Explained with ayahs 9–10
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی
جنگ خندق میں جو سنہ005ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جو اپنا فضل واحسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ004ہجری میں ہوئی تھی۔ اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکہ میں آکر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار تھے حضور ﷺ سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الْاَحْزَاب 18
یہاں سے رکوع 3 تک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی ﷺ غزوۂ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ ان دونوں رکوعوں میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ کے واقعات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان کو پڑھتے وقت ان دونوں غزوات کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہییں جو ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں۔
سورة الْاَحْزَاب 19
یہ آندھی اسی وقت آگئی تھی جبکہ دشمنوں کے لشکر مدینے پر چڑھ کر آئے تھے بلکہ اس وقت آئی تھی جب محاصرے کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ نظر نہ آنے والی " فوجوں " سے مراد وہ مخفی طاقتیں ہیں جو انسانی معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کام کرتی رہتی ہیں اور انسانوں کو ان کی خبر تک نہیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو، جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے (یعنی عیینہ کا لشکر اور ابوسفیان کا لشکر اور یہود بنی قریظہ) پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی (جس نے ان کو پریشان کردیا اور ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے) اور (فرشتوں کی) ایسی فوج بھیجی جو تم کو (عام طور پر) دکھائی نہ دیتی تھی (گو بعض صحابہ مثلاً حضرت حذیفہ نے بعض ملائکہ کو بشکل انسان دیکھا بھی اور کفار کے لشکر میں یہ جاسوسی کے لئے گئے تھے وہاں یہ آواز بھی سنی کہ بھاگو بھاگو۔ اور اس واقعہ میں ملائکہ نے قتال نہیں کیا، صرف کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لئے بھیجے گئے تھے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے (اس وقت کے) اعمال…
Read the full tafseer →2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 9۔ 27
آگے غزوہ احزاب کے واقعات کا حوالہ ہے اور مقصود اس سے اسی مضمون کو واقعات کی روشنی میں مزید واضح کرنا ہے جو تمہید میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اللہ کے دین کی راہ میں مخالفوں کی مخالفت اور ان کی سازشوں کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے۔ وہ اپنی آنکھوں نصرت الٰہی کا یہ کرشمہ دیکھ چکے ہیں کہ ان کے تمام مخالفین اپنی پوری مجتمعہ قوت کے ساتھ ان پر پل پڑے تھے اور اندر سے منافقین نے بھی اپنی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے ان کے قدم اکھاڑ دینے کی پوری کوشش کی لیکن اللہ کی تدبیر سب پر غالب رہی۔ دشمنوں کو…
Read the full tafseer →9-1ان آیات میں غزوہ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو-5ہجری میں پیش آیا۔ اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز ' مدینہ ' پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینہ کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ نے مسلسل بد عہدی کی وجہ سے مدینے سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا، اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو…
Read the full tafseer →10: یہاں سے جنگ احزاب کا بیان شروع ہورہا ہے۔ آیت نمبر 27 تک اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ اس جنگ کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودیوں کی سازش سے قریش کے بت پرستوں نے یہ طے کیا تھا کہ عرب کے مختلف قبائل کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر اکٹھے حملہ کریں۔ چنانچہ قریش کے علاوہ بنو غطفان، بنو اسلم، بنو مرہ، بنو اشجع، بنو کنانہ اور بنو فزارہ نے مل کر ایک زبردست لشکر تیار کیا جس کی تعداد بارہ سے پندرہ ہزار تک بتائی جاتی ہے، اور یہ لشکر جرار مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے مشورہ دیا کہ مدینہ…
Read the full tafseer →درس نمبر 189 ایک نظر میں
جنگلی حیات اور حادثات کے میدان کارزار میں اسلامی شخصیت کی تشکیل ہو رہی تھی۔ ہر نئے دن کے طلوع ہوتے کے بعد اور ہر نئے حادثے کے بعد یہ شخصیت واضح ہوتی جاتی تھی۔ اس کے خدوکال نکھر کر سامنے آتے تھے۔ جماعت مسلمہ ان شخصیات سے تشکیل پا رہی تھی جن کی خاص صلاحیتیں تھیں۔ ان کی خاص اقدار حیات تھیں اور تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس کا رنگ ڈھنگ بالکل مختلف تھا۔
اس جماعت کے خلاف دور کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا اور یہ واقعات جماعت کے لیے بڑا فتنہ بن جاتے اور یہ فتنہ اس طرح ہوتا تھا جس طرح سونے کا ” فتنہ “ ہوتا ہے۔ اس فتنے سے اصلی جوہر اور کھوٹ علیحدہ ہوجاتے تھے۔ انسانوں کی حقیقت اور ان…
Read the full tafseer →3 یعنی فرشتوں کی فوجیں جو کفار کے دلوں میں رعب ڈال رہی تھیں۔
4 ہجرت کے چوتھے پانچویں سال یہود بنی نضیر جو مدینہ سے نکالے گئے تھے (اس کا ذکر سورة " حشر " میں آئے گا) ہر قوم میں پھرے۔ اور ابھار اکسا کر قریش مکہ، بنی فزارہ اور غطفان وغیرہ قبائل عرب کی متحدہ طاقت کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ تقریباً بارہ ہزار کا لشکر جرار پورے سازو سامان سے آراستہ اور طاقت کے نشہ میں چور تھا، یہود " بنی قریظہ " جن کا ایک مضبوط قلعہ مدینہ کی شرقی جانب تھا پہلے سے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے تھے۔ نضیری یہود کی ترغیب و ترہیب سے آخرکار وہ بھی معاہدات کو بالائے طاق رکھ کر حملہ آوروں کی مدد کے لئے کھڑے…
Read the full tafseer →اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوئہ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ 5 ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر 4 ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہوجائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔ چناچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
14 جنگ احزاب کے اصل محرک خیبر میں پناہ گزین یہودی تھے :۔ آیت نمبر 9 سے لے کر آیت نمبر 27 تک جنگ احزاب کا یا جنگ خندق کا بیان ہے۔ مگر اس میں تسلسل کا وہ انداز نہیں جو ایک انسان یا مورخ کے بیان یا اس کی تصنیف میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جنگ کے اسباب بیان کرے گا۔ پھر واقعات کی تفصیل بتائے گا پھر اس کے بعد اس کے نتائج پر تبصرہ کرے گا۔ لیکن قرآن کا انداز بیان اس سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ لہذا اس مخصوص انداز بیان سے اس جنگ کے بیان کا آغاز کیا گیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرمانبردار صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو…
Read the full tafseer →20۔ (یعنی قریش مکہ کا لشکر، قبیلہ غطفان کا لشکر اور یہود کا لشکر) شوال 5 ہجری کا واقعہ ہے کہ اسلام کے مخالفین نے ایکا کرکے مدینہ پر دھاوابول دیا، اور شہر کو ہر طرف سے گھیر لیا۔ تاریخ میں اس جنگ کا نام جنگ احزاب ہے۔ چار ہزار کی تعداد میں تو قریش ہی کا لشکر تھا، جس میں تین سو سوار اور ڈیڑھ ہزار شتر سوار تھے۔ مجموعی تعداد ان لشکروں کی کم ازکم سات ہزار کی تھی، بغض تخمینے دس اور بارہ ہزار بلکہ بعض پندرہ ہزار کے بھی تھے۔ افسر اعلیٰ ابوسفیان قریشی تھا۔ عرب نے اتنی بڑی فوج کشی کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی، مسلمانوں کی جمعیت کل 3 ہزار کی تھی۔ حضرت سلمان فارسی ؓ صحابی کے مشورہ پر لشکر اسلام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →یایھا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذجاء تکم جنود فارسلنا علیھم ریحا وجنودا لم تروھا . اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ کی عنایت کو جو تم پر اس وقت ہوئی تھی جب تم پر فوجیں آپڑی تھیں تو ہم نے ان پر ہوائی طوفان اور ایسے لشکر بھیجے جو تم کو دکھائی نہیں دیتے تھے (اس آیت میں غزوۂ خندق کی طرف اشارہ ہے) ۔
جُنُوْدٌسے مراد ہیں کفار قریش ‘ بنی غطفان اور قبیلہ بنی قریظہ کے یہودی جن کی مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی۔ مدینہ کے مسلمانوں نے کا ان سب نے آکر محاصرہ کرلیا تھا اور رسول اللہ نے مدینہ کے گرد ایک خندق کھدوا لی تھی۔
رِیْحًایہ پروا ہوا تھی۔ موسم بھی سردی کا تھا ‘ رات بھی بہت سرد تھی ‘ پروا…
Read the full tafseer →اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم سے دشمن کو سخت آندھی اور فرشتوں کی مدد سے بھگا دیا جب تم پر کفار کے بہت سے لشکروں نے چڑھائی کردی تھی پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور فرشتوں کی جماعت کو مسلط کیا اور اللہ تعالیٰ تمہاری خندق کھودنے کو دیکھ رہے تھے۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا (الخ)
امام بیہقی نے دلائل میں حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے غزوہ احزاب کی رات کا منظر دیکھا ہے۔
ہم سب صف بنائے ہوئے بیٹھے تھے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھ جو لشکر تھا وہ اوپر کی طرف تھے اور بنو قریظہ نیچے کی طرف۔ ان کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں کا خوف…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ۔۔ : سورت کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اور اس کا ہر حکم علی الاعلان سنا دینے اور کفار و منافقین کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس معاملے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم دیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس پر توکل کی صورت میں اس کے کافی ہوجانے کی دلیل کے طور پر جنگ احزاب میں مسلمانوں کو اپنی نصرت کی نعمت یاد دلائی، یہ جنگ مسلمانوں کو پیش آنے والی تمام جنگوں سے زیادہ خوف ناک تھی۔ اس میں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرماں بردار بندے صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ ایسے لشکروں کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →مراد غزوہ خندق، احزاب اور غزوہ بنی قریظہ ہے یہ سخت ترین حالات تھے جس کے بعد نعمت، خوشحالی اور سرور کی کیفیت تھی یہ کثیر احکامات اور آیات واضحہ اور غالبہ کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دس مسائل میں ایسی بحث کریں گے جو کافی متاثر ہوگی۔
مسئلہ نمبر 1۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ کس سال واقعہ ہوا ؟ ابن اسحاق نے کہا : یہ پانچ ہجری شوال میں ہوا تھا۔ ابن وہب اور ابن قاسم نے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت نقل کی ہے : غزوہ خندق کا واقعہ 4 ھ میں ہوا تھا۔ یہ اور غزوہ بنو قریظہ اسی دن ہوا تھا۔ بنو قریظہ اور بنو نصیر کے واقعہ کے درمیان چار سال کے عرصہ حائل ہے۔ ابن وہب نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
غزوہ احزاب کا تذکرہ
1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ وابن عساکر وابو نعیم والبیہقی کلاہما فی الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم صف باندھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو سفیان اور اس کے لشکر ہمارے اوپر تھے اور قبیلہ قریظہ کے یہودی ہماری جانب تھے ہم ان سے ڈر رہے تھے اپنے بچوں کے بارے میں ہم ایسی سخت اندھیری رات کبھی نہیں آئی اور نہ اس سے زیادہ تیز ہواوالی تھی اور ا سہوا کی آوازیں بجلی کڑک کی طرح تھیں اور یہ ایسا اندھیرا تھا کوئی اس میں سے اپنی انگلی کو نہیں دیکھ رہا تھا اور منافقوں نے نبی ﷺ سے اجازت لینا شروع کی اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور وہ غیر…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو جو ایمان لائے ] اذْكُرُوْا [تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَةَ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت کو ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] اِذْ جَاۗءَتْكُمْ [جب آئے تمہارے پاس ] جُنُوْدٌ [کچھ لشکر ] فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [تو ہم نے بھیجا ان پر ] رِيْحًا وَّجُنُوْدًا [ایک ہوا اور کچھ لشکر ] لَّمْ تَرَوْهَا ۭ [تم لوگ نہیں دیکھتے تھے جن کو ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]
Read the full tafseer →غزوہ احزاب کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کی مدد اور کفار کی جماعت کی بدحالی اور بدحواسی
اس رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر ہے جسے غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے، یہ 5 ہجری کا واقعہ ہے، تھوڑی سی تمہید کے بعد اس غزوہ کی تفصیل نقل کی جاتی ہے۔
مدینہ منورہ میں زمانہ قدیم سے یہودی رہتے تھے اور دو قبیلے یمن سے آکر آباد ہوگئے تھے جن میں سے ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام خزرج تھا، انہیں خبر دی گئی تھی کہ نبی آخر الزمان خاتم النبیین ﷺ اس شہر میں تشریف لائیں گے، یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کا اتباع کرنے کے لیے یہاں آکر بس گئے تھے۔ جب حضور انور ﷺ نے حج کے موقع پر اوس اور خزرج کو منیٰ میں ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →15:۔ یا ایہالذین اٰمنوا اذکروا الخ یہ مومنوں کے لیے دوسرا حکم ہے۔ اے ایمان والو ! پیغمبر (علیہ السلام) نے جاہلیت کی رسم کو توڑا ہے۔ کفار و منافقین آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تم ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دینا اور کفار و منافقین کی مخالفت سے مت ڈرنا۔ میں تمہارا ناصر و حامی ہوں جس طرح اسباب کی ناموافقت کے باوجود غزوہ احزاب میں میں نے تمہاری مدد کی۔ غزوہ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔ سنہ چار یا پانچ ہجری کو مشرکین عرب اور یہود نے متحد ہو کر فیصلہ کیا کہ عرب کے تمام معروف قبائل سے ایک عظیم فوج تیار کر کے مدینہ پر حملہ کیا جائے اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ چناچہ مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ، جو اس نے اپنے انبیاء سے عالم ارواح میں لیا تھا۔ ان میں سے پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر اللہ نے خاص طور پر کیا۔ ان سب سے یہ پکا عہد لیا گیا تھا کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا زمانہ پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے اور مجموعی طور پر تمام انبیاء کا پختہ عہد یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب انبیاء نے یہ عہد کرلیا تو ہر امتی رپ بھی یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ آخری نبی پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے یہ عہد اس لئے…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 18
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَاۗءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا 0 ۭ وَكَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا 9 ۚ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق،…
Read the full tafseer →ترکیب : علیکم صفت لنعمۃ اللہ۔ اذ جاء تکم ھومثل اذ کنتم اعداء وقد ذکر فی آل عمران اذ جاء وکم بدل من اذا لا ولی وجنود معطوف علی ریحا لم تروھا صفۃ الجنود الظنونا بالالف فی المصاحف ووجھہ انہ راس ایۃ فشبہ با واخر الایات ویقرء بغیر الالف علی الاصل۔
تفسیر : یا ایھا الذین امنوا یہاں سے اپنی اطاعت کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنا احسان اور فضل یاد دلاکر کہ اے ایماندارو اس سخت وقت کو یاد کرو، جبکہ تمہارے اوپر لشکر چڑھ آئے اور تمہاری سخت حالت ہوگئی تھی، ہم نے ان کو ہزیمت دے کر تم سے ٹال دیا۔
غزوہ خندق کا واقعہ : یہ غزوئہ خندق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو موافق قول 1 ؎ صحیح کے شوال کے مہینے میں ہجرت کے پانچویں سال…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْجَـآئَ تْـکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًاوَّجُنُوْدًا لَّّمْ تَرَوْھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا۔ (الاحزاب : 9)
(اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو تم اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جبکہ تم پر فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جو تم کو نظر نہیں آئے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھنے والا ہے۔ )
یہاں سے رکوع 3 کے آخر تک وہ آیات ہیں جو غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کے ختم ہونے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : اصولی اور بنیادی ہدایات دینے کے بعد اب اس سورة کے عنوان اور واقعات پر خطاب شروع ہوتا ہے۔
قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں واقعات کو انہی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے جس طرح وہ رونما ہوئے ہوں۔ قرآن مجید بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے جس میں انسان کی زندگی کے بارے میں کامل اور اکمل ہدایات کا انتظام کیا گیا ہے یہی وجہ ہے قرآن کسی واقعے کو محض واقعاتی انداز میں بیان نہیں کرتا اس لیے غزوہ احزاب کا خلاصہ بیان کرنے سے پہلے بنیادی ہدایات دی گئیں اور مسلمانوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ دشمن کے اس قدر ہمہ جہت حملہ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کامیابی عنایت فرمائی۔ یہ ”…
Read the full tafseer →غزوئہ احزاب کے حالات :
9: یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو) یعنی وہ انعام جو اللہ تعالیٰ نے احزاب کے دن فرمایا۔ جس کو یوم خندق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ احد کے ایک سال بعد پیش آیا۔ اِذْجَآ ئَ تْکُمْ جُنُوْدٌ (جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے) تمام گروہ جس میں قریش، غطفان، قریظہ، بنی نضیر سب شامل تھے۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا (پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی) بادصبا نبی (علیہ السلام) نے فرمایا نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور۔] رواہ احمد 1/228 و 324 والبخاری 4105 و مسلم 900[
فرشتوں کے لشکر :
وَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8، لیسال الصادقین عن صدقھم، ایسا کرنے کی غرض یہ تھی کہ انبیاء صادقین سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے اپنی اپنی امتوں سے کیا کہا تھا یا کافروں کو ذلیل کرنے اور لا جواب بنانے کے لیے کافروں سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی یا انبیاء کی تصدیق کرنے والوں سے ان کی تصدیق کے متعلق پوچھا جائے گا کیوں کہ سچے کی تصدیق کرنے والا بھی سچا ہوتا ہے یا ان مؤمنوں سے جنہوں نے اپنے وعدوں کو سچ کردکھایا تھا ، ان کے صدق کی باز پرس ہوگی یہاں تک کہ ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا جائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے ان کے عمل کے بارے میں ۔ بعض نے کہا کہ صادقین سے سوال کرے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت نمبر : 11 ۔ 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انہیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے اور حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے ‘ وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کرلیا۔ معاملہ بہت سخت ہوگیا ‘ کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →21 غزؤہ اَحزاب کا تذکرہ اور اس سے متعلق بعض اہم دروس و عبر کا ذکر : اوپر پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا تھا کہ آپ ﷺ اللہ پر بھروسہ رکھیں اس کی کارسازی ہر طرح سے کافی ہے۔ سو اب اس کے کچھ ثمرات اور نتائج کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے " غزوئہ اَحزاب " اور پھر " غزوئہ بنی قریظہ " کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو دو رکوعوں تک چلا گیا۔ ان دونوں غزو وں کے تفصیلی واقعات تو تفسیر و سیرت کی بڑی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان مختصر فوائد میں انکے تفصیلی ذکر کی گنجائش نہیں۔ البتہ مختصراً اتنا جاننا چاہیے کہ یہود بنو قینقاع اور بنو نضیر جن کو انکے اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں مدینہ منورہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 4 جس نے ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے، ہانڈیا الٹ دیں اور انہیں اس قدر بےبس کردیا کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مجاہد (رح) سے منقول ہے کہ وہ رنج ” صبا “ تھی۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ” نصرت بالصبا “ کے الفاظ ہیں یعنی شرقی ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ( ابن کثیر) ۔5 یہ غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے کا ذکر ہے جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال 5 ھ میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روادیہ ہے کہ 4 ھ میں نبی ﷺ نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سر زمین سے جلا وطن کردیا تھا اس کے کچھ اشراف ( سر کردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انہیں نبی ﷺ اور مسلمانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(33:10) من فوقکم۔ تمہارے اوپر کی طرف یعنی مشرق کی طرف سے۔ من اسفل منکم تمہارے نیچے کی طرف سے یعنی مغرب کی طرف سے۔ (مدینہ کی شرقی سمت اونچی ہے اور غربی سمت نیچی) اسفل افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور غیر منصرف لہٰذا لام پر کسرہ کی بجائے فتح ہے۔ بمعنی سب سے نیچا۔ اعلی کی ضد ہے اور سفول مصدر۔ سفل پستی۔
فسل یسفل (کرم) اور سفل یسفل (نصر) سے بمعنی ادنی ہونا۔ کمینہ ہونا۔ پست کے معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔ اور ادنی اور کمینہ کے معنوں میں : ثم رددناہ اسفل سافلین (96:5) پھر ہم نے (رفتہ رفتہ) اس کی حالت کو (بدل کر) پست سے پست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13
جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر
ریح : ہوا، آندھی
لم تروا : تم نے نہیں دیکھا
فوق : اوپر
زاغت : کھلی رہ گئی
الحناجر : کلیجہ
ھنالک : اسی جگہ
غرور : دھوکا۔ فریب
ارجعوا : تم لوٹ جاؤ
یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے
عورۃ : غیر محفوظ
فرار : بھاگنا
تشریح : آیت نمبر 9 تا 13
مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →[12] یہاں سے آیت 25 تک غزوہ احزاب کا بیان ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی جس کے معنی جماعت یا پارٹی کے ہیں۔
[13] یعنی قریش مکہ کا لشکر قبیلہ بنی غطفان کا لشکر اور یہود کا لشکر۔ ان تین لشکروں کی مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی۔
[14] شوال 5 ھ میں ان دشمنان اسلام نے ایکا کر کے مدینہ پر دھاوا بول دیا۔ عرب نے اتنی بڑی فوج کشی کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی جمعیت کل تین ہزار تھی۔ سلمان فارسی ؓ کے مشورے پر نبی ﷺ نے شہر کے شمال اور غربی رخ ایک خندق کھدوائی جو تقریباً ساڑھے تین میل لمبی تھی۔ اسی لئے اس غزوے کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ خندق کی وجہ سے دشمن مدینہ میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات…
Read the full tafseer →9۔ اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت فرمایا جبکہ تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے پھر ہم نے تمہاری ان مخالف فوجوں پر ایک تیز و تند آندھی بھیجی اور ایسا لشکر بھیجا جس کو تم نے نہیں دیکھا اور جو اعمال تم کر رہے تھے اللہ تعالیٰ ان سب اعمال کو دیکھ رہا تھا۔ ان آیات میں غزوۂ احزاب جس کو غزوۂ خندق بھی کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اس احسان کا ذکر فرمایا اور غزوۂ احزاب کی بھی تھوڑی سی تفصیل بیان فرمائی اور منافقوں نے جو سوقیانہ حرکت اس جنگ میں انجام دیں اور پارٹ ادا کیا اس کو طشت ازبام کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ نے 4ھ میں یہود بنی نضیر کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 1۔ خلاصہ اس واقعہ کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تھا، انہوں نے سنہ چار یا پانچ ہجری میں قبائل عرب کو بہکایا، اور سب دس بارہ ہزار آدمی مدینہ پر چڑھ آئے، آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوالی، اور تین ہزار آدمیوں سے مقابل ہوئے قریب ایک ماہ کے یہ محاصرہ رہا، آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہرا ایک آندھی اور باطنا ایک لشکر سے سب کفار کو منتشر اور منہزم کردیا، چونکہ یہودی بنی قریظہ نے اپنے معاہدہ کے برخلاف ان محاصرین کو مدد دی تھی اس لئے آپ بمجرد فراغ غزوہ احزاب کے ان کے مقابلہ کے لئے چلے، وہ اول قلعہ بند ہوگئے اور بیس پچیس روز تک محصور رہے، پھر آخر تنگ ہو کر نکلے اور بعضے قید کئے گئے…
Read the full tafseer →ٹڈی دل فوجوں کے سیلاب کو روک دینے والے رب کا شکریہ ادا کرو
9) زیر نظر آیت میں جس غزوہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کو مناذی میں غزوہ احزاب یا خزوہ خندق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس کا مختصر ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں کہ بنو نضیر مدینہ سے نکل کر خیبر پہنچے تو انہوں نے انتقام کی ٹھان لی ، ان کے رئوسا سے حنی بن اخطب اور کنانہ بن ربیع قریش کو ساتھ ملانے کے لئے مکہ میں گئے وہ پہلے ہی تیار بیٹھے تھے اس لئے جھٹ مان گئے پھر غطفان ، بنو اسد ، بنو سلیم ، بنو سعد اور بہت سے دوسرے قبائل کو بھی ساتھ ملایا اور اس طرح دس ہزار کا لشکر لے کر مدینے کی طرف بڑھے۔ نبی کریم ﷺ تک یہ خبریں پہنچیں تو آپ ﷺ نے صحابہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
Commentary
At the beginning of the Surah, by saying: وَ اتَّبع مَا یُوحٰٓی اِلَیکَ , the Holy Prophet ﷺ was asked to follow the Divine revelation sent to him. Then, in the previous verse: اَلنَّبِیُّ اَولٰی بِالمُؤمِنِینَ , the believers have been obligated with the implementation of the orders of the recipient of the revelation. It is to further confirm and emphasize these very two things that, in the present two verses as well, the same two subjects have been reiterated, that is, the recipient of the revelation has been obligated to follow the revelation received by him from Allah and the…
Read the full tafseer →18 In vv. 9-27 an appraisal has been made of the Battle of the Trench and the raid against the Bani Quraiz, ah and were revealed at the end of the raid. One should keep the details of these events in view as given in the Introduction above.
19 The windstorm did not lash the enemy hordes immediately on their arrival but it occurred when the siege of Madinah had lasted about a month. "Armies which you could not see" implies the hidden powers which operate in the affairs of men under Allah's Command and of which men are wholly unaware. Man regards the occurrence of events and incidents as…
Read the full tafseer →