Explained with ayahs 26–27
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب ؓ کا خط
کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ وبالا کردیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بےپرواہی کی۔ اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لئے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں۔ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 40
سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں یہ ذکر حیات بعدالموت پر استدلال کرنے کے لیے نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں بالعموم ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلۂ کلام میں یہ بات ایک اور ہی مقصد کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اس میں دراصل ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح ایک بنجر پڑی ہوئی زمین کو دیکھ کر آدمی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ بھی کبھی لہلہاتی کشت زار بن جائے گی، مگر خدا کی بھیجی ہوئی برسات کا ایک ہی ریلا اس کا رنگ بدل دیتا ہے، اسی طرح یہ دعوت اسلام بھی اس وقت تم کو ایک نہ چلنے والی چیز نظر آتی ہے، لیکن خدا کی قدرت کا ایک ہی کرشمہ اس کو وہ فروغ دے گا کہ تم دنگ…
Read the full tafseer →(آیت) اولم یرو انا نسوق الماء الی الارض الجرز فنخرج بہ زرعاً ، ”یعنی کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی کو (بعض مواقع میں) زمین پر چلا کرلے جاتے ہیں، جس سے ان کی کھیتیاں اگتی ہیں“ جرز خشک زمین کو کہتے ہیں جس میں درخت نہیں اگتے۔
زمین کی آب پاشی کا ایک خاص حکیمانہ نظام
خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس میں نباتات اگانے کا ذکر قرآن کریم میں جا بجا اس طرح آیا ہے کہ اس زمین پر بارش برستی ہے، اس سے زمین تروتازہ ہو کر اگانے کے قابل ہوجاتی ہے۔ مگر اس آیت میں بارش کے بجائے پانی کو زمین پر چلا کر خشک زمین کی طرف لے جانے اور اس سے درخت اگانے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی بارش کسی دوسری زمین پر نازل…
Read the full tafseer →اولم یروا انما نسوق الماء الی الارض الجرز فنخرج بہ زرعا تاکل منہ انعامھم وانفسھم افلا یبصرون (27)
’ الماء ‘ سے یہاں مراد چونکہ پانی والے بادل ہیں اس وجہ سے اس کے لئے لفظ نسوق کا استعمال موزوں ہوا۔ ’ ارض جرز ‘ چٹیل اور بنجر زمین کو کہتے ہیں۔
اوپر کی آیات میں ان تاریخی آثار و واقعات کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس دنیا میں خدا کے قانون مجازات کے شاہد ہیں۔ اب یہ آخرت کی طرف توجہ دلائی کہ اس کے وقوع کو بھی بعید از امکان نہ سمجھو، وہ بھی واقع ہو کے رہے گی اور اس دن اللہ تعالیٰ اپنا آکری فیصلہ صادر فرمائے گا۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ خدا کی اس قدرت و ربوبیت کو نہیں دیکھتے کہ ہم پانی سے بوجھل بادلوں کو ہانک…
Read the full tafseer →27-1پانی سے مراد آسمانی بارش اور چشموں نالوں اور وادیوں کا پانی ہے، جسے اللہ تعالیٰ بنجر زمین کے علاقوں کی طرف بہا کرلے جاتا ہے اس سے پیداوار ہوتی ہے جو انسان کھاتے ہیں اور جو بھوسا چارہ ہوتا ہے وہ جانور کھاتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص زمین یا علاقہ مراد نہیں ہے بلکہ عام ہے۔ جر ہر بےآباد، بنجر اور چٹیل زمین کو شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔
Read the full tafseer →اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ افلا یبصرون (27)
یہ مردہ زمین ، تباہ حال زمین ، یہ دیکھتے ہیں کہ قدرت خداوندی اس کی طرف پانی چلاتی ہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہی مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو کر زندگی سے بھرپور ہوگئی ہے اور لہلہاتی ہے۔ فصلیں اگتی ہیں۔ لوگ بھی کھاتے ہیں اور ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں۔ مردہ زمین کا منظر جس پر بارش برستی ہے اور وہ زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ یہ منظر دراصل دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے نہایت ہی موثر منظر ہے۔ دیکھو ہر طرف زندگی اور نباتات کا اگاؤ اور لوگوں اور مویشیوں کی خوشیاں اور ان کا استقبال۔ زندگی کی مٹھاس اور تروتازگی کا شعور۔ پھر اس سرسبز زندگی اور خوبصورت اور تروتازہ ماحول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
4 یعنی نہروں اور دریاؤں کا پانی یا بارش کا۔
5 " ارض جرز " سے ہر ایک خشک زمین جو نباتات سے خالی ہو مراد ہے بعض نے خاص سرزمین مصر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور " نسوق المآء " سے دریائے نیل کا پانی مراد لیا ہے۔ اس تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں۔ کما نبہ علیہ ابن کثیر (رح) ۔
6 یعنی ان نشانات کو دیکھ کر چاہیے تھا کہ حق تعالیٰ کی قدرت اور رحمت و حکمت کے قائل ہوتے اور سمجھتے کہ اسی طرح مردہ لاشوں میں دوبارہ جان ڈال دینا بھی اس کے لئے کچھ دشوار نہیں۔ نیز اللہ کی نعمتوں کے جان و دل سے شکر گزار بنتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت 28 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو ! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟
Read the full tafseer →29 یعنی بارش کا ریلا یا نہروں کا پانی جب بنجر زمین کو سیراب کرتا ہے تو بےآب وگیاہ اور بنجر زمین بھی لہلہانے لگتی ہے۔ اس پربہار آجاتی ہے۔ جس سے ہر قسم کے جانداروں کو رزق مہیا ہوتا ہے۔ بعینہ یہی صورت وحی الٰہی کی بارش کی بھی ہوتی ہے۔۔۔ خطہ عرب جس میں توحید کی آواز نکالنا بھی اپنے لئے مصائب کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ اور لوگوں کے دل حق کی دعوت کو قبول کرنے کے سلسلہ میں بالکل مردہ ہوچکے ہیں۔ اگر بارش کا ریلا بنجر زمین کو لہلہاتے کھیت میں تبدیل کرسکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطہ وحی کی بارش سے توحید کی اواز سے لہلہانے لگے مردہ لوگوں میں زندگی عود کر آئے۔ لوگ سمجھنے سوچنے لگ جائیں۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →32۔ (ہماری ربوبیت، خالقیت، مالکیت اور احیاء اموات کی ان پر روز پیش آنے والی مثالوں کو) قرآن مجید آثار تاریخی، جغرافی اور روز مرہ کی تصرفات تکوینی سب سے سبق وہی توحید ہی کا دینا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان
دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…
Read the full tafseer →اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز . کیا انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی کیا ان کو معلوم نہیں) ہم
سوکھی زمین کی طرف پانی کو چلاتے ہیں۔
اَلْجُرُزِ وہ زمین جس کی سرسبزی کٹ گئی ہو ‘ جاتی رہی ہو (لغت عربی میں جُرُز کا معنی ہے کاٹنا۔ اس جگہ مراد ہے سرسبزی کا کٹ جانا ‘ یعنی خشک ہوجانا۔ مترجم) ۔
فنخرج بہ زرعا تاکل منہ انعامھ وانفسھم . پھر پانی سے ہم کھیتی پیدا کرتے ہیں جس (کے بھوسے اور
پتوں وغیرہ) کو ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور (غلہ پھل وغیرہ کو) یہ خود کھاتے ہیں۔
افلا یبصرون کیا ان کو (یہ سامنے کی بات بھی) نہیں سوجھتی ؟ (مردہ زمین کو زندہ کرنا ‘ پھر اس سے جانوروں اور آدمیوں
کا رزق پیدا کرنا دلالت…
Read the full tafseer →کیا کفار مکہ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم خشک بنجر زمین کی طرف پانی پہنچاتے ہیں پھر اس ذریعے سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس سے ان کے مویشی اور وہ خود کھاتے ہیں۔
کیا پھر بھی نہیں جانتے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی طرف سے ہیں۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَاۗءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ۔۔ : یہ توحید و رسالت کے ساتھ سورت کے تیسرے بنیادی مضمون کا تذکرہ ہے، یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بنجر زمین سے کھیتیوں کو پیدا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جن میں سے وہ بھی کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی ؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو دوبارہ زندگی بخش کر حساب کے لیے سامنے لا کر کھڑا کرے گا۔ دیکھیے سورة اعراف (57) ، روم (50) اور یٰس (33 تا 35)۔
Read the full tafseer →آیت اولم یرو انا نسوق الماء الی الارض الجرز کیا وہ ہماری کمال قدرت کو نہیں جانتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف کے گئے جس میں کوئی نباتات نہیں ہوتی تاکہ ہم اسے زندہ کریں۔ زمحشری نے کہا : جرز ایسی زمین کو کہتے ہیں جس کی نباتات کاٹ دی گئی ہو (1) ۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پانی ہی نہ ہو یا اسے چرا گیا اور اسے زائل کردیا گیا۔ وہ زمین جو کھیتی نہ اگائے جس طرح شوریدہ زمین ہوتی ہے اسے جرز نہیں کہتے، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : آیت فنخرج بہ زرعا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد یمن کا علاقہ ہے۔
مجاہد نے کہا : یہ واضح ہے۔ عکرمہ نے کہا : اس سے مراد پیاسی زمین ہے۔ ضحاک نے کہا : اس…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز کیا انہوں نہیں نہیں دیکھا کہ ہم سوکھی زمین کی طرف پانی کو چلاتے ہیں آیت الجرز سے وہ زمین مراد ہے کہ جس پر ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو ان کو سیلابوں کے علاوہ کوئی چیز نفع نہیں دیتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے یمن کی سرزمین۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے یمن کی سرزمین۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّا نَسُوْقُ [کہ ہم ہانکتے (رواں کرتے) ہیں ] الْمَاۗءَ [پانی کو ] اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ [بنجر زمین کی طرف ] فَنُخْرِجُ بِهٖ [پھر ہم نکالتے ہیں اس سے ] زَرْعًا [ایک ایسی کھیتی ] تَاْكُلُ مِنْهُ [کھاتے ہیں جس سے ] اَنْعَامُهُمْ [ان کے مویشی ] وَاَنْفُسُهُمْ ۭ [اور ان کی جانیں (خود بھی)] ۔ ااَفَلَا يُبْصِرُوْنَ [تو کیا ان کو سجھائی نہیں دیتا ] ۔
نوٹ۔ 2: خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس میں نباتات اگانے کا ذکر قرآن کریم میں جابجا اس طرح آیا ہے کہ زمین پر بارش برستی ہے اس سے زمین تر و تازہ ہو کر اگانے کے قابل ہوجاتی ہے۔ مگر آیت۔ 27 میں بارش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فتح کے دن کافروں کا ایمان نفع نہ دے گا
جب منکرین اور معاندین کے سامنے قیامت کے واقع ہونے اور وہاں فیصلے کیے جانے کا ذکر ہوتا تھا تو کافر لوگ بطور مذاق ہنسی اڑاتے ہوئے یوں کہتے تھے کہ فیصلہ کا دن کب ہوگا ؟ تم سچے ہو تو ہمیں اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا کہ انکار کرنے اور جلدی مچانے سے اس دن کے عذاب سے خلاصی نہ پاؤ گے آنے والی آہی جائے گی دیر میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ آنی ہی نہیں ہے، وہ آئے گی ضرور آئے گی اور کافروں کو بہت بری مصیبت کا سامنا ہوگا اسے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو ایمان بھی معتبر نہ ہوگا اور اگر یوں کہیں کہ ہمیں مہلت دے دی جائے تو مہلت بھی نہیں دی جائے گی (قال صاحب الروح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…
Read the full tafseer →25:۔ اولم یروا الخ۔ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے اور حشر و نشر پر بھی دلیل ہے کیا یہ لوگ مشاہدہ نہیں کرتے کہ ہم بےآب وگیاہ زمین پر مینہ برسا کر اس میں لہلہاتے کھیت پیدا کردیتے ہیں اور اس طرح ان کے اور ان کے مویشیوں کے لیے روزی مہیا کرتے ہیں۔ مینہ برسانا اور کھیتیاں اگانا جس خدائے قادر وقیوم کے اختیار و تصرف میں ہے وہی ساری کائنات کا کارساز ہے اور جو زمین سے انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ تھا کہ کیا کافروں اور مشرکوں پہ یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا جن کی رہائش گاہوں میں آج یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ ان واقعات میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کے واقعات تاریخ میں محفوظ اور زبان زد عام تھے۔ جنہیں سن کر عبرت حاصل کی جاسکتی ہے مگر یہ لوگ تو ایسے عبرتناک واقعات سننے سے بھی عاری ہیں ، انہیں اس کا کیا اثر ہوگا ؟
تاریخی واقعات کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے پہلی آیت میں سننے کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیت میں مشاہداتی دلیل کا تذکرہ کر کے ٭ میں فرمایا ہے کہ کیا…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَاۗءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْہُ اَنْعَامُہُمْ وَاَنْفُسُہُمْ 0 ۭ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ 27
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَـآئَ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا تَاْکُلُ مِنْہُ اَنْعَامُھُمْ وَاَنْفُسُھُمْ ط اَفَلاَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 27)
(کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو ایک چٹیل زمین کی طرف ہانک کے لے جاتے ہیں، پھر اسی زمین سے وہ کھیتی اگاتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ دیکھتے نہیں۔ )
الْاَرْضِ الْجُرُزِ… چٹیل اور بنجر زمین کو کہتے ہیں۔
مسلمانوں کے درخشاں مستقبل کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے درخشاں مستقبل کی خبر بھی دی گئی ہے اور قریش کو تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے…
Read the full tafseer →27: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآ ئَ (کیا وہ نہیں نظر کرتے اس بات پر کہ ہم پانی پہنچاتے ہیں) ہم بارش اور دریا جاری کرتے ہیں۔ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ (خشک زمین کی طرف) یعنی وہ زمین جس کی نبات منقطع ہوچکی ہو یعنی کاٹ لی گئی ہو نمبر 1۔ یا تو پانی نہ ملنے کی وجہ سے نمبر 2۔ یا اس لئے کہ اس کو چروا لیا گیا۔
جرزؔ : اس زمین کو ہرگز نہیں کہتے جو فصل نہ اُگائے اس کی دلیل یہ قول ہے فنخرج بہٖ زرعًا الایۃ فَنُخْرِجُ بِہٖ (پھر ہم اس سے نکالتے ہیں) ہٖ سے مراد پانی ہے۔ زَرْعًا تَاْکُلُ مِنْہُ (کھیتی جس سے کھاتے ہیں) ہٗ سے مراد کھیتی اَنْعَامُہُمْ (ان کے
چوپائے) بھوسہ وَاَنْفُسُھُمْ (اور وہ بذات…
Read the full tafseer →تفسیر 27، اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز، وہ زمین جس کی سرسبزی کٹ گئی ہوجاتی رہی ہو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ یمن کی سرزمین ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ ارض ابین ہے۔ ، فنخرج بہ زرعاتاکل منہ انعامھم ، گھاس اور تنکے پتے وغیرہ۔ ، وانفسھم ، غلہ اور پھل وغیرہ خود کھاتے ہیں۔ ، افلا یبصرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26 تا 28۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قو میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ملک شام اور یمن کے سفر میں جن کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس میں ان کے لیے ان رسولوں کے جھٹلانے والوں کے ہلاک ہونے اور ایمان والوں کے نجات پانے میں بہت سی نشانیاں اور نصیحتیں ہیں کیا یہ لوگ ان اجڑی ہوئی قوموں کا انجام نہیں سنتے اور عبرت نہیں پکڑتے پھر فرمایا کیا یہ نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی کی خشک زمین پر اور نکالتے ہیں بہ سبب اس پانی کے چارا اور غلہ اور پھل کہ ان کے جانور اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت نمبر : 27 ۔ 26
کیا رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انہیں راہ صواب نہیں ملی کہ (کم اھلکنا من قبلھم من القرون) ” ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا “ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ (یمشون فی مسکنھم) ” ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں “ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘ مثلاً قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ (ان فی ذلک لایت) ” بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں “ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کرسکتے ہیں ‘ نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →45 پانی کی نعمت کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ ہم کس طرح چلاتے ہیں پانی کو خشک پڑی زمین کی طرف "۔ یہاں پر برسانے اور اتارنے کا ذکر نہیں بلکہ { نسوق } فرمایا گیا ہے کہ ہم اس کو چلا کر اور ہانک کر اور اسے بادلوں کی شکل میں چلا کر اور ہواؤں کے ذریعے کہیں سے اٹھا کر کہیں برساتے ہیں۔ اور پھر وہاں سے ندی نالوں کے ذریعے اس پانی کو کہیں سے کہیں اور پہنچا دیتے ہیں۔ کیونکہ بہت سی زرخیز مگر نرم اور کمزور زمینیں ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ بارشوں کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں ایسی زمینوں سے اس کے باشندوں کو تکلیفیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے
تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارو معارف
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔
فی مریۃ من لقائہ :
اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 8 یعنی یہ جو کہتے ہو کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، تو بتاو یہ فیصلہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ بات کافر مسلمانوں سے کہا کرتے۔ فیصلہ کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(32:27) نسوق مضارع جمع متکلم۔ ساق یسوق (نصر) سوق مصدر سے۔ ہم چلاتے ہیں۔ ہم رواں کرتے ہیں۔ ہم ہانک کر لیجاتے ہیں۔
المای پانی ، ندی نالوں کی صورت ، بادلوں کی صورت۔
الی الارض الجرز۔ موصوف و صفت۔ الجرز اس زمین کو کہتے ہیں جو ویسے تو زرخیر ہو مگر پانی دستاب نہ ہونے سے بنجر ہوگئی ہو۔ گھاس اور چارہ جڑ سے اکھڑ کر رہ گیا ہو۔ یا اونٹوں اور بکریوں نے اسے چر کر ختم کردیا ہو۔ اور اب وہاں سبز تنکا تک دکھائی نہ دیتا ہو۔ ارض مجروزۃ۔ وہ زمین جس سے گھاس چر کر ختم کردیا گیا ہو۔ اور جگہ آیا ہے صعیدا جرزا (18:8) چٹیل ۔ بےآب وگیاہ زمین۔
رزعا۔ مصدر۔ اسم ۔ زرع یزرع (فتح) کھیتی کرنا۔ کھیتی اگانا۔ بطور اسم بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔
مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔
تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔
اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 1) شان نزول :
صحابہ کرام نبی ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل نہ رہے گا، اور اللہ کے رسول کے کلام کی تصدیق پوری ظاہرہوجائے گی پھر دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کو جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤ تو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی بعض مفسروں نے اس سے فتح بدر مراد لی ہے بعضوں نے فتح مکہ حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[27] یعنی ان نشانات کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ اللہ کی قدرت کے قائل ہوتے اور سمجھتے کہ اسی طرح مرنے کے بعد انسان کا زندہ اٹھانا اللہ کے لئے کچھ دشوار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 1: قرآن حکیم بار بار لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتا ہے ۔ کہ وہ مظاہرین فطرت کو بوقت نظر دیکھیں اور غور کریں کہ ان میں کتنی حکمتیں پوشیدہ اور ممعتتر ہیں ۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں ۔ کہ آخر اس کارگاہ حیات کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ فطرت کی کتاب بہت وسیع اور ضحیم ہے ۔ اس کا ایک صفحہ صداقت اور حکمت کے صدہادفر اتنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔ اور قرآن اس لئے اس کے مطالعے کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر شخص آزادی کے ساتھ فیصلہ کرسکے ۔ کہ ان دونوں صحیفوں میں کس درجہ تطابق ہے ۔ کتاب فطرت ، اور الہام خاطر میں یعنی اس کتاب میں جو کائنات کے ذرہ ذرہ پر لکھی ہوتی ہے ۔ اور اس کتاب میں جو لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے ،…
Read the full tafseer →27۔ کیا ان دین حق کے منکروں نے اس بات پر غور نہیں کیا اور اس بات کو دیکھا نہیں کہ ہم ایک خشک زمین تک پانی کو پہنچاتے ہیں پھر اس پانی کے ذریعہ کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے مواشی بھی چرتے ہیں اور وہ خود بھی اس میں سے کھاتے ہیں تو کیا اس بات کو یہ لوگ دیکھتے نہیں ۔
یعنی خشک زمین پر پانی کا پہنچانا خواہ و بارش کے ذریعے ہو یا نہر اور رجبہوں سے اور نالیوں سے ہو بہر حال خشک زمین پر پانی پہنچانا پھر اس پانی کے ذریعے خشک زمین میں کھیتی کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں پھر اس کھیتی میں سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور چرتے ہیں جیسے بھوسا اور چری وغیرہ اور تم بھی کھاتے ہو جیسے گیہوں ، جو ، چنا اور جوار و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 9۔ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔
Read the full tafseer →زمین کی سیرابی کا وہ خاص حکیمانہ نظام جو ہم نے چلایا ہے انہوں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا :
27۔ خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس کو ہرا بھرا کردینے کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا ہے اس لئے کہ اس کو ہر آنکھ دیکھتی ہے اور یہ معاملہ ایک ہی سال میں ایک دو یا اس سے زیادہ بار دیکھنے میں آتا ہے اور ہر آنکھ خواہ وہ معمولی عقل والے انسان کی ہو یا نہایت ہی ذہین وفطین کی وہ اس کو سرسری نگاہ سے تو دیکھ سکتی ہے پھر جب کوئی اس سرسری نگاہ ڈالنے والے کی توجہ ذرا دلا دے تو وہ اس بات کو جان سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ زمین پر بارش ہوتی ہے تو وہ تروتازہ ہو کر اس قابل ہوجاتی ہے کہ پھل اور غلہ بہم پہنچائے اور…
Read the full tafseer →The word: جُرُز (al-juruz) in verse 27: أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ (Have they not seen that We drive water to the dry land, then We bring forth crops thereby - 27) means barren land where trees do not grow.
A wise system of irrigation
Usually the Qur'an mentions the irrigating of dry lands and the growing of crops therein by saying that the land receives rain, and becomes moist and growth-worthy. But, there is no mention of rain in this verse. Instead of that, it has been said that water itself is directed to move aground towards the dry…
Read the full tafseer →40 Keeping the context in view it becomes obvious that this thing has not been mentioned here for the sake of providing an argument for the life-after-death, as generally found in the Qur'an, but in this context its object is different. This, in fact, contains a subtle allusion to this effect: "Just as a person seeing a barren land cannot imagine that it will ever bloom and swell with vegetation, .but a single shower of the rain sent by God changes its color altogether, so is the case with the message of Islam at this juncture. People think that it is not going to gain ground, but a single…
Read the full tafseer →