Explained with ayahs 14–17
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے باز پرس ہوگی
جو لوگ یہ عذر کرکے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گذرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آجائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بےتامل کفر کو قبول کرلیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کررہے ہیں۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 27
یعنی جنگ اُحُد کے موقع پر جو کمزوری انہوں نے دکھائی تھی اس کے بعد شرمندگی و ندامت کا اظہار کر کے ان لوگوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اب آزمائش کا کوئی موقع پیش آیا تو ہم اپنے اس قصور کی تلافی کردیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو محض باتوں سے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ جو شخص بھی اس سے کوئی عہد باندھتا اس کے سامنے کوئی نہ کوئی آزمائش کا موقع وہ ضرور لے آتا ہے تاکہ اس کا جھوٹ سچ کھل جائے۔ اس لیے وہ جنگ احد کے دو ہی سال بعد اس سے بھی زیادہ بڑا خطرہ سامنے لے آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ولو دخلت علیھم من اقطار ھا ثم سئلو الفنۃ لا توھا وما تلبثوا بھا الا یسرا (14)
’ اقطارھا ‘ کی ضمیر کا مرجع ’ یثرب ‘ بھی ہوسکتا ہے لیکن قرائن کی روشنی میں میرے نزدیک اس کا مرجع ’ بیوت ‘ یہ۔ مطلب یہ ہے کہ گھروں کی حفاظت کا بہانہ تو محض بہانہ ہے۔ اصل مقصد ان کا دین کی حفاظت و مدافعت سے فرار ہے۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ کم وقعت اور ارزاں چیز دین ہے۔ اگر ان کے گھروں کے اطراف سے ان پر اسلام کے مخالفوں کی چڑھائی ہوجائے اور وہ ان سے ارتداد یا مسلمانوں سے جنگ کرنے کا مطالبہ کریں تو یہ ان کے مطالبہ کو بےدرنگ مان لیں گے۔ لفظ فتنہ، پر ہم جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس سے رجعت اور ارتداد یا مسلمانوں کے خلاف…
Read the full tafseer →15-1بیان کیا جاتا ہے کہ یہ منافقین جنگ بدر تک مسلمان نہیں ہوئے۔ لیکن جب مسلمان فاتح ہو کر اور مال غنیمت لے کر واپس آئے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام کا اظہار کیا بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ جب بھی کفار سے معرکہ پیش آیا تو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ضرور لڑیں گے، یہاں ان کو وہی عہد یاد کرایا گیا ہے۔
15-2یعنی اسے پورا کرنے کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا اور عدم وفا پر سزا کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
15: یعنی یہ منافق لوگ اس وقت تو یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ ہمارے گھروں کی دیواریں نیچی ہیں، اور وہ غیر محفوظ ہیں، لیکن اگر دشمن مدینہ منورہ میں چاروں طرف سے داخل ہوجائے اور ان سے فرمائش کرے کہ تم بھی مسلمانوں کے خلاف ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوجاؤ تو دشمن کا پلہ بھاری دیکھ کر یہ ان کے ساتھ جاملیں گے اور اس وقت انہیں اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →ولقد کانوا عاھدوا ۔۔۔۔۔۔ عھد اللہ مسئولا (15)
ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت اپنی سیرۃ میں نقل کی ہے کہ یہ لوگ بنو حارثہ تھے۔ یہی لوگ تھے جو احد کے دن بھی بھاگنا چاہتے تھے اور بنو مسلمہ اور ان دونوں نے واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کرلیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں گے۔ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ تم نے خود یہ عہد اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ آئندہ ایسا نہ کریں گے۔
احد کے دن تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ بچ گئے تھے۔ اللہ نے ان کو ثابت قدمی دے دی تھی۔ اور ان کو فرار کے نتائج سے بچا لیا تھا۔ ابتدائی زمانے میں جہاد کے اسباق میں سے یہ ایک سبق تھا لیکن آج تو تحریک…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جنگ احد کے بعد انہوں نے اقرار کیا تھا کہ پھر ہم ایسی حرکت نہ کریں گے۔ " اس کی پوچھ اللہ کی طرف سے ہوگی کہ وہ قول وقرار کہاں گیا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { وَلَقَدْ کَانُوْا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ } ”حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔“
اس سے پہلے وہ بحیثیت مسلمان اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ وہ باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے۔
{ وَکَانَ عَہْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلًا } ”اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔“
Read the full tafseer →20 منافقوں کا اپنے عہد سے انحراف :۔ یہ عہد ان منافقوں نے جنگ احد کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ کوئی آزمائش کا موقع آیا تو ہم اپنے سابقہ قصور کی تلافی کردیں گے۔ پھر جب دو ہی سال بعد آزمائش کا موقعہ آگیا تو ان لوگوں نے پہلے سے بھی زیادہ بزدلی دکھائی اور جنگ سے فرار کی راہیں سوچنے لگے بلکہ دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ حتیٰ کہ سب کو معلوم ہوگیا کہ یہ اپنے عہد میں کس قدر مخلص تھے۔ اب ان کے اصل جرم کے علاوہ اس بدعہدی کی بھی بازپرس ہوگی۔
Read the full tafseer →32۔ بدر کے بعد جب بعض مخلص مسلمان حسرت کررہے تھے کہ افسوس، ہم شرکت سے محروم رہ گئے تو بعض منافقین بھی اس گفتگو میں شامل ہوگئے۔ اور کہنے لگے اب جو کوئی موقع آیاتو ہم کسی سے پیچھے نہیں رہنے کے۔
33۔ قرآن مجید کا یہ ایک عام حکیمانہ اسلوب ہے کہ معین ومشخص واقعات کا ذکر کرتے کرتے عام اصول شریعت واخلاق بھی سنا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الادبار . حالانکہ (غزوۂ خندق سے) پہلے انہوں نے اللہ سے معاہدہ کیا تھا کہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ یعنی میدان سے نہیں بھاگیں گے۔
یزید بن رومان کا بیان ہے کہ جنگ احد کے دن بنی حارثہ نے ارادہ کیا کہ بنی سلمہ کو قتل کردیں گے لیکن جب ان کے حق میں آیت کا نزول ہوا تو انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ ایسی بات نہیں کریں گے۔
قتادہ نے کہا : کچھ لوگ غزوۂ بدر سے غیرحاضر تھے لیکن جب (لڑائی کے بعد) انہوں نے اہل بدر کی خداداد عزت و برتری دیکھی تو کہنے لگے کہ آئندہ اگر اللہ نے ہم کو کسی لڑائی میں شریک ہونے کی توفیق دی تو ہم ضرور ضرور لڑیں گے۔ انہی لوگوں کی طرف اللہ نے آیت مذکورہ…
Read the full tafseer →حالانکہ یہی لوگ غزوہ احزاب سے پہلے اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ مشرکین کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیریں گے۔
اور اللہ تعالیٰ کے عہد توڑنے والے سے قیامت کے دن اس نقض عہد کے بارے میں بارز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ۔۔ : یہ عہد ان منافقوں نے احد کے موقع پر جنگ سے گریز اور پسپائی کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ آزمائش کا کوئی موقع آیا تو ہم اپنی سابقہ کوتاہی کی تلافی کریں گے اور لڑائی سے پیٹھ نہیں پھیریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ عہد یاد دلایا کہ اسے کوئی لمبی مدت نہیں گزری، بلکہ غزوۂ احزاب سے کچھ ہی پہلے انھوں نے وہ عہد کیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کو صرف زبانی عہد کے ساتھ دھوکا نہیں دیا جاسکتا، بلکہ وہ آزمائش کا کوئی موقع لا کر پوچھتا ضرور ہے کہ تمہارا وعدہ سچا تھا یا جھوٹا۔ اس کے علاوہ قیامت کے دن وہ ایمان کے عہد سے لے کر لڑائی سے فرار نہ کرنے تک کے ہر عہد کے…
Read the full tafseer →آیت ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل غزوئہ خندق سے پہلے اور غزوئہ بدر کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا۔ قتادہ نے کہا : اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوئہ بدر سے غائب رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جو کرامات اور نصرت عطاکی تھی اس کو انہوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنگ کا موقع دیا تو ہم ضرور جنگ کریں گے (1) ۔ یزید بن رومان نے کہا : وہ بنو حارثہ تھے انہوں نے غزوئہ احد کے موقع پر بنو سلمہ کے ساتھ مل کر بزدلی کا ارادہ کیا تھا۔ جب ان کے بارے میں نازل ہوا جو نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔
منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے
4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا [اور یقینا یہ لوگ معاہدہ کرچکے تھے ] اللّٰهَ [اللہ سے ] مِنْ قَبْلُ [پہلے سے ] [لَا يُوَلُّوْنَ : (کہ) وہ لوگ نہیں پھیریں گے ] الْاَدْبَارَ ۭ [پیٹھوں کو ] وَكَانَ [اور ہے ] عَهْدُ اللّٰهِ [اللہ کا عہد ] مَسْـُٔــوْلًا [پوچھا جانے والا ] ۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں بھی انہیں لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے گھروں کے خالی ہونے کا بہانہ کرکے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے اجازت طلب کی تھی، ارشاد فرمایا : (وَلَقَدْ کَانُوْا عَاھَدُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) (الآیۃ) یعنی ان لوگوں نے اس سے پہلے عہد کیا تھا کہ پشت پھیر کر نہ جائیں گے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بنو حارثہ کا ذکر ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے قبیلہ بنو سلمہ مراد ہے، یہ لوگ غزوہ احد کے موقع پر بزدلی دکھا چکے تھے پھر توبہ کرکے شریک ہوگئے تھے اور خندق کا واقعہ پیش آنے سے پہلے عہد کیا تھا کہ راہ فرار اختیار نہ کریں گے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں ان منافقوں کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →ف 22:۔ ولقد کانوا الخ، حالانکہ یہ منافقین جو اس وقت راہ فرار تلاش کر رہے ہیں اللہ سے عہد کرچکے ہیں کہ آئندہ وہ میدان جہاد سے کبھی پیٹھ نہیں پھیریں گے اور عہد و پیمان کو توڑنا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں کبھی جہاد کا موقع دیا تو ہم کبھی پیچھے نہ رہیں گے اور نہ میدان جہاد سے بھاگیں گے لیکن اب غزوہ خندق میں بھاگنے کے بہانے تراش رہے ہیں قال قتادۃ وذالک انہم غابوا عن بدر وراو ما اعطی اللہ اھل بدر من الکرامۃ والنصر فقالوا لئن اشھدنا اللہ قتالا لنقاتلن (قرطبی ج 14 ص 150) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَانُوْا عَاہَدُوا اللہَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ 0 ۭ وَكَانَ عَہْدُ اللہِ مَسْـُٔــوْلًا 15
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124]
( ع ھ د ) العھد
( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْکَانُوْا عَاھَدُواللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لاَ یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ط وَکَانَ عَھْدُاللّٰہِ مَسْئُوْلاً ۔ (الاحزاب : 15)
(ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی پرسش ہونی ہے۔ )
منافقین کی بد عہدی
جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو وہ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتے ہوئے دراصل یہ عہد کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی سربلندی کو ہر چیز سے عزیز سمجھوں گا۔ اور مجھے اس دین کی حفاظت کے لیے اگر میدانِ جہاد میں بھی جانا پڑا تو میں اس میں کوتاہی نہیں کروں گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ احزاب میں منافقوں کا کردار۔
منافقت انسان کے دل کی بیماری ہے جس کے اثرات انسان کے اخلاق اور کردار پر ضرور ظاہر ہوتے ہیں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں پر مشکل وقت آئے تو منافق کی منافقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ایسے موقعہ پر منافق کی ہمدردیاں کفار اور مشرکین کے ساتھ ہوجایا کرتی ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کا اس وقت ساتھ چھوڑا جب کفار احد کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی منافقوں کی ہمدردیاں مدینہ کے یہودیوں اور اہل مکہ کے ساتھ تھیں۔ منافقوں نے دیکھا کہ دس ہزار کا لشکر مدینہ پر امڈ آیا ہے اور مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے خندق کھودنے…
Read the full tafseer →منافقین کا وعدہ :
15: وَلَقَدْ کَانُوْاعَاھَدُوْا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لَایُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ (حالانکہ یہی لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے عہد کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے) بنو حارثہ قبیلہ کے لوگ غزوہ خندق سے قبل) یا اس لشکر احزاب کو دیکھنے سے پہلے کہ وہ شکست کھا کر نہ بھاگیں گے۔ وَکَانَ عَھْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلًا (اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کی بازپرس ہوگی) وہ عہد مطلوب و مقصود ہے تاکہ اس کو پورا کیا جائے۔
Read the full tafseer →15، ولقد کانواعا ھدوا اللہ من قبل، غزوہ خندق سے پہلے ۔ ، لایولون الا دبار، دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ یز یدبن رومان کا بیان ہے کہ جنگ احد کے دن بنی حارثہ نے ارادہ کیا کہ بنی سلمہ کو قتل کردیں گے لیکن جب ان کے حق میں آیت کا نزول ہواتو انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ ایسی نہیں کریں گے ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ کچھ لوگ غزوہ بدر سے غیر حاضر تھے لیکن جب انہوں نے اہل بدر کی خداداد عزت و برتری دیکھی تو کہنے لگے کہ آئندہ اگر اللہ نے ہم کسی لڑائی میں شریک ہونے کی توفیق دی تو ہم ضرور ضرور لڑیں گے انہی لوگوں کی طرف اللہ نے آیت مذکورہ میں اشارہ کیا ہے۔
لیۃ العقبہ میں بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد
مقاتل اور کلبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 15
(عاھدوا اللہ من قبل لایولون الادبار وکان عھد اللہ مسؤلا) ”(حالانکہ) انہوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہو کر ہی رہے گی۔ “ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا ‘ وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
28 بہانہ بازوں کی محض بہانہ بازی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ محض ان لوگوں کی بہانہ بازی تھی ورنہ اگر دشمن کی کوئی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ان سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کو کہے تو یہ فوراً تیار ہوجائیں گے اور اس وقت ان کو ایسا کوئی خطرہ یاد نہ آئے گا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ یہ محض جہاد سے بھاگنے کے لئے بہانہ بازی کر رہے تھے۔ " فتنہ " سے یہاں پر مراد ارتداد اور مسلمانوں سے لڑنا ہے ۔ " الرِّدَّۃُ ومُحَاَرَبۃُ المسلمین " ۔ (جامع البیان ج 2 ص 124) سو اگر کوئی اسلام دشمن قوت حملہ آور ہو کر ان سے مرتد ہوجانے کو یا مسلمانوں سے لڑنے کیلئے کہے تو یہ بےدریغ ان کی بات مان لیں گے اور اس وقت یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 7 قتادہ (رح) کہتے ہیں یہ لوگ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے لیکن جب بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو انہوں نے عہد کیا کہ اب اگر آزمائش کا موقع آیا تو ہم ضرور مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ ( شوکانی) ۔8 یعنی قیامت کے دن ان سے ضرور باز پرس ہوگی کہ تم نے جو عہد کرلیا تھا اسے پورا کیوں نہ کیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(33:16) لن ینفعکم۔ مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تمہیں ہرگز نہیں نفع دیگا۔ (کیونکہ تقدیر کا لکھا تو ہو کر ہی رہے گا تم بستر پر ناک رگڑ رگڑ کر مرو گے یا جہاد میں شہید ہوگے۔ سب مقدر ہوچکا ہے اس سے کوئی مفر نہیں ہے)
واذا تب بھی۔ اس صورت میں بھی۔ اذا اصل میں اذن تھا وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدلا ۔ حرف جزاء ہے جملہ شرط محذوف۔ ای ان نفغکم الفرارکم یکن ذلک الا لزمان قلیل۔
لاتمتعون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو فائدہ حاصل کرنے نہیں دیا جائیگا۔ تم کو فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ تمتع (تفعل) مصدر ۔ فائدہ اٹھانا۔
قلیلا : ای زمانا قلیلا۔ بہت تھوڑی ہی مدت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17
دخلت : داخل کردیا گیا۔
اقطار : کنارے۔ اطراف
سئلوا : سوال کیا گیا
ما تلبثوا : دیر نہ لگائیں گے
لا یولون : وہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔
لا تمتعون : تم فائدہ نہ اٹھا سکو گے
یعصم : وہ بچاتا ہے
لا یجدون : وہ نہ پائیں گے
نصیر : مددگار
تشریح آیت نمبر 14 تا 17
گذشتہ آیات سے غزوہ احزاب کے متعلق بیا کیا جارہا ہے اب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب منافقین نے کفار و مشرکین کو آندھی اور طوفان کی طرح آتے دیکھا تو وہ گھبرائے گئے اور میدان جنگ سے بھاگنے کے راستے اور بہانے تلاش کرنے لگے ۔ اس کے بر خلاف وہ اہل ایمان جو اللہ کی ذات پر مکلمل بھروسہ اور ایمان رکھتے تھے انہوں نے اس بات کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[18] مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوجاتا اور ان منافقوں سے کہتا کہ مسلمانوں
سے لڑو اور فساد برپا کرو تو بلاتامل اس کے لئے آمادہ ہوجاتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
دنیوی زندگی عارضی ہے
2: فرمایا ہے کہ اگر تم ازراہ بزل بھاگ جاؤ گے ۔ تو پھر کیا ہوگا کیا ہمیشہ ہمیشہ تم زندہ رہو گے ۔ کیا پھر کبھی نہیں مرو گے ۔ کیا تم یہ سوچتے ۔ کہ یہ زندگی بظاہر طویل نظر آنے کے بہت کوتاہ اور قصیر ہے ۔ موت کا ایک دن مقدر اور معین ہے پھر جب ہر صورت میں مرنا ہے تو ان چند دنوں کی عارضی زندگی کو کیوں ٹھکراتے ہو ۔ عاجل کا نفع تمہارے سامنے ہے ۔ اور آجل کی بہرہ اندوزی سے محروم ہو ۔ یہ کہاں کی عقل مندی اور دانائی ہے کہ حیات چند روزہ کے عرض ابدی زندگی کو بیج ڈالا جائے ۔
Read the full tafseer →15۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ بلا شبہ یہ لوگ اس غزوۂ احزاب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس ہونی ہے۔
یعنی یہی بنو حارثہ اور بنو سلمہ غزوۂ احد کے بعد اور غزوۂ خندق سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ ہم جہاد سے نہیں بھاگیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن باوجود عہد کے پھر کمزوری دکھا رہے ہیں اور گھروں کا بہانہ بنا کر بھاگنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگ احد کے بعد یہ اقرار کیا تھا کہ پھر ہم ایسی حرکت نہ کریں گے۔ 12 اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کا توڑنے پر باز پرس کا مطلب یہ ہے کہ عہد…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ عہد اس وقت کیا تھا جبکہ بدر میں بعض شرکت سے رہ گئے تھے، تو بعض منافقین بھی مفت کرم داشتن کے طور پر کہنے لگے کہ افسوس ہم نہ شریک ہوئے، ایسا کرتے ویسا کرتے، جب وقت آیا ساری قلعی کھل گئی۔
Read the full tafseer →حالانکہ یہ فتنہ گروہی ہیں جنہوں نے قبل ازیں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا
15) جن لوگوں کے دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں بیان فرمایا وہ کون تھے ؟ فرمایا وہی تو تھے جو مدینہ کے اندر اس سانحہ سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم اسلام کے لئے جان دے دیں گے لیکن اسلام کے نام پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور یہ کہ اسلام کی خاطر ہم خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے ، ہم سرفروشوں کی جماعت ہیں سرکٹوا دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ وعدے جو انہوں نے اس وقت کئے تھے اب وہ کہاں چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ منافقت کہتے ہی اس کو ہیں کہ یہ لوگ وقت سے پہلے تو بہت بڑھکیں مارتے ہیں لیکن جب وقت سر پر آجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →27 That is, "They had felt regret at the weakness they had shown on the occasion of the Battle of Uhud and pledged to Allah that they would compensate for their error in any trial that they would confront in the future. But Allah cannot be deceived by empty words. He puts to one or the other test everyone who makes a pledge with Him so that his sincerity of intention or otherwise is found out. Therefore, just after two years of the Battle of Uhud, He made them confront an even more serious danger and discovered how far they were sincere in their pledge."
Read the full tafseer →