Explained with ayahs 21–22
ٹھوس دلائل اتباع رسول ﷺ کو لازم قرادتیے ہیں
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت ﷺ کے تمام اقوال افعال احوال اقتدا پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور ﷺ نے قائم کی۔ مثلا راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ نے دکھائی یقینا یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزو اعظم بنالیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے لئے بہترین نمونہ بنالیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 36
رسول ﷺ کے نمونے کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ صحابۂ کرام کے طرز عمل کو نمونے کے طور پر پیش فرماتا ہے تاکہ ایمان کے جھوٹے مدعیوں اور سچے دل سے رسول ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والوں کا کردار ایک دوسرے کے مقابلہ میں پوری طرح نمایاں کردیا جائے۔ اگرچہ ظاہری اقرار ایمان میں وہ اور یہ یکساں تھے۔ مسلمانوں کے گروہ میں دونوں کا شمار ہوتا تھا اور نمازوں میں دونوں شریک ہوتے تھے۔ لیکن آزمائش کی گھڑی پیش آنے پر دونوں ایک دوسرے سے چھٹ کر الگ ہوگئے اور صاف معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے مخلص وفادار کون ہیں اور محض نام کے مسلمان کون۔
سورة الْاَحْزَاب 37
اس موقع پر آیت نمبر 12…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →ولام را المومنون الاحزاب لا قالوا ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا و تسلیما (22)
اوپر آیت 12 میں منافقوں اور حاسدوں کا قول گزر چکا ہے کہ انہوں نے دشمنوں کے اس ہجوم کو دیکھ کر علانیہ مسلمانوں میں یہ پھیلانا شروع کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو وعدے ہم سے کیے گئے وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ اب ان کے مقابل میں یہ سچے مسلمانوں کا تاثر بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے جب دشمنوں کے اس نرغہ کو دیکھتا تو اپنے ساتھیوں کو تسلی دی کہ یہ تو وہی امتحا ہمیں پیش آیا ہے کہ جس کی اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے ہمیں خبر دے دی تھی۔ یہ اشرۃ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے جن میں مسلمانوں…
Read the full tafseer →22-1یعنی منافقین نے دشمن کی کثرت تعداد اور حالات کی سنگینی دیکھ کر کہا تھا کہ اللہ اور رسول کے وعدے فریب تھے، ان کے برعکس اہل ایمان نے کہا کہ اللہ اور رسول نے جو وعدہ کیا ہے کہ امتحان سے گزارنے کے بعد تمہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کیا جائے گا، وہ سچا ہے۔
22-2یعنی حالات کی شدت اور ہولناکی نے ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ ان کے ایمان میں جذبہ اطاعت اور تسلیم و رضا میں مذید اضافہ کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں اور ان کے مختلف احوال کے اعتبار سے ایمان اور اس کی قوت میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ محدثین
کا مسلک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
17: یعنی اگر نام کرنے کو کچھ دیر کے لیے لڑائی میں حصہ لینے آتے بھی ہیں تو اس لالچ میں آتے ہیں کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو وہ بھی اپنا حصہ لگائیں۔
18: یعنی بڑی چرب زبانی سے مال غنیمت کا حصہ مسلمانوں سے مانگتے ہیں
Read the full tafseer →ولما را المؤمنون ۔۔۔۔۔ ایمانا وتسلیما (23) ” “۔
اس جنگ میں مسلمان جس خوف سے دوچار ہوئے وہ اس قدر عظیم تھا ، اور اس غزوہ میں جو دکھ ان کو پہنچا اس قدر شدید تھا ، اور اس واقعہ میں وہ جس بےچینی کا شکار ہوئے ، وہ اس قدر سخت تھی کہ وہ ہلا مارے گئے اور قرآن نے اس کے لیے زلزالا شدیدا (33: 11) کا لفظ استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” یہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ ہلا مارے گئے “۔ یہ لوگ بہرحال انسان تھے اور انسان کی قوت برداشت بہرحال محدود ہوتی ہے ۔ اللہ بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔ اگرچہ ان کو پورا پورا یقین تھا کہ…
Read the full tafseer →6 یعنی پکے مسلمانوں نے جب دیکھا کہ کفر کی فوجیں اکٹھی ہو کر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑی ہیں تو بجائے مذبذب یا پریشان ہونے کے ان کی اطاعت شعاری کا جذبہ اور ان کا یقین اللہ و رسول ﷺ کے وعدوں پر اور زیادہ بڑھ گیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تو وہ ہی منظر ہے جس کی خبر اللہ و رسول ﷺ نے پہلے سے دے رکھی تھی اور جس کے متعلق ان کا وعدہ ہوچکا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا۔ (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ…
Read the full tafseer →آیت 22 { وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ } ”اور جب اہل ِایمان نے دیکھا ان لشکروں کو“
{ قَالُوْا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ } ”تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ‘ اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے۔“
ان کے دلوں نے فوراً ہی گواہی دے دی کہ یہ وہی صورت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے ہمیں ان الفاظ میں متنبہ ّکر دیا تھا : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } البقرۃ : 155 ”اور ہم تمہیں لازماً…
Read the full tafseer →31 آپ کا بنو غطفان کو اتحادیوں سے توڑنے کا خیال اور انصار کا جواب :۔ منافقوں کے کردار پر تبصرہ کرنے کے بعد اللہ نے مسلمانوں کا کردار بیان فرمایا۔ کہ جوں جوں ان پر مشکلات پڑتی ہیں اور حالات سنگین ہوتے جاتے ہیں توں توں ان کا حوصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ ان کے اللہ پر توکل اور ان کے ایمان میں بھی مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ انھیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ ان مشکلات کا مقابلہ ہم نے ہی کرنا ہے۔ پھر جو کام ہماری بساط سے باہر ہو تو اس وقت ضرور اللہ کی مدد ہمارا ساتھ دے گی۔ پھر جب اللہ کی مدد فی الواقع ان کو پہنچ جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ جب بنو قریظہ بھی عہد شکنی کرکے اتحادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
44۔ ” مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر ؓ اور ان کے رفقاء ہیں، یہ حضرات اتفاق سے غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جائے گی .... مطلب یہ تھا کہ منہ موڑیں گے کہ مارے جائیں “۔ (آیت) ” ماعاھدوا اللہ علیہ “۔ کو اگر وسیع وعام معنی میں لیاجائے تو اس میں وہ تمام امور آجائیں گے جنہیں ہم نے بضمن ایمان اجمالا اور قرآن و حدیث سے تفصیلا قبول کیا ہے، اور اس معنی میں اسکی مصداق ساری امت محمدی ﷺ ہوگی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کاملین کے لیے کبھی امور مکروہہ بھی، اور ان ہی میں قبض بھی شامل ہے، زیادت معارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…
Read the full tafseer →ولما رأی المومنون الاحزاب قالو ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ اور جب ایمان والوں نے (کافروں کے) لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے : یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا ‘ اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا۔ وعدہ سے اشارہ سورة البقرہ کی اس آیت کی طرف ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ۔۔ تا۔۔ الَاآاِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ اس آیت میں صراحت ہے کہ مسلمانوں کا کڑا امتحان لیا جائے گا ‘ بڑی شدائد ان پر آئیں گی (لیکن آخر میں اللہ ان کی مدد کرے گا اور اللہ کی مدد قریب ہی ہے) شاید رسول اللہ…
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ بااخلاص مومنین کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ان حضرات نے کفار مکہ یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی موقع ہے جس کی چند دنوں پہلے اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ تقریبا دس دن کے اندر اندر کفار کی چڑھائی ہوگی اور کفار کے لشکروں کو دیکھنے کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان پر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوگیا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں اور ترقی ہوگئی۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ۔۔ : کفار کے لشکروں کی کثرت تعداد، محاصرے کی سختی، سردی اور بھوک کی شدت اور بنو قریظہ کی عہد شکنی کی وجہ سے جب حالات نہایت سنگین ہوگئے تو اس وقت منافقوں کا اور شکوک و شبہات کے مریض مسلمانوں کا حال اوپر بیان ہوا کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے محض فریب تھے، اب مخلص مومنوں کا حال بیان ہوتا ہے کہ انھوں نے ان سختیوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو آزمائش، تنگی اور تکلیف کے وہی مرحلے ہیں جن کے آنے کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہلے ہی خبر دے رکھی ہے اور جن پر صبر کے بعد اس کی نصرت کا وعدہ ہے، جیسا کہ فرمایا : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا…
Read the full tafseer →آیت ولما را المومنون الاحزاب عربوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں : راء اس کا اطلاق دل پر ہوتا ہے۔ آیت قالوا ھذا ماوعدنا اللہ اس سے مراد سورة بقرہ کی یہ آیت ہے آیت ام حسبتم ان تد خلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم ( البقرہ : 214)
جب غزوہ خندق کے موقع پر احزاب کو دیکھا تو انہوں نے کہا : آیت ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ، یہ قتادہ کا قول ہے (3) ۔
دوسرا قول وہ ہے جسے کثیر بن عبد اللہ بن عمرو مزنی نے اپنے باپ سے وہ اپنے داد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سال خطبہ دیا جس میں احزاب کا ذکر ہوا ہے۔ فرمایا : ” حضرت جبریل امین نے مجھے خبر دی کہ میری امت اس پر غلبہ پانے والی ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →ایمان میں اضافہ ہونے کا ذکر
1۔ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما رأ المومنون الاحزاب آخرت آیت تک کہ جب مومنوں نے احزاب کو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سورة بقرہ میں فرمایا آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم، مستہم البأ ساء والضرا وزلزلو۔ (البقرہ آیت 214) کیا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تک تمہارے پاس اس لوگوں کی مثال نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے کہ ان کو پہنچی مصیبت اور تکلیف یعنی جب غزوۃ خندق کے موقعہ پر لشکروں کا مقابلہ کیا تو انہوں نے کہا یہ وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا [اور جب ] رَاَ [دیکھا ] الْمُؤْمِنُوْنَ [مومنوں نے ] الْاَحْزَابَ ۙ [لشکروں کو ] قَالُوْا [تو انہوں نے کہا ] ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] وَعَدَنَا [وعدہ کیا ہم سے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ [اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے ] وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ [اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے ] وَمَا زَادَهُمْ [اور اس نے زیادہ نہیں کیا ان کو ] اِلَّآ اِيْمَانًا [مگر بلحاظ ایمان لانے کے ] وَّتَسْلِيْمًا [اور بلحاظ فرمانبرداری کرنے کے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
مومنین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اسوہ ہے اہل ایمان نے اللہ سے سچا وعدہ کیا اور اس پر پورے اترے
ان آیات میں اول تو اہل ایمان کو تلقین فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتے رہیں، غزوہ احزاب میں بھی سب کو وہی کرنا لازم تھا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا، کسی کو اپنی جان بچا کر چلے جانا درست نہیں تھا۔ اس میں اہل ایمان کو تعلیم فرما دی کہ جیسے اب رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور اتباع کیا اسی طرح آئندہ بھی آپ کا اتباع کریں اور آپ کی ذات گرامی کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ یعنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں، جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور یوم آخرت کی پیشی کا یقین رکھتے ہیں انہیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مومنین کی تعلیم و تلقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →29:۔ ولما را المومنون الخ، منافقین کے نفاق، ان کی بزدلی اور ان کی شرارتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب مخلصین کے اخلاص و ایثار اور ان کے ثبات و استقلال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مخلص مومنوں نے جب دیکھا کہ کفار و مشرکین کی فوجیں مدینہ پر چڑھ آئی ہیں تو وہ فوراً بول اٹھے کہ یہ وہی آزمائش ہے جس کی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی اور وہ خبر سچی تھی جس کی صداقت ہم نے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اور ان کی فوجوں کو دیکھ کر ان کا ایمان ویقین اور مضبوط ہوگیا۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی فوجوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرے گا اور تسلیم و اطاعت کا جذبہ اور بڑھ گیا۔ وعدہ سے مراد سورة بقرہ کی یہ آیت ہے ام حسبتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔
اسوہ حسنہ
پہلے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ 0 ۙ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ 0 ۡوَمَا زَادَہُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِــيْمًا 2 2ۭ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ولما را المؤمنون الاحزاب الآیۃ یہاں سے لے کر غفورا رحیما تک انہیں کا حال ہے۔ فمنھم من قضٰی نحبہ نذرہ کہ بعض کو ان سچے دین داروں میں سے وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ہیں شہید ہوچکے ہیں۔ اور بعض منتظر ہیں اور عہد جو انہوں نے کیا تھا پورا کردیا، اس میں کچھ تغیر نہیں کیا۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ ز وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا۔ (الاحزاب : 22)
(اور جب اہل ایمان نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ کہا تھا اور اس چیز نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی میں اور اضافہ کردیا۔ )
مخلص مومنوں کا رویہ
رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ صحابہ کرام ( رض) کے طرز عمل کی طرف توجہ دلا رہا ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کا نمونہ پیش کرنے اور اس کی اہمیت ذکر کرنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کا کردار پیش کیا جاتا ہے۔
” الْمُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد صحابہ کرام ] کی جماعت ہے جنہوں نے موسم کی شدت، افراد کی قلت، انتہائی غربت، دشمن کا خوف، داخلی، خارجی مصائب اور مسائل کے باوجود اللہ کے رسول ﷺ کا اس یقین کے ساتھ ساتھ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا اور ہوگا۔ مصائب اور مسائل نے ان کے ایمان میں کمزوری پیدا کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مال و جان کی قربانی دے کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کردیا ہے جو باقی ہیں وہ اپنے…
Read the full tafseer →22: وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ (جب مؤمنوں نے ان لشکروں کو دیکھا) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کے قدم اکھاڑ دے گا۔ بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوں اس سے اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا گیا : ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ الی قولہ قریب۔] البقرۃ : 214[ جب لشکر آگئے وہ مضطرب ہوئے اور سخت مرعوب ہوئے۔ قَالُوْا ھٰذَا مَاوَعَدنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (کہنے لگے یہ وہی ہے جس کی ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) نے سچ فرمایا) اور انہیں یقین ہوگیا کہ جنت و نصرت الٰہی دونوں…
Read the full tafseer →22، ولما رأی المؤمنون الا حزاب قالوا، اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے۔ ، ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ، جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا ، اس کا تذکرہ سورة بقرہ کے اندر بھی گزرچکا ہے۔ ، ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یا تکم مثل الذین خلوامن قبلکم، سے لے کر، الا ان نصر اللہ قریب، آیت میں یہ آتا ہے کہ جب مؤمنین اس مصیبت کو پہنچیں گے جبوہ جنگ احزاب میں پہنچے اور ان کو سختی پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے سچ کردکھایا۔ ، وما زادھم الا ایما نا وتسلیما ، اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22‘ 23۔ مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختصر طور پر حضرت انس بن نضر کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے جنگ احد کے ذکر میں اس قصہ کا تذکرہ گزر چکا ہے صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ سے جو اس قصہ کی روایت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے 1 ؎ اس کا حاصل یہ ہے (1 ؎ تیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر زیر تفسیر ہذا) کہ انس بن مالک ؓ کے چچا انس ؓ بن نضر کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکتے تھے اس واسطے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر بدر کی لڑائی کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آوے گا تو یہ بڑی جانبازی سے خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب احد کی لڑائی کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 22
یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا ‘ چناچہ فرمایا : (ولما را المؤمنون الاحزاب) ” اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا “ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں) کا خوف جاتا رہا۔ (قالوا ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ) ” وہ کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے : (ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم الباسآء والضرآء و زلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ الا…
Read the full tafseer →مومن کا ایمان آزمائشوں میں مزید پختہ ہوتا ہے
قول باری ہے (ولمارای المومنون الاحزاب قالوا ھذا ما وعد نا اللہ ورسولہ۔ اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہی وہ (موقع) ہے جس کی ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی)
ایک قول کے مطابق مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ جب مشرکین کے مقابلہ پر اتریں گے انہیں ان پر کامیابی حاصل ہوجائے گی اور وہ ان پر چھا جائیں گے ۔ جس طرح یہ قول باری ہے (لیظھرہ علی السلاین کلد تاکہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے) ۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو اس قول باری میں ان سے کیا گیا تھا (ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا مین…
Read the full tafseer →41 منافقوں کے مقابلے میں سچے مسلمانوں کا رویہ و نمونہ : سو منافقوں کے مقابلے میں سچے اہل ایمان کا رویہ و نمونہ اور ان کا ایمان افروز اعلان وبیان یہ تھا کہ انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھتے ہی کہا کہ " اسی کا وعدہ فرمایا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے۔ بالکل سچا اور درست وعدہ فرمایا تھا "۔ اور اس سے ان کے جذبہ تسلیم و رضا میں اور بھی اضافہ ہوا۔ یعنی یہ کہ راہ حق میں تمہاری آزمائش ضرور ہوگی مگر غلبہ بہرحال تمہارا ہی ہوگا اور اگر تم نے ثابت قدمی دکھائی تو اللہ پاک ضرور تمہاری نصرت و امداد فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة بقرہ آیت نمبر 214 اور عنکبوت آیت نمبر 322 وغیرہ مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیات 21 تا 27
اسرارومعارف
اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔
صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا :
صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…
Read the full tafseer →ف 7 کہ اللہ تمہیں آزمائے گا اور پھر جب تم ثابت قدمی دکھائے گے تو تمہاری مدد گا۔ ( ابن کثیر) ۔ یہ وعدہ قرآن کی متعدد آیات میں مذکور ہے۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 214 و سورة عنکبوت آیت 2، 3) مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر رسیح یعنی آندھی بھیجے گا اور یہ مرعوب ہو کر بھاگ جائیں گے چناچہ مسلمانوں نے سن کر یہ کہا ( ھذا ما وعدنا اللہ۔۔۔۔ ) (قرطبی)8 وہ پہلے سے زیادہ ایمان میں پختہ اور آنحضرت ﷺ کے عاشق زاد و اطاعت گزار ہوگئے۔ اس آیت میں اس چیز کی دلیل ہے کہ ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے اور یہی اہلحدیث کا مذہب ہے۔ ( وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(33:22) من المؤمنین میں من تبعیضیہ ہے اور مومنین سے مراد مطلقا ان سے ہے جو اخلاص سے ایمان لائے ہوئے تھے۔
رجال صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ رجال پر تنوین تعظیم کی ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قوت و مردانگی میں بےنظیر تھے۔ یقال فلان رجل فی رجال ای کامل الرجولیۃ بینھم (المنجد) یعنی اہل ایمان میں سے ایسے جواں مرد اور پاکباز عشاق بھی ہیں ۔ جنہوں نے اپنے رب کریم سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دکھایا۔
بعض کے نزدیک یہ حضرات انس بن نضیر، عثمان بن فعان، طلحہ بن عبید اللہ، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ، حمزہ ، مصعب بن عمر وغیرہ تھے ؓ اجمعین۔ یہ حضرات بعض وجوہ کی بنا پر جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27
اسوۃ : نمونہ
یرجوا : امید رکھتا ہے
تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت
قضی : پورا کرلیا
نحب : منت۔ نذر۔ مدت
غیظ : غصہ
صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ
قذف : ڈال دیا
الرعب : دہشت۔ ہیبت
تاسرون : تم قیدی بناتے ہو
اورث : اس نے مالک بنا دیا
لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27
بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی…
Read the full tafseer →[24] یعنی پکے مسلمانوں نے جب دیکھا کہ کفر کی فوجیں اکٹھی ہو کر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑی ہیں تو بجائے مذبذب یا پریشان ہونے کے ان کا جذبہ اطاعت اور یقین اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اور زیادہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کی خبر اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے دے رکھی تھی جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا۔ '' کیا تم (لوگوں) نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ (محض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم کو ان لوگوں کی سی حالت پیش نہیں آئی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں اور وہ جھنجھوڑے گئے، جہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اسوہ حسنہ
2: حضور ﷺ جس طرح اللہ کے پیغام کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان میں یہ بھی اہلیت تھی ۔ کہ شمشیر وسنان سے اس کی حمایت بھی کریں ۔ چناچہ اکثر غزاوات میں آپ نے داد شجاعت دی ۔ اور نازک سے نازک اوقات میں بھی پہاڑ کی طرح میدان جنگ میں قائم رہے ۔ جب کہ بڑوں بڑوں کا زہرہ آب ہوتا تھا ۔ ارشاد ہے کہ رسول ﷺ انسانیت کے لئے بہترین اسوہ ہے ۔ اس کی پیروی کرو اور اس کو دیکھ کر اپنے مصائب کو معلوم کرو ۔ اور جبن وبزدلی کی عادات کو ترک کرو ۔ تاکہ تم سعادت اخروی حاصل کرسکو ۔ یہاں اسوہ حسنہ کا لفظ اگرچہ سیاق جنگ میں آیا ہے ۔ مگر معنی اس میں عموم ہے ۔
ہر شخص جو اللہ سے اور روز…
Read the full tafseer →22۔ اور ان مومنین کاملین نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی موقعہ ہے اور وہی منظر ہے جس کا ہم کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور جس کی خبر دی تھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اس واقعہ نے ان ایمان والوں کے ایمان اور شیوہ ٔ اطاعت کو اور بڑھا دیا ۔ اللہ کا وعدہ تو شاید وہی جو سورة بقرہ میں گزر چکا ۔
ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم الایۃ۔
رسول اللہ ﷺ کا وہ اشاد جو عبد اللہ عباس ؓ سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ احزاب آنے والے ہیں تمہاری طرف آخر نو راتوں میں یا دس میں غرض یہ کہ منافقوں کی حالت تو وہ تھی جو…
Read the full tafseer →ف 5۔ یہ وصف تو سب مومنین میں مشترک ہے اور بعض اوصاف مومنین میں خاص بھی ہیں جس کا بیان آگے ہے۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ)
نبی اعظم وآخر ﷺ کا صدق نبوت سے پہلے بھی معروف تھا
13 ۔ نبی کریم ﷺ کے صدق وسچائی کے متعلق کچھ لکھنے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ یہ تو آپ ﷺ کا وہ وصف خاص ہے جس میں آپ ﷺ کو بعثت سے برسوں پہلے ہی شہرت حاصل ہوچکی تھی اور جس سے آپ ﷺ کے اس زمانہ کے شدید ترین اعداء نے بھی انکار نہیں کیا اس کے سواریوں بھی صدق باقی تمام محاسن اخلاق کا سنگ بنیاد ہے اور جب تک کسی طبیعت میں پوری سچائی نہ ہو تب تک اس میں کوئی اور اعلیٰ خوبی ہونی ممکن ہی نہیں ہے اس لئے اس جامع صفات حسنہ ﷺ کے صدق پر واقعات سے استدلال کرنا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ اس معاملہ میں جو کچھ عرض کررہا ہوں محض تقلید اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →36 After drawing attention to the model of the Holy Prophet, Allah now presents the model of his Companions so that the character of the false claimants to faith and of the sincere followers of the Messenger is clearly contrasted. Although both were alike apparently in the affirmation of the faith, both were counted as Muslims, and both attended at the Prayers, they were separated from each other as soon as the time of the trial approached, and it became clear who were loyal to Allah and His Messenger and who were Muslims only in name.
37 Here, one should keep verse 12 in view. There it was…
Read the full tafseer →