As-Sajda 32:24

As-Sajda · from ayah 24

32:24

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ؕ۫— وَكَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ۟وَ جَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَئِمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا‌ ؕ وَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے۔ جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made from among them leaders guiding by Our command when they were patient and [when] they were certain of Our signs.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:24

اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے۔ جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صبر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے جبکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام و پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان میں سے کئی پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب انہوں نے (مصائب پر) صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کئی ایسے پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ اور یہ لوگ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان میں پیشوا اٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب کہ انہوں نے ثابت قدم دکھائی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان میں سے کچھ کو پیشوا بنایا تھا جو (لوگوں کی) راہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم کے مطابق جب کہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان میں جب کہ انہوں نے صبر کیا پیشوا بنادیئے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان میں سے ایسے امام اٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت دیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and when they remained steadfast and firmly believed in Our Signs, We created among them leaders who guided people by Our command.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses.

— Muhammad Taqi Usmani

And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they became steadfast and believed firmly in Our revelations, We appointed from among them leaders who guided by Our command.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We made from among them leaders guiding by Our command when they were patient and [when] they were certain of Our signs.

— Saheeh International

We appointed some of the Israelites as leaders for their exercising patience to guide the others to Our commands. They had firm belief in Our revelations.

— Muhammad Sarwar

And We made of them Imams to guide by Our command when they were patient, and they were certain of Our communications.

— Muhammad Habib Shakir

And We appointed, from amongst them, leaders guiding others by Our command, when they had persevered, and of Our signs they were convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

And We appointed, from among them, leaders, giving guidance under Our command, so long as they persevered with patience and continued to have faith in Our Signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 37 یعنی بنی اسرائیل کو اس کتاب نے جو کچھ بنایا اور جن مدارج پر ان کو پہنچایا وہ محض ان کے درمیان کتاب کے آجانے کا کرشمہ نہ تھا گویا یہ کوئی تعویذ ہو جو باندھ کر اس قوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا ہو اور اس کے لٹکتے ہی قوم نے بام عروج پر چڑھنا شروع کردیا ہو بلکہ یہ ساری کرامت اس یقین کی تھی جو وہ اللہ کی آیات پر لائے اور اس صبر اور ثابت قدمی کی تھی جو انہوں نے احکام الہٰی کی پیروی میں دکھائی۔ خود بنی اسرائیل کے اندر بھی پیشوائی انہی کو نصیب ہوئی جو ان میں سے کتاب اللہ کے سچے مومن تھے اور دنیوی فائدوں اور لذتوں کی طمع میں پھسل جانے والے نہ تھے۔ انہوں نے جب حق پرستی میں ہر خطرے کا ڈٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–26

کسی قوم کا مقتداء و امام بننے کے لئے دو شرطیں (آیت) وجعلنا منہم ائمة تہدون بامرنا لما صبروا اوکانوا بایتنا یوقنون، ”یعنی ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا و مقتداء بنادیا جو اپنے پیغمبر کے نائب ہونے کی حیثیت سے باذن ربانی لوگوں کو ہدایت کیا کرتے تھے، جبکہ انہوں نے صبر کیا اور جبکہ وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔“ اس آیت میں علماء بنی اسرائیل میں سے بعض کو امامت و پیشوائی کا درجہ عطا فرمانے کے دو سبب ذکر فرمائے ہیں، اول صبر کرنا، دوسرے آیات الہیہ پر یقین کرنا۔ صبر کرنے کا مفہوم عربی زبان کے اعتبار سے بہت وسیع اور عام ہے۔ اس کے لفظی معنی باندھنے اور ثابت رہنے کے ہیں۔ اس جگہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 23۔ 30 آگئے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اوپر کے پیرے میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ ہدایت کے اتارنے کے بعد اگر وہ اس پر ایمان نہ لائے تو لازماً وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کو عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔ آگے کی آیات میں اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کیا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو بشارت دی ہے کہ اگر وہ ثابت قدرم رہے تو بالآخر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 5۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد اتینا موسیٰ الکتب فلا تکن فی مریۃ من تقابہ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل وجعلنا منھم ائمۃ یھدون…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24-1اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے، صبر کا مطلب اللہ کے اوامر کے بجا لانے اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے پیروی میں جو تکلیفیں آئیں، انھیں خندہ پیشانی سے جھیلنا، اللہ نے فرمایا، ان کے صبر کرنے اور آیات الٰہی پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل و تحریف کا ارتکاب شروع کردیا، تو ان سے یہ مقام سلب کرلیا گیا، چناچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر ان کا عمل صالح رہا اور نہ اعتقاد صحیح۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات کے ملنے میں کوئی شک نہ کرو، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی گئی ہے، لہذا اس قرآن کے منجانب اللہ وصول کرنے میں آپ کوئی شک نہ کریں، اور جب آپ صاحب کتاب رسول ہیں تو ان کافروں کی بنائی ہوئی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ایک تیسری تفسیر بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اس کے ملنے سے مراد کافروں کو اس عذاب کا ملنا ہے جس کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–25

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 دنیا کے شدائد اور منکرین کے جور و ستم پر۔ 2 یعنی مسلمان اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں اور سختیوں پر صبر کر کے اپنے کام پر جمے رہیں تو ان کے ساتھ بھی خدا کا یہ ہی معاملہ ہوگا۔ چناچہ ہوا اور خوب ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَءِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ط۔ یعنی بنی اسرائیل کے ائمہ اور پیشواؤں کو تورات کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے صبر کی روش پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات کو سیکھنے اور پھر لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے جو انسانی سطح پر بذات خود ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ دولت اور عیش و عشرت کے حصول کی حرص ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا بیشتر وقت دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول کے لیے صرف کر دے گا تو اس کے شب وروز میں دعوت و تبلیغ اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کے لیے وقت کہاں سے آئے گا ؟ چناچہ اگر کسی کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیشوائی کے لئے لازمی صفات کا ذکر فرمایا : پہلی صفت یہ ہے کہ ان کا تازیست یہ طرز عمل ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کے احکام کی دعوت دیتے رہیں اور لوگوں کی رہنمائی کرتے رہیں دوسرے یہ کہ یہ کام پورے صبر و استقلال سے سرانجام دیں۔ اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کریں اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے وعدوں پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ جتنا زیادہ یقین پختہ ہوگا اسی قدر وہ صبر کرسکیں گے اور اسی قدر زیادہ وہ امامت یا پیشوائی کے حقدار ہوں گے۔ اور بنی اسرائیل میں سے جو شخص ان صفات کے حامل تھے انھیں اللہ تعالیٰ نے امامت کے منصب پر سرفراز فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ اور اسی لئے ان کی اشاعت اور خلق کی ہدایت میں مشقت گوارا کرتے تھے) اس میں مومنین کی تسلی ہے کہ تم لوگ صبر کرو اور جب تم صاحب یقین ہو اور یقین کا مقتضی صبر کرنا ہے تو تم کو صبر ضرور ہے۔ اس وقت ہم تم کو بھی ائمہ دین بنا دیں گے (تھانوی (رح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں شیخ کامل کی علامتیں ہیں، اور جو بغیر ان علامتوں کے مرشد ہونے کا مدعی ہو وہ ضال ومضل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا منھم ائمۃ . اور ہم نے (بنی اسرائیل) میں سے کچھ لیڈر بنائے (یعنی انبیاء اور بقول قتادہ انبیاء کے پیرو) جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی تھی۔ یھدون بامرنا . وہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے یا ہماری دی ہوئی توفیق سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے۔ لما صبروا . جب کہ انہوں نے اپنے دین پر اور مصر کی سکونت کی حالت میں دشمن کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر صبر کیا تھا۔ اس لفظ سے ثابت ہو رہا ہے کہ صبر موجب امامت ہے (شدائد و مصائب پر صبر کرنے والے لوگوں کے پیشوا بن جاتے ہیں) ۔ وکانوا بایتنا یوقنون . اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے آیات الٰہیہ کا مطالعہ گہری نظر سے کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور بنی اسرائیل جب ایمان و اطاعت پر ثابت قدم رہے تو ہم نے ان میں بہت سے پیشوا بنا دیے تھے جو مخلوق کو ہمارے حکم کی طرف بلاتے تھے اور وہ لوگ اپنی کتاب کی پیش گوئی کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا یقین رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚوَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا : اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ ایسے امام اور پیشوا بنائے جو لوگوں کی رہنمائی ہمارے حکم کے ساتھ کرتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کے حکم کے ساتھ رہنمائی وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس کا علم رکھتے ہوں، اس میں بنی اسرائیل کے انبیاء بھی شامل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَام الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ) [ الأنبیاء : 73 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–24

آیت ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فلا تکن فی مریۃ من لقاءہ اے محمد ! ﷺ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہو ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ نبی کریم ﷺ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے۔ قتادہ نے کہا : آپ اس بارے میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ معراج کی رات ان سے ملے ہیں۔ معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہوں۔ آپ ضرور اس روز ان سے ملیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ اس میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کو قبول کیا ؛ یہ مجاہد اور زجاج کا قول ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

1۔ عبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قتادہ کے طریق سے ابو العالیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں میں تھے گویا کہ وہ شنوأہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے عیس بن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا لوگوں میں میانہ قد کے مالک اور دجال کو دیکھا ان نشانیوں میں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائیں آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر کی کہ نبی ﷺ نے موسیٰ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ [اور ہم نے بنائے ان میں سے ] اَىِٕمَّةً [کچھ ایسے پیشوا ] يَّهْدُوْنَ [جو رہنمائی کرتے تھے ] بِاَمْرِنَا [ہمارے حکم کے مطابق ] لَمَّا [جب ] صَبَرُوْا ڜ [ان لوگوں نے صبر کیا ] وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ [اور وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوسری آیت میں فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل میں پیشوا بنا دئیے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے جبکہ انہوں نے صبر کیا (اس سے معلوم ہوا ہدایت اور محنت کی کوشش میں صبر کرنا ضروری ہے لہٰذا آپ بھی صبر کریں) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے یہ یقین انہیں ہدایت اور دعوت کے کام پر ثابت قدم رکھتا تھا۔ (اَءِمَّۃً ) سے کون حضرات مراد ہیں ؟ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے انبیاء کرام (علیہ السلام) مراد ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی امت کے افراد مراد ہیں جو ہدایت اور دعوت کے کام میں لگے رہتے تھے، یہ دوسرا قول اقرب ہے کیونکہ (وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ) حال کے مناسب ہے، حضرات انبیاء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔ (ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ وجعلنا منھہم الخ، موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی اسرائیل میں ایسے ائمہ اور پیشوا پیدا کیے جو تورات میں ہمارے احکام کے مطابق لوگوں کو توحید اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور توحید کی تبلیغ اور اشاعت پر تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرتے تھے اور خود بھی ایمان ویقین میں مضبوط اور ثابت قدم تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–26

اس سورة کی ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا۔ اس کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر منکرین قیامت کا رد ہوا اور قیامت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل اور فسق کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور بطور تنبیہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے برے عذاب سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ لوگ برے عقائد و اعمال سے باز آجائیں پھر اللہ نے منکرین کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ آیات الٰہی کو سن کر ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۝ 0 ۣۭ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ۝ 24 إِمام : المؤتمّ به، إنسانا كأن يقتدی بقوله أو فعله، أو کتابا، أو غير ذلک محقّا کان أو مبطلا، وجمعه : أئمة . وقوله تعالی: يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ [ الإسراء/ 71] أي : بالذي يقتدون به، الامام وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو اس کی جمع ائمۃ افعلۃ ) ہے اور آیت :۔ { يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ } ( سورة الإسراء 71) جس دن ہم سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–25

وجعلنا منھم ائمۃ یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد بھی ہم نے یہ سلسلہ جاری رکھا کہ انہی سے پیشوا لوگوں کی ہدایت کے لیے قائم کئے، وہ برداشت کرکے ہدایت کئے جاتے تھے، پھر محمد ﷺ کا رسول بنانا اور اس پر قرآن نازل کرنا کون سی نئی بات ہوگئی، جس پر کفار اس قدر تعجب و انکار کرتے ہیں ؟ ان ربک مگر موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد نبیوں کے آنے پر بھی لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا، دین اور کتاب میں تحریف شروع ہوئی جس کا فیصلہ ہم کردیں گے کہ کون حق پر تھا ؟ کون ناحق پر ؟ اس جملہ میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء کے طریقہ میں اختلاف پڑجانے کے سبب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْاقف ط وَکَانُوْا بِاٰ یٰـتِـنَا یُوْقِنُوْنَ ۔ (السجدۃ : 24) (تو ہم نے ان میں ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جب انھوں نے ثابت قدمی دکھائی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ ) کتاب سے ہدایت لینے کا ثمرہ جب بنی اسرائیل نے کتاب یعنی تورات کو ہدایت کے طور پر قبول کرلیا اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس کی رہنمائی میں دے دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت و قیادت کے منصب پر فائز کردیا۔ ظاہر ہے کہ امامت و قیادت کا منصب اگرچہ پوری امت کا استحقاق ہوتا ہے لیکن ان میں عملی طور پر وہ لوگ اس منصب پر فائز ہوتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے انتقام لیا ان میں آل فرعون بھی شامل ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرنے کے بعد آل فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لیے راہنمائی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ایسے راہنما مقرر فرمائے جو اس کے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے مگر لوگوں نے ان کی راہنمائی قبول کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کی اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں جس پر راہنماؤں نے صبر سے کام کیا کیونکہ وہ اپنے رب کے ارشادات پر یقین رکھنے والے تھے کہ انہیں تکلیفوں کے بدلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَپمَّۃً (اور ہم نے ان میں بہت سے پیشوا بنا دیے) قراءت : ائمۃ دونوں ہمزہ کے ساتھ کوفی و شامی نے پڑھا ہے۔ یَّھْدُوْنَ (وہ ہدایت کیا کرتے تھے) لوگوں کو اور ان کو اللہ تعالیٰ کے دین و شریعت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ بِاَمْرِنَا (ہمارے حکم سے) جو خاص انہی کو دیا جبکہ انہوں نے حق اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر اختیار کیا یا معاصی سے اعراض پر جمے رہے۔ لَمَّا صَبَرُوْا (جبکہ انہوں نے ثابت قدمی اختیار کی) قراءت : لِمَا صبروا یہ حمزہ و علی کی قرات ہے۔ دنیا سے بچے رہنے کی وجہ سے۔ مسئلہ : اس سے ثبوت ملتا ہے۔ کہ جو صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی امامت عنایت فرماتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–26

24 وجعلنا منھم، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ، آئمۃ، جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی ہے۔ (یعنی انبیاء اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیشوا) ۔۔۔۔۔ ، یھدون وہ پکار تے ہیں ۔ بامرنا لما صبروا، حمزہ کسائی نے لام کے کسرہ کے ساتھ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ۔ باقی قراء نے لام کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ جب انہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور مصر میں دشمن کی اذتیوں پر صبر کیا۔ ، وکانو ابا یاتنا یوقنون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

23 تا 24۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوئے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نہیں مانتے اور حضرت موسیٰ اور تو راہ کو نصاریٰ لوگ مانتے ہیں اور یہود سے اور قریش سے بڑی دوستی تھی اور قریش یہود کو مانتے تھے اس واسطے بہ نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں زیادہ ہے تاکہ یہود نصاریٰ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ہو یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر یہاں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–25

آیت نمبر : 25 ۔ 23 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی ‘ اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفیٰ حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ‘ تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے ‘ دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے (فلا تکن فی مریۃ من لقآۂ ) ” پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا “ کیونکہ حق کے دلائل وبراہین ثابت ہوچکے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 امامت و پیشوائی کے بعض اہم اور بنیادی تقاضوں کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کی آیتوں پر ایمان و یقین رکھنا اور راہ حق میں استقلال و استقامت سے کام لینا وہ دو اہم بنیادیں ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ پاک کی عنایتوں کا اہل اور ان کا مستحق بن سکتا ہے۔ ایمان تو اصل الاصول ہے مگر اس کے ساتھ صبر و استقامت کی بھی راہ حق میں بہت اہمیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشے ۔ آمین۔ سو اس ارشاد ربانی میں امامت و پیشوائی کے بنیادی شرائط و اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں جن میں ایک وصف اور شرط یہ بھی ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ ایسے نہیں تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارو معارف اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔ فی مریۃ من لقائہ : اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یہ اس وقت کی بات ہے جب بنی اسرائیل نے کتاب الٰہی پر عمل کیا اور کافروں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے لیکن بعد میں جب انہوں نے تحریف کا راستہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی من مانی تاویلیں کرنے لگے تو ان سے پیشوائی کا یہ پیغام چھین لیا گیا اور ان پر ذلت و رسوائی مسلط کردی گئی۔ (کما سبق مرادا) ۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:24) منھم : ای من بنی اسرائیل۔ ائمۃ۔ امام کی جمع پیشوا ۔ مقتدائ۔ امام افتعال کے وزن پر اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ (جس کا قصد کیا جائے۔ چونکہ رہنما اور مقتدا کا قصد کیا جاتا ہے اس لئے اس کو امام کہتے ہیں ۔ غرض جس کی بھی پیروی کی جائے وہ امام ہے ۔ یہ پیروی حق میں ہو یا ناحق میں۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ لما (جب) یہ یہاں دو صورتوں میں استعمال ہوسکتا ہے :۔ (1) حرف شرط۔ یا وجود لوجود (ثبوت ثانی بوجہ ثبوت اول ہے) اس صورت میں لما فعل ماضی پر داخل ہوکر ایسے دو جملوں کا مقتضی ہوتا ہے۔ جن میں سے دوسرے جملہ کا وجود پہلے جملے کے پائے جانے کے وقت ہوتا ہے۔ یہاں عبارت یوں ہوگی :۔ لما صبروا جعلنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–30

لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔ مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔ تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔ اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–26

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسول کو جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہم نے ہلاک کردی ہیں ان لوگوں کو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی یہ جب ملک شام اور یمن کو سفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کو چاہے کہ ان کی حالت دیکھ کر ڈرجائیں پھر کس لیے نہیں سنتے پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہی ہوتی غور نہیں کرتے انکے بنانے والے کون تھے کہاں گئے ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے آگے فرمایا کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی زمین کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–25

[24] یعنی بنی اسرائیل اپنے ائمہ کی پیروی چھوڑنے اور دین سے منحرف ہوجانے کے بعد جن اختلافات اور فرقہ بندیوں میں مبتلا ہوئے اس کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–26

ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے 1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

24۔ اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں کو امام اور پیشوا بنایا تھا وہ ہمارے حکم سے ہدایت اور رہنمائی کیا کرتے تھے جبکہ وہ لوگ مصائب و تکالیف پر صبر کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں کا یقین کرتے تھے۔ یعنی مصائب پر صبر کرنے اور ہماری آیتوں پر اذغان و یقین کا ان لوگوں کو یہ صلہ ملا کر ان کو ہم نے امت موسوی کا پیشوا بنادیا ایسا ہی امت محمدیہ ﷺ میں بھی ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم بھی ٹھیرے رہو تو تم میں بھی وہی چال ہو ۔ آخر ہوئے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یہ تسلی ہے مومنین کی کہ تم لوگ صبر کرو، اور جب تم صاحب یقین ہو اور یقین کا مقتضا صبر کرنا ہے تو تم کو صبر ضرور ہے۔ اس وقت ہم تم کو بھی ائمہ دین بنادیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان میں بھی پیشوا اور راہنما تھے اور تم میں بھی ہوں گے : 24۔ نبی ورسول تو ہر حال میں نبی ورسول ہی ہوتا ہے جو براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہدایت پاتا ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام الہی سنا اور وہ ایمان لائے ان کے درجات بھی بہت بلند ہیں کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قوم کا امام و پیشوا بنایا پھر جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام الہی سن کر ایمان لانے والوں کے درجات بلند ہوئے اسی طرح جن لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ سے سنا اور ہدایت اختیار کی وہ صحابہ کرام کہلائے اور اسلام میں انہوں نے بہت بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

Two conditions for the leader of any people In the next verse (24), it was said: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِ‌نَا لَمَّا صَبَرُ‌وا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ (And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses). In this verse, two reasons have been given as to why religious leadership was bestowed on some of the sages of Bani Isra'il: (1) Observance of patience and (2) the certitude of Divine words. In terms of the Arabic usage, the sense of doing sabr or patience is very…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

37 That is, "Whatever progress the children of Israel made and whatever heights they attained by that Book, was not simply due to the reason that a Book had been sent among them. It was not an amulet that they might have hung around their necks and they might have started ascending the steps of glory under its good and protective influence. But the glory was the direct result of their firm faith in the Revelations of Allah, and of the patience and perseverance that they showed in following the Divine Commandments. Among the Israelites themselves also leadership fell to the lot of only those…

Read the full tafseer →