Explained with ayahs 11–13
منافقوں کا فرار
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃ صلح توڑ کر بےچینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول ﷺ کے وعدے دیکھ لئے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو ؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹولوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 23
اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ظاہری مطلب یہ ہے کہ خندق کے سامنے کفار کے مقابلے پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، شہر کی طرف پلٹ چلو۔ اور باطنی مطلب یہ ہے کہ اسلام پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، اب اپنے آبائی مذہب کی طرف پلٹ جانا چاہیے تاکہ سارے عرب کی دشمنی مول لے کر ہم نے جس خطرے میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے اس سے بچ جائیں۔ منافقین اپنی زبان سے اس طرح کی باتیں اس لیے کہتے تھے کہ جو ان کے دام میں آسکتا ہو اس کو تو اپنا باطنی مطلب سمجھا دیں، لیکن جو ان کی بات سن کر چوکنا ہو اور اس پر گرفت کرے اس کے سامنے اپنے ظاہر الفاظ کی آڑ لے کر گرفت سے بچ جائیں۔
سورة الْاَحْزَاب 24
یعنی جب بنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →فاذ قالت طائفۃ منھم یا اھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا۔ ویستاذن فریق منھم النبی یقولون ان بیوتنا عورہ وما ھی بعورۃ ان یریدون الا فرارا (13)
یہ منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے، اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اشارہ منافقین اعراب کی طرف ہے۔ مدینہ کے قرب و جوار کے دیہاتوں کے جو لوگ اسلام لائے تھے ان میں ایک گروہ نہایت کڑ منافقین کا تھا۔ ان کا ذکر تفصیل سے سورة توجہ کی تفسیر میں ہوچکا ہے۔ ان کے لئے خود قرآن میں ’ اشد کفرواونفاقا ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہونے کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ان کی ساری دلچسپی اپنے مفادات سے تھی۔ کسی غزوہ میں…
Read the full tafseer →13-1یثرب اس پورے علاقے کا نام تھا، مدینہ اسی کا ایک حصہ تھا، جسے یہاں یثرب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نام یثرب اس لیے پڑا کہ کسی زمانے میں عمالقہ میں سے کسی نے یہاں پڑاؤ کیا تھا جس کا نام یثرب بن عمیل تھا۔
13-2یعنی مسلمانوں کے لشکر میں رہنا سخت خطرناک ہے، اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ۔
13-3یعنی بنو قریظہ کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے یوں اہل خانہ کی جان مال اور آبرو کا خطرے میں ہے۔
13-3یعنی جو خطرہ وہ ظاہر کر رہے ہیں، نہیں ہے وہ اس بہانے سے راہ فرار چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →14: یہ منافقین تھے جو اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ کرکے محاذ سے بھاگنا چاہتے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13)
یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور…
Read the full tafseer →11 " یثرب " مدینہ طیبہ کا پرانا نام تھا۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری سے " مدینۃ النبی " ہوگیا۔
1 یعنی سارے عرب ہمارے دشمن ہوئے تو ہم کو رہنے کا ٹھکانا کہاں۔ سب لشکر سے جدا ہو کر گھر لوٹ چلو۔ اور حضرت لشکر کے ساتھ باہر کھڑے تھے۔ شہر میں مضبوط حویلیوں کے ناکے بند کر کے زنانے ان میں رکھ دیے تھے۔ یہ بہانہ کرنے لگے کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کہیں چور گھس کر لوٹ نہ لیں۔ اور یہ محض جھوٹ بات بنائی تھی۔ غرض یہ تھی کہ بہانہ کر کے میدان سے بھاگ جائیں۔ چناچہ جو اجازت لینے آیا آپ اجازت دیتے رہے کچھ پروا تکثیر سواد کی نہ کی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف تین سو نفوس قدسیہ آپ کے ساتھ باقی رہ گئے۔
Read the full tafseer →آیت 13 { وَاِذْ قَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ یٰٓاَہْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا } ”اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ‘ چناچہ تم لوٹ جائو !“
کہ اب تمہارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خندق کے سامنے اتنے بڑے لشکر کے مقابلے میں تم کیسے ٹھہر سکو گے ؟ چناچہ تم اپنی جانیں بچانے کی فکر کرو اور شہر کی طرف پلٹ چلو۔
{ وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ} ”اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا ‘ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔“
محاصرے کے دوران شہر کی صورت حال کچھ یوں تھی…
Read the full tafseer →16 یہ مدینہ کا پہلا نام ہے۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو یہ مدینۃ النبی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے بعد المدینہ کے نام سے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہوگیا۔
17 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پریشان کن صورت حال دیکھ کر منافقین اپنے ساتھیوں کو یہ دعوت دینے لگے کہ محاذ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آؤ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی دعوت یہ تھی کہ اسلام کو چھوڑ کر پھر سے اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجاؤ۔ اسی میں تمہاری عافیت اور خیریت ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اتحادیوں سے مل جاؤ۔
18 منافقوں کا گھروں کی حفاظت کا بہانہ :۔ اکثر منافق جنگ میں شمولیت سے فرار کے لئے مختلف بہانے سوچ رہے تھے۔ عام…
Read the full tafseer →27۔ یعنی جب انہیں منافقین میں سے بعض لوگوں نے دوسروں کو مخاطب کرکے جنگ کے مورچوں پر کہا (آیت) ” منھم “۔ ضمیر انہیں لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر ابھی ابھی آچکا ہے۔ (آیت) ” المنفقون والذین فی قلوبھم مرض “۔
28۔ (کہ اب مورچوں پر جمے رہنا صریحا موت کے منہ میں جانا ہے) (آیت) ” یثرب “۔ مدینہ کا پرانا نام ہے۔ مدینۃ النبی تو ہجرت نبوی کے بعد نام پڑا۔
29۔ بعض کج دلے اور منافق۔ سالاراعظم ﷺ کی خدمت میں آکر طرح طرح کے بہانے تراشتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے گھروں کو غیر محفوظ حالت میں چھوڑ آئے۔ اور صرف عورتیں اور بچے ہیں، چوروں ڈاکوؤں کا ہر وقت خطرہ ہے۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے کہ یہ عذرات ان کے گڑھے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →واذ قالت طائفۃ منھم اور جب کہ ان (منافقوں) کی ایک پارٹی (یعنی اوس بن قبطی اور اس کے ساتھیوں) نے کہا۔
یاھل یثرب لا مقام لکم اے یثرب والو ! (یہاں) تمہارے قیام کا کوئی موقع نہیں۔۔ یثرب سے مراد ہے مدینہ۔
ابو عبیدہ نے کہا : یثرب ایک قطعۂ زمین کا نام ہے جس کے ایک حصہ میں مدینۂ رسول واقع ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے مدینہ کو یثرب کہنے کی ممانعت فرمائی اور ارشاد فرمایا : یہ طابہ ہے۔ حضور ﷺ نے مدینہ کو یثرب کہنا اس لئے پسند نہیں فرمایا کیونکہ یثرب کا لفظ ثَرَبَہٗ ، یَثْرِبُہ اور ثَرَّبَہٗ اور ثَرَّبَ عَلَیْہ اور اَثْرَبَہٗ سے مشتق ہے (یعنی مادہ سب کا ایک ہے لیکن استعمال…
Read the full tafseer →اور یہ اس وقت کی بات ہے جب بنی حارثہ بن الحارث نے اپنے ساتھیوں سے خندق میں کہا کہ اے مدینہ کے لوگو لڑائی کے لیے خندق یعنی معرکہ جنگ میں ٹھہرنے کا موقع نہیں تو مدینہ لوٹ چلو۔
اور بعض بنی حارثہ کے منافقین میں سے نبی اکرم سے مدینہ منورہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور آپ سے کہ رہے تھے کہ اے نبی اللہ ہمیں گھر جانے کی اجازت دیں ہمارے گھر خالی ہیں ہمیں چوروں کا ڈر ہے۔ حالانکہ وہ خالی نہیں ہیں یہ تو صرف میدان جنگ سے بھاگنے کے لیے یہ اپنی طرف سے باتیں کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ يٰٓاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ : ”یثرب“ مدینے کا پرانا نام ہے، رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد اس کا نام ”مدینۃ النبی ﷺ“ پڑگیا، جو اختصار کے ساتھ مدینہ مشہور ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَأَیْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّيْ أُہَاجِرُ مِنْ مَکَّۃَ إِلٰی أَرْضٍ بِہَا نَخْلٌ، فَذَہَبَ وَہَلِيْ إِلٰی أَنَّہَا الْیَمَامَۃُ أَوْ ہَجَرُ ، فَإِذَا ہِيَ الْمَدِیْنَۃُ یَثْرِبُ) [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : 3622 ] ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جو کھجوروں والی ہے، تو مجھے گمان ہوا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے،…
Read the full tafseer →آیت واذ قالت طائفۃ منھم یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا طائفہ کا لفظ ایک اور اس سے زائد افراد پر صادق آتا ہے یہاں اس سے مراد اوس بن قیظی ہے جو عرابہ بن اوس کا والد تھا جس کے بارے میں شماح کہتا تھا :
اذامارایۃ رفعتلمجدتلقاھا عرابۃ بالیمین
بزرگی کے لیے جب بھی کوئی جھنڈا اٹھایا جاتا ہے تو عرابہ اسے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
یثرب سے مراد مدینہ طیبہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام طیبہ اور طابہ رکھا۔ ابو عبید نے کہا : یثرب ایک علاقہ کا نام ہے مدینہ اس کی ایک جانب واقع تھا (1) ۔ سہیل نے کہا : اس کو یثرب نام اس لیے دیا گیا کیونکہ عمالقہ میں سے جو یہاں آکر اترا اس کا نام یثرت بن عمیل بن مہلائیل بن عوض بن…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذقالت طائفۃ منہم سے مراد ہیں منافقین۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن المبارک کے طریق سے ہارون بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ حسن سے پوچھے آیت لامقام لکم او لا مقام لکم (ان دونوں میں سے کون ساٹھیک ہے) تو انہوں نے فرمایا دونوں عربی کلمات ہیں ابن المبارک نے فرمایا کہ المقام اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں وہ کھڑا ہو والمقام سے مراد ہے کھڑا ہونا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لامقام لکم یعنی تمہارے لیے یہاں لڑنے کی جگہ نہیں بھاگ جاؤ اور اس آدمی یعنی محمد ﷺ کو چھوڑ دو
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح)…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ [اور جب کہا ایک گروہ نے ] مِّنْهُمْ [ان میں سے ] يٰٓاَهْلَ يَثْرِبَ [اے یثرب کے لوگو ] لَا مُقَامَ [کوئی ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] فَارْجِعُوْا ۚ [تو تم لوگ واپس چلو ] وَيَسْتَاْذِنُ [اور اجازت مانگی ] فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ [ایک فریق نے ان میں سے ] النَّبِيَّ [ان نبی ﷺ سے ] يَقُوْلُوْنَ [کہتے ہوئے ] اِنَّ [کہ ] بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ ړ [ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں ] وَمَا هِىَ [حالانکہ وہ ] بِعَوْرَةٍ ڔ [غیر محفوظ نہیں تھے ] اِنْ يُّرِيْدُوْنَ [وہ لوگ ارادہ نہیں رکھتے ] اِلَّا فِرَارًا [مگر فراز ہونے کا ] ۔
نوٹ۔ 1: اس میں اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں منافقوں کی ایک جماعت کی یہ بات نقل فرمائی ہے کہ انہوں نے اس موقع پر یوں کہا کہ اے یثرب والو یعنی مدینے میں سکونت کرنے والو ! یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے لہٰذا اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوجاؤ کیونکہ بظاہر قتل ہونے کی صورت بن رہی ہے، اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ گے تو قتل ہونے سے بچ جاؤ گے ورنہ تمہیں بھی یہیں موت کے منہ میں جانا پڑے گا۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہی تھی۔ مفسرین نے (لَامُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا) کا ایک مطلب تو وہی لکھا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا، اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اب محمد ﷺ کے دین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →ٖ 19:۔ واذ قالت الخ، اس میں منافقین کی ایک اور شرارت کا ذکر ہے اہل یثرت سے مدینہ والے تمام مسلمان مراد ہیں۔ منافقین اپنی خفیہ ریشہ دوانیوں سے مسلمانوں میں بد دلی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہنے لگے اب مشرکین کی ان فوجوں کے سامنے تمہارا ٹھہرنا اور اپنی جان بچانا مشکل اور ناممکن ہے۔ اس لیے اب ایمان کو چھوڑ کر اپنے پہلے دین شرک میں واپس آجاؤ۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ مشرکین کے مقابلے میں ٹھہرنا ناممکن ہے۔ اس لیے اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ۔ اس سے منافقین کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ لا مقام لکم فی حرمۃ القتال والممانعۃ فارجعوا الی بیوتکم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْہُمْ يٰٓاَہْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا 0 ۚ وَيَسْتَاْذِنُ فَرِيْقٌ مِّنْہُمُ النَّبِيَّ يَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَۃٌ 0 ۭۛ وَمَا ہِىَ بِعَوْرَۃٍ 0 ۚۛ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا 13
طَّائِفَةُ
وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی:
فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ،…
Read the full tafseer →ترکیب : یثرب غیر منصرف للتعریف و وزن الفعل وفیہ التانیث، یقولون حال او تفسیر لیستاذن عورۃ اے ذات عورۃ ویقرء بکسر الواو و الفعل منہ عور فھو اسم فاعل، لاتوہا بالقصر جاؤ ہاو بالمداعطوھا ماعندھم من القوۃ الایسیرا لبثایسیرا او زمانا یسیرا ای قلیلا۔ لایؤلون الادبار جواب القسم لان عاھد وابمعنی اقسموا ھلم ذکر فی الانعام الا انہ ھھنا متعدد ھذ الازم اشجۃ جمع شحیح بمعنی بخیل و نصبھا علی الحال من فاعل باوعلی الذم واشحۃ الثانی حال من الضمیر فی سلقوکم ینظرون حال من رایتہم بمعنی ابصرتھم تدورحال من فاعل ینظرون۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ منافقوں کے ظنون فاسدہ اوراقوال کاذبہ کو نقل کرتا ہے جو اس حادثہ…
Read the full tafseer →وَاِذْقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ یٰٓـاَھْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَـکُمْ فَارْجِعُوْا ج وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْـھُمُ النَّبِیَّ یَـقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ ط وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ ج اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلاَّفِرَارًا۔ (الاحزاب : 13)
(جبکہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں، پس تم لوٹ جاؤ، اور ان میں سے ایک گروہ نبی کریم ﷺ سے اجازت کا طلبگار تھا اور وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہ تھے، بس یہ لوگ بھاگنا چاہتے تھے۔ )
منافقینِ اعراب کا رویہ
منافقین کی معاندانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ احزاب میں منافقوں کا کردار۔
منافقت انسان کے دل کی بیماری ہے جس کے اثرات انسان کے اخلاق اور کردار پر ضرور ظاہر ہوتے ہیں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں پر مشکل وقت آئے تو منافق کی منافقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ایسے موقعہ پر منافق کی ہمدردیاں کفار اور مشرکین کے ساتھ ہوجایا کرتی ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کا اس وقت ساتھ چھوڑا جب کفار احد کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی منافقوں کی ہمدردیاں مدینہ کے یہودیوں اور اہل مکہ کے ساتھ تھیں۔ منافقوں نے دیکھا کہ دس ہزار کا لشکر مدینہ پر امڈ آیا ہے اور مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے خندق کھودنے…
Read the full tafseer →13: وَاِذْ قَالَتْ طَّاپفَۃٌ مِّنْھُمْ (اور جب کہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا) یہ منافقین میں سے عبدا للہ بن ابی اور اس کے ساتھی تھے۔ یٰٓـاَھْلَ یَثْرِبَ (اے یثرب کے لوگو ! ) یہ مدینہ منورہ کا پرانا نام ہے۔ لَامُقَامَ لَکُمْ (تمہارے لئے ٹھہرنے کا موقعہ نہیں)
قراءت : مُقَام ضم میم کے ساتھ حفص نے پڑھا۔ اور مَقَام ابن کثیر نافع، ابو عمرو، حمزہ، کسائی نے پڑھا معنی یہ ہے تمہارے لئے یہاں ٹھہرنا نہیں ہے۔ اور نہ کوئی جگہ ہے کہ جس میں تم کھڑے بھی ہوسکو۔ نمبر 2۔ یا اقامت پذیر ہوسکو۔ فَارْجِعُوْا (پس لوٹ چلو) کفر کی طرف نمبر 2۔ لشکر رسول اللہ ﷺ سے ہٹ کر مدینہ کی طرف۔ وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ…
Read the full tafseer →13، واذقالت طائفۃ منھم، اس سے مراد منافق ہیں۔ اوس بن قبطی اور ان کے دوست ہیں ۔ ، یا اھل یثرب ، اس دے مراد مدینہ ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا یثرب ایک قطعہ زمین کا نام ہے جس کے ایک حصہ میں مدینہ الرسول واقع ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو یثرب کہنے کی ممانعت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ طابہ ہے ۔ حضور ﷺ نے مدینہ کو یثرب کہنا اس لیے پسند نہیں فرمایا کیونکہ یثرب کا لفظ ثربہ یثربہ سے مشتق ہے، ان کا معنی ملامت کرنا عار دلانا کسی جرم پر ذلیل کرنا۔ ، لامقام لکم ، کہ تمہارے لیے کوئی مکان نہیں ہے کہ جس میں تم اتر تے ہو اور اس میں قیام کرتے ہو۔ ، فارجعوا، اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤاور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 13
(واذ قالت طآئفۃ منھم) ” اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی “ یعنی منافقین کی جماعت۔ وہ جزع فزع اور قلب صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا ‘ لہٰذا اس گروہ نے کہا : (یاھل یثرب) ” اے اہل یثرب ! “ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ (یآاھل یثرب لامقام لکم) ” اے اہل یثرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →25 " یثرب " کا معنیٰ و مفہوم ؟ : " یثرب " مدینہ منورہ کا پرانا نام تھا جو ثرب سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ خرابی اور مصیبت و بیماری وغیرہ کے آتے ہیں۔ اسی سے " تثریب " بنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ اور آپکی وہاں تشریف آوری سے پہلے چونکہ یہ جگہ خرابی و فساد کی جگہ ہوتی تھی اس لئے اس کو " یثرب " کہا جاتا تھا۔ اور یہاں کا بخار تو بڑا مشہور بخار تھا۔ مگر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی ہجرت اور اس خطے میں آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ خطہ امن و سلامتی کا خطہ، رحمت و عنایت خداوندی کا گہوارہ اور خیر و برکت کا مرکز بن گیا۔ اس لیے اس کا نام " یثرب " کی بجائے " طابہ " اور " طیبہ " پڑگیا۔ اور یہ " مدینۃ النبی "، " مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 1” یثرب “ مدینہ کی سر زمین کا قدیم نام تھا جیسا کہ ہجرت کی حدیث میں ہے جن روایات میں مدینہ کو یثرب میں ہے جن روایات میں مدینہ کو یثرب کہہ کر پکارنے کی ممانعت مذکور ہے وہ ضعیف ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔
2 یعنی مقابلے کا خیال چھوڑ کر مدینہ میں اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائو یا اسلام سے پھر جائو اور از سر نو کفر و شرک اختیار کر۔ ( قرطبی) ۔3 یعنی ہمارے بال بچے گھروں میں تنہاء ہیں اور ہمیں پیچھے سے حملہ کا خطرہ ہے۔
4 کیونکہ ان کی حفاظت کا انتظام کرلیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →(33:13) طائفۃ۔ گروہ ۔ جماعت۔ بعض لوگ۔ کچھ لوگ، طرف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔
منھم میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب یا منافقین کے لئے یا سب کے لئے ہے (للجمیع) جن کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے
یثرب مدینہ منورہ کا پہلے یہی نام تھا۔ غیر منصرف ہیبوجہ تانیث و معرفہ) یا بوجہ معرفہ ووزن فعل۔
لا مقام لکم ٹھہرنے کہ جگہ ۔ ٹھہرنے کا موقعہ (تمہارے لئے کوئی ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہے۔
ارجعوا فعل امر جمع مذکر رجوع (باب نصر) مصدر، تم واپس پھر جاؤ ۔
ویستاذن۔ مضاع واحد مذکر غائب (مضارع بمعنی حکایت حال ماضی) اس کا عطف قالت پر ہے۔ وہ اجازت مانگنے لگا۔ یعنی ان میں سے ایک گروہ نبی کریم ﷺ سے (لڑائی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
لغات القرآن : آیت نمبر 9 تا 13
جنود (جند): لشکر۔ بہت سے لشکر
ریح : ہوا، آندھی
لم تروا : تم نے نہیں دیکھا
فوق : اوپر
زاغت : کھلی رہ گئی
الحناجر : کلیجہ
ھنالک : اسی جگہ
غرور : دھوکا۔ فریب
ارجعوا : تم لوٹ جاؤ
یستاذن : وہ اجازت چاہتا ہے
عورۃ : غیر محفوظ
فرار : بھاگنا
تشریح : آیت نمبر 9 تا 13
مدینہ منورہ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے تمام قبیلوں سے آپ ﷺ نے امن و سلامتی قائم رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شرط یہ بھی مقرر کی گئی تھی کہ بعد نضیر نے بد عہد کی اور نبی کریم ﷺ کو قتل تک کرنے کی سازش کر ڈالی۔ پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →[17] یثرب مدینہ کا پرانا نام ہے۔ ہجرت نبوی کے بعد مدینتہ النبی نام پڑا۔
Read the full tafseer →منافقین کا شرو فساد سے شغف
1: غرض یہ ہے ۔ کہ منافقین جو جہاد سے جی چراتے ہیں ۔ اور یہ کہہ کر پیچھا چھڑاتے ہیں ۔ کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں ۔ تو یہ عذرات نیک نیتی پر مبنی نہیں ۔ بلکہ وہ محض بھاگنا چاہتے تھے ۔ یہ بات نہیں ۔ کہ ان میں لڑنے کی قوت نہیں ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے ساتھ نہیں دنیا چاہتے ۔ ورنہ یہی لوگ جواب معذرت کررہے ہیں ۔ اور جہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے اگر یہ دیکھیں کہ ہمارے مسلک کے لوگ مدینہ میں آگھسے ہیں اور ہماری اعانت کے طالب ہیں ۔ تو بڑی گرم جوشی کے ساتھ ان کے ساتھ آمادہ ہونے کا خیال ہو ۔ اور نہ پست ہمتی کا فرمایا کہ اس سے قبل تم عہد کرچکے ہو ۔ کہ اب آئندہ کبھی…
Read the full tafseer →13۔ اور اس وقت جبکہ ان منافقوں میں سے بعض نے کہا اے اہل یثرب اور اے اہل مدینہ یہاں تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں اور ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، لہٰذا لوٹ چلو اور واپس ہو جائو اور انہی منافقین میں سے کچھ لوگ پیغمبر ﷺ سے اجازت طلب کرنے لگے وہ کہتے تھے ہمارے گھرغیرمحفوظ اور کھلے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ گھرغیر محفوظ اور کھلے ہوئے نہیں پڑے تھے ان کا مقصد سوائے بھاگ جانے کے اور کچھ نہیں ۔ یعنی مدینے والوں کو مخاطب کر کے کہا یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ، سرائے خالی نہیں ہے یہ جگہ رہنے کی نہیں ہے لوٹ جائو کا مطلب یہ ہے کہ گھروں کو لوٹ جائو یا کفر کی طرف لوٹ جائو۔
یہ شاید اوس بن قبطی یا عبد اللہ بن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 2۔ یعنی مدینہ۔
Read the full tafseer →منافقین نے اہل مدینہ کو اس طرح ڈرایا کہ اب تمہارا اس شہر میں کوئی پرسان حال نہیں ہوگا
13) منافقت نہایت قسم کے چالاک اور ہوشیار لوگوں کا کام ہے ، سادہ لوح اور معمولی عقل وفکر کے لوگ منافقت نہیں کرسکتے البتہ منافقوں کے دام میں پھنس سکتے ہیں جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کیا جاچکا ہے کہ منافق ہمیشہ ایسی بات کرتا ہے جس کے ایک سے زیادہ مطلب مراد لئے جاسکتے ہوں اور چونکہ ہیرا پھیری اس کی خوب آتی ہے اس لئے وہ ذو معنی بات کہہ کر کسی کو کچھ مطلب سمجھاتے ہیں اور کسی کو کچھ اور اگر کہیں بحث و تحیث ہوجائے تو وہ کسی نہ کسی رخنہ سے نکل جاتا ہے کیونکہ اپنے اضل کلام میں اس نے رخنہ رکھ لیا ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →23 This sentence has two meanings: The apparent meaning is that there is no chance for them to stay at the Trench against the polytheists; therefore, they should return to the city. And the hidden meaning is that there is no chance for them to remain in Islam; therefore, they should return to their ancestral religion, so that they might escape the danger in which they had involved themselves by earning the hostility of the whole of Arabia. The hypocrites uttered such mischievous things so that they could make the one who would listen to them understand the intended hidden meaning, but in case…
Read the full tafseer →