ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دوردراز کے جنگل میں ہوتے کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی لڑائی کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ فرماتا ہے یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بیکار ہیں۔ ان کے دل مردہ ہیں نامردی کے گھن نے انہیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کونسی بہادری دکھائیں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاَحْزَاب 30
یعنی اپنی محنتیں، اپنے اوقات، اپنی فکر، اپنے مال، غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں صرف کرنے کے لیے بخوشی تیار نہیں ہیں جس میں مومنین صادقین اپنا سب کچھ جھونکے دے رہے ہیں۔ جان کھپانا اور خطرے انگیز کرنا تو بڑی چیز ہے، وہ کسی کام میں بھی کھلے دل سے اہل ایمان کا ساتھ نہیں دینا چاہتے۔
سورة الْاَحْزَاب 31
لغت کے اعتبار سے اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ لڑائی سے جب تم کامیاب پلٹے ہو تو وہ بڑے تپاک سے تمہارا استقبال کرتے ہیں اور چرب زبانی سے کام لے کر یہ دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بھی بڑے مومن ہیں اور ہم نے بھی اس کام کو فروغ دینے میں حصہ لیا ہے، لہٰذا ہم بھی مال غنیمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →یحسبون الاحزاب لم یذھبوا۔ وان یات الاحزاب یودوا لو انھم بادون فی الاعراب یسئلون عن انبائیکم ولو کانو افیکم ما تتلوا الا قلیلا (20)
ان لوگوں کی بزدلی کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ جماعتوں کے چلے جانے سے ان کے دلوں کا خوف بھی چلا گیا ہے۔ جماعتیں پسپا ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئی ہیں لیکن ان کی ہیبت اس طرح ان کے دلوں پر مسلط ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ یہیں پڑائو ڈالے ہوئی ہیں۔
’ واین یات الاحزاب الایۃ، یعنی اب کے تو یہ کسی نہ کسی طرح، مارے باندھے، یہاں مدینہ میں رہ گئے لیکن اب اگر دوبارہ حملے کا کوئی اندیشہ ہوا تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ…
Read the full tafseer →20-1یعنی ان منافقین کی بزدلی، کم ہمتی اور خوف و دہشت کا یہ حال ہے کہ کافروں کے گروہ اگرچہ ناکام و نامراد واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے مورچوں اور خیموں میں موجود ہیں۔
20-2یعنی بالفرض اگر کفار کی ٹولیاں دوبارہ لڑائی کی نیت سے واپس آجائیں تو منافقین کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ مدینہ شہر کے اندر رہنے کے بجائے باہر صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوں اور وہاں لوگوں سے تمہاری بابت پوچھتے رہیں کہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ہلاک ہوئے یا نہیں ؟ یا لشکر کفار کامیاب رہا یا ناکام ؟
20-3محض عار کے ڈر سے یا ہم وطنی کی حمیت کی وجہ سے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو جہاد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
17: یعنی اگر نام کرنے کو کچھ دیر کے لیے لڑائی میں حصہ لینے آتے بھی ہیں تو اس لالچ میں آتے ہیں کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو وہ بھی اپنا حصہ لگائیں۔
18: یعنی بڑی چرب زبانی سے مال غنیمت کا حصہ مسلمانوں سے مانگتے ہیں
Read the full tafseer →یحسبون الاحزاب لم یذھبوا (33: 20) ” “۔ گویا یہ لوگ ابھی تک کانپ رہے ہیں ، ابھی تک جنگ سے چھپ رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے ہیں ، ان کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ احزاب تو بھاگ گئے ہیں اور خوف ختم ہوگیا ہے اور امن وامان لوٹ آیا ہے۔
وان یات الاحزاب ۔۔۔۔۔ عن انبآئکم (33: 20) ” “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے ان کے ساتھ اور کس قدر بھونڈی تصویر ہے ان لوگوں کی۔ یوں جس طرح کارٹون ۔ اگر دوبارہ احزاب حملہ آور ہوں تو یہ لوگ چاہیں گے کہ یہ اہل مدینہ ہی نہ ہوں اور دور کہیں بدو باشندے ہوجائیں اور مدینہ والوں کی زندگی اور ذمہ داریوں میں شریک ہی نہ ہوں۔ ان کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں ان کو پتہ…
Read the full tafseer →3 یعنی کفار کی فوجیں ناکامیاب واپس جا چکیں لیکن ان ڈرپوک منافقوں کو ان کے چلے جانے کا یقین نہیں آتا۔ اور فرض کیجئے کفار کی فوجیں پھر لوٹ کر حملہ کردیں تو ان کی تمنا یہ ہوگی کہ اب وہ شہر میں بھی نہ ٹھہریں جب تک لڑائی رہے کسی گاؤں میں رہنے لگیں اور وہیں دور بیٹھے آنے جانے والوں سے پوچھ لیا کریں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔ لڑائی کا نقشہ کیسا ہے۔
4 یعنی باتوں میں تمہاری خیرخواہی جتائیں اور لڑائی میں زیادہ کام نہ دیں۔ محض مجبوری کو برائے نام شرکت کریں۔
Read the full tafseer →آیت 20 { یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْہَبُوْا } ”وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔“
اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آجائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔
{ وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ…
Read the full tafseer →28 منافقوں کی بزدلی کی انتہا :۔ بزدل اور ڈرپوک اتنے ہیں کہ اتحادی فوجیں کب کی واپس جا بھی چکی ہیں لیکن انھیں اب تک یقین نہیں آرہا کہ دشمن جاچکا ہے اور ممکن ہے منافق یہ سمجھ رہے ہوں کہ مسلمانوں نے پروپیگنڈا کے طور پر ایسی خبر مشہور کردی ہے۔ انھیں یہ بھی فکر لاحق ہے کہ موسم کی خرابی سے اگر دشمن چلا گیا ہے تو موسم درست ہونے پر پھر دوبارہ نہ چڑھائی کردے۔ اندریں صورت وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اچھا ہوتا کہ وہ مدینہ کے باشندے نہ ہوتے بلکہ کسی گاؤں کے رہنے والے ہوتے۔ جہاں دشمن کی چڑھائی کا خطرہ ہی نہ ہوتا تو انھیں ایسی پریشانیاں لاحق نہ ہوتیں۔ بس ادھر ادھر سے ہی مسلمانوں کے حالات پوچھ پاچھ لیتے یا ان…
Read the full tafseer →41۔ یہ ان کی بزدلی کی انتہاء ہے کہ فوج چلی بھی گئی، اور یہ اب تک اس کے ڈر سے دبے سہمے ہوئے ہیں۔
42۔ منافقوں کے انتہائی اور ضرب المثل بزدلی کا ایک اور نقشہ۔ ان میں ہمت اتنی بھی نہیں کہ ان جگر دوز معرکوں کو دیکھنے کی تاب بھی لاسکیں۔ چاہتے ہیں کہ کہیں دور دیہات میں چلے جائیں، اور وہیں سے بس خبریں سن لیا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
آیت نمبر 9 تا 20
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم پر کفار کے بہت سے لشکر خندق کھودنے کے ایام میں (متحدہ محاذ) بنا کر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور فرشتوں کی ایسی فوج بھیجی کہ جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے خندق وغیرہ کھودنے کے عمل کو دیکھ رہا تھا (تعلمون) میں تا اور یاء کے ساتھ اور مشرکین کی گروہ بندی (متحدہ محاذ) کو دیکھ رہا تھا، جبکہ (دشمن) تمہارے اوپر یعنی وادی کے اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے چڑھ آئے تھے یعنی مشرق و مغرب کی جانب سے اور جبکہ آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں (یعنی) ہر طرف سے چڑھ آنے والے اپنے دشمن کی طرف لگی ہوئی…
Read the full tafseer →یحسبون الاحزاب لم یذھبوا . وہ خیال کر رہے ہیں کہ قبائل (عرب جو حملہ کرنے آئے تھے ‘ ابھی) نہیں گئے ہیں۔ اسی لئے یہ لوگ بھاگ کر مدینہ کے اندر گھس گئے۔
وان یات الاحزاب یودوا لوانھم بادون فی الاعراب . اور اگر وہ گروہ (دوبارہ) آجائیں تو پھر تو یہ یہی پسند کریں کہ کاش ہم دیہاتیوں میں باہر صحراء میں جا رہیں۔
یسالون عن ابنآئکم . (مدینہ سے آنے والوں سے) تمہاری خبریں پوچھتے رہیں (کہ مسلمانوں کا کیا ہوا) ۔
ولو کانوا فیکم ما قتلوا الا قلیلا . اور اگر وہ تمہارے اندر شامل رہتے (اور بھاگ نہ جاتے اور لڑائی ہوتی) تب بھی تھوڑا ہی قتال کرتے (یعنی محض دکھاوٹ کیلئے اور عار سے بچنے کیلئے بہت کم ہی لڑتے ‘ زیادہ…
Read the full tafseer →اور خوف اور بزدلی کے ختم ہوجانے کے بعد عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کا یہ خیال ہے کہ کفار مکہ کا لشکر ابھی تک گیا نہیں اور وہ نعوذ باللہ رسول اکرم کو شہید ہی کر کے جائے گا۔
اور اگر بالفرض کفار مکہ کے یہ لشکر پھر لوٹ آئیں تو یہی منافقین دشمن کے خوف و دہشت اور اپنی بزدلی سے یہ تمنا کرنے لگیں کہ کاش مدینہ سے کہیں باہر چلے جائیں اور مدینہ میں بیٹھے بیٹھے معرکہ خندق کے بارے میں پوچھتے رہیں۔
اور اگر تم لوگوں کے ساتھ معرکہ خندق پر جانا ہی پڑجائے تو محض نام کرنے کو تھوڑا سا لڑیں۔
Read the full tafseer →يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا۔۔ : ”بَادُوْنَ“ ”بَدَا یَبْدَوْ“ سے اسم فاعل کی جمع ہے، یہاں مراد ”خَارِجُوْنَ إِلَی الْبَدْوِ“ ہے، یعنی بدویوں کی طرف نکلنے والے۔ ابن کثیر میں ہے : ”یعنی ان کی بزدلی اور ڈرپو کی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انھیں اس بات کا یقین نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا ہے، انھیں خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں نہ آپڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر ہی میں نہ ہوتے، بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دور دراز کے جنگل میں ہوتے، کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی، لڑائی کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ فرماتا…
Read the full tafseer →آیت یحسبون الاحزاب لم یذھبوا وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے گمان کرتے ہیں کہ لشکر نہیں گئے جب کی لشکر جاچکے ہیں لیکن وہ دور نہیں گئے۔ آیت وان یات الاحزاب اگر لشکر قتال کے لیے ان کی طرف لوٹ آئیں۔ آیت یودو لو انھم بادون فی الاعراب وہ آرزو کریں گے کہ اگر وہ بدوئوں کے ساتھ ہوتے تو وہ قتل سے بچتے ہیں اور حادثات زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ طلحہ بن مصرف نے پڑھا لو انھم بدی فی الاعراب یوں کہا جاتا ہے : باد، بدی۔ جس طرح غازی کی جمع غزی اس کی تائید میں ہے صائمہ، او صوام۔
بدا فلان یبدو اس وقت بولتے ہیں جب کوئی آدمی جنگل کی طرف نکل جائے۔ یہ لفظ بداوۃ اور بداوۃ کسرہ اور فتحہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے کلمہ کا اصل بدو…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحسبون الاحزاب لم یذہبوا وہ خیال کر رہے ہیں کہ کافروں کے گرد وہ ابھی نہیں گئے۔ یعنی وہ ان کو قریب ہی خیال کر رہے ہیں کہ وہ دور نہیں گئے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحسبون الاحزاب لم یذہبوا۔ یعنی وہ لوگ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے آنے کی باتیں کرتے ہی احزاب کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ عرب کے مختلف قبائل نبی ﷺ پر حملہ آوار ہوئے تھے آیت وان یات الاحزاب یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھی دوبارہ آجائیں آیت یودوا لو انہم بادون فی الاعراب تو پھر یہ یہی پسند کریں گے کہ کاش ہم دیہاتیوں میں باہر صحراء…
Read the full tafseer →يَحْسَبُوْنَ [وہ لوگ سمجھتے ہیں ] الْاَحْزَابَ [لشکروں کو ] لَمْ يَذْهَبُوْا ۚ [(کہ) وہ گئے ہی نہیں ] وَاِنْ يَّاْتِ [اور اگر آجاتے ] الْاَحْزَابُ [لشکر ] يَوَدُّوْا [تو وہ لوگ آرزو کرتے ] لَوْ اَنَّهُمْ [(کہ) کاش وہ لوگ ] بَادُوْنَ [صحرا نشین ہوتے ] فِي الْاَعْرَابِ [دیہاتوں میں ] يَسْاَلُوْنَ [پوچھتے ہوتے ] عَنْ اَنْۢبَاۗىِٕكُمْ ۭ [تمہاری خبروں کے بارے میں ] وَلَوْ كَانُوْا [اور اگر وہ ہوتے ] فِيْكُمْ [تم لوگوں میں ] مَّا قٰتَلُوْٓا [تو وہ لوگ جنگ نہ کرتے ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگر تھوڑا سا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ ) (یعنی ان کا ذرا سا نام کرنے کے لیے آنا بھی تمہارے بارے میں بخل اختیار کرنے کے لیے ہے) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان جیت گئے اور انہیں غنیمت کا مال مل گیا تو ہم بھی استحقاق غنیمت کا دعویٰ کرسکیں گے۔
(فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ) (سو جب کوئی خوف کا موقع پیش آجاتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) (فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ ) (پھر جب خوف دور ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →27:۔ یحسبون الخ، یہ منافقین کی انتہائی بزدلی ہے مشرکین و کفار کی فوجیں ناکام ہو کر واپس جا شکی ہیں لیکن منافقین مارے خوف کے ابھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ فوجیں ابھی اپنے مورچوں سے نہیں ہٹیں۔ ای ھم من الجزع والدھشۃ لمزید جبنہم وخوفہم بحیث ھزم اللہ تعالیٰ الاحزاب فرحلوا وھم یظنون انھم لم یرحلوا (روح ج 21 ص 166) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یھسبون کی ضمیر معوقین اور قائلین دونوں فریقوں سے کنایہ وان یات الاحزاب الخ اور اگر بالفرض کافروں کی فوجیں دوبارہ چڑھ آئیں تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مدینہ سے باہر دیہات میں ہوتے اور جہاد میں شریک ہوئے بغیر باہر ہی سے تمہاری خبریں پوچھتے رہتے کہ مسلمان جنگ میں کیسے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت…
Read the full tafseer →يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْہَبُوْا 0 ۚ وَاِنْ يَّاْتِ الْاَحْزَابُ يَوَدُّوْا لَوْ اَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِي الْاَعْرَابِ يَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَاۗىِٕكُمْ 0 ۭ وَلَوْ كَانُوْا فِيْكُمْ مَّا قٰتَلُوْٓا اِلَّا قَلِيْلًا 20ۧ
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/…
Read the full tafseer →یحسبون الاحزاب یہاں سے ان کی اور بزدلی بیان کرتا ہے کہ لشکروں کے چلے جانے پر بھی ان بزدلوں کو یقین نہیں ہوتا کہ کفار کے لشکر بھاگ گئے ہیں، جانتے ہیں کہ ابھی گھرے ہوئے پڑے ہیں اور اگر بارد گر کفار کے لشکر چڑھ آئیں تو یہ نامردے یہ آرزو کریں کہ اس وقت ہم مدینہ سے نکل کر باہر جنگلوں میں چلے جاویں اور وہاں سے تمہارا حال دریافت کیا کریں اور اگر وہ تمہارے پاس بھی رہیں تو بہت کم مخالف سے لڑیں۔
Read the full tafseer →یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا ج وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْاَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْبَـآئِکُمْ وَلَوْ کَانُوْا فِیْکُمْ مَّاقٰـتَـلُوْٓا اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 20)
(یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں، اگر وہ گروہ پھر آجائیں تو ان کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ جنگل میں دیہاتیوں کے پاس ہوتے اور وہاں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے، اور اگر یہ تمہارے درمیان ہوتے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے۔ )
منافقین کی بزدلی کے ذکر کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بزدلی کا عالم تو یہ ہے کہ دشمنوں کے جو گروہ بہت بڑی تعداد…
Read the full tafseer →حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں کہ ان کے اعمال ضائع کر دے۔ منافق اس حد تک بزدل ہوچکے ہیں کہ اپنے گھروں میں جانے کے باوجود خیال کرتے ہیں کہ ابھی تک کفار کے لشکر واپس نہیں گئے اگر کفار کے لشکر واپس آجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر دیہاتوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر تمہارے بارے میں معلومات لیتے رہیں کیونکہ یہ تمہارے ساتھ رہ کر لڑنے کے لیے تیار نہیں ” اَشِحَّۃٌ“ کی جمع ” شیح “ ہے جس کا معنٰی بہت زیادہ بخل کرنا اور لوگوں کو خیر کے کاموں سے روکنا ہے۔
مسائل
1۔ منافق بزدل اور بخیل ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ 3۔ حقیقت میں منافق…
Read the full tafseer →منافقین کی چاہت :
20: یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا (ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ لشکر نہیں گئے) وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ کفار کے لشکر شکست کھا کر نہیں لوٹے حالانکہ وہ لوٹ چکے ہیں۔ وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ (اور اگر وہ گروہ دوبارہ آجائیں) دوسری مرتبہ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّھُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ (یہ یہی چاہتے ہیں کہ کاش ہم دیہاتیوں میں باہر صحراء میں جار ہیں) البادون جمع البادی کی ہے بمعنی دیہاتی۔ مطلب یہ ہے کہ منافق اپنی بزدلی کی وجہ سے تمنا کرتے ہیں کہ وہ مدینہ سے باہر جنگل میں ہوتے اور دیہاتیوں کے درمیان رہائش پذیر ہوتے تاکہ وہ محفوظ رہ سکتے اور اس قتال…
Read the full tafseer →20، یحسبون، یہ لوگ منافقین ہیں ۔ ، الا حزاب ، اس سے مراد قریش غطفان کے یہود ہیں۔ ، لم یذھبوا، کہ وہ قتال سے نہیں پھرے بزولی اور جماعت درجماعت حالانکہ وہ پھر چکے ہیں۔ ، وان یاتی الا حزاب ، اگر وہ بھاگئے کے بعد دوبارہ قتال کرنے کے لیے آجائیں ۔ ، یودوالم انھم بادون فی الا عراب ، اگر وہ گروہ دوبارہ آجائیں تو پھر یہ پسند کریں کہ کاش ہم یہاتوں میں باہر صحراء میں جارہے ہیں ۔ ، یسالون عن انبائکم ، وہ خبریں پوچھتے رہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کیا ہوا۔
یعقوب نے اس کو ، یساء لون ، پڑھا ہے تشد ید اور مد کے ساتھ اور وہ اس کے بارے میں پوچھتے ۔ ، ولو کانو، اگر یہ منافقین ، فیکم ماقاتلو ا الا قلیلا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
18 تا 22۔ اوپر ذکر تھا کہ جنگ اجزاب کے قوت جب مسلمانوں کا مقام مدینہ منورہ کے باہر تھا مسلمان اس وقت بڑی تکلیف میں تھے جاڑے کا موسم ٹھنڈی ہوا میں میدان کا رہنا خندق کا کھودنا بھوک کی جدا تکلیف ایسی حالت میں یہودنے تو بڑے خیر خواہ بن کر عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھی ان منافقوں نے جو ظاہر میں مسلمان اور آنحضرت کے لشکر میں تھے ورپردہ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ تم آنحضرت کے ساتھ ہو کر ہرگز نہ لڑوان تھوڑے سے مسلمانوں کی کسی طرح یہ قدرت نہیں ہے کہ ابوسفیان قریش کے سردار کا مقابلہ کرسکیں اور منافقوں نے بڑے خیر خواہ بن کر اس طرح بہکانے کی باتیں مسلمانوں سے خفیہ کہنی شروع کردیں کہ لشکر میں رہنے کا اب موقع…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 20
(یحسبون الاحزاب لم یذھبوا) وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے ‘ مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہوگئے۔ (وان یات الاحزاب) اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں (یودوا لو انھم بادون فی الاعراب یسالون عن انبآئکم) یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب و جوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمہاری خبر معلوم کر رہے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–20
نبی کی ذات اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے
قول باری ہے : (النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن، ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے عمر سے اور انہوں نے زہری سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی کہ مجھے ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا (انا اولیٰ بکل مومن من نفسہ فایمارجل مات وترک دینا فالی وان ترک مافھولورثتہ) میں ہر مومن کے ساتھ اس کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جس شخص کی وفات ہوجائے گی اور وہ قرض…
Read the full tafseer →39 منافقوں کی انتہائی بزدلی کا ایک نمونہ اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور ابھی تک گئے نہیں اور وہ لشکر اگر ان پر دوبارہ حملہ کردیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ یہ کہیں باہر جا کر کسی گاؤں میں دیہاتیوں کے بیچ میں رہیں اور وہیں سے ہو کر یہ تمہارے حالات کے بارے میں پوچھتے رہیں۔ سو یہ ان کی بزدلی کی انتہاء ہے۔ نیز یہاں سے قرآن پاک کا ایک اور معجزہ بھی سامنے آیا کہ قرآن پاک ان کے دلوں کے احوال کی خبر اس طرح دے رہا ہے اور ان کے اندر کی کیفیات کو اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما رہا ہے جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ کلام کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس ذات اقدس و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20:
اسرارو معارف
اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔
غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ
ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو…
Read the full tafseer →ف 5 محض شرما شرمی سے تاکہ اپنے اوپر سے چھد اتارا جائے۔
Read the full tafseer →(33:20) یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کرتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اوپر مذکور ہوئیں۔
لم یذھبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں گئے۔ یحسبون الاحراب لم یذھبوا۔ (دشمن بھاگ گئے لیکن یہ بزدل یہی) خیال کرتے ہیں کہ (دشمنوں کے) جتھے ابھی نہیں گئے۔
یات۔ مضارع واحد مذکر غائب (اگر ب تعدیہ مفعول پر ہو تو فعل متعدی ہوگا) اتیان (باب ضرب) مصدر۔ یات اصل میں یاتی تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یاء کو حذف کیا گیا۔ ان یات اگر وہ (دوبارہ پکٹ کر) آجائیں۔
یودوا مضارع مجزوم (بوجہ جزائ) جمع مذکر غائب مودۃ مصدر۔ وہ آرزو کریں گے۔ وہ خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 20
المعوقین : روکنے والے
القائلین : کہنے ولے
ھلم : آؤ ہماری طرف
الباس : سختی۔ تنگی
اشحۃ : کنجوسی کرنا
تدور : گھماتی ہیں
یغشی : وہ چھا جاتا ہے
احبط : اس نے ضائع کردیا
یودوا : وہ پسند کرتے ہیں
تشریح : آیت نمبر 18 تا 20
غزوہ خندق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے دل کی گہرائیوں اور پختہ یقین کے ساتھ ایما قبول نہ کیا تھا بلکہ ان کے دل منافقت اور کفر سے بھرے ہوئے تھے اور انہوں نے بعض دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں جیسا انداز اختیار کرکے ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی ان بری حرکتوں سے خبردار رہنے کے لئے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[21] یعنی تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں اور اپنی محنتیں، اپنی توانائیاں اور اپنا مال غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں بخوشی صرف کرنے کو تیار نہیں۔
[22] یعنی مال غنیمت لینے کی خاطر مسلمانوں سے دلخراش باتیں کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ تم نے ایسا کون سا کارنمایاں کیا جو ہم نے نہیں کیا۔ ہم نہ ہوتے تو تم فتح پاسکتے تھے ؟ آیت میں منافقوں کی بزدلی اور حرص دونوں کا پورا بیان آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
بزدلی کی انتہا
1: یہ منافقین کی انتہائی بزدل اور جبن تھا ۔ کہ مخالفین کے عساکر تو آندھی کے طوفات کی تاب نہ لاکر بھاگ چکے تھے مگر یہ اس وہم میں تھے کہ وہ ابھی تک محاصرہ کئے ہوئے ہیں اور اگر یہ عساکر خدانخواستہ پھر پلٹ کر آجائیں ۔ تو ان لوگوں کی طبعاً یہ خواہش ہوگی کہ کہیں جنگل میں جاکر رہیں اور آئے دن جو جنگ وجدال ہوتا رہتا ہے ۔ اس سے محفوظ رہیں ۔ یہ لوگ سخت بزدل ہیں ۔ اور اگرچہ رونا چارا نہیں لڑنا ہی پڑے ۔ تو جی داری سے نہیں لڑتے ۔ بلکہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے ۔ کہ کسی طح یہ مصیبت ٹل جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل قوت جو سپاہی کو میدان جنگ میں شجاعانہ اقدام پر مجبور کرتی ہے ۔ وہ اس کا عقیدہ…
Read the full tafseer →20۔ ان منافقوں کا اب تک یہ خیال ہے کہ فوجیں واپس نہیں گئیں اور اگر کہیں وہ فوجیں پھر آجائیں تب تو یہ منافق یوں تمنا کریں کہ وہ کاش کہ صحرا نشیں ہوتے اور وہ دیہاتیوں میں باہر جا رہیں اور دیہاتیوں میں جا بسیں اور وہیں بیٹھے بیٹھے آنے جانے والوں سے تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں اور اگر یہ بزدل لوگ تم میں رہ بھی جائیں تب بھی یہ قتال اور جہاد نہ کریں مگر یونہی تھوڑا سا برائے نام یعنی فوجوں کی اور لشکر کی واپسی کا یقین ہی نہیں حالانکہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ قہر الٰہی کی تاب نہ لاسکے اور بھاگ گئے لیکن ان کو لشکر اعدا کی واپسی کا یقین نہیں اور کہیں خدانخواستہ وہ کفار کا لشکر پھر واپس آجائے تو ان…
Read the full tafseer →ف 2۔ آگے ثبات فی الحرب میں رسول اللہ ﷺ کے اقتدا و اتباع کا مقتضائے ایمان ہونا بیان فرماتے ہیں تاکہ منافقین کی تعییر ہو کہ باوجود دعوائے ایمان اس کے مقتضا کی تبشیر ہو کہ یہ لوگ البتہ مصداق کان یرجوا اللہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →احزاب منتشر ہوگئیں لیکن ان کو یہی معلوم نہ ہوسکا کہ حالات کیا تھے اور کیا ہوگئے ؟
20) مدینہ سے باہر خندق کے پار جن لشکروں نے ڈیرے ڈالے تھے وہ وہاں سے بھاگ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان چندمعدودے آدمیوں کو فتح ونصرت سے نوازا اور بغیر جنگ لڑے اور بغیر کسی بہت بڑے جانی نقصان کے سارے لشکر تتر بتر ہوگئے اور مدینہ کا محاصرہ ختم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی لشکر کو بطور پیش گوئی مطلع کردیا کہ الان غزوھم ولا یغزوننا نحن نسیر الیھم (بخاری) ” اب وہ لوگ ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہوں گے بلکہ ہم ان پر حملہ کریں گے اور ان کے ملک پر چڑھائی کریں گے۔ “ انشاء اللہ۔
محاصرہ ختم ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے لشکر اسلام کی خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →31 Lexically, this verse has two meanings: (1) "When you return victorious from a war, they receive you warmly, and try to impress you with a glib tongue that they too are sincere believers and they too have made their contribution to promote the cause of Islam, and therefore, they too deserve a share from the booty." (2) "If victory is attained these people show great powers of the tongue at the time of the division of the spoils and make great demands for their shares, recounting their services to the cause of Islam."
32 That is, "Allah will make null and void all the prayers that they…
Read the full tafseer →