Al-Ahzaab 33:11

Al-Ahzaab · from ayah 11

33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا ۟هُنَالِكَ ابۡتُلِىَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

There the believers were tested and shaken with a severe shaking.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:11

اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جگہ تھی کہ مسلمانوں کی جانچ ہوئی اور خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُس مقام پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں نہایت سخت جھٹکے دئیے گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے، سخت ہلایا جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس موقع پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور وہ بری طرح ہلا دیئے گئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس وقت اہل ایمان امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دیے گئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(سو اس طرح اس) موقع پر خوب آزمائش کی گئی ایمان والوں کی اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا گیا بڑی سختی سے

— مولانا اسحاق مدنی

اس موقع پر مسلمانوں کا (پورا) امتحان لیا گیا اور وہ سخت زلزلہ میں ڈالے گئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The believers were then put to a severe test and were most violently convulsed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

At that occasion, the believers were put to a trial and were shaken with a violent convulsion.

— Muhammad Taqi Usmani

At that occasion, the believers were put to a trial and were shaken with a violent convulsion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There, the believers were tried and shaken with a mighty shaking.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There were the believers sorely tried, and shaken with a mighty shock.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

There the believers were tested and shaken with a severe shaking.

— Saheeh International

There the believers were tested and tremendously shaken.

— Muhammad Sarwar

There the believers were tried and they were shaken with severe shaking.

— Muhammad Habib Shakir

There were the believers proven and shaken with a mighty shaking

— Abdul Majid Daryabadi

In that situation were the Believers tried: they were shaken as by a tremendous shaking.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–13

منافقوں کا فرار اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃ صلح توڑ کر بےچینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول ﷺ کے وعدے دیکھ لئے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو ؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹولوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 21 ایمان لانے والوں سے مراد یہاں وہ سب لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان کر اپنے آپ کو حضور ﷺ کے پیروؤں میں شامل کیا تھا، جن میں سچے اہل ایمان بھی شامل تھے اور منافقین بھی۔ اس پیراگراف میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے گروہ کا مجموعی طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد کے تین پیرا گرافوں میں منافقین کی روش پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ پھر آخر کے دو پیراگراف رسول اللہ ﷺ اور مومنین صادقین کے بارے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

معارف و مسائل سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان اور مسلمانوں کو آپ کے مکمل اتباع و اطاعت کی ہدایت تھی۔ اسی کی مناسبت سے یہ پورے دو رکوع قرآن کے غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق نازل ہوئے ہیں، جس میں کفار و مشرکین کی بہت سی جماعتوں کا مسلمانوں پر یکبارگی حملہ اور سخت نرغہ کے بعد مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور رسول اللہ ﷺ کے متعدد معجزات کا ذکر ہے۔ اور اس کے ضمن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بہت سی ہدایات اور احکام ہیں۔ انہی بےبہا ہدایات کی وجہ سے اکابر مفسرین نے اس جگہ واقعہ احزاب کو خاص تفصیل سے لکھا ہے خصوصاً قرطبی اور مظہری وغیرہ نے۔ اس لئے واقعہ احزاب کی کچھ تفصیل مع ان ہدایات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھنالک ابتلی المومنون ولزلوا زلزالا شدید (11) یعنی ان حالات نے اہل ایمان کو بڑی ہی سخت آزمائش میں ڈال دیا اور وہ نہایت ہی بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے۔ ایک طرف ہی جانب سے دشمنوں کی یورش اور دوسری طرف اپنی صفوں کے اندر ایسے لوگ کا وجود جو ان حالات کو دیکھ کر بالکل ہی ہمت ہار بیٹھے اور طرح طرح کے شہات ظاہر کرنے لگے۔ لیکن کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لئے اہل ایمان کو اس قسم کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11-1یعنی مسلمانوں کو خوف، قتال، بھوک اور محاصرے میں مبتلا کر کے ان کو جانچا پرکھا گیا تاکہ منافق الگ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

11: اوپر سے مراد تو وہ متحدہ محاذ کا لشکر ہے جو خندق کے پار محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور نیچے سے مراد بنو قریظہ ہیں جنہوں نے اندر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ 12: سخت آزمائش کی اس گھڑی میں غیر اختیاری طور پر مختلف وسوسے دل میں آیا کرتے ہیں، یہ انہی وسوسوں کا بیان ہے جن سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حضرت حذیفہ کو آپ نے دشمن کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا۔ اس کا مفصل قصہ حدیث میں پڑھو تو اس جھڑ جھڑانے کی کیفیت کا کچھ اندازہ ہو۔ یہاں ترجمہ کی گنجائش نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْازِلْزَالًا شَدِیْدًا } ”اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے۔“ اس شدید آزمائش کا نتیجہ یہ نکلا کہ منافقین کے اندر کا خبث ان کی زبانوں پر آگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–11

14 جنگ احزاب کے اصل محرک خیبر میں پناہ گزین یہودی تھے :۔ آیت نمبر 9 سے لے کر آیت نمبر 27 تک جنگ احزاب کا یا جنگ خندق کا بیان ہے۔ مگر اس میں تسلسل کا وہ انداز نہیں جو ایک انسان یا مورخ کے بیان یا اس کی تصنیف میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جنگ کے اسباب بیان کرے گا۔ پھر واقعات کی تفصیل بتائے گا پھر اس کے بعد اس کے نتائج پر تبصرہ کرے گا۔ لیکن قرآن کا انداز بیان اس سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ لہذا اس مخصوص انداز بیان سے اس جنگ کے بیان کا آغاز کیا گیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرمانبردار صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–12

26۔ اہل ایمان کی پختگی و استقامت کی یہ پوری اور سخت آزمائش تھی، شدید سردی کا موسم تھا، غلہ کی گرانی وکمیابی تھی۔ صحابہ بلکہ خود رسول اللہ ﷺ تک بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے، اس پر بھی ہمت و استقلال کا یہ عالم تھا کہ سنگلاخ زمین کی کھدائی بغیر کسی ” سفر مینا “ کی پلٹن کے، بغیر (Sappers And Miner) کے کسی دستے کے، اپنے ہاتھ سے جاری تھی، ظاہری مغلوبیت وبیچارگی کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک میں پھاؤ ڑا لے کر ایک پتھر پر جو ضرب لگائی تو آگ کے شرارے پیدا ہوئے اور ایسا تین بار ہر ہر ضرب پر ہوا۔ اس روشنی میں آپ ﷺ کی نگاہ کشفی کو ایران اور شام اور یمن کے محل دکھائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

آیت نمبر 9 تا 20 ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھنا لک ابتلی الأومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا . اس موقع پر مسلمانوں کا امتحان لیا گیا اور ان کو سخت جھنجھوڑ دی گئی۔ امتحان اس لئے لیا گیا کہ مخلص ‘ قوی ایمان والوں کو چھانٹ لیا جائے اور منافقوں کو اور کمزور ایمان والوں کو الگ کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

اس خوف کے موقع پر مسلمانوں کا پورا امتحان کیا گیا اور خوب مشقت اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔ اور جبکہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی اور وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا مرض ہے یعنی معتب بن قشیر اور اس کے ساتھ یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فتوحات کے بارے میں محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ امتحان ہوجائے کہ ایسے سخت حالات میں کون ایمان پر قائم رہتا ہے اور کس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا : چاروں طرف سے لشکروں کے ہجوم اور شہر کے اندر سے بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر سے مسلمانوں کی یہ حالت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اس وقت خوف کی حالت کا اور مسلمانوں کی جانفشانی کا اندازہ زبیر اور حذیفہ ؓ کے بیانات سے ہوتا ہے۔ جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا : (مَنْ یَأْتِیْنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟) ”کون ہے جو ہمارے پاس ان (بنو قریظہ کے یہودی) لوگوں کی خبر لائے ؟“ زبیر ؓ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھنا یہ ظرف مکان قریب کے لیے ہے اور ھنالک ظرف مکان بعید کے لیے ہے۔ ھناک ظرف مکان درمیانی کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ وقت کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے یعنی اس موقع پر مومنوں کو آزمایا گیا تاکہ مخلص منافق سے ممتاز ہوجائے۔ یہ آزمائش خوف، قتال، بھوک، محصوری اور دشمنوں کے آنے کی صورت میں تھی۔ آیت وزلزلو زلزالا شدیدا یعنی انہیں حرکت دی گئی۔ زجاج نے کہا : مضاعف کا مصدر ضلال کے وزن پر ہوتا ہے۔ اس میں فاء کلمہ پر فتحہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں، جس طرح یہ جملہ ہے : قلقلتہ قلقالا وقلقالا زلزلوا زلزالا وزلزالا کسرہ زیادہ مناسب ہے، کیونکہ غیر مضاعف کا مصدر کسرہ کے ساتھ آتا ہے۔ جس طرح دحرجتہ دحراجا عام قراءت راء کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–12

غزوہ احزاب کا تذکرہ 1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ وابن عساکر وابو نعیم والبیہقی کلاہما فی الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم صف باندھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو سفیان اور اس کے لشکر ہمارے اوپر تھے اور قبیلہ قریظہ کے یہودی ہماری جانب تھے ہم ان سے ڈر رہے تھے اپنے بچوں کے بارے میں ہم ایسی سخت اندھیری رات کبھی نہیں آئی اور نہ اس سے زیادہ تیز ہواوالی تھی اور ا سہوا کی آوازیں بجلی کڑک کی طرح تھیں اور یہ ایسا اندھیرا تھا کوئی اس میں سے اپنی انگلی کو نہیں دیکھ رہا تھا اور منافقوں نے نبی ﷺ سے اجازت لینا شروع کی اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور وہ غیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُنَالِكَ [وہیں ] ابْتُلِيَ [آزمائے گئے ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ایمان لانے والے ] وَزُلْزِلُوْا [اور ہلا مارے گئے ] زِلْزَالًا شَدِيْدًا [شدت سے ہلا مارنا ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

دشمنوں کا خندق پار کرنے سے عاجز ہونا خندق کو دیکھ کر مشرکین مسلمانوں تک پہنچ تو نہ سکے جس سے آمنے سامنے ہو کر دونوں لشکروں کی جنگ ہوتی لیکن اپنی جگہ سے جلدی واپس بھی نہیں ہوئے اپنی جگہ پر جمے رہے، ان کا اپنی جگہ پر جمے رہنا تقریباً ایک مہینہ تک تھا، گو وہ خندق پار نہیں آسکتے تھے لیکن انہیں چھوڑ کر چلے جانے کا بھی موقع نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ پر مقیم رہے، اس موقعہ پر مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی، سردی بھی تھی، کھانے پینے کا انتظام بھی نہ تھا اور خندق بھی اس حال میں کھودی کہ بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے تھے پھر دشمن کے مقابلہ میں اتنا لمبا پڑاؤ ڈالنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ ھنالک الخ، اس موقع پر ایمان والوں کو کڑی آزمائش میں ڈالا گیا۔ اور شدت خوف سے ان کے دل ہلا دئیے گئے۔ مخلص ومنین شدت خوف اور اضطراب شدید کے باوجود ثابت قدم رہے۔ ان کے ایمان ویقین اور وعدہ خداوندی پر اطمینان میں ذرہ بھر فرق نہ آیا۔ جب کہ منافقین نے اللہ کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں کیں۔ اور اپنے نفاق کا بھانڈا چورا ہے میں پھوڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ، جو اس نے اپنے انبیاء سے عالم ارواح میں لیا تھا۔ ان میں سے پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر اللہ نے خاص طور پر کیا۔ ان سب سے یہ پکا عہد لیا گیا تھا کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا زمانہ پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے اور مجموعی طور پر تمام انبیاء کا پختہ عہد یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب انبیاء نے یہ عہد کرلیا تو ہر امتی رپ بھی یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ آخری نبی پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے یہ عہد اس لئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا۝ 11 بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–12

واذا زاغت الابصار کہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں جیسا کہ ڈر کے وقت ہوا کرتا ہے۔ وبلغت القلوب الحناجر اور دل گلوں تک پہنچ گئے تھے۔ یہ ایک محاورہ عرب کی بات ہے۔ شدت خوف کے وقت یہ کہا کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ ناک میں دم آگیا تھا یا کہا کرتے ہیں دل باہر نکل پڑے تھے۔ کلیجہ پانی ہوگیا تھا، اس پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا اور تم اللہ سے طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے، بس سچیّ ایماندار تو یہی کہتے تھے ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ضرور اسلام فتح یاب ہوگا اور منافق کہتے ہم مصیبت میں پڑگئے اور برے گمان دل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالاً شَدِیْدً ۔ (الاحزاب : 11) (اس وقت اہل ایمان امتحان میں ڈالے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔ ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسی قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تک وہ اپنے چاہنے والوں کی اچھی طرح آزمائش نہیں کرلیتا اس وقت تک اس کی طرف سے نصرت نہیں اترتی۔ اور یہ آزمائش اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید نہیں جانتا بلکہ آزمائش سے مقصود کردار کو پختہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے توکل کو دلوں میں راسخ کرنا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی جب بھی کوئی شخص یا گروہ اللہ تعالیٰ سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ ایک ایسی محبت کا دعویٰ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : اصولی اور بنیادی ہدایات دینے کے بعد اب اس سورة کے عنوان اور واقعات پر خطاب شروع ہوتا ہے۔ قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں واقعات کو انہی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے جس طرح وہ رونما ہوئے ہوں۔ قرآن مجید بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے جس میں انسان کی زندگی کے بارے میں کامل اور اکمل ہدایات کا انتظام کیا گیا ہے یہی وجہ ہے قرآن کسی واقعے کو محض واقعاتی انداز میں بیان نہیں کرتا اس لیے غزوہ احزاب کا خلاصہ بیان کرنے سے پہلے بنیادی ہدایات دی گئیں اور مسلمانوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ دشمن کے اس قدر ہمہ جہت حملہ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کامیابی عنایت فرمائی۔ یہ ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1: ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ (اس موقع پر ایمان والوں کا امتحان لیا گیا) ایمان پر ثابت قدم رہنے کا امتحان لیا گیا۔ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالاً شَدِیْدًا (اور ان کو سخت جھنجھوڑا گیا) خوف کے باعث ان کو خوب ہلایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 11۔ ، ھنالک ابتلی ، اس موقع پر مسلمانوں کا امتحان لیا گیا اور ان کو سخت جھنجھوڑدی گئی۔ ، المؤمنون، امتحان اس لیے لیا گیا تا کہ مخلص مسلمان ، ایمان والوں کو چھانٹ لیا جائے اور منافقوں کو اور کمزور ایمان والوں کو الگ کردیا جائے ۔ ، وزلزلوا زلزالا شدیدا، اور ان کو سخت جھنجھوڑدی گئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–17

9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–11

آیت نمبر : 11 ۔ 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انہیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے اور حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے ‘ وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کرلیا۔ معاملہ بہت سخت ہوگیا ‘ کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–20

نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–12

23 غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب چڑھ آئے تم پر وہ لوگ۔ یعنی تمہارے دشمن ۔ تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے۔ اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اوپر سے مراد مدینہ کی مشرقی جانب ہو جدہر سے غطفان وغیرہ حملہ آور ہوئے تھے اور نیچے سے مراد وہ جانب ہو جدھر سے قریش وغیرہ آئے تھے۔ بہرکیف یہ غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے واضح ہوسکے کہ منظر کتنا ہولناک اور کس قدر مہیب اور خوفناک تھا تاکہ ان مہیب اور ہولناک اندھیروں میں خداوند قدوس کی طرف سے ملنے والی اس نصرت و امداد کی عظمت و اہمیت سے پوری طرح واضح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20: اسرارو معارف اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔ غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی ان کا خوب امتحان لیا گیا کہ ایسے سخت حالات میں کون ایمان پر جما رہتا ہے اور کس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:11) ھنالک۔ اسم ظرف مکان و زمان۔ اس جگہ ، وہاں ۔ اس وقت۔ اس موقع پر ۔ ابتلی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ابتلاء (افتعال) مصدر، وہ آزمایا گیا اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ المؤمنون ہے لہٰذا ترجمہ ہوگا۔ اس موقعہ پر ایمان والوں کو خوب آزما لیا گیا۔ زلزلوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ وہ ہلا ڈالے گئے۔ وہ جھنجھوڑے گئے۔ زلزالا مصدر۔ زلزل یزلزل کا مصدر ہے۔ بحالت نصب۔ اس کو زلزال کی کیفیت کی شدت اور اس کی تکرار کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ان کو بار بار جھنجھوڑا گیا۔ وہ بار بار ہلا ڈالے گئے شدیدا بمعنی سخت۔ شد سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا سیغہ ہے زلزالا کی صفت میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–13

لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13 جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر ریح : ہوا، آندھی لم تروا : تم نے نہیں دیکھا فوق : اوپر زاغت : کھلی رہ گئی الحناجر : کلیجہ ھنالک : اسی جگہ غرور : دھوکا۔ فریب ارجعوا : تم لوٹ جاؤ یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے عورۃ : غیر محفوظ فرار : بھاگنا تشریح : آیت نمبر 9 تا 13 مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–17

غزوہ خندق کابیان۔ (ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–12

[16] یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

غزوہ احزاب 1: مسلمانوں نے جب مکہ چھوڑا اور مدینہ کو اپنی تگ ودو کا مرکز بنایا ۔ تو مکہ والوں کو یہ بہت ناگوار ہوا ۔ وہ تو یہ سمجھتے تھے ۔ کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ اور اب یہ مسافرت میں عسرت اور بےچینی سے زندگی بسر کرینگے ۔ مگر ہوا یہ کہ مسلمانوں کو آرام اور دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مستحکم کرنے کا موقع مل گیا ۔ بدر کی جنگ میں پہلی دفعہ قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ کہ ہم نے مسلمانوں کو ہجرت پر آمادہ کرکے کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ مسلمان اس طرح اور زیادہ مضبوط ہوگئے ۔ چناچہ بدر کے بعد وہ متواتر اس کوشش میں رہے کہ حضور ﷺ کی مخالفت میں ایک متحدہ محاذ قائم کریں ۔ اور ساری قوم کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

11۔ اس موقع پر ایمان والوں کی آزمائش کی گئی اور وہ نہایت سختی کے ساتھ جھڑ جھڑائے گئے ۔ یعنی سخت ابتلاء میں مبتلا ہوئے اور سخت زلزلے میں ڈالے گئے زلزلہ فرمایا جنگ اور جنگ کی پریشانیوں کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

ف 1۔ خلاصہ اس واقعہ کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تھا، انہوں نے سنہ چار یا پانچ ہجری میں قبائل عرب کو بہکایا، اور سب دس بارہ ہزار آدمی مدینہ پر چڑھ آئے، آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوالی، اور تین ہزار آدمیوں سے مقابل ہوئے قریب ایک ماہ کے یہ محاصرہ رہا، آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہرا ایک آندھی اور باطنا ایک لشکر سے سب کفار کو منتشر اور منہزم کردیا، چونکہ یہودی بنی قریظہ نے اپنے معاہدہ کے برخلاف ان محاصرین کو مدد دی تھی اس لئے آپ بمجرد فراغ غزوہ احزاب کے ان کے مقابلہ کے لئے چلے، وہ اول قلعہ بند ہوگئے اور بیس پچیس روز تک محصور رہے، پھر آخر تنگ ہو کر نکلے اور بعضے قید کئے گئے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وقت امتحان کا تھا جو ایمان والوں کے دلوں کو بھی سخت جھٹکے دے رہا تھا 11) بلا شبہ انہی لوگوں میں سچے اور پکے ایمان کے لوگوں کا بھی ایک گروہ موجود تھا جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے وعدوں پر پکا یقین تھا ، حالان اگرچہ حوصلہ شکن تھے ، فضا اگرچہ خطرات کے مہیب بادلوں سے بھری پڑی تھی ، محصورین میں منافقین کا گورہ اندھا دھند خبریں گھڑنے اور ان کو پھیلانے میں مصروف تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود ان وفا کشوں کے عزم وثبات میں ذرا فرق نہ آیا بلکہ ان کی ایمانی طاقت وقوت ان لوگوں کی غلط خبروں سے مزید بڑھ گئی اور وہ اس مخالف آندھی سے گھبرانے کی بجائے صبر وثبات کے پہاڑ بن گئے۔ بلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

Commentary Identified in the previous verses was the great station of the Holy Prophet ﷺ along with the instruction to Muslims that they should follow and obey him totally and perfectly. Congruent to this, these two full sections of the Qur'an have been revealed about the event of the battle of al-Ahzab. Mentioned therein is the simultaneous attack of the combined forces of many groups of disbelievers and polytheists, their threatening encirclement, the subsequent blessings bestowed on Muslims by Allah Ta’ ala and the several miracles that issued forth at the hands of the Holy Prophet ﷺ .…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 "The believers" : All those who accepted the Holy Prophet as Allah's Messenger and became included among his followers, which comprised both the true believers and the hypocrites. In this paragraph Allah has made mention of the Muslim community as a whole. In the following three paragraphs the attitude of the hypocrites has been commented upon, and the next two deal with the Holy Prophet and the true believers.

Read the full tafseer →