Explained with ayahs 23–24
اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہوگیا منافقوں کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بےچین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْاَحْزَاب 39
یعنی کوئی اللہ کی راہ میں جان دے چکا ہے اور کوئی اس کے لیے تیار ہے کہ وقت آئے تو اس کے دین کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم ویعذب المنفقین ان شاء اویتوب علیھم ان اللہ کان غفورا رحیما (24)
یہاں قرینہ دلیل ہے کہ فعل مخدوف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے احزاب کا یہ طوفان اس لئے اٹھایا کہ یہ راستبازوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز کے لئے ایک کسوٹی بنے۔ اس پر پرکھ کر اللہ تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو راستبازی کا صلہ دے اور منافقوں کو سزا دے اگر چاہے اور ان کی توبہ قبول کرے اگر وہ توبہ کریں۔
’ ان شاء او یتوب علیھم ‘ میں قرآن کے اس معروف اسلوب کے مطابق جس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ’ یتوب علیھم کے بعد بھی ان شاء کے الفاط ہیں اگرچہ تکرار سے بچنے کے لئے وہ حذف کردیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کی حکمت اور…
Read the full tafseer →24-1یعنی انھیں قبول اسلام کی توفیق دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
20: یعنی جو منافق سچی توبہ کرلیں ان کی توبہ قبول کرلے۔
Read the full tafseer →لیجزی اللہ الصدقین ۔۔۔۔۔۔ کان غفورا رحیما (22) “۔
قرآن کریم میں واقعات و حادثات پر ایسا تبصرہ آتا رہتا ہے۔ مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ تمام معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ان واقعات کی حکمت بھی بتا دی جاتی ہے کہ کوئی واقعہ عبث یا یونہی پیش نہیں آجاتا۔ ہر واقعہ حکمت الہیہ کا حصہ ہوتا ہے اور مقررہ وقت پر آتا ہے۔ اس کے پیچھے بامقصد تدبیر ہوتی ہے اور اس کے مقررہ نتائج نکلتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے لئے رحمت اور
فضل اس میں عیاں ہوتا ہے اور یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہمیشہ عیاں ہوتا ہے۔
ان اللہ کان غفورا رحیما (33: 24) ” بیشک اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اور یہ عظیم واقعہ اس پر ختم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →1 یعنی جو عہد کے پکے اور قول وقرار کے سچے رہے ان کو سچ پر جمے رہنے کا بدلہ ملے اور بدعہد دغا باز منافقوں کو چاہے سزا دے اور چاہے توبہ کی توفیق دے کر معاف فرما دے۔ اس کی مہربانی سے کچھ بعید نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 24 { لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ } ”تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے“
{ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ } ”اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے۔“
یعنی اللہ چاہے تو ان کو توبہ کا موقع دے دے۔
{ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
اس آیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس وقت 5 ہجری تک منافقین کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا تھا۔ لیکن جب یہ مہلت ختم ہوگئی تو ان کے متعلق یہ فیصلہ سنا دیا گیا : { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
32 اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لیلۃ العقبہ ثانیہ میں انصار کے بہتر (72) افراد نے رسول اللہ سے کیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ ہم مرتے دم تک آپ کا ساتھ دیں گے۔
33 اللہ سے کئے ہوئے عہد کو نباہنے والے :۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
(1) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت (میرے چچا) انس بن نضر کے حق میں نازل ہوئی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر)
(2) سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ : میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر نہ ہوسکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری اور کہا کہ : یہ رسول اللہ کے ساتھ حاضر رہنے کا پہلا…
Read the full tafseer →47۔ (اس کی وسیع رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ منافق کو مخلص بنا کر قابل مغفرت بنادے) اس میں ترغیب آگئی تو بہ ورجوع کی۔ (آیت) ” الصدقین “ سے مراد ظاہر ہے کہ سچے مسلمان ہیں۔ (آیت) ” لیجزی “۔ ل تعلیل کا ہے والظاھر اللام للتعلیل (روح) (آیت) ” لیجزی ...... علیھم “۔ آیت سے یہ ظاہر ہے کہ مومن صادق کی نجات یقینی ہے، بخلاف اس کے منافق کی سزا مشروط ہے مصلحت تکوینی کے ساتھ۔ (آیت) ” اویتوب علیھم “۔ یعنی اگر اس کی مشیت یہی ہوئی تو منافقین کو بھی آخرت میں سزانہ ملے گی۔ ان کی تعذیب ومغفرت دونوں حق تعالیٰ کی مشیت پر معلق ہیں۔ اے فلایعذبھم بل یرحمھم سبحانہ ان شآء وظاھرہ ان کلامن التعذیب والرحمۃ للمنافقین یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…
Read the full tafseer →لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم . تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ عطا فرمائے ‘ یا ان کی سچائی کے سبب ثواب عنایت کرے۔ صدق سے مراد ہے عہد کا پورا کرنا۔
ویعذب المنفقین ان شاء او یتوب علیھم . اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے یا ان کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے۔ یعنی اگر اللہ کو منظور ہو کہ منافق کفر پر ہی مرجائیں تو ان کو عذاب دے اور اگر وہ چاہے کہ منافق توبہ کرلیں اور مخلص الایمان ہوجائیں تو ان کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے۔
ان اللہ کان غفورا رحیما . بیشک اللہ (توبہ کرنے والے کو) بہت بخشنے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔
Read the full tafseer →یہ واقعہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ عہد پورا کرنے والوں کو ان کے وعدہ پورا کرنے کا صلہ دے اور منافقین اگر حالت نفاق پر مرجائیں تو ان کو سزا دے یا موت سے پہلے انہیں توبہ کی توفیق دے۔
وہ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو اس حالت میں مرجائے اس پر رحم کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ : جنگ احزاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا، مثلاً مشرکین کے لشکروں کی آمد، مدینہ کا محاصرہ، مسلمانوں پر شدید خوف کا طاری ہونا، منافقوں کے طعنے اور بزدلی کی باتیں، صحابہ کرام ؓ کی ثابت قدمی اور قربانی، رسول اللہ ﷺ کا بےمثال کردار۔ اب ان سب باتوں کی حکمت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ان پریشانیوں کے بغیر ہی نعمتوں سے نواز دیتا، مگر اس نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا امتحان لے اور جو لوگ اپنے امتحان میں سچے اور پکے ثابت ہوں انھیں ان کی سچائی کا بدلا دے اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت من المومنین رجال رجال مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ آیت صدقوا اس کی صفت ہے۔ آیت فمنھم من قضی نحبہ، من محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ اسی طرح آیت ومنھم من ینتظر میں من ہے اور خبرجار مجرور ہے۔ نحب کا معنی نذر اور عہد ہے تو اس باب کا یوں ذکر کرتا ہے : نحبت انحب یعنی عین کلمہ پر ضمہ ہے۔ شاعر نے کہا :
واذانحبت کلب علیالناس انھم احق بتاج الماجد المتکرم (1)
جب بنو کلب لوگوں پر عہد کریں تو وہ بزرگی اور کرم کے تاج کے زیادہ حقدار ہیں۔
ایک اور شاعر نے یہ لفظ یوں استعمال کیا۔
قد نحب المجدعلینا نحبا
بزرگی نے ہمارے ساتھ عہد کیا۔ ایک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1۔ عبدالرزاق واحمد والبخاری والترمذی والنسائی وابن ابی داوٗ دنے المصاحف میں والبغوی وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے مصاحف میں سے ایک مصحف کو لکھا تو سورة احزاب میں سے ایک آیت نہ مل سکی جو میں رسول اللہ ﷺ سے نا کرتا تھا کہ آپ اس کو پڑھتے تھے اس آیت کو کسی کے پاس نہ پایا مگر خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر قراردیا فرمایا آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدواللہ علیہ سو میں نے اس کو مصحف میں سورة احزاب میں ملا دیا۔
2۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور ابو نعیم نے المعروفۃ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم…
Read the full tafseer →لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ [نتیجتاً بدلہ دے گا اللہ ] الصّٰدِقِيْنَ [سچ کر دکھانے والوں کو ] بِصِدْقِهِمْ [ان کی سچائی کے سبب سے ] وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ [اور عذاب دے گا منافقوں کو ] اِنْ شَاۗءَ [اگر اس نے چاہا ] اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭ [یا توبہ قبول کرے گا ان کی ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [یقینا اللہ ہے ] غَفُوْرًا [بے انتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہرحال میں رحم کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →(لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِھِمْ ) (تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے) یعنی غزوہ احزاب کا واقعہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ سچے اور مخلص مسلمانوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے۔ (وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ ) (اور چاہے تو منافقین کو سزا دے) (اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ ) (یا ان کو توبہ کی توفیق دے اور وہ توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں اور زمانہ کفر میں جو انہوں نے حرکت کی وہ معاف ہوجائے (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ )
فائدہ : (مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ ) ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر ذکر کیا ہے کہ اپنی نذر پوری کردی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →31:۔ لیجزی الخ، حضرت شیخ نے فرمایا لام عاقبت کا ہے یعنی عاقبت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ مخلصین کو ایفائے عہد اور ثابت قدمی کی جزا دے اور اگر انہیں عذاب نہ دینا چاہے تو ان کو توبہ کی توفیق دے اور ان کی توبہ قبول فرما لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ جو سچی توبہ کرے اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ای ان ساء ان یعذبھم ای لم یوفقھم للتوبۃ وان لم یشا ان یعبھم تاب علیہم قبل الموت (قرطبی ج 14 ص 160) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔
اسوہ حسنہ
پہلے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →لِّيَجْزِيَ اللہُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِہِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَاۗءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 2 4ۚ
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ولما را المؤمنون الاحزاب الآیۃ یہاں سے لے کر غفورا رحیما تک انہیں کا حال ہے۔ فمنھم من قضٰی نحبہ نذرہ کہ بعض کو ان سچے دین داروں میں سے وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ہیں شہید ہوچکے ہیں۔ اور بعض منتظر ہیں اور عہد جو انہوں نے کیا تھا پورا کردیا، اس میں کچھ تغیر نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَـہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً ۔ لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 23، 24)
(ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض ان میں سے منتظر ہیں اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے۔ تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزاء دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کا نمونہ پیش کرنے اور اس کی اہمیت ذکر کرنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کا کردار پیش کیا جاتا ہے۔
” الْمُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد صحابہ کرام ] کی جماعت ہے جنہوں نے موسم کی شدت، افراد کی قلت، انتہائی غربت، دشمن کا خوف، داخلی، خارجی مصائب اور مسائل کے باوجود اللہ کے رسول ﷺ کا اس یقین کے ساتھ ساتھ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا اور ہوگا۔ مصائب اور مسائل نے ان کے ایمان میں کمزوری پیدا کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مال و جان کی قربانی دے کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کردیا ہے جو باقی ہیں وہ اپنے…
Read the full tafseer →24: لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِھِمْ (تاکہ اللہ تعالیٰ سچے مسلمانوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے) صدق سے مراد وعدئہ وفا ہے۔ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآ ئَ (اور منافقوں کو چاہے سزا دے) جبکہ وہ توبہ نہ کریں۔ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ (یا ان کو توبہ کی توفیق دے) اگر وہ توبہ کریں۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا (بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) قبولیت توبہ کے ذریعہ رَّحِیْمًا (رحم کرنے والے ہیں) غلطی معاف کر کے۔
نکتہ : یہاں منافقین کو اس طرح ذکر فرمایا گویا کہ انہوں نے برے انجام کا قصد کیا اور تبدیل عہد کر کے اس کا ارادہ کیا جیسا کہ سچے لوگوں نے وفاء عہد سے سچے انجام کا قصد کیا۔…
Read the full tafseer →تفسیر 24 ۔ ، لیجز ی اللہ الصادقین بصدقھم، تاکہ اللہ ان کی سچائی کا بدلہ عطافرمائے یا ان کی سچائی کے سبب ثواب عنایت کرے۔ صدق سے مراد ہے عہد کا پورا کر نا۔ ، ویعذ ب المنا فقین ان شاء اویتوب علیھم ، ان کو اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ہدایت کردے۔ ، ان اللہ کان غفورارحیما،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22‘ 23۔ مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختصر طور پر حضرت انس بن نضر کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے جنگ احد کے ذکر میں اس قصہ کا تذکرہ گزر چکا ہے صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ سے جو اس قصہ کی روایت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے 1 ؎ اس کا حاصل یہ ہے (1 ؎ تیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر زیر تفسیر ہذا) کہ انس بن مالک ؓ کے چچا انس ؓ بن نضر کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکتے تھے اس واسطے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر بدر کی لڑائی کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آوے گا تو یہ بڑی جانبازی سے خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب احد کی لڑائی کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 24
(لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم) ” تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے “ یعنی ان کے اقوال ‘ احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملے میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھذا یوم ینفع الصدقین ط لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا) (المائدۃ : 5/911) ” آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی ‘ ان کے لیے جنتیں ہیں ‘ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ‘ جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ “ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں ‘ مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک و تعالیٰ راست بازوں کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
نذر کو پورا کرنا چاہیے
قول باری (فمنھم من قضی نجہ ۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ) ایک قول کے مطابق نحب کے معنی نذر کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کے سلسلے میں انہوں نے جو نذر مانی تھی وہ نذر انہوں نے پوری کرلی۔ حسن کا قول ہے کہ (قضی نجہ) کے معنی ہیں کہ ان کی موت اسی عہد پر واقع ہوئی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ نجب، موت کو کہتے ہیں اور نجب ایک دن ایک رات تسلسل کے ساتھ چلنے کو بھی کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” انہوں نے اپنا عہد پورا کردیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ نحب کے نقط میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سے عہد اور نذر مراد لی جائے۔…
Read the full tafseer →45 کھرے کھوٹے کی تمیز کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے احزاب کا یہ طوفان کھرے کھوٹے کے درمیان تفریق وتمیز کے لیے اٹھنے دیا تاکہ اس طرح اللہ بدلہ دے سچوں کو اور سزا دے منافقوں کو اگر وہ چاہے۔ شان کرم ملاحظہ ہو کہ سچوں کے سچ کے بارے میں ایک ہی بات ارشاد فرمائی کہ اللہ پاک ان کو ان کے سچ کا بدلہ دے جبکہ منافقوں کے بارے میں عذاب کو حتمی نہیں فرمایا بلکہ ان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا کہ اگر یہ لوگ اب بھی باز آگئے اور انہوں نے صحیح معنوں میں توبہ کرلی تو ان کی توبہ قبول اور گناہ معاف۔ اور اگر نہیں تو ان کو اپنے کئے کا بھگتان بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیات 21 تا 27
اسرارومعارف
اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔
صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا :
صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کی اتنی بی جمعیت مدینہ پر اس لئے حملہ آور ہوئی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کا امتحان لے اور جو لوگ اپنے امتحان میں پہنچے اور پکے ثابت ہوں انہیں ان کی سچائی کا بدلہ دے اور۔۔۔۔ ( قرطبی وغیرہ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(33:24) لیجزی۔ لام تعلیل کا ہے یجزی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے منصوب بوجہ عمل لام۔ جزاء (باب ضرب) تاکہ وہ جزا دے۔ بدلہ دے۔ اس سے قبل وقع جمیع ماوقع (یہ سب کچھ اس لئے وقوع پذیر ہوا) مقدر ہے۔
الدقین : ای الذین صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کردیا۔
بصدقہم۔ باء سببیہ ہے۔ صدقہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا اپنے عہد کو پورا کر دکھانے کا فعل۔
یعذب مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل لام تعلیل۔ تاکہ وہ عذاب دیوے۔
او یتوب علیہم۔ یا ان کو معاف کردے۔ تاب یتوب توبا (باب نصر سے مصدر اگر الیٰ کے صلہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوں گے کہ بندے کا اپنے گناہوں سے روگردانی کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27
اسوۃ : نمونہ
یرجوا : امید رکھتا ہے
تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت
قضی : پورا کرلیا
نحب : منت۔ نذر۔ مدت
غیظ : غصہ
صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ
قذف : ڈال دیا
الرعب : دہشت۔ ہیبت
تاسرون : تم قیدی بناتے ہو
اورث : اس نے مالک بنا دیا
لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27
بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
عہد کے پورا کرنے کا ذکر۔
(ف 1) مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت طلحہ، اور حضرت سعد بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت انس ؓ کے حق کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوسکے تھے انہوں نے نذر کی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ بدر کی لڑائی کے بعد پھر نبی ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آئے گا تو ہم بڑی جانثاری سے اور خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع پیش آیا تو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے سب مسلمانوں کیط رف عذرخواہی کی اور اپنا عہد پورا کرنے کو تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھے ، اور حضرت انس بن نضر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
[25] یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
[26] یعنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 1: ان آیتوں میں پھر نفس مضمون کی طرف براہ راست توجہ مبذول فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے کہ یا تو منافقین کی حالت آپ نے دیکھی ۔ کہ اپنے عہد کو بھی بھلا بیٹھے ۔ اور بدرجہ غایت بزدلی کا اظہار کیا ۔ اور یا یہ مومنین ہیں ۔ کہ عساکر کو دیکھ کر جوش ایمانی سے معمور ہوگئے ۔ اور کہنے لگے ۔ کہ اللہ کی نصرت اور فتح کا وعدہ آن پہنچا ہے ۔ اور اللہ اور رسول ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا ۔ وہ بالکل سچ اور درست ہے ۔ اس میں سرموشک او شبہ کی گنجائش نہیں ۔ ع
بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا
پھر ان میں ایسے بھی تھے ۔ جنہوں نے انس بن نضر کی طرح اپنے عہد کو پورا کیا ۔ اور بڑھ کر جام شہادت نوش فرمایا اور ایسے بھی تھے ۔ جو خلوص…
Read the full tafseer →24۔ یہ واقعہ اس لئے ہوتا کہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ عنایت فرمایئے اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب کرے یاچا ہے تو ان کو توبہ کی توفیق عنایت فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے یعنی کامل مومنوں نے اپنی بات پوری کر دکھائی ۔ جیسے انس بن نضر ؓ اور انکے رفقاء اور جن لوگوں نے عہد نہیں کیا تھا وہ بھی ثابت قدم رہے یہ مطلب نہیں کہ عہد والوں نے تو سچائی دکھائی اور عہد نہ کرنے والوں نے ثابت قدمی نہیں دکھائی اور معاذ اللہ منافوں کی طرح عہد شکنی کے مرتکب ہوئے ، پھر فرمایا ان عہد کرنیوالوں کی دو قسمیں ہیں کچھ تو اپنی منت اور اپنا ذمہ پورا کرچکے ہیں یعنی انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 6۔ یہ تقسیم اس بناء پر ہے کہ بعض نے عہد ہی نہیں کیا تھا اور بلا عہد ثابت قدم رہے۔ اور مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر اور ان کے رفقاء ہیں جو حضرات اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جاوے گی، مطلب یہ تھا کہ منہ نہ موڑیں گے گو مارے جاویں۔
Read the full tafseer →سچوں کو سچائی کا اجر ملے گا اور منافقوں کو نفاق کی چاہے تو اللہ سزا دے
24 ۔ قرآن کریم نے صحابہ کرام کو { الصادقین } کہا ہے اور ظاہر ہے کہ صادف سچے ہی کو کہا جاتا ہے مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ صدق محض سچائی اور مطابق حقیقت قولی ہی کو نہیں کہتے بلکہ اس کا اطلاق صرف اس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خودبھی سچا ہو اور جس کا قائل بھی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو جیسے وہ زبان سے کہہ رہا ہے مثلاً ایک شخص اگر یہ کہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو یہ بات بجائے خود عین حقیقت کے مطابق ہے کیونکہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن وہ شخص اپنے اس قول میں صادق صرف اسی وقت کہا جائے گا جب کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
39 That is, "Someone has already offered his life in the way of Allah, and someone is awaiting the time when he will offer it for the sake of his Faith. "
Read the full tafseer →