Explained with ayahs 18–19
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہوجاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاَحْزَاب 30
یعنی اپنی محنتیں، اپنے اوقات، اپنی فکر، اپنے مال، غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں صرف کرنے کے لیے بخوشی تیار نہیں ہیں جس میں مومنین صادقین اپنا سب کچھ جھونکے دے رہے ہیں۔ جان کھپانا اور خطرے انگیز کرنا تو بڑی چیز ہے، وہ کسی کام میں بھی کھلے دل سے اہل ایمان کا ساتھ نہیں دینا چاہتے۔
سورة الْاَحْزَاب 31
لغت کے اعتبار سے اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ لڑائی سے جب تم کامیاب پلٹے ہو تو وہ بڑے تپاک سے تمہارا استقبال کرتے ہیں اور چرب زبانی سے کام لے کر یہ دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بھی بڑے مومن ہیں اور ہم نے بھی اس کام کو فروغ دینے میں حصہ لیا ہے، لہٰذا ہم بھی مال غنیمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →اشحۃ علیکم فاذ جاء الخوف رایتھم ینظرون الیک تدورا عینھم کالذی یغشی علیہ من الموت فاذ اذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد اشحۃ علی الخیر اولئک لم یومنوا فاحبط اللہ اعمالھم وکان ذلیک علی اللہ یسیرا (19)
’ اشحۃ علیکم ‘ کا تعلق اوپر والے جملہ ’ ولایاوتن الباس الا قلیلا ‘ سے ہے۔ یعنی اول تو وہ دفاع میں حصہ لیتے نہیں تھے اور اگر کبھی حصہ لیتے بھی تو تمہارے لئے جان یا مال کی کوئی قربانی کرنے کے معاملے میں نہایت بخیل تھے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر وہ غازی و مجاہد سمجھے جائیں۔
’ فاذا جاء الخوف رایتھم ینظرون الیک تدودا اعینھم کالذی یغشی علیہ من الموت ‘ چونکہ یہ کوئی قربانی دینے کے لئے…
Read the full tafseer →19-1یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کر لڑنے میں بخیل ہیں۔
19-2یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔
19-3یعنی اپنی شجاعت و مردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یا غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی و طراری سے لوگوں کو مثاثر کرکے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ بڑا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بےیارو مددگار چھوڑنے والے ہیں۔
19-3یا دوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
17: یعنی اگر نام کرنے کو کچھ دیر کے لیے لڑائی میں حصہ لینے آتے بھی ہیں تو اس لالچ میں آتے ہیں کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو وہ بھی اپنا حصہ لگائیں۔
18: یعنی بڑی چرب زبانی سے مال غنیمت کا حصہ مسلمانوں سے مانگتے ہیں
Read the full tafseer →اشحۃ علیکم (33: 19) ” “۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں بھی بخیل ہیں ، مالی امداد میں بھی بخیل ہیں اور اچھی نیت اور اچھی خواہشات میں بھی بخیل ہیں۔
فاذا جآء الخوف ۔۔۔۔۔ علیہ من لموت (33: 19) ” “۔ یہ ایک واضح تصویر ہے جس کے خدوخال واضح ہیں ، جس کے اعضاء متحرک ہیں ، لیکن ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ تصویر مضحکہ انگیز ہے۔ اس سے ان کی بزدلی ٹپکتی پڑتی ہے۔ اس قدر بزدل کہ مارے خوف کے ان کے اعضاء کانپ رہے ہیں اور ان کے پورے جسم پر رعشہ طاری ہے۔ لیکن جب خوف چلا جاتا ہے تو ان کی تصویر زیادہ مضحکہ انگیز ہوجاتی ہے۔
فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد…
Read the full tafseer →8 یعنی مسلمانوں کا ساتھ دینے سے دریغ رکھتے ہیں اور ہر قسم کی ہمدردی و بہی خواہی سے بخل ہے۔ ہاں غنیمت کا موقع آئے تو حرص کے مارے چاہیں کہ کسی کو کچھ نہ ملے سارا مال ہم ہی سمیٹ کرلے جائیں۔ اسی احتمال پر لڑائی میں قدرے شرکت بھی کرلیتے ہیں۔
1 یعنی آڑے وقت رفاقت سے جی چراتے ہیں، ڈر کے مارے جان نکلتی ہے اور فتح کے بعد آکر باتیں بناتے اور سب سے زیادہ مردانگی جتاتے ہیں اور مال غنیمت پر مارے حرص کے گرے پڑتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق طعن وتشنیع سے زبان درازی کرتے ہیں۔
2 یعنی جب اللہ و رسول پر ایمان نہیں تو کوئی عمل مقبول نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جہاں حبط اعمال کا…
Read the full tafseer →آیت 19{ اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ } ”اے مسلمانو ! تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں۔“
{ فَاِذَا جَآئَ الْخَوْفُ رَاَیْتَہُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ } ”تو جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو اے نبی ﷺ ! آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں“
{ تَدُوْرُ اَعْیُنُہُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ } ”کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اس شخص کی آنکھوں کی طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔“
اللہ کے راستے میں جہاد کی خبر سنتے ہی انہیں اپنی جان کے لالے پڑجاتے ہیں اور خطرات کے اندیشوں کی وجہ سے ان پر نزع کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
{ فَاِذَا ذَہَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ…
Read the full tafseer →24 منافقوں کی بزدلی کا منظر :۔ ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ کوئی خطرے یا دشمن کے حملے کی بات بھی سن لیں تو ان پر پہلے سے موت کی غشی طاری ہونے لگتی ہے۔ یہ حال ہو تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دے بھی کیسے سکتے ہیں ؟
25 أشحّۃ (مادہ ش ح ح) شحیح ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مال سمیٹنے میں تو انتہا درجہ کا حریص ہو مگر خرچ کرنے میں سخت بخیل ہو۔ یعنی جب جنگ میں تمہارا ساتھ دینے کا معاملہ ہو تو اس معاملہ میں وہ انتہائی بخل سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب جنگ ختم ہوجائے میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہے اموال غنیمت کی تقسیم کا موقعہ ہو تو پھر یہ لوگ مال پر مرے جاتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ یہ سارا مال ہمارے ہی ہاتھ آجائے پھر وہ…
Read the full tafseer →38۔ یعنی یہ اپنی کم ہمتی اور ضعف ایمان کی بناء پر لڑائی میں شریک ہی کب ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی محض نام کرنے کے لئے شریک ہو بھی گئے تو یہ انہیں گوارا نہیں ہوتا کہ مال غنیمت مسلمانوں ہی کو ملے۔
39۔ یعنی مال غنیمت لینے کی خاطر مسلمانوں سے دل خراش باتیں کرتے ہیں۔ مثلا یہ کہ ہماری ہی مدد سے تمہیں یہ فتح میسر ہوئی، آیت میں منافقوں کی بزدلی اور حرص دونوں کا پورا بیان آگیا۔ (آیت) ” الخیر “۔ خیر سے مرا دیہاں مال ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اور متعدد موقعوں پر بھی ہے۔ المال والغنیمۃ (مدارک) اے علی الغنیمۃ (قرطبی)
40۔ یعنی ان میں ایمان تو پہلے ہی سے نہ تھا، اور اسی لئے تو ان کے کسی عمل اور ظاہری طاعت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →اشحۃ علیکم . تمہارے حق میں سخت بخیلی لئے ہوئے۔
یعنی تمہاری مدد کرنے میں یا راہ خدا میں مال صرف کرنے میں یا تمہاری فتح اور مال غنیمت حاصل ہوجانے میں بڑے کنجوس ہیں (یعنی تمہاری مدد اور راہ خدا میں خرچ کرنا نہیں چاہتے اور تمہاری فتح ان کو گوارا نہیں ہے) اَشِحَّۃٌ شَحِیْحٌ کی جمع ہے۔
فاذا جاء الخوف رایتھم ینظرون الیک تدورا عینہم کالذی یغشی علیہ من الموت پھر جب خوف پیش آتا ہے تو آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرا جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو۔
کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ میں مشبہ بہ یا مدہوش ہونے والے کی نظر ہے یعنی کنظر الذی…
Read the full tafseer →اے محمد ! جب دشمن کا خوف کا کوئی موقع آجاتا ہے جیسے خندق تو آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی اور نزع کا عالم طاری ہورہا ہو۔ پھر جب دشمن کا خوف دور ہوجاتا ہے تو تمہیں طعنے دینے لگتے ہیں اللہ کی راہ میں مال صرف کرنے سے بخل کرنے کے لیے یہ لوگ پہلے ہی سے اپنے ایمان میں سچے نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سب نیکیوں کو برائی سے تبدیل کر رکھا ہے اور ان کی نیکیوں کو اکارت کردینا اللہ کے نزدیک بالکل آسان ہے۔
Read the full tafseer →اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ښ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ۔۔ : ”ۙاَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ښ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ“ ”شَحِیْحٌ“ کی جمع ہے، سخت حرص اور بخل کے مجموعے کو ”اَلشُّحُّ“ کہتے ہیں۔ ”حداد“ جمع ہے ”حَدِیْدٌ“ کی، تیز۔ ”سَلَقُوْكُمْ“ ”سَلَقَ یَسْلُقُ“ (ن) ”سَلَقَہُ بالسَّوْطِ“ یعنی اس نے اسے کوڑے سے اتنا مارا کہ کھال اتار دی۔ ”سَلَقَ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ“ ہڈی سے گوشت اتار دیا۔ جب کوئی کسی کو بہت سخت بات کہے تو کہتے ہیں : ”سَلَقَہُ بالْکَلَامِ۔“ ”الْخَــيْرِ“ سے مراد مال غنیمت ہے۔ مولانا محمد جونا گڑھی ؓ نے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر کا جو اردو ترجمہ کیا ہے وہ بہت پر لطف ہے، لکھتے ہیں : ”یہ بڑے بخیل…
Read the full tafseer →آیت اشحۃ علیکم تم پر بخیل ہیں خندق کھودنے میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ؛ یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہاری معیت میں جنگ کرنے میں بخیل ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے فقراء اور مساکین پر خرچ کرنے میں بخیل ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (2) : جب وہ غنیمت کا مال پاتے ہیں تو اس کے بارے میں بڑے بخیل ہوتے ہیں، یہ سدی کا قول ہے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے کہا : فراء کے نزدیک اس پر نصب چار وجوہ سے ہے : (1) یہ مذمت کے طور پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے نزدیک نصب یعوقون اشحۃ کے معنی میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام ہو القائلین اشحۃ اس کے نزدیک…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشحۃ علیکم یعنی منافقوں کا بخیل ہونا مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں۔
مال غنیمت کے لیے آگے بڑھنا
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشحۃ علیکم کہ وہ غنیمتوں کے بارے میں بخیل ہیں جب مسلمان غنیمت حاصل کرتے ہیں تو وہ اس بارے میں مسلمانوں کے ساتھ بخل کرتے ہیں اور اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں (حالانکہ) ہم خاضر ہوئے جنگ میں اور ہم نے قتال بھی کیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاء الکوف رأیتہم ینظرون الیک (جب خوف پیش آتا ہے تو آپ کی طرف دیکھتے ہیں…
Read the full tafseer →اَشِحَّةً [کنجوسی کرنے والے ہوتے ہوئے ] عَلَيْكُمْ ښ [تم لوگوں پر ] فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ [پھر جب آتا ہے خوف (کا وقت)] رَاَيْتَهُمْ [آپ ﷺ دیکھتے ہیں ان کو ] [يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ : [(کہ) وہ لوگ دیکھتے ہیں آپ ﷺ کی طرف ] [تَدُوْرُ [گھومتی ہیں ] اَعْيُنُهُمْ [ان کی آنکھیں ] كَالَّذِيْ [اس کی مانند ] يُغْشٰى عَلَيْهِ [ڈھانپ دیا جاتا ہے جس پر ] مِنَ الْمَوْتِ ۚ [موت میں سے ] فَاِذَا ذَهَبَ [پھر جب چلا جاتا ہے ] الْخَوْفُ [خوف (کا وقت)] سَلَقُوْكُمْ [تو یہ لوگ چرب زبانی کرتے ہیں تم لوگوں سے ] بِاَلْسِـنَةٍ حِدَادٍ [تیز تیز زبانوں کے ساتھ ] اَشِحَّةً [رال ٹپکانے والے ہوتے ہوئے ] عَلَي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ ) (یعنی ان کا ذرا سا نام کرنے کے لیے آنا بھی تمہارے بارے میں بخل اختیار کرنے کے لیے ہے) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان جیت گئے اور انہیں غنیمت کا مال مل گیا تو ہم بھی استحقاق غنیمت کا دعویٰ کرسکیں گے۔
(فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ) (سو جب کوئی خوف کا موقع پیش آجاتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) (فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ ) (پھر جب خوف دور ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →26:۔ فاذا جاء و الخ، پھر جب دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہو تو ایسے دہشت زدہ ہو کر آپ کی طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی پر سکرات الموت طاری ہو اور جب خوف زائل ہوجائے تو مال غنیمت کے لالچ میں تندی و تیزی کے ساتھ آپ لوگوں سے زبان درازی کرتے ہیں۔ اجی ہمیں بھی دو ناں، سارا مال خود ہی سمیٹ لیے جا رہے ہو۔ تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو، فتح تو ہماری ہی مدد سے نصیب ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں منافقین کی انتہائی بزدلی اور دنیا کی حرص و آرزو کا ذکر کیا گیا ہے۔ الخیر سے یہاں مال غنیمت مراد ہے۔ اشحۃ، سلقوا کے فاعل سے ھال ہے۔ اوئلئک لم یومنا الخ، یہ لوگ سرے سے ایمان لائے ہی نہیں۔ محض زبانی اقرار کا کوئی فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →اَشِحَّۃً عَلَيْكُمْ 0 ۚۖ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ رَاَيْتَہُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُہُمْ كَالَّذِيْ يُغْشٰى عَلَيْہِ مِنَ الْمَوْتِ 0 ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِـنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَي الْخَــيْرِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللہُ اَعْمَالَہُمْ 0 ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا 19
شح
الشُّحُّ : بخل مع حرص، وذلک فيما کان عادة . قال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، وقال سبحانه : وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ [ الحشر/ 9] . يقال : رجل شَحِيحٌ ، وقوم أَشِحَّةٌ ، قال تعالی: أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا…
Read the full tafseer →اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ صلے ج فَاِذَا جَآئَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ج فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِ ط اُوْلٰٓئِکَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰہُ اَعْمَالَہُمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 19)
(سخت بخیل ہیں تم پر، جب کوئی خطرہ پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھومتی ہیں جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہو، پھر جب خطرہ ٹل جائے تو مال غنیمت کی حرص میں تم سے تیزی اور طراری سے باتیں کریں گے، یہ لوگ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق کی ایک اور بری عادت اور اس کے بزدل ہونے کی انتہاء۔
درحقیقت منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کسی اچھے کام پر مال خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پاتا۔ نہ صرف خود بخیل ہوتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بخل پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی حالت منافقین مدینہ کی تھی۔ وہ اپنے رشتہ دار مخلص مسلمانوں کو جہاد پر مال خرچ کرنے سے روکتے تھے۔ مال کی محبت کی وجہ سے انسان بخل کرتا ہے اور بخیل آدمی دوسروں کی نسبت موت سے زیادہ ڈرتا ہے یہی حال منافقین کا تھا۔ جن کے بارے میں صحابہ ؓ کو فرمایا گیا کہ ان کی طرف دیکھو اور غور کرو کہ جب تم انہیں جہاد کے لیے کہتے ہو تو ان کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں…
Read the full tafseer →خوف کے وقت منافقین کا حال :
19: اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ (تمہارے حق میں بخیلی لیے ہوئے ہیں) ۔ یہ جمع شحیح کی ہے اس کا معنی بخیل ہے یا تون کی ضمیر سے حال ہے تقدیر کلام اس طرح ہے یا تون الحرب بخلاء علیکم بالظفر والغنیمۃ وہ لڑائی میں اس حال میں شامل ہوتے ہیں کہ تمہارے متعلق کامیابی اور غنیمت کے سلسلہ میں بخل کرنے والے ہیں۔ فَاِذَا جَآ ئَ الْخَوْفُ (پس جب خوف پیش آتا ہے) خواہ دشمن کی جانب سے ہو یا رسول اللہ کی جانب سے ہو۔ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ (تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگے ہیں) اس حالت میں تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ (کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں) ۔ دائیں، بائیں (وہ…
Read the full tafseer →تفسیر 19، اشحۃ علیکم ، اللہ کے راستے میں دینے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں فقرنہ آجائے یا تمہاری فتح اور مال غنیمت حاصل ہوجانے میں بڑی کنجوسی کرتے ہیں ۔ ، فاذا جاء الخوف رائیتھم ینظرون الیک تدور اعینھم ، وہ آپ کو دیکھتے ہیں خوف وبزدلی کے باعث ۔ ، کالذی یغشی علیہ من الموت ، گویا کہ ان پر بیہوشی طاری ہے موت کے باعث ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب موت آجاتی ہے اور عقل ٹھکا نے پر نہیں رہتی اور اس کی آنکھیں ایک جگہ کھڑی ہوتی ہیں وہ دوسری طرف نہیں دیکھتے ۔ ، فاذا ذھب الخوف سلقوکم ، جب ان سے خوف دور ہوجاتا ہے وہ اذیت دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ، بالسنۃ حداد، جمع ہے حدید کی ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے یعنی تمہاری تنقیص کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
18 تا 22۔ اوپر ذکر تھا کہ جنگ اجزاب کے قوت جب مسلمانوں کا مقام مدینہ منورہ کے باہر تھا مسلمان اس وقت بڑی تکلیف میں تھے جاڑے کا موسم ٹھنڈی ہوا میں میدان کا رہنا خندق کا کھودنا بھوک کی جدا تکلیف ایسی حالت میں یہودنے تو بڑے خیر خواہ بن کر عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھی ان منافقوں نے جو ظاہر میں مسلمان اور آنحضرت کے لشکر میں تھے ورپردہ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ تم آنحضرت کے ساتھ ہو کر ہرگز نہ لڑوان تھوڑے سے مسلمانوں کی کسی طرح یہ قدرت نہیں ہے کہ ابوسفیان قریش کے سردار کا مقابلہ کرسکیں اور منافقوں نے بڑے خیر خواہ بن کر اس طرح بہکانے کی باتیں مسلمانوں سے خفیہ کہنی شروع کردیں کہ لشکر میں رہنے کا اب موقع…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 19
(اشخۃ علیکم) ” تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ “ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ (فاذا جآء الخوف رایتھم ینظرون الیک) ” جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں “ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو (من الموت) ” موت کی وجہ سے “ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے ‘ جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے ‘ اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بےسدھ کردیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔
(فاذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →34 منافقوں کے بخل اور لالچ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ تمہارے بارے میں سخت بخل سے کام لیتے ہوئے " " اَشِحَّہ " جمع ہے " شحیح " کی جس کے معنیٰ " کنجوس " اور " بخیل " کے بھی آتے ہیں اور حریص و لالچی کے بھی۔ اس آیت کریمہ میں یہ لفظ دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ شروع میں { اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ } اور آخر میں { اَشِحَّۃً عَلَی الخْیر } فرمایا گیا ہے۔ سو شروع میں اس لفظ کا پہلا معنیٰ مراد ہے اور آخر میں دوسرا۔ یعنی تمہارے بارے میں یہ لوگ ایسے بخیل اور کنجوس ہیں کہ جان لڑانا اور خطرات کو انگیز کرنا تو بڑی بات ہے یہ کسی بھی طرح کی بہتری اور بھلائی کے سلسلے میں تمہارے لئے کسی خیر کے روادار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی اپنی جانیں تو کیا پیش کریں گے تم سے اپنے مال، اوقات، محنتیں غرض ہر چیز بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔
1 یعنی خطرہ کا وقت گزر جاتا ہے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے اور مال غنیمت ہاتھ آتا ہے۔2 یعنی بہادری کے بلند بانگ دعوے کرنے لگتے ہیں اور چوب زبانی سے تمہارا منہ بند کرنا چاہتے ہیں کہ تم ان کی اس روش پر اعتراض نہ کرسکو جو خطرہ کے وقت انہوں نے اختیار کی تھی۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
3 یا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان کے اعمال کے باطل ( کالعدم) ہونے کو ظاہر کردیا کیونکہ ان کے اعمال نیک تھے ہی نہیں کہ انہیں باطل کیا جاتا ہے۔ ( شوکانی)
4 یا انکے اعمال کے باطل ہونے کو ظاہر کرنا آسان ہے۔
Read the full tafseer →(33:19) اشحۃ۔ حریص لوگ ، کسی چیز پر توٹ پڑنے والے۔ شحیح کی جمع جس کے معنی حریص کے ہیں۔ الشح (اسم) کے معنی حرص کے ساتھ بخل کے بھی ہیں جو انسان کی عادت میں داخل ہوچکا ہے۔ ومن یوق شح نفسہ (59:9) اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا۔ اشحۃ علیکم تمہارے معاملہ میں پرلے درجے کے کنجوس اور بخیل ہیں اشحۃ یاتون کی ضمیر فاعل سے بوجہ حال ہونے کے یا المعوقین سے حال ہونے کے منصوب ہے۔
ینظرون مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ دیکھتے ہیں۔ یہ رأیتھم سے حال ہے۔ یعنی تو دیکھے گا ان کو (اس حالت میں کہ) وہ دیکھ رہے ہونگے تمہاری طرف تدورا علینھم یہ حال ہے ضمیر فاعل ینظرون سے۔ اس حالت میں کہ ان کی آنکھیں چکرا رہی تھی۔ دار یدور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 20
المعوقین : روکنے والے
القائلین : کہنے ولے
ھلم : آؤ ہماری طرف
الباس : سختی۔ تنگی
اشحۃ : کنجوسی کرنا
تدور : گھماتی ہیں
یغشی : وہ چھا جاتا ہے
احبط : اس نے ضائع کردیا
یودوا : وہ پسند کرتے ہیں
تشریح : آیت نمبر 18 تا 20
غزوہ خندق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے دل کی گہرائیوں اور پختہ یقین کے ساتھ ایما قبول نہ کیا تھا بلکہ ان کے دل منافقت اور کفر سے بھرے ہوئے تھے اور انہوں نے بعض دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں جیسا انداز اختیار کرکے ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی ان بری حرکتوں سے خبردار رہنے کے لئے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[21] یعنی تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں اور اپنی محنتیں، اپنی توانائیاں اور اپنا مال غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں بخوشی صرف کرنے کو تیار نہیں۔
[22] یعنی مال غنیمت لینے کی خاطر مسلمانوں سے دلخراش باتیں کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ تم نے ایسا کون سا کارنمایاں کیا جو ہم نے نہیں کیا۔ ہم نہ ہوتے تو تم فتح پاسکتے تھے ؟ آیت میں منافقوں کی بزدلی اور حرص دونوں کا پورا بیان آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
بزدلی کی انتہا
1: یہ منافقین کی انتہائی بزدل اور جبن تھا ۔ کہ مخالفین کے عساکر تو آندھی کے طوفات کی تاب نہ لاکر بھاگ چکے تھے مگر یہ اس وہم میں تھے کہ وہ ابھی تک محاصرہ کئے ہوئے ہیں اور اگر یہ عساکر خدانخواستہ پھر پلٹ کر آجائیں ۔ تو ان لوگوں کی طبعاً یہ خواہش ہوگی کہ کہیں جنگل میں جاکر رہیں اور آئے دن جو جنگ وجدال ہوتا رہتا ہے ۔ اس سے محفوظ رہیں ۔ یہ لوگ سخت بزدل ہیں ۔ اور اگرچہ رونا چارا نہیں لڑنا ہی پڑے ۔ تو جی داری سے نہیں لڑتے ۔ بلکہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے ۔ کہ کسی طح یہ مصیبت ٹل جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل قوت جو سپاہی کو میدان جنگ میں شجاعانہ اقدام پر مجبور کرتی ہے ۔ وہ اس کا عقیدہ…
Read the full tafseer →19۔ کبھی تمہارے پاس آتے بھی ہیں تو اس حال میں آتے ہیں کہ تمہارے حق میں حرص آمیز بخل کا جذبہ لئے ہوئے تمہاری طرف سے دریغ رکھتے ہوئے پھر جب کوئی ڈر کی بات پیش آجائے اور خوف کی بات ہوجائے تو اے پیغمبر آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف تکنے لگتے ہیں ان کی آنکھیں ڈگر ڈگر کرنے لگتی ہیں اور پتلیاں اس طرح پھرنے لگتی ہیں جس طرح کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہو رہی ہو پھر جب وہ ڈر کی بات اور وہ خوف دور ہوجاتا ہے تو یہ منافق اپنی زبان درازی اور تیز کلامی سے تم کو طعنے دینے لگتے ہیں اس حال میں کہ یہ مال غنیمت پر بڑے حریص ہوتے ہیں یہ لوگ حقیقت میں ایمان نہیں لائے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی آنے میں بری نیت یہ ہوتی ہے کہ سب غنیمت مسلمانوں کو نہ مل جاوے، برائے نام شریک ہونے سے استحقاق غنیمت کا دعوی تو کسی درجہ میں کرسکیں گے۔
1۔ یعنی مال غنیمت کے لئے الخراش باتیں کرتے ہیں کہ کیوں ہم شریک نہ تھے ؟ ہماری ہی پشتی سے تم کو یہ فتح میسر نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ تمہارے بارے میں بخیل ہیں ، خوف کے وقت گویا وہ مر ہی جاتے ہیں
19) وہ لوگ تمہارا کسی کام میں دل سے کھل کر ساتھ نہیں دیتے حالت جنگ ہو یا حالت امن۔ منافقین کا جو رویہ ہے اس کا مزید انکشاف کیا جارہا ہے اور دشمن کی طرف سے اگر کوئی خوف یا خطرہ پیش آجائے تو آپ کی طرف اس طرح دیدے پھرا پھرا کر دیکھتے ہیں جیسے کسی پر نزع کی حالت میں غشی طاری ہورہی ہو اور جب خوف و خطرے کا وقت گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فتح ونصرت کے بعد قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لے کر آپ ﷺ کے استقبال کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ شریک جنگ تھے ، ہمیں بھی ہمارا حصہ ملنا چاہیے۔ بلا شبہ یہ ہرگز مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →30 "Who are ever reluctant...: "Who are not at all willing to spend their energies, their time, their wealth, etc. in any way in which the true believers are expending whatever they have. Not to speak of exerting themselves and braving the dangers, they do not want to cooperate with the believers in anything with an open heart. "
Read the full tafseer →