Al-Ahzaab 33:27

Al-Ahzaab · from ayah 27

33:27

وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِیَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوْهَا ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا ۟۠وَاَوۡرَثَكُمۡ اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَ اَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَــئُوۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرًا

اور اُن کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا۔ اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He caused you to inherit their land and their homes and their properties and a land which you have not trodden. And ever is Allah, over all things, competent.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 19 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:27

اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اُن کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا۔ اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ نے تمہیں ان کی زمین کا، ان کے گھروں کا اور ان کی دولت کا وارث بنادیا، اور ایک ایسی زمین کا بھی جس تک ابھی تمہارے قدم نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس نے تمہیں ان (جنگی دشمنوں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اوراس (مفتوحہ) زمین کا جِس میں تم نے (پہلے) قدم بھی نہ رکھا تھا مالک بنا دیا، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہیں ان کی اراضی، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جہاں تم نے قدم تک نہ رکھا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث تم کو بنایا۔ علاوہ ازیں اور بھی زمین ہے جس پر تمہارے پائوں ابھی نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس (قادر مطلق) نے تمہیں وارث بنادیا ان کی زمین کا ان کے گھروں کا ان کے مالوں کا اور (اس علاوہ) ایسی زمین کا بھی جس پر تم نے ابھی تک قدم بھی نہیں رکھے اور اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تمہیں مالک بنادیا ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مال کا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے (اب تک) قدم نہیں رکھا ہے۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah made you inherit their land, their dwellings, and their goods, and a piece of land on which you had not yet trodden. Verily Allah has power over all things.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and He let you inherit their land and their homes and their wealth, and a land you have not trodden (so far) . And Allah is Powerful to do any thing.

— Muhammad Taqi Usmani

and He let you inherit their land and their homes and their wealth, and a land you have not trodden (so far) . And Allah is Powerful to do any thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He caused you to inherit their lands, and their houses, and their riches, and a land which you had not trodden. And Allah is able to do all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He caused you to inherit their land and their houses and their wealth, and land ye have not trodden. Allah is ever Able to do all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He caused you to inherit their land and their homes and their properties and a land which you have not trodden. And ever is Allah, over all things, competent.

— Saheeh International

God made you inherit their land, houses, property, and a land on which you had never walked. God has power over all things.

— Muhammad Sarwar

And He made you heirs to their land and their dwellings and their property, and (to) a land which you have not yet trodden, and Allah has power over all things.

— Muhammad Habib Shakir

And He caused you to inherit their land and their houses and their riches, and land which ye have not yet trodden. And Allah is over everything ever potent.

— Abdul Majid Daryabadi

And He made you heirs of their lands, their houses, and their goods, and of a land which ye had not frequented (before). And Allah has power over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا۔ اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے حضور ﷺ کا عہد و پیمان ہوچکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بیوفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کردیا پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور انکے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کرلیں یہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–27

دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

وانزل الذین ظھروھم من اھل الکتب من صیا صیھم وقذف فی قلوبھم الوعب فریقا یقتلون وتاسرون فریقا وارثکم ومنھم ودیارھم واموالھم و ارضا چم تطوھا ط وکان اللہ علی کل شئی قدیرا (26۔ 27) یہ بنو قریضہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ معاہدہ امن و صلح کر رکھا تھا لیکن جب احزاب نے اپنی مجتمع قوت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کیا کہ ان کو ہمیشہ کے لئے جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیں تو انہوں نے بھی معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر احزاب کا ساتھ دیا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشہور یہودی لیڈر حی بن اخطب نضری بنو قریضہ کے سردار کعب بن اسد سے ملا اور اس کو ساتھ دینے کے لئے اس نے ابھارا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

27-1اس میں غزہ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسے کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقص عہد کر کے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا۔ چناچہ جنگ احزاب سے واپس آکر رسول اللہ ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل ؑ آگئے اور کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیئے ؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اس لئے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ چناچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کردی کہ عصر کی نماز وہاں جاکر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہوگئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا جو کم و بیش پچیس روز جاری…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

22: اس زمین سے مراد خیبر ہے۔ خیبر میں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے، اور وہیں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ اس موقع پر اس آیت نے مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی کہ خیبر بھی کچھ عرصے میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہجرت کے ساتویں سال خیبر بھی فتح ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہ زمین جو مدینہ کے قریب ہاتھ لگی حضرت نے مہاجرین پر تقسیم کردی۔ ان کے گزران کا ٹھکانا ہوگیا اور انصار پر سے ان کا خرچ ہلکا ہوا۔ اور دوسری زمین سے مراد خیبر کی زمین ہے جو اس کے دو برس بعد ہاتھ لگی اس سے حضرت کے سب اصحاب آسودہ ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ قیامت تک جو زمینیں فتح کی جائیں سب اس میں شامل ہیں واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 { وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَہُمْ وَدِیَارَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ } ”اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال کا“ { وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْہَا } ”اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔“ اس فقرے میں ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ موجود ہے جو بعد میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ اس لحاظ سے غزوئہ احزاب حضور ﷺ کی جدوجہد کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ turning point ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ نے اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دی تھی کہ : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ 1 یعنی ”اس سال کے بعد قریش کبھی بھی تم پر حملہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

36 یہ یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلاوطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قیبلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنو نضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو بنونضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لئے آیا ہے۔ لہذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا : کعب ! میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

52۔ یعنی ابھی تم ان مقامات تک پہنچے نہیں ہو، لیکن اس نے تو اپنے علم ازل میں تمہیں اس کا مالک کردیا۔ اشارہ ہے قبائل یہود کی ساری زمینوں اور جائیدادوں کی طرف جو بالآخر کچھ روز بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔ اس جزم کے ساتھ قبل از وقوع اعلان بجز حق تعالیٰ کے اور کر ہی کون سکتا تھا۔ (آیت) ” ارضالم تطؤھا “۔ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، قیامت تک جو علاقہ بھی کبھی مسلمان کے قبضہ میں آئے، سب اس میں داخل ہے۔ وھی مکۃ اوفارس والروم او خیبر او کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (مدارک) قیل کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (بیضاوی) وعد صادق فی فتح البلاد کالعراق والشام ولیمن ومکۃ وسائرفتوح المسلمین (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے (حیاتِ ) رسول اللہ میں اقتداء کے لئے قتال میں اور قتال میں ثابت قدم رہنے میں عمدہ نمونہ موجود ہے اسوۃ کے ہمزہ پر کسرہ اور ضمہ کے ساتھ (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتا ہے بخلاف اس شخص کے جو اس صفت پر نہیں ہے لِمَنْ ، لَکُمْ سے بدل ہے اور ایمان والوں نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بےساختہ کہہ اٹھے یہی ہے وہ آزمائش اور نصرت کہ جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اللہ اور اس کا رسول وعدہ میں سچا ہے اور اس چیز نے اللہ کے وعدے کی تصدیق اور اس کے حکم کے امتثال میں اضافہ کردیا ان مومنین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واورثکم ارضھم ودیارھم واموالھم . اور تم کو اللہ نے ان کی زمینوں کا (یعنی کھیتوں اور باغوں کا) اور ان کے گھروں کا (یعنی قلعوں اور گڑھیوں کا) اور ان کے مالوں کا (یعنی نقد جنس اور مویشی کا) مالک بنا دیا۔ وارضا لم تطوھا . اور (اس) زمین کا بھی مالک بنا دیا جس پر تم نے قدم (بھی) نہیں رکھا تھا۔ مقاتل اور ابن زید کے نزدیک اَرْضًا سے مراد خیبر ہے۔ قتادہ نے کہا : ہم سے بیان کیا جارہا ہے کہ اس سے مراد مکہ ہے۔ حسن کے نزدیک فارس و روم ہے۔ عکرمہ کے قول پر وہ ساری زمین ہے جس کو قیامت تک مسلمان فتح کرتے رہیں گے۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا . اور اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے ‘ لہٰذا اس پر بھی (یعنی اس زمین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کے گھروں اور مالوں کو تمہیں غنیمت میں دلوا دیا اور سرزمین خیبر کا بھی تمہیں مالک بنا دے گا جو ابھی تک تمہاری ملکیت میں نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ فتح و نصرت ہر ایک چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ : غزوۂ بنو قریظہ میں ان کے مردوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنانے کے علاوہ ان کے کھیت، باغات، مکانات، قلعے، مویشی، ہتھیار اور درہم و دینار وغیرہ سب مسلمانوں کی ملکیت میں آگئے، جو خمس نکال کر مسلمانوں میں تقسیم کردیے گئے۔ وَاَرْضًا لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا : ”وَطِئَ یَطَأُ وَطْأً“ ”اَلشَّيْءَ بِرِجْلِہِ“ کسی چیز کو پاؤں سے روندنا۔ یعنی اس زمین کا بھی مالک بنادیا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا۔ مراد اس سے بنو قریظہ کی زمین ہی ہے، یعنی ان کی وہ زمین جہاں ان کی قوت و شوکت کی وجہ سے تم قدم تک نہ رکھ سکتے تھے، اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–27

آیت وانزل الذین ظاھروھم من اھل الکتاب من صیاصیھم یہاں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے لشکروں کی مدد کی، لشکروں سے مراد قریش اور غطفان ہیں یہ بنو قریظہ تھے۔ ان کا وقعہ گزرچکا ہے۔ آیت من صیاصیھم ان کے قلعوں میں ؛ اس کا واحد صیصہ ہے۔ شاعر نے کہا : فاصبحت الثیران صرعی واصبحت نسائتمیمیبتدرن الصیاصیا (1) بیل مردہ پڑے تھے اور تمیم قبیلہ کی عورتیں قلعوں کی طرف جلدی جلدی جا رہی تھیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ جولا ہے کا کانٹا جس کے ساتھ وہ تانے اور بانے کو درست کرتا ہے اسے صیصہ کہا جاتا ہے۔ درید بن صمہ نے کہا : فجئت الیہوالرماحتنوشہ کو قعالصیاصی فیالنسیجالممدد (2) میں اس کی طرف آیا جب کہ نیزے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانز ل الذین ظاہروہم من اہل الکتب اہل کتاب سے مراد ہے بنو قریظہ من صیاصیہم ان کے قلعوں سے۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من صیاصیہم سے مراد ہے ان کے قلعے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزل الذین ظاہروہم من اہل الکتب سے مراد وہ بنو قریظہ ہیں جنہوں نے ابو سفیان کی مدد کی اسے سامان پہنچایا۔ اور اس معاہدے کو توڑ دیا جو ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان تھا اس درمیان کے نبی اکرم ﷺ زینت بن جحش بن ؓ کے پاس تھے اور وہ آپ کا سر مبارک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَوْرَثَكُمْ [اور اس نے وارث بنایا تم کو ] اَرْضَهُمْ [ان کی زمین کا ] وَدِيَارَهُمْ [اور ان کے گھروں کا ] وَاَمْوَالَهُمْ [اور ان کے مالوں کا ] وَاَرْضًا [اور ایک ایسی زمین کا جس کو ] لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا ۭ [تم نے قدموں سے نہیں روندا ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] قَدِيْرًا [قدرت رکھنے والا ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–27

اہل کتاب کو غداری کی سزا مل گئی اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرما دیا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں پہلے سے یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، جب رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں کے تمام رہنے والوں کے درمیان ایک معاہدہ کروا دیا جس میں خود آپ ﷺ بھی مہاجرین و انصار کے ساتھ شریک تھے اور یہودیوں کے تینوں قبیلوں کو بھی شریک فرمالیا تھا۔ اس معاہدے میں جو باتیں لکھی گئی تھیں ان میں یہ بھی تھا کہ آپس میں جنگ نہ کریں گے اور یہ کہ مدینہ منورہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہوگا تو سب مل کر دفاع کریں گے، ان میں سے بنی قینقاع نے غزوہ بدر کے بعد ہی اس عہد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–27

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–27

32:۔ ورد اللہ الِ اس میں غزوہ احزاب میں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی فتح و ظفر اور انعامات خداوندی کی تفصیل مذکور ہے جن کا فارسلنا علیہم ریحا الخ، میں اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ تفصیل لتتمۃ النعمۃ المشار الیہا اجمالا بقولہ تعالیٰ (فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروھا) (روح ج 21 ص 174) ۔ یہاں پانچ انعامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ورد اللہ الِ اللہ تعالیٰ نے کفار کی فوجوں کو بےنیل مرام، شکست خوردہ اور غیظ و غضب کی آگ میں سوزاں و بریان واپس کردیا۔ جس سے مسلمانوں کو انتہائی خوشی ہوئی لیکن کفار و مشرکین حسد اور بغض میں جل بھن گئے اور حسرت و پشیمان سے سرنگوں ہوگئے۔ دوم وکفی اللہ الخ، اللہ تعالیٰ نے مومنوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔ اسوہ حسنہ پہلے نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَہُمْ وَدِيَارَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَـــــُٔـوْہَا۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا۝ 27ۧ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–27

وانزل الذین ظاھروھم ان کفار کے جو مددگار اہل کتاب تھے، یعنی بنی قریظہ جو مدینہ کے پاس رہتے تھے اور حضرت ﷺ سے عہد تھا، پھر عہد توڑ کر اس واقعہ میں کفار کے شریک ہوگئے تھے، ان کو ان کی گڑھیوں میں بند کردیا۔ صیاصی جمع صیصۃ وھی الحصون جب ابوسفیان وغیرہ بھاگ گئے تو یہ یہود مسلمانوں کے ڈر سے اپنی گڑھیوں میں جابیٹھے۔ پندرہ دن تک ان کا محاصرہ مسلمانوں نے کیا، ان کے دل میں خدا نے رعب ڈال دیا۔ آخرکار گڑھیوں سے باہر نکلے جوان مرد قتل کئے گئے اور عورتیں اور بچے غلام بنائے گئے اور ان کی جائیداد و املاک بےتکلف مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، یہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک کرشمہ تھا۔ کما قال وقذف فی قلوبہم الرعب فریقا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَوْرَثَـکُمْ اَرْضَھُمْ وَدِیَارَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَــُٔوْھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرًا۔ (الاحزاب : 27) (اور اللہ نے ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا تمہیں وارث بنادیا، اور اس سرزمین کا بھی تمہیں وارث بنادیا جس پر تمہارے پائوں ابھی نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) بنوقریظہ کے نکلنے سے ان کا پورا علاقہ ان کے تمام قلعے اور گڑھیاں، ان کے مکانات اور حصارات، ان کے باغات اور ان کے ہر قسم کے اموال و اثاثات اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے قبضے میں دے دیے۔ مسلمانوں کو شاندار مستقبل کی بشارت وَاَرْضًا لَّمْ تَطَــُٔوْھَا … یہ مسلمانوں کے نہایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–27

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ خندق کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت وسطوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا یہودیوں پر رعب اور دبدبہ ڈال دیا۔ نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں سے بقائے باہمی کی بنیاد پر امن کا معاہدہ کیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودی اس معاہدے پر قائم نہ رہے اور ان کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ رہیں اور خفیہ طور پر اہل مکہ کو مسلمانوں کے حالات بتلاتے رہتے تھے۔ غزوہ خندق کے موقع پر انہوں نے با ضابطہ طور پر مکہ والوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور کچھ لوگوں نے مسلمان خواتین کو بھی پریشان کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

امتنانِ فتح : 27: وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَھُمْ وَ دِیَارَ ھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ (اور تمہیں ان کی زمینوں، گھروں اور مالوں کا وارث بنادیا) اموال سے مراد نقدی، مویشی اور اثاثہ تھا۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی زمین صرف مہاجرین کو عنایت فرمائی اور انصار کو فرمایا تم اپنے گھروں میں ہو (واقدی) وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْھَا (اور ایسی زمین کا جس پر تم نے قدم بھی نہ رکھا) لڑائی کی غرض سے اور وہ سرزمین نمبر 1۔ مکہ نمبر 2۔ یا فارس و روم نمبر 3۔ یا خیبر یا نمبر 4۔ ہر وہ زمین جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے مراد ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 27۔ واورثکم ارضھم ودیار ھم واموالھم وارضالم تطؤھا، ابن زید اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد خبیر ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم اس بارے میں باتیں کرتے تھے کہ یہ مکہ ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد فارس وروم ہے۔ عکرمہ کا قول ہے ہر وہ زمین جو قیامت کے دن کھولی جائے گی۔ ، وکان اللہ علی کل شیء قدیرا،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–27

25 تا 27۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا زبردست ہے کہ اپنے مخالفوں کے اتنے بڑے لشکر کو فقط ہوا سے پریشان کر کے ان کے غصہ میں اس طرح انہیں الٹا پھرایا کہ نہ پہنچے وہ کسی بھلائی کو اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مال غنیمت وغیرہ کچھ ان کے ہاتھ نہ لگا اور کافی ہوا اللہ ایمان والوں کو لڑائی سے مطلب یہ کہ مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی فقط اللہ ہی کافی ہوا جو اس نے کافروں پر ہوا بھیج کر ان کو پریشان کردیا پھر فرمایا “ اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مشرکین مکہ کو مدد دی تھی ان کی گڑھیوں سے اور ڈال ان کے دلوں میں دہشت ایک فریق کو تم نے قتل کیا اور ایک کو قید “ کتاب والے اس لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 27 (و اور ثکم) ” اور تمہیں وارث بنایا۔ “ یعنی تمہیں غنیمت میں عطا کیا (ارضھم ودیارھم و اموالھم وارضالم تطؤھا) ” ان کی زمین ‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں تھا۔ “ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیا ‘ تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا ‘ ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ (وکان اللہ علی کل شیء قدیرا) ” اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ اسے کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

مفتوحہ زمینوں کے بارے میں فیصلہ قول باری ہے (واورثکم ارضھم ودیارھم واموالھم وارضالم تطوھا اور تمہیں ان کی زین کا، ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی مالک بنادیا جس پر تم نے اب تک قدیم نہیں رکھتا تھا) یعنی بنو قریظہ کی سرزمین کا یا بنو نضیر کی سر زمین کا جیسا کہ بعض حضرات نے آیت سے بنو نضیر مراد لیا ہے۔ قول باری (وارضنا لم تطوھا) کی تفسیر میں حسن کا قول ہے کہ اس سے ارض فارس وروم مراد ہیں۔ قتادہ کے اقوال کے مطابق اس سے مراد ارض مکہ ہے۔ یزید بن رومان نے کہا ہے کہ یہ ارض خیبر ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کافروں کی جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

50 یہود کی دولت مسلمانوں کی ملکیت و میراث : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بنو قریظہ کی زمین اور ان کا مال و دولت مسلمانوں کی ملکیت و میراث میں آگیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے تم کو وارث بنادیا ان کی زمین ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا اور اس کے علاوہ ایک اور ایسی سرزمین کا جس پر تم لوگوں نے ابھی تک قدم بھی نہیں رکھے "۔ اس زمین کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں کہ اس سے مراد ارض خیبر ہے یا ارض مکہ یا ارض فارس و روم۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہر وہ سرزمین ہے جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آئے گی اور ان کے زیر نگیں ہوگی ۔ " وقیل ہی کل ارض تفتح علی المسلمین الي یوم القیامۃ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–27

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

آیات 21 تا 27 اسرارومعارف اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔ صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا : صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے ارض خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ جس پر مسلمانوں نے 7 ھ میں فتح پائی۔ اور بعض نے مکہ اور بعض نے فارس اور روم کے علاقے مراد لیے ہیں۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ اس سے ہر وہ زمین مراد ہے جسے قیامت تک مسلمان فتح کریں۔ ( شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:27) اور ثکم : اور ث ماضی واحد مذکر غائب ۔ ایراث (فعل) سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو وارث بنایا۔ اس کا عطف انزل پر ہے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے ارضہم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی۔ (بمعنی زیر کاشت اراضی مشتمل پر باغات و فصلات) دیارھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی۔ (بمعنی ان کے حصون قلعے، گڑھیاں) اموالہم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعولرابع، ان کے مال (بمعنی مویشی و نقد مال) وارضا لم تطواھا (اور زمین جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھا۔ جو بعد میں مسلمانوں کی تحویل میں آنے والے ملک تھے) لم تطوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وطی یطا (باب سمع) وطا۔ مصدر وطی الشیء برجلہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27 اسوۃ : نمونہ یرجوا : امید رکھتا ہے تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت قضی : پورا کرلیا نحب : منت۔ نذر۔ مدت غیظ : غصہ صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ قذف : ڈال دیا الرعب : دہشت۔ ہیبت تاسرون : تم قیدی بناتے ہو اورث : اس نے مالک بنا دیا لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) بنی قریظہ نے نبی ﷺ کے مقابل قریش وغطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی اس میں عروہ بنی قریظہ کا بیان ہے۔ یہ اخیر ذی قعدہ 4، ہجری یا 5 میں ہوا۔ جب غزوہ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوچکا ہے اس شب کی صبح کو نبی ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیے، اس روز ظہر کے وقت جب نبی ﷺ کا سر مبارک دھویاجارہا تھا جبرائیل امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے ہتھیار رکھ دیے فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو بنی قریظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ۔ نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ ندا کردی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[27] یہ یہودیوں کا قبیلہ بنی قریظہ تھا جو مدینہ کے جنوب مشرقی جانب رہتا تھا اور جنگ احزاب سے پہلے اس کا مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ تھا۔ جنگ احزاب کے موقع پر یہ لوگ معاہدے کو بالائے طاق رکھ کر حملہ آوروں کی مدد پر کھڑے ہوگئے۔ جب مدینہ کا محاصرہ ختم ہوا تو مسلمانوں نے فوراً ان پر چڑھائی کی اور ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ تین ہفتے جاری رہا۔ آخر محصورین تاب نہ لاسکے اور پیغام بھیجا کہ سعد بن معاذ کو (جو ان کے حلیف اور قبیلہ اوس کے سردار تھے) ہم حکم ٹھہراتے ہیں۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان کی تجویز منظور فرمالی۔ سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی قریظہ کے تمام جوان قتل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–28

ف 1: جنگ احزاب میں جو مخالفین کو شکست ہوئی ۔ وہ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمزوروں کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ اور مایوسوں کی مایوسی کو امیدوکامیابی میں بدل دیتے ہیں ۔ اللہ کا قانون اور مخلصی کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔ اور بظاہریاس کے بادل دلوں پر چھا جائیں ۔ عین اس وقت وہ بڑھے ۔ اور فرشتوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہو ۔ اور مخالفین کی صفوں میں ہلچل مچا دے ۔ وہ ہمیشہ سے اپنے قوی و عزیز ہونے کا ثبوت دیتا آیا ہے ۔ اس نے اپنی غیر متوقع اعانتوں سے دائماً اپنے بندوں کو یقین دلایا ہے ۔ کہ مادی قوتیں اس کے مقابلہ میں پرکاہ کے برابر وقعت نہیں رکھتیں ۔ وہ جب چاہے اور جن وسائل سے چاہے ۔ دشمنوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

27۔ اور تم کو ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا مالک بنادیا اور اس زمین کا بھی تم کو مالک بنادیا ۔ جس پر تم نے قدم بھی نہ رکھے تھے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے ، جن چیزوں کا قریظہ میں مالک بنایا اور آئندہ کے لئے بھی خیبرفتح کی کا مژدہ سنایا۔ ہوسکتا ہے کہ فارس اور روم کی فتح کی طرف اشارہ ہو یا قیامت تک جو علاقے بھی مسلمان فتح کریں گے ان کی پیشین گوئی اور بشارت ہو کیونکہ ارضا لم تطوھا کے لفظ میں عموم بہت زیادہ ہے اس لئے عموما ً فتوحات مستقبلہ کی جانب اور خصوصاً خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ زمین مدینہ کے نزدیک ہاتھ لگی حضرت نے مہاجرین کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اس میں بشارت ہے فتوحات مستقبلہ کی عموما یا فتح خیبر کی خصوصا جو اس سے کچھ بعد ہوئی۔ 2۔ اس لئے یہ امور کچھ بعید نہیں نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے تم کو انزمینوں ، مکانوں اور باغوں کا مالک بنادیا 27 ۔ زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ یہ دن ہیں جو انسانوں کے درمیان ہم پھیرتے رہتے ہیں ایک وہ حالت تھی کہ تم ان زمینوں ، قلعوں اور باغوں کی طرف جھانک کر دیکھ بھی نہیں سکتے تھے اور اب یہ وقت ہے کہ ان کے گھر ، مال واسباب ، قلعوں اور باغوں کا تم کو مالک بنادیا گیا ہے اور خیبر کا وہ علاقہ بھی تم کو دیا جس پر تم اس سے پہلے کبھی گزر بھی نہیں سکتے تھے اور وہ بنی نضیر کے قبضہ میں تھا اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے کبھی مدینہ (یثرب) پر بنی نضیر اور بنی قریظہ کا مکمل تسلط قائم تھا اور وہ اس دھرتی کے سیاہ وسفید کے مالک ہوا کرتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–27

The second state mentioned here is that of the hypocrites for they had started saying that the promises of Allah and His Rasul ﷺ were a web of deception: إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا (And (remember) when the hypocrites and those having malady in their hearts were saying, "Allah and His messenger did not promise us but deceitfully; -12). This was an externalized demonstration of their inner disbelief. Onward from here, mention has been made of two groups of hypocrites who were practically a part of the…

Read the full tafseer →