Explained with ayahs 11–13
منافقوں کا فرار
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃ صلح توڑ کر بےچینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول ﷺ کے وعدے دیکھ لئے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو ؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹولوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 22
یعنی اس امر کے وعدے کہ اہل ایمان کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہوگی اور آخر کار غلبہ انہی کو بخشا جائے گا۔
Read the full tafseer →منافقین کی طعنہ زنی اور مسلمانوں کا بےنظیر یقین ایمانی
اس وقت جو منافقین خندق کی کھدائی میں شامل تھے، وہ کہنے لگے کہ تمہیں محمد ﷺ کی بات پر حیرت و تعجب نہیں ہوتا۔ وہ تمہیں کیسے باطل اور بےبنیاد وعدے سنا رہے ہیں کہ یثرب میں خندق کی گہرائی کے اندر انہیں حیرہ اور مدائن کسریٰ کے محلات نظر آ رہے ہیں، اور یہ کہ تم لوگ ان کو فتح کرو گے۔ ذرا اپنے حال کو تو دیکھو کہ تمہیں اپنے تن بدن کا تو ہوش نہیں، پیشاب پاخانے کی ضرورت پوری کرنے کی مہلت نہیں، تم ہو جو کسریٰ وغیرہ کے ملک کو فتح کرو گے۔ اس واقعہ پر آیات مذکور الصدر میں یہ نازل ہوا (آیت) اذایقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ…
Read the full tafseer →واز یقول المنفقون والذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا (12)
اب اس اجمال کی تفصیل آرہی ہے جو تظنون باللہ الظنونا، ا کے اندر مضمر ہے، یعنی جو منافق اور اسلام کے خلاف بغض وعناد رکھنے والے تھے، انہوں نے مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لئے، ان کے اندر یہ پھیلانا شروع کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ سب محض فریب ثابت ہوئے۔ روایات میں اس گروہ کے بعض اشرار کی یہ پھبتی بھی نقل ہوئی ہے کہ ’ محمد ﷺ تو ہمیں یہاطمینان دلا رہے تھے کہ ہم کسری و قیصر کے خزانوں پر قبضہ کریں گے اور یہاں حال یہ ہے کہ گھر سے قضائے حاجت کے لئے نکلنا ناممکن ہو رہا ہے۔“ غور کیجئے کہ ایک طرف دشمنوں…
Read the full tafseer →12-1یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ایک فریب تھا۔ یہ تقریباً ستر منافقین تھے جن کی زبانوں پر وہ بات آگئی جو دلوں میں تھی۔
Read the full tafseer →13: مستند روایات میں ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ جس جگہ خندق کھود رہے تھے وہاں ایک سخت چٹان بیچ میں آگئی جو کسی طرح ٹوٹ نہیں رہی تھی، آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ بہ نفس نفیس وہاں تشریف لے گئے، اور اپنے دست مبارک میں کدال لے کر یہ آیت پڑھی : وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا : اور کدال سے چٹان پر ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی اور اس میں سے ایک روشنی نمودار ہوئی جس میں آپ کو یمن اور کسری کے محلات دکھائے گئے، پھر دوسری ضرب لگاتے وقت آپ نے اسی آیت کو پورا پڑھا وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا : اس پر چٹان کا ایک حصہ ٹوٹا اور دوبارہ روشنی ظاہر ہوئی جس میں آپ نے روم کے محلات دیکھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13)
یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور…
Read the full tafseer →10 بعض منافق کہنے لگے کہ پیغمبر ﷺ کہتے تھے کہ میرا دین مشرق و مغرب میں پھیلے گا اور فارس، روم، صنعاء کے محلات مجھ کو دیے گئے۔ یہاں تو مسلمان قضائے حاجت کو بھی نہیں نکل سکتے۔ وہ وعدے کہاں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے اب بھی ناامیدی کے وقت بےایمانی کی باتیں نہ بولیں۔
Read the full tafseer →آیت 12{ وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا } ”اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔“
یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ محض فریب نکلے۔ ہمیں تو انہوں نے سبز باغ دکھا کر مروا دیا۔ ہم سے تو کہا گیا تھا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہوجائیں گی ‘ مگر اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے سے عاجز ہیں۔ ظاہر ہے اس…
Read the full tafseer →15 منافقوں کے مسلمانوں کو طعنے :۔ جب بنو قریظہ بھی مسلمانوں سے بدعہدی پر آمادہ ہوگئے تو اب مسلمانوں کے لئے اندر اور باہر ہر طرف دشمن ہی دشمن تھے۔ اس تشویشناک صورت حال میں منافقوں نے مسلمانوں ہی کو یہ طعنے دینا شروع کردیئے کہ تم تو ہمیں یہ بتاتے تھے کہ ہمیں قیصر و کسریٰ کے خزانے ملیں گے اور یہاں یہ صورت حال ہے کہ رفع حاجت کو جانے میں بھی جان کی سلامتی نظر نہیں آتی دراصل منافقوں کا خیال کچھ ایسا تھا کہ بس ان کے ایمان کا دعویٰ کرنے کی دیر ہے کہ آسمان سے فرشتے اتر پڑیں گے۔ اور ان کی تاج پوشی کی رسم ادا کریں گے۔ انھیں انگلی تک بھی ہلانے کی نوبت نہ آئے گی۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ ایمان لانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
26۔ اہل ایمان کی پختگی و استقامت کی یہ پوری اور سخت آزمائش تھی، شدید سردی کا موسم تھا، غلہ کی گرانی وکمیابی تھی۔ صحابہ بلکہ خود رسول اللہ ﷺ تک بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے، اس پر بھی ہمت و استقلال کا یہ عالم تھا کہ سنگلاخ زمین کی کھدائی بغیر کسی ” سفر مینا “ کی پلٹن کے، بغیر (Sappers And Miner) کے کسی دستے کے، اپنے ہاتھ سے جاری تھی، ظاہری مغلوبیت وبیچارگی کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک میں پھاؤ ڑا لے کر ایک پتھر پر جو ضرب لگائی تو آگ کے شرارے پیدا ہوئے اور ایسا تین بار ہر ہر ضرب پر ہوا۔ اس روشنی میں آپ ﷺ کی نگاہ کشفی کو ایران اور شام اور یمن کے محل دکھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →واذ یقول المنفقون . اور جبکہ منافق کہہ رہے تھے۔
یہ منفق معقب بن قشیر اور عبد اللہ بن ابی وغیرہ تھے۔
والذین فی قلوبھم مرض . اور وہ لوگ بھی جن کے دلوں مرض تھا (کہہ رہے تھے) یعنی اعتقاد کی کمزوری اور بزدلی تھی۔
ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا . کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدہ کیا تھا ‘ وہ محض دھوکہ تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ قول اہل نفاق کا تھا۔ منافقوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو ملک شام وفارس کے محلات کی فتح کا وعدہ دے رہے ہیں باوجودیکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ڈر کے مارے ہم میں سے کوئی بھی اپنے پڑاؤ سے ہٹ نہیں سکتا۔ خدا کی قسم ! یہ وعدہ محض فریب ہے۔ ابن ابی حاتم نے بھی سدی کی روایت سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اس خوف کے موقع پر مسلمانوں کا پورا امتحان کیا گیا اور خوب مشقت اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔ اور جبکہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی اور وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا مرض ہے یعنی معتب بن قشیر اور اس کے ساتھ یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فتوحات کے بارے میں محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ۔۔ :”يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا“ سے لے کر آیت (27) تک کی آیات غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنو قریظہ کے بعد نازل ہوئیں۔ ان میں دونوں جنگوں کا تذکرہ ہوا ہے۔ پچھلی آیت تک ایمان والوں کے خوف، آزمائش اور سخت جھنجوڑے جانے کا ذکر ہوا ہے، جس کے دوران ان کے دلوں میں طرح طرح کے گمان بھی آتے رہے، مگر ان کی زبان پر کفر یا مایوسی کا کوئی لفظ نہیں آیا۔ اب اس دوران منافقین کے رویے اور ان کی منافقانہ باتوں کا ذکر ہوتا ہے، جن سے ان کا نفاق کھل کر سب کے سامنے آگیا۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ساتھ ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دلوں میں بیماری ہے۔…
Read the full tafseer →مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ آیت غرورا سے مراد باطل قول ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طعمہ بن ابیرق، معتب بن قشیر اور ایک جماعت جن کی تعداد ستر کے قریب تھی انہوں نے غزوئہ خندق کے موقع پر کہا تھا : آپ ﷺ ہم سے کسری اور قیصر کے خزانوں کا کیسے وعدی کرتے ہیں جب کہ ہم میں سے کوئی قضائے حاجت بھی نہیں کرسکتا ؟ انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب صحابہ اکرام میں یہ بات عام ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے چٹان پر ضرب لگائی تھی جس طرح امام نسائی کی حدیث میں یہ پہلے گزرچکا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
غزوہ احزاب کا تذکرہ
1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ وابن عساکر وابو نعیم والبیہقی کلاہما فی الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم صف باندھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو سفیان اور اس کے لشکر ہمارے اوپر تھے اور قبیلہ قریظہ کے یہودی ہماری جانب تھے ہم ان سے ڈر رہے تھے اپنے بچوں کے بارے میں ہم ایسی سخت اندھیری رات کبھی نہیں آئی اور نہ اس سے زیادہ تیز ہواوالی تھی اور ا سہوا کی آوازیں بجلی کڑک کی طرح تھیں اور یہ ایسا اندھیرا تھا کوئی اس میں سے اپنی انگلی کو نہیں دیکھ رہا تھا اور منافقوں نے نبی ﷺ سے اجازت لینا شروع کی اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور وہ غیر…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَقُوْلُ [اور جب کہتے تھے ] الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ [منافق اور وہ لوگ ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [مرض تھا ] مَّا وَعَدَنَا [نہیں وعدہ کیا ہم سے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ [اللہ نے اور اس کے رسول نے ] [ اِلَّا غُرُوْرًا : مگر دھوکوں کا ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 12 میں منافقوں کا قول گزر چکا ہے کہ دشمنوں کے ہجوم کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو وعدے ہم سے کئے گئے وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ اب آیت۔ 22 میں ان کے مقابل میں سچے مسلمانوں کا تاثر بیان ہوا ہے کہ انہوں نے دشمنوں کے نرغہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو وہی امتحان ہمیں پیش آیا ہے جس کی اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →منافقین کی بد عہدی اور شرارتیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے جس میں منافقین کی قولی اور عملی غداری کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کی مخالفانہ اور بزدلانہ حرکتوں کو بیان کیا ہے۔
پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا (جو ضعیف الاعتقاد تھے) انہوں نے یوں کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ محض ایک دھوکہ ہے، مفسرین نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خندق کھودتے وقت بشارت دی کہ تم حیرہ کے محل اور کسریٰ کے شہر اور یمن کے شہر اور روم کے محل فتح کرو گے، تو اس پر منافقین نے کہا لو دیکھ لو ! یہاں کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے، خندق کھودی جا رہی ہے، ذرا بھی باہر نہیں جاسکتے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →18:۔ واذ یقول الخ، یہ اذ زاغت پر معطوف ہے (روح) ۔ والذین فی قلوبھم مرض سے منافقین ہی مراد ہیں اور عطف تغایر و صف کی سے ہے۔ جوز ان یکون المراد بہم المنافقین انفسہم والعطف لتغایر الوصف (روح ج 21 ص 158) ۔ غزوہ خندق میں حضور ﷺ نے ایک پتھر کو توڑنے کے لیے اس کو ضرب لگائی تو اس میں سے بجلی کی سی روشنی اور چمک نمودار ہوئی۔ اس وقت آپ نے تمام صحابہ ؓ کو فارس، روم، یمن اور حبشہ کی فتح کی خوشخبری دی۔ یہ بات منافقین نے بھی سنی تو بطور استہزاء و تمسخر کہنے لگے۔ محمد ﷺ ہمیں قیصر و کسری کے خزانوں پا پر قابض ہونے کی خبر دیتا ہے۔ اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں جاسکتے۔ اس لیے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ، جو اس نے اپنے انبیاء سے عالم ارواح میں لیا تھا۔ ان میں سے پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر اللہ نے خاص طور پر کیا۔ ان سب سے یہ پکا عہد لیا گیا تھا کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا زمانہ پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے اور مجموعی طور پر تمام انبیاء کا پختہ عہد یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب انبیاء نے یہ عہد کرلیا تو ہر امتی رپ بھی یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ آخری نبی پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے یہ عہد اس لئے…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا 12
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
نِّفَاقُ
، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
واذا زاغت الابصار کہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں جیسا کہ ڈر کے وقت ہوا کرتا ہے۔ وبلغت القلوب الحناجر اور دل گلوں تک پہنچ گئے تھے۔ یہ ایک محاورہ عرب کی بات ہے۔ شدت خوف کے وقت یہ کہا کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ ناک میں دم آگیا تھا یا کہا کرتے ہیں دل باہر نکل پڑے تھے۔ کلیجہ پانی ہوگیا تھا، اس پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا اور تم اللہ سے طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے، بس سچیّ ایماندار تو یہی کہتے تھے ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ضرور اسلام فتح یاب ہوگا اور منافق کہتے ہم مصیبت میں پڑگئے اور برے گمان دل…
Read the full tafseer →وَاِذْیَـقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ مَّاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗٓ اِلاَّ غُرُوْرًا۔ (الاحزاب : 12)
(یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کیے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔ )
منافقین کی ریشہ دوانیاں
کفار کی متحدہ طاقت نے مسلمانوں پر یلغار کرکے جو انتہائی نازک صورتحال پیدا کردی تھی جس کا شدید اثر مسلمانوں پر تھا اور مسلمان اس خطرے کا دفاع کرتے ہوئے بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے تھے، اسی کیفیت کو مزید واضح کرتے ہوئے پریشانی کے اسباب میں سے ایک اور سبب کا ذکر فرمایا جارہا ہے وہ یہ کہ جن فوجی قوتوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ احزاب میں منافقوں کا کردار۔
منافقت انسان کے دل کی بیماری ہے جس کے اثرات انسان کے اخلاق اور کردار پر ضرور ظاہر ہوتے ہیں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں پر مشکل وقت آئے تو منافق کی منافقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ایسے موقعہ پر منافق کی ہمدردیاں کفار اور مشرکین کے ساتھ ہوجایا کرتی ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کا اس وقت ساتھ چھوڑا جب کفار احد کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی منافقوں کی ہمدردیاں مدینہ کے یہودیوں اور اہل مکہ کے ساتھ تھیں۔ منافقوں نے دیکھا کہ دس ہزار کا لشکر مدینہ پر امڈ آیا ہے اور مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے خندق کھودنے…
Read the full tafseer →12: وَاِذْیَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ (اور جب منافقین کہہ رہے تھے) اسکا پہلے اذؔ پر عطف ہے۔ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ ( اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے) ایک قول یہ ہے یہ منافقین کا ہی وصف ہے۔ جو وائو کے ساتھ اس طرح لایا گیا جیسا اس قول میں۔
؎ الی الملکِ القرم وابن الھمام ٭ و لیثِ الکتیبۃِ فی المزدحم
الملک القرم اور ابن الھمام سے ایک ہی شخص مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دین میں کوئی سمجھ بوجھ نہ تھی۔ منافقین ان کو شبہات ڈال کر اپنی طرف مائل کرتے۔ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْرًا (ہم سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے محض دھوکا ہی کا وعدہ کر رکھا…
Read the full tafseer →12، واذیقول المنا فقون ، یہ منافق معتب بن قشیر اور عبداللہ بن ابی وغیرہ تھے۔ ، والذین فی قلوبھم مرض، وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور اپنے اعتقاد کی کمزوری کی وجہ سے ، ماوعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا، یہ اہل نفاق کا قول ہے کہ منافقوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو ملک شام اور فارس کے محلات کی فتح کا وعدہ دے رہے ہیں باوجود یکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ڈر کے مارے ہم میں سے کوئی بھی اپنے پڑاؤ سے ہٹ نہیں سکتا۔ خدا کی قسم یہ وعدہ محض فریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 12
یہ منافق کی عادت ہے کہ مصیبت اور امتحان کے وقت اس کا ایمان قائم نہیں رہتا۔ وہ موجودہ حالت میں اپنی کوتاہ عقل سے غور کرتا ہے اور اپنے ناقص گمان کی تصدیق کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
23 غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب چڑھ آئے تم پر وہ لوگ۔ یعنی تمہارے دشمن ۔ تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے۔ اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اوپر سے مراد مدینہ کی مشرقی جانب ہو جدہر سے غطفان وغیرہ حملہ آور ہوئے تھے اور نیچے سے مراد وہ جانب ہو جدھر سے قریش وغیرہ آئے تھے۔ بہرکیف یہ غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے واضح ہوسکے کہ منظر کتنا ہولناک اور کس قدر مہیب اور خوفناک تھا تاکہ ان مہیب اور ہولناک اندھیروں میں خداوند قدوس کی طرف سے ملنے والی اس نصرت و امداد کی عظمت و اہمیت سے پوری طرح واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 9 کہتے ہیں کہ تقریباً ستر منافقین تھے جو اس قسم کی باتیں کرنے لگے۔ ( فتح القدیر) ۔
Read the full tafseer →(33:12) واذا یقول المنفقون۔ اس کا عطف اذزاعت الابصار پر ہے۔ یا اس کی تقدیر یوں بھی ہوسکتی ہے اذکراذ یقول المنفقون یاد کر جب منافقین کہہ رہے تھے۔
والذین فی قلوبھم مرض اور وہ جن کے دلوں میں مرض تھا۔ اس سے مراد منافقین کے علاوہ کوئی گردہ تھا جن کی طرف منافقین مائل تھے تاکہ ان کے مشتبہ ظاہر کیا جاوے یا اس سے مرادوی ضعیف الاعتقاد مسلم تھے جو عنقریب ہی ایمان لائے تھے۔ یا اس سے مراد خود منافقین بھی ہوسکتے ہیں اور عطف محض تغایر و صف کے لئے ہے۔
ما وعدنا اللہ میں ما نافیہ ہے۔
غرورا مصدر و اسم ، جھوٹی امید۔ دھوکہ ۔ دھوکہ دینا۔ غر بھولا ۔ فریب خوردہ۔ ناتجربہ کار۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13
جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر
ریح : ہوا، آندھی
لم تروا : تم نے نہیں دیکھا
فوق : اوپر
زاغت : کھلی رہ گئی
الحناجر : کلیجہ
ھنالک : اسی جگہ
غرور : دھوکا۔ فریب
ارجعوا : تم لوٹ جاؤ
یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے
عورۃ : غیر محفوظ
فرار : بھاگنا
تشریح : آیت نمبر 9 تا 13
مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
[16] یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
غزوہ احزاب
1: مسلمانوں نے جب مکہ چھوڑا اور مدینہ کو اپنی تگ ودو کا مرکز بنایا ۔ تو مکہ والوں کو یہ بہت ناگوار ہوا ۔ وہ تو یہ سمجھتے تھے ۔ کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ اور اب یہ مسافرت میں عسرت اور بےچینی سے زندگی بسر کرینگے ۔ مگر ہوا یہ کہ مسلمانوں کو آرام اور دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مستحکم کرنے کا موقع مل گیا ۔ بدر کی جنگ میں پہلی دفعہ قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ کہ ہم نے مسلمانوں کو ہجرت پر آمادہ کرکے کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ مسلمان اس طرح اور زیادہ مضبوط ہوگئے ۔ چناچہ بدر کے بعد وہ متواتر اس کوشش میں رہے کہ حضور ﷺ کی مخالفت میں ایک متحدہ محاذ قائم کریں ۔ اور ساری قوم کی…
Read the full tafseer →12۔ اور یہ وہ وقت تھا جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ اور بیماری ہے یوں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ صرف فریب اور محض دھوکا تھا۔
منافقوں کا ہمیشہ قاعدہ ہے کہ امتحان کے وقت ان کے منہ سے کمزوری اور کفر کی باتوں کا اظہار ہوتا ہے چناچہ ان ہی لوگوں کے منہ سے یہ نکلا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ نہیں کیا مگر فریب اور دھوکہ دیا ۔
منافقین اور والذین فی قلوبھم مرض میں عطف تفسیری ہے منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں نفاق کا مرض ہے بعض نے کہا والذین فی قلوبھم مرض سے وہ کم سمجھ لوگ مراد ہیں جو منافقین کے شبہ ڈالنے سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں جس منافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 1۔ خلاصہ اس واقعہ کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تھا، انہوں نے سنہ چار یا پانچ ہجری میں قبائل عرب کو بہکایا، اور سب دس بارہ ہزار آدمی مدینہ پر چڑھ آئے، آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوالی، اور تین ہزار آدمیوں سے مقابل ہوئے قریب ایک ماہ کے یہ محاصرہ رہا، آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہرا ایک آندھی اور باطنا ایک لشکر سے سب کفار کو منتشر اور منہزم کردیا، چونکہ یہودی بنی قریظہ نے اپنے معاہدہ کے برخلاف ان محاصرین کو مدد دی تھی اس لئے آپ بمجرد فراغ غزوہ احزاب کے ان کے مقابلہ کے لئے چلے، وہ اول قلعہ بند ہوگئے اور بیس پچیس روز تک محصور رہے، پھر آخر تنگ ہو کر نکلے اور بعضے قید کئے گئے…
Read the full tafseer →منافق جن کے دل روگی تھے اللہ اور اس کے رسول کو بھی مورد الزام ٹھہرایا
12) نفاق کا مرض بہت برا ہے یہاں تک کہ کفر سے بھی برا کیونکہ کافر کے کفر سے باز آنے کی امید ہوتی ہے لیکن منافق کبھی بھی مسلمان نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ بظاہر اپنے آپ کو مسلمان ہی شو کرتا ہے اور بلا شبہ اس مرض میں مبتلا لوگ خود نبی کریم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بھی موجود تھے ۔ اسی لئے زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ جب منافق لوگ اور ایسے حضرات جن کے دلوں میں بیماری اور روگ تھا بلاخوف وخطر صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول محمدرسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی امداد اور ایران وفارس کی فتح کے وعدے کئے تھے حالانکہ وہ سب مکروفریب اور…
Read the full tafseer →Hypocrites throw taunts at Muslims for believing in their Prophet's promises
At that time, the hypocrites who were part of the digging operations of the trench, started asking other Muslims, 'It is strange that you people are not surprised at what Muhammad is telling you. Is it not that he is making all those baseless promises to you in the depth of this trench being dug in Yathrib where he is claiming to be seeing the palaces of Hirah (in the South) and Mada'in (in the North)? And on top of it all, he is telling you that it is you people who are going to conquer them! Just look at yourself.…
Read the full tafseer →22 That is, "Promises to the effect that the believers will get Allah's support and succour and will be helped to attain victory in the end. "
Read the full tafseer →