Al-Ahzaab 33:30

Al-Ahzaab · from ayah 30

33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ ؕ— وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ یَسِیْرًا ۟يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ ‌ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا

اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allah, easy.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:30

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا اور یہ اللہ کو آسان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے اَزواجِ نبیِ (مکرّم!) تم میں سے کوئی ظاہری معصیت کی مرتکب ہو تو اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا، اور یہ اﷲ پر بہت آسان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی بےحیائی (عمل میں) لائے گی اس کے لیے عذاب دوگنا بڑھایا جائے گا اور یہ بات اللہ پر ہمیشہ سے آسان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی کی بیویو ! تم سے جو کوئی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے تو اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔ اور یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بےحیائی کی مرتکب ہوگی تو اس کے لئے دو چند عذاب ہے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جس کسی نے ارتکاب کیا کسی کھلی بےحیائی کا تو اس کو (عام عورتوں کے مقابلے میں) دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لئے بڑا آسان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی کی بیویو تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی تو اسے دہری سزا دی جائے گی۔ اور یہ اللہ کے لئے (بالکل) آسان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ حرکت کرے گی تو اس کو دو گنا زیادہ سزا دری جائے گی اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Wives of the Prophet, if any of you commit flagrant indecency, her chastisement shall be doubled. That is easy for Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O wives of the Prophet, whoever from among you will commit a clearly shameful act, the punishment will be doubled for her; and it is easy for Allah to do so.

— Muhammad Taqi Usmani

O wives of the Prophet, whoever from among you will commit a clearly shameful act, the punishment will be doubled for her; and it is easy for Allah to do so.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O wives of the Prophet! Whoever of you commits an open Fahishah, the torment for her will be doubled, and that is ever easy for Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye wives of the Prophet! Whosoever of you committeth manifest lewdness, the punishment for her will be doubled, and that is easy for Allah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allah, easy.

— Saheeh International

Wives of the Prophet, if anyone among you commits indecency, her torment will be double. This is not at all difficult for God.

— Muhammad Sarwar

O wives of the prophet! whoever of you commits an open indecency, the punishment shall be increased to her doubly; and this is easy to Allah.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye wives of the Prophet! whosoever of you shall commit a manifest Indecency, doubled for her would be the punishment twice over; and with Allah that is easy.

— Abdul Majid Daryabadi

O Consorts of the Prophet! If any of you were guilty of evident unseemly conduct, the Punishment would be doubled to her, and that is easy for Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں حضور ﷺ کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول ﷺ کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کرلیا اور حضور ﷺ کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لئے مقرر ہو چکیں۔ تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی ﷺ کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی۔ اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فرمان بطور شرط…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 43 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے کسی فحش حرکت کا اندیشہ تھا۔ بلکہ اس سے مقصود حضور کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں، اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ، " اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا " (الزمر۔ آیت 65) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ حضور سے شرک کا کوئی اندیشہ تھا، بلکہ اس سے مقصود حضور کو اور آپ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–31

ازواج مطہرات کی ایک خصوصیت اور اس کی وجہ سے ان پر کڑی پابندی (آیت) ینساء النبی من یات منکن بفاحشة مبینة یضعف لہا العذاب ضعفین وکان ذلک علیٰ اللہ یسیراً۔ ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً نوتہا اجرہا مرتین الایة) ان دو آیتوں میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کوئی گناہ کا کام کریں گی تو ان کو دوسری عورتوں کی نسبت سے دوگنا عذاب دیا جائے گا یعنی ان کا ایک گناہ دو کے قائم مقام قرار دیا جائے گا، اسی طرح اگر وہ نیک عمل کریں گی تو دوسری عورتوں کی نسبت ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا، ان کا ایک نیک عمل دو کے قائم مقام ہوگا۔ یہ آیت ایک حیثیت سے ازواج مطہرات کے لئے ان کے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ینئا النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین وکان۔۔ علی اللہ یسیرا۔ (30) اوپر کی بات تو نبی ﷺ کے ذریعہ سے کہلائی گئی اس لئے کہ اس کا آپ کی زبان ہی سے کہلایا جانا موزوں تھا۔ اب آگے براہ راست ازواجِ نبی ؓ کو مخاطب کرکے ان پر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی بیویوان ہونے کے سب سے اللہ تاعولیٰ کے ہاں ان کا درجہ و مرتبہ بھی بہت اونچا ہے اور اس مرتبہ ہی کے اعتبار سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت بھاری ہیں۔ پہلے ان کی ذمہ داری بتائی کہ وہ اس امر کو یاد رکھیں کہ اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا تو وہ اسی ترازو سے نہیں تو لاجائے گا جس سے دوسروں کے جرم تو لے جائیں گے بلکہ ان کے اعمال الگ باٹ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30-1قرآن میں الفَاحِشَۃُ (مُعَرَّف بلام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فاحِشَۃ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بد اخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی ﷺ کے ساتھ بد اخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات ؓ خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبہ لوگوں کی معمولی غلطیاں بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انھیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–31

23: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات یوں تو ہر قسم کے سرد و گرم حالات میں بڑی استقامت سے آپ کا ساتھ دیتی آئی تھیں، لیکن جنگ احزاب اور جنگ بنو قریظہ میں فتوحات کے بعد مسلمانوں کو کچھ مالی خوش حالی حاصل ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس تنگی ترشی میں وہ اب تک گذارہ کرتی رہی ہیں، اب اس میں کچھ تبدیلی آنی چاہیے، چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس خیال کا ذکر بھی کردیا، اور یہ مثال بھی دی کہ قیصر و کسری کی بیگمات بڑی سج دھج کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی خدمت کے لیے کنیزیں موجود ہیں، اب جبکہ مسلمانوں میں خوشحالی آچکی ہے، ہمارے نفقے میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اگرچہ ازواج…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–31

ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔ یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 بڑے کی غلطی بھی بڑی ہوتی ہے۔ اگر بالفرض تم میں کسی سے کوئی بد اخلاقی کا کام ہوجائے تو جو سزا اوروں کو اس پر ملتی ہے اس سے دگنی سزا ملے گی۔ اور اللہ پر آسان ہے یعنی تمہاری وجاہت اور نسبت زوجیت سزا دینے سے اللہ کو روک نہیں سکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی بالفرض کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔“ { وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا } ”اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ یہ نہ سمجھنا کہ آپ نبی ﷺ کی بیویاں ہو اور نبی ﷺ آپ کو بچا لیں گے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت واضح ہے کہ اگر کسی شخص کے اپنے اعمال درست نہ ہوں تو آخرت میں اسے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اس حوالے سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا ذکر قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ سورة التحریم میں حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 نبی کی بیویوں کا مقام :۔ نبی کی بیویوں کا مقام عام عورتوں سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں۔ جس طرح نبی کی ذات مومنوں کے لئے نمونہ ہے۔ اسی طرح نبی کا گھر اور اس کی بیویاں بھی سب کے لئے نمونہ ہیں۔ اگر نبی کی بیوی کوئی غلطی کرے گی تو اس کو اپنی ہی غلطی کی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کی اقتداء میں جو لوگ بھی وہ غلطی کریں گے ان سب کی سزا سے حصہ رسدی اسے بھی ملے گا۔ لہذا اس کی سزا عام لوگوں کی سزا سے دوگنی بلکہ بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس آیت میں (بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 19؀) 4 ۔ النسآء :19) سے مراد زنا ہے اور یہ بفرض تسلیم ہے جس طرح اللہ نے اپنے پیارے نبی کو فرمایا کہ اگر تم بھی شرک کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ (آخرت میں) یعنی جتنی دوسرے شخص کو ملتی، اس کی دوگنی سزا۔ (آیت) ” بفاحشۃ مبینۃ “۔ مراد وہ سوء معاشرت ہے جو رسول اللہ ﷺ کے تکدرقلب کا باعث ہو، یا مطلق معصیت صریح مراد لی جائے۔ المراد الفاحشۃ النشوز وسوء الخلق (ابن عباس ؓ اے بمعصیۃ ظاھرۃ (معالم) وینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر) بعض محققین نے یہاں یہ خوب لکھا ہے کہ صفت (آیت) ” مبینۃ “۔ کا اضافہ خود اس کی دلیل ہے کہ یہاں مراد زناکاری ہو نہیں سکتی، جو ایک چوری چھپے کی چیز ہے لامحالہ مراد سوء معاشرت اور عدم ادائے حقوق زوج سے ہوگی، اور اگر مراد زنا کاری ہی لی جائے، جب بھی اس سے مرتبہ ازواج نبی کی منقصت ذرا بھی لازم نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ینسآء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین . اے نبی کی بی بیو ! جو تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اس کو دوہری سزا دی جائے گی۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک فاحشہ سے مراد ہے نافرمانی ‘ بدخلقی (چڑھ کر بولنا) ۔ ضِعْفَیْنَ : یعنی دوسری عورتوں کے مقابلہ میں دوگنا۔ لفظ ضعف اضافی اور نسبتی الفاظ میں سے ہے جن میں سے ہر ایک کو سمجھنا دوسرے لفظ کے سمجھنے پر موقوف ہوتا ہے (جیسے فوق وتحت میں تضایف ہے ‘ باپ ہونا اور بیٹا ہونا اضافی مفہوم رکھتا ہے) جیسے نصف (اور کل میں تضایف ہے) اور زوج (مرد کا جوڑا عورت ‘ عورت کا جوڑا مرد ‘ جوڑا کا لفظ اضافی ہے) ضعف کا معنی ہے دو مساوی مقدار والی چیزوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی کی بیوی جو کوئی تم میں سے کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی تو تمہیں دوہری یعنی جلد اور رجم دونوں سزائیں دی جائیں گی اور یہ سزا دینا اللہ تعالیٰ کو آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ۔۔ : قاموس میں ہے : ”اَلْفَاحِشَۃُ الزِّنَا وَمَا یَشْتَدُّ قَبْحُہُ مِنَ الذُّنُوْبِ وَ کُلُّ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ“ یعنی ”فاحشہ کا معنی ہے زنا اور وہ گناہ جو سخت قبیح ہوں اور ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“ قرآن مجید میں ”اَلْفَاحِشَۃُ“ (خاص بےحیائی، معرف باللام) کا لفظ زنا کے لیے آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۚ) [ النساء : 15 ] ”اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ علماء نے کہا : جب نبی کریم ﷺ کی بیویوں نے رسول اللہ ﷺ کے اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی فضیلت کا ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی تکریم کے لیے ارشاد فرمایا : آیت لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج اور ان کا حکم دوسروں سے جدا کردیا فرمایا : آیت وما کان لکم ان تو ذو رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان کی طاعت کا ثواب اور ان کی معصیت کا عقاب دوسروں سے زیادہ کردیا۔ فرمایا : آیت یانساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے جو فاحشہ لائی ( اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

ازواج مطہرات کا آپ ﷺ سے نفقہ کا مطالبہ 1۔ احمد ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابی الزبیر کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور لوگ آپ کے دروازے پر جمع تھے اور نبی ﷺ تشریف فرما تھے مگر ان کو اجازت نہیں دی گئی۔ پھر ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کو اجازت مل گئی دونوں اندر داخل ہوئے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات آپ کے ارد گرد تھیں اور آپ خاموش تھے عمر ؓ نے فرمایا میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے بات کروں گا شاید کہ آپ مسکرا پڑیں۔ عمر نے فرمایا اگر میں کہ زید کی بیٹی (عمر ؓ کی بیوی) بھی مجھ سے نفقہ طلب کرے تو میں اسکی گردن مروڑ دوں یہ سنکر نبی ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ [اے نبی ﷺ کی خواتین ] مَنْ [جو کوئی ] يَّاْتِ [کرے گی ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ [کوئی کھلی بےحیائی ] يُّضٰعَفْ [تو بڑھایا جائے گا ] لَهَا [اس کے لئے ] الْعَذَابُ [عذاب کو ] ضِعْفَيْنِ ۭ [دوگنا ] وَكَانَ ذٰلِكَ [اور یہ ہے ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] يَسِيْرًا [آسان ] ۔ نوٹ۔ 2: آیات۔ 30 ۔ 31 میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اگر وہ کوئی غلط کام کریں گی تو ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر وہ کوئی نیک عمل کریں گی تو ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا ایک حیثیت سے یہ ان کے اس عمل کی جزاء ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجیت پر دنیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوہرے عذاب وثواب کا استحقاق تخییر کا مضمون بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) (الآیۃ) (اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو عورت واضح طور پر کسی معصیت کا ارتکاب کرے گی تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے) ” واضح طور پر معصیت “ یہ لفظ (بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) کا ترجمہ ہے۔ صاحب بیان القرآن نے اس کا ترجمہ کھلی ہوئی بیہودگی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے وہ معاملہ مراد ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ اور پریشان ہوں۔ صاحب المعالم التنزیل نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا یہی مطلب نقل کیا ہے، (فقال المراد بالفاحشۃ النشور وسوء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خطاب تکریم وتشریف بہ ضمن تنبیہ وتخویف قال اللہ تعالیٰ ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین وکان ذلک علی اللہ یسیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حضور پر نور ﷺ کے واسطہ سے ازواج مطہرات کو یہ حکم دیا گیا کہ نبی کی بیبیوں کے لئے مناسب نہیں کہ وہ زینت دنیا کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں اور جو عورتیں اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کریں ان کے لئے اجر عظیم اور درجات عالیہ اور مراتب فائقہ کا وعدہ فرمایا اب آئندہ آیات میں حق جل شانہ خود ازواج مطہرات سے خطاب فرماتے ہیں اور آئندہ معصیت پر تنبیہ اور تخویف فرماتے ہیں کہ جس قدر مراتب بلند ہوتے ہیں اسی قدر خطر بھی عظیم ہوتا ہے جیسا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

34:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے پہلا خطاب ہے۔ فاحشۃ مبینۃ سے نشوز، خاوند کی نافرمانی اور آپ کو تنگ کرنا مراد ہے۔ ینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر ج 7 ص 228) ۔ اے ازواج نبی اگر تم میں سے کوئی پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی کرے گی۔ یا اپنی زبان سے آپ کو ایذا دے گی۔ مثلا تم میں سے کوئیحضور ﷺ کے اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دے کہ پیغمبر زور والا اور اپنی مرضی والا ہے اسے کون روک سکتا ہے تو ایسا کلام فاحشہ مبینہ ہوگا اور اللہ تمہیں اس کی دگنی سزا دے گا۔ ومن یقنت الخ، لیکن تم میں سے جس نے اللہ ور سول کی اطاعت اور تسلیم و رضا کو اپنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–31

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق کا حال بیان کیا اور منافقوں کی مذمت بیان کی۔ پھر اللہ نے بنی قریظہ کی سرکوبی کا حکم دیا۔ چناچہ ان کو مغلوب کر کے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا ، اور ان کے مالوں ، زمینوں اور مکانات پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ پھر اللہ نے ایک اور سرزمین کی فتح کی خوشخبری دی جس کو 6 ھ میں فتح کیا گیا۔ یہ خیبر کی فتح تھی۔ وہاں سے بھی مسلمانوں کو کافی مال و دولت حاصل ہوا اور ان زمینوں کا خراج بھی ملنے لگا۔ ازواج مطہرات کا مطالبہ مسلمانوں کی پے درپے فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال و دولت حاصل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ يُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ۝ 0 ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا۝ 30 نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–30

ترکیب : ان شرطیۃ و جو ابھا فتعلین امتعکن و اسرحکن بالجزم علیٰ انہ جواب للامر فتعالین و بالرفع علی الاستیناف للمحسنات متعلق باعد منکن حال من المحسنات او بیان لاتبعیض اجراء عظیما مفعول لاعد یضاعف جواب من یات۔ تفسیر : اس سورة میں پیشتر اخلاق انسانی کی اصلاح ہے اور اس مسئلہ کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ معاشرت کے متعلق سب سے اول بات احکام الہیہ کا اتباع ہے۔ کس لیے کہ عقول عالیہ جو مؤید بالالہام ہیں، معاشرت و تمدن میں رسم و رواج سے جو تغیرات واقع ہوئے ہیں ان کا فیصلہ انہی کے ہاتھ ہے، اس لیے سب سے اول خود آنحضرت ﷺ کو اتباع وحی کا حکم بڑی تاکید سے دیا، اس کے بعد ان لوگوں کی سرزنش کی جو سخت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْـکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 30) (اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کسی صریح بےحیائی کا ارتکاب کرے گی تو اسے دہرا عذاب دیا جائے گا، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ ) خطاب میں وسعت اور تبدیلی کا سبب پہلی دونوں آیتوں میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے اس کے پہنچانے کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ پر عائد کی گئی ہے۔ کیونکہ اسے حضور ﷺ ہی کی زبان سے ادا کرانا زیادہ مناسب تھا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں براہ راست پروردگار ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نبی مکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج کا کردار بھی امت کی عورتوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔ اس لیے آپ کی ازواج کو حکم ہوا۔ سادگی اور شرم وحیاء کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی ازواج کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام عام عورتوں جیسا نہیں وہ تو امہات المومنین ہیں اس لحاظ سے امّہات المؤمنین تمام عورتوں سے افضل اور اعلیٰ ہیں لہٰذا ان کا کردار بھی اعلی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں یہ مفہوم لینے کی ہرگز اجازت نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کسی بیوی سے کردار اور حیا کے حوالے سے کسی گراوٹ کا خدشہ تھا ایسا سوچنا بھی گناہ ہے۔ بتلانا مقصودیہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

معصیت کی قباحت کا بڑھنا ‘ زیادتی فضل کو ظاہر کرتا ہے : 30: یٰنِسَآ ئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ (اے ازواج نبی اکرم ﷺ جو تم میں سے کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی) ۔ فاحشۃؔ (انتہائی قبیح برائی) ۔ مُّبَیِّنَۃٍ (جس کا فحش ظاہر ہو) یہ بَیَّنَ بمعنی تبیَّن ہے۔ قراءت : مکی، ابوبکر نے فتحہ یامُبَیَّنَۃٍ پڑھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد ازواج مطہرات۔ کا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور حکم عدولی کرنا مراد ہے۔ قول دیگر زنا مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس سے معصوم رکھنے والے ہیں۔ یُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ (اس کو دوہری سزا دی جائے گی) قراءت : مکی وشامی نے یُضَعِّفْ لھا العذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 30، یانساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ، اس سے مراد ظاہری نافر مائی ۔ بعض نے کہا کہ یہ اللہ عزوجل کے اس فرمان کے مطابق ہے، لئن اشرکت لیبطن عملک، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میں سے جو کوئی فحش گناہ لائے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فاحشہ سے مراد ہے نافرمانی ، بدخلقی ۔ ، یضاعف لھا العذاب ضعفین ، ابن کثیر اور ابن عامر نے پڑھا ہے، نضعف ، نمون کے ساتھ اور عین کے کسرہ اور تشدید کے ساتھ۔ ، العذاب ، منصوب ہے ۔ دوسرے قراء نے ، یضاعف ، عین کے فتحہ کے ساتھ اور (العذاب ) کو مرفوع پڑھا ہے ۔ اس میں دونوں لغتیں ہیں جیسے بعد اور باعد کی ہیں ۔ ابوعمر و اور عیدہ فرماتے ہیں کہ باب تفعیل سے تضعیف کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–32

28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 30 جب ازواج مطہرات ؓ نے اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کردیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہوگی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو گنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 30–31

مرتبہ کے لحاظ سے جزاوسزا ہے قول باری ہے (یا نساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین) اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اسے دہری سزا دی جائے گی۔ دہری سزا دینے کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازواج مطہرات پر دوسری عورتوں کی بہ نسبت اللہ کا زیادہ فضل و انعام تھا، انہیں حضور ﷺ کی بیویاں ہونے کا شرف حاصل تھا، ان کے گھروں میں نزول وحی کا سلسلہ رہتا تھا اور اس کی بنا پر انہیں ایک فضیلت حاصل تھی۔ اس صورت حال کے تحت اگر ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کا اظہار ہوتا تو یہ بات ان کی سزا کی تضعیف کا سبب بن جاتی۔ اس لئے کہ نعمت جس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–32

53 ازواج مطہرات سے خاص خطاب : سو اس میں ازواج مطہرات سے خطاب تکریم و تشریف فرمایا گیا ہے جو کہ متضمن ہے تنبیہ و تذکیر پر۔ { فَاحِشَۃٍ مَبَیِّنَۃٍ } سے یہاں مراد بدخلقی اور نافرمانی ہے۔ یعنی " النّشُوز و سُوْئُ الخلق " (صفوۃ : ج 2 ص 533) ۔ اور اہل علم نے تصریح فرمائی ہے کہ لفظ " فاحشہ " جب الف لام کے ساتھ معرفہ ہو کر آئے تو اس کے معنیٰ زنا اور لواط کے ہوتے ہیں۔ لیکن نکرہ استعمال ہو تو اس کے معنی مطلق معصیت و نافرمانی کے ہوتے ہیں۔ اور اگر موصوف ہو کر استعمال ہو جیسا کہ یہاں ہے ۔ کہ " مبینۃ " کی صفت لگی ہوئی ہے ۔ تو اس وقت اس سے مراد سوء معاشرت اور عدم ادائیگی حقوق زوجیت ہوتی ہے۔ اسی لئے حضرت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–30

نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لیے خصوصی آیات تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے بڑے خاص احکامات ہیں جو کہ دراصل تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب غزوہ احزاب، بنو نضیر اور پھر بنوقریظہ کی فتوحات مکمل ہوگئیں تو مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا جو کہ تمام تقسیم کردیا گیا۔ انسانی فطرت کے تحت ازواج مطہرات نے بھی اپنے اخراجات کے لیے کچھ زیادہ کی فرمائش کردی جس پر نبی اکرم ﷺ کو بہت ناگوار ہوا کیونکہ آپ ﷺ تو ان دنیوی مال و اسباب سے بالکل محبت نہ رکھتے تھے۔ بلکہ آپ کو تو فقرو فاقہ اور درویشانہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

آیات 28 تا 34 اسرار ومعارف جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 کیونکہ جس کا جتنا مقام بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی ہی سخت ملتی ہے۔ پیغمبر ﷺ سے فرمایا ” لا دذقناک ضعف الحیاۃ “ ( کذافی الموضح) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ” ازواج ؓ مطہرات “ سے نعوذ باللہ برائی کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔ یہ جملہ شرطیہ ہے جس کا تحقیق ضروری نہیں، جیسے فرمایا ( لئن اشرکت لیحبطن عملک) (زمر : 65) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی نے زنا کا ارتکاب نہیں کیا، ہاں ایمان و اطاعت میں خیانت کی ہے۔ ( دیکھئے تحریم : 10) بعض نے کہا کہ یہاں ” فاحشۃ سے مراد نشوز اور بد سلوکی ہے۔ دراصل اس سے لزواج ؓ مطہرات کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ تمہارا مقام بہت بلند ہے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33) 30) ینساء النبی یا حرف نداء نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے بنی کی بیبیو ! بیویو ! من شرطیہ ہے۔ جو کوئی۔ یات مضارع واحد مذکر غائب اثیان (باب ضرب) مصدر۔ یہ اصل میں یاتی تھا۔ شرط میں واقع ہونے کی وجہ سے یا حذف ہوگئی۔ یہ فعل لازم ہے بمعنی آتا ہے یا آئے گا۔ لیکن اگر اس کے بعد مفعول پر ب ہو تو متعدی ہوگا۔ اور بمعنی لاتا ہے یا لائے گا ہوگا : من یات بفاحشۃ جس کسی نے بےہودگی کا ارتکاب گیا۔ منکن میں من تبعیض کے لئے ہے کن ضمیر جمع مؤنث حاضر۔ تم عورتوں میں سے ۔ فاحشۃ مبینۃ ۔ موصوف و صفت۔ کھلی بےہودگی۔ حالت جر بوجہ عمل باء حرف جار۔ یضعف۔ مضاف مجہول مجزوم بوجہ شرط واحد مذکر غائب کا صیغہ ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–34

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34 کنتن : تم ہو تعالین : تم سب آجاؤ امتع : میں سامان دوں گا اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں یضعف : وہ دو گنا کردے گا یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو یطمع : وہ لالچ کرے گا قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا الرجس : گندگی ۔ آلودگی اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ یتلی : تلاوت کیا گیا خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت تشریح آیت نمبر 28 تا 34 اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–30

(ف 1) شان نزول : بنی قریظہ کے قصہ کے بعد نبی ﷺ کی بیویوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنی قریظہ کا اکثر مال نبی ﷺ نے مہاجرین کودے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدرآسودگی ہوگئی تھی مہاجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر نبی ﷺ کی بیویوں کو آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے نبی سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کردی، نبی ﷺ کو تو سامان دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارہ ہی نہ تھا اس لیے آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے اس رنج کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ﷺ تم اپنی بی بی سے فرمادو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–32

[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–31

کاشانہ نبوت 1: بات یہ تھی کہ کاشانہ نبوت میں عجمی بادشاہوں کی طرح دولت کی نمود نہیں تھی ۔ امراء اور مالداروں کی سی حالت نہیں تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو وہاں ضروریات زندگی کا بھی فقدان تھا ۔ اس لئے بالصبع پردہ نقسیان کرم نبوت کو بتقاضائے بشریت بعض دفعہ اس کا احساس ہوتا اور وہ طول خاطر ہوجائیں ایک دفعہ تو وہ اس دکھ کے اظہار پر مجبور ہوگئیں ۔ حضور ﷺ نے جب یہ سنا ۔ تو آپ کو بدرجہ غایت رنج ہوا ۔ آپ نے عہد کرلیا ۔ کہ ایک مہینہ تک ان خواتیں کے پاس نہ جائیں گے ۔ اس کے بعد تسکین خاطر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ اے پیغمبر اپنی محترم مخدرات سے کہہ دیجئے ۔ کہ میرے ہاں روح وقلب کی زینت و آرائش کا سامان تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

30۔ اے نبی کی عورتو ! تم میں سے جو عورت صریح ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کرے گی تو ایسی عورت کو دنگی اور دوہری سزا دی جائے گی اور یہ دوہری سزا دینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فاحشۃ مبینہ کی تفسیر میں نشوز اور سوء خلق فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی حرکت کا ارتکاب جو نبی کریم ﷺ کی پریشانی اور تنگی کی موجب ہو اور آپ کو جس فعل سے پریشانی ہو دوہری سزا یعنی اس فعل کی سزا جتنی کسی اور کو ملتی اس سے دو چند تم کو دی جائیگی اور سزا کا دو چند کردینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے ، تمہاری عظمت اور پیغمبر کی زوجہ ہونا اس کیلئے مانع ہیں ۔ ازواج مطہرات کی شرافت ، برتری اور بزرگی پر یہ آیت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–31

ف 4۔ مراد اس سے وہ معاملہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ اور پریشان ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جتنا بڑا مقام اتنی ہی بڑی سزا اگر کوئی لغزش ہوجائے 30 ۔ { فاحشۃ } ایسی برائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حد سے بڑھی ہوئی برائی۔ ہر وہ چیز جس کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے کردی ہو اور پھر آدمی اس کا مرتکب ہو۔ ہر برا قول یا عمل ، کیا کوئی مسلمان اس بات کا تصور بھی کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیبیوں میں سے کوئی فحش حرکت کی مرتکب ہوسکتی تھی۔ نہیں ، اور ہرگز نہیں۔ بلا شبہ اس سے ازواج مطہرات رسول کو احساس دلانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کا معاشرہ میں بہت بڑا مقام ہو ان کی ذمہ داریاں بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں اور دوسرا یہ کہ کہ جن سے کسی گناہ کے سرزد ہونے کا امکان تک موجود نہیں جب اسلام ان کا نام لے کر ان کی برائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–31

The particular position of the blessed wives and the rationale of hard restrictions placed on them يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرً‌ا ﴿30﴾ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَ‌هَا مَرَّ‌تَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِ‌زْقًا كَرِ‌يمًا ﴿31﴾ O wives of the Prophet, whoever from among you will commit a clearly shameful act, the punishment will be doubled for her. And it is easy for Allah to do so. [ 30] And whoever of you stays obedient to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43 This does not mean that three was, God forbid, any chance of the Holy Prophet's wives committing an indecency, but this was meant to make them realize that they were the mothers of the Muslims; therefore, their responsibilities were accordingly very high, and so their moral conduct should be the purest. This is ,just like Allah's addressing the Holy Prophet to the effect: "If you committed shirk, all your works would be rendered vain." (Az-Zumar: 65). This also does not mean that there was, God forbid, any chance of the Holy Prophet's committing shirk, but this is meant to make the Holy…

Read the full tafseer →