Al-Ahzaab 33:14

Al-Ahzaab · from ayah 14

33:14

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُىِٕلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا ۟وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَةَ لَاٰتَوۡهَا وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر اُن سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت ہی کم توقف کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if they had been entered upon from all its [surrounding] regions and fitnah had been demanded of them, they would have done it and not hesitated over it except briefly.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:14

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر اُن سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت ہی کم توقف کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر دشمن مدینے میں چاروں طرف سے آگھسے، پھر ان سے فساد میں شامل ہونے کو کہا جائے تو یہ اس میں ضرور شامل ہوجائیں گے، اور (اس وقت) گھروں میں تھوڑے ہی ٹھہریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ان پر مدینہ کے اَطراف و اَکناف سے فوجیں داخل کر دی جاتیں پھر اِن (نِفاق کا عقیدہ رکھنے والوں) سے فتنۂ (کفر و شرک) کا سوال کیا جاتا تو وہ اس (مطالبہ) کو بھی پورا کر دیتے، اور تھوڑے سے توقّف کے سوا اس میں تاخیر نہ کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اس (شہر) میں ان پر اس کے کناروں سے داخل ہوا جاتا، پھر ان سے فتنہ برپا کرنے کا سوال کیا جاتا تو یقینا وہ اسے (عمل میں) لے آتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر کفار کے لشکر اطراف مدینہ سے ان پر چڑھ آتے اور انھیں فتنہ کی دعوت دیتے تو یہ منافق فوراً مان لیتے اور اس میں کچھ زیادہ دیر نہ کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر ان کے اطراف سے ان پر حملہ ہوجاتا ہے، پھر ان سے ارتداد کا مطالبہ کیا جاتا تا وہ اس پر راضی ہوجاتے اور اس میں بہت ہی کم توقف کرتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کا اندرونی حال یہ ہے کہ) اگر گھس آئے ہوتے ان پر دشمن اطراف مدینہ سے پھر ان کو دعوت دی جاتی فتنہ (و فساد) کی تو یہ (فوراً) اسمیں کود پڑتے اور کچھ بھی توقف نہ کرتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ان (لوگوں) پر (مدینہ کے) اطراف سے کوئی (لشکر کافروں کا) آگھسے پھر ان سے فساد کی درخواست کی جائے۔ تو یہ اسے منظور کرلیں اور (ان گھروں میں) بس برائے نام ہی ٹھہریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا تو وہ اسے قبول کرلیتے اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر فوجیں اطراف مدینہ سے ان پر آداخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لیے کہا جائے تو فوراً کرنے لگیں اور اس کے لیے بہت کم سوچیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If the enemy were to enter the town from various directions, and they were summoned to act treacherously, they would have succumbed to it and would have shown little reluctance in doing so.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if it (Madinah) is entered (by the enemy, in their presence,) from all its sides and they are asked (to join) the mischief, they would readily commit it, and would not remain in them (their homes) but for a short while

— Muhammad Taqi Usmani

And if it (Madinah) is entered (by the enemy, in their presence,) from all its sides and they are asked (to join) the mischief, they would readily commit it, and would not remain in them (their homes) but for a short while

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if the enemy had entered from all sides, and they had been exhorted to Al-Fitnah, they would surely have committed it and would have hesitated thereupon but little.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If the enemy had entered from all sides and they had been exhorted to treachery, they would have committed it, and would have hesitated thereupon but little.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if they had been entered upon from all its [surrounding] regions and fitnah had been demanded of them, they would have done it and not hesitated over it except briefly.

— Saheeh International

Had the army of the enemies invaded their homes and asked them to give-up their religion, they would have yielded to them without delay.

— Muhammad Sarwar

And if an entry were made upon them from the outlying parts of it, then they were asked to wage war, they would certainly have done it, and they would not have stayed in it but a little while.

— Muhammad Habib Shakir

And if they were to be entered upon from the sides thereof and they were asked to sedition, they would surely have committed it, and they would have tarried therein but slightly.

— Abdul Majid Daryabadi

And if an entry had been effected to them from the sides of the (city), and they had been incited to sedition, they would certainly have brought it to pass, with none but a brief delay!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–17

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے باز پرس ہوگی جو لوگ یہ عذر کرکے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گذرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آجائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بےتامل کفر کو قبول کرلیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کررہے ہیں۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 26 یعنی اگر شہر میں داخل ہو کر فاتح کفار ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ختم کردو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–27

دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–15

ولو دخلت علیھم من اقطار ھا ثم سئلو الفنۃ لا توھا وما تلبثوا بھا الا یسرا (14) ’ اقطارھا ‘ کی ضمیر کا مرجع ’ یثرب ‘ بھی ہوسکتا ہے لیکن قرائن کی روشنی میں میرے نزدیک اس کا مرجع ’ بیوت ‘ یہ۔ مطلب یہ ہے کہ گھروں کی حفاظت کا بہانہ تو محض بہانہ ہے۔ اصل مقصد ان کا دین کی حفاظت و مدافعت سے فرار ہے۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ کم وقعت اور ارزاں چیز دین ہے۔ اگر ان کے گھروں کے اطراف سے ان پر اسلام کے مخالفوں کی چڑھائی ہوجائے اور وہ ان سے ارتداد یا مسلمانوں سے جنگ کرنے کا مطالبہ کریں تو یہ ان کے مطالبہ کو بےدرنگ مان لیں گے۔ لفظ فتنہ، پر ہم جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس سے رجعت اور ارتداد یا مسلمانوں کے خلاف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14-1یعنی مدینے یا گھروں میں چاروں طرف سے دشمن داخل ہوجائیں اور ان سے مطالبہ کریں کے تم کفر و شرک کی طرف دوبارہ واپس آجاؤ، تو یہ ذرا توقف نہ کریں گے اور اس وقت گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا عذر بھی نہیں کریں گے بلکہ فوراً مطالبہ شرک کے سامنے جھک جائیں مطلب یہ کہ کفر و شرک ان کو مرغوب ہے اور اس کی طرف لپکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–17

15: یعنی یہ منافق لوگ اس وقت تو یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ ہمارے گھروں کی دیواریں نیچی ہیں، اور وہ غیر محفوظ ہیں، لیکن اگر دشمن مدینہ منورہ میں چاروں طرف سے داخل ہوجائے اور ان سے فرمائش کرے کہ تم بھی مسلمانوں کے خلاف ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوجاؤ تو دشمن کا پلہ بھاری دیکھ کر یہ ان کے ساتھ جاملیں گے اور اس وقت انہیں اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولو دخلت علیھم ۔۔۔۔۔۔ الا یسیرا (14) یہ ہے ان منافقین کی اندرونی تصویر۔ دشمن ابھی تو مدینہ سے باہر ہے۔ ابھی تو وہ شہر کے اندر گھسنے نہیں پایا۔ اگرچہ حالات بہت ہی خوفناک تھے لیکن ابھی تو حملہ آور باہر ہی پڑے تھے۔ کوئی خطرہ ابھی واقع نہ ہوا تھا ۔ اگر لشکر مدینہ کے اطراف سے حمہ آور ہوجاتا اور پھر سئلوا الفتنۃ (33: 14) ” پھر ان کو فتنے کی دعوت دی جاتی یعنی ان سے مطالبہ کیا جاتا کہ تم مرتد ہوجاؤ تو یہ لوگ فوراً مرتد ہوجاتے اور کچھ دیر نہ کرتے اور نہ ہی کوئی تردد کرتا۔ الا قلیلا یعنی اگر دیر کرتے تو تھوڑی ہی دیر کرتے یا ان میں سے قلیل لوگ تردد کرتے۔ یعنی مرتد ہونے سے قبل کچھ دیر کے لیے سوچتے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جھوٹے حیلے بنا رہے ہیں۔ اگر فرض کرو یہ لوگ شہر میں ہوں اور کوئی غنیم ادھر ادھر سے گھس آئے پھر ان سے مطالبہ کرے کہ دین اسلام چھوڑ دو ۔ جسے بظاہر یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں، یا کہے کہ مسلمانوں سے لڑو اور فتنے فساد برپا کرو۔ اس وقت ان کا جھوٹ صاف کھل جائے، فوراً ان مطالبات کی تائید میں نکل پڑیں۔ نہ گھروں کے کھلے ہونے کا عذر کریں نہ لٹنے کا۔ بس بات چیت کرنے اور ہتھیار اٹھا کر لانے میں جو تھوڑی دیر لگے گی اسے مستشنٰی کر کے ایک منٹ کا توقف نہ کریں۔ اسلام کے ظاہری دعوے سے دستبردار ہو کر فوراً فتنہ و فساد کی آگ میں کود پڑیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْہِمْ مِّنْ اَقْطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَۃَ لَاٰتَوْہَا } ”اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے ‘ پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے ارتداد کا ‘ تو وہ اسے قبول کرلیتے“ اگر خدانخواستہ کفار و مشرکین کے لشکر واقعی مدینہ میں داخل ہوجاتے اور وہ ان منافقین کو علانیہ ارتداد اور مسلمانوں سے جنگ کی دعوت دیتے تو ایسی صورت حال میں یہ لوگ بلا تردد ان کی بات مان لیتے۔ { وَمَا تَلَبَّثُوْا بِہَآ اِلَّا یَسِیْرًا } ”اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔“ چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ ہوا ہی نہیں تھا ‘ اس لیے جونہی انہیں ایمان کے دعوے سے پھرنے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 یعنی اگر اتحادی کافر انھیں مسلمانوں سے لڑنے کی دعوت دیتے تو یہ فوراً ان کی بات مان کر مسلمانوں سے لڑنے کو تیار ہوجاتے اور ایک منٹ کی بھی تاخیر نہ کرتے۔ اس وقت انھیں قطعاً یہ خیال نہ آتا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور اگر ہم اپنے گھروں کی حفاظت نہ کریں گے تو دشمن لوٹ لے گا۔ یہی بات ان کے جھوٹ اور نفاق کی ایک بڑی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آرائی اور اس میں ان کی شرکت کی یا کفر کی۔ اے الردۃ ومقاتلۃ المسلمین (بیضاوی) وھی الدخول فی الکفر (ابن کثیر) اے القتال کما قال الضحاک (روح) 31۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوجائے اور ان منافقوں سے کہے، کہ آؤ، ہم تم مل کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں تو یہ لوگ بلاتأمل آمادہ ہوجائیں، مسلمانوں کی لوٹ مار پر اٹھ کھڑے ہوں اور اس وقت ذرا خیال نہ کریں کہ آخر اب غیرمحفوظ گھروں کی کون حفاظت کرے گا۔ یہ سب ان کی انتہائی مذمت میں ارشاد ہورہا ہے۔ وھذا ذم لھم فی غایۃ الذم (ابن کثیر) (آیت) ” وما تلبثوا بھا “۔ ضمیر ھا بیوت کی طرف ہے۔ الضمیر علی کل تقدیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

آیت نمبر 9 تا 20 ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو دخلت علیھم من اقطارھا ثم سئلوا الفتنۃ لا توھا . اور اگر مدینہ میں اس کے اطراف سے کوئی ان پر آ گھسے ‘ پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں۔ دُخِلَتْ ۔ یعنی اگر مدینہ میں احزاب کا داخلہ ہوجائے۔ عَلَیْھِمْ ۔ ان پر یعنی ان کے گھروں میں۔ الْفِتْنَۃَ ۔ یعنی مشرک یا مسلمانوں سے جنگ۔ لَاٰتَوْھَا۔ یعنی ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں۔ وما تلبوثوا بھا الا یسیرا . اور ان گھروں میں بہت ہی کم ٹھہریں۔ یعنی صرف اتنی دیر توقف کریں کہ ان سے درخواست کی جائے اور وہ جواب دے دیں۔ اکثر اہل تفسیر نے یہی تفسیر کی ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ بِہَا کی ضمیر مدینہ کی طرف راجع ہے یعنی مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر منافقین پر مدینہ منورہ میں اس کے سب اطراف سے کوئی لشکر آگھسے اور ان سے شرک کا ساتھ دینے کو کہے تو یہ فورا ہی اس کو قبول کرلیں گے اور اس کے قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کریں یا یہ کہ پھر اس بات کے قبول کرنے کے بعد یہ لوگ مدینہ میں بہت ہی کم ٹھہریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا۔۔ : ”دُخِلَتْ“ کی ضمیر ”مدینہ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ”وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْھِمُ الْمَدِیْنَۃُ مِنْ جِھَاتِھَا أَيْ وَلَوْ دَخَلَ الْأَحْزَابُ عَلَیْھِمُ الْمَدِیْنَۃَ۔“ ”الفتنۃ“ سے مراد کفرو شرک اور مسلمانوں کے خلاجنگ ہے، یعنی اگر کفار شہر میں داخل ہو کر ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ دوبارہ ہمارے ساتھ کفر میں واپس آجاؤ اور ہم سے مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے لڑو تو وہ فوراً ان کی پیش کش قبول کرتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت ولودخلت علیہم من افطارھا، ہا ضمیر سے مراد بیوت ہیں یا مدینہ ہے یعنی ان کی اطراف اور جوانب سے۔ واحد قطر ہے جس کا معنی جانب اور ناحیہ ہے۔ اسی طرح قتریہ بھی قطر میں ایک لغت ہے۔ آیت ثم سئلوا الفتنۃ لاتوھا تو وہ اس میں آپڑے۔ یہ نافع اور ابن کثیر کی قراءت قصر کے ساتھ ہے باقی قراء نے اسے جر کے ساتھ پڑ ھا ہے یعنی اپنی جانب سے وہ اسے دیتے۔ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا اور ان سے شرک کا مطالبہ کیا گیا ہر کسی نے وہ بات مان لی جس کا اس سے مطالبہ کیا گیا مگر حضرت بلال۔ اس میں مد کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–18

1۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔ منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے 4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ دُخِلَتْ [اور اگر (کچھ لشکر) گھس آتے ] عَلَيْهِمْ [ان لوگوں پر ] مِّنْ اَقْطَارِهَا [اس (یثرب) کے کناروں سے ] ثُمَّ سُىِٕلُوا [پھر ان سے مانگا جاتا ] الْفِتْنَةَ [فتنہ (یعنی ارتداد)] لَاٰتَوْهَا [تو یہ لوگ ضرور دے بیٹھتے وہ (مرتد ہوجاتے)] وَمَا تَلَبَّثُوْا بِهَآ [اور دیر نہ کرتے اس میں (مرتد ہونے میں)] اِلَّا يَسِيْرًا [مگر تھوڑی سی ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 14) ۔ دخل۔ یدخل فعل لازم ہے جس کا مجہول نہیں آتا۔ لیکن یہاں دخلت فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی کا مخصوص استعمال ہے کہ اس کا مجہول دخل۔ یدخل اور باب سمع سے دخل۔ یدخل دونوں فعل معروف کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس کے معنی ہوتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تیسری آیت میں ان لوگوں کی فتنہ پردازی کا تذکرہ فرمایا (وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْھِمْ مِّنْ اَقْطَارِھَا) (الآیۃ) (اگر مدینہ کے اطراف سے کوئی لشکر ان پر گھس آئے پھر ان سے فتنے کا سوال کیا جائے تو یہ ضرور فتنے کو منظور کرلیں گے) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ کرکے آپ ﷺ سے اجازت لے کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ شریک قتال ہونے سے منہ موڑنا ہے۔ اگر کافروں کا کوئی لشکر ان کے پاس پہنچ جائے اور وہ ان سے یہ کہے کہ چلو مسلمانوں سے لڑو تو یہ ضرور ان کی بات مان لیں گے اور اپنے گھروں میں بہت ہی کم ٹھہریں گے بس کافروں کے کہتے ہی چل پڑیں گے یا اتنی دیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ ولو دخلت الخ، یہ منافقین کے نفاق اور فساد باطن کی ایک نہایت عمدہ تمثیل ہے۔ دخلت کا نائب فاعل بیوت کی ضمیر ہے۔ اقطارھا کی ضمیر مدینہ سے کنایہ ہے۔ الفتنۃ سے مراد قتال ہے۔ فرض کرو اگر یہ منافقین اپنے گھروں میں موجود ہوں اور مدینہ کی چاروں سمتوں سے فسادی لوگ ان کے گھروں میں آگھسیں، پھر پیغمبر (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور شخص ان کو فتنہ و فساد کی خاطر لڑائی کی دعوت دے تو اپنے گھروں کو اس طرح خطرے میں چھوڑ کر فورًا فتنے کی آگ میں کود پڑیں گے اور ذرا توقف و تامل کریں گے اس لیے یہ گھروں کے خطرے میں ہونے کا عذر محض جہاد اور نصرت اسلام سے جان بچانے کے لیے کر رہے ہیں یا فتنہ سے مراد شرک ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–20

ربط آیات گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْہِمْ مِّنْ اَقْطَارِہَا ثُمَّ سُىِٕلُوا الْفِتْنَۃَ لَاٰتَوْہَا وَمَا تَلَبَّثُوْا بِہَآ اِلَّا يَسِيْرًا۝ 14 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ قطر القُطْرُ : الجانب، وجمعه : أَقْطَارٌ. قال تعالی: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطارِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–19

ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔ تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْدُخِلَتْ عَلَیْہِمْ مِّنْ اَقْطَارِھَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَۃَ لَاٰ تَوْھَا وَمَا تَلَبَّثُوْا بِھَآ اِلاَّ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 14) (اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر حملہ ہوجاتا اور اس وقت انھیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے، اور اس میں بہت ہی کم توقف کرتے۔ ) منافقین کے اندر کے روگ کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام سے ان کا رشتہ زبانی حد تک ہے یا محض ایک فریب ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دشمن کہیں شہر کے اطراف میں سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو وہ ان لوگوں کی آمادگی اور ان کا استقبال دیکھ کر اندازہ کرلیتا کہ یہ مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہیں۔ اور پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–15

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ احزاب میں منافقوں کا کردار۔ منافقت انسان کے دل کی بیماری ہے جس کے اثرات انسان کے اخلاق اور کردار پر ضرور ظاہر ہوتے ہیں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں پر مشکل وقت آئے تو منافق کی منافقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ایسے موقعہ پر منافق کی ہمدردیاں کفار اور مشرکین کے ساتھ ہوجایا کرتی ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کا اس وقت ساتھ چھوڑا جب کفار احد کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی منافقوں کی ہمدردیاں مدینہ کے یہودیوں اور اہل مکہ کے ساتھ تھیں۔ منافقوں نے دیکھا کہ دس ہزار کا لشکر مدینہ پر امڈ آیا ہے اور مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے خندق کھودنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: وَلَوْدُ خِلَتْ عَلَیْھِمْ (اور اگر ان پر گھس آئے) یعنی مدینہ میں نمبر 2۔ ان کے گھروں میں یہ اس محاورہ سے لیا گیا ہے۔ دخلت علی فلان دارہ۔ مِّنْ اَقْطَارِھَا (اس کی اطراف سے) مدینہ کی جوانب سے نمبر 2۔ اگر یہ اجتماعی لشکر جن سے بھاگنے کی یہ تدابیر کر رہے ہیں۔ اگر یہ لشکر اجتماعیہ ان کے مدینہ میں داخل ہوجائیں جن سے ڈر کر یہ بھاگ رہے ہیں۔ نمبر 3۔ ان کے گھروں میں تمام اطراف سے داخل ہوجائیں اور ان کے اہل واموال پر لوٹ مار کا بازار گرم کردیں۔ ثُمَّ سُئِلُوْا (پھر ان سے درخواست کی جائے) ایسی گھبراہٹ میں الْفِتْنَۃَ (فساد کی) فساد سے مراد ارتداد اور کفر کی طرف لوٹ جانا اور مسلمانوں سے لڑائی کرنا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 14، ولودخلت علیھم ، اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف میں سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرورفتنہ کے مرتکب ہوجائیں ۔ ، من اقطارھا، مدینہ کے جوانب اور آس پاس سے اقطار ھا جمع ہے قطر کی۔ ، ثم سئلو ا الفتۃ ، فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ، لاتوھا ، تو یہ ضرور کسی فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے۔ قراء اہل حجاز نے اس کی قرأت ، لاتوھا، مقصود پڑھی ہے۔ ، وما تلبثوابھا، جب تک ان کو فتنہ سے روک دیاجائے۔ ، الا یسیرا، وہ شرک کی اجابت کی طرف جلدی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دل کو اچھی لگتی ہے۔ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حسن اور فراء کا قول ہے مدینہ میں صرف تھوڑی مدت ٹھہریں پھر انکو جلاوطن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–17

9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 14 (ولو دخلت علیھم) ” اور اگر ان پر داخل کیے جائیں (لشکر) “ مدینہ منورہ میں (من اقطارھا) یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہوجاتے۔ (ثم سئلوا الفتنۃ) پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا ‘ یعنی دین سے پھرجانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی (لاتوھا) تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑجاتے (وما تلبثوا بھآ الا یسیرا) ” اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔ “ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے ‘ بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہوجائے ‘ تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ یہ ان کا حال ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–20

نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

28 بہانہ بازوں کی محض بہانہ بازی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ محض ان لوگوں کی بہانہ بازی تھی ورنہ اگر دشمن کی کوئی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ان سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کو کہے تو یہ فوراً تیار ہوجائیں گے اور اس وقت ان کو ایسا کوئی خطرہ یاد نہ آئے گا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ یہ محض جہاد سے بھاگنے کے لئے بہانہ بازی کر رہے تھے۔ " فتنہ " سے یہاں پر مراد ارتداد اور مسلمانوں سے لڑنا ہے ۔ " الرِّدَّۃُ ومُحَاَرَبۃُ المسلمین " ۔ (جامع البیان ج 2 ص 124) سو اگر کوئی اسلام دشمن قوت حملہ آور ہو کر ان سے مرتد ہوجانے کو یا مسلمانوں سے لڑنے کیلئے کہے تو یہ بےدریغ ان کی بات مان لیں گے اور اس وقت یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20: اسرارو معارف اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔ غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی یہ کہیں کہ آئو ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کا خاتمہ کردو۔6 اس وقت یہ ہرگز عذر پیش نہ کریں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ ان کے گھر اس وقت کھلے پڑے ہوں گے کیونکہ لڑائی خود شہر میں ہو رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:14) ولو دخلت علیہم ۔ دخلت ماضی مجہول جس کا مفعول ، مالم یسلم فاعلہ البیوت ہے : ای ولو دخلت البیون علیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان قائلین کے متعلق ہے جو کہتے تھے ان بیوتنا عورۃ۔ دخلت علیہم : دخلت علی فلان دارہ (فلاں کے خلاف اس کے گھر میں مداخلت کی گئی) سے ہے۔ بمعنی اگر ان قائلین یعنی چھٹی کی درخواست کرنے والوں کے خلاد (دشمن کی فوجیں مختلف اطراف سے ان کے گھروں میں) داخل کردی جاتیں) ۔ ثم سئلوا الفتنۃ۔ پھر (دشمن کی طرف سے) ان سے (مسلمانوں کے خلاف) فتنہ و فساد کا سوال کی جاتا۔ لاتوھا توبہ بلانامل منظور کرلیتے۔ لام تاکید ہے ھا الفتنۃ کے لئے ہے) مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–17

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17 دخلت : داخل کردیا گیا۔ اقطار : کنارے۔ اطراف سئلوا : سوال کیا گیا ما تلبثوا : دیر نہ لگائیں گے لا یولون : وہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ لا تمتعون : تم فائدہ نہ اٹھا سکو گے یعصم : وہ بچاتا ہے لا یجدون : وہ نہ پائیں گے نصیر : مددگار تشریح آیت نمبر 14 تا 17 گذشتہ آیات سے غزوہ احزاب کے متعلق بیا کیا جارہا ہے اب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب منافقین نے کفار و مشرکین کو آندھی اور طوفان کی طرح آتے دیکھا تو وہ گھبرائے گئے اور میدان جنگ سے بھاگنے کے راستے اور بہانے تلاش کرنے لگے ۔ اس کے بر خلاف وہ اہل ایمان جو اللہ کی ذات پر مکلمل بھروسہ اور ایمان رکھتے تھے انہوں نے اس بات کو اچھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–17

غزوہ خندق کابیان۔ (ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[18] مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوجاتا اور ان منافقوں سے کہتا کہ مسلمانوں سے لڑو اور فساد برپا کرو تو بلاتامل اس کے لئے آمادہ ہوجاتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–16

دنیوی زندگی عارضی ہے 2: فرمایا ہے کہ اگر تم ازراہ بزل بھاگ جاؤ گے ۔ تو پھر کیا ہوگا کیا ہمیشہ ہمیشہ تم زندہ رہو گے ۔ کیا پھر کبھی نہیں مرو گے ۔ کیا تم یہ سوچتے ۔ کہ یہ زندگی بظاہر طویل نظر آنے کے بہت کوتاہ اور قصیر ہے ۔ موت کا ایک دن مقدر اور معین ہے پھر جب ہر صورت میں مرنا ہے تو ان چند دنوں کی عارضی زندگی کو کیوں ٹھکراتے ہو ۔ عاجل کا نفع تمہارے سامنے ہے ۔ اور آجل کی بہرہ اندوزی سے محروم ہو ۔ یہ کہاں کی عقل مندی اور دانائی ہے کہ حیات چند روزہ کے عرض ابدی زندگی کو بیج ڈالا جائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14۔ اور اگر مدینہ کے تمام اطراف و جوانب سے یہ لشکر ان کے سروں پر آ چڑھتا پھر ان سے فتنے اور فساد میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا جاتا تو یہ اس فساد کی شرکت کو منظورکر لیتے اور بلا توقف اس فتنے میں شریک ہوجاتے اور نہ ڈھیل کرتے اس کے قبول کرنے میں مگر تھوڑی سی یعنی یہ لوگ جو گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ بنا رہے ہیں ۔ یہ شاید بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگ تھے ان کا جواب فرمایا کہ اگر یہی لشکر یا اس جیسا کوئی دوسرا لشکر مدینے کے اطراف و جوانب سے ان پر آ گھسے یا ان جہات مختلفہ سے ان کے مکانوں میں گھس آئے اور ان سے فتنے میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا جائے یعنی فتنہ یہ کہ مسلمانوں پر حملہ کرو ، یا یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین اور معاہد لوگوں کی حالت کا بیان کہ وہ بھاگ کر مخالفین سے ملنا چاہتے تھے 14) یہ لوگ جنہوں نے اس وقت گھروں کے خالی ہونے کے عذر وبہانے پیش کئے ، جن کے اندر کچھ تھا اور ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی تھیں ، ان کی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر خدانخواستہ دشمن کا لشکر شہر میں داخل ہوجائے اور وہ ان لوگوں کو جو اس وقت عذر پیش کرکے یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دے دے تو یہ لوگ اس اسلام دشمنی کے باعث جو ان کے ولوں میں پوشیدہ ہے اس وقت ہتھیار سجا کر دشمن کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے پھر نہ انہیں بال بچوں کا خیال ستائے گا اور نہ ہی اپنے گھروں کی حفاظت کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–27

The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…

Read the full tafseer →