Explained with ayahs 23–24
اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہوگیا منافقوں کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بےچین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْاَحْزَاب 39
یعنی کوئی اللہ کی راہ میں جان دے چکا ہے اور کوئی اس کے لیے تیار ہے کہ وقت آئے تو اس کے دین کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →من المومنین رجال صدقوا ما عھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا (23)
سورة اعراب کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ رجال جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو وہ تضخیم شان پر دلیل ہوتا ہے، اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ مردانِ حق یا مردانِ کار، کیا جائے تو یہ ترجمہ لفظ کی روح کے مطابق ہوگا۔
لفظ نحب وسیع معنوں میں آتا ہے۔ عزم و ہمت، عہد و پیمان، نذر، سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ امام بخاری ؒ نے اس کی تفسیر ’ عھد ‘ سے کی ہے اور یہ تفسیر لفظ کی روح اور موقع و محل کی مقتضیات کے بالکل مطابق ہے۔
اوپر آیت 15 میں منافقین کا حال بیان ہوچکا ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے یہ عہد کیا تھا…
Read the full tafseer →23-1یہ آیت ان بعض صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اس موقع پر جاں نثاری کے عجیب و غریب جوہر دکھائے تھے اور انھیں میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے لیکن انہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اب آئندہ کوئی معرکہ پیش آیا تو جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے۔ جیسے نضر بن انس وغیرہ جو بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے جسم پر تلوار نیزے اور تیروں کے اسی سے کچھ اوپر زخم تھے، شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انھیں ان کی انگلی کے پور سے پہچانا۔
23-2نَحْبہ، نحب کے معنی ہیں عہد، نذر اور موت کے کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ ان صادقین میں کچھ نے اپنا وعدہ اور نذر پوری کرتے ہوئے جام…
Read the full tafseer →19: نذرانہ پورا کرنے سے مراد جہاد میں جام شہادت نوش کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو صحیح معنی میں مومن تھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس کے راستے میں اپنے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پھر ان حضرات میں سے کچھ نے تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جام شہادت نوش کرلیا، اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے جہاد میں حصہ تو لیا، لیکن شہید نہیں ہوئے، اور ابھی اس انتظار اور اشتیاق میں ہیں کہ کب انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے کا موقع ملے۔
Read the full tafseer →من المؤمنین رجال ۔۔۔۔۔ وما بدلوا تبدیلا (24) ” “۔ یہ نمونہ اس مکروہ نمونے کے بالمقابل ہے۔ یہ مکروہ نمونہ وہ ہے جس میں لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے مگر بعد میں انہوں نے اپنا عہد و فا نہ کیا۔
وکان عھد اللہ مسؤلا ” اور اللہ کے عہد کے بارے میں تو پوچھا جاتا ہے “۔
امام احمد نے حضرت ثابت سے نقل کیا ہے کہ ” میرے چچا انس ابن نضر ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے۔ ان پر یہ بات بہت شاق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول خدا ﷺ شریک ہوئے اور میں غائب رہا۔ اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے ستاھ کسی معرکے میں شریک کیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں…
Read the full tafseer →7 یعنی منافقین نے جو عہد کیا تھا پچھلے رکوع میں گزر چکا۔ (وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ) 33 ۔ الاحزاب :15) اسے توڑ کر بےحیائی کے ساتھ میدان جنگ سے ہٹ گئے۔ ان کے برعکس کتنے پکے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنا عہد و پیمان سچا کر دکھلایا۔ بڑی بڑی سختیوں کے وقت دین کی حمایت اور پیغمبر کی رفاقت سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ اللہ و رسول ﷺ کو جو زبان دے چکے تھے، پہاڑ کی طرح اس پر جمے رہے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اپنا ذمہ پورا کرچکے یعنی جہاد ہی میں جان دے دی جیسے شہدائے بدر و احد جن میں سے حضرت انس بن النضر ؓ کا قصہ بہت مشہور ہے اور بہت سے مسلمان وہ ہیں جو…
Read the full tafseer →آیت 23 { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ } ”اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا۔“
انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے مال اور ہماری جانیں اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے حاضر ہیں اور انہوں نے اپنا یہ دعویٰ عملی طور پر سچ کر دکھایا۔
{ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ } ”پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے“
یہ اشارہ ہے ان صحابہ کرام رض کی طرف جو ان آیات کے نزول 5 ہجری سے پہلے جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ مثلاً غزوئہ بدر میں چودہ 14 ‘ جبکہ غزوئہ اُحد میں ستر 70 صحابہ رض شہید ہوئے تھے۔
{ وَمِنْہُمْ مَّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
32 اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لیلۃ العقبہ ثانیہ میں انصار کے بہتر (72) افراد نے رسول اللہ سے کیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ ہم مرتے دم تک آپ کا ساتھ دیں گے۔
33 اللہ سے کئے ہوئے عہد کو نباہنے والے :۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
(1) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت (میرے چچا) انس بن نضر کے حق میں نازل ہوئی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر)
(2) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر نہ ہوسکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری اور کہا کہ : یہ رسول اللہ کے ساتھ حاضر رہنے کا پہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
44۔ ” مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر ؓ اور ان کے رفقاء ہیں، یہ حضرات اتفاق سے غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جائے گی .... مطلب یہ تھا کہ منہ موڑیں گے کہ مارے جائیں “۔ (آیت) ” ماعاھدوا اللہ علیہ “۔ کو اگر وسیع وعام معنی میں لیاجائے تو اس میں وہ تمام امور آجائیں گے جنہیں ہم نے بضمن ایمان اجمالا اور قرآن و حدیث سے تفصیلا قبول کیا ہے، اور اس معنی میں اسکی مصداق ساری امت محمدی ﷺ ہوگی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کاملین کے لیے کبھی امور مکروہہ بھی، اور ان ہی میں قبض بھی شامل ہے، زیادت معارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…
Read the full tafseer →من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ مؤمنوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے معاہدہ کو سچا کردیا (یعنی سچ کر دکھایا) ۔
اللہ کے رسول سے انہوں نے معاہدہ کیا تھا کہ ہم معرکۂ جنگ میں آپ کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے اور آپ کی معیت میں کافروں سے لڑیں گے۔ عرب کہتے ہیں : صَدَقَنِیْاس نے مجھ سے سچ کہا۔ صَدَقُوْا بھی اسی محاورہ سے ماخوذ ہے ‘ وعدہ پورا کرنے والا ‘ اپنے وعدہ کو سچا ثابت کردیتا ہے (کہ جو کچھ میں نے معاہدہ کیا تھا ‘ دیکھو اس کو پورا کردیا) ۔
فمنھم من قضی نحبہ پس ان میں سے کچھ لوگوں نے تو اپنی نذر پوری کردی اور عہد کو کامل طور پر پورا کردیا ‘ اب کئے ہوئے وعدہ کا کوئی بار ان پر باقی…
Read the full tafseer →ان مومنین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا اس کو پورا کر کے دکھایا اور بعض ان میں تو وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے یا یہ کہ اپنی زندگی پوری کرچکے یعنی حضرت حمزہ اور ان کے ساتھی اور بعض آخری وقت تک اس کے پورا کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں اور ابھی تک انہوں نے اس عہد میں ذرا بھی ادل بدل نہیں کیا۔
شان نزول : مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ (الخ)
امام مسلم اور ترمذی نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میرے چچا انس بن النضر غزوہ بدر سے غائب رہے اس پر انہوں نے افسوس میں تکبیر کہی اور بولے کہ رسول اکرم کو پہلا معرکہ جنگ…
Read the full tafseer →ۭمِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا اور بزدلی اور نامردی سے میدان سے بھاگ گئے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ۭ وَكَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔــوْلًا) [ الأحزاب : 15 ] ”حالانکہ بلاشبہ یقیناً اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔“ اب ان لوگوں پر چوٹ کے لیے ان ایمان والوں کا ذکر ہوتا ہے جو فی الواقع مرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت من المومنین رجال رجال مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ آیت صدقوا اس کی صفت ہے۔ آیت فمنھم من قضی نحبہ، من محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ اسی طرح آیت ومنھم من ینتظر میں من ہے اور خبرجار مجرور ہے۔ نحب کا معنی نذر اور عہد ہے تو اس باب کا یوں ذکر کرتا ہے : نحبت انحب یعنی عین کلمہ پر ضمہ ہے۔ شاعر نے کہا :
واذانحبت کلب علیالناس انھم احق بتاج الماجد المتکرم (1)
جب بنو کلب لوگوں پر عہد کریں تو وہ بزرگی اور کرم کے تاج کے زیادہ حقدار ہیں۔
ایک اور شاعر نے یہ لفظ یوں استعمال کیا۔
قد نحب المجدعلینا نحبا
بزرگی نے ہمارے ساتھ عہد کیا۔ ایک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1۔ عبدالرزاق واحمد والبخاری والترمذی والنسائی وابن ابی داوٗ دنے المصاحف میں والبغوی وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے مصاحف میں سے ایک مصحف کو لکھا تو سورة احزاب میں سے ایک آیت نہ مل سکی جو میں رسول اللہ ﷺ سے نا کرتا تھا کہ آپ اس کو پڑھتے تھے اس آیت کو کسی کے پاس نہ پایا مگر خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر قراردیا فرمایا آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدواللہ علیہ سو میں نے اس کو مصحف میں سورة احزاب میں ملا دیا۔
2۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور ابو نعیم نے المعروفۃ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم…
Read the full tafseer →مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں میں سے ] رِجَالٌ [کچھ ایسے مرد ہیں ] صَدَقُوْا [جنہوں نے سچ کردیا ] مَا [اس کو ] عَاهَدُوا اللّٰهَ [انہوں نے معاہدہ کیا اللہ سے ] عَلَيْهِ ۚ [جس پر ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [تو ان میں بھی ہیں جنہوں نے ] قَضٰى [پورا کیا ] نَحْبَهٗ [اپنی منت کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّنْتَظِرُ ڮ [انتظار کرتے ہیں ] وَمَا بَدَّلُوْا [اور انھوں نے تبدیلی نہیں کی ] تَبْدِيْلًا [کچھ بھی تبدیلی ] ۔
ن ح ب
(ض۔ ن) نحبا شرط لگانا۔ نذر ماننا۔
نحب نذر۔ منت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد مومنین صحابہ ؓ کی تعریف فرمائی کہ جب انہوں نے کافروں کے گروہوں کو دیکھ لیا کہ وہ باہمی مشورے کرکے آگئے ہیں تو انہوں نے کہا : (ھٰذا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ) (یہ وہ ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا) یعنی اہل ایمان کی جانچ اور امتحان کا جو قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اسی میں ایک یہ بھی امتحان و ابتلا ہے، دشمنوں کی آمد اہل ایمان کے لیے ایمان میں اضافہ کا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو زیادہ بشاشت کے ساتھ تسلیم کرنے کا سبب بن گئی، سورة بقرہ میں امتحان کا ذکر فرمایا ہے : (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفَِ والْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →30:۔ من المومنین الخ، ایمان والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا پورا کر دکھایا اس سے وہ مخلصین مراد ہیں جو سوء اتفاق سے جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے بعد میں نادم ہوئے اور اللہ سے عہد کیا کہ اگر آئندہ کوئی جہاد کا موقع ہاتھ آیا تو وہ پورے استقلال کے ساتھ خون کے آخر قطرے تک لڑیں گے چناچہ جنگ احد اور غزوہ خندق میں ان مخلصین نے پوری جانثاری سے کام لیا۔ فمنہم من قضی الخ، ان مخلصین کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو چناچہ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جن کی خواہش پوری ہوگئی اور وہ غزوہ خندق میں شہید ہوگئے اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں لیکن ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔
اسوہ حسنہ
پہلے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ 0 ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ 0 ۡ ۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا 23ۙ
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ولما را المؤمنون الاحزاب الآیۃ یہاں سے لے کر غفورا رحیما تک انہیں کا حال ہے۔ فمنھم من قضٰی نحبہ نذرہ کہ بعض کو ان سچے دین داروں میں سے وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ہیں شہید ہوچکے ہیں۔ اور بعض منتظر ہیں اور عہد جو انہوں نے کیا تھا پورا کردیا، اس میں کچھ تغیر نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَـہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً ۔ لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 23، 24)
(ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض ان میں سے منتظر ہیں اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے۔ تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزاء دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کا نمونہ پیش کرنے اور اس کی اہمیت ذکر کرنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کا کردار پیش کیا جاتا ہے۔
” الْمُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد صحابہ کرام ] کی جماعت ہے جنہوں نے موسم کی شدت، افراد کی قلت، انتہائی غربت، دشمن کا خوف، داخلی، خارجی مصائب اور مسائل کے باوجود اللہ کے رسول ﷺ کا اس یقین کے ساتھ ساتھ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا اور ہوگا۔ مصائب اور مسائل نے ان کے ایمان میں کمزوری پیدا کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مال و جان کی قربانی دے کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کردیا ہے جو باقی ہیں وہ اپنے…
Read the full tafseer →نذر پوری کرنے والے :
23: مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ (ان مؤمنوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اس میں سچے اترے) اس بات میں جس میں انہوں نے اس سے عہد کیا تھا) حرف جار کو حذف کردیا گیا جیسا کہ اس مشہور مثال میں صدقنی سن بَکرِہٖ ای صدقنی عن سن بکرہٖ اور فعل کو اس کے ساتھ ملا دیا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے قسم کھائی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر قتال کا موقعہ ملے تو ثابت قدم رہیں گے اور اس وقت تک قتال کریں گے یہاں تک کہ شہید ہوجائیں گے ان کے نام یہ تھے عثمان بن عفان، طلحہ، سعد بن زید، حمزہ و مصعب وغیرہم۔ فَمِنْہُمْ…
Read the full tafseer →23، من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ ، یعنی ہم اللہ کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کے وعدہ کو سچ کردکھائیں گے (پوراکریں گے) ۔ ، فمنھم من قضی نحبہ، جو اپنی نزر سے فارغ ہوگیا اور اپنے وعدے کو پورا کیا اور جہاد پر ثابت قدرہا ۔ یہاں تک کہ وہ کہ وہ شہید ہوگیا ۔ نحب کا معنی نذر بھی ہے اور موت بھی ۔ ، قضی نحبہ ، اس نے اپنی میعاد زندگی پوری کرلی یعنی مرگیا۔ نحب اگر بمعنی موت لیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ اس نے اپنا عہد پورا کردیا اور اسی حالت میں اس کو موت آگئی جیسے حضرت حمزہ ؓ اور ان جیسے صحابہ ۔
بعض علماء کے نزدیک ، قضی نحبہ، کا معنی یہ ہے کہ اس نے ایفائے عہد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22‘ 23۔ مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختصر طور پر حضرت انس بن نضر کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے جنگ احد کے ذکر میں اس قصہ کا تذکرہ گزر چکا ہے صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ سے جو اس قصہ کی روایت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے 1 ؎ اس کا حاصل یہ ہے (1 ؎ تیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر زیر تفسیر ہذا) کہ انس بن مالک ؓ کے چچا انس ؓ بن نضر کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکتے تھے اس واسطے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر بدر کی لڑائی کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آوے گا تو یہ بڑی جانبازی سے خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب احد کی لڑائی کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 23
اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے ‘ مگر انہوں نے اس کے عہد کو توڑ دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا ‘ فرمایا (من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ) ” مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا (فمنھم من قضی نحبہ) ” تو ان میں سے بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
نذر کو پورا کرنا چاہیے
قول باری (فمنھم من قضی نجہ ۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ) ایک قول کے مطابق نحب کے معنی نذر کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کے سلسلے میں انہوں نے جو نذر مانی تھی وہ نذر انہوں نے پوری کرلی۔ حسن کا قول ہے کہ (قضی نجہ) کے معنی ہیں کہ ان کی موت اسی عہد پر واقع ہوئی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ نجب، موت کو کہتے ہیں اور نجب ایک دن ایک رات تسلسل کے ساتھ چلنے کو بھی کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” انہوں نے اپنا عہد پورا کردیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ نحب کے نقط میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سے عہد اور نذر مراد لی جائے۔…
Read the full tafseer →43 مومنین صادقین کی اپنے عہد کو پورا کرنے کی تصریح : سو اس ارشاد میں تصریح فرمائی گئی کہ اہل ایمان کے مردانِ حق میں سے کچھ نے اپنے عہد کو پورا کردیا۔ یعنی اپنے اس عہد کو کہ ہم راہ حق میں ثابت رہیں گے۔ اور جیسا کہ بیعت عقبہ کے موقع پر انہوں نے آنحضرت ﷺ سے آپ ﷺ کی حمایت اور دفاع کا وعدہ کیا تھا۔ نیز اس سے مراد وہ عہد ہے جو غزوئہ بدر میں شریک نہ ہوسکنے والے صحابہ کرام نے کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے اس کے بعد احد میں اور پھر احزاب میں اس کو پورا کر دکھایا ۔ { صَدَقُوْا مَا عَاہٰدُوْا اللّٰہَ عَلَیْہِ } ۔ کا عموم ان سب ہی عہود و وعود کو شامل ہے۔ (محاسن التاویل، فتح القدیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیات 21 تا 27
اسرارومعارف
اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔
صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا :
صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…
Read the full tafseer →ف 9 اس اقرار سے مراد وہ اقرار ہے جو مدینہ منورہ کے انصار ؓ سے ” لیلہ عقبہ “ میں آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آخر دم تک آپ ﷺ کا ساتھ دیں گے اور آپ ﷺ کی حفاظت و مدافعت ہیں اپنی جانیں تک قربان کردیں گے یا اس سے مراد بعض ان لوگوں کا عہد ہے جو کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش کا موقع دیا تو وہ ثابت قدم رہیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا انس ؓ بن نضر غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اس کا انہیں بڑا رنج ہوا اور کہنے لگے کہ اب اگر کوئی جنگ ہوئی تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(33:24) لیجزی۔ لام تعلیل کا ہے یجزی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے منصوب بوجہ عمل لام۔ جزاء (باب ضرب) تاکہ وہ جزا دے۔ بدلہ دے۔ اس سے قبل وقع جمیع ماوقع (یہ سب کچھ اس لئے وقوع پذیر ہوا) مقدر ہے۔
الدقین : ای الذین صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کردیا۔
بصدقہم۔ باء سببیہ ہے۔ صدقہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا اپنے عہد کو پورا کر دکھانے کا فعل۔
یعذب مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل لام تعلیل۔ تاکہ وہ عذاب دیوے۔
او یتوب علیہم۔ یا ان کو معاف کردے۔ تاب یتوب توبا (باب نصر سے مصدر اگر الیٰ کے صلہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوں گے کہ بندے کا اپنے گناہوں سے روگردانی کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27
اسوۃ : نمونہ
یرجوا : امید رکھتا ہے
تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت
قضی : پورا کرلیا
نحب : منت۔ نذر۔ مدت
غیظ : غصہ
صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ
قذف : ڈال دیا
الرعب : دہشت۔ ہیبت
تاسرون : تم قیدی بناتے ہو
اورث : اس نے مالک بنا دیا
لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27
بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
عہد کے پورا کرنے کا ذکر۔
(ف 1) مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت طلحہ، اور حضرت سعد بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت انس ؓ کے حق کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوسکے تھے انہوں نے نذر کی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ بدر کی لڑائی کے بعد پھر نبی ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آئے گا تو ہم بڑی جانثاری سے اور خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع پیش آیا تو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے سب مسلمانوں کیط رف عذرخواہی کی اور اپنا عہد پورا کرنے کو تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھے ، اور حضرت انس بن نضر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
[25] یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
[26] یعنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 1: ان آیتوں میں پھر نفس مضمون کی طرف براہ راست توجہ مبذول فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے کہ یا تو منافقین کی حالت آپ نے دیکھی ۔ کہ اپنے عہد کو بھی بھلا بیٹھے ۔ اور بدرجہ غایت بزدلی کا اظہار کیا ۔ اور یا یہ مومنین ہیں ۔ کہ عساکر کو دیکھ کر جوش ایمانی سے معمور ہوگئے ۔ اور کہنے لگے ۔ کہ اللہ کی نصرت اور فتح کا وعدہ آن پہنچا ہے ۔ اور اللہ اور رسول ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا ۔ وہ بالکل سچ اور درست ہے ۔ اس میں سرموشک او شبہ کی گنجائش نہیں ۔ ع
بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا
پھر ان میں ایسے بھی تھے ۔ جنہوں نے انس بن نضر کی طرح اپنے عہد کو پورا کیا ۔ اور بڑھ کر جام شہادت نوش فرمایا اور ایسے بھی تھے ۔ جو خلوص…
Read the full tafseer →23۔ انہی مومنین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اس عہد کو پورا کردیا اور سچ کر دکھایا پھر بعض ن ان میں سے ایسے ہیں جو اپنے قول وقرار اور اپنی بات اور اپنا ذمہ پورا کرچکے اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں اور اپنی بات میں ذرا سا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 6۔ یہ تقسیم اس بناء پر ہے کہ بعض نے عہد ہی نہیں کیا تھا اور بلا عہد ثابت قدم رہے۔ اور مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر اور ان کے رفقاء ہیں جو حضرات اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جاوے گی، مطلب یہ تھا کہ منہ نہ موڑیں گے گو مارے جاویں۔
Read the full tafseer →ایمانی طاقت وقوت کا اظہار کرکے مومنوں نے بھی اپناعہد پورا کردکھایا
23 ۔ { نحب } مضاف ہ مضاف الیہ نذر ، منت کنایہ ہے موت سے کیونکہ ہر جاندار کے گلے میں موت بھی نذر کی طرح لازم ہے۔ { قضی نحبہ } اپنی منت پوری کردے یا اپنی زندگی پوری کردے ، شہید ہوجائے یا وفات پاجائے۔ بلا شبہ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جب بھی آپ ﷺ کی رفاقت میں جنگ کا موقع پیش آئے گا تو وہ اپنی جانیں تک لڑادیں گے گویا وہ جام شہادت نوش کریں گے لیکن میدان جنگ سے کبھی فرار نہیں ہوں گے اور اس طرح جب بھی وقت آیاتو انہوں نے اپنے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کیا یعنی وہ شہید ہوگئے یا اپنی طبعی موت پاگئے اور بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
39 That is, "Someone has already offered his life in the way of Allah, and someone is awaiting the time when he will offer it for the sake of his Faith. "
Read the full tafseer →