Explained with ayahs 26–27
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب ؓ کا خط
کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ وبالا کردیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بےپرواہی کی۔ اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لئے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں۔ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 39
یعنی کیا تاریخ کے اس مسلسل تجربے سے ان لوگوں نے کوئی سبق نہیں لیا کہ جس قوم میں بھی خدا کا رسول آیا ہے اس کی قسمت کا فیصلہ اس رویے کے ساتھ معلق ہوگیا ہے جو اپنے رسول کے معاملہ میں اس نے اختیار کیا۔ رسول کو جھٹلا دینے کے بعد پھر کوئی قوم بچ نہیں سکی ہے۔ اس میں سے بچے ہیں تو صرف وہی لوگ جو اس پر ایمان لائے۔ انکار کردینے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سامان عبرت بن کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
کسی قوم کا مقتداء و امام بننے کے لئے دو شرطیں
(آیت) وجعلنا منہم ائمة تہدون بامرنا لما صبروا اوکانوا بایتنا یوقنون، ”یعنی ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا و مقتداء بنادیا جو اپنے پیغمبر کے نائب ہونے کی حیثیت سے باذن ربانی لوگوں کو ہدایت کیا کرتے تھے، جبکہ انہوں نے صبر کیا اور جبکہ وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔“
اس آیت میں علماء بنی اسرائیل میں سے بعض کو امامت و پیشوائی کا درجہ عطا فرمانے کے دو سبب ذکر فرمائے ہیں، اول صبر کرنا، دوسرے آیات الہیہ پر یقین کرنا۔ صبر کرنے کا مفہوم عربی زبان کے اعتبار سے بہت وسیع اور عام ہے۔ اس کے لفظی معنی باندھنے اور ثابت رہنے کے ہیں۔ اس جگہ…
Read the full tafseer →اولم یھدلھم کم اھلکنا من قبلھم من القرون یمشون فی مساکنھم ان فی ذلک لایت افلا یسمعون (26)
حضرت موسیٰ کے مخالفین کے انجام کی طرف خاص طور پر اشارہ کرنے کے بعد یہ پچھلی قوموں کی طرف بھی اجمالاً اشارہ کردیا کہ کیا ان کی رہنمائی کے لئے یہ چیز کافی نہی ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو رسولوں کی تکذیب کے جرم میں ہلاک کرچکے ہیں جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ یہ اشارہ عادو ثمود او قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔ قریش اپنے تجارتی سفروں میں ان قوموں کی برباد بستیوں پر سے برابر گزرتے تھے۔ اولم یھدلھم کے اسلوب کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ آخر یہ اپنے ہی ملک کی…
Read the full tafseer →26-1یعنی پچھلی امتیں جو جھٹلانے اور عدم ایمان کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ آج ان کا وجود دنیا میں نہیں، البتہ ان کے مکانات ہیں جن کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں۔ مطلب اس سے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی یہی ہوسکتا ہے، اگر ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔
Read the full tafseer →اولم یھد لھم ۔۔۔۔۔ افلا یسمعون (26) تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ تمام بعد کے جھٹلانے والوں کے لیے عبرت ہے۔ اللہ کی سنت تو اس جہان میں جاری وساری ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔ یہ انسانیت ترقی اور زوال کے لیے الٰہی قوانین فطرت کے تابع ہے۔ اس کی کمزوری اور اس کی قوت کا راز الٰہی قوانین کے اتباع و انکار میں ہے۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اقوام کے عروج وزوال کے لیے اللہ نے خصوصی قوانین جاری کر رکھے ہیں اور یہ قوانین مسلسل جاری ہیں اور ماضی کے واقعات اور اقوام ہلاک شدہ کے آثار میں بڑی عبرت ہے۔ اس موضوع پر آزادانہ مطالعہ ہونا چاہئے تاکہ باقی آثار سے لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
4 یعنی نہروں اور دریاؤں کا پانی یا بارش کا۔
5 " ارض جرز " سے ہر ایک خشک زمین جو نباتات سے خالی ہو مراد ہے بعض نے خاص سرزمین مصر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور " نسوق المآء " سے دریائے نیل کا پانی مراد لیا ہے۔ اس تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں۔ کما نبہ علیہ ابن کثیر (رح) ۔
6 یعنی ان نشانات کو دیکھ کر چاہیے تھا کہ حق تعالیٰ کی قدرت اور رحمت و حکمت کے قائل ہوتے اور سمجھتے کہ اسی طرح مردہ لاشوں میں دوبارہ جان ڈال دینا بھی اس کے لئے کچھ دشوار نہیں۔ نیز اللہ کی نعمتوں کے جان و دل سے شکر گزار بنتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 26 اَوَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط۔
قریش کے قافلے اپنے سفر شام کے دوران میں قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کرچکے ہیں۔
حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر مردار Dead Sea کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آچکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو…
Read the full tafseer →28 قوم عاد، قوم ثمود اور قوم شعیب عرب سے ہی تعلق رکھنے والی قومیں تھیں۔ یہ سب تباہ ہوئیں اور اہل عرب ان کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی تھے اور ان اقوام کے حالات زندگی اپنے بزرگوں سے سنتے بھی تھے۔ پھر بھی ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →31۔ (ان مبغوض وہلاک شدہ قوموں کے قصبوں کو جو معروف ومشہور ہیں، اور تاریخوں میں مذکور) (آیت) ” یمشون فی مسکنھم “۔ یعنی یہ عرب اپنے سفر شام ویمن کے سلسلہ میں، ان مغضوب قوموں، عاد وثمود وغیرہ کے عبرت زار کھنڈروں سے گزرتے ہیں، اور پھر بھی عبرت نہیں حاصل کرتے۔ (آیت) ” ان فی ذلک لایت “۔ یعنی جس طرح یہ اپنے زمانہ کی بڑی ” ترقی یافتہ ومہذب “ قومیں قہر خدا سے نیست ونابود ہوگئی ہیں وہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قومیں گمراہ اور مغضوب تھیں، (آیت) ” فی ذلک “۔ یعنی ان گمراہ قوموں کی ہلاکت میں۔ اے فی ذھاب اولئک القوم ودمارھم وما حل بھم بسبب تکذیبھم الرسل (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان
دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…
Read the full tafseer →اولم یھدلھم کم اھلکنا من قبلھم من القرون . کیا اس بات سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی کہ ان سے
پہلے گزری ہوئی کتنی ہی امتوں کو ہم نے (ان کے کفر و عصیان کی وجہ سے) تباہ کردیا ؟
یمشون فی مسکنھم . جن کے مکانوں میں یہ لوگ (یعنی مکہ والے اپنے سفر کے دوران) چلتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت افلا یستمعون . بیشک اس میں (یعنی گزشتہ اقوام کی تباہی میں) بہت نشانیاں ہیں
(جن سے ان قوموں کے کفر و معاصی کی ہلاکت آفرینی اور اللہ کی قدرت کی ہمہ گیری اور انتقامی طاقت ثابت ہوتی ہے) کیا یہ لوگ (نصیحت پذیر کانوں سے) نہیں سنتے ؟
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ کے سامنے اس چیز سے بھی وضاحت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتوں کو عذاب نازل کر کے ہلاک کرچکے ہیں۔ مثلا قوم شعیب، قوم صالح اور قوم ہود، جن کے رہنے کے مقامات میں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ جو ہم نے ان قوموں کے ساتھ معاملہ کیا اس میں بعد والوں کے لیے صاف صاف نشانیاں ہیں۔
کیا یہ لوگ پھر بھی اس ذات کی اطاعت نہیں کرتے جو ان کے ساتھ یہ معاملہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ۔۔ : یہ بات مشرکین عرب کے متعلق فرمائی کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا، جن کے تباہ شدہ کھنڈرات اب بھی باقی ہیں، جن میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں اور ان کی ویرانی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ مراد عرب میں آنے والے پیغمبروں کی امتیں ہیں، یعنی قوم عاد، ثمود اور اہل مدین وغیرہ۔ اہل عرب ان کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان اقوام کے حالات زندگی اپنے بزرگوں سے سنتے بھی تھے، پھر بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے تھے، اس لیے فرمایا : (اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ) تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں کہ پیغمبروں کی…
Read the full tafseer →آیت اولم یھد لھم ابو عبدالرحمن سلمی، قتادہ اور ابو یزید نے یعقوب سے نھد لھم نون کے ساتھ قراءت کی ہے۔ یہ واضح قراءت ہے یاء کے ساتھ قراءت میں اشکال ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے : فعل، فاعل سے خالی نہیں ہوتا تو یھد کا فاعل کیا ہے ؟ نحویوں نے اس بارے میں گفتگو کی ہے۔ فراء نے کہا : کم، یھد کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ یہ نحویوں کے اپنے اصول کے خلاف ہے کلمہ استفہام میں اس کا ماقبل عمل نہیں کرتا اور نہ ہی کم میں اس کا ما قبل عمل کرتا ہے۔ ابو العباس کا مذہب ہے کہ یھد الھدی پر دلالت کرتا ہے کلام کی صورت یہ بنے گی : آیت اولم یھد لھم الھدی ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نہیں دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
1۔ عبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قتادہ کے طریق سے ابو العالیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں میں تھے گویا کہ وہ شنوأہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے عیس بن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا لوگوں میں میانہ قد کے مالک اور دجال کو دیکھا ان نشانیوں میں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائیں آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر کی کہ نبی ﷺ نے موسیٰ سے…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ [اور کیا رہنمائی کی ہی نہیں ان کے لئے ] كَمْ اَهْلَكْنَا [(اس بات نے کہ) ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے ] مِّنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] يَمْشُوْنَ [یہ لوگ چلتے ہیں ] فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ [ان کے گھروں میں ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ۭ [بیشک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ] اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ [تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں ] ۔
(آیت۔ 26) ۔ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یہ پورا فقرہ لم یھد کا فاعل ہے۔
Read the full tafseer →ہلاک شدہ اقوام کے مساکن سے عبرت حاصل کرنے کی تاکید، کھیتیاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں جن سے بنی آدم اور مویشی کھاتے ہیں
جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور اس تکذیب پر عذاب آجانے کی وعید سنتے تھے وہ عذاب آنے کی بھی تکذیب کرتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ عذاب آنے والا نہیں یہ یوں ہی باتیں ہیں، ایسے لوگوں کو تنبیہ کے لیے فرمایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کردی ہیں، یہ خبریں ان تک پہنچائی ہوئی ہیں اور ان لوگوں کی ہلاکت کے واقعات انہوں نے سن رکھے ہیں اور صرف سنے ہی نہیں آنکھوں سے بھی ان کی تباہیوں کے آثار دیکھتے ہیں، جب اپنی تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں (خصوصاً اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…
Read the full tafseer →24:۔ اولم یھدلم الخ، یہ تخویف دنیوی ہے۔ کیا یہ چیز ان کی ہدایت کا باعث نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے توحید کا انکار کرنے والوں کے قرنوں کے قرن تباہ وبرباد کردئیے۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں میں ان تباہ شدہ قوموں کے ویران شہروں کے کھنڈروں پر اکثر گذرتے ہیں اور ان کی تباہی وہلاکت کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ان اقوام متمردہ کی تباہی و بربادی میں عبرت و نصیحت کے بیشمار نشان موجود ہیں۔ بشرطیکہ ان میں فکر و تدبر سے کام لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اس سورة کی ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا۔ اس کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر منکرین قیامت کا رد ہوا اور قیامت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل اور فسق کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور بطور تنبیہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے برے عذاب سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ لوگ برے عقائد و اعمال سے باز آجائیں پھر اللہ نے منکرین کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ آیات الٰہی کو سن کر ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَہْدِ لَہُمْ كَمْ اَہْلَكْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِہِمْ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ 0 ۭ اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ 26
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَھْدِلَـھُمْ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ط اَفَلاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 26)
(کیا انھیں ہدایت نہ دی (اس بات) نے کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جن کی رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک ان کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں، تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں۔ )
پچھلی قوموں کی طرف اجمالی اشارہ
اس آیت کریمہ میں روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ انھیں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ہم نے تمہارے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت کی تاریخ کے بعض اوراق الٹے ہیں اور اسی کی روشنی میں تم باقی قوموں کو بھی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حق اور انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کا انجام۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والے فرعون، ہامان، قارون اور ان کے ساتھیوں کا کیا انجام ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ جن لوگوں نے اختلاف کیا ان کا حشر دیکھنا چاہو تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور چل پھر کر ان کے مقامات دیکھو۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن کے اقتدار کا پھریرا چار سو لہرا رہا تھا۔ رب ذوالجلال کا حکم نازل ہوا تو ان کا نام ونشان مٹا دیا گیا۔ قوم عاد، قوم صالح اور قوم مدین عرب کے علاقہ میں شامل تھیں۔ مکہ والے تجارت کے لیے سفر کرتے تو ان کے…
Read the full tafseer →26: اَوَلَمْ (کیا نہیں) ۔
نحو : وائو عاطفہ ہے اور معطوف علیہ منوی جو معطوف کی جنس سے ہو اس پر عطف کیلئے لائی گئی ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ألم یدعِ ۔ یھد ای یبین (یعنی واضح ہوا)
نحو : اس کا فاعل اللہ ہے اس کی دلیل زید کی قراءت ہے جو بروایت یعقوب نَہْدِہے۔
لَھُمْ (ان کو) اہل مکہ کیلئے۔ کَمْ (کتنے )
نحو : یہ یھد کا فاعل بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ کمؔ استفہام کیلئے ہے اور اس میں ماقبل قطعاً عمل نہیں کرتا۔ کمؔ محلًا یہاں منصوب ہے۔ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ (ہلاک کرچکے ان سے پہلے امتیں) جیسا عاد، ثمود، قوم لوط۔
یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ (یہ ان کے رہنے کے مقامات میں آتے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 وجعلنا منھم، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ، آئمۃ، جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی ہے۔ (یعنی انبیاء اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیشوا) ۔۔۔۔۔ ، یھدون وہ پکار تے ہیں ۔ بامرنا لما صبروا، حمزہ کسائی نے لام کے کسرہ کے ساتھ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ۔ باقی قراء نے لام کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ جب انہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور مصر میں دشمن کی اذتیوں پر صبر کیا۔ ، وکانو ابا یاتنا یوقنون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26 تا 28۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قو میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ملک شام اور یمن کے سفر میں جن کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس میں ان کے لیے ان رسولوں کے جھٹلانے والوں کے ہلاک ہونے اور ایمان والوں کے نجات پانے میں بہت سی نشانیاں اور نصیحتیں ہیں کیا یہ لوگ ان اجڑی ہوئی قوموں کا انجام نہیں سنتے اور عبرت نہیں پکڑتے پھر فرمایا کیا یہ نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی کی خشک زمین پر اور نکالتے ہیں بہ سبب اس پانی کے چارا اور غلہ اور پھل کہ ان کے جانور اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت نمبر : 27 ۔ 26
کیا رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انہیں راہ صواب نہیں ملی کہ (کم اھلکنا من قبلھم من القرون) ” ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا “ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ (یمشون فی مسکنھم) ” ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں “ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘ مثلاً قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ (ان فی ذلک لایت) ” بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں “ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کرسکتے ہیں ‘ نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
42 تمام اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز ہی ہوگا : یعنی عملی اور آخری طور پر۔ ورنہ دلائل وبراہین کی حد تک فیصلہ تو اس نے اپنے انبیاء ورسل اور اپنی کتابوں خاص کر امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی اس کتاب حکیم کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما دیا ہے۔ اور خاتم الکتب یعنی قرآن حکیم کا تو نام ہی " الفرقان " ہے کہ یہ کتاب حکیم حق اور باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردینے والی واحد کتاب ہے۔ سو اس کے بعد حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کے بارے میں کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ لیکن عملی طور اور آخری فیصلہ، فیصلے کے اس بڑے دن میں ہی ہوگا جس نے دنیا کے اس دارالعمل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے
تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارو معارف
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔
فی مریۃ من لقائہ :
اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اپنے سفروں میں آتے جاتے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اور ان میں پائے جانے والے عذاب دیکھتے ہو مگر ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ یمشون “ میں ھم کی ضمیر ہلاک ہونے والوں کے لیے ہو یعنی ان کو ہلاک کیا اس حال میں کہ وہ اپنے گھروں میں چل پھر رہے تھے۔ ( شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(32:26) اولم یہد۔ الف استفہامیہ واؤ عاطفہ لم یھد نفی جحد بلم اس میں فاعل اللہ کی طرف راجع ہے جس کا ذکر آیہ ماسبق ان ربک میں ہے اور جس کی تائید زید کی قرأت ولہم نھد لہم (کیا ہم نے ان کو راہ ہدایت نہ دکھائی) سے بھی ہوتی ہے۔ بعض نے ضمیر فاعل کا مرجع جملہ مابعد کم اہلکنا من قبلہم من القرون کو لیا ہے۔ تقدیر کلام ہوگی اولم یھدلہم کثرۃ اہلاکنا القرون الماضیۃ کیا متعدد گزشتہ قوموں کی ہلاکت ان کی ہدایت کا باعث نہ بن سکی۔ یا کیا متعدد گذشتہ قوموں کی ہلاکت نے ان کو راہ ہدایت نہ دکھائی۔
لہم۔ اس میں ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کی طرف راجع ہے۔
کم ۔۔ من القران : کم استفہام کے لئے آتا ہے کتنی تعداد۔ کتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔
مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔
تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔
اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسول کو جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہم نے ہلاک کردی ہیں ان لوگوں کو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی یہ جب ملک شام اور یمن کو سفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کو چاہے کہ ان کی حالت دیکھ کر ڈرجائیں پھر کس لیے نہیں سنتے پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہی ہوتی غور نہیں کرتے انکے بنانے والے کون تھے کہاں گئے ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے آگے فرمایا کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی زمین کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →[25] یعنی عاد، ثمود وغیرہ کی بستیاں۔
[26] یعنی مشرکین مکہ بسلسلہ تجارت شام و یمن کے سفر میں ان مغضوب قوموں کے عبرت انگیز کھنڈرات سے گزرتے ہیں اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے
1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…
Read the full tafseer →26۔ کیا ان کفارم کہ کیلئے یہ امر سبق آموز نہیں ہوا اور ان کے لئے یہ امر موجب رہنمائی نہیں ہوا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے برباد شدہ مکانوں کے پاس سے یہ گزرتے اور آتے جاتے ہیں اس میں کچھ شک نہیں کہ اس انقلاب اور ہلاکت میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ لوگ سنتے نہیں ۔ یعنی پیغمبروں کی نافرمانی اور ایذا رسانی کی بدولت عاد وثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہلاک و تباہ ہوچکی ہیں تو کیا ان تباہ شدہ بستیوں کی تباہی جن کو ہم ان کی نافرمانی کے باعث تباہ کرچکے ہیں ان کفار مکہ کے لئے موجب رہنمائی نہیں ہیں اور یہ ان کی تباہی سے سبق حاصل نہیں کرتے حالانکہ یہ سفر میں جاتے آتے ان بستیوں کے پاس…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی نشانیاں مبغوضیت کفر کی موجود ہیں۔
Read the full tafseer →جن لوگوں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا کیا وہ بھی ان کی ہدایت کا باعث نہ ہوئے :
26۔ علم تاریخ کیا ہے اور وہ کیوں بیان کیا جاتا ہے ؟ اسی وجہ سے کہ آنے والی قومیں جانے والی قوموں سے سبق حاصل کریں کہ گزشتہ قوموں کے یہ لچھن تھے اور وہ اپنے اعمال کے نتیجہ میں اس طرح تہ وبالا کردیئے گئے جس سے آنے والوں کو یہ معلوم ہو کہ ہم نے بھی وہی کام کئے جو انہوں نے کئے تھے تو ہمارا بھی حال وہی ہوگا جو ان کا ہوا لیکن افسوس کہ آنے والوں نے کوئی سبق بھی جانے والوں سے حاصل نہ کیا ، ایک رسول اور نبی کی داستان کو پڑھتے چلے جاؤ تم کو معلوم ہوگا کہ جس قوم میں بھی اللہ کا رسول آیا ہے اس کی قسمت کا فیصلہ اس رویے کا ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
Two conditions for the leader of any people
In the next verse (24), it was said:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ
(And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses).
In this verse, two reasons have been given as to why religious leadership was bestowed on some of the sages of Bani Isra'il: (1) Observance of patience and (2) the certitude of Divine words. In terms of the Arabic usage, the sense of doing sabr or patience is very…
Read the full tafseer →39 That is, "Have they not learnt any lesson froth this continuous experience of history that to whichever nation a Messenger came, the decision of its destiny became dependent upon the attitude it adopted with regard to him? If it rejected its Messenger, it could not escape its doom. The only people to escape were those who believed in the Messenger. Those who disbelieved became an object of warning for ever and ever."
Read the full tafseer →