Al-Ahzaab 33:32

Al-Ahzaab · from ayah 32

33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ۟ۚيٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا

اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے۔ اور ان دستور کے مطابق بات کیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O wives of the Prophet, you are not like anyone among women. If you fear Allah, then do not be soft in speech [to men], lest he in whose heart is disease should covet, but speak with appropriate speech.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:32

نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے۔ اور ان دستور کے مطابق بات کیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وه کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی کی بیویو ! اگر تم تقوی اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے اَزواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرنا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی کی بیویو ! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو (کسی نامحرم سے) دبی زبان سے بات نہ کرو، ورنہ جس شخص کے دل میں روگ ہے وہ کوئی غلط توقع لگا بیٹھے گا لہذا صاف سیدھی بات کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی کو بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔ تو تم لہجہ میں نرمی نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے اور بات معروف کے مطابق کہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے نبی کی بیویو ! (یاد رکھو) تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تم تقوی کو اپنائے رکھو پس تم (کسی نامحرم سے بوقت ضرورت) بات کرنے میں کسی لچک (اور نرمی) سے کام نہ لینا کہ کہیں لالچ میں پڑجائے کوئی ایسا شخص جس کے دل میں روگ ہو اور (یوں) بات بھلی ہی کہا کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرف نہیں ہو جب کہ تم تقوی اختیار کر رکھو۔ تو تم بولی میں نزاکت مت اختیار کرو کہ (اس سے) ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے۔ اور قاعدے کے موافق بات کہا کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی اجنبی شخص کے ساتھ نرم لہجے سے بات نہ کیا کرو ورنہ جس شخص کے دل میں مرض ہے وہ کوئی غلط توقع لگا بیٹھے گا لہذا دستور کے مطابق بات کیا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Wives of the Prophet, you are not like other women. If you fear Allah, do not be too complaisant in your speech lest those with diseased hearts should covet you; but speak in a straight forward manner.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O wives of the prophet, you are not like any other women, if you observe taqwa (righteousness). So, do not be too soft in your speech, lest someone having disease in his heart should develop fancies (about you); and do speak with appropriate words.

— Muhammad Taqi Usmani

O wives of the prophet, you are not like any other women, if you observe taqwa (righteousness). So, do not be too soft in your speech, lest someone having disease in his heart should develop fancies (about you); and do speak with appropriate words.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O wives of the Prophet! You are not like any other women. If you keep you have Taqwa, then be not soft in speech, lest he in whose heart is a disease should be moved with desire, but speak in an honorable manner.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye wives of the Prophet! Ye are not like any other women. If ye keep your duty (to Allah), then be not soft of speech, lest he in whose heart is a disease aspire (to you), but utter customary speech.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O wives of the Prophet, you are not like anyone among women. If you fear Allah, then do not be soft in speech [to men], lest he in whose heart is disease should covet, but speak with appropriate speech.

— Saheeh International

Wives of the Prophet, you are not like other women. If you have fear of God, do not be tender in your speech lest people whose hearts are sick may lust after you.

— Muhammad Sarwar

O wives of the Prophet! you are not like any other of the women; If you will be on your guard, then be not soft in (your) speech, lest he in whose heart is a disease yearn; and speak a good word.

— Muhammad Habib Shakir

wives of the prophet! ye are not like any others of women, if ye are God-fearing. So be not soft in speech, lest one in whose heart is disease should be moved with desire, bun speak a reputable speech.

— Abdul Majid Daryabadi

O Consorts of the Prophet! Ye are not like any of the (other) women: if ye do fear (Allah), be not too complacent of speech, lest one in whose heart is a disease should be moved with desire: but speak ye a speech (that is) just.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 46 یہاں سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن سے اسلام میں پردے کے احکام کا آغاز ہوا ہے۔ ان آیات میں خطاب نبی ﷺ کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود تمام مسلمان گھروں میں ان اصلاحات کو نافذ کرنا ہے۔ ازواج مطہرات کو مخاطب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب نبی ﷺ کے گھر سے اس پاکیزہ طرز زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی، کیونکہ یہی گھر ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ بعض لوگ صرف اس بنیاد پر کہ ان آیات کا خطاب نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے ہے، یہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ یہ احکام انہی کے لیے خاص ہیں۔ لیکن آگے ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ازواج مطہرات کو خاص ہدایات (آیت) ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقین فلا تخضعن بالقول، سابقہ آیات میں ازواج میں مطہرات کو رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنے سے روکا گیا ہے جن کا پورا کرنا آپ کے لئے دشوار ہو یا جو آپ کی شان کے مناسب نہ ہوں۔ اور جب انہوں نے اس کو اختیار کرلیا تو ان کا درجہ عام عورتوں سے بڑھا دیا گیا کہ ان کے ایک عمل کو دو کے قائم مقام بنادیا۔ آگے ان کو اصلاح عمل اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت و زوجیت کے مناسب بنانے کے لئے چند ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ سب ہدایات اگرچہ ازواج مطہرات کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام ہی مسلمان عورتیں ان کی مامور ہیں، مگر یہاں ازواج مطہرات کو خصوصی خطاب کر کے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقیتین فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا (32) ’ خضوع ‘ کے معنی تواضح و خاکساری کے اظہار کے ہیں۔ فلا تخضعن بالقول کے معنی ہوں گے۔ بات کہنے میں نرمی و تواضع نہ اختیار کرو۔ عام حالات میں تو پسندیدہ طریقہ کلام یہی ہے کہ آدمی تواضع کا انداز اختیار کرے لیکن بعض اوقات حالات و مصالح کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس سے مختلف روش اختیار کی جائے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس دور میں منافقین و منافقات رات دن اس تگ و دو میں تھے کہ ازواج مطہرات ؓ کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرکے کوئی ایسی بات نکالیں جس کو ایک فتنہ بنا سکیں۔ ان لوگوں کی باتیں ہمدردانہ رنگ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32-1یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ نے تمہیں رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے، اس کی وجہ سے تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ کی طرح تمہیں بھی امت کے لئے ایک نمونہ بننا چاہیے چناچہ انھیں ان کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرکے انھیں کچھ ہدایت دی جا رہی ہے۔ اس کی مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں جنہیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ 32-2اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لئے جنسی کشش رکھی ہے (جس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

24: یعنی ازواج مطہرات کا مقام عام عورتوں سے بلند ہے، اس لیے اگر وہ تقوی اختیار کریں گی تو انہیں ثواب بھی دوگنا ملے گا، اور کوئی گناہ کریں گی تو اس کا عذاب بھی دوگنا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو پیغمبر کے ساتھ جتنا قرب ہو، اسے اپنے عمل میں اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے۔ 25: اس آیت نے خواتین کو غیر محرم مردوں سے بات کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس میں جان بوجھ کر نزاکت اور کشش پیدا نہیں کرنی چاہیے، البتہ اپنی بات کسی بد اخلاقی کے بغیر پھیکے انداز میں کہہ دینی چاہیے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب عام گفتگو میں بھی خواتین کو یہ ہدایت کی گئی ہے تو غیر مردوں کے سامنے ترنم کے ساتھ اشعار پڑھنا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–34

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اگر تقویٰ اور خدا کا ڈر دل میں رکھتی ہو تو غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے (جس کی ضرورت خصوصا امہات المومنین کو پیش آتی رہتی ہے) نرم اور دلکش لہجہ میں کلام نہ کرو۔ بلاشبہ عورت کی آواز میں قدرت نے طبعی طور پر ایک نرمی اور نزاکت رکھی ہے۔ لیکن پاکباز عورتوں کی شان یہ ہونی چاہیے کہ حتی المقدور غیر مردوں سے بات کرنے میں بہ تکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں قدرے خشونت اور روکھا پن ہو اور کسی بد باطن کے قلبی میلان کو اپنی طرف جذب نہ کرے۔ امہات المومنین کو اس بارے میں اپنے مقام بلند کے لحاظ سے اور بھی زیادہ احتیاط لازم ہے تاکہ کوئی بیمار اور روگی دل کا آدمی بالکل اپنی عاقبت تباہ نہ کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو“ مراد یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیام قیامت امت کی خواتین کے لیے اسوہ بننا ہے۔ آئندہ آیات میں ازواجِ مطہرات رض کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے : { اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } ”اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو“ جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بےدھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 معاشرہ سے فحاشی کے خاتمہ کے لئے احکام :۔ سابقہ دو آیات سے دراصل معاشرہ سے فواحش کی تطہیر کا پروگرام دیا جا رہا ہے۔ اس کے آغاز میں دو باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ایک تو اس کا آغاز نبی کے گھرانہ سے کیا گیا۔ دوسرے سب سے پہلے فاحشہ مبینہ (یعنی زنا) کا ذکر کردیا گیا۔ اس کے بعد اب زنا کے سدباب کے احکام کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں پہلے یہ خاص طور پر وضاحت کردی گئی کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے کردار کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ لہذا تمہیں پوری طرح ان احکام پر عمل کرنا ہوگا۔ تمہارے ہر عمل کو لوگ حجت سمجھیں گے اور بطور حجت ہی پیش کریں گے۔ 46 آواز پر پابندی :۔ جنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ ازواج نبی ؓ عنھن کا مرتبہ وشرف امت کی عام عورتوں سے یقیناً کہیں زائد ہے۔ لیکن یہ شرط بہرحال ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہے کہ جادۂ تقوی سے قدم نہ ہٹنے پائے۔ یا حرف خطاب جلب تو جہ مزید کے لیے ہے۔ (آیت) ” کا حد من النسآء “ یعنی تم میں صرف انسانیت ہی نہیں۔ بلکہ دوسرے اوصاف فاضلہ بھی ہیں۔ جن سے مساوات ومماثلت ممکن نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تینوں آیتوں کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ جس کی فضیلت زیادہ ہے اس کا عصیان و اطاعت دونوں اوروں سے اشد واکمل ہیں۔ اور یہی اصل ہے۔ ع :” نزدیکاں رابیش بود حیرانی “ کی۔ 60۔ عورت کی آواز میں جو قدرتی نرمی اور لوچ ہوتا ہے اس کو بڑا دخل مرد کی خواہش نفسانی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : اے نبی آپ اپنی ازواج سے کہہ دیجئے اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ یعنی متعۂ طلاق دیدوں اور اگر تمام اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو یعنی جنت کو تو یقین جانو کہ تم میں نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارادۂ آخرت پر زبردست اجر یعنی جنت تیار کررکھی ہے، چناچہ ان سب نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اے نبی کی بیبیو ! جو بھی تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کا ارتکاب کرے گی مُبَیِّنَۃً میں ی کے فتحہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر کی ہوئی یا کھلی ہوئی تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور ایک قراءت میں یُضَعَّف تشدید کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ینسآء النبی لستن کا حد من النساء . اے نبی کی عورتو ! تم کسی دوسری عورت کی طرح نہیں ہو۔ یعنی نہ تم میں سے کوئی ایک کسی غیر عورت کی طرح ہے اور نہ تمہاری جماعت دوسری عورتوں کی جماعت کی طرح ہے یعنی فضیلت میں کوئی دوسری عورت تمہاری طرح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دوسری نیک مؤمن عورتوں کے برابر میرے نزدیک تمہارا مرتبہ نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک تمہاری عزت اور تمہارا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اَحَدکی اصل وَحَد تھی اور وَحَد بمعنی واحد ہے۔ لفظ احد کی وضع ثانوی عمومی نفری کیلئے ہے۔ مذکر و مؤنث اور واحد جمع سب کیلئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ دلالت کر رہی ہے کہ امہات المؤمنین کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی کی بیویو تم فرمانبرداری و گناہ اور ثواب و سزا میں معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تو بولنے میں نزاکت و نرمی مت کیا کرو کہ اس سے خرابی والے کو خیال فاسد ہونے لگتا ہے اور صحیح صحیح بات کہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ۔ : یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں، بلکہ تمہیں نبی کی بیویاں ہونے کا جو شرف عطا ہوا ہے اس کی وجہ سے تمہارا مقام دوسری عورتوں سے بلند ہے اور تم ان کے لیے نمونہ ہو۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ ازواج مطہرات دوسری عورتوں سے افضل ہیں، البتہ آسیہ زوجہ فرعون، مریم بنت عمران اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ ان کی فضیلت صحیح نصوص سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (42) زمخشری نے فرمایا : ”أَحَدٍ“ کا لفظ مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لیے آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم عورتوں کی جماعتوں میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت یانساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقیتن یعنی فضل و شرف میں عام عورتوں کی طرح نہیں۔ کا حد فرمایا کو احدۃ نہیں فرمایا کیونکہ احد یہ مذکر، مونث، واحد اور جماعت سے نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اس کا ذکر ایسی چیز کے لیے ہوتا ہے جو آدمی نہ ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے لیس فیھا احد یعنی اس میں کوئی بکری اور اونٹ بھی نہیں۔ النساء کا خصوصا ذکر کیا کیونکہ کہ گزری ہوئی عورتوں میں حضرت آسیہ اور حضرت مریم بھی ہیں۔ قتادہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سورة آل عمران میں ان کی باہمی فضیلت کے بارے میں اختلاف کے بارے میں بحث گزرچکی ہے۔ وہاں اس میں غورو فکر کرلے۔ پھر فرمایا : آیت ان اتقیتن یعنی تم اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–32

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالح اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کے لیے اطاعت کے ذریعہ نیک عمل کرے۔ 2۔ ابن سعد نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کی آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ یعنی تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے آیت وتعمل صالحا یعنی روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔ 3۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ [اے نبی کی خواتین ] لَسْتُنَّ [تم لوگ نہیں ہو ] كَاَحَدٍ [کسی ایک کی مانند ] مِّنَ النِّسَاۗءِ [عورتوں میں سے ] اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ [اگر تم لوگ تقوی اختیار کرو ] فَلَا تَخْـضَعْنَ [پس تم لوگ تواضع مت کرو ] بِالْقَوْلِ [بات سے ] فَيَطْمَعَ [نتیجتاً لالچ کرے ] الَّذِيْ [وہ جس کے ] فِيْ قَلْبِهٖ [دل میں ] مَرَضٌ [کوئی روگ ہو ] وَّقُلْنَ [اور تم لوگ کہو ] قَوْلًا مَّعْرُوْفًا [معقول بات ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ازواج مطہرات ؓ کی فضیلت اس کے بعد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ) (اے نبی کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح سے نہیں ہو) اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں فضیلت دی ہے وہ بہت بڑی ہے جو اور کسی بھی عورت کو حاصل نہیں ہے، اپنے شرف اور بلند مقام کو سمجھو اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کی خوشنودی کے اعمال میں لگی رہو۔ (اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بالْقَوْلِ ) (اگر تم تقویٰ اختیار کرتی ہو) یعنی تقویٰ ہی پر آئندہ زندگی گزارنی ہے تو اس بات کا بھی دھیان رکھو کہ جب کسی نامحرم مرد سے کسی ضرورت سے بات کرنی پڑجائے تو لب و لہجہ میں نزاکت کا انداز مت اختیار کرو اگر ایسا انداز ہوگا تو بعض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–34

فضائل وخصائص ازواج مطہرات قال اللہ تعالیٰ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اگرچہ ازواج مطہرات کی تنبیہ اور تادیب کا ذکر تھا لیکن وہ تنبیہ وتادیب بھی ان کے شرف اور امتیاز کو متضمن تھی اس لئے کہ فاحشہ کے ارتکاب پر دوہرے عذاب کی دھمکی بھی ان کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے تھی اور اسی شرف کی وجہ سے خطاب صراحۃ خود ازواج مطہرات کو تھا۔ اب آئندہ آیات میں بھی صراحۃً ازواج مطہرات کو خطاب کر کے ان کے مزید شرف اور امتیاز کو بیان کرتے ہیں تاکہ پہلے سے زیادہ انقیاد اور پرہیزگاری اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اور زہد اور قناعت پر اور دنیا سے بیزاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے دوسرا خطاب ہے۔ اس میں ان کو ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل کرنے سے ان کا بلند مقام قائم رہے اور ان کی عزت و آبرو ہر شک و شبہ سے بالا رہے۔ اے ازواجِ نبی اگر تم تقوی اختیار کرو تو دنیا کی کوئی عورت تمہارے برابر نہیں ہوسکتی۔ فلا تخضعن بالقول، اس لیے تم پیغمبر (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا معاملے میں ہرگز نرم رویہ اختیار نہ کرنا، اور فاحشہ مبینہ سے احتراز کرنا، اس بارے میں ہرگز نہ کہنا کہ پیغمبر اپنی مرضی والا ہے اسے اپنے متبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنے سے کون روک سکتا ہے اگر تمہاری ایسی نرم پالیسی کا منافقین کو پتہ چل گیا تو وہ خوش ہوں گے کہ چلو ہمارا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–34

ربط آیات جب ازواج مطہرات نے اپنے اخراجات میں اضافہ کا مطالبہ کیا تو حضور ﷺ نے ناراض ہو کر ایک ماہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر اللہ نے یہ آیات نازل فرما کر نبی کی بیویوں کو تنبیہ کی۔ گزشتہ درس میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ نے نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی عورتوں سے کہہ دیں کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہیں تو آئو میں تمہیں طلاق دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی متلاشی ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے دنیا کی خواہش خدا اور اس کے رسول کے قرب کے منافی ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۝ 3 2ۚ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–34

ترکیب : ومن شرطیۃ یقنت بالیاء رعایۃ للفظ من وبالتاء رعایۃ لمعنا ھا۔ تعمل معطوف علی یقنت نوتہا، جوابھا، واعتدنا، معطوف علی نوء تھا کا حد اصل احد وحد بمعنی الواحد ثم وضع فی النفیء العام مستوھا فیہ المذکر والمونث والواحد والکثیر والمغنی لستن کجماعۃ واحدۃ من جماعات النساء فی الفضل، اھل البیت منصوبا علی النداء والمدح من آیات بیان لمایتقی والحکمۃ معطوف علیٰ آیات اللہ۔ تفسیر : اس آیت کے متعلق یہ بات باقی رہ گئی، وہ یہ کہ علماء کی اس بارے میں بحث ہے کہ یہ اختیار کیا، تفویض طلاق تھی کہ نفس اختیار سے طلاق واقع ہوجاتی یا نہیں ؟ حسن اور قتادہ اور اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات نہ تھی، بلکہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍمِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّـقَیْتُنَّ فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا۔ (الاحزاب : 32) (اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو دبی زبان میں بات نہ کرو، کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ ) پردے کے ابتدائی احکام اور ایک غلط فہمی کا ازالہ اس آیت سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن میں پردے کے ابتدائی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی اور تکمیل سورة النور میں کی گئی ہے۔ اس میں خطاب اگرچہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : بےحیائی سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عورت غیر محرم سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں کسی حد تک بےاعتنائی کا اظہار کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام اخلاق اور اچھی گفتگو کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن عورت کا غیر محرم کے ساتھ اخلاق یہ ہے کہ وہ اس سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں نسبتاً بیگانگی کا اظہار کرے تاکہ جس شخص کے دل میں بےحیائی کا کچھ مرض ہے وہ غلط توقعات وابستہ نہ کر بیٹھے۔ تاہم اس ہدایت کا یہ معنٰی نہیں کہ عورت غیرمحرم سے بات کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کرے یا ایسا انداز اختیار کرے جس میں بد خلقی پائی جائے اس کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمان عورتوں کو بےحیائی سے بچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کوئی جماعت ِنساء تمہارے برابر نہیں : 32: یٰنِسَآ ئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآ ئِ (اے نبی ﷺ کی ازواج تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو) یعنی تم عورتوں کی جماعتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو۔ جب عورتوں کی تمام جماعتوں کی ایک جماعت کر کے پڑتال کی جائے تو کوئی ایک جماعت بھی تمہاری فضیلت میں برابری کرنے والی نہ ملے گی۔ اَحَدٌ اصل میں وَحَدٌ ہے اور وہ ایک کو کہتے ہیں پھر نفی عام کیلئے اس کو وضع کیا گیا اس میں مذکر و مؤنث اور واحد اور اس کے ماوراء کو برابر قرار دیا گیا۔ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ (اگر تم تقویٰ اختیار کرو) اگر تم تقوی کا ارادہ کرو۔ نمبر 2۔ اگر تم متقی ہو۔ فَلاَ تَخْضَعْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32، یا نساء النبی لستن کا حد من النسائ، حضرت ابن عباس ؓ نے یہ مطلب بیان کیا کہ دوسری نیک مؤمن عورتوں کے برابر میرے نزدیک تمہارا مرتبہ نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک تمہاری عزت اور تمہاراثواب بہت زیادہ ہے ۔ احد کی اصل وحد تھی اور وحد بمعنی واحد ہے۔ لفظ احد کی وضع ثانوی عمومی نفی کے لیے ہے ۔ مذکر، مؤ نث اور واحد جمع سب کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا نفرق بین احد من رسلہ، اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ، فما منکم احد عنہ حاجزین،۔۔۔۔۔۔ ، ان اتقیتن ، اگر اللہ اس کے رسول کی رضا مندی سے بچی رہوگی ۔ ، فلا تخضعن بالقول ، مردوں کے ساتھ بات کرنے میں نرمی اختیا رنہ کرو اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–32

28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–34

آیت 32 (ینسآء النبی) ” اے نبی کی بیویو ! “ یہ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ (لستن کا حدمن النسآء ان اتقین) ” تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو “ کیونکہ اس طرح تمہیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہوگی اور کوئی عورت تمہارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام وسائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا : (فلا تخضعن بالقول) ” پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔ “ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمہاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

خواتین غیر محرموں سے لچکدار گفتگو نہ کریں قول باری ہے (فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ تو تم گفتگو میں نزاکت اختیار نہ کرو کہ اس سے ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایسی لچک پیدا نہ کریں جو کسی بدقماش انسان کے لئے ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کا سبب نہ بن جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ گفتگو میں ایسا نرم لہجہ اختیار نہ کریں جس کی بنا پر کوئی بدچلن انسان ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کو اپنے دل میں جگہ دے کر ان کے اس نرم لہجہ کو اپنی طرف ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–32

53 ازواج مطہرات سے خاص خطاب : سو اس میں ازواج مطہرات سے خطاب تکریم و تشریف فرمایا گیا ہے جو کہ متضمن ہے تنبیہ و تذکیر پر۔ { فَاحِشَۃٍ مَبَیِّنَۃٍ } سے یہاں مراد بدخلقی اور نافرمانی ہے۔ یعنی " النّشُوز و سُوْئُ الخلق " (صفوۃ : ج 2 ص 533) ۔ اور اہل علم نے تصریح فرمائی ہے کہ لفظ " فاحشہ " جب الف لام کے ساتھ معرفہ ہو کر آئے تو اس کے معنیٰ زنا اور لواط کے ہوتے ہیں۔ لیکن نکرہ استعمال ہو تو اس کے معنی مطلق معصیت و نافرمانی کے ہوتے ہیں۔ اور اگر موصوف ہو کر استعمال ہو جیسا کہ یہاں ہے ۔ کہ " مبینۃ " کی صفت لگی ہوئی ہے ۔ تو اس وقت اس سے مراد سوء معاشرت اور عدم ادائیگی حقوق زوجیت ہوتی ہے۔ اسی لئے حضرت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

عورتوں کے لیے احکام الٰہی تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ غیر مردوں سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو قدرے سخت اور بارعب رکھو۔ نرم اور پرکشش آواز سے بات مت کرو، کیونکہ جیسے عورت کے حسن و جمال سے غیر مرد متاثر ہوتے ہیں اسی طرح نسوانی آواز میں بھی مردوں کیلئے کشش ہوتی ہے جو کہ بےحیائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے باقی جسمانی حسن و جمال کے ساتھ آواز کے حسن کو بھی قابو میں رکھو۔ بےضرورت گھر سے باہر حسن و جمال نہ دکھاتی پھرو بلکہ بہتر ہے کہ گھر کے اندر وقار سے رہو۔ باہر نکلو تو چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح لپیٹ کر نکلو۔ نماز باقاعدہ پڑھو، زکوٰۃ دو اور اللہ و رسول کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

آیات 28 تا 34 اسرار ومعارف جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 بلکہ آنحضرت ﷺ کی ازواج ؓ ہونے کی وجہ سے تمہارا درجہ اور مرتبہ سب سے بلند ہے اور بقیہ عورتوں کیلئے تمہاری حیثیت ایک نمونہ کی ہے۔ اس آیت سے بعض علمائے تفسیر (رح) نے استدلال کیا ہے کہ ” ازواج مطہرات “ سب عورتوں سے افضل ہیں۔ حتیٰ کہ آسیہ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) پر بھی ان کو فضلیت حاصل ہے۔ ( دیکھئے سورة آل عمران 42) (قرطبی) ۔4 یعنی لہجہ میں کوئی لوچ اور دانستہ طور پر اختیار کی ہوئی شیرینی نہ ہو بلکہ غیر معمولی درشتی اور خشونت ہونی چاہیے اور آواز بھی ضرورت سے زیادہ بلند نہ ہو۔ ( قرطبی)5 کہ یہ عورت میری طرف مائل و متوجہ ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:32) ینساء النبی۔ یا حرف ندا نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادیٰ ۔ لستن ماضی جمع مؤنث حاضر۔ لیس سے۔ تم نہیں ہو۔ لیس فعل ناقص ہے ماضی کا معنی رکھتا ہے ماضی کی پوری گردان بھی آتی ہے لیکن مضارع امر، اسم فاعل، اسم مفعول اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اس لئے غیر منصرف کہلاتا ہے۔ دوسرے افعال ناقصہ کی طرح اس کا اسم بھی مرفوع اور خبر منصوب آتی ہے۔ کا حد من السماء ، عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح ای لیس کل واحد منکن کشخص واحد من نساء عصرکن تم میں سے کوئی ایک اپنے وقت کی عورتوں میں سے کسی ایک کی مانند نہیں ہے (یعنی تم ان سے افضل ہو بوجہ شرف زوجیت رسول اکرم ﷺ ) ۔ ان اتقین، ان حرف شرط ہے اتقیتن ماجی جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–34

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34 کنتن : تم ہو تعالین : تم سب آجاؤ امتع : میں سامان دوں گا اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں یضعف : وہ دو گنا کردے گا یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو یطمع : وہ لالچ کرے گا قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا الرجس : گندگی ۔ آلودگی اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ یتلی : تلاوت کیا گیا خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت تشریح آیت نمبر 28 تا 34 اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–32

پردہ کا حکم ، ازواج مطہرات اور اہل بیت کے فضائل۔ (ف 1) اے نبی کی بیویوں، تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی دل سے ہمیشہ تابعدار رہے گی اور عمل کو اچھے کرے گی تو ہم اس کو ثواب اوروں سے دوہرا دیں گے ، یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا زیادہ ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنازیادہ دیں گے کیونکہ تمام جہانوں کی عورتوں پر تمہیں شرف وفضیلت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا مرتبہ امت کی نیک عورتوں سے دنیا اور عقبی میں بڑھ کر ہے کیونکہ دنیا میں امت کے ہر مرد کو حکم ہے کہ وہ اپنی ماں کے برابر تمہاری عزت کرے، اور عقبی میں نبی ﷺ کے ساتھ جنت کے اعلی درجہ میں تمہارا مقام ہوگا آگے آداب تعلیم ہیں کہ اگر بضرورت غیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–32

[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

امہات المومنین 1: پردہ نشینان حرم نبوت کی ذمہ داریاں عام عورتوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ اس لئے جہاں ان کے لئے برائی کے ارتکاب پر دوگنی سزا تجویز فرمائی ہے ۔ وہاں ان کے لئے اجروثواب میں دوچند رکھا ہے ۔ کیونکہ وہ ساری امت کی عورتوں کے لئے پاکبازی اور عفاف میں نمونہ ہیں ۔ ان کے لئے ہر بات میں تقویٰ ووقار کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ان کے ہر فعل میں یہ ضروری ہے ۔ کہ پیغمبرانہ تربیت کا حسن نمایاں ہو ۔ اس لئے ان کو بالطبع اس درجہ آزادی اور سہولت میسر نہیں ہوتی ۔ جس درجہ کہ عام دوسری مومنات کو حاصل ہے ۔ بلکہ ان کی زندگی کا شانہ نبوی کی روایات تقدیس و وقار کے مطابق ہوتی ہے ۔ اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

32۔ اے نبی کی عورتو تم عام اور معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تم پرہیز گاری اور تقویٰ کی پابند رہو سو تم نا محرم مردوں سے نزاکت اور لچک کے ساتھ بات نہ کیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص جس کے قلب میں کوئی روگ اور خرابی ہے وہ کوئی غلط اور فاسد خیال قائم کرے اور معقول اور جچی تلی بات کہا کرو۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کی امتیازی شان کا ذکر ہے کہ اگر تم تقویٰ اور پرہیز گاری پر قائم رہو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، پھر ادب تعلیم کیا کہ نا محرم مردوں سے بات کرتے وقت نرمی اور لوچ نہ برتا کرو کیونکہ نزاکت کے ساتھ بات کرنے میں بلا وجہ روگی اور مریض دلوں میں خیالات فاسدہ اور بری قسم کا لالچ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–33

ف 5۔ یعنی نری نسبت بلا تقوی ہیچ ہے۔ 6۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے عورتوں کے کلام کا فطری انداز ہوتا ہے کلام میں نرمی ہوتی ہے، سادی مزاجی سے اس انداز کو مت برتو، بلکہ ایسے موقع پر تکلف اور اہتمام سے اس فطری انداز کو بدل کر گفتگو کرو، یعنی ایسے انداز سے جس میں خشکی اور روکھا پن ہو کر یہ حافظ عفت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

امہات المومنین عام عورتوں کی طرح نہیں بلکہ امہات المومنین کا درجہ بہت بلند ہے 32 ۔ ہر نبی ورسول بشر تھا اور اسی طرح ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ بھی بلاشبہ بشر ہی تھے بقول سید محمد نعیم الدین صاحب خلیفہ خاص حضرت احمد رضا خاں بریلوی جو شخص رسول کے بشر ہونے سے انکار کرے وہ کافر ہے۔ بلا شبہ یہ صحیح لیکن انبیاء کرام اور رسل عظام بشر ہونے کے باوجود عام انسانوں کی طرح صرف انسان ہی نہیں تھے بلکہ وہ نبی ورسول بھی تھے اور یہی وہ تخصیص تھی جو ان کو دوسرے انسانوں سے جدا کردیتی تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا کہ { قل انما……………… واحد } (الکھف 110:17) ” کہہ دیجئے میں تو اس کے سوا کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Special instructions given to the Blessed Wives Before we describe these instructions in details as they appear from the next verse: يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ (0 wives of the prophet, you are not like any other women, if you observe taqwa. So, do not be too soft in your speech ... 32), it will be useful to recollect that, in the previous verses, the blessed wives have been restrained from placing demands before the Holy Prophet ﷺ ، the fulfillment of which will be hard on him, or those which may be inappropriate…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46 The verses from here to the end of the paragraph are those with which the Commandments of Purdah were introduced in Islam. In these verses though the wives of the Holy Prophet only have been addressed, the intention is to enforce reforms in aII the Muslim houses. The object of addressing the Holy Prophet's wives particularly is that when a pure way of life will start from his house, it will be followed by the women of all other Muslim houses as well, because this house was looked upon by the Muslims as a model to follow. Some people, whcn they see that these verses have been addressed only…

Read the full tafseer →