Explained with ayahs 14–17
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے باز پرس ہوگی
جو لوگ یہ عذر کرکے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گذرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آجائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بےتامل کفر کو قبول کرلیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کررہے ہیں۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْاَحْزَاب 28
یعنی اس فرار سے کچھ تمہاری عمر بڑھ نہیں جائے گی۔ اس کا نتیجہ بہرحال یہ نہیں ہوگا کہ تم قیامت تک جیو اور روئے زمین کی دولت پالو۔ بھاگ کر جیو گے بھی تو زیادہ سے زیادہ چند سال ہی جیو گے اور اتنا ہی کچھ دنیا کی زندگی کا لطف اٹھا سکو گے جتنا تمہارے لیے مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
قل لن ینفعکم الفرو وائن فررتھم من الموت اوا لقتل واذا لاتمتعون الا قلیلا (16)۔
اس آیت میں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق ’ اوارادبکم رحمتہ ‘ سے پہلے جملہ کا ایک حصہ مخدوف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ اویمسک رحمتہ ان ارادبکم رحمتہ (یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے) عربی میں حذف کے اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ’ متقلد اسیفا ورمجا ‘ میں بھی یہی اسلوب ملحوط ہے۔ قرآن میں اس کی جو بلیغ مثالیں ہیں ان کی طرف اس کتاب میں ہم اشارہ کرتے آئے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب موجود نہیں ہے اس وجہ سے ترجمہ میں اس حذف کو ہم نے کھول دیا ہے۔
’ من دون ‘ مقابل کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔…
Read the full tafseer →17-1یعنی تمہیں ہلاک کرنا، بیمار کرنا، یا مال و جائداد میں نقصان پہنچانا یا قحط سالی میں مبتلا کرنا چاہے، تو کون ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے ؟ یا اپنا فضل و کرم کرنا چاہے تو وہ روک سکے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
15: یعنی یہ منافق لوگ اس وقت تو یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ ہمارے گھروں کی دیواریں نیچی ہیں، اور وہ غیر محفوظ ہیں، لیکن اگر دشمن مدینہ منورہ میں چاروں طرف سے داخل ہوجائے اور ان سے فرمائش کرے کہ تم بھی مسلمانوں کے خلاف ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوجاؤ تو دشمن کا پلہ بھاری دیکھ کر یہ ان کے ساتھ جاملیں گے اور اس وقت انہیں اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ ولیا ولا نصیرا (16 – 17)
حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ نظام قضا و قدر ان واقعات و نتائج کو آگے بڑھاتا جاتا ہے اور ہر معاملہ اس نظام کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔ موت اور قتل ایک تقدیر ہے ، اس سے تو کوئی قرار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وقت پر آتی ہے۔ ایک لحظہ پہلے اور بعد میں نہیں آتی۔ فرار کی وجہ سے موت موخر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ سے بھاگ گیا تو اپنی موت مرجائے گا جس کا وقت بہت قریب ہے۔ دنیا کا تو ہر عرصہ قریب ہی ہے۔ نیز دنیا کا ہر سازوسامان بھی قلیل ہوتا ہے۔ بچانے والا کوئی نہیں ہے صرف یہ کہ اللہ کی مشیت کسی کی موت کی راہ میں حائل…
Read the full tafseer →5 یعنی اللہ کے ارادے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ نہ کوئی تدبیر اور حیلہ اس کے مقابلہ میں کام دے سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اسی پر توکل کرے اور ہر حالت میں اسی کی مرضی کا طلبگار رہے۔ ورنہ دنیا کی برائی بھلائی یا سختی نرمی تو یقیناً پہنچ کر رہے گی۔ پھر اس کے راستہ میں بزدلی کیوں دکھائے اور وقت پر جان کیوں چرائے جو عاقبت خراب ہو اور دنیا کی تکلیف ہٹ نہ سکے۔
6 یعنی عرب کی مخالفت سے ڈرتے ہو، اگر اللہ حکم دے تو مسلمان اب تم کو قتل کر ڈالیں۔
Read the full tafseer →آیت 17{ قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَ بِکُمْ سُوْٓئً ا اَوْ اَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً } ”آپ ﷺ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا ؟ یا اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا ؟“
وہ تمہارے ساتھ جیسا بھی معاملہ کرنا چاہے کوئی اس کے آڑے نہیں آسکتا۔
{ وَلَا یَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا } ”اور یہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔“
Read the full tafseer →22 یعنی موت وحیات بھی سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں عیش و آرام کرنا یا تکلیفیں اٹھانا بھی۔ اگر تمہارے مقدر میں موت آچکی ہے تو جنگ سے فرار کے بعد آہی جائے گی۔ اسی طرح اگر چند دن عیش و آرام تمہاری قسمت میں ہے تو تبھی تمہیں نصیب ہوسکتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ایک مخلص مومن کو بےپناہ جرأت عطا کرتا ہے۔ مگر منافق صرف ظاہری اسباب پر نظر رکھتے اور انھیں پر بھروسا کرتے ہیں۔ انھیں صرف دنیوی مفادات ہی عزیز ہوتے ہیں مگر اس حقیقت سے غافل ہیں انھیں وہی کچھ مل سکتا ہے جو اللہ انھیں دینا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →35۔ برائی مثلا یہی کہ وہ تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو کون تمہیں بچا سکتا ہے ؟ فضل مثلا یہ کہ وہ تمہیں زندہ رکھنا چاہے تو کون اس میں مانع ہوسکتا ہے ؟
36۔ ولی یا حمایتی وہ نفع پہنچا سکے، نصیر یا مددگار وہ جو ضرر سے بچا سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →قل من ذا الذی یعصمکم من اللہ ان ارادبجکم سوءا اوارد بکم رحمۃ . آپ کہہ دیجئے : وہ کون ہے جو تم کو اللہ سے بچا سکے ‘ اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے یا وہ کون ہے جو خدا کے فضل کو تم سے روک سکے اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے۔
سُوْءً اسے مراد ہے عذاب۔ اَوْاَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً سے پہلے جملہ محذوف ہے جس کا ذکر ترجمہ میں کردیا گیا ہے۔ عرب کہتے ہیں : مُتَقَلِّدًا سَیْفًا وَرُمْحًا۔ یا یوں کہا جائے (کہ رحمت اگرچہ بری چیز نہیں جس سے بچاؤ کیا جائے لیکن) بچاؤ کے اندر روکنے کا مفہوم ہے تو گویا بچانے سے مراد ہوا روکنا (ہم نے بھی یَعْصِمُ کا ترجمہ روک سکتا ہے کیا ہے) ۔
ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ کون ہے جو تمہیں عذاب خداوندی سے بچا سکے اگر وہ تمہیں قتل کے ذریعے سے عذاب دینا چاہے اور اگر وہ تمہیں قتل سے بچانا چاہے تو وہ کون ہے جو تم سے اللہ کے اس فضل کو روک سکے اور یہ بنی حارثہ والے عذاب خداوندی کے مقابلہ میں نہ کوئی اپنا محافظ پائیں گے کہ وہ ان کی مدد کرسکے اور نہ کوئی مددگار جو عذاب الہی سے ان کو بچا سکے۔
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس (107) اور سورة زمر (38) یعنی اپنے خیال میں تم نے عرب کے مشرکین سے بچنے کے لیے فرار اختیار کیا، لیکن اگر اللہ حکم دے اور مسلمان تمہیں اب قتل کردیں تو تمہیں کون بچائے گا، یا وہ تم پر رحم کا ارادہ کرے تو کون اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے ؟ بہرحال اللہ کی گرفت سے انھیں کوئی حمایتی یا مددگار نہیں بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ سے تمہیں کون بچائے گا ؟ اگر وہ تمہارے بارے میں ہلاکت کا ارادہ کرلے۔ رحمۃ سے مراد خیر، مدد اور عافیت ہے۔ آیت ولیا و لا نصیرا یعنی نہ وہ ایسا قریبی پائیں گے جو انہیں نفع دے اور نہ ایسا مددگار پائیں گے جو ان کی مدد کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔
منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے
4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَنْ ذَا الَّذِيْ [کون ہے وہ جو ] يَعْصِمُكُمْ [بچائے گا تم کو ] مِّنَ اللّٰهِ [اللہ سے ] اِنْ اَرَادَ [اگر وہ ارادہ کرے ] بِكُمْ [تمہارے بارے میں ] سُوْۗءًا [کسی برائی کا ] اَوْ اَرَادَ بِكُمْ [یا وہ ارادہ کرے تمہارے بارے میں ] رَحْمَةً ۭ [کسی رحمت کا ] وَلَايَجِدُوْنَ [اور وہ نہیں پائیں گے ] لَهُمْ [اپنے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] وَلِيًّا [کوئی ولی ] وَّلَا نَصِيْرًا [اور نہ کوئی مدد کرنے والا ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 17 ۔ میں عربی کے معروف قاعدے کے مطابق اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً سے پہلے جملہ کا ایک حصہ محذوف ہے۔ پوری بات یوں ہے۔ او یمسک رحمتہ ان ارادبکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
پانچویں اور چھٹی آیت میں راہ فرار اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم موت سے یا قتل کے ڈر سے بھاگ گئے تو تمہارا یہ بھاگنا تمہیں نفع نہ دے گا، اگر بھاگ گئے تو کتنا جیو گے ؟ اجل مقررہ کے مطابق موت تو آہی جائے گی اور عمر کا جو بقیہ حصہ ہے اس سے بھی زیادہ نفع حاصل نہیں کرسکتے، بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ اس کا وقت مقرر ہے۔
مزید فرمایا کہ ہر چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے اگر تم بھاگ گئے اور جہاں پہنچے وہاں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہلاک فرما دیا تو تمہیں اللہ سے کون بچا سکتا ہے ؟ اور وہ تم پر اپنا فضل فرمائے مثلاً تمہیں زندہ رکھے جو کہ ایک دنیاوی رحمت ہے تو اسے اس سے کون روک سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →24:۔ قل من الِ اس آیت میں حذف ہے از قبیل علفتہا تبنا و ماء باردا، اصل میں تھا۔ او من ذا الذی یمنع رحمۃ اللہ منکم ان اراد بکم رحمۃ (روح ج 21 س 163) ۔ اس آیت میں پہلی آیت ہی کے مضمون کو ایک نئے انداز میں اور ذرا تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے آگے کسی کا بس نہیں چل سکتا۔ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے جو تکلیف اور دکھ مقدر ہے اس سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور نہ اللہ کی رحمت ہی سے تمہیں کوئی محروم کرسکتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کا کارساز اور یار و مددگار نہیں جو تکلیف اور مصیبت سے کسی کو بچا سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللہِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْۗءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَۃً 0 ۭ وَلَا يَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا 17
عصم
العَصْمُ : الإمساکُ ، والاعْتِصَامُ : الاستمساک . قال تعالی: لا عاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 43] ، أي : لا شيء يَعْصِمُ منه،
( ع ص م ) العصم
کے معنی روکنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ لا عاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 43] آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ۔ بعض نے لاعاصم کے معنی کا معصوم بھی کئے ہیں یعنی آج اللہ کے حکم سے کوئی بیچ نہیں سکے گا
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ ذَالَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْٓئً اَوْاَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً ط وَلاَ یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیـًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ (الاحزاب : 17)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے، اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے، اور یہ لوگ اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز پائیں گے نہ کوئی مددگار۔ )
اللہ تعالیٰ کا اختیارِ کامل
انسان کی بھول یہ ہے کہ وہ نفع اور نقصان اور زندگی اور موت اپنی تدبیر کے تابع سمجھتا ہے۔ وہ زبان سے چاہے نہ کہے لیکن حقیقت میں اپنی تدبیر ہی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو مزید دو چیلنج۔
اس سے پہلے منافقین کو یہ وارننگ دی گئی کہ تمہاری وعدہ خلافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے ضرور بازپرس کرے گا اب ان کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ ان سے فرما دیجیے اگر تم موت یامیدان جنگ میں مارے جانے سے ڈرتے ہو تو اس بھاگنے کا تمہیں معمولی فائدہ ہوگا کیونکہ بالآخر تم موت سے بچ نہیں پاؤ گے۔ انہیں یہ بھی فرمادیجیے کہ جس نقصان سے بچنے کے لیے تم جنگ سے فرار اور بدعہدی کرتے ہو اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرلے تو دنیا کی کونسی طاقت تمہیں اس سے بچا سکتی ہے اگر تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہے تو کون اس کی رحمت کو ہٹا سکتا ہے یہ لوگ نقصان…
Read the full tafseer →17: قُلْ مَنْ ذَاالَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ (فرما دیجئے وہ کون ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ سے بچا سکے گا) من اللہ سے مرادوہ عذاب جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ہے۔ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْ ئً (اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے) تمہارے نفوس کے سلسلہ میں قتل ہو یا اور کوئی صورت۔ اَوْ اَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً یا (وہ کون ہے جو اس کے فضل کو روک سکے) اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے۔ رحمۃ سے مراد عافیت و سلامتی کے ساتھ طویل عمر۔ مطلب یہ ہے کون اللہ تعالیٰ کو روک سکتا ہے رحم کرنے سے اگر وہ تم پر رحم کرنا چاہے ؟ یہ روکنے کا معنی اس لئے کیا کیونکہ یعصمکم میں منع کا معنی پایا جاتا ہے۔ وَ…
Read the full tafseer →17، قل من ذا الذی یعصمکم من اللہ ، کون ہے جو تمہیں میرے عذاب سے بچائے ۔ ، ان ارادبکم سوئ، مسوء سے مراد شکست ہے۔ ، اوارادبکم رحمہ، رحمت سے مراد نصرت ہے۔ ، ولا یجدون نھم من دون اللہ ولیا، قریب جو ان کو نفع دے۔ ، ولا نصیرا، جو ان کو عذاب سے بچا نے کے لیے مددگار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر :17
پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرلے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ (قل من ذالذی یعصمکم) ” کہہ دیجیے : تمہیں کون بچا سکتا ہے ؟ “ (من اللہ ان ارادبکم سوء ا) ” اللہ سے اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔ “ (وارادبکم رحمۃ) ” یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ “ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا ‘ نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کرسکتا ہے نہ کوئی برائی دور کرسکتا ہے۔ (ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا) ” اور یہ لوگ اللہ کیس وا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔ “ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →31 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ایسے لوگ اللہ کے مقابلے میں اپنے لیے نہ کوئی حمایتی پاس کیں گے اور نہ کوئی مددگار جو انکے کچھ کام آسکے "۔ یہ اسی پچھلی بات کو ایک دوسرے انداز میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب اللہ پاک کی قضا و قدر کو روکنا کسی کے بس میں نہیں اور اس کے مقابلے میں نہ کوئی کسی کا حامی ہوسکتا ہے نہ مددگار تو پھر اس فرار کا فائدہ کیا ؟ کیونکہ موت کا وقت مقرر اگر نہیں آیا تو چمکتی برستی تلواروں اور تیروں، نیزوں کی بارش میں بھی کسی نے مرنا نہیں۔ اور وقت مقرر کے آجانے پر بند اور مضبوط قلعوں کے اندر بھی اس سے بچنے کی کوئی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 10 ان سے مرد یہود ہیں جو مدینہ کے منافقین سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ہاں چلے آئو، محفوظ ہو گے، یا ان سے مراد بھی کچھ دوسری قسم کے منافقین ہیں جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرتے اور ان سے کہتے تھے کہ کس چکر میں پڑے ہو بھلا ابو سفیان اور غطفان کے لشکر سے بچ سکو گے ؟ آئو ہمارے ساتھ مل جائو اور ہماری عافیت کوشی کی پالیسی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →(33:17) قل ای قل یا محمد ﷺ
یعصمکم : یعصم مضارع واحد مذکر غائب عصم مصدر (باب ضرب) وہ بچائے گا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (کون) بچائے گا تم کو۔ عصمۃ۔ حفاظت۔ بچاؤ۔ گناہوں سے پاکیزگی۔
لہم۔ ان کے لئے ، اپنے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17
دخلت : داخل کردیا گیا۔
اقطار : کنارے۔ اطراف
سئلوا : سوال کیا گیا
ما تلبثوا : دیر نہ لگائیں گے
لا یولون : وہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔
لا تمتعون : تم فائدہ نہ اٹھا سکو گے
یعصم : وہ بچاتا ہے
لا یجدون : وہ نہ پائیں گے
نصیر : مددگار
تشریح آیت نمبر 14 تا 17
گذشتہ آیات سے غزوہ احزاب کے متعلق بیا کیا جارہا ہے اب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب منافقین نے کفار و مشرکین کو آندھی اور طوفان کی طرح آتے دیکھا تو وہ گھبرائے گئے اور میدان جنگ سے بھاگنے کے راستے اور بہانے تلاش کرنے لگے ۔ اس کے بر خلاف وہ اہل ایمان جو اللہ کی ذات پر مکلمل بھروسہ اور ایمان رکھتے تھے انہوں نے اس بات کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
غزوہ خندق کابیان۔
(ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[19] یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے۔ اور اگر نہ بھاگتے تو وقت سے پہلے مر نہیں سکتے۔ لہذا بھاگنا محض بےعقلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 1: بتاؤ تمہارے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو تم یا تمہارا کوئی ساتھی اس کو روک سکے گا ۔ یا اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے تو کوئی اس سے ان کو باز رکھ سکے گا ۔ پھر جب ایسا کوئی شخص نہیں ہے تو کیوں آئی آیت میں اور اس کے دین کی حمایت میں صف آرا نہیں ہوجاتے ۔ کیوں بزدلی اور جین کو پسند کرتے ہو ۔
ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ جنگ اور جہاد سے باز رکھنے والے یہ نہ سمجھیں ۔ کہ وہ خدا کو دھوکہ دے رہیں ہیں اور خدا ان کے ارادوں سے آگاہ نہیں ۔ وہ خوب جانتا ہے ۔ کون لوگ مسلمانوں میں تعویق پیداکر رہے ہیں ۔ اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں ۔ کہ دیکھو ہمارے ساتھ مل…
Read the full tafseer →17۔ آپ ان سے فرمایئے اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی برائی پہنچانی چاہے یا وہ تم پر کوئی مہربانی کرنی چاہے تو وہ کون ہے جو اس برائی سے تم کو بچا لے یا اس کی مہربانی کو تم سے روک دے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کو اپنا حمایتی پائیں گے نہ مدد گار ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اگر کوئی چیز نازل کرنی چاہے اور اتارنی چاہے خواہ وہ کوئی برائی اور سختی ہو جیسے قتل وغیرہ کا کوئی عذاب یا نعمت جیسے عمر کی درازی وغیرہ تو اللہ تعالیٰ کو اس کی مشیت اور ارادہ سے کون روک سکتا ہے اور ہٹا سکتا ہے اور تم اس سختی سے کس طرح بچ سکتے ہو یا اس کی مہربانی سے کس طرح محروم رہ سکتے ہو اس کے سوا نہ کوئی تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 5۔ مثلا وہ تم کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا تم کو کوئی بچا سکتا ہے جیسا تم فرار کو نافع خیال کرتے ہو۔
6۔ مثلا وہ زندہ رکھنا چاہے جو کہ رحمت دنیویہ ہے، تو کوئی اس کا مانع نہیں ہوسکتا، جیسا تمہارا خیال ہے کہ ثبات فی المعرکہ کو قاطع حیات سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر ! ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تم کو اللہ کے عذاب سے بچائے گا
17) غور کیجئے کہ یہ لوگ کتنے گندے اور بداخلاق ہیں جن کے نزدیک اخلاق نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے اور بلا شبہ وہ اس قابل ہیں کہ دشمنوں سے پہلے ان کا صفایا کردیا جائے لیکن رب ذوالجلال والاکرام کا قانون کس قدر ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش بھی بدستور جاری ہے اور یہ حوصلہ نبی کریم ﷺ کا ہے کہ وہ ان کی ایسی گھنائونی حرکات کو برداشت کیے چلے جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مخاطب کرکے فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم کو کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
28 That is, "This flight of yours will not add anything to your life. In no case will you live for ever and gain the whole wealth of the world. Hardly a few years will you live after your flight and enjoy life only as long as it is destined for you.
Read the full tafseer →