Explained with ayahs 28–29
امہات المومنین سے پرسش ! دین یا دنیا ؟
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کردیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول ﷺ کی رضامندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گذارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول ﷺ کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 41
یہاں سے نمبر 35 تک کی آیات جنگ احزاب اور بنی قریظہ سے متصل زمانے میں نازل ہوئی تھیں۔ ان کا پس منظر ہم دیباچہ میں مختصراً بیان کر آئے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ اس زمانے کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپ ﷺ کی ازواج آپ ﷺ کے گرد بیٹھی ہیں اور آپ ﷺ خاموش ہیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو خطاب کر کے فرمایا
" ھُنَّ کَمَا تَرٰی یَسْألْنَنِی النفقۃ، " یہ میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ مجھ سے خرچ کے لیے روپیہ مانگ رہی ہیں "۔ اس پر دونوں صاحبوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا اور ان سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
خلاصہ تفسیر
اے نبی ﷺ آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجئے (تم سے دو ٹوک بات کہی جاتی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے قصہ ایک طرف ہو وہ بات یہ ہے کہ) تم اگر دنیوی زندگی (کی عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ (یعنی لینے کے لئے متوجہ ہو) میں تم کو کچھ (مال و) متاع (دنیوی) دے دوں (یا تو مراد اس سے وہ جوڑا ہے جو مطلقہ مدخولہ کو بوقت طلاق دینا مستحب ہے یا مراد نان نفقہ عدت کا ہے، یا دونوں کو شامل ہے) اور (متاع دے کر) تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں (یعنی موافق سنت کے طلاق دے دوں تاکہ جہاں چاہو جا کر دنیا حاصل کرو) اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور (مطلب اللہ کو چاہنے کا اس جگہ یہ ہے کہ) اس کے رسول کو (چاہتی ہو، یعنی فقر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 35
اوپر کے پیرے میں عام مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع کرنے کے بعد آگے ازواج نبی ﷺ کو خطاب کرکے ان کو منافقین اور منافقات کے فتنوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین فرمائی ہے کہ ان کی کو ششیہ ہے کہ ازواج نبی ؓ کے دلوں میں بھی طلب دنیا کی بیماری پیدا کریں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی رفاقت کے لئے اس لئے چنا ہے کہ وہ اس کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذریعہ نہیں جو اللہ کے رسول سے انہیں حاصل ہو رہی ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ بہت اونچا ہے اگر انہوں نے اپنے فریضہ منصبی کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اسی طرح ان کے لئے سزا بھی بہت ہی سخت ہے اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا…اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27-1اس میں غزہ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسے کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقص عہد کر کے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا۔ چناچہ جنگ احزاب سے واپس آکر رسول اللہ ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل ؑ آگئے اور کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیئے ؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اس لئے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ چناچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کردی کہ عصر کی نماز وہاں جاکر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہوگئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا جو کم و بیش پچیس روز جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
22: اس زمین سے مراد خیبر ہے۔ خیبر میں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے، اور وہیں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ اس موقع پر اس آیت نے مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی کہ خیبر بھی کچھ عرصے میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہجرت کے ساتویں سال خیبر بھی فتح ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27)
بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔
بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
6 حضرت کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوگئے چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں۔ ان میں سے بعض نے آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی کہ ہم کو مزید نفقہ اور سامان دیا جائے جس سے عیش و ترفہ کی زندگی بسر کرسکیں حضرت کو یہ باتیں شاق گزریں۔ قسم کھالی کہ ایک مہینہ گھر میں نہ جائیں گے۔ مسجد کے قریب ایک بالا خانہ میں علیحدہ فروکش ہوگئے۔ صحابہ مضطرب تھے۔ ابوبکر و عمر اس فکر میں ہوئے کہ کسی طرح یہ گتھی سلجھ جائے۔ انھیں زیادہ فکر اپنی اپنی صاحبزادیوں (عائشہ اور حفصہ) کی تھی کہ پیغمبر کو ملول کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کر بیٹھیں۔ دونوں نے دونوں کو دھمکایا اور سمجھایا۔ پھر حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ انس اور بےتکلفی کی باتیں…
Read the full tafseer →جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس رکوع کے مضمون کا ربط پہلے رکوع کے مضمون کے ساتھ ہے۔ دراصل یہ پورا مضمون معاشرتی اصلاحات سے متعلق ہے جس کی پہلی قسط کے طور پر کچھ احکام یہاں اس سورت میں بیان ہوئے ہیں جبکہ ان احکام کی دوسری قسط سورة النور میں ہے جو ایک سال بعد 6 ہجری میں نازل ہوئی۔ ان اصلاحات میں عورتوں کے پردے کے بارے میں احکام بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے عرب میں عورتوں کے پردے کا رواج نہیں تھا۔ باہر نکلتے ہوئے عورتیں اگرچہ ایک بڑی سی چادر لپیٹ کر نکلتی تھیں لیکن وہ سر ڈھانپنے اور چہرہ چھپانے کا اہتمام نہیں کرتی تھیں۔ اسی طرح گھروں کے اندر بھی غیر محرم مردوں کا بےتکلف آنا جانا رہتا تھا…
Read the full tafseer →40 بیویوں کا آپ سے خرچ کا مطالبہ :۔ یہاں سے ایک بالکل نیا موضوع شروع ہوتا ہے۔ اموال غنیمت سے جب مسلمانوں میں کچھ آسودگی آگئی۔ تو ازواج مطہرات نے بھی آپ سے کچھ زائد اخراجات کا مطالبہ کردیا۔ حالات کے مطابق ان کا یہ مطالبہ کچھ ایسا ناجائز بھی نہ تھا۔ کیونکہ دوسرے سب مسلمان آسودہ ہو رہے تھے۔ مگر آپ کی فقرپسند طبیعت پر بیویوں کا یہ مطالبہ سخت شاق گزرا۔ اور آپ نے اسی کبیدگی طبع کی بنا پر ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے کنارہ کش رہنے کا ارادہ کرلیا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے :
1۔ سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں کہ : سیدنا عمر رسول اللہ ﷺ کے ہاں آئے اور اجازت چاہی، آپ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے…
Read the full tafseer →53۔ یعنی طلاق دے دوں کہ جہاں چاہو آزادی سے رہ کر دنیا حاصل کرو، فتح خیبر کے بعد جب مسلمانوں کو مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو، جو ظاہر ہے کہ نبی اور صاحب وحی نہ تھیں، محض امتی تھیں، قدرۃ یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہیے، اسی خواہش کا اظہار رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا اور ذرا تقاضا کے ساتھ، رسول، صاحب وحی کے قلب مبارک کی اذیت کے لیے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی، یہ آیتیں اس پر نازل ہوئیں۔ یہ اختیار دینے کو تو دیدیا گیا۔ لیکن اس کے مل جانے کے بعد حضرت عائشہ ؓ سے لے کر کسی ایک بیوی صاحبہ تک نے عیش دنیاکو ترجیح نہ دی، سب کی سب بدستور اللہ و رسول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…
Read the full tafseer →یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحًا جمیلاً اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی سجاوٹ کی خواستگار ہو تو آؤ میں تم کو سامان دے دوں اور خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔
زِیْنَتَھَا : یعنی روزی کی وسعت ‘ راحت اور دنیوی آرائش کی چیزیں۔
فَتَعَالَیْنَ : اس کا اصل لغوی ترجمہ ہے اوپر چڑھ آؤ ‘ لیکن عرف عام میں اس کا معنی ہوگیا : آؤ۔ اس جگہ مطلب یہ ہے کہ اپنے ارادے اور اختیار سے طلاق مانگنے آجاؤ۔
اُسَرِّحْکُنَّ : میں تم کو آزاد کر دوں ‘ یعنی طلاق دے دوں۔
سَرَاحًا جَمِیْلاً : یعنی بغیر ضرر پہنچائے تم کو آزاد کر دوں۔
Read the full tafseer →اے نبی آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مطلقہ جوڑہ دے دوں اور تمہیں سنت کے مطابق طلاق دے دوں۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ (الخ)
امام مسلم، امام احمد اور امام نسائی نے ابو الزبیر کے واسطہ سے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اکرم کی خدمت میں باریابی کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوئے انہیں اجازت نہیں دی گئی پھر حضرت عمر نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی مگر ان کو بھی نہ ملی اس کے بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی۔ چناچہ دونوں اند حاضر ہوئے رسول اکرم تشریف فرما تھے اور آپ کے چاروں طرف ازواج مطہرات بیٹھی…
Read the full tafseer →ۧيٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ۔۔ : نبی کریم ﷺ ہمیشہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے اور مال غنیمت میں سے خمس کا اختیار رکھنے کے باوجود سب کچھ ضرورت مندوں پر خرچ کردیتے۔ نتیجہ اس کا گھر میں تنگی و ترشی کے ساتھ گزارا تھا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَیَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ) [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي ﷺ و أصحابہ۔۔ : 6454 ] ”محمد ﷺ کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئے۔“ عائشہ ؓ ہی نے بیان فرمایا : (مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت یایھا النبی قل لازواجک ہمارے علماء کہا : یہ آیت اس گزری ہوئی کلام کے معنی کے ساتھ متصل ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے سے روکا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات میں سے بعض سے اذیت پہنچی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ازواج مطہرات نے نبی کریم ﷺ سے دنیاوی مال کا مطالبہ کیا تھا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کیا تھا (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے ایک دوسرے پر غیرت کا اظہار کر کے آپ ﷺ کو اذیت دی تھی (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان پر اس آیت کو تلاوت کریں اور دنیا وآخرت میں انہیں اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ازواج مطہرات کا آپ ﷺ سے نفقہ کا مطالبہ
1۔ احمد ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابی الزبیر کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور لوگ آپ کے دروازے پر جمع تھے اور نبی ﷺ تشریف فرما تھے مگر ان کو اجازت نہیں دی گئی۔ پھر ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کو اجازت مل گئی دونوں اندر داخل ہوئے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات آپ کے ارد گرد تھیں اور آپ خاموش تھے عمر ؓ نے فرمایا میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے بات کروں گا شاید کہ آپ مسکرا پڑیں۔ عمر نے فرمایا اگر میں کہ زید کی بیٹی (عمر ؓ کی بیوی) بھی مجھ سے نفقہ طلب کرے تو میں اسکی گردن مروڑ دوں یہ سنکر نبی ﷺ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّاَزْوَاجِكَ [اپنی ازواج سے ] [اِنْ كُنْتُنَّ : اگر تم لوگ ہو (کہ)] تُرِدْنَ [تم لوگ چاہتی ہو ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کو ] وَزِيْنَتَهَا [اور اس کی زینت کو ] فَتَعَالَيْنَ [تو تم سب آؤ] اُمَتِّعْكُنَّ [میں کچھ سامان دیتا ہوں تم سب کو ] وَاُسَرِّحْكُنَّ [اور میں آزاد کرتا ہوں تم کو ] سَرَاحًا جَمِيْلًا [خوبصورتی سے آزاد کرنا ] ۔
نوٹ۔ 1: غزوہ احزاب کے بعد بنو نضیر، پھر بنو قریظہ کی فتوحات اور اموال غنیمت کی تقسیم نے مسلمانوں میں ایک گونہ خوشحالی پیدا کردی تھی۔ اس وقت ازواج مطہرات کو یہ خٰال ہوا کہ ان اموال غنیمت میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو نصائح ضروریہ۔
آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ سے عَظِیْمًا) تک کا سبب نزول حضرات مفسرین کرام نے یہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ نے آپ ﷺ سے کچھ زیادہ خرچہ ملنے کی درخواست کی، اس وقت آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ (1) عائشہ بنت ابوبکر صدیق۔ (2) حفصہ بنت عمر۔ (3) ام حبیبہ بنت ابی سفیان۔ (4) ام سلمہ بنت ابی امیہ۔ (5) سودہ بنت زمعہ۔ (6) زینب بنت جحش۔ (7) میمونہ بنت حارث۔ (8) صفیہ بنت حی بن اخطب۔ (9) جویریہ بنت حارث۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کا یہ مطالبہ اچھا نہ لگا (بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، وہ سید الاولین والآخری نبی ﷺ کی بیویاں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
خطاب نصیحت مآب دربارہ مطالبہء ازواج مطہرات
از زینت دنیا کہ ایں ھم نوع از ایذاء بود
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایذا رسول ﷺ کی ممانعت اور مذمت کا ذکر تھا اور منافقوں کی ایذاؤں اور مطاعن کا ذکر اور جواب تھا اب آئندہ آیات میں ازواج مطہرات کی طرف سے جو ایک غیر اختیاری طور پر آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کی ایذا اور تکلیف پہنچی اس کا ذکر فرماتے ہیں جو اس سورت کے اعظم مقاصد میں سے ہے اور وہ تکلیف یہ تھی کہ ازواج مطہرات نے کچھ مزید نان ونفقہ کا مطالبہ کیا سو یہ مطالبہ بھی ایک قسم کی ایذا تھا اگرچہ ارادہ ایذا کا نہ تھا مگر بہرحال آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
33:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے دوسرا خطاب ہے اس میںحضور ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر دنیا کی عیش اور شان و شوکت چاہتی ہو تو یہ چیز تمہیں میرے گھر میں نہیں مل سکتی آؤ میں تمہیں طلاق دے کر اور جوڑا دے کر رخصت کردیتا ہوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کی عیش کو پسند کرتی ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ حضرت شیخ قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں پہلے مومنوں سے فرمایا کہ وہ رسم جاہلیت کو توڑنے میں پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دیں اور کفار و منافقین کی مخالفت کا مقابلہ کریں اور ہرگز نہ ڈریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ اب ازواج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق کا حال بیان کیا اور منافقوں کی مذمت بیان کی۔ پھر اللہ نے بنی قریظہ کی سرکوبی کا حکم دیا۔ چناچہ ان کو مغلوب کر کے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا ، اور ان کے مالوں ، زمینوں اور مکانات پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ پھر اللہ نے ایک اور سرزمین کی فتح کی خوشخبری دی جس کو 6 ھ میں فتح کیا گیا۔ یہ خیبر کی فتح تھی۔ وہاں سے بھی مسلمانوں کو کافی مال و دولت حاصل ہوا اور ان زمینوں کا خراج بھی ملنے لگا۔
ازواج مطہرات کا مطالبہ
مسلمانوں کی پے درپے فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال و دولت حاصل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 20
يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَہَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ترکیب : ان شرطیۃ و جو ابھا فتعلین امتعکن و اسرحکن بالجزم علیٰ انہ جواب للامر فتعالین و بالرفع علی الاستیناف للمحسنات متعلق باعد منکن حال من المحسنات او بیان لاتبعیض اجراء عظیما مفعول لاعد یضاعف جواب من یات۔
تفسیر : اس سورة میں پیشتر اخلاق انسانی کی اصلاح ہے اور اس مسئلہ کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ معاشرت کے متعلق سب سے اول بات احکام الہیہ کا اتباع ہے۔ کس لیے کہ عقول عالیہ جو مؤید بالالہام ہیں، معاشرت و تمدن میں رسم و رواج سے جو تغیرات واقع ہوئے ہیں ان کا فیصلہ انہی کے ہاتھ ہے، اس لیے سب سے اول خود آنحضرت ﷺ کو اتباع وحی کا حکم بڑی تاکید سے دیا، اس کے بعد ان لوگوں کی سرزنش کی جو سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّـاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً ۔ وَاِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَالدَّارَالْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْـکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 28، 29)
(اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے خوبی سے نباہ کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ )
آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 21 میں نبی کریم ﷺ کو امت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے اس کے بعد غزوہ احزاب کا اختتام اور انجام بیان کیا اب اہل بیت کے حوالے سے نبی کریم کا اسوہ بیان کیا جاتا ہے۔
اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے فرماؤ۔ کہ اگر تم دنیا اور اسکی آرائش وزیبائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں حسب توفیق دے کر اچھے طریقے کے ساتھ رخصت کرتا ہوں اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہو تو یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے بہترین اجر تیار کر رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے باپ تھے اور ازواج مطہرات گھر یلو خواتین تھیں انہیں کیا معلوم کہ صحابہ کرام ؓ کے معاشی حالات کیسے ہیں یہ بھی…
Read the full tafseer →طلب ِخوشی کا جواب :
28: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا (اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے فرمادیں۔ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی بہار چاہتی ہو) یعنی خوشحالی اور کثرت ِاموال فَتَعَالَیْنَ (تو آئو) ۔ یہ اصل میں تعال ہے۔ جو کسی بلند جگہ میں ہو اس کو نچلی جگہ والا بلانے کے لئے کہتا ہے پھر اس کا استعمال عام ہو کر اونچی، نیچی تمام جگہوں کیلئے ہونے لگا تعالین ؔ کا معنی اپنے ارادہ اور اختیار سے ایک امر کا چنائو کرلو۔ اس سے مراد جگہ سے اٹھ کرجانا نہیں ہے۔ جیسا کہ اس قول میں ہے قام یُھَدِّدُنِیْ (وہ مجھے دھمکانے لگا) ۔ اُمَتِّعْکُنَّ…
Read the full tafseer →28، یایھا النبی قل لا زواجکم ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن ، اس سے مراد متعتہ الطلاق (طلاق کے بعد کچھ کپڑے وغیرہ دینا مراد ہے) ۔ ، واسر حکن سراجا جمیلا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت نمبر : 29 ۔ 28
رسول اللہ کی ازواج مطہرات ؓ نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جاسکتا تھا مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی ہی رہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلا (زوجہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے معاملے کو آسان اور آپ کی زواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
حضور ﷺ نے اپنی ازواج کو اختیار دے دیا کہ چاہیں نکاح ہی میں رہیں یا طلاق لے لیں
قول باری ہے (یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا۔ اے نبی ﷺ ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی بہار کو مقصود رکھتی ہو) تاآخر آیت۔
ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع الجر جانی نے ، انہیں معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے، وہ فرماتی ہیں کہ جب آیت (وان کنتن تردن اللہ ورسولہ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو مقصود رکھتی ہو) نازل ہوئی تو حضور ﷺ سب سے پہلے میرے پاس آئے اور فرمایا : عائشہ ؓ ! میں تم سے ایک…
Read the full tafseer →51 ازواج مطہرات سے متعلق خطاب تخییر : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں۔ روایات کے مطابق غزوئہ احزاب کے بعد جب بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے اور ان میں خوشحالی آگئی تو اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی زوجات مطہرات نے اپنے نان و نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کیا جس کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری۔ آخر کار یہ آیات کریمات نازل ہوئیں جن کو آیات تخییر کہا جاتا ہے۔ جن میں ازواج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لیے خصوصی آیات
تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے بڑے خاص احکامات ہیں جو کہ دراصل تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔
ہوا یوں کہ جب غزوہ احزاب، بنو نضیر اور پھر بنوقریظہ کی فتوحات مکمل ہوگئیں تو مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا جو کہ تمام تقسیم کردیا گیا۔ انسانی فطرت کے تحت ازواج مطہرات نے بھی اپنے اخراجات کے لیے کچھ زیادہ کی فرمائش کردی جس پر نبی اکرم ﷺ کو بہت ناگوار ہوا کیونکہ آپ ﷺ تو ان دنیوی مال و اسباب سے بالکل محبت نہ رکھتے تھے۔ بلکہ آپ کو تو فقرو فاقہ اور درویشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیات 28 تا 34
اسرار ومعارف
جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی طلاق دے دوں حضرت ﷺ کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوئے چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں۔ بعض نے آنحضرت ﷺ سے زیادہ نفقہ اور متاع کا مطالبہ کیا، اس پر آنحضرت ﷺ کو ملال ہوا اور ایک ماہ تک کے لئے ایلا کرلیا یعنی قسم کھالی کہ تم سے مقاربت نہیں کروں گا۔ چناچہ آپ ﷺ نے ایک بالا خانہ میں تنہائی اختیار فرما لی کا ایک ماہ کے بعد یہ اور اگلی آیت نازل ہوئی۔ ( شوکانی و موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(33:29) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) سے اس نے تیار کیا ہوا ہے۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد ، عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کا مطلب ہوا کہ کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔
محسنت۔ محسنۃ کی جمع ہے جو محسن سے مؤنث ہے۔ اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ نیکو کار عورتیں۔
منکن۔ میں من تبعیض کے لئے ہے۔ تم میں سے وہ جو نیکوکار ہیں۔
اجرا عظیما۔ موصوف و صفت نصب بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34
کنتن : تم ہو
تعالین : تم سب آجاؤ
امتع : میں سامان دوں گا
اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں
یضعف : وہ دو گنا کردے گا
یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی
مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا
اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو
لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو
یطمع : وہ لالچ کرے گا
قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں
تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا
الرجس : گندگی ۔ آلودگی
اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ
یتلی : تلاوت کیا گیا
خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت
تشریح آیت نمبر 28 تا 34
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(ف 1) شان نزول :
بنی قریظہ کے قصہ کے بعد نبی ﷺ کی بیویوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنی قریظہ کا اکثر مال نبی ﷺ نے مہاجرین کودے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدرآسودگی ہوگئی تھی مہاجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر نبی ﷺ کی بیویوں کو آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے نبی سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کردی، نبی ﷺ کو تو سامان دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارہ ہی نہ تھا اس لیے آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے اس رنج کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ﷺ تم اپنی بی بی سے فرمادو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 1: جنگ احزاب میں جو مخالفین کو شکست ہوئی ۔ وہ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمزوروں کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ اور مایوسوں کی مایوسی کو امیدوکامیابی میں بدل دیتے ہیں ۔ اللہ کا قانون اور مخلصی کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔ اور بظاہریاس کے بادل دلوں پر چھا جائیں ۔ عین اس وقت وہ بڑھے ۔ اور فرشتوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہو ۔ اور مخالفین کی صفوں میں ہلچل مچا دے ۔ وہ ہمیشہ سے اپنے قوی و عزیز ہونے کا ثبوت دیتا آیا ہے ۔ اس نے اپنی غیر متوقع اعانتوں سے دائماً اپنے بندوں کو یقین دلایا ہے ۔ کہ مادی قوتیں اس کے مقابلہ میں پرکاہ کے برابر وقعت نہیں رکھتیں ۔ وہ جب چاہے اور جن وسائل سے چاہے ۔ دشمنوں کو…
Read the full tafseer →28۔ اے نبی آپ اپنی ازواج یعنی بیویوں سے فرما دیجئے اگر تم دنیا کی زندگی کا عیش اور اس زندگی کی بہار اور ساز و سامان چاہتی ہو تو آئو میں تم کو کچھ مال و متاع دیدوں اور تم کو خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ مال و متاع شاید اس سے وہ جوڑا مراد ہو جو مطلقہ عورت کو دیا جاتا ہے ، خیبر کی فتح کے بعد جیسا کہ ہم نے کہا مسلمان کچھ آسودہ اور مرفہ الحال ہوگئے تھے ازواج مطہرات نے متفقہ طور پر نان و نفقہ کی زیادتی کا مطالبہ کردیا ۔
ازواج مطہرات کی تعداد اس وقت نو تھی ۔ عائشہ بنت ابوبکر ، حفصہ بنت عمر ، ام حبیبہ بنت ابو سفیان ، ام سلمہ بنت امیہ ، سودہ بن زمعہ ، زینب بنت حجش ، میمونہ بنت حارث ، صفیہ بنت حییی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 3۔ ازواج مطہرات ؓ کے کچھ زائد سامان دنیوین تقاضے کے ساتھ مانگنے سے جس کو وہ غلطی سے زائد نہ سمجھی تھیں آپ کے قلب مبارک کو ایذا پہنچی، حتی کہ آپ ناخوش ہو کر ایک مہینے کے لئے سب سے الگ ہوگئے، یہ آیتیں اس کے متعلق حضرات امہات المومنین کی فہمائش کے لئے ارشاد ہوئیں۔ اور غالبا اس مانگنے کی وجہ یہ ہوئی ہو کہ فتح خیبر وغیرہ سے کسی قدر مالی وسعت حاصل ہوگئی تھی تو اپنے خیال میں وہ اس کو موجب تکلیف نہیں سمجھیں۔ اور یہ قصہ بعد فتح خیبر کے واقع ہوا۔ چناچہ اس وقت حضرت صفیہ ؓ بھی آپ کے نکاح میں تھیں جو خیبر سے حاصل ہوئی تھیں۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح کے لئے پہلا قدم رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے اٹھایا گیا
28 ۔ یہ ہجرت کا پانچواں سال جارہا ہے مہاجرین کو مدینہ میں آباد ہوئے چار ساڑھے چال سال گزر رہے ہیں الحمد للہ اب مشکل اوقات رخصت ہوتے نظرآتے ہیں اسی وقت تک جب تک خندق کھودی جارہی تھی حالات نازک سے نازک تر ہی ہوتے گئے لیکن جنگ احزاب کے بعد اور بنو قریظہ کی طرف سے بہت مال اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تو لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور جس طرح سب کو معلوم ہے کہ مال آئے تو کیا ہوتا ہے وہی کچھ ہوا یہ صحیح کہ بنو قریظہ کی طرف سے بہت سا مال آیا لیکن ساتھ ہی بنو قریظہ کے قبیلے کے نو دس ہزار آدمی بھی قیدی بنائے گئے اور ان کے قیام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
Commentary
Out of the objectives of this Surah, the most important is the stress placed on avoiding everything that may cause pain to the Holy Prophet ﷺ . In addition to that, there is a reiteration of instructions to obey him and seek his pleasure. Mentioned in connection with the event of the battle of al-Ahzab appearing immediately earlier was the pain caused to the Holy Prophet ﷺ at the hands of the disbelievers and hypocrites. Along with it, also mentioned there was their ultimate disgrace and the victory and success that came to the Holy Prophet ﷺ on every occasion. Also praised there…
Read the full tafseer →41 The verses from here to 35 were sent down in the period contiguous to the Battle of the Trench and the raid on Bani Quraizah, whose background we have touched upon in the Introduction to this Surah. According to a tradition related in Muslim on the authority of Hadrat Jabir bin `Abdullah, "One day when Hadrat Abu Bakr and Hadrat 'Umar visited the Holy Prophet, they saw that his wives were sitting around him and he was quiet. Addressing Hadrat `Umar, he said: `They are sitting around me as you see: they are asking for money for household expenditure'." At this both the Companions rebuked…
Read the full tafseer →