Explained with ayahs 26–27
کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا۔
اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے حضور ﷺ کا عہد و پیمان ہوچکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بیوفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کردیا پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور انکے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کرلیں یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الْاَحْزَاب 40
یعنی یہود بنی قریظہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وانزل الذین ظھروھم من اھل الکتب من صیا صیھم وقذف فی قلوبھم الوعب فریقا یقتلون وتاسرون فریقا وارثکم ومنھم ودیارھم واموالھم و ارضا چم تطوھا ط وکان اللہ علی کل شئی قدیرا (26۔ 27)
یہ بنو قریضہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ معاہدہ امن و صلح کر رکھا تھا لیکن جب احزاب نے اپنی مجتمع قوت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کیا کہ ان کو ہمیشہ کے لئے جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیں تو انہوں نے بھی معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر احزاب کا ساتھ دیا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشہور یہودی لیڈر حی بن اخطب نضری بنو قریضہ کے سردار کعب بن اسد سے ملا اور اس کو ساتھ دینے کے لئے اس نے ابھارا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25-1یعنی مشرک جو مختلف طرفوں سے جمع ہو کر آئے تھے تاکہ مسلمانوں کا نشان مٹا دیں۔ اللہ نے انھیں اپنے غیظ و غضب سمیت واپس لوٹا دیا۔ نہ دنیا کا مال متاع ان کے ہاتھ لگا اور نہ آخرت میں ہی اجر وثواب کے مستحق ہوں گے، کسی بھی قسم کی خیر انھیں حاصل نہیں ہوئی۔
25-2یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اسلئے نبی نے فرمایا (لَا اِلَہَ اَلَّا للّٰہُ وَحْدَہُ ، صَدَقَ وَعْدَۃُ ، نَصَرَ عَبْدَہُ ، وَ اَعَزَّ جُنْدَہُ ، وَحَزَمَ الاَّحْزَابَ وَحْدَہَ ، فَلَا شَیْءٍ بَعْدَ ہُ) (صحیح بخاری)
' ' ایک…
Read the full tafseer →21: اس سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ یہ یہودیوں کا قبیلہ تھا، اور اس نے آنحضرت ﷺ سے معاہدہ کیا ہوا تھا۔ لیکن جنگ احزاب کے موقع پر عہد شکنی کر کے حملہ آوروں سے ساز باز کی، اور مسلمانوں کی پشت سے خنجر گھونپنے کا منصوبہ بنایا۔ اس لیے جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ان پر حملہ کیا، یہ لوگ اپنے قلعے میں محصور ہوگئے، ایک مہینے تک محاصرہ جاری رہا۔ اور آخر کار یہ اپنے قلعے سے اتر آئے، اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا۔ حضرت سعد بن معاذ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کیا جائے، اور عورتوں اور نابالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27)
بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔
بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن…
Read the full tafseer →4 یہ یہود " بنی قریظہ " ہیں۔ مدینہ کے شرقی جانب ان کا مضبوط قلعہ تھا اور پہلے سے مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کئے ہوئے تھے۔ جنگ احزاب کے موقع پر حیی ابن اخطب کے اغواء سے تمام معاہدات بالائے طاق رکھ کر مشرکین کی مدد پر کھڑے ہوگئے۔ ان میں سے بعض نے مسلمان عورتوں پر بزدلانہ حملہ کرنا چاہا جس کا جواب حضرت صفیہ ؓ نے بڑی بہادری سے دیا۔ جب کفار قریش وغبرہ عاجز ہو کر چلے گئے تو " بنو قریظہ " اپنے مضبوط قلعوں میں جا گھسے۔ نبی کریم ﷺ جنگ احزاب سے فارغ ہو کر غسل وغیرہ میں مشغول تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے۔ چہرہ پر غبار کا اثر تھا فرمایا۔ یا رسول اللہ ! آپ نے ہتھیار اتار دیے حالانکہ فرشتے ہنوز…
Read the full tafseer →آیت 26 { وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاہَرُوْہُمْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْہِمْ } ”اور اللہ نے اتار لیا
اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان مشرکین کی مدد کی تھی ‘ ان کے قلعوں سے“
بنو قریظہ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بد عہدی کر کے حملہ آور قبائل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا تھا۔ چناچہ اللہ کی مشیت کے مطابق انہیں اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے نکل کر مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔
{ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } ”اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا“
{ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا } ”تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
36 یہ یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلاوطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قیبلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنو نضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو بنونضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لئے آیا ہے۔ لہذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا : کعب ! میں…
Read the full tafseer →51۔ ان اہل کتاب سے مراد یہود بنی قریظہ ہیں، جو حوالی مدینہ میں اپنے بڑے بڑے مضبوط ومستحکم قلعوں اور گڑھیوں میں قلعہ بند رہا کرتے تھے۔ اور اس وقت تک مسلمانوں سے معاہدہ کیے ہوئے ان کے حلیف تھے۔ بعد کو عہد شکنی کرکے قتل واسارت دونوں کے مستحق قرار پائے۔ (آیت) ” صیاصیھم “۔ یعنی ان کے مایہ ناز مضبوب قلعے اور گڑھیاں۔ قیل فی الصیاصی انھا الحصون التی کانوا یمتنون بھا (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…
Read the full tafseer →وانزل الذین ظاہروھم من اھل الکتب من صیاصیھم . اور جن اہل کتاب (یعنی بنی قریظہ) نے
ان کی (یعنی قریش وغطفان کی جماعتوں کی) پشت پناہی کی تھی ‘ ان کو ان کی گڑھیوں (اور قلعوں) سے نیچے اتار لایا۔
صَیَاصِی، صِیْصَۃٌکی جمع ہے۔ صیصۃ گڑھی ‘ قلعہ ‘ مکان حفاظت ‘ بیل اور ہرن کے سینگ ‘ مرغ کا کانٹا اور جولا ہے کا تانا ٹھیک کرنے کا اوزار ‘ ان سب کو اسی مناسب سے صیصۃ کہا جاتا ہے۔
وقذف فی قلوبھم الرعب فریقا تقتلون وتاسرون فریقا . اور ان کے دلوں میں (مسلمانوں کا) رعب ڈال دیا ‘ چناچہ ان کے ایک فریق کو تم قتل کر رہے تھے اور ایک فریق کو قید کر رہے تھے۔ یعنی مردوں کو قتل کر رہے تھے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر…
Read the full tafseer →اور بنو قریظہ اور نضیر بن کعب بن اشرف اور حی بن اخطب وغیرہ نے جو کفار مکہ کی مدد کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان سب اہل کتاب کو ان کے قلعوں اور محلوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کا خوف بٹھا دیا۔
اس سے پہلے یہ لوگ صحابہ کرام سے ڈرتے نہ تھے بلکہ ان سے لڑنے پر آمادہ رہتے تھے اور ان کے لڑاکا لوگوں کو تم قتل کرنے لگے اور بچوں اور عورتوں کو قید کرلیا۔
Read the full tafseer →وَاَنْزَلَ الَّذِيْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ : ”صَیَاصِيْ“ ”صِیْصِیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ جولا ہے کا تانے اور بانے کے دھاگوں کو سیدھا کرنے والا آلہ، مُرغ کا کانٹا جو اس کی ٹانگ کے ایک طرف نکلا ہوتا ہے، گائے اور ہرن وغیرہ کا سینگ، قلعہ اور ہر وہ چیز جس کے ساتھ کوئی اپنا دفاع اور حفاظت کرتا ہے۔ (قاموس) قریش، بنو غطفان اور ان کے ساتھ آنے والوں کے واپس جانے کے ساتھ ہی معرکۂ احزاب ختم ہوگیا، مگر بنو قریظہ کے ساتھ معرکہ ختم نہیں ہوا، جنھوں نے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا تھا۔ جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ باہر سے آنے والے حملہ آور کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت وانزل الذین ظاھروھم من اھل الکتاب من صیاصیھم یہاں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے لشکروں کی مدد کی، لشکروں سے مراد قریش اور غطفان ہیں یہ بنو قریظہ تھے۔ ان کا وقعہ گزرچکا ہے۔ آیت من صیاصیھم ان کے قلعوں میں ؛ اس کا واحد صیصہ ہے۔ شاعر نے کہا :
فاصبحت الثیران صرعی واصبحت نسائتمیمیبتدرن الصیاصیا (1)
بیل مردہ پڑے تھے اور تمیم قبیلہ کی عورتیں قلعوں کی طرف جلدی جلدی جا رہی تھیں۔
ان سے یہ بھی مروی ہے کہ جولا ہے کا کانٹا جس کے ساتھ وہ تانے اور بانے کو درست کرتا ہے اسے صیصہ کہا جاتا ہے۔
درید بن صمہ نے کہا :
فجئت الیہوالرماحتنوشہ کو قعالصیاصی فیالنسیجالممدد (2)
میں اس کی طرف آیا جب کہ نیزے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانز ل الذین ظاہروہم من اہل الکتب اہل کتاب سے مراد ہے بنو قریظہ من صیاصیہم ان کے قلعوں سے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من صیاصیہم سے مراد ہے ان کے قلعے۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزل الذین ظاہروہم من اہل الکتب سے مراد وہ بنو قریظہ ہیں جنہوں نے ابو سفیان کی مدد کی اسے سامان پہنچایا۔ اور اس معاہدے کو توڑ دیا جو ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان تھا اس درمیان کے نبی اکرم ﷺ زینت بن جحش بن ؓ کے پاس تھے اور وہ آپ کا سر مبارک…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلَ [اور اس نے اتارا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جنہوں نے ] ظَاهَرُوْهُمْ [مدد کی ان (کافروں) کی ] مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ [اہل کتاب میں سے ] مِنْ صَيَاصِيْهِمْ [ان کے قلعوں سے ] وَقَذَفَ [اور اس نے پھینک مارا ] فِيْ قُلُوْبِهِمُ [ان کے دلوں میں ] الرُّعْبَ [عرب کو ] فَرِيْقًا [ایک فریق کو ] تَقْتُلُوْنَ [تم لوگ قتل کرتے تھے ] وَتَاْسِرُوْنَ [اور قیدی بناتے تھے ] فَرِيْقًا [کسی فریق کو ] ۔
ص ی ص
ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔
صیصۃ ج صیاص۔ حفاظت کا ذریعہ۔ قلعہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26
نوٹ۔ 1: آیت۔ 26 ۔ میں الذین ظاھروھم میں اشارہ ہے بنو قریظہ کی طرف جنہوں نے آنے والے لشکروں کی مددد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اہل کتاب کو غداری کی سزا مل گئی اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرما دیا
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں پہلے سے یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، جب رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں کے تمام رہنے والوں کے درمیان ایک معاہدہ کروا دیا جس میں خود آپ ﷺ بھی مہاجرین و انصار کے ساتھ شریک تھے اور یہودیوں کے تینوں قبیلوں کو بھی شریک فرمالیا تھا۔ اس معاہدے میں جو باتیں لکھی گئی تھیں ان میں یہ بھی تھا کہ آپس میں جنگ نہ کریں گے اور یہ کہ مدینہ منورہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہوگا تو سب مل کر دفاع کریں گے، ان میں سے بنی قینقاع نے غزوہ بدر کے بعد ہی اس عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔
(ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
32:۔ ورد اللہ الِ اس میں غزوہ احزاب میں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی فتح و ظفر اور انعامات خداوندی کی تفصیل مذکور ہے جن کا فارسلنا علیہم ریحا الخ، میں اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ تفصیل لتتمۃ النعمۃ المشار الیہا اجمالا بقولہ تعالیٰ (فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروھا) (روح ج 21 ص 174) ۔ یہاں پانچ انعامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ورد اللہ الِ اللہ تعالیٰ نے کفار کی فوجوں کو بےنیل مرام، شکست خوردہ اور غیظ و غضب کی آگ میں سوزاں و بریان واپس کردیا۔ جس سے مسلمانوں کو انتہائی خوشی ہوئی لیکن کفار و مشرکین حسد اور بغض میں جل بھن گئے اور حسرت و پشیمان سے سرنگوں ہوگئے۔ دوم وکفی اللہ الخ، اللہ تعالیٰ نے مومنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔
اسوہ حسنہ
پہلے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلَ الَّذِيْنَ ظَاہَرُوْہُمْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَيَاصِيْہِمْ وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِيْقًا 26ۚ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وانزل الذین ظاھروھم ان کفار کے جو مددگار اہل کتاب تھے، یعنی بنی قریظہ جو مدینہ کے پاس رہتے تھے اور حضرت ﷺ سے عہد تھا، پھر عہد توڑ کر اس واقعہ میں کفار کے شریک ہوگئے تھے، ان کو ان کی گڑھیوں میں بند کردیا۔ صیاصی جمع صیصۃ وھی الحصون جب ابوسفیان وغیرہ بھاگ گئے تو یہ یہود مسلمانوں کے ڈر سے اپنی گڑھیوں میں جابیٹھے۔ پندرہ دن تک ان کا محاصرہ مسلمانوں نے کیا، ان کے دل میں خدا نے رعب ڈال دیا۔ آخرکار گڑھیوں سے باہر نکلے جوان مرد قتل کئے گئے اور عورتیں اور بچے غلام بنائے گئے اور ان کی جائیداد و املاک بےتکلف مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، یہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک کرشمہ تھا۔ کما قال وقذف فی قلوبہم الرعب فریقا…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاہَرُوْھُمْ مِّنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا۔ (الاحزاب : 26)
(اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کافروں کی مدد کی تھی انھیں اللہ تعالیٰ ان کے قلعوں سے اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے ہو اور ایک گروہ کو قید کررہے ہو۔ )
بنو قریظہ کی عہد شکنی اور اس کا انجام
اس آیت کریمہ میں اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ ہم اس سے پہلے اس سورة کے تعارف میں واضح کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس قبیلے کا امن و صلاح کا معاہدہ تھا۔ اور اس میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ خندق کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت وسطوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا یہودیوں پر رعب اور دبدبہ ڈال دیا۔ نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں سے بقائے باہمی کی بنیاد پر امن کا معاہدہ کیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودی اس معاہدے پر قائم نہ رہے اور ان کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ رہیں اور خفیہ طور پر اہل مکہ کو مسلمانوں کے حالات بتلاتے رہتے تھے۔ غزوہ خندق کے موقع پر انہوں نے با ضابطہ طور پر مکہ والوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور کچھ لوگوں نے مسلمان خواتین کو بھی پریشان کرنے…
Read the full tafseer →غزوئہ بنو قریظہ :
26: وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرُوْھُمْ (اوراتار دیا ان لوگوں کو جنہوں نے ان کی مدد کی تھی) ان لشکروں کی معاونت کی۔ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (اہل کتاب میں سے) یہود بنی قریظہ مراد ہیں۔ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ (ان کے قلعوں سے) الصیصۃ کی جمع ہے بمعنی گڑھی، قلعہ، مکان حفاظت۔
روایت تفسیریہ میں ہے کہ جبرئیل امین (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس رات جس میں لشکر شکست کھا کر بھاگے اس کی صبح تشریف لائے۔ مسلمان مدینہ منورہ لوٹے۔ اور اپنے ہتھیار رکھ دیے جبرئیل (علیہ السلام) اپنے الحیزوم گھوڑے پر سوار تھے ان کے گھوڑے کی کاٹھی اور چہرے پر غبار تھا۔ آپ نے فرمایا جبرئیل یہ کیا ہے ؟ انہوں…
Read the full tafseer →26، وانزل الذین ظاھروھم من اھل الکتاب ، یعنی احزاب کی مدد کی کہ قریش وغطفان کی جماعتوں کی پشت پنا ہی کی تھی ، ان کو ان کی گڑھیوں سے نیچے اتارلا یا۔ ، من صیا صیھم ، گڑحی قلعہ اس کا واحدصیصیہ ہے۔ اسی ہرن کے سینگ مرغ کا کا نٹا اور جولا ہے کا تانا ٹھیک کرنے کا اوزار ان سب کو اسی مناسبت سے صیصیہ کہا جاتا ہے۔
واقعہ بنی قریظہ
یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان جب تھکے ہارے خندق سے لوٹے تو ہتھیارکھول دیئے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے مکان میں تشریف لے گئے اور پانی طلب کرکے سر دھونے لگے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ حضرت زینب بنت حجش ؓ کے مکان میں تشریف لے گئے اور حضرت زینب ؓ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25 تا 27۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا زبردست ہے کہ اپنے مخالفوں کے اتنے بڑے لشکر کو فقط ہوا سے پریشان کر کے ان کے غصہ میں اس طرح انہیں الٹا پھرایا کہ نہ پہنچے وہ کسی بھلائی کو اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مال غنیمت وغیرہ کچھ ان کے ہاتھ نہ لگا اور کافی ہوا اللہ ایمان والوں کو لڑائی سے مطلب یہ کہ مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی فقط اللہ ہی کافی ہوا جو اس نے کافروں پر ہوا بھیج کر ان کو پریشان کردیا پھر فرمایا “ اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مشرکین مکہ کو مدد دی تھی ان کی گڑھیوں سے اور ڈال ان کے دلوں میں دہشت ایک فریق کو تم نے قتل کیا اور ایک کو قید “ کتاب والے اس لیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 26
(وانزل الذین ظاھرو ھم) ” اور ہم جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔ “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی (من اھل الکتب) ” اہل کتاب میں سے “ یعنی یہودیوں میں سے (من صیاصیھم) ” ان کے قلعوں سے “ یعنی انہیں سلام کے حکم کے تحت مغلوب کرکے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا (وقذف فی قلوبھم الرعب) ” اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ “ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہوگئے۔ (فریقا تقتلون) تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے (وتاسرون فریقا) اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب سے کیا سلوک کیا جائے ؟
قول باری ہے (وانزل الذین ظاھروھم من اھلی الکتاب من صیاصیھم اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا) ایک قول کے مطابق صباصی وہ قلعے تھے جن میں یہ اہل کتاب یعنی یہود مدینہ مورچہ بند تھے۔ صیصہ دراصل گانے کے سینگ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرتی ہے۔ مرغ کے خار کو بھی صیصہ کہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ذریعے اپنا دفاع کرتا ہے۔ اسی مفہوم کی بنا پر قلعوں کو صیاصی کہا گیا ہے۔
ایک روایت کے مطابق اس سے بنو قریضہ مراد ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے اپنے عہد کو توڑا کر مدینہ پر حملہ آور گروہوں کی مدد کی تھی ۔ جس کا…
Read the full tafseer →48 یہودیوں کو ان کے مضبوط قلعے کچھ بھی کام نہ آسکے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے اتار دیا ان اہل کتاب کو انکے مضبوط قلعوں سے جنہوں نے باہر سے آنے والے ان دشمنوں کی پشت پناہی کی تھی "۔ یعنی یہود بنو قریظہ کو جنہوں نے عین موقع پر غداری اور عہد شکنی کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ " صیاصی " جمع ہے " صیصہ " کی۔ بمعنی قلعہ، گڑھی وغیرہ۔ سو ان یہود بےبہود کے وہ مضبوط قلعے اور وہ پختہ گڑھیاں جن پر ان کو بڑا ناز تھا کہ ان کے اندر آ کر کون ہم پر حملہ آور ہوسکتا ہے، وہ اس موقع پر ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں ۔ { اَتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیَثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا } ۔ (الحشر : 2) ۔ سو اپنے کیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–27
واقعہ غزوہ احزاب
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیات 21 تا 27
اسرارومعارف
اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔
صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا :
صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…
Read the full tafseer →ف 3 یہ غزوہ بنی قریظہ کا ذکر ہے۔ ہوا یہ کہ قریش اور غطفان تو واپس چلے گئے اور بنو قریظہ اپنے قلعوں میں محصور ہوگئے۔ نبی ﷺ خندق سے پلٹ کر گھر پہنچ گئے آپ ﷺ غسل فرما رہے تھے کہ حضرت جبرئیل آئے اور کہنے لگے :” آپ ﷺ نے ہتھیار رکھ دیئے مگر فرشتوں نے تا حال ہتھیار نہیں رکھے، بنی قریظہ کی طرف چلئے ان پر حملہ کیجئے “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے کوچ کا حکم دے دیا اور بنو قریظہ کا محاصرہ کرلیا گیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک جاری رہا آخر بنو قریظہ تنگ آگئے اور انہوں نے مصالحت کی گفتگو شروع کی۔ آخر کار انہوں نے حضرت سعد ؓ بن معاذکو حکم تسلیم کرلیا جو قبل از اسلام ان کے حلیف رہ چکے تھے۔ چناچہ حضرت سعد ؓ کو لایا گیا…
Read the full tafseer →(33:26) انزل ماضی واحد مذکر غائب انزال (افعال) سے اس نے اتارا اس نے نازل کیا۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ الذین اسم موصول ظاھروھم : ظاھروا ماضی جمع مذکر غائب مظاھرۃ (مفاعلۃ) سے باہمی معاونت کرنا۔ پشتیبانی کرنا۔ ظاھروا میں ضمیر فاعل اسم موصول الذین کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الاحزاب کے لئے ہے۔ من تبعیضیہ ہے اہل الکتب مضاف مضاف الیہ اہل یہود۔
الذین ظاھروہم من اہل الکتاب ۔ اہل کتاب میں سے وہ لوگ جنہوں نے دشمنوں کے جتھوں کی امداد کی تھی۔ یہ جملہ الذین کی نعمت میں جو انزل کا مفعول ہے۔ اور مراد اس سے بنو قریظہ ہیں جو اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ دوستی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27
اسوۃ : نمونہ
یرجوا : امید رکھتا ہے
تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت
قضی : پورا کرلیا
نحب : منت۔ نذر۔ مدت
غیظ : غصہ
صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ
قذف : ڈال دیا
الرعب : دہشت۔ ہیبت
تاسرون : تم قیدی بناتے ہو
اورث : اس نے مالک بنا دیا
لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27
بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(ف 1) بنی قریظہ نے نبی ﷺ کے مقابل قریش وغطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی اس میں عروہ بنی قریظہ کا بیان ہے۔ یہ اخیر ذی قعدہ 4، ہجری یا 5 میں ہوا۔ جب غزوہ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوچکا ہے اس شب کی صبح کو نبی ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیے، اس روز ظہر کے وقت جب نبی ﷺ کا سر مبارک دھویاجارہا تھا جبرائیل امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے ہتھیار رکھ دیے فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو بنی قریظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ۔ نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ ندا کردی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
[25] یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
[26] یعنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 1: جنگ احزاب میں جو مخالفین کو شکست ہوئی ۔ وہ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمزوروں کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ اور مایوسوں کی مایوسی کو امیدوکامیابی میں بدل دیتے ہیں ۔ اللہ کا قانون اور مخلصی کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔ اور بظاہریاس کے بادل دلوں پر چھا جائیں ۔ عین اس وقت وہ بڑھے ۔ اور فرشتوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہو ۔ اور مخالفین کی صفوں میں ہلچل مچا دے ۔ وہ ہمیشہ سے اپنے قوی و عزیز ہونے کا ثبوت دیتا آیا ہے ۔ اس نے اپنی غیر متوقع اعانتوں سے دائماً اپنے بندوں کو یقین دلایا ہے ۔ کہ مادی قوتیں اس کے مقابلہ میں پرکاہ کے برابر وقعت نہیں رکھتیں ۔ وہ جب چاہے اور جن وسائل سے چاہے ۔ دشمنوں کو…
Read the full tafseer →26۔ اور جن اہل کتاب نے ان مشرکوں کی مدد کی تھی اللہ نے ان کے ان کے قلعوں کے نیچے اتارا اور انکے قلوب میں تمہارا ایسا رعب بٹھا دیا کہ ان میں سے تم بعض کو قتل کرنے لگے اور بعض کو تم نے قیدی بنا لیا یہ اشارہ ہے بنو قریظہ کی طرف ، کیونکہ نبی کریم ﷺ جب احزاب سے واپس تشریف لائے تو آپ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ہتھیار کھول ڈالے اور آپ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے آپ ﷺ اس وقت حضرت زینب بنت حجش کے پاس تھے اور وہ آپ کا سردھلا رہی تھیں آپ ؐ نے سن کر فرمایا جبرئیل ملائکہ کس طرف کا قصد رکھتے ہیں ؟
جبرئیل نے عرض کیا قریظہ کا قصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 7۔ یعنی کفار کو قتال متعارف کی نوبت بھی نہ آئی کہ پہلے ہی دفع ہوگئے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب میں سے جو حملہ آوروں کی پشت پناہی کر رہے تھے اس جگہ سے نکلنے پر مجبور کردیا
26 ۔ زیر نظر آیت میں بنو قریظہ کا ذکر ہے جنہوں نے حملہ آوروں کی ریشہ دوانیوں میں آکراپنا عہد توڑ دیا تھا جو انہوں نے مسلمانوں سے کیا ہوا تھا وہ عین اس وقت جب مدینہ کے مسلمان محاصرین کے گھیرے میں تھے تو حملہ آوروں سے مل گئے اور اپنی طاقت وقوت ان کے لئے خاص کردی۔ الاحزاب کے بھاگنے کے ساتھ ان کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے اور اس طرح اب یہ لوگ ٹوٹ پھوٹ گئے کہ ان کی حالت کا تصور کرنا بھی اس وقت نہایت مشکل ہے جب وہ مسلمانوں سے ٹوٹ کر مشرکین اور ان کے حواریوں غطفان اور بنو اسد وغیرہ سے جاملے تھے اس وقت بلا شبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–27
The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
40 That is, Jews of the Bani Quraizah.
Read the full tafseer →