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے نام کا ذکر کیا ہے اور اپنے نبی ﷺ کا ذکر کیا ہے لیکن اپنی ذات کا ذکر حضور ﷺ کے ذکر سے الگ کرکے کیا ہے اور ایک کنایہ کے تحت دونوں اسموں کا اکٹھا نہیں کیا ہے مثلاً یہ قول باری ہے (واللہ ورسولہ احق ان ترضوہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم انہیں راضی کرو) یہاں ” ان ترضوھما “ نہیں فرمایا اس لئے کہ اللہ کا نام اور اللہ کے سوا کسی اور کا نام ایک کنایہ کے تحت جمع نہیں ہوسکتے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کے سامنے تقریر کرنے لگا۔ اس نے دوران تقریر کہا : ” من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد ومن یعصھما فقد غویٰ “ آپ نے اسے ٹوک دیا اور فرمایا ” بس کرو آج تم بہت برے خطیب ثابت ہوئے۔ “ اس نے ” یعصھما “ کہا تھا یعنی اللہ اور رسول دونوں کا ایک کنایہ کے تحت ذکر کیا تھا اس لئے آپ نے اسے روک دیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی) اللہ تعالیٰ نے اپنا نام اور فرشتوں کا نام ایک ضمیر میں جمع کردیے ہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے دونوں کو ایسے کنایہ کے تحت جمع کرنے کا انکار کیا ہے جو ان دونوں کے لئے اسم بنتا ہو۔ مثلاً ھاء جو اسم کے لئے کنایہ ہے لیکن اگر فعل ہو جو نہ اسم ہوتا ہے اور اسم سے کنایہ بلکہ اس میں ضمیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کوئی امتناع نہیں ہوتا۔
درج بالا آیت کے متعلق ایک قول یہ بھی ہے کہ قول باری (یصلون) ملائکہ کے لئے ضمیر ہے اللہ کیا سم کے لئے نہیں ہے۔ نبی ﷺ پر اللہ کی صلوٰۃ کا مفہوم معنی کی جہت سے سمجھ میں آجاتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (انفضوا الیھا ۔ تجارت کی طرف دوڑ پڑتے ہیں) اس میں کنایہ کو تجارت کی طرف راجع کیا گیا ہے لفظ (لھوا) کی طرف راجع نہیں کیا گیا ہے حالانکہ تجارت کے ساتھ اس کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معنی کی جہت سے لہو کا مفہوم خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔
اسی طرح یہ قول باری ہے (والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ۔ جو لوگ سونا چاندی خزانہ کے طور پر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ خرچ نہیں کرتے) یہاں جس کنایہ کا ذکر ہوا ہے وہ فضہ یعنی چاندی کی طرف راجع ہے۔ سونے کا مفہوم معنی کی جہت سے خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔
Ayah 33:57قول باری ہے (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یعنی جو لوگ اللہ کے دوستوں اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی ذات کو ایذا لاحق ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوا ہے کیونکہ مخاطبین کو یہ بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (واسئل القریۃ گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو۔
Ayah 33:58قول باری ہے (والذین یئوذون المومنین والمومنات بغیرما اکتسبو اور جو لوگ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایذا پہنچاتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو) ایک قول کے مطابق یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں اضمار کے طور پر ہوا ہے یعنی اللہ کے دوست اضمار کے بعد اللہ تعالیٰ نے اظہار یعنی اس کی صورت میں ان کا ذکر کردیا اور یہ بتادیا کہ یہی لوگ پہلی آیت میں مراد ہیں۔ اور یہ خبر دی کہ انہیں ایذا پہنچانے والے لوگ بہتان اور گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیتے ہیں اور اسی بنا پر وہ اس عذاب اور لعنت کے مستحق قرار پاتے ہیں جن کا پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے۔
Ayah 33:59قول باری ہے (یایھا النبی قل لازواجک وبناتک نسآء المومنین یدنین علیھن من جلا بیھن۔ اے نبی ! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر تھوڑی سی نیچی کرلیا کریں)
حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ جلیاب چادر کو کہتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ چادریں اوڑھ لیا کریں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ حرائر یعنی آزاد خواتین ہیں لونڈیاں نہیں ہیں۔ اور اس طرح کوئی آوارہ منش انسان ان سے کوئی تعرض نہ کرسکے۔ محمد بن سیرین نے عبیدہ سے روایت کی ہے کہ چادر لپیٹ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے حسن سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مدینہ میں فلاں فلاں نام کی چنڈ لونڈیاں تھیں جب وہ باہر نکلتیں تو نادان لوگ انہیں چھیڑتے اور ایذا پہنچاتے۔ اگر کوئی آزاد یعنی شریف اور خاندانی عورت باہر نکلتی تو اسے لونڈی خیال کرکے اسے بھی چھیڑتے اور تکلیف پہنچاتے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر پڑی ہوئی چادریں ذرا نیچی رکھیں۔ اس سے وہ جلد پہچان لی جاتیں کہ یہ لونڈیاں نہیں ہیں بلکہ آزاد خواتین ہیں اور پھر انہیں ستانے کی کوئی ہمت نہ کرتا۔
حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ حوہ یعنی آزاد عورت جب باہر نکلے تو وہ اپنی پیشانی اور سر ڈھانپ کر رکھے ۔ یہ ہیئت لونڈیوں کی ہیئت کے خلاف تھی جو اپنی پیشانی اور سر کھلا رکھتی تھیں۔ ہمیں عبدالہل بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ابو خیثم سے، انہوں نے صفیہ بنت شیبہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصار کے کچھ خواتین باہر نکلیں۔ انہوں نے اپنے سروں پر سیاہ کپڑے باندھ رکھے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ جوان عورت کو اجنبی مردوں سے اپنا چہرہ چھپائے رکھنے کا حکم ہے۔ نیز باہر نکلنے کی صورت میں پردہ کرنے پر پاکبازی ظاہر کرنے کا حکم ہے تاکہ مشکوک لوگوں کے دلوں میں ان کے متعلق کوئی غلط آرزو پیدا نہ ہوسکے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ لونڈی کو اپنا چہرہ اور اپنے بال چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قول باری (و نسآء المومنین) سے ظاہراً آزاد خواتین مراد ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں اسی طرح کی روایت ہے تاکہ اس کی ہیئت لونڈیوں کی ہیئت سے مختلف ہوجائے جنہیں اپنا سرا ور چہرہ چھپانے کا حکم نہیں ہے۔ اس طرح پردے کو آزاد وخاتون اور لونڈی کے درمیان فرق اور شناخت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ حضرت عمر ؓ کے متعلق مروی ہے کہ آپ لونڈیوں کو ڈانٹ کر کہتے کہ اپنا سر کھلا رکھو اور آزاد وخواتین کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
Ayahs 33:60–73قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت کم مدت کے لئے یعنی انہیں مدینہ سے جلاوطن کردیا جائے گا۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ مسلمانوں کے خلاف افواہیں پھیلانے اور ان افواہوں کے ذریعے انہیں پریشان کرنے اور ایذا پہنچانے کی سزا تعزیر ہے۔ اور اگر افواہیں پھیلانے والے اس کے باوجود بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو انہیں جلاوطن کردیا جائے۔ منافقین اور دین میں بصیرت نہ رکھنے والوں کا ایک ٹولہ تھا جو دل کے روگ میں مبتلا تھا یعنی وہ ضعف ایمان ویقین کی بیماری میں مبتلا تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ مشرکین اور کفار کے جمع ہوجانے کی افواہیں اڑایا کرتے تھے، اور یہ کہتے پھرتے کہ وہ لوگ مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے چل پڑے ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے سامنے مشرکین کی طاقت وقوت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے اور انہیں ہراساں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرما کر واضح کردیا کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو جلاوطنی اور قتل کے سزاوار ہوں گے۔
ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ یہی اللہ کی سنت ہے۔ یعنی یہی وہ طریقہ ہے جس کی پیروی اور لزوم کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری (ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ اور آپ اللہ کے دستور میں ردوبدل نہ پائیں گے) یعنی۔ واللہ اعلم۔ کسی شخص کے اندر اللہ کے دستور اور اس کے طریقے کو بدل ڈالنے اور اسے باطل کردینے کی ہمت وطاقت نہیں ہے۔