Al-Ahzaab 33:29

Al-Ahzaab · from ayah 29

33:29

وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ۟وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if you should desire Allah and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allah has prepared for the doers of good among you a great reward."

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:29

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کی طلب گار ہو تو بیشک اﷲ نے تم میں نیکوکار بیبیوں کے لئے بہت بڑا اَجر تیار فرما رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بیشک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم اللہ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لئے ایک اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم اللہ اس کے رسول اور اور دار آخرت کی طالب ہو تو یقینا اللہ نے تیار کر رکھا ہے تم میں سے نیکوکاروں کے لئے ایک بہت ہی بڑا اجر

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم مقصود رکھتی ہو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو۔ تو اللہ نے تم میں سے نیک کرداروں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم اللہ اس کے پیغمبر اور آخرت کی خواہشمند ہو تو تم میں جو نیکی کرنے والی ہیں (پاکباز) ان کے لیے اللہ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if you seek Allah and His Messenger and the Abode of the Hereafter, then surely Allah has prepared a great reward for those of you who do good.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but if you intend (to gain the pleasure of) Allah and His messenger and (the betterment of) the Hereafter, then, Allah has prepared a great reward for those of you who are good in their deeds .

— Muhammad Taqi Usmani

but if you intend (to gain the pleasure of) Allah and His messenger and (the betterment of) the Hereafter, then, Allah has prepared a great reward for those of you who are good in their deeds .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"But if you desire Allah and His Messenger, and the Home of the Hereafter, then verily, Allah has prepared for the doers of good among you an enormous reward."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if ye desire Allah and His messenger and the abode of the Hereafter, then lo! Allah hath prepared for the good among you an immense reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if you should desire Allah and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allah has prepared for the doers of good among you a great reward."

— Saheeh International

but if you want the pleasure of God, His Messenger, and the life hereafter, know that God has prepared a great reward for the righteous ones among you."

— Muhammad Sarwar

And if you desire Allah and His Apostle and the latter abode, then surely Allah has prepared for the doers of good among you a mighty reward.

— Muhammad Habib Shakir

And if ye seek Allah and His apostle and the abode of the Hereafter, then verily Allah hath gotten ready for the well-doers among you a mighty hire.

— Abdul Majid Daryabadi

But if ye seek Allah and His Messenger, and the Home of the Hereafter, verily Allah has prepared for the well-doers amongst you a great reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–29

امہات المومنین سے پرسش ! دین یا دنیا ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کردیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول ﷺ کی رضامندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گذارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول ﷺ کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 42 اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، حضرت سودہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، اور حضرت ام سلمہ ؓ۔ ابھی حضرت زینب ؓ سے حضور ﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ (احکام لابن العربی طبع مصر 1958 عیسوی، جلد 3، ص 13۔ 1512)۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ سے گفتگو کی اور فرمایا " میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، جواب دینے میں جلدی نہ کرنا، اپنے والدین کی رائے لے لو، پھر فیصلہ کرو " پھر حضور ﷺ نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے اور یہ آیت ان کو سنا دی۔ انھوں نے عرض کیا، " کیا اس معاملہ کو میں اپنے والدین سے پوچھوں ؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–29

خلاصہ تفسیر اے نبی ﷺ آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجئے (تم سے دو ٹوک بات کہی جاتی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے قصہ ایک طرف ہو وہ بات یہ ہے کہ) تم اگر دنیوی زندگی (کی عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ (یعنی لینے کے لئے متوجہ ہو) میں تم کو کچھ (مال و) متاع (دنیوی) دے دوں (یا تو مراد اس سے وہ جوڑا ہے جو مطلقہ مدخولہ کو بوقت طلاق دینا مستحب ہے یا مراد نان نفقہ عدت کا ہے، یا دونوں کو شامل ہے) اور (متاع دے کر) تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں (یعنی موافق سنت کے طلاق دے دوں تاکہ جہاں چاہو جا کر دنیا حاصل کرو) اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور (مطلب اللہ کو چاہنے کا اس جگہ یہ ہے کہ) اس کے رسول کو (چاہتی ہو، یعنی فقر و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 35 اوپر کے پیرے میں عام مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع کرنے کے بعد آگے ازواج نبی ﷺ کو خطاب کرکے ان کو منافقین اور منافقات کے فتنوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین فرمائی ہے کہ ان کی کو ششیہ ہے کہ ازواج نبی ؓ کے دلوں میں بھی طلب دنیا کی بیماری پیدا کریں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی رفاقت کے لئے اس لئے چنا ہے کہ وہ اس کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذریعہ نہیں جو اللہ کے رسول سے انہیں حاصل ہو رہی ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ بہت اونچا ہے اگر انہوں نے اپنے فریضہ منصبی کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اسی طرح ان کے لئے سزا بھی بہت ہی سخت ہے اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا…اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29-1فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے کی نسبت کچھ بہتر ہوگئی تو انصار اور مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان نَفَقَہ میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔ نبی ﷺ چونکہ نہایت سادگی پسند تھے، اس لئے ازواج مطہرات کے اس مطالبے پر سخت کبیدہ خاطر ہوئے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی جو ایک مہینہ جاری رہی بالآخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ اس کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضرت عائشہ کو یہ آیت سنا کر انھیں اختیار دیا تاہم انھیں کہا کہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی بجائے اپنے والدین سے مشورے کے بعد کوئی اقدام کرنا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–31

23: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات یوں تو ہر قسم کے سرد و گرم حالات میں بڑی استقامت سے آپ کا ساتھ دیتی آئی تھیں، لیکن جنگ احزاب اور جنگ بنو قریظہ میں فتوحات کے بعد مسلمانوں کو کچھ مالی خوش حالی حاصل ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس تنگی ترشی میں وہ اب تک گذارہ کرتی رہی ہیں، اب اس میں کچھ تبدیلی آنی چاہیے، چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس خیال کا ذکر بھی کردیا، اور یہ مثال بھی دی کہ قیصر و کسری کی بیگمات بڑی سج دھج کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی خدمت کے لیے کنیزیں موجود ہیں، اب جبکہ مسلمانوں میں خوشحالی آچکی ہے، ہمارے نفقے میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اگرچہ ازواج…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 28–29

6 حضرت کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوگئے چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں۔ ان میں سے بعض نے آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی کہ ہم کو مزید نفقہ اور سامان دیا جائے جس سے عیش و ترفہ کی زندگی بسر کرسکیں حضرت کو یہ باتیں شاق گزریں۔ قسم کھالی کہ ایک مہینہ گھر میں نہ جائیں گے۔ مسجد کے قریب ایک بالا خانہ میں علیحدہ فروکش ہوگئے۔ صحابہ مضطرب تھے۔ ابوبکر و عمر اس فکر میں ہوئے کہ کسی طرح یہ گتھی سلجھ جائے۔ انھیں زیادہ فکر اپنی اپنی صاحبزادیوں (عائشہ اور حفصہ) کی تھی کہ پیغمبر کو ملول کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کر بیٹھیں۔ دونوں نے دونوں کو دھمکایا اور سمجھایا۔ پھر حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ انس اور بےتکلفی کی باتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا } ”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ اب آپ لوگوں کی مرضی ہے کہ دنیا اور اس کی آسائشیں حاصل کرنے کا راستہ اختیار کر لویا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتے ہوئے فقر و فاقہ کی زندگی قبول کرلو۔ اس آیت کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ حضرت سودہ ‘ حضرت عائشہ ‘ حضرت حفصہ اور حضرت اُمّ سلمہ رض۔ ابھی حضرت زینب رض سے حضور ﷺ کا نکاح نہیں ہوا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 آیت تخییر :۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکمل اختیار دیا تھا کہ آپ چاہیں تو ایسی اجتماعی طور پر خرچ کے اضافہ کا مطالبہ کرنے اور اس طرح دباؤ ڈالنے والی بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کردیں اور چاہیں تو اپنے پاس رکھیں۔ بشرطیکہ آئندہ وہ آپ کو اس سلسلہ میں پریشان نہ کریں۔ آپ نے ایک ماہ کے ایلاء (بیویوں سے الگ رہنے) کا فیصلہ کیا تھا۔ انتیس دن گزرنے کے بعد آپ مسجد کے بالا خانہ سے واپس اپنے گھر تشریف لائے سب سے پہلے سیدہ عائشہ ؓ ہی کے گھر آئے۔ پھر جس طرح آپ نے اس اختیار کو استعمال کیا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : خ بیویوں کا جواب :۔ 1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : جب آپ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ یعنی اگر تم عالم آخرت کے ان مدارج عالی کو دوست رکھتی ہو جو زوجیت رسول پر مرتب ہونے والے ہیں۔ اور رسول کی زوجیت میں صبر و قناعت کے ساتھ بسر کرنے پر تیار ہو۔ 55۔ یعنی جنت میں وہ درجات عالیہ جو زوجات نبی کے لیے مخصوص ہیں۔ (آیت) ” منکن “۔ من۔ بیانیہ ہے۔ تبعیضیہ نہیں۔ ازواج نبی تو محسنات سب کی سب تھیں۔ یہ نہیں کہ بعض ان میں نہ ہوں۔ من للتبیین لانھن کلھن جمن محسنات (بیضاوی) من لبیان لاللتبعیض (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاخرۃ . اور اگر تم اللہ (کے قرب و رضامندی) کی اور اس کے رسول (کے قرب) کی اور دار آخرت (کی راحت و آسائش) کی خواستگار ہو۔ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجر عظیما . تو بلاشبہ اللہ نے تم میں سے نیکوکاروں کیلئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ یعنی ان عورتوں کیلئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے جو اللہ ‘ اس کے رسول اور دار آخرت کی طلب گار ہیں ‘ ایسی ہی عورتیں مُحْسِنہ ہیں۔ احسان کا معنی ہی یہ ہے کہ رب کی عبادت اس حضور قلب سے کی جائے کہ گویا رب نظروں کے سامنے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں رسول اللہ کی نو بیبیاں تھیں ‘ پانچ قریشی حضرت عائشہ بنت ابوبکر ‘ حضرت حفصہ بنت عمر فاروق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو پسند کرتی اور جنت کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے نیک کرداروں کے لیے جنت میں اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : اور دوسری یہ کہ اگر تم اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو اور اس کے لیے تنگی ترشی کی زندگی پر صبر کرسکتی ہو تو تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ : شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”یہ جو فرمایا ”لِلْمُحْسِنٰتِ“ (جو نیکی پر رہیں) تو آپ ﷺ کی ازواج سب نیک ہی رہیں، مگر حق تعالیٰ صاف خوش خبری کسی کو نہیں دیتا، تاکہ نڈر نہ ہوجائے، خاتمہ کا ڈر لگا رہے۔“ اَجْرًا عَظِيْمًا : مفسر آلوسی نے فرمایا : ”جب ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا اور انھوں نے اللہ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–29

اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت یایھا النبی قل لازواجک ہمارے علماء کہا : یہ آیت اس گزری ہوئی کلام کے معنی کے ساتھ متصل ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے سے روکا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات میں سے بعض سے اذیت پہنچی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ازواج مطہرات نے نبی کریم ﷺ سے دنیاوی مال کا مطالبہ کیا تھا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کیا تھا (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے ایک دوسرے پر غیرت کا اظہار کر کے آپ ﷺ کو اذیت دی تھی (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان پر اس آیت کو تلاوت کریں اور دنیا وآخرت میں انہیں اختیار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

ازواج مطہرات کا آپ ﷺ سے نفقہ کا مطالبہ 1۔ احمد ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابی الزبیر کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور لوگ آپ کے دروازے پر جمع تھے اور نبی ﷺ تشریف فرما تھے مگر ان کو اجازت نہیں دی گئی۔ پھر ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کو اجازت مل گئی دونوں اندر داخل ہوئے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات آپ کے ارد گرد تھیں اور آپ خاموش تھے عمر ؓ نے فرمایا میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے بات کروں گا شاید کہ آپ مسکرا پڑیں۔ عمر نے فرمایا اگر میں کہ زید کی بیٹی (عمر ؓ کی بیوی) بھی مجھ سے نفقہ طلب کرے تو میں اسکی گردن مروڑ دوں یہ سنکر نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ كُنْتُنَّ [اور اگر تم لوگ ہو (کہ)] تُرِدْنَ [تم لوگ چاہتی ہے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو ] وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ [اور آخری گھر کو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ نے ] اَعَدَّ [تیار کیا ] لِلْمُحْسِنٰتِ [نیکی کرنے والیوں کے لئے ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] اَجْرًا عَظِيْمًا [ایک اجر عظیم ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو نصائح ضروریہ۔ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ سے عَظِیْمًا) تک کا سبب نزول حضرات مفسرین کرام نے یہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ نے آپ ﷺ سے کچھ زیادہ خرچہ ملنے کی درخواست کی، اس وقت آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ (1) عائشہ بنت ابوبکر صدیق۔ (2) حفصہ بنت عمر۔ (3) ام حبیبہ بنت ابی سفیان۔ (4) ام سلمہ بنت ابی امیہ۔ (5) سودہ بنت زمعہ۔ (6) زینب بنت جحش۔ (7) میمونہ بنت حارث۔ (8) صفیہ بنت حی بن اخطب۔ (9) جویریہ بنت حارث۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کا یہ مطالبہ اچھا نہ لگا (بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، وہ سید الاولین والآخری نبی ﷺ کی بیویاں تھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–29

خطاب نصیحت مآب دربارہ مطالبہء ازواج مطہرات از زینت دنیا کہ ایں ھم نوع از ایذاء بود قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ایذا رسول ﷺ کی ممانعت اور مذمت کا ذکر تھا اور منافقوں کی ایذاؤں اور مطاعن کا ذکر اور جواب تھا اب آئندہ آیات میں ازواج مطہرات کی طرف سے جو ایک غیر اختیاری طور پر آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کی ایذا اور تکلیف پہنچی اس کا ذکر فرماتے ہیں جو اس سورت کے اعظم مقاصد میں سے ہے اور وہ تکلیف یہ تھی کہ ازواج مطہرات نے کچھ مزید نان ونفقہ کا مطالبہ کیا سو یہ مطالبہ بھی ایک قسم کی ایذا تھا اگرچہ ارادہ ایذا کا نہ تھا مگر بہرحال آپ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

33:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے دوسرا خطاب ہے اس میںحضور ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر دنیا کی عیش اور شان و شوکت چاہتی ہو تو یہ چیز تمہیں میرے گھر میں نہیں مل سکتی آؤ میں تمہیں طلاق دے کر اور جوڑا دے کر رخصت کردیتا ہوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کی عیش کو پسند کرتی ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ حضرت شیخ قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں پہلے مومنوں سے فرمایا کہ وہ رسم جاہلیت کو توڑنے میں پیغمبر (علیہ السلام) کا ساتھ دیں اور کفار و منافقین کی مخالفت کا مقابلہ کریں اور ہرگز نہ ڈریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ اب ازواج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–31

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق کا حال بیان کیا اور منافقوں کی مذمت بیان کی۔ پھر اللہ نے بنی قریظہ کی سرکوبی کا حکم دیا۔ چناچہ ان کو مغلوب کر کے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا ، اور ان کے مالوں ، زمینوں اور مکانات پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ پھر اللہ نے ایک اور سرزمین کی فتح کی خوشخبری دی جس کو 6 ھ میں فتح کیا گیا۔ یہ خیبر کی فتح تھی۔ وہاں سے بھی مسلمانوں کو کافی مال و دولت حاصل ہوا اور ان زمینوں کا خراج بھی ملنے لگا۔ ازواج مطہرات کا مطالبہ مسلمانوں کی پے درپے فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال و دولت حاصل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا۝ 29 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–30

ترکیب : ان شرطیۃ و جو ابھا فتعلین امتعکن و اسرحکن بالجزم علیٰ انہ جواب للامر فتعالین و بالرفع علی الاستیناف للمحسنات متعلق باعد منکن حال من المحسنات او بیان لاتبعیض اجراء عظیما مفعول لاعد یضاعف جواب من یات۔ تفسیر : اس سورة میں پیشتر اخلاق انسانی کی اصلاح ہے اور اس مسئلہ کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ معاشرت کے متعلق سب سے اول بات احکام الہیہ کا اتباع ہے۔ کس لیے کہ عقول عالیہ جو مؤید بالالہام ہیں، معاشرت و تمدن میں رسم و رواج سے جو تغیرات واقع ہوئے ہیں ان کا فیصلہ انہی کے ہاتھ ہے، اس لیے سب سے اول خود آنحضرت ﷺ کو اتباع وحی کا حکم بڑی تاکید سے دیا، اس کے بعد ان لوگوں کی سرزنش کی جو سخت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّـاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً ۔ وَاِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَالدَّارَالْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْـکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 28، 29) (اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے خوبی سے نباہ کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ ) آیات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–29

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 میں نبی کریم ﷺ کو امت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے اس کے بعد غزوہ احزاب کا اختتام اور انجام بیان کیا اب اہل بیت کے حوالے سے نبی کریم کا اسوہ بیان کیا جاتا ہے۔ اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے فرماؤ۔ کہ اگر تم دنیا اور اسکی آرائش وزیبائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں حسب توفیق دے کر اچھے طریقے کے ساتھ رخصت کرتا ہوں اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہو تو یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے بہترین اجر تیار کر رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے باپ تھے اور ازواج مطہرات گھر یلو خواتین تھیں انہیں کیا معلوم کہ صحابہ کرام ؓ کے معاشی حالات کیسے ہیں یہ بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29: وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ (اور اگر تم اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول اور آخرت والے گھر کو چاہتی ہو) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (پس اللہ تعالیٰ نے نیک کرداروں کیلئے تم میں سے اجر عظیم تیار کررکھا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29، وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الا خرۃ فان اللہ اعد للمحسنا ت منکن اجرا عظیما، امہات المؤمنین نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ دینوی سازوسامان مانگا اور مصارف میں کچھ وسعت کی طلب گار ہوئیں ۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کو کچھ اذیت ہوئی اس لیے آپ ﷺ سب بیویوں سے کنا رہ کش ہوگئے اور قسم کھالی کہ ایک ماہ تک کسی کے پاس نہیں جائیں گے اور کاشانہ نبوت سے برآمد بھی نہیں ہوئے ۔ صحابہ ؓ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں تم کو بتاؤں گا کہ اصل بات کیا ہے۔ آیت وان کنتن تردن اللہ کا شان نزول حضرت عمر رضی الہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ؟ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–32

28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–29

آیت نمبر : 29 ۔ 28 رسول اللہ کی ازواج مطہرات ؓ نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جاسکتا تھا مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی ہی رہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلا (زوجہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے معاملے کو آسان اور آپ کی زواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–29

حضور ﷺ نے اپنی ازواج کو اختیار دے دیا کہ چاہیں نکاح ہی میں رہیں یا طلاق لے لیں قول باری ہے (یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا۔ اے نبی ﷺ ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی بہار کو مقصود رکھتی ہو) تاآخر آیت۔ ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع الجر جانی نے ، انہیں معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے، وہ فرماتی ہیں کہ جب آیت (وان کنتن تردن اللہ ورسولہ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو مقصود رکھتی ہو) نازل ہوئی تو حضور ﷺ سب سے پہلے میرے پاس آئے اور فرمایا : عائشہ ؓ ! میں تم سے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52 ازواج مطہرات کیلئے اجر عظیم کا وعدہ : سو اس آیت کریمہ میں ازواج مطہرات کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کی بشارت و خوشخبری ہے جو اتنا بڑا اجر ہوگا کہ اس کی عظمت اور بڑائی کا کوئی کنارا نہیں۔ یہاں پر { منکن } میں " من " تبعیضیہ نہیں بیانیہ ہے کہ نبی کی ساری ہی بیویاں محسنات تھیں اور ہیں۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے ۔ { اَلطَّیِّبٰتُ للطِّیِّبِیْن وَالطِّیِّبُوْنَ للطَّیِّبَات } ۔ پس نبی کی کسی بھی زوجہ مطہرہ پر جو کوئی زبان دراز کرے گا اور ان کے بارے میں یا وہ گوئی سے کام لے گا وہ بڑا ہی ملعون اور دجال ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر انکو مطلقاً یہ خوشخبری دینے کی بجائے اس کو صفت احسان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–30

نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لیے خصوصی آیات تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے بڑے خاص احکامات ہیں جو کہ دراصل تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب غزوہ احزاب، بنو نضیر اور پھر بنوقریظہ کی فتوحات مکمل ہوگئیں تو مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا جو کہ تمام تقسیم کردیا گیا۔ انسانی فطرت کے تحت ازواج مطہرات نے بھی اپنے اخراجات کے لیے کچھ زیادہ کی فرمائش کردی جس پر نبی اکرم ﷺ کو بہت ناگوار ہوا کیونکہ آپ ﷺ تو ان دنیوی مال و اسباب سے بالکل محبت نہ رکھتے تھے۔ بلکہ آپ کو تو فقرو فاقہ اور درویشانہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

آیات 28 تا 34 اسرار ومعارف جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب آیت تخبیر ( یعنی یہ آیت) نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلے مجھ سے گفتگو کی اور مجھے یہ دونوں آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند کرتی ہوں اسی طرح سب بیویوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند کیا اور یہ جو فرمایا کہ جو نیک ہیں ان کو بڑا نیگ ( اجر) ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ازواج ؓ سب نیک ہی رہیں۔” الطیبات للطیبین “ مگر اللہ تعالیٰ صاف خوشخبری کسی کو نہیں دیتا مانڈر نہ ہوجاوے، خاتمے کا ڈر لگا ہے۔ ( موضح) کوئی شخص اپنی بیوی کو ” خیار “ دے دے اور عورت خاوند کو پسند کرلے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ہاں اگر عورت علیحدگی پسند کرلے تو ایک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(33:29) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) سے اس نے تیار کیا ہوا ہے۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد ، عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کا مطلب ہوا کہ کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔ محسنت۔ محسنۃ کی جمع ہے جو محسن سے مؤنث ہے۔ اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ نیکو کار عورتیں۔ منکن۔ میں من تبعیض کے لئے ہے۔ تم میں سے وہ جو نیکوکار ہیں۔ اجرا عظیما۔ موصوف و صفت نصب بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–34

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34 کنتن : تم ہو تعالین : تم سب آجاؤ امتع : میں سامان دوں گا اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں یضعف : وہ دو گنا کردے گا یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو یطمع : وہ لالچ کرے گا قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا الرجس : گندگی ۔ آلودگی اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ یتلی : تلاوت کیا گیا خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت تشریح آیت نمبر 28 تا 34 اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–30

(ف 1) شان نزول : بنی قریظہ کے قصہ کے بعد نبی ﷺ کی بیویوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنی قریظہ کا اکثر مال نبی ﷺ نے مہاجرین کودے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدرآسودگی ہوگئی تھی مہاجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر نبی ﷺ کی بیویوں کو آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے نبی سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کردی، نبی ﷺ کو تو سامان دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارہ ہی نہ تھا اس لیے آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے اس رنج کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ﷺ تم اپنی بی بی سے فرمادو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–32

[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–31

کاشانہ نبوت 1: بات یہ تھی کہ کاشانہ نبوت میں عجمی بادشاہوں کی طرح دولت کی نمود نہیں تھی ۔ امراء اور مالداروں کی سی حالت نہیں تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو وہاں ضروریات زندگی کا بھی فقدان تھا ۔ اس لئے بالصبع پردہ نقسیان کرم نبوت کو بتقاضائے بشریت بعض دفعہ اس کا احساس ہوتا اور وہ طول خاطر ہوجائیں ایک دفعہ تو وہ اس دکھ کے اظہار پر مجبور ہوگئیں ۔ حضور ﷺ نے جب یہ سنا ۔ تو آپ کو بدرجہ غایت رنج ہوا ۔ آپ نے عہد کرلیا ۔ کہ ایک مہینہ تک ان خواتیں کے پاس نہ جائیں گے ۔ اس کے بعد تسکین خاطر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ اے پیغمبر اپنی محترم مخدرات سے کہہ دیجئے ۔ کہ میرے ہاں روح وقلب کی زینت و آرائش کا سامان تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

29۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور دار آخرت اور پچھلے گھر کا ارادہ رکھتی ہو اور چاہتی ہو تویقینا اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک کردار اور نیکوکاروں کے لئے بہت بڑا ثواب مہیا کر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوئے چاہا ہم بھی آسودہ ہوں بعضوں نے بول چال کی حضرت نے قسم کھائی کہ ایک مہینے گھر میں نہ جاویں پھر مہینے کے بعد یہ آیت اتری حضرت گھر میں آئے اول حضرت عائشہ ؓ سے کہا انہوں نے اللہ اور رسول کی مرضی اختیار کی پھر اسی طرح سب ! حضرت کے ہاں ہمیشہ فقر و فاقہ تھا اپنے اختیار سے جو آتا تھا شتاب اٹھا ڈالتے تھے ، پھر قرض لینا پڑتا تھا یہ جو فرمایا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

ف 3۔ ازواج مطہرات ؓ کے کچھ زائد سامان دنیوین تقاضے کے ساتھ مانگنے سے جس کو وہ غلطی سے زائد نہ سمجھی تھیں آپ کے قلب مبارک کو ایذا پہنچی، حتی کہ آپ ناخوش ہو کر ایک مہینے کے لئے سب سے الگ ہوگئے، یہ آیتیں اس کے متعلق حضرات امہات المومنین کی فہمائش کے لئے ارشاد ہوئیں۔ اور غالبا اس مانگنے کی وجہ یہ ہوئی ہو کہ فتح خیبر وغیرہ سے کسی قدر مالی وسعت حاصل ہوگئی تھی تو اپنے خیال میں وہ اس کو موجب تکلیف نہیں سمجھیں۔ اور یہ قصہ بعد فتح خیبر کے واقع ہوا۔ چناچہ اس وقت حضرت صفیہ ؓ بھی آپ کے نکاح میں تھیں جو خیبر سے حاصل ہوئی تھیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر تم کو اللہ ، رسول اور آخرت کی اچھی زندگی کی چاہت ہے تو اجر عظیم کے مستحق ہو 29 ۔ گزشتہ آیت میں تو زندگی کا ایک رخ تھا اب دوسرا رخ بھی تمہارے سامنے ہے اور وہ ہے کہ مقصود اصل یہ دنیوی زندگی نہیں بلکہ اس کے عوض میں آخرت کی اچھی زندگی اصل طلب حقیقی ہے تو تمہارا اور میرا نظریہ ایک ہے اور ظاہر ہے کہ نظریہ ایک ہو تو زندگی کا اصل لطف حاصل ہوتا ہے اور اگر نظریات کا اختلاف ہو تو دنیوی زندگی ہی جہنم کا سماں پیدا کردیتی ہے۔ دلوں کے راز اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو دلوں کے رازوں سے واقف ہو اگر تمہارا نظریہ اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کی زندگی اصل مقصود ہے تو بلا شبہ اسی نظریہ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

Commentary Out of the objectives of this Surah, the most important is the stress placed on avoiding everything that may cause pain to the Holy Prophet ﷺ . In addition to that, there is a reiteration of instructions to obey him and seek his pleasure. Mentioned in connection with the event of the battle of al-Ahzab appearing immediately earlier was the pain caused to the Holy Prophet ﷺ at the hands of the disbelievers and hypocrites. Along with it, also mentioned there was their ultimate disgrace and the victory and success that came to the Holy Prophet ﷺ on every occasion. Also praised there…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 At the time when this verse was sent down, the Holy Prophct had four wives with him: Hadrat Saudah, Hadrat 'A'ishah, Hadrat Hafsah and Hadrat Umm Salamah. He had not yet married Hadrat Zainab. (Ibn `Arabia Ahkam ai-Qur an. Egyptian Edition, 1958, vol. III, pp. 512-13). When this verse was revealed, he first spoke to Hadrat 'A'ishah, and said: "I ask you a thing; do not be hasty in answering; consult your parents, then decide." Then he told her of Allah's Command and recited this verse. She replied: "Should I consult my parents about this?-I seek Allah and His Messenger and the Hereafter.…

Read the full tafseer →