Al-Ahzaab 33:10

Al-Ahzaab · from ayah 10

33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ۟اِذۡ جَآءُوۡكُمۡ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَـنَـاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا

جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember] when they came at you from above you and from below you, and when eyes shifted [in fear], and hearts reached the throats and you assumed about Allah [various] assumptions.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:10

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب وہ (کافر) تمہارے اوپر (وادی کی بالائی مشرقی جانب) سے اور تمہارے نیچے (وادی کی زیریں مغربی جانب) سے چڑھ آئے تھے اور جب (ہیبت سے تمہاری) آنکھیں پھر گئی تھیں اور (دہشت سے تمہارے) دل حلقوم تک آپہنچے تھے اور تم (خوف و امید کی کیفیت میں) اللہ کی نسبت مختلف گمان کرنے لگے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے آگئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں گمان کرتے تھے، کئی طرح کے گمان۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب وہ تمہارے اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب آنکھیں پھر گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد کرو جب کہ وہ تم پر آچڑھے، تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی، اور جب کہ نگاہیں کج ہوگئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم اللہ کے باب میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ چڑھ آئے تھے تم پر وہ لوگ (یعنی تمہارے دشمن) تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب پتھرا گئی تھیں آنکھیں اور منہ کو آگئے تھے کلیجے اور تم لوگ اللہ (پاک) کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

جب کہ وہ لوگ تم پر آپڑے تھے تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی۔ اور جب کہ آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے۔ اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کررہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل مارے دہشت کے حلقوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they came upon you from above you and from below you, when your eyes were stupefied with horror and your hearts leapt to your throats, and you began to entertain diverse thoughts about Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Recall) when they came upon you from above you and from below you, and when the eyes were distracted, and the hearts reached the throats, and you were thinking about Allah all sorts of thoughts.

— Muhammad Taqi Usmani

(Recall) when they came upon you from above you and from below you, and when the eyes were distracted, and the hearts reached the throats, and you were thinking about Allah all sorts of thoughts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When they came upon you from above you and from below you, and when the eyes grew wild and the hearts reached to the throats, and you were harboring doubts about Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When they came upon you from above you and from below you, and when eyes grew wild and hearts reached to the throats, and ye were imagining vain thoughts concerning Allah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember] when they came at you from above you and from below you, and when eyes shifted [in fear], and hearts reached the throats and you assumed about Allah [various] assumptions.

— Saheeh International

Eyes became dull and hearts almost reached the throat when they attacked you from above and below and you started to think of God with suspicion.

— Muhammad Sarwar

When they came upon you from above you and from below you, and when the eyes turned dull, and the hearts rose up to the throats, and you began to think diverse thoughts of Allah.

— Muhammad Habib Shakir

When they came upon you from above you and from below you, and when eyes turned aside and hearts reached to the gullets, and of Allah ye were imagining various things.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! they came on you from above you and from below you, and behold, the eyes became dim and the hearts gaped up to the throats, and ye imagined various (vain) thoughts about Allah!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی جنگ خندق میں جو سنہ005ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جو اپنا فضل واحسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ004ہجری میں ہوئی تھی۔ اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکہ میں آکر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار تھے حضور ﷺ سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْاَحْزَاب 18 یہاں سے رکوع 3 تک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی ﷺ غزوۂ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ ان دونوں رکوعوں میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ کے واقعات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان کو پڑھتے وقت ان دونوں غزوات کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہییں جو ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں۔ سورة الْاَحْزَاب 19 یہ آندھی اسی وقت آگئی تھی جبکہ دشمنوں کے لشکر مدینے پر چڑھ کر آئے تھے بلکہ اس وقت آئی تھی جب محاصرے کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ نظر نہ آنے والی " فوجوں " سے مراد وہ مخفی طاقتیں ہیں جو انسانی معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کام کرتی رہتی ہیں اور انسانوں کو ان کی خبر تک نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

معارف و مسائل سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان اور مسلمانوں کو آپ کے مکمل اتباع و اطاعت کی ہدایت تھی۔ اسی کی مناسبت سے یہ پورے دو رکوع قرآن کے غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق نازل ہوئے ہیں، جس میں کفار و مشرکین کی بہت سی جماعتوں کا مسلمانوں پر یکبارگی حملہ اور سخت نرغہ کے بعد مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور رسول اللہ ﷺ کے متعدد معجزات کا ذکر ہے۔ اور اس کے ضمن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بہت سی ہدایات اور احکام ہیں۔ انہی بےبہا ہدایات کی وجہ سے اکابر مفسرین نے اس جگہ واقعہ احزاب کو خاص تفصیل سے لکھا ہے خصوصاً قرطبی اور مظہری وغیرہ نے۔ اس لئے واقعہ احزاب کی کچھ تفصیل مع ان ہدایات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار و بلغت القلوب الحنا جرا وتظنون باللہ الطنونا (10) ’ اذ جاء دکم من فوقکم ومن اسفل منکم مدینہ کے مشرقی سمت بلند، مغربی سمت نشیبی ہے۔ چونکہ دشمن کا حملہ دونوں طرف سے تھا اس وجہ سے فوق اور اسفل دونوں کو حوالہ دیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ غطفان وغیرہ کا حملہ مشرق کی طرف سے ہوا تھا اور قریش اور ان کے حلیفوں کی فوجیں مغرب کی سمت سے آئی تھیں۔ ’ واذ راغت الابصار وبلغت القلوب الحنا جر۔ کوئی منظر ہولناک و دہشت ناک ہو تو نگاہ اس پر نہیں ٹکتی۔ عربی میں اس کو ’ زاغ البصر ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح خوف و دہشت اور پریشانی کی تعبیر کے لئے بلغت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10-1اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے دشمن آگئے یا اوپر سے مراد غطفان، ہوازن اور دیگر نجد کے مشرکین ہیں اور نیچے کی سمت سے قریش اور ان کے اعوان و انصار۔ 10-2یہ مسلمانوں کی اس کیفیت کا اظہار ہے جس سے اس وقت دو چار تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

11: اوپر سے مراد تو وہ متحدہ محاذ کا لشکر ہے جو خندق کے پار محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور نیچے سے مراد بنو قریظہ ہیں جنہوں نے اندر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ 12: سخت آزمائش کی اس گھڑی میں غیر اختیاری طور پر مختلف وسوسے دل میں آیا کرتے ہیں، یہ انہی وسوسوں کا بیان ہے جن سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔ 6 یعنی دہشت و حیرت سے آنکھیں پھرنے لگیں اور لوگوں کے تیور بدلنے لگے۔ دوستی جتانے والے لگے آنکھیں چرانے۔ 7 یعنی خوف و ہراس سے دل دھڑک رہے تھے گویا اپنی جگہ سے اٹھ کر گلے میں آلگے۔ 8 یعنی کوئی کچھ سمجھتا تھا کوئی کچھ اٹکلیں لڑا رہا تھا۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ اس مرتبہ اور سخت آزمائش آئی، دیکھیے کیا صورت پیش آئے۔ کچے ایمان والوں نے خیال کیا کہ بس جی اب کی بار نہیں بچیں گے۔ منافقین کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آگے ان کے مقولے آرہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { اِذْ جَآئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ } ”جب وہ لشکر آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی“ جزیرہ نمائے عرب کا جغرافیائی محل وقوع پہلے بھی کئی بار زیر بحث آچکا ہے۔ اس میں شمالاً جنوباً حجاز کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔ مکہ ‘ طائف اور مدینہ حجاز ہی میں واقع ہیں ‘ جبکہ اسی علاقے میں اوپر شمال کی طرف تبوک کا علاقہ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے اور ساحل سمندر کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا نام تہامہ ہے۔ حجاز کے پہاڑی سلسلے اور تہامہ کے درمیان سطح مرتفع ہے جو اگرچہ پہاڑی علاقہ تو نہیں مگر میدانی سطح سے بلند ہے۔ اس علاقے میں بنو غطفان وغیرہ قبائل آباد تھے۔ اس لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–11

14 جنگ احزاب کے اصل محرک خیبر میں پناہ گزین یہودی تھے :۔ آیت نمبر 9 سے لے کر آیت نمبر 27 تک جنگ احزاب کا یا جنگ خندق کا بیان ہے۔ مگر اس میں تسلسل کا وہ انداز نہیں جو ایک انسان یا مورخ کے بیان یا اس کی تصنیف میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جنگ کے اسباب بیان کرے گا۔ پھر واقعات کی تفصیل بتائے گا پھر اس کے بعد اس کے نتائج پر تبصرہ کرے گا۔ لیکن قرآن کا انداز بیان اس سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ لہذا اس مخصوص انداز بیان سے اس جنگ کے بیان کا آغاز کیا گیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرمانبردار صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ یعنی کچھ فوجیں آکر وادی مدینہ کے نشیبی حصہ میں خیمہ انداز ہوگئی تھیں، اور کچھ بالائی حصہ میں۔ مدینہ کی شرقی سمت اونچی ہے، اور غربی سمت نیچی، قبیلہ بنی اسد، قبیلہ غطفان کا لشکر سمت مشرق سے آیا تھا، اور قریش وبنی کنانہ کی فوجیں سمت مغرب سے۔ 24۔ (مارے دہشت وہیبت کے) محاصرۂ جنگ کی شدت کا بیان ہورہا ہے، آنکھیں پھٹی رہ جانا، اور کلیجہ منہ کو آنے لگنا، انتہائی خوف و دہشت کی علامتیں ہیں۔ (آیت) ” بلغت القلوب الحناجر “۔ کے لفظی معنی مراد نہیں، مقصود عربی محاورہ کے مطابق شدت خوف کو بیان کرنا ہے۔ یجوزان یکون ذلک مثلا فی اضطراب القلوب ووجیبھا وان لم تبلغ الحناجر حقیقۃ (کشاف) 25۔ اور موقع شدت پر وسوسوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

آیت نمبر 9 تا 20 ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذجاء وکم من فوقکم . جبکہ وہ تمہارے بالائی جانب سے تم پر آگئے۔ یعنی مشرق کی طرف سے وادی کے بالائی جانب سے۔ یہ آنے والے بنی اسد ‘ بنی غطفان اور بنی قریظہ تھے۔ مالک بن عوف نظری اور عیینہ بن حصین فزاری ایک ہزار غطفانیوں کو لے کر مشرق کی طرف سے چڑھ آئے تھے ‘ طلیحہ بن خویلد اسدی بھی قبیلہ بنی اسد کو لے کر ان کے ساتھ موجود تھا ‘ بنی قریظہ کا لیڈر حیی بن اخطب تھا۔ ومن اسفل منکم . اور تمہارے نشیبی جانب سے۔ یعنی بطن وادی سے ‘ مغرب کی طرف سے۔ مغرب کی طرف سے بنی کنانہ اور قریش اور ان کے ساتھ آئے تھے۔ ابو سفیان ان کا کمانڈر تھا اور ابو الاعوار عمر وبن سفیان سلمی خندق کی جانب تھا۔ واذ زاغت الابصار . اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جبکہ کفار مکہ تم پر اوپر کی طرف سے بھی چڑھ آئے تھے یعنی طلحہ بن خویلہ اسدی اور اس کے ساتھی اور نیچے کی طرف سے بھی یعنی ابو الاعور اسلمی اور اس کے ساتھی اور ابو سفیان اور اس کے ساتھی اور جبکہ منافقین کی آنکھیں خندق میں اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھیں اور ان کے دل گھبرانے لگے تھے اور اے گروہ منافقین تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ : اس سے مراد مدینہ کا بالائی حصہ، یعنی مشرقی جانب ہے۔ اس طرف سے عیینہ بن حصن کی قیادت میں قبیلہ غطفان، عوف بن مالک کی قیادت میں قبیلہ ہوازن اور طلیحہ بن خویلد اسدی کی قیادت میں نجد کے قبائل آئے اور ان کے ساتھ بنو نضیر کے یہودی بھی مل گئے۔ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ : نیچے کی جانب سے مراد مدینے کا مغربی حصہ ہے۔ اس طرف سے ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں کفار مکہ اور کچھ دوسرے لوگ آئے۔ عین حالت جنگ میں بنو قریظہ نے بھی صلح توڑ دی اور دشمن کے ساتھ مل گئے۔ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ : ”زَاغَ یَزِیْغُ زَیْغًا“ (ض) کا معنی ہے ”مَالَ“ یعنی جھکنا، ٹیڑھا ہونا۔ سورة نجم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم، اذ محل نصب میں ہے اس سے پہلے اذکر فعل محذوف ہے اسی طرح آیت واذ قالت طائفۃ منھم ( الاحزاب : 13) آیت من فوقکم وادی کے اوپر والے حصہ سے یہ مشرق کی جانب اس کا بالائی حصہ ہے۔ اس جانب سے مالک بن نصر، عیینہ بن حصن اہل نجد سے اور طلیحہ بن خویلد اسدی بنو اسد کے ساتھ گیا تھا۔ آیت ومن اسفل منکم وادی کے زیریں علاقہ سے جو مغرب کی جانب تھا، اس جانب سے ابو سفیان بن حر ب اہل مکہ کے سردار کی حیثیت سے، یزید بن جحش قریش کے سردار کی حیثیت سے آیا۔ ابو اعور اسلمی، اس کے ساتھ حیی بن اخطب یہودی بنی قریظہ کے یہودیوں کے ساتھ ان کے ساتھ عامر بن طفیل تھا یہ خندق کی جانب سے آئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–12

غزوہ احزاب کا تذکرہ 1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ وابن عساکر وابو نعیم والبیہقی کلاہما فی الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم صف باندھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو سفیان اور اس کے لشکر ہمارے اوپر تھے اور قبیلہ قریظہ کے یہودی ہماری جانب تھے ہم ان سے ڈر رہے تھے اپنے بچوں کے بارے میں ہم ایسی سخت اندھیری رات کبھی نہیں آئی اور نہ اس سے زیادہ تیز ہواوالی تھی اور ا سہوا کی آوازیں بجلی کڑک کی طرح تھیں اور یہ ایسا اندھیرا تھا کوئی اس میں سے اپنی انگلی کو نہیں دیکھ رہا تھا اور منافقوں نے نبی ﷺ سے اجازت لینا شروع کی اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور وہ غیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ جَاۗءُوْكُمْ [جب وہ (لشکر) آئے تمہارے پاس ] مِّنْ فَوْقِكُمْ [تمہارے اوپر سے ] وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ [اور تم سے نیچے سے ] وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ [اور جب کج ہوئیں (پتھرا گئیں) آنکھیں ] وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ [اور پہنچے دل ] الْحَـنَاجِرَ [گلوں تک ] وَ [اس حال میں کہ ] تَظُنُّوْنَ [تم لوگ گمان کرتے تھے ] بِاللّٰهِ [اللہ کے بارے میں ] الظُّنُوْنَا [بہت سے گمان ] ۔ ح ن ج ر (رباعی) حنجرۃ گلا کاٹتے ہوئے سانس کی نالی تک کاٹ دینا۔ ذبح کرنا۔ حنجرۃ اسم ذات بھی ہے۔ نرخرہ (سانس کی نالی 9 ۔ گلا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

دشمنوں کا خندق پار کرنے سے عاجز ہونا خندق کو دیکھ کر مشرکین مسلمانوں تک پہنچ تو نہ سکے جس سے آمنے سامنے ہو کر دونوں لشکروں کی جنگ ہوتی لیکن اپنی جگہ سے جلدی واپس بھی نہیں ہوئے اپنی جگہ پر جمے رہے، ان کا اپنی جگہ پر جمے رہنا تقریباً ایک مہینہ تک تھا، گو وہ خندق پار نہیں آسکتے تھے لیکن انہیں چھوڑ کر چلے جانے کا بھی موقع نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ پر مقیم رہے، اس موقعہ پر مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی، سردی بھی تھی، کھانے پینے کا انتظام بھی نہ تھا اور خندق بھی اس حال میں کھودی کہ بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے تھے پھر دشمن کے مقابلہ میں اتنا لمبا پڑاؤ ڈالنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ اذ جاء وکم الخ، یہ اذ جاء تکم سے بدل ہے۔ فوق سے جانب مشرق اور اسفل سے جانب مغرب اور جنوب مراد ہے۔ یا یہ چاروں طرف سے کنایہ ہے۔ یعنی کافروں کی فوجیں چاروں طرف سے آپہنچیں اور انہوں نے مدینہ منورہ کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا۔ واذ زاغت الابصار، فوجوں کی کثرت سے تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور شدت خوف سے تمہارے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ وتظنون باللہ الظنونا، خطاب مخلص مومنین سے ہے۔ باللہ ای فی حق اللہ۔ مسلمانوں کی تعداد دشمن کے مقابلے میں بہت کم تھی اور دشمن کی فوجیں چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیرے ہوئے تھیں۔ اور بظاہر فتح کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ اس لے بتقاضائے بشریت مسلمانوں کے دلوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ، جو اس نے اپنے انبیاء سے عالم ارواح میں لیا تھا۔ ان میں سے پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر اللہ نے خاص طور پر کیا۔ ان سب سے یہ پکا عہد لیا گیا تھا کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا زمانہ پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے اور مجموعی طور پر تمام انبیاء کا پختہ عہد یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب انبیاء نے یہ عہد کرلیا تو ہر امتی رپ بھی یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ آخری نبی پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے یہ عہد اس لئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللہِ الظُّنُوْنَا۝ 10 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–12

واذا زاغت الابصار کہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں جیسا کہ ڈر کے وقت ہوا کرتا ہے۔ وبلغت القلوب الحناجر اور دل گلوں تک پہنچ گئے تھے۔ یہ ایک محاورہ عرب کی بات ہے۔ شدت خوف کے وقت یہ کہا کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ ناک میں دم آگیا تھا یا کہا کرتے ہیں دل باہر نکل پڑے تھے۔ کلیجہ پانی ہوگیا تھا، اس پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا اور تم اللہ سے طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے، بس سچیّ ایماندار تو یہی کہتے تھے ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ضرور اسلام فتح یاب ہوگا اور منافق کہتے ہم مصیبت میں پڑگئے اور برے گمان دل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْجَآئُ وْ کُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْـکُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔ (الاحزاب : 10) (یاد کرو جب وہ تم پر آچڑھے تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی، جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ) مشرقی و مغربی دونوں سمتوں سے حملہ اور اس کی شدت مسلمان اچانک جس فوجی یلغار سے دوچار ہوئے تھے اس کی مزید وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جب وہ لشکر تم پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ تمہارے اوپر سے بھی آئے اور تمہارے نیچے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : اصولی اور بنیادی ہدایات دینے کے بعد اب اس سورة کے عنوان اور واقعات پر خطاب شروع ہوتا ہے۔ قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں واقعات کو انہی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے جس طرح وہ رونما ہوئے ہوں۔ قرآن مجید بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے جس میں انسان کی زندگی کے بارے میں کامل اور اکمل ہدایات کا انتظام کیا گیا ہے یہی وجہ ہے قرآن کسی واقعے کو محض واقعاتی انداز میں بیان نہیں کرتا اس لیے غزوہ احزاب کا خلاصہ بیان کرنے سے پہلے بنیادی ہدایات دی گئیں اور مسلمانوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ دشمن کے اس قدر ہمہ جہت حملہ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کامیابی عنایت فرمائی۔ یہ ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

لشکر ِکفار : 10: اِذْ جَآ ئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ (جب وہ لوگ تم پر آچڑھے) (مدینہ) کی بالائی جانب سے۔ نحو : اذ جاء و کم یہ اذ جاء تکم سے بدل ہے۔ من فوقکم سے وادی کی بالائی جانب جو کہ مشرقی تھی اور اس طرف سے بنو غطفان حملہ آور تھے۔ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ (اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی) وادی کی نچلی جانب جو کہ مغربی جانب تھی اس طرف سے قریش حملہ آور تھے۔ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ (اور جبکہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں) حیرانی کی وجہ سے اپنے دیکھنے کے انداز و طریق سے پھر گئیں تھیں۔ نمبر 2۔ ہر چیز سے مڑ چکی تھیں۔ وہ سوائے اپنے دشمن کے اور کسی کی طرف دیکھتی ہی نہ تھیں کیونکہ گھبراہٹ و خوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 10۔ ، اذوکم من فوقکم، یعنی مشرق کی طرف سے وادی کی بالائی جانب سے ۔ یہ آنے والے بنی اسد بنی غطفان اور بنوقریظہ تھے۔ مالک بن عوف نصری اور عینیہ بن حصین فزاری ایک ہزار غطفانیوں کو لے کرمشرق کی طرف سے چڑھ آئے تھے۔ طلحیہ بن خویلداسدی بھی قبیلہ بنی اسد کو لے کر ان کے ساتھ موجود تھا۔ بنوقریظہ کالیڈرحیی بن اخطب تھا۔ ، ومن اسفل منکم، یعنی بطن وادی سے مغرب کی طرف سے بنی کنانہ اور قریش ان کے ساتھ آئے تھے۔ ابوسفیان ان کا کمانڈر تھا اور ابوالا عور عمروبن سفیان سلمی خندق کی جانب تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ کو غزوہ خندق کی طرف آنے پر مجبور کیا، وہ بنی نضیر کا جلاوطن ہونا۔ ، واذزاغت الا بصار، جب اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–17

9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–11

آیت نمبر : 11 ۔ 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انہیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے اور حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے ‘ وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کرلیا۔ معاملہ بہت سخت ہوگیا ‘ کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–20

نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–12

23 غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب چڑھ آئے تم پر وہ لوگ۔ یعنی تمہارے دشمن ۔ تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے۔ اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اوپر سے مراد مدینہ کی مشرقی جانب ہو جدہر سے غطفان وغیرہ حملہ آور ہوئے تھے اور نیچے سے مراد وہ جانب ہو جدھر سے قریش وغیرہ آئے تھے۔ بہرکیف یہ غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے واضح ہوسکے کہ منظر کتنا ہولناک اور کس قدر مہیب اور خوفناک تھا تاکہ ان مہیب اور ہولناک اندھیروں میں خداوند قدوس کی طرف سے ملنے والی اس نصرت و امداد کی عظمت و اہمیت سے پوری طرح واضح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20: اسرارو معارف اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔ غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ہر سمت سے آپہنچے یا یہ کہ اوپر کی سمت سے نجدے کے مشرکین اور خیبر کے یہودی آئے اور نیچے کے سمت سے قریش اور ان کے حلیف ( شوکانی) 7 جن کا ایمان پختہ تھا۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی امید تھی اور جن کا ایمان کمزور تھا وہ سمجھنے لگے کہ اب بچنا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–10

(33:10) من فوقکم۔ تمہارے اوپر کی طرف یعنی مشرق کی طرف سے۔ من اسفل منکم تمہارے نیچے کی طرف سے یعنی مغرب کی طرف سے۔ (مدینہ کی شرقی سمت اونچی ہے اور غربی سمت نیچی) اسفل افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور غیر منصرف لہٰذا لام پر کسرہ کی بجائے فتح ہے۔ بمعنی سب سے نیچا۔ اعلی کی ضد ہے اور سفول مصدر۔ سفل پستی۔ فسل یسفل (کرم) اور سفل یسفل (نصر) سے بمعنی ادنی ہونا۔ کمینہ ہونا۔ پست کے معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔ اور ادنی اور کمینہ کے معنوں میں : ثم رددناہ اسفل سافلین (96:5) پھر ہم نے (رفتہ رفتہ) اس کی حالت کو (بدل کر) پست سے پست…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–13

لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13 جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر ریح : ہوا، آندھی لم تروا : تم نے نہیں دیکھا فوق : اوپر زاغت : کھلی رہ گئی الحناجر : کلیجہ ھنالک : اسی جگہ غرور : دھوکا۔ فریب ارجعوا : تم لوٹ جاؤ یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے عورۃ : غیر محفوظ فرار : بھاگنا تشریح : آیت نمبر 9 تا 13 مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–17

غزوہ خندق کابیان۔ (ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–12

[16] یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–10

ف 2: زینب کے نکاح کے سلسلہ میں ایک لطیف جواب یہ دیا ہے کہ تم لوگوں کو چونکہ منصب نبوت کی پہچان نہیں ہے ۔ اس لئے تمہارے دلوں میں اس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورنہ پیغمبر سے زیادہ اور کون مسلمانوں کے نزدیک تر ہوسکتا ہے ؟ پیغمبر خوب جانتا ہے ۔ کہ شفقت اور مہربانی کا تقاضا کیا ہے ؟ اس لئے اگر انہوں نے زینب سے نکاح کرلیا ہے ۔ اور ان کو اس منصب جلیلہ سے مفتخر فرمایا ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ۔ تو پھر اس میں برائی کی کیا بات ہے ؟ وارواجہ مھاتھم میں ختم نبوت کی طرف بھی ایک دقیق اشارہ ہے ۔ یعنی جب پیغمبر کی بیویاں امت کی مائیں قرار پائیں تو پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوئے بلکہ شفقت اور احسانات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10۔ یہ امداد و اعانت اس وقت ہوئی جبکہ مخالفین کا لشکر تم پر تمہارے اوپر کی جانب سے اور تمہارے نیچے یعنی نشیب کی جانب سے چڑھ آیا تھا اور یہ لوگ تم تک پہنچ چکے تھے اور جب کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں اور دل حلق میں چلے آ رہے تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے اور تم لوگ اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے گمان کر رہے تھے اور خیالات باندھ رہے تھے یعنی کثرت اعداد کی وجہ سے پریشان سراسمیگی مسلمانوں میں بہت تھی اور طبعی طور پر مختلف خیالات اور وساوس کی قلوب آماجگاہ بنے ہوئے تھے کیونکہ نتائج کا کوئی علم نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے اور نیچے سے یعنی مدینہ کی شرقی طرسے جو اونچی ہے اور غربی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

ف 1۔ خلاصہ اس واقعہ کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تھا، انہوں نے سنہ چار یا پانچ ہجری میں قبائل عرب کو بہکایا، اور سب دس بارہ ہزار آدمی مدینہ پر چڑھ آئے، آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوالی، اور تین ہزار آدمیوں سے مقابل ہوئے قریب ایک ماہ کے یہ محاصرہ رہا، آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہرا ایک آندھی اور باطنا ایک لشکر سے سب کفار کو منتشر اور منہزم کردیا، چونکہ یہودی بنی قریظہ نے اپنے معاہدہ کے برخلاف ان محاصرین کو مدد دی تھی اس لئے آپ بمجرد فراغ غزوہ احزاب کے ان کے مقابلہ کے لئے چلے، وہ اول قلعہ بند ہوگئے اور بیس پچیس روز تک محصور رہے، پھر آخر تنگ ہو کر نکلے اور بعضے قید کئے گئے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ وقت یاد کرو جب یہ لشکر تم پر چڑھ آئے اور تمہاری حالت دیدنی تھی 10) جماعت میں ہمیشہ مختلف قسم اور مختلف حالت وقوت اور مختلف ذہن و دماغ کے لوگ ہوتے ہیں اور پھر جب اس جماعت کے بعض لوگوں کی حالت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے تو بعض اوقات جمع کے صیغے اس طرح بولے جاتے ہیں کہ شاید یہ حالت ساری جماعت کی ہے جو بیان کی جارہی ہے حالانکہ وہ حالت ساری جماعت کی نہیں بلکہ بعض افراد کی ہوتی ہے جس کے پیش نظر پوری جماعت مخاطب کی جاتی ہے اور یہ بات ہر زبان میں عام طور پر پائی جاتی ہے ، اسی لئے محاورہ ہے کہ ” ایک مچھلی سارے جل کو گندا کردیتی ہے “۔ جس کا مطلب سب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی فرد کے باعث پوری قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

Commentary Identified in the previous verses was the great station of the Holy Prophet ﷺ along with the instruction to Muslims that they should follow and obey him totally and perfectly. Congruent to this, these two full sections of the Qur'an have been revealed about the event of the battle of al-Ahzab. Mentioned therein is the simultaneous attack of the combined forces of many groups of disbelievers and polytheists, their threatening encirclement, the subsequent blessings bestowed on Muslims by Allah Ta’ ala and the several miracles that issued forth at the hands of the Holy Prophet ﷺ .…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 It may mean: "The enemies came upon you from every side, and also that those coming from Najd and Khaiber came from above and those coming from Makkah from below you."

Read the full tafseer →