Explained with ayahs 18–19
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہوجاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 29
یعنی چھوڑو اس پیغمبر کا ساتھ۔ کہاں دین و ایمان اور حق و صداقت کے چکر میں پڑے ہو ؟ اپنے آپ کو خطرے اور مصائب میں مبتلا کرنے کے بجائے وہی عافیت کوشی کی پالیسی اختیار کرو جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →قد یعلم اللہ المعوقین منکم والقائلین لاخوانھم ھلم الینا ج ولا یاتون الباس الا قلیلا (18)
’ قد یعلم اللہ ‘ میں مضارع سے پہلے فعل ناقص مخدوف ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرچکے ہیں۔ اس میں نہایت سخت قسم کی تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے اندر سے ان لوگوں کو برابر جانتا رہا ہے جو اپنے بھائیوں کو جنگ سے روکتے اور ان سے یہ کہتے رہے کہ ہمارے پاس آجائو اور یہ لوگ جنگ میں عملاً بہت کم حصہ لیتے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی ان سازشوں سے کوئی آگاہ نہیں ہے لیکن اللہ ان سے برابر آگاہ رہا ہے اور جب وہ ان سے برابر آگاہ رہا ہے تو ان کو سزا دیے بغیر بھی نہیں چھوڑے گا۔
ہمارا خیال یہ ہے…
Read the full tafseer →18-1یہ کہنے والے منافقین تھے، جو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکتے تھے۔
18-2کیونکہ وہ موت کے خوف سے پیچھے ہی رہتے تھے۔
Read the full tafseer →16: یہ ایک منافق کی طرف اشارہ ہے جو اپنے گھر میں کھانے پینے میں مشغول تھا اور اس کا مخلص مسلمان بھائی جو جنگ میں جانے کے لئے تیار تھا، اس سے کہہ رہا تھا کہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کیوں جارہے ہو ؟ یہاں میرے پاس آؤ اور اطمینان سے میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔ (ابن جریر طبری)۔
Read the full tafseer →قد یعلم اللہ المعوقین ۔۔۔۔۔۔ ما قتلوا الا قلیلا (18 – 20) ” “۔ جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنا نے کو ، جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔ خطرے کا وقت آجائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہے ، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ، اس لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دئیے۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کا جی چاہتا…
Read the full tafseer →7 یعنی ظاہری وضع داری اور دکھاوے کو شرما شرمی کبھی میدان میں آکھڑے ہوتے ہیں ورنہ عموماً گھروں میں بیٹھے عیش اڑاتے اور اپنی برادری کے لوگوں کو بھی جو سچے مسلمان ہیں جہاد میں آنے سے روکتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 18 { قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ } ”اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں“
جیسا کہ قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ مدینہ کی دو اطراف تو قدرتی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ تھیں ‘ جبکہ عقب میں بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور جب تک انہوں نے معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی نہیں کی تھی تب تک ان کی طرف سے بھی بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ چناچہ مسلمانوں کی اکثریت حملہ آور لشکر کے سامنے خندق کی اندرونی جانب مورچہ بند تھی اور جنگ کا اصل محاذ وہی مقام تھا۔ منافقین نہ صرف خود اس محاذ کی طرف جانے سے کتراتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی روکتے تھے کہ اس طرف مت جائو۔
{ وَالْقَآئِلِیْنَ…
Read the full tafseer →23 یعنی نہ صرف یہ کہ خود جہاد سے فرار کے بہانے سوچتے رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس پیغمبر کا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑو۔ یہ ایمان اور صداقت کے کس چکر میں پڑے ہو۔ اور خواہ مخواہ اپنی زندگی کو تلخ بنا رکھا ہے۔ مصائب اور خطرات میں پڑنے کی بجائے وہی امن و عافیت کی راہ اختیار کرو جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے۔ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ کبھی کبھار محض ظاہری وضع داری اور دکھاوے کے لئے میدان عمل میں آکھڑے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →37۔ (تو تمہاری جان بچ جائے گی اور تم چین اور سکھ سے زندگی بسر کرسکو گے) (آیت) ” اخوانہم “۔ سے مراد وطنی یا قومی بھائی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →قد یعلم اللہ المعوقین منکم والقائلین لاخوانھم ھلم الینا . اور اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے
جو مانع ہوتے ہیں اور اپنے (نسبی یا وطنی) بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ۔
اِخْوَان سے مراد ہیں مدینہ کے باشندے ‘ یعنی ہمارے پاس آجاؤ ‘ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ دو ۔ ان کے ساتھ مل کر جنگ نہ کرو ‘ ہم کو تمہارے مارے جانے کا اندیشہ ہے۔ عائق موڑ دینے والا۔ عَوْق پھیر دینا۔ عائق سے مراد ہوتا ہے خیر سے مانع ‘ یہاں معوقین سے مراد وہ منافق ہیں جو لوگوں کو رسول اللہ کا ساتھ دینے اور آپ کے ہمراہ رہنے سے روکتے تھے۔ قتادہ نے کہا : یہ لوگ منافق تھے جو انصار کو رسول اللہ کا ساتھ دینے سے روکتے تھے اور اپنے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان منافقین میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کو لڑائی میں جانے سے منع کرتے ہیں اور جو منافقین اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ تم مدینہ میں ہمارے پاس آجاؤ اور یہ عبداللہ بن ابی بن سلول، جد بن قیس معتب بن قشیر تھے اور ان کی تو یہ حالت ہے کہ لڑائی میں دکھاوے کے لیے آتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو تمہارے حق میں بخیلی لیے ہوئے بری نیت کے ساتھ۔
Read the full tafseer →قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے یار دوست لوگوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے کے بجائے ہمارے پاس چلے آؤ اور ہماری طرح آرام سے گھروں میں رہو۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔
وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا : یعنی کبھی کبھار دکھاوے اور نام لکھوانے کے لیے چلے آتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت قد یعلم اللہ المعوقین منکم تم میں سے جو لوگ آڑے آتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نبی کریم ﷺ سے روکیں یہ عاقنی من کذا سے مشتق ہے یعنی اس نے مجھے فلاں سے پھیر دیا۔ عوق یہ کثرت اظہار کے لیے آتا ہے۔ آیت والقائلین لاخوانھم ھلم الینایہ اہل حجاز کی لغت کے مطابق ہے۔ دوسرے کہتے ہیں : ھلموا یہ جماعت کے لیے ہے۔ ھلمی یہ عورت کے لیے ہے۔ کیونکہ اصل میں ہا تنبیہ کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ لم ملا دیا گیا ہے پھر تخفیف کے لیے الف کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور اسے مبنی بر فتحہ بنایا گیا ہے اس میں کسرہ اور ضمہ جائز نہیں کیونکہ یہ منصرف نہیں۔ ھلم کا معنی اقبل ہے یعنی آئو۔ یہ دو گروہ تھے یعنی تم میں سے وہ لوگ ہیں جو روکتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔
منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے
4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا…
Read the full tafseer →قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ [جانتارہا ہے اللہ ] الْمُعَوِّقِيْنَ [روکنے والوں کو ] مِنْكُمْ [تم میں سے ] وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ [اور کہنے والوں کو ] لِاِخْوَانِهِمْ [اپنے بھائیوں سے ] هَلُمَّ [چلے آئو ] اِلَيْنَا ۚ [ہماری طرف ] وَلَا يَاْتُوْنَ [ اور وہ لوگ نہیں آئے ] الْبَاْسَ [جنگ کے پاس ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگرتھو ڑاسا (کبھی کبھی) ۔
ع و ق
(ن) عوقا روکنا۔ باز رکھنا۔ منع کرنا۔
(تفعیل) تعویقا کثرت سے روکنا۔ بار بار منع کرنا۔
معوق اسم الفاعل ہے۔ روکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
پانچویں اور چھٹی آیت میں راہ فرار اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم موت سے یا قتل کے ڈر سے بھاگ گئے تو تمہارا یہ بھاگنا تمہیں نفع نہ دے گا، اگر بھاگ گئے تو کتنا جیو گے ؟ اجل مقررہ کے مطابق موت تو آہی جائے گی اور عمر کا جو بقیہ حصہ ہے اس سے بھی زیادہ نفع حاصل نہیں کرسکتے، بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ اس کا وقت مقرر ہے۔
مزید فرمایا کہ ہر چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے اگر تم بھاگ گئے اور جہاں پہنچے وہاں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہلاک فرما دیا تو تمہیں اللہ سے کون بچا سکتا ہے ؟ اور وہ تم پر اپنا فضل فرمائے مثلاً تمہیں زندہ رکھے جو کہ ایک دنیاوی رحمت ہے تو اسے اس سے کون روک سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →25:۔ قد یعلم اللہ الخ، یہ ان منافقین پر زجر ہے جو لوگوں کو جہاد سے روکتے اور ان کی ہمت شکنی کرتے تھے۔ اے منافقین ! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے جہاد میں جانے والوں کو جہاد سے روکتے ہیں۔ اور اپنے بھائی بند منافقوں سے کہتے ہیں، ہمارے پاس آجاؤ، اور اپنے گھروں میں، باغوں میں اور درختوں کے سایوں میں آرام سے بیٹھو۔ اس شدت کی گرمی میں جنگ کر کے اپنا آرام کیوں غارت کرتے ہو۔ اور وہ خود بھی بہت شاذ و نادر انتہائی مجبوری کی صورت میں شریک جہاد ہوتے ہیں۔ اشحۃ علیکم اور جب بامر مجبور جہاد میں شریک ہوتے تو اپنے جسم و جاں اور مال کا انتہائی بخل کرتے ہیں۔ کیا مجال کہ دشمن سے مقابل ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →قَدْ يَعْلَمُ اللہُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِہِمْ ہَلُمَّ اِلَيْنَا 0 ۚ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا 1 8ۙ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
عوق
العَائِقُ : الصارف عمّا يراد من خير، ومنه :
عَوَائِقُ الدّهر، يقال : عَاقَهُ وعَوَّقَهُ واعْتَاقَهُ. قال تعالی: قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ
[ الأحزاب/ 18] ، أي : المثبّطين الصّارفین عن طریق الخیر، ورجل عَوْقٌ وعَوْقَةٌ: يَعُوقُ النّاسَ عن الخیر، ويَعُوقُ : اسم صنم .
( ع و ق ) العائق وہ جو لوگوں کو خیر اور بھلائی سے روکنے والا ہو لوگوں کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…
Read the full tafseer →قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْـکُمْ وَالْقَـآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِہِمْ ھَلُمَّ اِلَیْنَا وَلاَ یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 18)
(اللہ تم میں سے روکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے کہنے والوں کو بھی کہ آئو ہماری طرف، وہ جنگ میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔ )
منافقین کا ایک اور سازشی گروہ
منافقین میں جو سازشی عنصر تھا انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ انھوں نے محاصرے کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جس طرح نفاق کا ثبوت دیا اس کی مثالیں تو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ صرف فرائض میں کوتاہی کرنے والے ہی نہ تھے بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو مزید دو چیلنج۔
اس سے پہلے منافقین کو یہ وارننگ دی گئی کہ تمہاری وعدہ خلافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے ضرور بازپرس کرے گا اب ان کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ ان سے فرما دیجیے اگر تم موت یامیدان جنگ میں مارے جانے سے ڈرتے ہو تو اس بھاگنے کا تمہیں معمولی فائدہ ہوگا کیونکہ بالآخر تم موت سے بچ نہیں پاؤ گے۔ انہیں یہ بھی فرمادیجیے کہ جس نقصان سے بچنے کے لیے تم جنگ سے فرار اور بدعہدی کرتے ہو اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرلے تو دنیا کی کونسی طاقت تمہیں اس سے بچا سکتی ہے اگر تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہے تو کون اس کی رحمت کو ہٹا سکتا ہے یہ لوگ نقصان…
Read the full tafseer →دوسروں کو نصرت ِرسول سے روکنے والے :
18: قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتے ہیں جو مانع بنتے ہیں) یعنی جو دوسروں کو نصرت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں۔ وہ منافقین تھے۔ وَالْقَآپلِیْنَ لِاِخْوَانِھِمْ (اور اپنے نسبی یا وطنی بھائیوں کو کہتے ہیں) کھلے طور پر اپنے مسلمان بھائیوں سے کہتے ہیں) ھَلُمَّ اَلَیْنَا (تم ہمارے پاس آجائو) تم اپنے کو ہمارے قریب کردو اور محمد ﷺ کو چھوڑ دو ۔
لغت : یہ اہل حجاز کی لغت ہے ان کے ہاں اس میں واحد و جماعت برابر ہے۔ مگر بنو تمیم کہتے ہیں ھلم یا رجلُ ، ھلموا یا رجال، یہ ایک صوت ہے جو فعل متعدی کے نام کے طور پر استعمال…
Read the full tafseer →18، قد یعلم اللہ المعوقین منکم، وہ منافق جو لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے اور ہمراہ رہنے سے روکتے تھے۔ ، والقائلین لا خوانھم ھلم الینا، وہ کہتے کہ ہماری طرف آجاؤاور محمد (ﷺ) کو چھوڑ دوان کے ساتھ جنگوں میں شریک نہ ہو، ہم کو تمہارے مارے جانے کا اندیشہ ہے ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ یہ لوگ منافق تھے جو انصار کو رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے سے روکنے تھے اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی گوشت کی طرح ہیں۔ ابوسفیان اور ان کے ساتھی ان کو لقمہ بنالیں گے۔ یہ شخص تو تباہ ہونے والا ہی ہے اس کو چھوڑدو۔
مقاتل کا بیان ہے کہ یہود یوں نے منافقین کے پاس پیغام بھیجا اور کہا تم ابوسفیان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
18 تا 22۔ اوپر ذکر تھا کہ جنگ اجزاب کے قوت جب مسلمانوں کا مقام مدینہ منورہ کے باہر تھا مسلمان اس وقت بڑی تکلیف میں تھے جاڑے کا موسم ٹھنڈی ہوا میں میدان کا رہنا خندق کا کھودنا بھوک کی جدا تکلیف ایسی حالت میں یہودنے تو بڑے خیر خواہ بن کر عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھی ان منافقوں نے جو ظاہر میں مسلمان اور آنحضرت کے لشکر میں تھے ورپردہ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ تم آنحضرت کے ساتھ ہو کر ہرگز نہ لڑوان تھوڑے سے مسلمانوں کی کسی طرح یہ قدرت نہیں ہے کہ ابوسفیان قریش کے سردار کا مقابلہ کرسکیں اور منافقوں نے بڑے خیر خواہ بن کر اس طرح بہکانے کی باتیں مسلمانوں سے خفیہ کہنی شروع کردیں کہ لشکر میں رہنے کا اب موقع…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 18
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں ‘ فرمایا : (قد یعلم اللہ المعوقین منکم) ” یقیناً اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں “ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے (والقائلین لاخوانھم) اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں ‘ کہتے : (ھلم الینا) واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا یہ قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے : (یآھل یثرب لامقام لکم فارجعوا) (الاحزاب : 33/31) ” اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →32 منافقوں کو سخت قسم کی تنبیہ : سو ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے رکاوٹیں ڈالنے والوں کو۔ اس لئے وہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کے یہ مستحق ہیں اپنے کرتوتوں کے باعث۔ سو یہ منافقین کا ایک گروہ تھا جو خود لڑنے اور دفاع کرنے کی بجائے دوسروں کو بھی روکتا اور ان کی حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ منافقین مدینہ کا ایک گروہ تھا جو اپنے قومی اور نسبی بھائیوں یعنی انصار مدینہ کو جنگ سے روکتا تھا۔ اور یہ منافق لوگ ان سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور انکے ساتھی تو بس ایک سر کھانے والے ہیں۔ اور یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جو کسی جماعت یا گروہ کی قلت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 10 ان سے مرد یہود ہیں جو مدینہ کے منافقین سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ہاں چلے آئو، محفوظ ہو گے، یا ان سے مراد بھی کچھ دوسری قسم کے منافقین ہیں جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرتے اور ان سے کہتے تھے کہ کس چکر میں پڑے ہو بھلا ابو سفیان اور غطفان کے لشکر سے بچ سکو گے ؟ آئو ہمارے ساتھ مل جائو اور ہماری عافیت کوشی کی پالیسی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →(33:18) المعوقین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ منصوب المعوق واحد۔ روکنے والے۔ منع کرنے والے۔ العائق وہ جو لوگوں کو خیر اور بھلائی سے روکنے والا ہو لوگوں کو ان کے مقاصد سے روک کر اپنی طرف متوجہ کرنے والا۔ عاق یعوق (باب نصر) عوق وعیق مصدر۔ عاق کردینا ۔ کسی کو جائداد سے محروم کردینا۔ یعوق ایک بت کا نام ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا معبود تھا۔
وقالوا لا تذرون الہتکم ولا تذرن وداولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا (71:23) اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔
ہلم الینا۔ ہماری طرف آجاؤ۔ ہلم اسم فعل بمعنی امر ہے۔ واحد۔ تثنیہ جمع سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 20
المعوقین : روکنے والے
القائلین : کہنے ولے
ھلم : آؤ ہماری طرف
الباس : سختی۔ تنگی
اشحۃ : کنجوسی کرنا
تدور : گھماتی ہیں
یغشی : وہ چھا جاتا ہے
احبط : اس نے ضائع کردیا
یودوا : وہ پسند کرتے ہیں
تشریح : آیت نمبر 18 تا 20
غزوہ خندق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے دل کی گہرائیوں اور پختہ یقین کے ساتھ ایما قبول نہ کیا تھا بلکہ ان کے دل منافقت اور کفر سے بھرے ہوئے تھے اور انہوں نے بعض دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں جیسا انداز اختیار کرکے ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی ان بری حرکتوں سے خبردار رہنے کے لئے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی…
Read the full tafseer →[20] تو تمہاری جان بچ جائے گی اور تم چین سے زندگی بسر کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 1: بتاؤ تمہارے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو تم یا تمہارا کوئی ساتھی اس کو روک سکے گا ۔ یا اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے تو کوئی اس سے ان کو باز رکھ سکے گا ۔ پھر جب ایسا کوئی شخص نہیں ہے تو کیوں آئی آیت میں اور اس کے دین کی حمایت میں صف آرا نہیں ہوجاتے ۔ کیوں بزدلی اور جین کو پسند کرتے ہو ۔
ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ جنگ اور جہاد سے باز رکھنے والے یہ نہ سمجھیں ۔ کہ وہ خدا کو دھوکہ دے رہیں ہیں اور خدا ان کے ارادوں سے آگاہ نہیں ۔ وہ خوب جانتا ہے ۔ کون لوگ مسلمانوں میں تعویق پیداکر رہے ہیں ۔ اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں ۔ کہ دیکھو ہمارے ساتھ مل…
Read the full tafseer →18۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان مانعین کو خوب جانتا ہے جو لوگوں کو جہاد کی شرکت سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جائو اور یہ لوگ جنگ میں نہیں آتے مگر بہت ہی کم اور کبھی کبھی یعنی کچھ لوگ تم میں سے وہ بھی ہیں جو دوسروں کو جنگ کی شرکت سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے وہ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ، بھائی فرمایا نسب کے اعتبار سے وطن کے اعتبار سے اور ان کی بزدلی اور بخل کا یہ عالم ہے کہ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت ہی تھوڑا ، یعنی تھوڑی دیر کیلئے آجاتے ہیں کہ لوگ دیکھ لیں اور ان کو بھی غنیمت کا مستحق سمجھیں اور یہ تھوڑی دیر کو بھی کبھی آ نکلتے ہیں ۔
کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 5۔ مثلا وہ تم کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا تم کو کوئی بچا سکتا ہے جیسا تم فرار کو نافع خیال کرتے ہو۔
6۔ مثلا وہ زندہ رکھنا چاہے جو کہ رحمت دنیویہ ہے، تو کوئی اس کا مانع نہیں ہوسکتا، جیسا تمہارا خیال ہے کہ ثبات فی المعرکہ کو قاطع حیات سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ جہاد سے روکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور رکنے والوں کو بھی
18) { المعوقین } اسم فاعل جمع مذکر منصوب { المعوق } واحد ۔ روکنے والا ، منع کرنے والا۔ اس سے وہ منافق مراد ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ کو تو بہرحال مرنا ہے اس مرتبہ اگر تم ابو سفیان کے ہاتھ لگ گئے تو وہ تم پر قطعاً رحم نہیں کرے گا ، مناسب یہ ہے کہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ دو اور اپنے (یہودی) بھائیوں سے آملو۔ { عوق } (نصر) تعویق (تفعیل) اعتیاق (افتعال) تینوں کا معنی خیر سے روکنا ہے ، عائق اور معوق خیر اور بھلائی سے روکنے والا رجل عوق لوگوں کو بھلائی سے روکنے والا۔ یعوق ایک بت کا نام بتایا گیا ہے جو حضرت نوع (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →29 That is, "Abandon this Prophet and do not become involved in dangers and afflictions only for the sake of the Faith and Truth. Live a life of ease and comfort as we do."
Read the full tafseer →