Al-Ahzaab 33:21

Al-Ahzaab · from ayah 21

33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا ۟ؕلَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

There has certainly been for you in the Messenger of Allah an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day and [who] remembers Allah often.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:21

در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(مسلمانو !) تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ ان کے لئے جو اللہ کی ملاقات اور روز آخرت کی توقع رکھتے ہیں اور اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ تمہارے لئے (اے لوگوں !) بڑا ہی عمدہ نمونہ ہے رسول اللہ (کی زندگی) میں یعنی ہر اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہو اللہ (سے ملنے) کی اور وہ ڈرتا ہو قیامت کے دن (کی پیشی) سے اور وہ یاد کرتا ہو اللہ کو کثرت سے

— مولانا اسحاق مدنی

رسول اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے تمہارے لئے۔ یعنی اس کے لئے جو ڈرتا ہو اللہ اور روز آخرت سے اور ذکر الہی کثرت سے کرتا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو !) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے (یہ اسوہ ہے) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو } اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یقینا اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ایسے شخص کے لیے جسے اللہ سے ملنے اور قیامت کے دن کے آنے کی امید ہو اور وہ اللہ کا ذکر کثرت (بہت زیادہ) سے کرتا ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there was a good example for you in the Messenger of Allah, for all those who look forward to Allah and the Last Day and remember Allah much.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is indeed a good model for you in the Messenger of Allah - for the one who has hope in Allah and the Last Day, and remembers Allah profusely.

— Muhammad Taqi Usmani

There is indeed a good model for you in the Messenger of Allah - for the one who has hope in Allah and the Last Day, and remembers Allah profusely.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed in the Messenger of Allah you have a good example to follow for him who hopes in Allah and the Last Day, and remembers Allah much.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily in the messenger of Allah ye have a good example for him who looketh unto Allah and the Last Day, and remembereth Allah much.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

There has certainly been for you in the Messenger of Allah an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day and [who] remembers Allah often.

— Saheeh International

The Messenger of God is certainly a good example for those of you who have hope in God and in the Day of Judgment and who remember God very often.

— Muhammad Sarwar

Certainly you have in the Apostle of Allah an excellent exemplar for him who hopes in Allah and the latter day and remembers Allah much.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly there hath been for you: in the apostle of Allah an excellent pattern for him who hopeth in Allah and the Last Day and remembereth Allah much.

— Abdul Majid Daryabadi

Ye have indeed in the Messenger of Allah a beautiful pattern (of conduct) for any one whose hope is in Allah and the Final Day, and who engages much in the Praise of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–22

ٹھوس دلائل اتباع رسول ﷺ کو لازم قرادتیے ہیں یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت ﷺ کے تمام اقوال افعال احوال اقتدا پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور ﷺ نے قائم کی۔ مثلا راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ نے دکھائی یقینا یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزو اعظم بنالیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے لئے بہترین نمونہ بنالیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 34 جس سیاق وسباق میں یہ آیت ارشاد ہوئی ہے اس کے لحاظ سے رسول پاک ﷺ کے طرز عمل کو اس جگہ نمونہ کے طور پر پیش کرنے سے مقصود ان لوگوں کو سبق دینا تھا جنہوں نے جنگ احزاب کے موقع پر مفاد پرستی و عافیت کوشی سے کام لیا تھا۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ایمان و اسلام اور اتباع رسول کے مدعی تھے۔ تم کو دیکھنا چاہیے تھا کہ جس رسول ﷺ کے پیروؤں میں تم شامل ہوئے ہو اس کا اس موقع پر کیا رویہ تھا۔ اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو۔ خود آرام طلب ہو، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدم رکھتا ہو، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو، پھر تو اس کی پیروؤں کی طرف سے ان کمزوریوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–27

دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر وذکر اللہ کثیرا (21) یہ ان بزدلوں کو غیرت دلائی ہے کہ تمہارے اندر ہی محاذ پر خدا کا رسول بھی موجود تھا اور تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس نے کسی عزم وہمت کے ساتھ تمام خطرات کا مقابلہ کیا تو آخر تم نے اس بہترین نمونے کی پیروی کیوں نہ کی۔ اس قدر بزدل اور ڈرپوک بنے رہے ! ’ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخروذکر اللہ کثیرا۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ رسول کے اسوہ کی پیروی ہر مدعی کا کام نہیں ہے۔ اس راہ کی آزمائشوں سے وہی لوگ عہدہ برآہوسکتے ہیں جو اللہ کی ملاقات اور روز آخرت کے منتظر و متوقع اور اللہ یاد سے ہر وقت اپنے دل کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21-1یعنی اے مسلمانو ! اور منافقو ! تم سب کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے، پس تم جہاد میں اور صبر ثبات میں اسی کی پیروی کرو۔ ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتی کہ اسے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے، اس کا چہرہ زخمی ہوگیا اس کا رباعی دانت ٹوٹ گیا، خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریبا ایک مہینہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا۔ یہ آیت اگرچہ جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے جس میں جنگ کے موقعے پر بطور خاص رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حکم عام ہے یعنی آپ ﷺ کے تمام اقوال افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے آپ کی اقتدا ضروری ہے چاہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

17: یعنی اگر نام کرنے کو کچھ دیر کے لیے لڑائی میں حصہ لینے آتے بھی ہیں تو اس لالچ میں آتے ہیں کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو وہ بھی اپنا حصہ لگائیں۔ 18: یعنی بڑی چرب زبانی سے مال غنیمت کا حصہ مسلمانوں سے مانگتے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو بطور نمونہ پیش کرکے ان روشن چہروں کے البم کا آغاز کرتا ہے اور دیکھئے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو۔ لقد کان لکم ۔۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (31) ” “۔ اس خوفناک ڈر ، اور جان لیوا حالات کے باوجود رسول اللہ ﷺ لوگوں کے لیے امن و اطمینان کا سرچشمہ تھے اور آپ ﷺ کی ذات و ثوق ، اطمینان اور امیدوں کا سرچشمہ تھی۔ اس مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو کردار ادا کیا وہ دراصل تمام تحریکات اسلامی کے قائدین کے لیے مثال اور نمونہ ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے جو صاف رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لیے کام کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بہترین قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ کو یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی پیغمبر کو دیکھو، ان سختیوں میں کیا استقلال رکھتے ہیں۔ حالانکہ سب سے زیادہ اندیشہ اور فکر ان ہی پر ہے۔ مگر مجال ہے پائے استقامت ذرا جنبش کھاجائے۔ جو لوگ اللہ سے ملنے اور آخرت کا ثواب حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں اور کثرت سے خدا کو یاد کرتے ہیں ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات منبع البرکات بہترین نمونہ ہے۔ چاہیے کہ ہر معاملہ، ہر ایک حرکت و سکون اور نشست و برخاست میں ان کے نقش قدم پر چلیں اور ہمت و استقلال وغیرہ میں ان کی چال سیکھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ غزوئہ احزاب کا واقعہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی ‘ جس کا مقصد کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا تھا۔ چناچہ اس آزمائش کے نتیجے میں انسانی کردار کی دو تصاویر سامنے آئیں۔ ایک اندھیرے کی تصویر تھی اور دوسری اجالے کی۔ ان میں سے اندھیرے کی تصویر کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا جبکہ دوسری تصویر کی جھلک آئندہ آیات میں دکھائی جا رہی ہے۔ اجالے کی اس تصویر میں خورشید ِعالم تاب کی علامت چونکہ حضور ﷺ کا کردار ہے اس لیے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : آیت 21{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ”اے مسلمانو ! تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 جنگ کے دوران آپ کا کردار۔ آپ سب مسلمانوں کے لئے واجب الاتباع نمونہ ہیں :۔ جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری سپہ سالار پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے سپہ سالار خود رسول اللہ تھے۔ دشمن کی کثرت تعداد خوراک کی شدید قلت، حالات کی سنگینی اس نبی کے پائے ثبات پر ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہیں کرسکی۔ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اللہ کی طرف سے پرامید اور اس کی مدد کے منتظر ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ پوری جانفشانی سے تمہارے دوش بدوش جنگ کے ایک ایک کام تمہارے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔ مسلمانو ! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور رسول اللہ کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ (زندگی کے ہر شعبہ اور ہر پہلو میں، خصوصا ثبات و استقامت میں) رسول اللہ ﷺ کا اتباع تو مومنین پر چھوٹے بڑے ہر امر میں واجب ہے اور آپ ﷺ کی زندگی انسان کے لئے انفرادی واجتماعی، خانگی وملی، معاشری واخلاقی ہر ہر گوشہ میں شمع ہدایت ہے، لیکن یہاں اشارہ خصوصی معرکہ جنگ میں ثبات و استقامت سے متعلق ہے، فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت کے اندر ایک اصل عظیم آگئی ہے۔ اور اس سے زندگی کے چھوٹے بڑے سارے معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی اقتداء وپیروی کے وجوب پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ھذہ الایۃ الکریمۃ اصل کبیر فی التاتی برسول اللہ ﷺ فی اقوالہ وافعالہ واحوالہ ولھذا امر تبارک وتعالی الناس بالتاتی بالنبی ﷺ یوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ . تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ (کی سیرت) میں اسوۂ حسنہ (عمدہ نمونہ) موجود ہے۔ اسوۃ بمعنی قدوۃ۔ یعنی وہ طریقہ جس کی اقتداء کی جائے۔ اس جگہ مراد یہ ہے کہ رسول اللہ کی سیرت میں تمہارے لئے خصائل حمیدہ موجود ہیں ‘ جو تمہارے لئے واجب العمل ہیں۔ مثلاً لڑائی میں ثابت قدم رہنا اور شدائد کو برداشت کرنا۔ یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ تمہارے مقتداء ہیں ‘ تمہارے لئے ان کی اقتداء ہی مناسب ہے۔ یہ مطلب عربی محاورہ کے موافق ہے۔ عرب کہتے ہیں : فِی البیضۃ عِشْرُوْنَ منًّا حدیدٌ۔ یعنی خود میں بیس سیر لوہا ہے۔ 1 ؂ بعض نے کہا : اس ْوَۃٌ بروزن فُعْلَۃٌ اِیْتِسَاء (باب افتعال) سے مشتق ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تم لوگوں میں سے ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتا ہو اور ثواب و انعام کی امید رکھتا ہو اور زبان و دل کے ساتھ کثرت سے ذکر الہی کرتا ہو رسول اکرم کا ایک عمدہ نمونہ اور آپ کے ساتھ غزوہ خندق میں حاضری میں ایک بہترین اقتدا موجود تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔۔ :”اُسْوَةٌ“ اور ”قُدْوَۃٌ“ جس کی پیروی کی جائے، نمونہ۔ اس میں لڑائی سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے، یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے، تم بھی جان لڑاتے۔ ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں تو خطرے میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ میں آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں ! اگر وہ ایسا کرتے تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی، مگر وہ تو ہر کام میں پیش پیش تھے۔ خندق کھودنے میں، کدال چلانے میں، مٹی ڈھونے میں، بلکہ صحابہ کے ساتھ جنگی ترانے پڑھنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ قتال سے چھوڑ کر گھر بیٹھے رہنے والوں ہی کے لیے عتاب ہے یعنی تمہارے لیے نبی کریم ﷺ کی ذات میں بہترین اسوہ ہے کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جان کو صرف کر رہے ہیں کہ آپ غزوئہ خندق کے لیے گھر سے باہر تشریف لے گئے۔ اسوہ کا معنی قدوہ اور نمونہ ہے۔ عاصم نے اسوۃ ہمزو کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ فراء کے نزدیک دونوں کی جمع ایک ہی ہے۔ جس کے واحد میں کسرہ دیا اس کے نزدیک ضمہ کی علت یہ ہے کہ ناقص واوی اور یائی میں یہ فرق ہے وہ کہتے ہیں : کسوۃ کسا، لحیۃ، لحا۔ جوہری نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ سے مراد ہے کہ جنگ کے وقت باہم ہمدردی میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ 2۔ ابن مردویہ والخطیب فی رواۃ المالک وابن عساکر وابن النجار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تمہارے لیے رسول کی سیرت میں عمدہ نمونہ ہے یعنی بھوکا رہنے میں۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا میابی کا راستہ ہے 3۔ مالک والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے سعید بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عمر کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا جب صبح طلوع ہونے میں مجھے خوف ہوا تو میں سوار سے اترا ار وتر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ كَانَ [یقینا ہوچکا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ [اللہ کے رسول میں ] اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ایک بھلائی والا نمونہ ] لِّمَنْ [اس کے لئے جو ] كَانَ يَرْجُوا [امید کرتا رہے ] اللّٰهَ [اللہ (کی رحمت) کی ] وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ [اور آخری دن (کے اجر) کی ] وَذَكَرَ اللّٰهَ [اور یاد کرے اللہ کو ] كَثِيْرًا [کثرت سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–22

مومنین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اسوہ ہے اہل ایمان نے اللہ سے سچا وعدہ کیا اور اس پر پورے اترے ان آیات میں اول تو اہل ایمان کو تلقین فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتے رہیں، غزوہ احزاب میں بھی سب کو وہی کرنا لازم تھا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا، کسی کو اپنی جان بچا کر چلے جانا درست نہیں تھا۔ اس میں اہل ایمان کو تعلیم فرما دی کہ جیسے اب رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور اتباع کیا اسی طرح آئندہ بھی آپ کا اتباع کریں اور آپ کی ذات گرامی کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ یعنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں، جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور یوم آخرت کی پیشی کا یقین رکھتے ہیں انہیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مومنین کی تعلیم و تلقین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ لقد کان الخ، اس میں اتباع رسول ﷺ کی ترغیب ہے پیغمبر خدا ﷺ نے خندق کھودنے اور کفار کا مقابلہ کرنے میں صبر و استقلال اور سکون و ثبات کا جو بہترین عملی نمونہ پیش فرمایا ہے مسلمانوں کو اس کی پیروی کرنا چاہئے تھی یہاں مخلصین سے فرمایا جو بتقاضائے بشریت کافروں کی فوجوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اسوۃ حسنۃ خصلۃ حسنۃ خقھا ان یوتسی بھا کا لثبات فی العرب و مقاساۃ الشدائد (ابو السعود ج 6 ص 774) ۔ لمن کان یرجوا الخ، یہ لکم سے بدل ہے یعنی جو لوگ اللہ سے اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں ان کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) کی زندگی اتباع و اطاعت کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ آیت اگرچہ معاملہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔ اسوہ حسنہ پہلے نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 19 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۝ 2 1ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ یہاں سے منافقوں پر تعریض کرکے ان کے مقابلہ میں مخلصین کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ اس واقعہ میں ایسے ثابت قدم رہے۔ اسوۃ خصلۃ حسنۃ (بیضاوی) بکسر الہمزۃ و ضمہا اقتداء بہ فی القتال والثبات فی مواطنہ، (جلالین) یعنی تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنی عمدہ بات تھی، دیکھو وہ ان مواقع میں کیسے ثابت قدم رہے ہیں

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَاللّٰہَ کَثِیْرًا۔ (الاحزاب : 21) (اور تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کا امیدوار ہو، اور اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرے۔ ) عزیمت کے لیے نمونہ اور اس راستے پر چلنے والوں کی صفات گزشتہ آیات میں پروردگار نے منافقین اور ایمان میں کمزور مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کے نفاق، ان کی مفادپرستی، دین پر اپنی ذات، اپنے بچوں اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے اور حق و باطل کے معرکے میں بزدلی اور کم ہمتی کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حالات جیسے بھی ہوں مسلمانوں تمہارے لیے رسول معظم ﷺ کی ذات ہی اسوہ حسنہ ہے اور ہونی چاہیے۔ اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سابقہ آیات کا خلاصہ ذہن میں رکھا جائے تاکہ اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کا تصور پوری طرح اجاگر ہوجائے اس تصور سے ہی ایک مسلمان کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل سکتی ہے غزوہ احزاب جسے تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں غزوہ خندق لکھا جاتا ہے اس کے خوف ناک اور بھیانک منظر کی تصویر چند سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔ 1۔ موسم نقطہ انجماد سے نیچے گر چکا ہے جس وجہ سے سردی اس قدر زیادہ اور ناقابل برداشت ہے کہ خیموں میں بیٹھے ہوئے مجاہدوں کی بغلیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جناب رسول اللہ ﷺ تمہارے مقتداء ہیں : 21: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ (تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں اُسوئہ حسنہ ہے) اسوۃ یہ جہاں بھی ہو ضمہ کے ساتھ آئے گا عاصم کے نزدیک اس کا معنی قدوہ (نمونہ) آتا ہے۔ جس کو نمونہ بنایا جائے جس کو مقتدیٰ مانا جائے جیسا کہتے ہیں فی البیضۃ عشرون مناحدید یعنی خود میں بیس سیرلوہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے مقتداء ہیں۔ تمہیں ان کی اقتداء مناسب ہے۔ نمبر 2۔ یا آپ ﷺ کی سیرت میں تمہارے لئے خصائل حمیدہ موجود ہیں جو تمہارے لئے واجب العمل ہیں مثلاً آپ کا بذات خود قتال کرنا (شدائد پر صبر کرنا وغیرہ) لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 21، لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، عاصم نے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دولغتیں ہیں بمعنی قدوۃ یعنی طریقہ جس کی اقتداء کی جائے اس جگہ مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں تمہارے لیے خصائل حمیدہ موجو دہوں ۔ بعض نے کہا کہ قدوۃ اقتداء سے بنا ہے یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے ۔ یعنی تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اچھی ہمدردی لازم ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے دین کی مدد کی تم بھی ویسی دین کی مدد کرتے ہو۔ ان کا دانت مبارک جنگ میں شہید ہوا ان کو طرح طرح کی اذ یتیں پہنچائی گئیں مگر انہوں نے ہر دکھ پر صبر کیا اور تمہاری ہمددی کی۔ لہٰذ اتم بھی ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–21

18 تا 22۔ اوپر ذکر تھا کہ جنگ اجزاب کے قوت جب مسلمانوں کا مقام مدینہ منورہ کے باہر تھا مسلمان اس وقت بڑی تکلیف میں تھے جاڑے کا موسم ٹھنڈی ہوا میں میدان کا رہنا خندق کا کھودنا بھوک کی جدا تکلیف ایسی حالت میں یہودنے تو بڑے خیر خواہ بن کر عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھی ان منافقوں نے جو ظاہر میں مسلمان اور آنحضرت کے لشکر میں تھے ورپردہ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ تم آنحضرت کے ساتھ ہو کر ہرگز نہ لڑوان تھوڑے سے مسلمانوں کی کسی طرح یہ قدرت نہیں ہے کہ ابوسفیان قریش کے سردار کا مقابلہ کرسکیں اور منافقوں نے بڑے خیر خواہ بن کر اس طرح بہکانے کی باتیں مسلمانوں سے خفیہ کہنی شروع کردیں کہ لشکر میں رہنے کا اب موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 21 (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) ” یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔ “ آپ ﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے ‘ جنگی معرکوں میں حصہ لیا ‘ آپ صاحب شرف و کمال ‘ بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیٰ ﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے ‘ جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہوجائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔ اسوہ کی دو اقسام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

رسول ﷺ بہترین نمونہ عمل ہیں قول باری ہے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ تمہارے لئے اللہ کے رسول کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے) بعض حضرات نے اس آیت سے حضور ﷺ کے افعال میں آپ کے اسوہ پر چلنے کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ ان کے مخالفین بھی اس آیت سے آپ کے افعال کے ایجاب کی نفی پر استدلال کرتے ہیں۔ پہلے گروہ کا مسلک یہ ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنا آپ کی اقتدا کے ہم معنی ہے اور یہ آپ کے قول وفعل دونوں کے لئے عام ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی فرمادیا (لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ اس کے لئے جو اللہ اور یوم آخر سے ڈرتا ہو) یہ قول باری اس پر دال ہوگیا کہ آپ کے اسوہ پر چلنا واجب ہے کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

40 پیغمبر کے اسوئہ حسنہ کو اپنانے کی ہدایت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ تمہارے لیے اے لوگو ایک بڑا ہی عمدہ نمونہ تھا رسول اللہ ۔ کی زندگی ۔ میں "۔ اور جب رسول اس جنگ کے دوران ہر محاذ پر پیش پیش تھے تو پھر تمہارے لئے پیچھے رہنا اور حیلے بازیاں کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ یہ آیت کریمہ اگرچہ نازل اس خاص سیاق وسباق اور پس منظر میں ہوئی مگر اس کا مفہوم عام ہے اور الفاظ و کلمات کے عموم کے ساتھ یہ زندگی کے تمام ادوار کو شامل اور عام ہے۔ اور یہ ایک اہم اصولی اور جامع ہدایت ہے کہ اہل ایمان کو زندگی کے ہر موقع و مقام اور ہر موڑ پر پیغمبر کے اسوئہ حسنہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے کہ یہی وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

آیات 21 تا 27 اسرارومعارف اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔ صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا : صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اس میں لڑائی میں پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے۔ (قرطبی) یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مروانہ وار مقابلہ کر رہے تھے تم بھی جان لڑاتے اور تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے، ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں تو خطرہ میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ کی جگہ آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں۔ اگر وہ ایسا کرتے تب تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی۔ مگر وہ تو خود ہر کام میں پیش پیش تھے، پھر تمہارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی لحاظ سے معقول نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ آیت گو جہاد کے باب میں نازل ہوئی لیکن یہ ہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:21) اسوۃ : الاسوۃ والاسوۃ (چوں قدرۃ وقدوۃ) انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس میں دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالتاچھی ہو یا بری۔ سرور بخش ہو یا تکلیف دہ۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لاگئی ہے۔ مفسرین نے اسوۃ کے کئی معنی لئے ہیں : چال ، ڈھنگ، نمونہ، عمل، پیشوا، رہنما، امام، غمگسار، مقتدی۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو (انفرادی ، اجتماعی، خانگی و ملی و معاشرتی و اخلاقی) کے لئے شمع ہدایت ہے ۔ لیکن یہاں اشارہ خصوصی معرکہ جنگ میں ثبات و استقامت سے متعلق ہے۔ اس جنگ میں آپ نے محنت و مشقت کی صعوبتیں سہیں۔ بھوک و پیاس کی کلفتوں کو برداشت کیا۔ حضور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27 اسوۃ : نمونہ یرجوا : امید رکھتا ہے تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت قضی : پورا کرلیا نحب : منت۔ نذر۔ مدت غیظ : غصہ صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ قذف : ڈال دیا الرعب : دہشت۔ ہیبت تاسرون : تم قیدی بناتے ہو اورث : اس نے مالک بنا دیا لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–22

منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[23] یعنی جب نبی ﷺ بہ نفس نفیس لڑائی میں شریک تھے اور سب سے پیش پیش تھے اور محنت و مقشت میں آپ نے دوسروں سے بڑھ کر حصہ لیا اور کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ نے نہ اٹھائی ہو تو مسلمانوں کو ہچر مچر کرنا کیا مناسب تھا ؟ انھیں چاہئے تھا کہ بےچون و چرا رسول کا ساتھ دیتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–22

اسوہ حسنہ 2: حضور ﷺ جس طرح اللہ کے پیغام کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان میں یہ بھی اہلیت تھی ۔ کہ شمشیر وسنان سے اس کی حمایت بھی کریں ۔ چناچہ اکثر غزاوات میں آپ نے داد شجاعت دی ۔ اور نازک سے نازک اوقات میں بھی پہاڑ کی طرح میدان جنگ میں قائم رہے ۔ جب کہ بڑوں بڑوں کا زہرہ آب ہوتا تھا ۔ ارشاد ہے کہ رسول ﷺ انسانیت کے لئے بہترین اسوہ ہے ۔ اس کی پیروی کرو اور اس کو دیکھ کر اپنے مصائب کو معلوم کرو ۔ اور جبن وبزدلی کی عادات کو ترک کرو ۔ تاکہ تم سعادت اخروی حاصل کرسکو ۔ یہاں اسوہ حسنہ کا لفظ اگرچہ سیاق جنگ میں آیا ہے ۔ مگر معنی اس میں عموم ہے ۔ ہر شخص جو اللہ سے اور روز…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21۔ مسلمانو ! بلا شبہ تم میں سے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا اور قیامت کا خوف رکھتا اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ذات بہترین قابل تقلید نمونہ تھی۔ خطاب فرمایا عام مسلمانوں کو پھر تخصیص فرمائی ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی بقا اور اس کی رضا کی امید رکھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی پیشی سے ڈرتے ہیں اسی طرح قیامت سے ڈرتے ہیں یا قیامت کے دن ثواب کی امید رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے ہیں ایسے کامل مومن اس بات کے اور بھی زیادہ مستحق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی چال سیکھیں اور آپ کی پیروی ان مسلمانوں کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی اور یہ دیکھنا تھا کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یرجوا میں مبدا ومعاد کا اعتقاد آگیا اور ذکر اللہ میں سب طاعتیں آگئیں۔ 4۔ آگے منافقین کے مقابلہ میں مومنین مخلصین کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ ایک بہترین نمونہ ہیں اگر تم ایمان رکھتے ہو 21) { اسوۃ } چال ، ڈھنگ ، نمونہ عمل ، اسم ہے غیر کی پیروی واتباع میں انسان جس چال پر ہوتا ہے اس کا نام اسوہ ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری ، منفعت پہنچانے والی ہو یا ضرر رساں ہو۔ { اسوۃ حسنۃ } کا لفظ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ اور دو بار سورة الممتحنہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” بلا شبہ تمہارے لئے (اے مومنو ! ) رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے “۔ آپ ﷺ کے اس ایک ہی وصف اسوہ حسنہ کے متعلق اگر تمام لکھنے والے لکھتے رہیں اور بیان کرنے والے بیان کرتے رہیں تب بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–27

The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 In view of the context in which this verse occurs, the object of presenting the Holy Prophet's conduct and way of life as a model was to teach a lesson to the people, who had been motivated by considerations of selfish interests and personal safety on the occasion of the Battle of the Trench. They are being addressed, as if to say: "You claimed to be the believers and Muslims and followers of the Holy Messenger. You should have seen how the Messenger whose followers you claimed to be conducted himself on the occasion. If the leader of a group is himself a seeker of personal security, is…

Read the full tafseer →