As-Sajda 32:25

As-Sajda · from ayah 25

32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ۟اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:25

یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا تمہارا پروردگار ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آپ کا رب ہی ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن ان (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تیرا رب ہی قیامت کے دن ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کا پروردگار قیامت کے دن یقینا ان لوگوں میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ بیشک تیرا رب ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان چیزوں کے باب میں فیصلہ کرے گا جس میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ تمہارا رب (آخری اور عملی) فیصلہ فرمائے گا ان لوگوں کے درمیان قیامت کے روز ان تمام باتوں کا جن کے بارے میں یہ اختلاف کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک آپ کا پروردگار ان (سب) کے درمیان فیصلہ قیامت کے دن ان امور میں کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً آپ ﷺ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلاشبہ تمہارا رب ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely your Lord will judge among them on the Day of Resurrection concerning the matters about which the Children of Israel used to differ.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, your Lord will judge between them on the Day of Judgment in what they used to differ.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, your Lord will judge between them on the Day of Judgment in what they used to differ.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thy Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that wherein they used to differ.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.

— Saheeh International

Your Lord will issue His decree about their (believers and disbeliever's) differences on the Day of Judgment.

— Muhammad Sarwar

Surely your Lord will judge between them on the day of resurrection concerning that wherein they differ.

— Muhammad Habib Shakir

Verily thy Lord! He shall decide between them on the Day of Judgment concerning that wherein they have been differing.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily thy Lord will judge between them on the Day of Judgment, in the matters wherein they differ (among themselves)

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 38 یہ اشارہ ہے ان اختلافات اور فرقہ بندیوں کی طرف جن کے اندر بنی اسرائیل ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہونے اور اپنے راست رو ائمہ کی پیروی چھوڑ دینے اور دنیا پرستی میں پڑجانے کے بعد مبتلا ہوئے۔ اس حالت کا ایک نتیجہ تو ظاہر ہے جسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بنی اسرائیل ذلت و نکبت میں گرفتار ہیں۔ دوسرا وہ ہے جو دنیا نہیں جانتی اور وہ قیامت کے روز ظاہر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–26

کسی قوم کا مقتداء و امام بننے کے لئے دو شرطیں (آیت) وجعلنا منہم ائمة تہدون بامرنا لما صبروا اوکانوا بایتنا یوقنون، ”یعنی ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا و مقتداء بنادیا جو اپنے پیغمبر کے نائب ہونے کی حیثیت سے باذن ربانی لوگوں کو ہدایت کیا کرتے تھے، جبکہ انہوں نے صبر کیا اور جبکہ وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔“ اس آیت میں علماء بنی اسرائیل میں سے بعض کو امامت و پیشوائی کا درجہ عطا فرمانے کے دو سبب ذکر فرمائے ہیں، اول صبر کرنا، دوسرے آیات الہیہ پر یقین کرنا۔ صبر کرنے کا مفہوم عربی زبان کے اعتبار سے بہت وسیع اور عام ہے۔ اس کے لفظی معنی باندھنے اور ثابت رہنے کے ہیں۔ اس جگہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (25) یعنی اس دنیا کے بعد ان کا معاملہ خدا کی اخروی عدالت میں بھی پیش ہوگا اور وہ ان تمام چیزوں کے باب میں آخری فیصلہ فرمائے گا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں۔ ’ فیصلہ فرمائے گا ‘ سے مقصود اس کا نتیجہ ہے کہ اس دن یہ اپنے اس اختلاف و نزاع کی سزا بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25-1اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلاف بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان کفر، اہل حق اور اہل باطل کے درمیان دنیا میں رہے اور ہیں دنیا میں تو ہر گروہ اپنے دلائل پر مطمئن اور اپنی ڈگر پر قائم رہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل کفر و باطل کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات کے ملنے میں کوئی شک نہ کرو، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی گئی ہے، لہذا اس قرآن کے منجانب اللہ وصول کرنے میں آپ کوئی شک نہ کریں، اور جب آپ صاحب کتاب رسول ہیں تو ان کافروں کی بنائی ہوئی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ایک تیسری تفسیر بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اس کے ملنے سے مراد کافروں کو اس عذاب کا ملنا ہے جس کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–25

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اہل حق اور منکرین کے درمیان دو ٹوک اور عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ ہاں دنیا میں بھی کئی مثالیں ایسی دکھلائی جا چکی ہیں کہ آدمی انھیں دیکھ کر سمجھ اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیا عاد وثمود کی بستیوں کے تباہ شدہ کھنڈر اور نشان ان منکروں نے نہیں دیکھے ؟ جن پر شام وغیرہ کے سفر میں ان کا گزر ہوتا رہتا ہے۔ اور کیا ان کی ہلاکت کی داستانیں نہیں سنیں۔ مقام تعجب ہے کہ وہ چیزیں دیکھنے اور سننے کے بعد بھی ان کو تنبہ نہ ہوا اور نجات و فلاح کا راستہ نظر نہ آیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

آیت 26 اَوَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط۔ قریش کے قافلے اپنے سفر شام کے دوران میں قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کرچکے ہیں۔ حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر مردار Dead Sea کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آچکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 اصول دین سے اختلاف کرنے کا وجود دنیوی مفادات اور قائد بن کر اپنا جھندا الگ بلند کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور اس روش کا لازمی نتیجہ امت میں انتشار اور دنیا میں ذلت و خواری ہوتی ہے۔ یہی کچھ یہود کو اختلافات کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔ اور یہی کچھ آج کل مسلمانوں کو حاصل ہو رہا ہے۔ پھر جو فرقہ بن جاتا ہے اس میں کچھ ایسا فرقہ وارانہ تعصب پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی روش بدلنا قطعاً گوارا نہیں کرتا۔ وہ دوسرے سب فرقوں کو گمراہ سمجھتا ہے لیکن اپنے متعلق اسے خیال تک نہیں آتا کہ وہ بھی گمراہ ہوسکتا ہے۔ گویا دنیا میں تو کوئی فرقہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہوتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ ہی ان کے درمیان یہ فیصلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ قیامت کے روز کے فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ ہے ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ جیسا کہ پہلے ہی کئی بار گزر چکا ہے۔ اس وقت بھی موجود ہے۔ وہ عملی فیصلہ بھی ہوگا کہ مومن جنت میں بھیج دیئے جائیں گے اور کافر دوزخ میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمہ . کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان عملی فیصلہ کر دے گا۔ یعنی اہل حق کو اہل باطل سے جدا کر دے گا۔ فیما کانوا فیہ یختلفون . جن (دینی) امور میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے (ان کا عملی فیصلہ قیامت کے دن اللہ کر دے گا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد ﷺ کا رب مسلمان و کافر یا یہ کہ بنی اسرائیل کے درمیان قیامت کے دن ان دینی امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں یہ باہمی اختلاف کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ۔۔ : پچھلی آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے کتاب اللہ پر عمل کیا، ان کے علماء اور ائمہ خود دین پر قائم رہے، دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور اس راستے میں اپنوں اور بیگانوں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے۔ بعد میں جب وہ دنیا پرستی اور طمع میں مبتلا ہوگئے، جانتے بوجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کے بجائے اس کی من مانی تاویل بلکہ اس میں تحریف کرنے لگے، ہر ایک نے اپنی مرضی کے مسائل ایجاد کرلیے تو وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو سچا قرار دیتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان کے ان اختلافات کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیامۃ یعنی وہ کافروں اور مومنوں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے۔ اور ہر ایک کو ایسابدلہ دیتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ انبیاء اور ان کے قوموں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے ؛ یہ نقاش نے بیان کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

1۔ عبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قتادہ کے طریق سے ابو العالیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں میں تھے گویا کہ وہ شنوأہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے عیس بن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا لوگوں میں میانہ قد کے مالک اور دجال کو دیکھا ان نشانیوں میں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائیں آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر کی کہ نبی ﷺ نے موسیٰ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّ رَبَّكَ : بیشک آپ ﷺ کا رب ] هُوَ يَفْصِلُ [وہ ہی فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ [ان کے مابین ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] فِيْمَا [اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [یہ لوگ جس میں اختلاف کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تیسری آیت میں یہ فرمایا کہ قیامت کے دن آپ کا رب ان کے درمیان ان امور کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جن میں یہ لوگ آپس میں اختلاف کرتے تھے یعنی اہل ایمان کو جنت میں اور اہل کفر کو دوزخ میں داخل فرما دے گا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ جو لوگ آپ کے مخالف ہو رہے ہیں اگر کفر ہی پر جمے رہے تو قیامت کے دن سزا مل ہی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔ (ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ ان ربک الخ، مومنین اور منکرین کے درمیان الہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ اور ہر فریق کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ ای یقضی و یحکم بین المومنین والکفار، فیجازی کلا بما یستحق (قرطبی ج 14 ص 109) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–26

اس سورة کی ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا۔ اس کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر منکرین قیامت کا رد ہوا اور قیامت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل اور فسق کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور بطور تنبیہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے برے عذاب سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ لوگ برے عقائد و اعمال سے باز آجائیں پھر اللہ نے منکرین کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ آیات الٰہی کو سن کر ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ رَبَّكَ ہُوَيَفْصِلُ بَيْنَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فِــيْمَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ 25 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–25

وجعلنا منھم ائمۃ یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد بھی ہم نے یہ سلسلہ جاری رکھا کہ انہی سے پیشوا لوگوں کی ہدایت کے لیے قائم کئے، وہ برداشت کرکے ہدایت کئے جاتے تھے، پھر محمد ﷺ کا رسول بنانا اور اس پر قرآن نازل کرنا کون سی نئی بات ہوگئی، جس پر کفار اس قدر تعجب و انکار کرتے ہیں ؟ ان ربک مگر موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد نبیوں کے آنے پر بھی لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا، دین اور کتاب میں تحریف شروع ہوئی جس کا فیصلہ ہم کردیں گے کہ کون حق پر تھا ؟ کون ناحق پر ؟ اس جملہ میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء کے طریقہ میں اختلاف پڑجانے کے سبب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ رَبَّکَ ھُوَیَفْصِلُ بَیْنَـھُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (السجدۃ : 25) (بےشک تیرا رب ہی قیامت کے روز ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ) جب تک بنی اسرائیل کے علماء و امراء میں امامت و سیادت کے وہ اوصاف باقی رہے جس کا ذکر متذکرہ بالا آیت کریمہ میں کیا گیا ہے تو دنیا کی امامت و قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ لیکن جب یہ لوگ ان اوصاف سے تہی دامن ہوگئے تو پھر یہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ عقائد عبادات اور فقہی احکام تک دین کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہا جس میں انھوں نے اختلافات نہ پیدا کیے ہوں۔ اب قرآن کریم کے آجانے کے بعد اور نبی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے انتقام لیا ان میں آل فرعون بھی شامل ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرنے کے بعد آل فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لیے راہنمائی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ایسے راہنما مقرر فرمائے جو اس کے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے مگر لوگوں نے ان کی راہنمائی قبول کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کی اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں جس پر راہنماؤں نے صبر سے کام کیا کیونکہ وہ اپنے رب کے ارشادات پر یقین رکھنے والے تھے کہ انہیں تکلیفوں کے بدلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک آپ کا رب وہی ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا) نمبر 1۔ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان نمبر 2۔ مؤمنوں اور مشرکوں کے درمیان۔ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے) پس وہاں حق پرست اور باطل پرست ظاہر ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–26

24 وجعلنا منھم، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ، آئمۃ، جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی ہے۔ (یعنی انبیاء اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیشوا) ۔۔۔۔۔ ، یھدون وہ پکار تے ہیں ۔ بامرنا لما صبروا، حمزہ کسائی نے لام کے کسرہ کے ساتھ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ۔ باقی قراء نے لام کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ جب انہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور مصر میں دشمن کی اذتیوں پر صبر کیا۔ ، وکانو ابا یاتنا یوقنون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

23 تا 24۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوئے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نہیں مانتے اور حضرت موسیٰ اور تو راہ کو نصاریٰ لوگ مانتے ہیں اور یہود سے اور قریش سے بڑی دوستی تھی اور قریش یہود کو مانتے تھے اس واسطے بہ نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں زیادہ ہے تاکہ یہود نصاریٰ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ہو یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر یہاں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–25

آیت نمبر : 25 ۔ 23 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی ‘ اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفیٰ حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ‘ تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے ‘ دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے (فلا تکن فی مریۃ من لقآۂ ) ” پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا “ کیونکہ حق کے دلائل وبراہین ثابت ہوچکے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

42 تمام اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز ہی ہوگا : یعنی عملی اور آخری طور پر۔ ورنہ دلائل وبراہین کی حد تک فیصلہ تو اس نے اپنے انبیاء ورسل اور اپنی کتابوں خاص کر امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی اس کتاب حکیم کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما دیا ہے۔ اور خاتم الکتب یعنی قرآن حکیم کا تو نام ہی " الفرقان " ہے کہ یہ کتاب حکیم حق اور باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردینے والی واحد کتاب ہے۔ سو اس کے بعد حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کے بارے میں کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ لیکن عملی طور اور آخری فیصلہ، فیصلے کے اس بڑے دن میں ہی ہوگا جس نے دنیا کے اس دارالعمل اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارو معارف اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔ فی مریۃ من لقائہ : اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 وہاں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہدایت پر تھا اور کون اسرائیل بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے معاصر اقوام اور مسلمان اور کافر بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–30

لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔ مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔ تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔ اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–26

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسول کو جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہم نے ہلاک کردی ہیں ان لوگوں کو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی یہ جب ملک شام اور یمن کو سفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کو چاہے کہ ان کی حالت دیکھ کر ڈرجائیں پھر کس لیے نہیں سنتے پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہی ہوتی غور نہیں کرتے انکے بنانے والے کون تھے کہاں گئے ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے آگے فرمایا کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی زمین کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–25

[24] یعنی بنی اسرائیل اپنے ائمہ کی پیروی چھوڑنے اور دین سے منحرف ہوجانے کے بعد جن اختلافات اور فرقہ بندیوں میں مبتلا ہوئے اس کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–26

ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے 1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25۔ اے پیغمبر جن امور میں کافر اور مومن یا پیغمبر یا انکی امت اختلاف کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار یقینا قیامت کے روز ان کے مابین ان سب امورکا فیصلہ کردے گا ۔ فیصلہ یہی کہ مومن جنت میں اور کافر جہنم میں بھیج دیئے جائیں گے ۔ انبیاء مقام قرب میں ہوں گے اور ان کی جھگڑا لوامتیں عذاب میں مبتلا ہوں گی۔ ہوسکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی مختلف فرقوں کے باہمی اختلاف کے فیصلے کی طرف اشارہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا قیامت کے روز فیصلہ کردے گا : 25۔ کن لوگوں کے درمیان قیامت کے روز فیصلہ کردینے کے بارے میں بیان دیا گیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے دین میں اختلاف کیا اور فرقہ بندیوں اور گروہ بندیوں میں تقسیم ہوگئے اور اس طرح وہ ایمان ویقین کی دولت سے محروم ہوئے اور اپنے راست وآئمہ کی پیروی انہوں نے چھوڑ دی اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوئے اس لئے ان کی اس حالت کا ایک نتیجہ اگرچہ دنیا نہیں جانتی کیونکہ وہ قیامت کے روز سامنے آئے گا اور اس نتیجہ کے عوض میں وہ دوزخ رسید کردیئے جائیں گے ۔ بلاشبہ بنی اسرائیل کی یہ حالت ہوئی جو اوپر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

Two conditions for the leader of any people In the next verse (24), it was said: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِ‌نَا لَمَّا صَبَرُ‌وا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ (And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses). In this verse, two reasons have been given as to why religious leadership was bestowed on some of the sages of Bani Isra'il: (1) Observance of patience and (2) the certitude of Divine words. In terms of the Arabic usage, the sense of doing sabr or patience is very…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 The allusion is to the differences and schisms in which the children of Israel were involved after they became deprived of the faith and belief and gave up obedience of their righteous leaders and were given to the worship of the world. One result of this is obvious and before the whole world: they suffer from disgrace and infamy and misfortune; the other result is that which is not known, to the world: it will appear on the Day of Resurrection. "

Read the full tafseer →