اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل و فضل کا بیان فرما رہا ہے اور حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تمہاری اطاعت گذاری اور نیک کاری پر تمہیں دگنا اجر ہے اور تمہارے لئے جنت میں باعزت روزی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ آپ کی منزل میں ہوں گی اور حضور ﷺ کی منزل اعلیٰ علیین میں ہے جو تمام لوگوں سے بالا تر ہے۔ اسی کا نام وسیلہ ہے۔ یہ جنت کی سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچی منزل ہے جس کی چھت عرش اللہ ہے۔
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 45
گناہ پر دوہرے عذاب اور نیکی پر دوہرے اجر کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے میں کسی بلند مرتبے پر سرفراز فرماتا ہے وہ بالعموم لوگوں کے رہنما بن جاتے ہیں اور بندگان خدا کی بڑی تعداد بھلائی اور برائی میں انہی کی پیروی کرتی ہے۔ ان کی برائی تنہا انہی کی برائی نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کے بگاڑ کی موجب بھی ہوتی ہے اور ان کی بھلائی صرف انہی کی انفرادی بھلائی نہیں ہوتی بلکہ بہت سے انسانوں کی فلاح کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس لیے جب وہ برے کام کرتے ہیں تو اپنے بگاڑ کے ساتھ دوسروں کے بگاڑ کی بھی سزا پاتے ہیں۔ اور جب وہ نیک کام کرتے ہیں تو انہیں اپنی نیکی کے ساتھ اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ازواج مطہرات کی ایک خصوصیت اور اس کی وجہ سے ان پر کڑی پابندی
(آیت) ینساء النبی من یات منکن بفاحشة مبینة یضعف لہا العذاب ضعفین وکان ذلک علیٰ اللہ یسیراً۔ ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً نوتہا اجرہا مرتین الایة)
ان دو آیتوں میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کوئی گناہ کا کام کریں گی تو ان کو دوسری عورتوں کی نسبت سے دوگنا عذاب دیا جائے گا یعنی ان کا ایک گناہ دو کے قائم مقام قرار دیا جائے گا، اسی طرح اگر وہ نیک عمل کریں گی تو دوسری عورتوں کی نسبت ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا، ان کا ایک نیک عمل دو کے قائم مقام ہوگا۔
یہ آیت ایک حیثیت سے ازواج مطہرات کے لئے ان کے اس…
Read the full tafseer →ومن یقنت مکن اللہ ورسولہ وتعمل صالحا نو تھا اجرھا مرتین فاعتدنا لھا رزقا کریما (31)
یعنی جس طرح تمہارے کسی جرم کو سزا دگنی ہے اسی طرح تمہاری نیکیوں کی جزا بھی دگنی ہے۔ اس وجہ سے تم میں سے جو اللہ و رسول کی صدق دل سے فرمانبردری اور عمل صالح کرتی رہیں گی اللہ ان کو دہرا اجر دے گا اور ان کے لئے باعزت رزق اس نے تیار کر رکھا ہے۔ ہم دوسرے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ رزق ‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام کی تعبیر ہے اور اس کے ساتھ کریم کی صفت اس حقیقت کی تعبیر کے لئے ہے کہ یہ رزو و فضل ان کو بطور صدقہ نہیں ملے گا بلکہ ان کے حق کے طور پر ملے گا اور ہمیشہ کے لئے، بلا کسی قید و شرط اور بغیر کسی اندیشہ…
Read the full tafseer →31-1یعنی جس طرح گناہ کا وبال دگنا ہوگا، نیکیوں کا اجر بھی دوہرا ہوگا جس طرح نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ) 17۔ الاسراء :75) ' پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
23: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات یوں تو ہر قسم کے سرد و گرم حالات میں بڑی استقامت سے آپ کا ساتھ دیتی آئی تھیں، لیکن جنگ احزاب اور جنگ بنو قریظہ میں فتوحات کے بعد مسلمانوں کو کچھ مالی خوش حالی حاصل ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس تنگی ترشی میں وہ اب تک گذارہ کرتی رہی ہیں، اب اس میں کچھ تبدیلی آنی چاہیے، چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس خیال کا ذکر بھی کردیا، اور یہ مثال بھی دی کہ قیصر و کسری کی بیگمات بڑی سج دھج کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی خدمت کے لیے کنیزیں موجود ہیں، اب جبکہ مسلمانوں میں خوشحالی آچکی ہے، ہمارے نفقے میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اگرچہ ازواج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔
یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔
وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونے کے باوجود…
Read the full tafseer →1 یعنی نیکی اور اطاعت پر جتنا اجر دوسروں کو ملے اس سے دو گنا ملے گا۔ اور مزید برآں ایک خاص روزی عزت کی عطا ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی بڑے درجہ کا لازم ہے کہ نیکی کا ثواب دونا اور برائی کا عذاب دونا۔ " خود پیغمبر ﷺ کو فرمایا۔ (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ) 17 ۔ الاسراء :75)
2 یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کی طرح نہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے تم کو سیدالمرسلین کی زوجیت کے لیے انتخاب فرمایا اور امہات المومنین بنایا۔ لہذا اگر تقویٰ و طہارت کا بہترین نمونہ پیش کرو گی جیسا کہ تم سے متوقع ہے۔ اس کا وزن اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہوگا۔ اور بالفرض کوئی بری حرکت…
Read the full tafseer →آیت 31 { وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ } ”اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے“
{ وَاَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا } ”اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔“
جنت میں انہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔
Read the full tafseer →44 اسی طرح اگر تم میں سے کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار بن جائے تو اسے اجر بھی دگنا ملے گا۔ یہاں تک تو ایک اصولی معاملہ تھا کہ بروں کے گناہوں کا بدلہ بھی دگنا اور اچھے اعمال کا ثواب بھی دگنا ہو۔ اور رزق کریم میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ ازواج النبی کا اصل مطالبہ خرچ میں اضافہ کا تھا کہ انھیں بھی اب کھانے اور پہننے کو پہلے سے بہتر ملنا چاہئے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ آج دنیا میں اگر تم اس معاملہ میں نبی کو پریشان نہ کرو گی اور جو مل گیا اس پر قانع اور صابر و شاکر ر ہوگی تو اس کے عوض ہم نے تمہارے لئے بہت شاندار رزق تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →58۔ یہ صلہ جنت میں ازواج نبی کے لئے مخصوص ہوگا۔ (آیت) ” رزقا “۔ رزق پر حاشیہ کہیں پہلے گزر چکا ہے۔ کہ اس سے مراد محض کھانے پینے ہی کی نہیں، بلکہ ہر قسم کی نعمتیں ہوتی ہیں۔ عربی میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے (آیت) ” اجرھا مرتین “۔ اہل خصوصیت کا عصیان بھی اوروں کے عصیان سے اشد ہوتا ہے، اس طرح ان کی طاعت بھی اوروں کی طاعت سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ بس وعدہ ووعید دونوں میں وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ اور خصوصا مقام کلام میں یہ کہنا ممکن ہے کہ حضرات امہات المومنین سے خدمت اطاعت کا صدور حضور ﷺ کے قلب کو راحت افزا زیادہ ہوگا۔ اور اسی طرح اس کے خلاف کا صدور آپ ﷺ کے لیے کلفت افزازیادہ ہوگا “۔ (تھانوی (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…
Read the full tafseer →ومن یقنت منکن اللہ ورسولہ وتعمل صالحا نؤتھا اجرھا مرتین واعتدنا لھا رزقا کریما
اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسوال کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی ‘ ہم (دوسری عورتوں کے مقابلہ میں) اس کو دوبارہ (یعنی دوگنا) اجر دیں گے اور اس کیلئے ہم نے بہت عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔ دوہرا ثواب دیا جائے گا ‘ ایک تو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا ‘ دوسرا اس بات کا کہ قناعت اور حسن معاشرت کے ساتھ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی کی طلب گار ہوئی۔ مقاتل نے کہا : ہر نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہوگا۔
رزق کریم ‘ عالی مرتبہ روزی یعنی جنت جو اصل ثواب کے بعد مزید عطا کی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ کی…
Read the full tafseer →اور جو کوئی تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور جو نیک کام ہیں ان کو کرے گی تو ہم اس کو اس کا ثواب دوہرا دیں گے اور ان کے لیے جنت میں ایک عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بیویوں سے فرمایا کہ جس طرح تمہارے لیے گناہ پر عذاب دگنا ہے اسی طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری اور عمل صالح پر ثواب بھی دگنا ہے، کیونکہ جس طرح تمہارے گناہ میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے ساتھ ان کی ایذا بھی ہے، اسی طرح ان کی فرماں برداری پر اطاعت کے ساتھ ان کی خاص خوشی بھی ہے۔ دوہرے گناہ اور دوہرے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ازواج مطہرات امت کے لیے نمونہ ہیں۔ انھیں دیکھ کر اگر کسی نے گناہ کیا تو اس کا وبال ان پر بھی ہوگا اور اگر انھیں دیکھ کر کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کی تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ علماء نے کہا : جب نبی کریم ﷺ کی بیویوں نے رسول اللہ ﷺ کے اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی فضیلت کا ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی تکریم کے لیے ارشاد فرمایا : آیت لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج اور ان کا حکم دوسروں سے جدا کردیا فرمایا : آیت وما کان لکم ان تو ذو رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان کی طاعت کا ثواب اور ان کی معصیت کا عقاب دوسروں سے زیادہ کردیا۔ فرمایا : آیت یانساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین
اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے جو فاحشہ لائی ( اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالح اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کے لیے اطاعت کے ذریعہ نیک عمل کرے۔
2۔ ابن سعد نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کی آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ یعنی تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے آیت وتعمل صالحا یعنی روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔
3۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّقْنُتْ [اور جو کوئی فرمانبرداری کرے گی ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [اللہ کی اور اس کے رسول کی ] وَتَعْمَلْ [اور عمل کرے گی ] صَالِحًا [نیک ] نُّــؤْتِهَآ [تو ہم دیں گے اس کو ] اَجْرَهَا [اس کا اجر ] مَرَّتَيْنِ ۙ [دوبار ] وَاَعْتَدْنَا لَهَا [اور ہم نے تیار کیا اس کے لئے ] رِزْقًا كَرِيْمًا [عزت والی روزی ] ۔
نوٹ۔ 3: آیت۔ 31 ۔ کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات تمام دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔ مگر سورة ال عمران کی آیت سے بی بی مریم کا سارے جہاں کی عورتوں سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافی ہیں تم کو ساری عورتوں…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا : (وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا) (اور تم میں سے جو عورت اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی ہم اسے اس کا دوہرا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم تیار کیا ہے۔ )
صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں علت اس تضعیف اجر اور اسی طرح تضعیف و زر کی جو اس کے قبل ارشاد ہے شرف زوجیت نبی ہے جس پر (یٰنِسَآء النَّبِیِّ ) دال ہے کیونکہ اہل خصوصیت کا عصیان بھی اوروں کے عصیان سے اشد ہوتا ہے اسی طرح ان کی اطاعت بھی اوروں کی اطاعت سے زیادہ مقبول ہوتی ہے پس وعدہ وعید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
فضائل وخصائص ازواج مطہرات
قال اللہ تعالیٰ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اگرچہ ازواج مطہرات کی تنبیہ اور تادیب کا ذکر تھا لیکن وہ تنبیہ وتادیب بھی ان کے شرف اور امتیاز کو متضمن تھی اس لئے کہ فاحشہ کے ارتکاب پر دوہرے عذاب کی دھمکی بھی ان کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے تھی اور اسی شرف کی وجہ سے خطاب صراحۃ خود ازواج مطہرات کو تھا۔ اب آئندہ آیات میں بھی صراحۃً ازواج مطہرات کو خطاب کر کے ان کے مزید شرف اور امتیاز کو بیان کرتے ہیں تاکہ پہلے سے زیادہ انقیاد اور پرہیزگاری اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اور زہد اور قناعت پر اور دنیا سے بیزاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
34:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے پہلا خطاب ہے۔ فاحشۃ مبینۃ سے نشوز، خاوند کی نافرمانی اور آپ کو تنگ کرنا مراد ہے۔ ینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر ج 7 ص 228) ۔ اے ازواج نبی اگر تم میں سے کوئی پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی کرے گی۔ یا اپنی زبان سے آپ کو ایذا دے گی۔ مثلا تم میں سے کوئیحضور ﷺ کے اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دے کہ پیغمبر زور والا اور اپنی مرضی والا ہے اسے کون روک سکتا ہے تو ایسا کلام فاحشہ مبینہ ہوگا اور اللہ تمہیں اس کی دگنی سزا دے گا۔ ومن یقنت الخ، لیکن تم میں سے جس نے اللہ ور سول کی اطاعت اور تسلیم و رضا کو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق کا حال بیان کیا اور منافقوں کی مذمت بیان کی۔ پھر اللہ نے بنی قریظہ کی سرکوبی کا حکم دیا۔ چناچہ ان کو مغلوب کر کے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا ، اور ان کے مالوں ، زمینوں اور مکانات پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ پھر اللہ نے ایک اور سرزمین کی فتح کی خوشخبری دی جس کو 6 ھ میں فتح کیا گیا۔ یہ خیبر کی فتح تھی۔ وہاں سے بھی مسلمانوں کو کافی مال و دولت حاصل ہوا اور ان زمینوں کا خراج بھی ملنے لگا۔
ازواج مطہرات کا مطالبہ
مسلمانوں کی پے درپے فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال و دولت حاصل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّــؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَيْنِ 0 ۙ وَاَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا كَرِيْمًا 31
قنت
القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ
[ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل :
طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح» «1» ، وعلی هذا قيل : أيّ الصلاة أفضل ؟ فقال : «طول القُنُوتِ» «2» أي : الاشتغال بالعبادة ورفض کلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ترکیب : ومن شرطیۃ یقنت بالیاء رعایۃ للفظ من وبالتاء رعایۃ لمعنا ھا۔ تعمل معطوف علی یقنت نوتہا، جوابھا، واعتدنا، معطوف علی نوء تھا کا حد اصل احد وحد بمعنی الواحد ثم وضع فی النفیء العام مستوھا فیہ المذکر والمونث والواحد والکثیر والمغنی لستن کجماعۃ واحدۃ من جماعات النساء فی الفضل، اھل البیت منصوبا علی النداء والمدح من آیات بیان لمایتقی والحکمۃ معطوف علیٰ آیات اللہ۔
تفسیر : اس آیت کے متعلق یہ بات باقی رہ گئی، وہ یہ کہ علماء کی اس بارے میں بحث ہے کہ یہ اختیار کیا، تفویض طلاق تھی کہ نفس اختیار سے طلاق واقع ہوجاتی یا نہیں ؟ حسن اور قتادہ اور اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات نہ تھی، بلکہ اس…
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّـقْنُتْ مِنْـکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَـآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ لا وَاَعْتَدْنَالَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا۔ (الاحزاب : 31)
(اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں گی اور نیک عمل کریں گی ہم ان کو دہرا اجر دیں گے اور ہم نے ان کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے۔ )
جزا و سزا مقام و مرتبہ کے مطابق
یہ آیت گزشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے۔ یعنی جس طرح تمہارے کسی جرم کی سزا دگنی ہے اسی طرح تمہاری نیکیوں کی جزا بھی دگنی ہے۔ کیونکہ جو لوگ انسانی معاشرے میں ایسے بلند مرتبے پر فائز ہوجاتے ہیں کہ لوگ ان کے قول و فعل کی نقل کرتے اور اس کو اپنے لیے اسوہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کا مقام اور اجروثواب۔
اکیسویں پارے کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اے نبی کی ازواج ! اگر تم میں سے کسی نے بےحیائی کا ارتکاب کیا تو اسے دوگنی سزا دی جائے گی ہاں جو تم میں ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی۔ اسے دوہرا ثواب اور بہترین رزق دیا جائے گا۔ کیونکہ تمہارا مقام عام مسلمان عورتوں جیسا نہیں بلکہ تم ان سے ممتاز مقام کی حامل ہو۔ کیونکہ تمہارے گھروں میں ” اللہ “ کی آیات کا نزول ہوتا ہے اور اس کا رسول شب وروز تمہارے گھروں میں تشریف فرما ہوتا ہے۔ لہٰذا تمہیں ہر حال میں ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور مسلمان عورتوں کے لیے نمونہ بننا چاہیے۔
دین…
Read the full tafseer →اطاعت گزار کو دوگنا بدلہ :
31: وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اور جو کوئی تم میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری کرے گی) الاقنوت۔ اطاعت کو کہتے ہیں۔ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ (اور نیک عمل کرے گی ہم اس کو اس کا اجر دو مرتبہ دیں گے) دوسروں کے مقابلے میں دوگنا ثواب۔ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا (اور ہم نے اس کے لئے عزت والی روزی تیار کر رکھی ہے)
قراءت : حمزہ، علی نے دونوں میں یاء پڑھی ہے۔ رزق کریم سے مراد عظیم الشان رزق ہے اور وہ جنت ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 31، ومن یقنت ، جو اطاعت کرے گا۔ ، منکن للہ ورسولہ ، یعقوب کی قرأت یہ ہے ، من تات منکن ، وتقنت ، ان دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہی اور عام قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ ، من، وہ عدد ہے جو قائم مقام اسم کے تعبیر کیا جاتا ہے ، واحد جمع مذکرمؤنث کے ساتھ ۔ ، وتعمل صالحا نو تھا اجر ھا مرتین ، دوسرے کے اجر کے برابر۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہوگا۔ حمزہ اور کسائی نے ، یعمل یو تھا، دونوں جگہ یاء کے ساتھ ذکر کیا اور دوسرے قراء نے ، تعمل ، تاء کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ، واعتدنا لھا رزقا کریما، اس سے مراد جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے…
Read the full tafseer →آیت 31
(ومن یقنت منکن) یعنی تم میں جوئی کوئی اطاعت شعار ہوگی (للہ و رسولہ وتعمل صالحاً ) ” اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔ “ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت (نوتھآ اجرھا مرتین) ” ہم اسے دگنا اجر دیں گے “ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو ان سے دوگنا اجر عطا کریں گے (اعتدنا لھا رزقا کریما) ” اور ہم نے اس کے لئے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔ “ اس سے مراد جنت ہے، چناچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کئے تو اس سے ان کا اجر وثواب بھی معلوم ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
مرتبہ کے لحاظ سے جزاوسزا ہے
قول باری ہے (یا نساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین) اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اسے دہری سزا دی جائے گی۔
دہری سزا دینے کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازواج مطہرات پر دوسری عورتوں کی بہ نسبت اللہ کا زیادہ فضل و انعام تھا، انہیں حضور ﷺ کی بیویاں ہونے کا شرف حاصل تھا، ان کے گھروں میں نزول وحی کا سلسلہ رہتا تھا اور اس کی بنا پر انہیں ایک فضیلت حاصل تھی۔
اس صورت حال کے تحت اگر ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کا اظہار ہوتا تو یہ بات ان کی سزا کی تضعیف کا سبب بن جاتی۔ اس لئے کہ نعمت جس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
53 ازواج مطہرات سے خاص خطاب : سو اس میں ازواج مطہرات سے خطاب تکریم و تشریف فرمایا گیا ہے جو کہ متضمن ہے تنبیہ و تذکیر پر۔ { فَاحِشَۃٍ مَبَیِّنَۃٍ } سے یہاں مراد بدخلقی اور نافرمانی ہے۔ یعنی " النّشُوز و سُوْئُ الخلق " (صفوۃ : ج 2 ص 533) ۔ اور اہل علم نے تصریح فرمائی ہے کہ لفظ " فاحشہ " جب الف لام کے ساتھ معرفہ ہو کر آئے تو اس کے معنیٰ زنا اور لواط کے ہوتے ہیں۔ لیکن نکرہ استعمال ہو تو اس کے معنی مطلق معصیت و نافرمانی کے ہوتے ہیں۔ اور اگر موصوف ہو کر استعمال ہو جیسا کہ یہاں ہے ۔ کہ " مبینۃ " کی صفت لگی ہوئی ہے ۔ تو اس وقت اس سے مراد سوء معاشرت اور عدم ادائیگی حقوق زوجیت ہوتی ہے۔ اسی لئے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
عورتوں کے لیے احکام الٰہی
تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ غیر مردوں سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو قدرے سخت اور بارعب رکھو۔ نرم اور پرکشش آواز سے بات مت کرو، کیونکہ جیسے عورت کے حسن و جمال سے غیر مرد متاثر ہوتے ہیں اسی طرح نسوانی آواز میں بھی مردوں کیلئے کشش ہوتی ہے جو کہ بےحیائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے باقی جسمانی حسن و جمال کے ساتھ آواز کے حسن کو بھی قابو میں رکھو۔
بےضرورت گھر سے باہر حسن و جمال نہ دکھاتی پھرو بلکہ بہتر ہے کہ گھر کے اندر وقار سے رہو۔
باہر نکلو تو چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح لپیٹ کر نکلو۔
نماز باقاعدہ پڑھو، زکوٰۃ دو اور اللہ و رسول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیات 28 تا 34
اسرار ومعارف
جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی جس طرح تمہارے مقام کے بلند ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ نافرمانی کی صورت میں دگنا عذاب ہوا اسی طرح اس کا یہ بھی تقاضا ہے کہ نیکی اور تابعداری کی صورت میں دگنا اجر ملے۔2 اور اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی کہ جنت کے اعلیٰ مقام ( وسیلہ) میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہینگی۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →ومن یقنت منکن للہ ورسولہ
(33:3 1) ومن یقنت : میں وائو عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے من شرطیہ ہے یقنت مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب۔ مذکر کا صیغہ من کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ قنت یقنت (باب نصر) قنوتا۔ خشوع و خضوع کرنا۔ خاکساری کرنا۔ مطیع ہونا۔ اطاعت کرنا۔ نماز میں دعا کرنا۔ (دعائے قنوت) ومن یقنت اور جو تابعداری کرے گی ۔
منکن۔ من بیانیہ ہے تبعیض کے لئے نہیں ہے۔ کن ضمیر جمع مؤنث حاضر۔ تم میں سے۔ وتعمل۔ وائو عاطفہ ہے۔ تعمل مضارع مجزوم بوجہ شرط واحد مؤنث غائب، صیغہ تانیث رعایت معنی کے لحاظ سے۔ تعمل کا عطف یقنت پر ہے۔ اور جو عمل کرے گی۔ وتعمل عملا صالحا اور جو تم میں سے نیک عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34
کنتن : تم ہو
تعالین : تم سب آجاؤ
امتع : میں سامان دوں گا
اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں
یضعف : وہ دو گنا کردے گا
یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی
مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا
اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو
لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو
یطمع : وہ لالچ کرے گا
قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں
تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا
الرجس : گندگی ۔ آلودگی
اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ
یتلی : تلاوت کیا گیا
خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت
تشریح آیت نمبر 28 تا 34
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
پردہ کا حکم ، ازواج مطہرات اور اہل بیت کے فضائل۔
(ف 1) اے نبی کی بیویوں، تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی دل سے ہمیشہ تابعدار رہے گی اور عمل کو اچھے کرے گی تو ہم اس کو ثواب اوروں سے دوہرا دیں گے ، یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا زیادہ ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنازیادہ دیں گے کیونکہ تمام جہانوں کی عورتوں پر تمہیں شرف وفضیلت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا مرتبہ امت کی نیک عورتوں سے دنیا اور عقبی میں بڑھ کر ہے کیونکہ دنیا میں امت کے ہر مرد کو حکم ہے کہ وہ اپنی ماں کے برابر تمہاری عزت کرے، اور عقبی میں نبی ﷺ کے ساتھ جنت کے اعلی درجہ میں تمہارا مقام ہوگا آگے آداب تعلیم ہیں کہ اگر بضرورت غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
کاشانہ نبوت
1: بات یہ تھی کہ کاشانہ نبوت میں عجمی بادشاہوں کی طرح دولت کی نمود نہیں تھی ۔ امراء اور مالداروں کی سی حالت نہیں تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو وہاں ضروریات زندگی کا بھی فقدان تھا ۔ اس لئے بالصبع پردہ نقسیان کرم نبوت کو بتقاضائے بشریت بعض دفعہ اس کا احساس ہوتا اور وہ طول خاطر ہوجائیں ایک دفعہ تو وہ اس دکھ کے اظہار پر مجبور ہوگئیں ۔ حضور ﷺ نے جب یہ سنا ۔ تو آپ کو بدرجہ غایت رنج ہوا ۔ آپ نے عہد کرلیا ۔ کہ ایک مہینہ تک ان خواتیں کے پاس نہ جائیں گے ۔ اس کے بعد تسکین خاطر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ۔ کہ اے پیغمبر اپنی محترم مخدرات سے کہہ دیجئے ۔ کہ میرے ہاں روح وقلب کی زینت و آرائش کا سامان تو…
Read the full tafseer →31۔ اور جو عورت تم میں سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک اعمال کرتی رہے گی تو ہم اس کو اس کا بھی دو مرتبہ یعنی دوہرا اجر دیں گے اور مزید برآں ہم نے اس عورت کیلئے خاص اور با عزت روزی تیار کر رکھی ہے۔ یعنی تم کو جو نبی کی زوجیت کا شرف حاصل ہے اس کی بنا پر ورزر بھی اور اجر بھی دوہرا اور ظاہر ہے کہ ان کا نشوز جس طرح اذیت پیغمبر کا موجب ہے اسی طرح ان کی خدمت اور اطاعت آپ کی راحت کا سبب ہوگی۔ تو پیغمبر کے ستانے کا جس طرح عذاب زیادہ اسی طرح آپ کو راحت اور آرام پہنچانے کا ثواب زیادہ دوہرے کا مطلب وہی کو جتنا اس فعل کا ثواب کسی اور کو ملے اس سے دگنا ان کو ملے رزق کریم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 4۔ مراد اس سے وہ معاملہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ اور پریشان ہوں۔
Read the full tafseer →جتنا بڑا مقام اتنا ہی بڑا انعام ، امہات المومنین بلا شبہ اسی مقام کی مستحق ہیں۔
31 ۔ گزشتہ آیت میں بڑوں کی لغزش کا ذکر کیا گیا تھا کہ ان کی معمولی لغزش بھی معمولی نہیں ہوتی بلکہ وہ دوہرے عذاب کی موجب ہوتی ہے جب بصورت لغزش اتنی سخت سزا کا ذکر کیا گیا تو ضروری تھا کہ ان کے انعام کا ذکر بھی ان کے مقام کے مطابق ہی کیا جاتا تاکہ ترازو برابر ہے۔ زیر نظر آیت میں اس انعام کے دوگنا ہونے کا اعلان بھی کردیا گیا لیکن اس انعام کے دوگنا ہونے کا بیان نہایت عجیب طریقے سے بیان ہوا جیسا کہ گزشتہ آیت میں بیان ہوا تھا کہ تم میں جو بھی کسی لغزش کی مرتکب ہوگی تو اس کو دوگنا ، دو برابر ، دوچند اور دونا عذاب دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
The particular position of the blessed wives and the rationale of hard restrictions placed on them
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرًا ﴿30﴾ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا ﴿31﴾
O wives of the Prophet, whoever from among you will commit a clearly shameful act, the punishment will be doubled for her. And it is easy for Allah to do so. [ 30] And whoever of you stays obedient to…
Read the full tafseer →45 The reason for giving a double punishment for a sin and a double reward for a good work is that those whom Allah honours with a high rank in society generally become the leaders of men and the majority of the people follow them for good or for evil. Thus, their evil does not remain their own evil but becomes the cause of a people's degeneration, and their goodness does not remain them own goodness but becomes the cause of the true success of many other people also. Therefore, when they commit evil they are punished for their own as well as for others degeneration, and whcn they do good…
Read the full tafseer →