Al-Ahzaab 33:25

Al-Ahzaab · from ayah 25

33:25

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا ؕ— وَكَفَی اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًا ۟ۚوَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا‌ ؕ وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا

اور جو کافر تھے اُن کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah repelled those who disbelieved, in their rage, not having obtained any good. And sufficient was Allah for the believers in battle, and ever is Allah Powerful and Exalted in Might.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:25

اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کافر تھے اُن کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی اور اللہ زبردست عزت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ نے کافروں کو ان کے غصّہ کی جلن کے ساتھ (مدینہ سے نامراد) واپس لوٹا دیا کہ وہ کوئی کامیابی نہ پا سکے، اور اﷲ ایمان والوں کے لئے جنگِ (احزاب) میں کافی ہوگیا، اور اﷲ بڑی قوت والا عزت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، انھوں نے کوئی بھلائی حاصل نہ کی اور اللہ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بےحد قوت والا، سب پر غالب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کفار (کے لشکروں) کو اللہ تعالیٰ نے بےنیل ومرام اپنے دلوں کی جلن دلوں میں ہی لئے واپس لوٹا دیا اور لڑائی کے لئے مومنوں کی طرف سے اللہ ہی کافی ہوگیا وہ یقینا بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصہ کے ساتھ، بالکل بےنیل مرام، پسپا کردیا اور جنگ کے لئے اللہ مسلمانوں کی طرف سے خود کافی ہوگیا اور اللہ قوی و غالب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ نے لوٹا دیا ان کافروں کو (اپنی قدرت و حکمت سے) ان کے غیظ (و غضب) کے ساتھ (اور اس طرح کہ) وہ کچھ بھی خیر نہ پا سکے اور کافی ہوگیا اللہ ایمان والوں کو اس لڑائی میں اور اللہ بڑا ہی قوت والا انتہائی زبردست ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ نے کافروں کو اس غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ ان کے کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اور جنگ میں اللہ اہل ایمان کے لئے کافی ہوگیا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا قوت والا بڑا زبردست۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔ } اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا سب پر غالب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو کافر تھے ان کو اللہ نے پھیر دیا وہ اتنے غصہ میں بھرے ہوئے تھے کہ کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے اعتبار سے کافی ہے، اللہ طاقتور اور زبردست ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah sent back the unbelievers empty-handed, their hearts seething with rage. Allah sufficed the believers in their fight. Allah is Most Powerful, Most Mighty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has turned back the disbelievers with all their rage, having achieved no good; and Allah sufficed the believers against fighting. And Allah is Powerful, Mighty.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has turned back the disbelievers with all their rage, having achieved no good; and Allah sufficed the believers against fighting. And Allah is Powerful, Mighty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah drove back those who disbelieved in their rage: they gained no advantage. Allah sufficed for the believers in the fighting. And Allah is Ever All-Strong, All-Mighty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah repulsed the disbelievers in their wrath; they gained no good. Allah averted their attack from the believers. Allah is ever Strong, Mighty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah repelled those who disbelieved, in their rage, not having obtained any good. And sufficient was Allah for the believers in battle, and ever is Allah Powerful and Exalted in Might.

— Saheeh International

God repelled the unbelievers in their rage. They could not achieve anything good. God rendered sufficient support to the believers in fighting. God is All-powerful and Majestic.

— Muhammad Sarwar

And Allah turned back the unbelievers in their rage; they did not obtain any advantage, and Allah sufficed the believers in fighting; and Allah is Strong, Mighty.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah drave baCk those who disbelieved in their rage; they obtained no advantage, and Allah sufficed for the believers in the fighting; and Allah is ever Strong, Mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

And Allah turned back the Unbelievers for (all) their fury: no advantage did they gain; and enough is Allah for the believers in their fight. And Allah is full of Strength, able to enforce His Will.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ عزوجل کفار سے خود نپٹے اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے طوفان باد و باراں بھیج کر اور اپنے نہ نظر آنے والے لشکر اتار کر کافروں کی کمر توڑی دی اور انہیں سخت مایوسی اور نامرادی کیساتھ محاصرہ ہٹانا پڑا۔ بلکہ اگر رحمۃ اللعالمین کی امت میں یہ نہ ہوتے تو یہ ہوائیں ان کے ساتھ وہی کرتیں جو عادیوں کے ساتھ اس بےبرکت ہوا نے کیا تھا۔ چونکہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ تو جب تک ان میں ہے اللہ انہیں عام عذاب نہیں کرے گا لہذا انہیں صرف ان کی شرارت کا مزہ چکھا دیا۔ ان کے مجمع کو منتشر کرکے ان پر سے اپنا عذاب ہٹالیا۔ چونکہ ان کا یہ اجتماع محض ہوائے نفسانی تھا اس لئے ہوا نے ہی انہیں پراگندہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة الْاَحْزَاب 39 یعنی کوئی اللہ کی راہ میں جان دے چکا ہے اور کوئی اس کے لیے تیار ہے کہ وقت آئے تو اس کے دین کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–27

دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا ط وکفی اللہ المومنین القتال وکان اللہ قویا عزیزا (25) ’ الذین کفروا ‘ سے مراد احزاب کے شرکاء ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ غصہ اور بغض وعناد سے بھرے ہوئے آئے تھے کہ مسلمانوں کو کچا ہی کھا جائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے غصہ کے ساتھ ہی ان کو پسپا کردیا، وہ اس کا کوئی حصہ بھی نکال نہ سکے۔ ’ لم ینالوا خیرا ‘ یعنی ان کے منصوبے تو بڑے بڑے تھے لیکن ان کے کسی منصوبے میں ان کو ذرا بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ ’ وکفی اللہ المومنین القتال ‘۔ یعنی دشمنوں کے اس خطرناک حملہ کے دفاع کے لئے مسلمانوں کو خود کوئی لڑائی نہیں لڑنی پڑی بلکہ ان کی طرف سے لڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–26

25-1یعنی مشرک جو مختلف طرفوں سے جمع ہو کر آئے تھے تاکہ مسلمانوں کا نشان مٹا دیں۔ اللہ نے انھیں اپنے غیظ و غضب سمیت واپس لوٹا دیا۔ نہ دنیا کا مال متاع ان کے ہاتھ لگا اور نہ آخرت میں ہی اجر وثواب کے مستحق ہوں گے، کسی بھی قسم کی خیر انھیں حاصل نہیں ہوئی۔ 25-2یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اسلئے نبی نے فرمایا (لَا اِلَہَ اَلَّا للّٰہُ وَحْدَہُ ، صَدَقَ وَعْدَۃُ ، نَصَرَ عَبْدَہُ ، وَ اَعَزَّ جُنْدَہُ ، وَحَزَمَ الاَّحْزَابَ وَحْدَہَ ، فَلَا شَیْءٍ بَعْدَ ہُ) (صحیح بخاری) ' ' ایک…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ورد اللہ الذین ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ قویا عزیزا (25) ” “۔ اس معرکے کا آغاز ہوا۔ یہ آگے بڑھا۔ اپنے انجام تک پہنچا لیکن پورے دور میں اس کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں۔ جس طرح اللہ چاہتا تھا ، واقعات کا رخ موڑ دیتا تھا۔ قرآن کریم اپنے انداز تعبیر کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بھی واقعات ہوئے ، وہ اللہ نے کرائے اور یہ بات اچھی طرح اہل ایمان کے دلوں میں بٹھا دی گئی۔ یوں اسلامی تصور حیات کو واضح کردیا گیا۔ اب اس لشکر کشی کا وبال صرف مشرکین قریش ، اور غطفان پر ہی نہ پڑا بلکہ مشرکین کے حلفاء بنی قریظہ بھی اس کی زد میں آگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی کفار کا لشکر ذلت و ناکامی سے پیچ وتاب کھاتا اور غصہ سے دانت پیستا ہوا میدان چھوڑ کر واپس ہوا، نہ فتح ملی نہ کچھ سامان ہاتھ آیا۔ ہاں عمرو بن عبدود جیسا ان کا نامور سوار جسے لوگ ایک ہزار سواروں کے برابر گنتے تھے اس لڑائی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ سے کھیت رہا۔ مشرکین نے درخواست کی کہ دس ہزار لے کر اس کی لاش ہمیں دے دی جائے۔ آپ نے فرمایا وہ تم لے جاؤ، ہم مردوں کا ثمن کھانے والے نہیں۔ 3 یعنی مسلمانوں کو عام لڑائی لڑنے کی نوبت نہ آنے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر وہ اثر پیدا کردیا کہ کفار از خود سراسیمہ اور پریشان حال ہو کر بھاگ گئے۔ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 { وَرَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِہِمْ } ”اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی“ کفارو مشرکین بہت بڑا لشکر اکٹھا کر کے فتح کے زعم میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام و نامراد پسپا کردیا۔ نہ تو جنگ کی نوبت آئی اور نہ ہی وہ اپنا ہدف حاصل کرسکے۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف غصے کی جو آگ بھڑک رہی تھی اسے بھی ٹھنڈا کرنے کا انہیں موقع نہ ملا اور اپنے غیظ و غضب سمیت ہی انہیں بےنیل ِمرام واپس جانا پڑا۔ { لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا } ”وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔“ اس مہم میں انہیں ناکامی و حسرت کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ نہ تو وہ کسی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 عبد ودّ کی لاش کا عوضانہ :۔ یعنی اتحادیوں کا لشکر نہایت ذلت، ناکامی اور غصہ سے پیچ و تاب کھاتا ہوا بےنیل و مرام میدان چھوڑ کر واپسی پر مجبور ہوگیا اور مسلمانوں کے لئے اپنا بہت سامان چھوڑ گیا۔ اسی جنگ میں عمرو بن عبدودّ نے، جو ایک ہزار سواروں پر بھاری سمجھا جاتا تھا، مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی اور سیدنا علی اس کے مقابلے میں اترے اور اس کا کام تمام کردیا۔ مشرکوں نے درخواست کی کہ دس ہزار درہم کے عوض اس کی لاش انھیں دے دی جائے۔ آپ نے انھیں فرمایا : لاش تم مفت ہی لے جاو ہم مردوں کی قیمت نہیں کھایا کرتے۔ 35 حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو کیسے بد عہدی پر آمادہ کیا ؟ اللہ تعالیٰ نے عام لڑائی کی نوبت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ (اور انہیں محاصرۂ مدینہ سے ناکام، ناشاد، نامراد واپس جانا پڑا) (آیت) ” خیرا “۔ یعنی جو بھلائی ان کے خیال کے مطابق ہے۔ مراد فتح و کامیابی سے۔ اے ظفرا وسماہ خیرا بزعمھم (مدارک) 49۔ (کہ بغیر کسی بڑی لڑائی کے انہیں نجات دلادی) محمد بن عبداللہ (روحی فداہ) جس طرح حالت امن میں بہترین مدبر وبہترین منتظم تھے، اسی طرح حالت جنگ میں بہترین جنرل بھی تھے، ترتیب صفوف، مورچہ بندی وغیرہ تمام مسائل فن حرب میں بےمثال بصیرت رکھنے والے، لیکن باوجود اس سب کے قرآن مجید آپ ﷺ کے لشکروں کی فتح وظفر کو آپ ﷺ کے کمالات سپہ سالاری کی جانب نہیں، بلکہ اپنی ہی قدرت و حکمت کی جانب منسوب کرتا رہتا ہے۔ اور قرآن کا مقصود ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ورد اللہ الذین کفر بغیظھم . اللہ نے کفار (قریش و غطفان) کو غصہ میں بھرا ہوا لوٹا دیا۔ الذین کفروا سے مراد ہیں کفار قریش و بنی غطفان ‘ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے اس لئے غصہ میں بھرے ہوئے لوٹ گئے۔ لم ینالوا خیرا . انہوں نے کوئی بھلائی نہیں پائی۔ یعنی نہ فتح ملی ‘ نہ مال۔ وکفی اللہ المومنین القتال اور (ہوائی طوفان و ملائکہ کو بھیج کر) اللہ نے مؤمنین کی جنگ میں پوری پوری مدد کی۔ وکان اللہ قویا عزیزا اور اللہ ہے قوی ‘ غالب۔ یعنی اللہ کا اقتدار قوی ہے۔ وہ اپنے ملک میں جیسا چاہتا ہے کرتا ہے اور (نافرمانوں سے) انتقام لینے میں غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ یعنی ابو سفیان اور اس کے لشکروں کو غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ ان کی کچھ بھی مراد پوری نہ ہوئی اور نہ ان کو غنیمت اور خوشی حاصل ہوئی۔ اور آندھی اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے لڑائی کی مشقت کو دور کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرمانے میں بڑی قوت والا اور کفار کو سزا دینے میں زبردست ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا : ان آیات میں غزوۂ احزاب کا انجام بیان فرمایا کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینے کے جس ارادے سے آئے تھے اس میں انھیں کوئی کامیابی نہ ہوئی، نہ مسلمانوں کو مٹا سکے، نہ مدینہ فتح ہوا اور نہ مال غنیمت یا اسیر حاصل کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں دل کی جلن اور غصے سے بھرے ہونے کی حالت میں کوئی بھی فائدہ حاصل کیے بغیر واپس لوٹا دیا۔ وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ : یعنی مسلمانوں کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے لڑائی اپنے ذمے لے لی اور آندھی اور فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ کفار کے لشکروں کو مار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

محمد بن عمرو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ یہاں آیت الذین کفرو سے مراد ابو سفیان اور عیینہ بن بدر ہے، ابو سفیان تہامہ کی طرف اور عیینہ نجد کی طرف لوٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لشکروں پر ہوا اور لشکروں کو بھیجا یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اور بنو قریظہ اپنے قلعوں کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ قریظہ پر رعب ڈالنے کے ساتھ کافی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا امر قوی ہے اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورد اللہ الذین کفرو بغیظہم اور اللہ تعالیٰ نے کفار کو غصہ سے بھرا لوٹا دیا یعنی کافروں کے لشکروں کو۔ 2 ا۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ورد اللہ الذین کفروا بغیظہم یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو غصہ کے ساتھ لوٹادیا آیت لم ینالوا خیرا کہ انہوں نے محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ پر فتح کو نہیں پایا آیت وکفی اللہ المومنین القتال اور اللہ تعالیٰ کافی ہے یعنی بغیر جنگ کے ہوا کے ساتھ شکست کھا گئے۔ 13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکفی اللہ المومنین القتال سے مراد ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَرَدَّ اللّٰهُ [واپس کردیا اللہ نے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ] بِغَيْظِهِمْ [ان کے غیظ و غضب کے ساتھ ] لَمْ يَنَالُوْا [انہوں نے حاصل نہیں کی ] خَيْرًا ۭ [کوئی بھلائی ] وَكَفَى اللّٰهُ [اور کافی رہا اللہ ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کو ] الْقِتَالَ ۭ [جنگ میں ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] قَوِيًّا [قوت والا ] [عَزِيْزًا :[بالادست ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ رَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ ) (کہ کافر لوگ جو غصے میں بھرے ہوئے مدینہ منورہ پر چڑھ کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں واپس لوٹا دیا) (لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا) (انہیں کوئی بھی خبر نہ ملی) یعنی جس فتح یابی کی امید پر غصہ میں بھرے ہوئے آئے تھے اس میں سے کچھ بھی نہ ملا اور ناکام و نامراد واپس ہوئے (وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ) (اور قتال کی جانب سے اللہ مومنین کے لیے کافی ہوگیا) یعنی مومنین کو جنگ نہ کرنی پڑی، اللہ تعالیٰ نے سخت تیز ٹھنڈی ہوا بھیج دی جس کی جہ سے دشمن بھاگ گئے اور مومنین صحیح سالم شہر مدینہ میں داخل ہوگئے۔ (وَکَان اللّٰہُ قَوِیًّا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–27

32:۔ ورد اللہ الِ اس میں غزوہ احزاب میں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی فتح و ظفر اور انعامات خداوندی کی تفصیل مذکور ہے جن کا فارسلنا علیہم ریحا الخ، میں اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ تفصیل لتتمۃ النعمۃ المشار الیہا اجمالا بقولہ تعالیٰ (فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروھا) (روح ج 21 ص 174) ۔ یہاں پانچ انعامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ورد اللہ الِ اللہ تعالیٰ نے کفار کی فوجوں کو بےنیل مرام، شکست خوردہ اور غیظ و غضب کی آگ میں سوزاں و بریان واپس کردیا۔ جس سے مسلمانوں کو انتہائی خوشی ہوئی لیکن کفار و مشرکین حسد اور بغض میں جل بھن گئے اور حسرت و پشیمان سے سرنگوں ہوگئے۔ دوم وکفی اللہ الخ، اللہ تعالیٰ نے مومنوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔ اسوہ حسنہ پہلے نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَرَدَّ اللہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِہِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا۝ 0 ۭ وَكَفَى اللہُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ قَوِيًّا عَزِيْزًا۝ 2 رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ورد اللہ الذین کفروا یہاں سے اپنی عنایت اور فضل کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کافروں کو غصہ میں بھرا ہوا ردکر دیا، ہزیمت دے کر ان کو فائدہ نہ پہنچا، سب نوک دم بھاگے اور اللہ آپ اس جنگ کا کارساز ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَرَدَّاللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا ط وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ط وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔ (الاحزاب : 25) (اللہ نے کافروں کو لوٹا دیا ان کے غصہ کے ساتھ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اور اللہ قوی اور غالب ہے۔ ) مسلمانوں کے ایمان و استقامت کا انعام مسلمانوں کے مستحکم ایمان، اتباعِ رسول، راہ حق میں جانثاری اور فداکاری اور توکل علی اللہ کا صلہ اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ دشمن کا لشکرعظیم جو مختلف احزاب پر مشتمل تھا اور جو نہایت ناپاک ارادوں کے ساتھ غیظ و غضب میں جلتا ہواحملہ آور ہوا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : رسول معظم ﷺ کے اسوہ کی اہمیت اور صحابہ کرام ] کا کردار بیان کرنے کے بعد احزاب میں شریک ہونے والے کفار کی ہزیمت کا ذکر۔ کفار، یہود اور ان کے حلیف اس نیت کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے کہ مدینہ کی ننھی منی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ اور مسلمانوں کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ اس کے لیے انہوں نے مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ بھی ساز باز کرلی۔ اہل مکہ نے تقریباً ایک مہینہ تک مدینہ کا محاصرہ کیے رکھا اور باربارخندق عبور کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔ اس کے باوجود انہوں نے مسلمانوں پر اس قدر دباؤ قائم رکھا کہ ایک دن نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کی شکست : 25: وَرَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو واپس کردیا) کافروں سے یہاں لشکر مراد ہے۔ بِغَیْظِھِمْ ـ(ان کے غصہ سمیت ) ۔ نحو : یہ حال ہے ای مغیظین جیسا کہ اس ارشاد میں تنبت بالدھن ] المؤمنون : 20[ میں ہے۔ لَمْ یَنَا لُوْا خَیْرًا (ان کو کچھ بھی کامیابی نہ ملی) خیر سے یہاں غلبہ مراد ہے۔ یعنی مسلمانوں پر غلبہ نہ پاسکے۔ اس کو ان کے زعم کے مطابق خیر فرمایا۔ نحو : یہ حال ہے ای غیر ظافرین اس حال میں کہ وہ کامیاب ہونے والے نہ تھے۔ وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ (اور اللہ تعالیٰ مؤمنین کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا) ہوا اور ملائکہ کے ذریعہوَکَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25، ورد اللہ الذین کفروا، اس سے مراد قریش اور غطفان ہیں ۔ ، بغیظھم ، جوان لوگوں کا ارادہ تھا وہ پورا نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنے سینوں میں غصے سے بھرے ہوئے واپس لوٹ آئے۔ ، لم ینا لو اخیرا، ان میں کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ ، وکفی اللہ المؤمنین القتال ، فرشتے اور ہوا، وکان اللہ قویا عزیزا، اس کی بادشاہت قوی ہے اور نافرمانوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–27

25 تا 27۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا زبردست ہے کہ اپنے مخالفوں کے اتنے بڑے لشکر کو فقط ہوا سے پریشان کر کے ان کے غصہ میں اس طرح انہیں الٹا پھرایا کہ نہ پہنچے وہ کسی بھلائی کو اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مال غنیمت وغیرہ کچھ ان کے ہاتھ نہ لگا اور کافی ہوا اللہ ایمان والوں کو لڑائی سے مطلب یہ کہ مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی فقط اللہ ہی کافی ہوا جو اس نے کافروں پر ہوا بھیج کر ان کو پریشان کردیا پھر فرمایا “ اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مشرکین مکہ کو مدد دی تھی ان کی گڑھیوں سے اور ڈال ان کے دلوں میں دہشت ایک فریق کو تم نے قتل کیا اور ایک کو قید “ کتاب والے اس لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 25 (و رد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا) ” اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انہوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انہیں وہ چیز حاصل نہ ہوسکی جس کے وہ سخت حریص تھے ‘ وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے ‘ اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے ‘ ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا ‘ ان کی جتھے بندوں نے ان کو خود پسندی میں مبتلا کردیا تھا انہیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–25

نذر کو پورا کرنا چاہیے قول باری (فمنھم من قضی نجہ ۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ) ایک قول کے مطابق نحب کے معنی نذر کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کے سلسلے میں انہوں نے جو نذر مانی تھی وہ نذر انہوں نے پوری کرلی۔ حسن کا قول ہے کہ (قضی نجہ) کے معنی ہیں کہ ان کی موت اسی عہد پر واقع ہوئی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نجب، موت کو کہتے ہیں اور نجب ایک دن ایک رات تسلسل کے ساتھ چلنے کو بھی کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” انہوں نے اپنا عہد پورا کردیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ نحب کے نقط میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سے عہد اور نذر مراد لی جائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 ایمان والوں کو اللہ کافی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اللہ کافی ہوگیا ایمان والوں کو اس لڑائی میں "۔ پس غلبہ و کامیابی اسی کے لئے ہے جس کے ساتھ اللہ پاک کی تائید و نصرت شامل ہو۔ اس لئے تم اللہ والے بن جاؤ تمہارے سب کام خود بن جائیں گے۔ کاش کہ یہ نسخہ آج کے مسلمان کو سوجھ جاتا تو اس کی حالت وہ نہ ہوتی جس سے وہ آج یہاں اور وہاں ہر جگہ دو چار ہے۔ سب کچھ موجود ہونے کے باوجود اور ہر طرح کے مادی وسائل و ذرائع سے بہرہ ور ہونے کے با وصف وہ اپنے اس مرتبہ و مقام سے محروم ہے جس کا وہ حقدار ہے۔ اور خرابیوں کی خرابی اور ناکامیوں کی اساس اور جڑ بنیاد یہی ہے کہ آج کا مسلمان وہ مسلمان نہیں جو کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

آیات 21 تا 27 اسرارومعارف اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔ صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا : صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو طاقت کو کچلنے کے جس ارادہ سے آئے تھے اس میں انہیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی بلکہ نا کام و بےمراد ہو کر واپس ہونا پڑا۔2 یعنی ایک طرف تو نعیم ؓ بن مسعود کی تدبیر سے کفار کے تین گروہوں ( قریش، غطفان اور بنو قریظہ) میں پھوٹ پڑگئی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی اور فرشتے بھیج کر ان کے دلوں پر رعب طاری کردیا۔ بالآخر ایک ماہ محاصرہ جاری رکھنے کے بعد بد حواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مفصل واقعہ ابن ہشام (ج 2، ص 229) میں دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:25) رد ماضی واحد مذکر غائب رد (باب نصر) اس نے پھیر دیا۔ اس نے لوٹا دیا۔ اس نے واپس کردیا۔ پسپا کردیا۔ (یہاں معنی ہیں نامراد پسپا کر دئیے اللہ تعالیٰ نے) بغیظھم۔ باء مصاحبت و ملابست کی ہے بمعنی مع غیظھم مضاف مضاف الیہ غیظ ھو اشد الغضب۔ سخت غصہ ، وہ گرمی جو انتہائی غضب کے وقت دل میں محسوس ہوتی ہے۔ بغیضہم۔ اسم موصول الذین سے حال ہے۔ لم ینالوا۔ مضارع نفی جحد بلم نیل مصدر باب سمع۔ وہ نہ پاسکے۔ خیرا بھلائی۔ مراد فتح و کامیابی۔ خیرا مال بھی ہوسکتا ہے جیسا قرآن مجید میں ہے وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے) ۔ ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا : اور اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27 اسوۃ : نمونہ یرجوا : امید رکھتا ہے تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت قضی : پورا کرلیا نحب : منت۔ نذر۔ مدت غیظ : غصہ صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ قذف : ڈال دیا الرعب : دہشت۔ ہیبت تاسرون : تم قیدی بناتے ہو اورث : اس نے مالک بنا دیا لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) بنی قریظہ نے نبی ﷺ کے مقابل قریش وغطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی اس میں عروہ بنی قریظہ کا بیان ہے۔ یہ اخیر ذی قعدہ 4، ہجری یا 5 میں ہوا۔ جب غزوہ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوچکا ہے اس شب کی صبح کو نبی ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیے، اس روز ظہر کے وقت جب نبی ﷺ کا سر مبارک دھویاجارہا تھا جبرائیل امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے ہتھیار رکھ دیے فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو بنی قریظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ۔ نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ ندا کردی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–26

[25] یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ [26] یعنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–25

ف 1: ان آیتوں میں پھر نفس مضمون کی طرف براہ راست توجہ مبذول فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے کہ یا تو منافقین کی حالت آپ نے دیکھی ۔ کہ اپنے عہد کو بھی بھلا بیٹھے ۔ اور بدرجہ غایت بزدلی کا اظہار کیا ۔ اور یا یہ مومنین ہیں ۔ کہ عساکر کو دیکھ کر جوش ایمانی سے معمور ہوگئے ۔ اور کہنے لگے ۔ کہ اللہ کی نصرت اور فتح کا وعدہ آن پہنچا ہے ۔ اور اللہ اور رسول ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا ۔ وہ بالکل سچ اور درست ہے ۔ اس میں سرموشک او شبہ کی گنجائش نہیں ۔ ع بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا پھر ان میں ایسے بھی تھے ۔ جنہوں نے انس بن نضر کی طرح اپنے عہد کو پورا کیا ۔ اور بڑھ کر جام شہادت نوش فرمایا اور ایسے بھی تھے ۔ جو خلوص…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25۔ اور اللہ تعالیٰ نے دین حق کے منکروں کو ان کے غصے میں بھرا ہوا اور ان کی غضب آلود حالت میں پھر دیا اور واپس کردیا ان کی یہ حالت ہوئی کہ وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کرسکے اور ان کی کچھ مراد بھی پوری نہیں ہوئی اور جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے خود ہی کافی ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی لڑائی آپ ہی اٹھا لی اور اللہ تعالیٰ بڑا قوی بڑی قوت کا مالک اور زبردست ہے۔ یعنی کافروں کو غصے میں بھرا ہوا لوٹا دیا کہ انہوں نے کوئی بھلائی حاصل نہیں کی اور بےنیل مرام واپس ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جنگ اپنے ذمہ اوٹ لی یعنی خود ہی کافی ہوگیا اور بغیر کسی بڑی لڑائی کے کفار کو ہزیمت ہوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 7۔ یعنی کفار کو قتال متعارف کی نوبت بھی نہ آئی کہ پہلے ہی دفع ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شان خداوندی کہ اس نے کافروں کو اپنا سا منہ لے کر پھرنے پر مجبور کردیا 25 ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی پر غور کرو کہ کافر کتنے طمطراق سے اتراتے ہوئے آئے اور ایک مدت تک انہوں نے مدینۃ النبی کا محاصرہ رکھا اور ایک ماہ کی مدت تک وہ اپنے غیظ و غضب اور جوش انتقام میں برابر جلتے رہے اور جو حربہ وہ استعمال کرسکتے تھے وہ انہوں نے استعمال کیا اور انجام کار اس غصہ میں بھرے بھرائے واپس پھرنے پر مجبور ہوگئے اور اپنے دل کی جلن اپنے ہی سینوں میں لے کر بےنیل ومرام بغیر کوئی فائدہ اٹھائے جو رسد وہ ساتھ لائے تھے اس جگہ کھا پی لینے کے بعد اس آندھی کا مقابلہ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور اہل ایمان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–27

The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

39 That is, "Someone has already offered his life in the way of Allah, and someone is awaiting the time when he will offer it for the sake of his Faith. "

Read the full tafseer →