Explained with ayahs 14–17
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے باز پرس ہوگی
جو لوگ یہ عذر کرکے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گذرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آجائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بےتامل کفر کو قبول کرلیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کررہے ہیں۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْاَحْزَاب 28
یعنی اس فرار سے کچھ تمہاری عمر بڑھ نہیں جائے گی۔ اس کا نتیجہ بہرحال یہ نہیں ہوگا کہ تم قیامت تک جیو اور روئے زمین کی دولت پالو۔ بھاگ کر جیو گے بھی تو زیادہ سے زیادہ چند سال ہی جیو گے اور اتنا ہی کچھ دنیا کی زندگی کا لطف اٹھا سکو گے جتنا تمہارے لیے مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
قل لن ینفعکم الفرو وائن فررتھم من الموت اوا لقتل واذا لاتمتعون الا قلیلا (16)۔
اس آیت میں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق ’ اوارادبکم رحمتہ ‘ سے پہلے جملہ کا ایک حصہ مخدوف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ اویمسک رحمتہ ان ارادبکم رحمتہ (یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے) عربی میں حذف کے اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ’ متقلد اسیفا ورمجا ‘ میں بھی یہی اسلوب ملحوط ہے۔ قرآن میں اس کی جو بلیغ مثالیں ہیں ان کی طرف اس کتاب میں ہم اشارہ کرتے آئے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب موجود نہیں ہے اس وجہ سے ترجمہ میں اس حذف کو ہم نے کھول دیا ہے۔
’ من دون ‘ مقابل کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔…
Read the full tafseer →16-1یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
15: یعنی یہ منافق لوگ اس وقت تو یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ ہمارے گھروں کی دیواریں نیچی ہیں، اور وہ غیر محفوظ ہیں، لیکن اگر دشمن مدینہ منورہ میں چاروں طرف سے داخل ہوجائے اور ان سے فرمائش کرے کہ تم بھی مسلمانوں کے خلاف ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوجاؤ تو دشمن کا پلہ بھاری دیکھ کر یہ ان کے ساتھ جاملیں گے اور اس وقت انہیں اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ ولیا ولا نصیرا (16 – 17)
حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ نظام قضا و قدر ان واقعات و نتائج کو آگے بڑھاتا جاتا ہے اور ہر معاملہ اس نظام کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔ موت اور قتل ایک تقدیر ہے ، اس سے تو کوئی قرار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وقت پر آتی ہے۔ ایک لحظہ پہلے اور بعد میں نہیں آتی۔ فرار کی وجہ سے موت موخر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ سے بھاگ گیا تو اپنی موت مرجائے گا جس کا وقت بہت قریب ہے۔ دنیا کا تو ہر عرصہ قریب ہی ہے۔ نیز دنیا کا ہر سازوسامان بھی قلیل ہوتا ہے۔ بچانے والا کوئی نہیں ہے صرف یہ کہ اللہ کی مشیت کسی کی موت کی راہ میں حائل…
Read the full tafseer →4 یعنی جس کی قسمت میں موت ہے وہ کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکتا۔ قضائے الہٰی ہر جگہ پہنچ کر رہے گی اور اگر ابھی موت مقدر نہیں تو میدان سے بھاگنا بےسود ہے۔ کیا میدان جنگ میں سب مارے جاتے ہیں اور فرض کرو بھاگنے سے بچاؤ ہی ہوگیا تو کتنے دن ؟ آخر موت آنی ہے اب نہیں چند روز کے بعد آئے گی اور نہ معلوم کس سختی اور ذلت سے آئے۔
Read the full tafseer →آیت 16{ قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا ‘ اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو“
موت سے بھلا کوئی کیسے بھاگ سکتا ہے ؟ موت تو ہر جگہ اپنے شکار کا پیچھا کرسکتی ہے۔
{ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا } ”اور اگر بھاگو گے تب بھی تم زندگی کے سازوسامان سے فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔“
اگر وقتی طور پر کوئی شخص ایک جگہ سے بھاگ کر اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ تو نہیں ہوسکتا۔ اس کی یہ کوشش اسے اس سے زیادہ بھلا کیا…
Read the full tafseer →21 عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہت بہتر ہے :۔ موت کے متعلق چند اٹل حقائق ہیں۔ ایک یہ کہ موت اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو لوگ جنگ میں شریک ہوں اور نہایت خلوص سے جنگ کریں وہ سب کے سب شہید ہوجاتے ہیں ؟ دوسری حقیقت یہ ہے کہ موت آکے رہے گی اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اگر تم جنگ سے فرار کی راہ اختیار کرو گے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ چند سال مزید جی لوگے۔ آخر تمہیں مرنا ہی ہے اور مر کر ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ یہ تو بہرحال ناممکن ہے کہ موت کی گرفت سے بچ سکو۔ مگر ایسی زندگی پر لعنت ہے جو بدنامی اور ذلت سے گزرے۔ کیونکہ عزت کے ساتھ مرنا ذلت کے ساتھ جینے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →34۔ اور اس چند روز سے مراد عمر مقدار کا بقیہ حصہ ہے کہ یہ جو تم بھاگے بھاگے پھرتے ہو، اس سے عمر مقدر تو بڑھ نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →قل لن ینفعکم الفرار ان فررتم من الموت او القتل . (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر (میدان جنگ سے) تم بھاگو گے تو یہ فرار موت یا قتل سے (بچانے کیلئے) تمہارے لئے مفید نہ ہوگا کیونکہ جس کا وقت مقرر آگیا وہ ضرور مرے گا ‘ قتل ہو یا اپنی معمولی موت سے مرے اور مقرر وقت نہیں آیا تو موت (کسی طرح) نہیں آئے گی۔
واذا لا تمتعون الا قلیلا . اور ایسی حالت میں بجز تھوڑے سے یا تھوڑے دنوں کے فائدہ سے زیادہ متمتع نہیں ہوسکتے۔ یعنی دنیا میں زندہ رہ کر تم تھوری مدت تک یا تھوڑا سا مزہ حاصل کرسکو گے (زیادہ مدت فائدہ اندوز نہ ہو سکو گے) آیت کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض میدان جنگ سے فرار تمہارے لئے…
Read the full tafseer →اے نبی کریم آپ بنی حارثہ کے منافقین سے فرما دیجیے کہ تمہیں بھاگنا کچھ نفع نہیں دے سکتا اور اس صورت میں دنیاوی زندگی سے تم چند ہی دنوں کے لیے ہی فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ۔۔ : یعنی فرار سے تمہاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہوچکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔
وَاِذًا لَّا تُمَـتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا : یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمہاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔
Read the full tafseer →جس کی اجل آجائے گی وہ مر جائے گا یا قتل ہوجائے گا تو بھاگنا اسے کوئی نفع نہیں دے گا۔ پس بھاگنے کے بعد تم دنیا میں تھوڑا عرصہ ہی لطف اندوز ہو گے یہاں تک کہ تمہاری آجال پوری ہوجائیں گی۔ ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ساجی نے یعقوب حضرمی سے روایت نقل کی ہے آیت واذالا یمتعون یاء کے ساتھ ہے۔ بعض روایات میں ہے آیت واذا لا تمتعو، اذا کے ساتھ منصوب ہے رفع اس معنی میں ہے ولا تمتعون اور اذا ملغی ہے۔ اس کو عامل بنانا بھی جائز ہے۔ یہ اس کا حکم اس وقت ہوگا جب اس سے پہلے وائو اور فاء ہو۔ جب اس سے کلام شروع ہو تو تو اس کے ساتھ نصب دے گا تو تو کہے گا : اذا اکرمک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔
منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے
4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ [ہرگز نفع نہیں دے گا تم لوگوں کو ] الْفِرَارُ [بھاگنا ] اِنْ فَرَرْتُمْ [اگر تم لوگ بھاگتے ہو ] مِّنَ الْمَوْتِ [موت سے ] اَوِ الْقَتْلِ [یا قتل ہونے سے ] وَاِذًا [اور تب تو ] لَّا تُمَـتَّعُوْنَ [تم کو فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا ] [اِلَّا قَلِيْلًا : مگر تھوڑا سا (چند دن)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
پانچویں اور چھٹی آیت میں راہ فرار اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم موت سے یا قتل کے ڈر سے بھاگ گئے تو تمہارا یہ بھاگنا تمہیں نفع نہ دے گا، اگر بھاگ گئے تو کتنا جیو گے ؟ اجل مقررہ کے مطابق موت تو آہی جائے گی اور عمر کا جو بقیہ حصہ ہے اس سے بھی زیادہ نفع حاصل نہیں کرسکتے، بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ اس کا وقت مقرر ہے۔
مزید فرمایا کہ ہر چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے اگر تم بھاگ گئے اور جہاں پہنچے وہاں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہلاک فرما دیا تو تمہیں اللہ سے کون بچا سکتا ہے ؟ اور وہ تم پر اپنا فضل فرمائے مثلاً تمہیں زندہ رکھے جو کہ ایک دنیاوی رحمت ہے تو اسے اس سے کون روک سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →23:۔ قل لن ینفعکم الخ ان راہ فرار ڈھونڈنے والوں سے کہہ دیجئے کہ بھاگ کر تم تقدیر الٰہی سے نہیں بچ سکتے۔ موت یا قتال جو بھی تمہارے مقدر میں ہے اس سے تم کہیں بھی بھاگ نہیں سکتے اور اگر جہاد سے فرار ہو کر تم نے اپنی جان بچا بھی لی، تم کو اس بچاؤ سے صرف چند روزہ فائدہ ہوگا۔ ہمیشہ کے لیے موت سے تھوڑا ہی بچ جاؤ گے آخر موت اپنے وقت پر لامحال آئے گی تو بھاگنے سے کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَاِذًا لَّا تُمَـتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 16
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…
Read the full tafseer →قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُاِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِلْقَتْلِ وَاِذًالاَّ تُمَتَّعُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 16)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا، اس وقت زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں ملے گا۔ )
ادائے فرض سے پہلے فرار کبھی مفید نہیں ہوتا
اگر کوئی شخص دین کی طرف سے عائد ہونے والے فرض کی ادائیگی میں قتل یا کسی اور نقصان کا اندیشہ محسوس کرتا ہے اور وہ اس فرض کی ادائیگی سے بھاگ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بھاگ رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو مزید دو چیلنج۔
اس سے پہلے منافقین کو یہ وارننگ دی گئی کہ تمہاری وعدہ خلافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے ضرور بازپرس کرے گا اب ان کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ ان سے فرما دیجیے اگر تم موت یامیدان جنگ میں مارے جانے سے ڈرتے ہو تو اس بھاگنے کا تمہیں معمولی فائدہ ہوگا کیونکہ بالآخر تم موت سے بچ نہیں پاؤ گے۔ انہیں یہ بھی فرمادیجیے کہ جس نقصان سے بچنے کے لیے تم جنگ سے فرار اور بدعہدی کرتے ہو اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرلے تو دنیا کی کونسی طاقت تمہیں اس سے بچا سکتی ہے اگر تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہے تو کون اس کی رحمت کو ہٹا سکتا ہے یہ لوگ نقصان…
Read the full tafseer →16: قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ (اور کہہ دیجئے تم کو بھاگنا ہرگز فائدہ مند نہ ہوگا اگر تم موت) اَوِ القَتْلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا (یاقتل سے بھاگتے ہو اور اس حالت میں تم فائدہ نہ اٹھائو گے مگر تھوڑے دنوں) مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری موت کا وقت آچکا تو میدان سے بھاگنا تمہیں فائدہ نہ دے گا۔ اور اگر موت کا وقت ابھی نہیں آیا اور تم بھاگے تو تم دنیا میں رہنے کا ذرا سا فائدہ اٹھا لو گے اور وہ دنیا میں رہنا وہی مدت حیات ہے جو کہ معمولی ہے۔
نکتہ : کسی مروانی سے منقول ہے کہ اس کا گزر ایسی دیوار کے پاس سے ہوا جو گرا چاہتی تھی اس نے تیزی سے قدم…
Read the full tafseer →16، قل ، ان سے کہہ دیجئے ، لن ینفعکم الفرار ان فرر تم من من الموت او القتل ، تم پر جو کچھ لکھا جا چکا ہے کیونکہ جس کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو وہ از خود اپنی موت مرجاتا ہے یا وہ میدان جہاد میں قتل ہوجاتا ہے۔ ، واذا لا تمتعون الا قلیلا، دنیا میں زندہ رہ کر تم تھوڑی مدت تک یا تھوڑاسامزہ حاصل کرسکو گے ۔ دوسرامطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض میدان جنگ سے فرار تمہارے لیے مفید بھی ہو تو یہ فائدہ زیادہ مدت تک باقی نہ رہتا کیونکہ دنیا بہرحال فناء ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 16
(قل) ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے : (لن ینفعکم الفرار ان فررتم من الموت او القتل) ” اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمہارا بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ “ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے ‘ تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آجاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔
(واذا) یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →30 موت سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں : کہ موت تو بہرحال آنی ہی ہے۔ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس نے تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہنا ہے۔ تو پھر اس سے ڈرنے اور بھاگنے کا کیا فائدہ ؟ اگر تم لوگ میدان کارزار سے اسطرح کے حیلے و حوالے کر کے اور ایسی بہانہ بازیوں سے کام لیکر نکل بھی گئے تو ہمیشہ کے لئے تو موت کے منہ سے چھٹکارا نہیں پا سکو گے بلکہ اتنا ہی اس دنیا میں رہ سکو گے جتنی کہ تمہاری فرصت عمر باقی ہے۔ تو پھر تمہارا یہ حال کیوں ہے۔ سو موت یا قتل سے ڈر کر ادائے فرض سے گریز و فرار کی راہیں اختیار کرنا کوئی دانشمندانہ پالیسی نہیں بلکہ یہ ایک احمقانہ روش ہے۔ زندگی اور موت کا تمام معاملہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 9 آخر کار مرنا ہے اور خدا کے حضور حاضر ہونا ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا مرتبہ پائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(33:16) لن ینفعکم۔ مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تمہیں ہرگز نہیں نفع دیگا۔ (کیونکہ تقدیر کا لکھا تو ہو کر ہی رہے گا تم بستر پر ناک رگڑ رگڑ کر مرو گے یا جہاد میں شہید ہوگے۔ سب مقدر ہوچکا ہے اس سے کوئی مفر نہیں ہے)
واذا تب بھی۔ اس صورت میں بھی۔ اذا اصل میں اذن تھا وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدلا ۔ حرف جزاء ہے جملہ شرط محذوف۔ ای ان نفغکم الفرارکم یکن ذلک الا لزمان قلیل۔
لاتمتعون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو فائدہ حاصل کرنے نہیں دیا جائیگا۔ تم کو فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ تمتع (تفعل) مصدر ۔ فائدہ اٹھانا۔
قلیلا : ای زمانا قلیلا۔ بہت تھوڑی ہی مدت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17
دخلت : داخل کردیا گیا۔
اقطار : کنارے۔ اطراف
سئلوا : سوال کیا گیا
ما تلبثوا : دیر نہ لگائیں گے
لا یولون : وہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔
لا تمتعون : تم فائدہ نہ اٹھا سکو گے
یعصم : وہ بچاتا ہے
لا یجدون : وہ نہ پائیں گے
نصیر : مددگار
تشریح آیت نمبر 14 تا 17
گذشتہ آیات سے غزوہ احزاب کے متعلق بیا کیا جارہا ہے اب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب منافقین نے کفار و مشرکین کو آندھی اور طوفان کی طرح آتے دیکھا تو وہ گھبرائے گئے اور میدان جنگ سے بھاگنے کے راستے اور بہانے تلاش کرنے لگے ۔ اس کے بر خلاف وہ اہل ایمان جو اللہ کی ذات پر مکلمل بھروسہ اور ایمان رکھتے تھے انہوں نے اس بات کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[19] یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے۔ اور اگر نہ بھاگتے تو وقت سے پہلے مر نہیں سکتے۔ لہذا بھاگنا محض بےعقلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
دنیوی زندگی عارضی ہے
2: فرمایا ہے کہ اگر تم ازراہ بزل بھاگ جاؤ گے ۔ تو پھر کیا ہوگا کیا ہمیشہ ہمیشہ تم زندہ رہو گے ۔ کیا پھر کبھی نہیں مرو گے ۔ کیا تم یہ سوچتے ۔ کہ یہ زندگی بظاہر طویل نظر آنے کے بہت کوتاہ اور قصیر ہے ۔ موت کا ایک دن مقدر اور معین ہے پھر جب ہر صورت میں مرنا ہے تو ان چند دنوں کی عارضی زندگی کو کیوں ٹھکراتے ہو ۔ عاجل کا نفع تمہارے سامنے ہے ۔ اور آجل کی بہرہ اندوزی سے محروم ہو ۔ یہ کہاں کی عقل مندی اور دانائی ہے کہ حیات چند روزہ کے عرض ابدی زندگی کو بیج ڈالا جائے ۔
Read the full tafseer →16۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم موت یا قتل اور مارے جانے کے خوف سے بھاگنا چاہتے ہو تو یہ بھاگنا تم کو ہرگز نفع نہ دے گا اور ایسی حالت میں تم سوائے تھوڑے دنوں کے کوئی خاص فائدہ نہیں پاسکتے۔ یعنی یہ فرار کا ارادہ کرنے والے اگر موت یا قتل کے خوف سے بھاگ بھی جائیں گے تو موت ایک دن ضرور آنی ہے سوائے اس کے کہ جتنے دنوں کی زندگی مقدر ہے اتنے دنوں کوئی فائدہ حاصل کرلو اس سے زیادہ تو کوئی پھل نہیں پاسکتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس کی قیمت میں موت ہے اس کو بچائو نہ ہوگا بھاگے سے اور اگر موت نہیں تو بھاگ کر بچا کے دن ۔ 12 یعنی موت نہیں تو نہ فرار سے کوئی ضرر اور نہ فرار سے کوئی…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ اس کا وقت مقدر ہے اور جب مقدر ہے تو اگر نہ بھاگتے تو بھی وقت سے پہلے مر نہیں سکتے، پس نہ قرار بالقاف سے کوئی ضرر نہ فرار بالفاء سے کوئی نفع پھر بھاگنا محض بےعقلی۔
Read the full tafseer →فرار ہونے والے کان کھول کر سن لیں کہ وہ موت سے ہرگز نہیں بھاگ سکیں گے
16) اے میرے رسول ! ﷺ آپ ﷺ ان پر یہ بات واضح کردیں اور میری طرف سے بھی اچھی طرح سمجھا دیں کہ اگر تمہاری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا اور تمہارا اس نازک موقع پر فرار تمہارے لئے ہرگز ہرگز کارگر ثابت نہیں ہوگا اور یادرکھو کہ تمہاری ساری امدنوں پر پانی پھرجائے گا اگر تمہاری موت کا وقت ابھی قریب نہیں آیا تو بھاگ کر زیادہ سے زیادہ چند روز اور عیش و عشرت کرلو گے آخر موت تو آکر ہی رہے گی پھر آخر بھاگنے سے کیا فائدہ ؟ کیا اس بھاگنے سے تمہاری عزت افزائی ہوگی ؟ ہرگز نہیں بلکہ تم ثابت کردو گے کہ عقل نام کی کوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
28 That is, "This flight of yours will not add anything to your life. In no case will you live for ever and gain the whole wealth of the world. Hardly a few years will you live after your flight and enjoy life only as long as it is destined for you.
Read the full tafseer →