Explained with ayahs 28–30
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے
کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 41
یعنی تم جو کہتے ہو کہ آخر کار اللہ کی مدد آئے گی اور ہمیں جھٹلانے والوں پر اس کا غضب ٹوٹ پڑے گا، تو بتاؤ وہ وقت کب آئے گا ؟ کب ہمارا تمہارا فیصلہ ہوگا ؟
Read the full tafseer →(آیت) ویقولون متیٰ ھذا الفتح، ”یعنی کفار یہ کہتے ہیں کہ وہ فتح کب ہو گی“ جس کا آپ ذکر کرتے ہیں کہ مومنین کو کفار پر غلبہ ہوگا، ہمیں تو کہیں اس کے آثار نظر نہیں آتے، ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان خائف ہیں، چھپتے پھرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ویقولون متی ھذا الفتح ان کتنم صدقین (28)
یعنی ان لوگوں کی بےبصیرتی اور بلاوت کا حال یہ ہے کہ تاریخ اور آفاق کے ان سارے شواہد و آثار کی طرف جب ان کو توجہ دلائی جاتی ہے تو طنز و استہزا کے انداز میں یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر سچ مچ اسی طرح کے فیصلہ کو کوئی دن آنا ہے اور تم لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو وہ آخر آکیوں نہیں جاتا ! مطلب یہ ہوا کہ وہ کسی چیز کو دلائل و شواہد کی روشنی میں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس وقت مانیں گے جب آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →28-1اس فیصلے (فتح) سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی ﷺ سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد ﷺ تیرے اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔
Read the full tafseer →ویقولون متی ھذا ۔۔۔۔۔ وانتظ انھم منتظرون (28 – 30)
اچھا ” انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منظر ہیں “۔ فتح دراصل فریقین کے درمیان اختلاف کے فیصلے کو کہا جاتا ہے۔ وہ عذاب جس سے حضور اکرم ﷺ ڈرا رہے تھے اس کا آنا بھی فتح ہے۔ یہ لوگ غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہرحال کسی حکمت کی وجہ سے اس کے آنے کی میعاد موخر کی ہوتی ہے۔ وہ اگر سو بار بھی مطالبہ کریں اللہ کا کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جب وہ آئے گا تو یہ لوگ اس کی مدافعت نہ کرسکیں گے اور اس سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔
قل یوم الفتح ۔۔۔۔۔ ولا ھم ینظرون (32: 29) ” ان سے کہو ، فیصلے کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا…
Read the full tafseer →7 پہلے فرمایا تھا کہ ان کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا۔ اس پر منکرین کہتے ہیں کہ قیامت قیامت کہے جاتے ہو، اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ دن کب آچکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ خالی دھمکیاں ہیں قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت 28 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو ! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
30 یعنی کافروں کا ہمیشہ یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ جو ہم پر عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے یا ایمان لانے والوں کے لئے مدد اور فتح و نصرت کی نوید سنائی جاتی ہے تو ایسے وعدے کا کوئی معین وقت بتلا دیا جائے۔ اور یہ معین وقت بتلا دینا ہی حکمت الٰہی کے خلاف ہوتا ہے۔ لہذا ایسے سوال کے جواب میں کفار کی توجہ اس کے دوسرے پہلوؤں کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے جن پر عمل کی بنیاد اٹھتی ہو۔ اور یہی قرآن کا حقیقی مقصد ہوتا ہے۔ یہاں بھی اس سوال کا جواب اسی انداز میں دیا گیا ہے کہ تم اسی مہلت کو غنیمت سمجھو جو اس وقت تمہیں حاصل ہے۔ کیونکہ وہ فیصلہ کا دن آگیا تو اس وقت نہ تمہارا اسلام لانا کچھ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ مزید…
Read the full tafseer →33۔ منکر قیامت مشرکین، قیامت کی خبریں سن سن کر مسلمانوں سے بطور انکار، استہزاء واستبعاد پوچھتے تھے کہ آخر وہ دن کبھی آبھی چکے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان
دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…
Read the full tafseer →ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین . اور وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں (یعنی بطور استہزاء کہتے ہیں)
کہ تمہاری یہ فتح کب ہوگی اگر سچے ہو (تو اس کا وقت کھول کر بتاؤ) ۔
Read the full tafseer →اور بنی خزیمہ اور بنی کنانہ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کب فتح ہوگا اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ مکہ فتح ہوگا یہ خاندان والے اس طریقہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
شان نزول : وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (الخ)
ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ نے فرمایا ہمارے لیے ایک ایسا دن آئے گا جس میں ہم آرام پائیں گے اور دشمن سے راحت میں ہوں گے اس پر مشرکین کہنے لگے وہ ایسی کامیابی کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ فیصلہ کب ہوگا۔ الخ
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ۔۔ : مشرکین جب قیامت قائم ہونے کے دلائل کے سامنے لاجواب ہوتے تو کہتے، اچھا بتاؤ، یہ فیصلہ کب ہوگا، قیامت کب آئے گی ؟ اس سے ان کی جہالت واضح ہوتی ہے کہ جب ایک چیز کا آنا یقینی ہو تو صرف اس وجہ سے اس سے غفلت برتنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ ہمیں اس کے وقت کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نازعات (42 تا 45) اور بنی اسرائیل (49 تا 51)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین، متی محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہو۔ قتادہ نے کہا : فتح کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔ فراء اور قتبی نے کہا : مراد فتح مکہ ہے۔ ان سب سے اولی وہ ہے جو مجاہد نے کہا، یعنی یوم قیامت۔ یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ مومنوں نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے گا، اللہ تعالیٰ محسن کو بدلہ عطا فرمائے گا اور گناہ گار کو سزادے گا۔ کفار نے بطور مذاق کہا : یوم فتح کب ہوگا ؟ یعنی یہ حکم کب ہوگا ؟
حکم کو فاتح اور مفتاح بھی کہتے ہیں کیونکہ اشیاء اس کے ہاتھ پر کھل جاتی ہیں اور جدا ہوجاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمارے لیے ایک دن ایسا آئے گا کہ عنقریب ہم اس میں آرام پائیں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے تو مشرکوں نے کہا آیت متی ہذا الفتح ان کنتم صدقین یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو۔
2۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل ابن عباس ؓ آیت ویقولون متی ہذا لفتح ان کنتم صدقین کے بارے میں فرمایا یہ بدر کا دن ہے جس میں نبی ﷺ نے فتح مکہ آیت لا ینفع الذین کفرو ایمانہم یعنی کافروں کو ان کا ایمان نے کچھ نفع نہیں دیا موت کے بعد۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یوم الفتح…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [کب ہے (ہوگا)] ھٰذَا الْفَتْحُ [یہ فیصلہ ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فتح کے دن کافروں کا ایمان نفع نہ دے گا
جب منکرین اور معاندین کے سامنے قیامت کے واقع ہونے اور وہاں فیصلے کیے جانے کا ذکر ہوتا تھا تو کافر لوگ بطور مذاق ہنسی اڑاتے ہوئے یوں کہتے تھے کہ فیصلہ کا دن کب ہوگا ؟ تم سچے ہو تو ہمیں اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا کہ انکار کرنے اور جلدی مچانے سے اس دن کے عذاب سے خلاصی نہ پاؤ گے آنے والی آہی جائے گی دیر میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ آنی ہی نہیں ہے، وہ آئے گی ضرور آئے گی اور کافروں کو بہت بری مصیبت کا سامنا ہوگا اسے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو ایمان بھی معتبر نہ ہوگا اور اگر یوں کہیں کہ ہمیں مہلت دے دی جائے تو مہلت بھی نہیں دی جائے گی (قال صاحب الروح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…
Read the full tafseer →26:۔ ویقولون الخ۔ یہ شکوی ہے۔ ان منکرین کا حال بھی عجیب ہے کہ قیامت کو ماننے اور احوال قیامت اور عذاب جہنم سے ڈرنے کے بجائے تمسخر اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تو اس کی معین تاریخ بتاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ تھا کہ کیا کافروں اور مشرکوں پہ یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا جن کی رہائش گاہوں میں آج یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ ان واقعات میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کے واقعات تاریخ میں محفوظ اور زبان زد عام تھے۔ جنہیں سن کر عبرت حاصل کی جاسکتی ہے مگر یہ لوگ تو ایسے عبرتناک واقعات سننے سے بھی عاری ہیں ، انہیں اس کا کیا اثر ہوگا ؟
تاریخی واقعات کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے پہلی آیت میں سننے کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیت میں مشاہداتی دلیل کا تذکرہ کر کے ٭ میں فرمایا ہے کہ کیا…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 28
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
متی
مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ،
( م ت ی ) متی
۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا )
فتح ( قيامت)
وما يفتح اللہ تعالیٰ من المعارف،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم…
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (السجدۃ : 28)
(یہ لوگ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔ )
جب مخالفین آنحضرت ﷺ کی دعوت کو روکنے کے لیے اپنی مخالفتوں اور مشکلات میں اضافہ کردیتے اور مسلمان حالات کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں تو وہ آنحضرت ﷺ سے دعا کی درخواست کرتے تو آپ انھیں تسلی دیتے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا، انشاء اللہ اس کی مدد ضرور آئے گی اور ایک دن ضرور فتح اسلام کی ہوگی۔ تو یہی باتیں جب مسلمان کفار سے کہتے تو وہ مذاق اڑاتے ہوئے بار بار مطالبہ کرتے کہ آخر وہ فتح کب آئے گی ؟ یعنی اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ غلبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے…
Read the full tafseer →فیصلے کے منتظر :
28: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْفَتْحُ (اور وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ فیصلہ) کامیابی، نمبر 2۔ حکومت سے فیصلہ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے ربنا افتح بیننا ] الاعراف : 89[ مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عنقریب مشرکین پر فتح دیں گے۔ نمبر 3۔ ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ فرما دیں گے جب مشرکین یہ سنتے تو کہتے متی ھذا الفتح۔ یہ کہہ کر طعنہ زنی کرتے کہ کس و قت وہ فیصلہ ہوگا ! اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ وہ ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →28، ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صادقین ، بعض نے فتح کے دن سے مراد قیامت کا دن لیا ہے اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ بعض نے کہا کہ کفار مکہ بطور استہزاء کے کہتے ہیں کہ تمہاری یہ فتح کب ہوگی۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ کا دن ہے اور سدی کا قول ہے اس سے مراد بدرکادن ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہ ؓ یہ فرماتے تھے کہ اللہ ہمارا مددگار ہے اور ہم تم پر غالب آجائیں گے تو وہ کہتے کہ فتح کا دن کب آئے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26 تا 28۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قو میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ملک شام اور یمن کے سفر میں جن کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس میں ان کے لیے ان رسولوں کے جھٹلانے والوں کے ہلاک ہونے اور ایمان والوں کے نجات پانے میں بہت سی نشانیاں اور نصیحتیں ہیں کیا یہ لوگ ان اجڑی ہوئی قوموں کا انجام نہیں سنتے اور عبرت نہیں پکڑتے پھر فرمایا کیا یہ نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی کی خشک زمین پر اور نکالتے ہیں بہ سبب اس پانی کے چارا اور غلہ اور پھل کہ ان کے جانور اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت نمبر : 30 ۔ 28
یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ (ویقولون متی ھذا الفتح) ” اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ “ جو ہمارے اور تمہاری درمیان فیصلہ کردے اور تمہارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کردے (ان کنتم صدقین) اے رسول ! اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو (قل یوم الفتح) ” کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن “ یعنی جس روز تمہیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمہیں ایمان حاصل ہوجائے تو تمہیں مہلت کا ملنا ممکن ہے تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کرلو کیونکہ یقینی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →47 منکرین کے مذاق و استہزاء کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے عقیدئہ قیامت کے مذاق و استہزاء کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب پورا ہوگا تمہارا یہ وعدہ اگر تم لوگ سچے ہو ؟ "۔ یعنی قیامت کا وہ آخری اور عملی فیصلہ جس کا ڈراوا تم ہمیں سناتے ہو، آخر وہ کب آئے گا ؟ اور اس کو کس نے روک رکھا ہے ؟ آخر وہ آتا کیوں نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے مقصود ان لوگوں کا اصل میں آخرت کا مذاق و استہزاء اور اس کا انکار تھا کہ آخرت واخرت کچھ نہیں۔ یہ محض یونہی ان لوگوں کے مونہوں کی باتیں ہیں وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کی بلادت و بےبصیرتی، عناد و ہٹ دھرمی اور غفلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے
تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارو معارف
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔
فی مریۃ من لقائہ :
اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 8 یعنی یہ جو کہتے ہو کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، تو بتاو یہ فیصلہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ بات کافر مسلمانوں سے کہا کرتے۔ فیصلہ کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(32:28) الفتح : ای یوم الفتح۔ فیصلہ کا دن ۔ یعنی قیامت۔ فتح بمعنی حکم یا فیصلہ۔ قرآن مجید میں متعدد جگی آیا ہے مثلا :۔
ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین ۔ (7:89) اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
یا قال رب ان قومی کذبون فافتح بینی وبینھم فتحا (26:117-118) حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے سو آپ ہی میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا ہوا فیصلہ کر دیجئے۔
کان المسلمون یقولون : ان اللہ یفتح بیننا وین المشرکین فاذا سمع المشرکون قالوا (متی ھذا الفتح) ۔
مسلمان کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔
مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔
تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔
اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 1) شان نزول :
صحابہ کرام نبی ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل نہ رہے گا، اور اللہ کے رسول کے کلام کی تصدیق پوری ظاہرہوجائے گی پھر دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کو جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤ تو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی بعض مفسروں نے اس سے فتح بدر مراد لی ہے بعضوں نے فتح مکہ حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[28] مسلمان مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبرداروں
اور نافرمانوں کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ اس پر کفار بطور تمسخر و استہزا کہتے تھے کہ وہ فیصلے کا وقت کب آئے گا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 1: قرآن حکیم بار بار لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتا ہے ۔ کہ وہ مظاہرین فطرت کو بوقت نظر دیکھیں اور غور کریں کہ ان میں کتنی حکمتیں پوشیدہ اور ممعتتر ہیں ۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں ۔ کہ آخر اس کارگاہ حیات کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ فطرت کی کتاب بہت وسیع اور ضحیم ہے ۔ اس کا ایک صفحہ صداقت اور حکمت کے صدہادفر اتنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔ اور قرآن اس لئے اس کے مطالعے کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر شخص آزادی کے ساتھ فیصلہ کرسکے ۔ کہ ان دونوں صحیفوں میں کس درجہ تطابق ہے ۔ کتاب فطرت ، اور الہام خاطر میں یعنی اس کتاب میں جو کائنات کے ذرہ ذرہ پر لکھی ہوتی ہے ۔ اور اس کتاب میں جو لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے ،…
Read the full tafseer →28۔ اور نہ منکریوں کہتے ہیں کہ یہ فیصلے کا دن کب ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتائو ۔ یوم الفتح سے مراد یا تو فتح مکہ کا دن ہے کیونکہ مسلمانوں سے اس پیشین گوئی کا چرچا سنتے رہتے تھے یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو آخری فیصلے کا دن ہے جس طرح قیامت قائم ہونے کے وقت ایمان معتبر نہیں اسی طرح تلوار کے خوف سے مضطر اور مجبور ہوکر ایمان لانا خدا کے نزدیک معتبر نہیں اسی کا آگے جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 9۔ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔
Read the full tafseer →وہ فیصلے کا دن کب آئے گا جس کی آپ ﷺ ہم کو بار بار خبر دے رہے ہیں ؟
28۔ اس فیصلے کے دن سے کیا مراد ہے ؟ آخرت کا دن بھی مراد ہو سکتا ہے اور لوگوں کی اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ جو ہم سے کہتے ہیں کہ عنقریب فتح اسلام کی ہوگی اور اسلام ہی کا بولا بالا ہوگا ‘ وہ کب ہوگا ؟ کیونکہ ظاہری حالات میں تو اس طرح کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی ‘ اگر تم سچے ہو تو آخر وہ دن آکیوں نہیں جاتا ؟ آئے گا اور یقینا آئے گا لیکن جلدی نہ کرو وہ وقت آنے دو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے مقرر کیا جا چکا ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ فتح کا دن بھی آیا اگر اس دنیوی فتح ہی کو مراد لیا…
Read the full tafseer →Verse 28 carries a question posed by disbelievers: وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْفَتْحُ (And they say, "When will this decision take place?) Here, they are referring to the victory of believers against disbelievers as promised by the Holy Prophet ﷺ and are wondering about it since they see no traces of this likelihood anywhere around. Instead, they see Muslims as a group of people, scared, hiding,
Read the full tafseer →41 That is, "You say that Allah's succour will at last reach you and your rejectors will be struck down by His wrath. Then, tell us: When will this happen? When will judgement be passed between you and us?"
Read the full tafseer →