Explained with ayahs 23–25
شب معراج اور نبی اکرم ﷺ
فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 35
خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت میں، اور آپ کے اوپر کتاب اِلٰہی کے نازل ہونے میں شک کر رہے تھے۔ یہاں سے کلام کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو آغاز سورة (آیات نمبر 2 اور 3) میں بیان ہوا تھا۔ کفار مکہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ پر خدا کی طرف سے کوئی کتاب نہیں آئی ہے انہوں نے اسے خود گھڑ لیا ہے اور دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ خدا نے اسے نازل کیا ہے۔ اس کا ایک جواب ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ اب اس کا دوسرا جواب دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات جو فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے نبی یہ نادان لوگ تم پر کتاب الٰہی کے نازل ہونے کو اپنے نزدیک بعید…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (آپ ہی کی طرح) کتاب دی تھی (جس کی اشاعت میں ان کو تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں، اسی طرح آپ کو بھی برداشت کرنا چاہئے، ایک تسلی تو یہ ہوئی، پھر اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی) سو آپ (اپنی) اس (کتاب) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔ (کقولہ تعالیٰ (آیت) وانک لتلقی القرآن، مطلب یہ کہ آپ صاحب کتاب صاحب خطاب ہیں پس جب آپ اللہ کے نزدیک ایسے مقبول ہیں تو اگر مشتے چند احمق آپ کو قبول نہ کریں تو کوئی غم کی بات نہیں، ایک تسلی کی بات یہ ہوئی) اور ہم نے اس (کتاب موسیٰ) کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت بنایا تھا (اسی طرح آپ کی کتاب سے بہتوں کو ہدایت ہوگی، آپ خوش رہئے، ایک تسلی یہ ہوئی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 23۔ 30
آگئے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اوپر کے پیرے میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ ہدایت کے اتارنے کے بعد اگر وہ اس پر ایمان نہ لائے تو لازماً وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کو عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔ آگے کی آیات میں اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کیا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو بشارت دی ہے کہ اگر وہ ثابت قدرم رہے تو بالآخر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد اتینا موسیٰ الکتب فلا تکن فی مریۃ من تقابہ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل وجعلنا منھم ائمۃ یھدون…
Read the full tafseer →23-1کہا جاتا ہے کہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ ؑ نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھاـ
23-2' اس ' سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات کے ملنے میں کوئی شک نہ کرو، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی گئی ہے، لہذا اس قرآن کے منجانب اللہ وصول کرنے میں آپ کوئی شک نہ کریں، اور جب آپ صاحب کتاب رسول ہیں تو ان کافروں کی بنائی ہوئی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ایک تیسری تفسیر بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اس کے ملنے سے مراد کافروں کو اس عذاب کا ملنا ہے جس کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25)
فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق…
Read the full tafseer →11 یہ درمیان میں جملہ متعرضہ ہے یعنی بیشک و شبہ موسیٰ کو کتاب دی گئی اور آپ کو بھی اسی طرح کی کتاب ملی اس میں کوئی دھوکا اور فریب نہیں۔ یا موسیٰ کے ذکر پر فرمادیا کہ تم جو موسیٰ سے شب معراج میں ملے تھے وہ سچی حقیقت ہے کوئی دھوکا یا نظر بندی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ
یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو یہاں سلسلہ کلام کے درمیان میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں حضور ﷺ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شب معراج کے موقع پر ہونے والی ملاقات کی طرف اشارہ ہے۔ اس حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ ! شب معراج میں آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے جو ملاقات کی تھی اس کے بارے میں آپ ﷺ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ‘ وہ یقیناً موسیٰ علیہ السلام ہی تھے جو آپ کو وہاں ملے تھے۔ لیکن آیت کا زیادہ قرین قیاس مفہوم جو سیاق وسباق کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے وہ یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے موسیٰ علیہ…
Read the full tafseer →24 اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اسی نسبت سے یہاں تورات کا ذکر ہوا جو قرآن کے بعد سب الہامی کتابوں سے زیادہ مشہور ہے۔ تورات صرف بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کی کتاب تھی جبکہ یہ قرآن پوری بنی نوع انسان کے لئے کتاب ہدایت ہے۔
25 اس جملہ میں خطاب اگرچہ رسول اللہ کو ہے مگر مخاطب سارے مومنین ہیں۔ کیونکہ نبی سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ پھر دوسروں کو ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ لہذا منزل من اللہ کلام ہر رسول کا شک کرنا حالات سے ہے۔ اور ایسا انداز خطاب عموماً تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی اس میں شک نہ کرنا چاہئے۔
بعض علماء نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
27۔ (بلکہ ان کی نظیر سے، اور انہیں راہ تبلیغ و اشاعت دین میں جو جو مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔ ان سے صبر کا سبق حاصل کیجئے) (آیت) ” لقآۂ “۔ ضمیر ” ہ “۔ (آیت) ” الکتب “۔ کی طرف ہے۔ اے من لقائک الکتاب (بیضاوی) اے لقائک ذلک الجنس (روح) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد جنس کتاب ہے۔ اے جنس الکتاب (روح) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی تخصیص شاید اس لئے ہو کہ آپ ﷺ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بہت وجوہ مشابہت جمع تھے۔
28۔ (اسی طرح آپ ﷺ کی کتاب سے ابتداء اور اصلا قوم عرب کی اصلاح ہوگی، اور پھر بتدریج سارے عالم کی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان
دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…
Read the full tafseer →ولقد اتینا موسیٰ الکتب . اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ یعنی جس طرح آپ کا قرآن عطا کیا اسی طرح
موسیٰ کو توریت عطا کی تھی۔
فلا تکن فی مریۃ مہ لقاۂ . سو آپ اس کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔
یعنی قرآن کا نزول کوئی نئی بات نہیں ‘ اس سے پہلے کتاب نازل کی جا چکی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ موسیٰ نے توریت اپنی رضامندی سے قبول کی تھی ‘ آپ کو اس بات میں شک نہ کرنا چاہئے۔ سدی نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ طبرانی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس کی روایت سے رسول اللہ کا فرمان گرامی نقل کیا ہے : تم شک نہ کرو کہ موسیٰ اپنے رب سے ملے تھے (یعنی طور پر حضرت موسیٰ اپنے رب سے بلاشبہ ملے تھے ‘ مترجم) بعض نے کہا : اس…
Read the full tafseer →اور ہم نے حضرت موسیٰ کو توریت دی تھی تو آپ کی حضرت موسیٰ سے معراج کی شب میں جو بیت المقدس میں ملاقات ہوئی اس کے بارے میں کچھ شک نہ کیجیے اور ہم نے کتاب موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّــقَاۗىِٕهٖ : ”لِّــقَاۗىِٕهٖ“ کی ضمیر ”الکتب“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور لفظ ”موسیٰ“ کی طرف بھی۔ پہلی صورت میں وہی بات دہرائی ہے جو سورت کے شروع میں فرمائی تھی کہ اس لاریب کتاب کا نازل کرنا رب العالمین کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، اب آپ کو کتاب ملی ہے، تو آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں۔ ہماری طرف سے کتاب کا عطا کیا جانا کوئی نئی بات نہیں، ہم پہلے بھی رسولوں کو کتابیں عطا کرتے رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فلا تکن فی مریۃ من لقاءہ اے محمد ! ﷺ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہو ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ نبی کریم ﷺ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے۔ قتادہ نے کہا : آپ اس بارے میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ معراج کی رات ان سے ملے ہیں۔ معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہوں۔ آپ ضرور اس روز ان سے ملیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ اس میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کو قبول کیا ؛ یہ مجاہد اور زجاج کا قول ہے (1) ۔
حضرت حسن بصری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
1۔ عبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قتادہ کے طریق سے ابو العالیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں میں تھے گویا کہ وہ شنوأہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے عیس بن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا لوگوں میں میانہ قد کے مالک اور دجال کو دیکھا ان نشانیوں میں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائیں آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر کی کہ نبی ﷺ نے موسیٰ سے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [اور بیشک ہم دے چکے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [وہ کتاب (تورات)] فَلَا تَكُنْ [تو آپ ﷺ مت ہوں ] فِيْ مِرْيَةٍ [کسی شبہ میں ] مِّنْ لِّــقَاۗىِٕهٖ [اس (کتاب یعنی قرآن) کے ملنے سے ] وَجَعَلْنٰهُ [اور ہم نے بنایا اس (تورات) کو ] هُدًى [ہدایت ] لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [بنی اسرائیل کے لئے ] ۔
ترکیب : (آیت۔ 23) من لقائہ میں ئہ کی ضمیر کو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بھی مانا جاسکتا ہے اور الکتب کے لئے بھی۔ دونوں طرح ترجمے کئے گئے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ہم ضمیر کا مرجع کتاب کو ماننے کو ترجیح دیں گے۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں بظاہرخطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن اصل مخاطب…
Read the full tafseer →جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی (انہوں نے اس کی اشاعت میں تکلیفیں برداشت کیں) اور اب آپ کو یہ کتاب دی ہے یعنی قرآن مجید عطا فرمایا ہے آپ اس کتاب کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے یعنی آپ صاحب کتاب ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی آتی ہے، آپ کا بلند مرتبہ ہے، اس بلند مرتبہ کے ہوتے ہوئے اگر کج فہم آپ کی دعوت پر دھیان نہ دیں تو آپ غم نہ کریں، موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی وہ محنت کرتے رہے اور ایذا دینے والوں کی باتوں پر صبر کرتے رہے۔ صاحب روح المعانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…
Read the full tafseer →21:۔ ولقد اتینا الخ، یہ توحید پر نقلی دلیل ہے۔ یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی اور اس میں بھی یہی دعوی مذکور تھا کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں۔ اس لیے صرف اسی ہی کو پکارو اور اس کے سامنے شفیع غالب بھی کوئی نہیں۔ جو اس سے کام کراسکے۔ تو جس طرح مشرکین قرآن کے من جانب اللہ ہونے میں شک کرتے ہیں اسی طرح منکرین نے تورات کے بارے میں بھی شک کیا حالانکہ دونوں یعنی قرآن اور تورات من جانب اللہ ہیں لہذا تورات کے منزل من اللہ ہونے میں بھی کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ لقائہ لقاء مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یا فاعل کی طرف پہلی صورت میں فاعل مقدر ہوگا اور دوسری صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اس سورة کی ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا۔ اس کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر منکرین قیامت کا رد ہوا اور قیامت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل اور فسق کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور بطور تنبیہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے برے عذاب سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ لوگ برے عقائد و اعمال سے باز آجائیں پھر اللہ نے منکرین کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ آیات الٰہی کو سن کر ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 16
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْ لِّــقَاۗىِٕہٖ وَجَعَلْنٰہُ ہُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 23ۚ
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني .
{ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا…
Read the full tafseer →ترکیب : من لقائہ یجوزان یرجع الضمیر فی لقاء الی اللہ ای من لقاء موسیٰ اللّٰہ فالمصدر مضاف الی المفعول۔ وان یرجع الی موسیٰ ای من لقاء موسیٰ الکتاب او الشدۃ والانکار من قومہ فیکون المصدر مضافاً الی الفاعل۔ وقیل یرجع الی الکتاب ای فلاتکن فی شک من لقاء الکتاب من اللہ تعالیٰ کما قال، انک تلقی القرآن و قیل من لقاءک موسیٰ ۔ کما وقع فی لیلۃ المعراج او فی القیامۃ لما بالتشدید ظرف والعامل یہدون اوجعلنا۔ وبالتخفیف مصدریۃ۔
تفسیر : ولقد اتینا موسیٰ الکتب الخ یہاں سے پھر مسئلہ رسالت کا ثبوت کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی، پھر اے محمد ﷺ آپ کتاب کے ملنے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبَ فَلاَ تَـکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِقَـآئِہٖ وَجَعَلْنٰـہُ ھُدًی لِّـبَـنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ (السجدۃ : 23)
(ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑیں، ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔ )
ایک اعتراض کا جواب
یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں، ان آیات میں اسی مضمون کو سمیٹا جارہا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ اس سے مقصود شاید یہ ہے کہ قرآن پاک کی حقیقی عظمت و اہمیت اور وجاہت و افادیت کو دل و دماغ میں اتار دیا جائے۔ اس آیت کریمہ میں خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی رسالت میں اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے انتقام لیا ان میں آل فرعون بھی شامل ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرنے کے بعد آل فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لیے راہنمائی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ایسے راہنما مقرر فرمائے جو اس کے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے مگر لوگوں نے ان کی راہنمائی قبول کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کی اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں جس پر راہنماؤں نے صبر سے کام کیا کیونکہ وہ اپنے رب کے ارشادات پر یقین رکھنے والے تھے کہ انہیں تکلیفوں کے بدلے…
Read the full tafseer →کتاب کا ملنا :
23: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی) یعنی تورات فَلاَ تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ (پس آپ شک نہ کیجئے) مریۃ کا معنی شک آتا ہے۔ مِّنْ لِّقَآئِہٖ (ان کے ملنے میں) موسیٰ (علیہ السلام) کے کتاب ملنے سے نمبر 2۔ لیلۃ المعراج میں موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات نمبر 3۔ قیامت کے دن کی ملاقات نمبر 4۔ آخرت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی رب تعالیٰ سے ملاقات اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے ملاقات۔ وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (ہم نے اس کو بنی اسرائیل کیلئے ہدایت بنایا تھا) ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری جانے والی کتاب کو ان کی قوم…
Read the full tafseer →23، ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فلا تکن فی مریۃ من لقائہ، کوئی اس بات میں شک نہ کرے کہ آپ ﷺ شب معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے تھے ۔ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میں میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، گندمی رنگ درازقامت گھنگھریا لے بال ، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ (قبیلہ ازد) شنوء کے ایک مرد ہیں ۔ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی متوسط القامت سرخی سفیدی مائل رنگ اور سید ہے بالوں والا پایا اور میں نے دوزخ کے داروغہ مالک کو اور دجال کو بھی دیکھا۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مجھے آسمان کی سیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23 تا 24۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوئے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نہیں مانتے اور حضرت موسیٰ اور تو راہ کو نصاریٰ لوگ مانتے ہیں اور یہود سے اور قریش سے بڑی دوستی تھی اور قریش یہود کو مانتے تھے اس واسطے بہ نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں زیادہ ہے تاکہ یہود نصاریٰ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ہو یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر یہاں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت نمبر : 25 ۔ 23
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی ‘ اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفیٰ حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ‘ تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے ‘ دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے (فلا تکن فی مریۃ من لقآۂ ) ” پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا “ کیونکہ حق کے دلائل وبراہین ثابت ہوچکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →39 منکرین کے لیے تاریخ کے حوالے سے درس عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تھی "۔ یعنی تورات۔ پس آپ ﷺ کی طرف اے پیغمبر، اتاری جانے والی یہ کتاب کوئی پہلی اور انوکھی کتاب نہیں۔ سو نہ آپ ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول ہیں اور نہ ہی یہ کتاب حکیم کہ آپ سے پہلے ہماری طرف سے انبیاء و رسل بھی آ چکے ہیں اور صحف و کتب بھی۔ پھر یہ لوگ آپکی اس دعوت سے اس طرح آخر کیوں بدکتے ہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ (الاحقاف : 9) اور موسیٰ کا ذکر بطور خاص اس لیے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء و رسل میں سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے
تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارو معارف
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔
فی مریۃ من لقائہ :
اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…
Read the full tafseer →ف 3” اس کے طعنے میں شک نہ کرے “ کے مفسرین (رح) نے کئی مطالب بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملاقات ہونے میں شک نہ کریں۔ چناچہ معراج کے موقع پر آسمان پر بھی اور بیت المقدس میں بھی نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی اور قیامت کے روز بھی ہوگی۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ملنے میں شک نہ کریں۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ( توراۃ) دی گئی اسی طرح آپ ﷺ کو یہ کتاب ( قرآن) دی گئی ہے اس کے ہماری طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے وغیرہ ( شوکانی)4” وجعلناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر کتاب کے لیے ہے۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورة اسراء میں گزر چکی ہے ( دیکھئے…
Read the full tafseer →(32:23) الکتب۔ اس سے مراد جنس کتاب ہے یا ال عہد کا ہوسکتا ہے اور الکتب سے مراد تورات ہے۔
لاتکن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ کون مصدر۔
مرید۔ اسم مصدر۔ تردد۔ یہ شک اور ریب سے خاص ہے گویا جس شک سے تردد پیدا ہو۔ اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ مری مادہ۔
لقائہ : لقی یلقی (سمع) لقاء کے معنی کسی کے آمنے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں۔ اور ان دونوں معنوں میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا (18:62) اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔
یہاں لقاء بمعنی تلقیہ بھی ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔
مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔
تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔
اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
نبی ﷺ کی اطاعت کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو بھی کتاب توریت عطا فرمائی تھی پھر آپ اے محبوب ﷺ اس کتاب کے ملنے میں شبہ نہ کیجئے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں گمراہی بڑھ گئی تھی بنی اسرائیل کے لیے توریت نازل کی گئی ، اسی طرح آپ کے زمانہ میں تمام عالم گمراہ ہوگیا، ان کی ہدایت کے لیے آپ کو نبی بنانا اور آپ کو کتاب دینا ضروری ہوا نبی ﷺ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا قرآن مجید پاچکے تھے بلکہ یہ اور لوگوں کے لیے فرمایا کہ تم اس میں شبہ نہ کرو، بعض مفسرین فرماتے ہیں جیسا کہ مجاہدہ کلبی وسدی کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے محبوب ﷺ ہم تم سے وعدہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[21] یعنی تورات۔
[22] خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کلام الہٰی ہونے میں شک کر رہے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی اسی طرح محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا۔
[23] مطلب یہ ہے کہ جس طرح تورات بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی اسی طرح یہ قرآن تمہارے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے
1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…
Read the full tafseer →23۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت عطا فرمائی آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کا شک نہ کیجئے اور ہم نے اس کتاب توریت کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت اور رہنمائی بنایا ۔ شک نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں یہ مطلب نہیں کہ آپ کا معاذ اللہ اس میں کچھ شک یا تردد تھا۔
بعض نے یہ مطلب بتایا ہے کہ جس طرح کتاب توریت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اسی طرح قرآن کریم آپ کو دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ معراج میں جو آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چھٹے آسمان پر ہوئی وہ شک کی بات نہیں یا یہ کہ قیامت میں جو موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →ف 4۔ مطلب یہ کہ آپ صاحب کتاب صاحب خطاب ہیں، پس جب آپ اللہ کے نزدیک ایسے مقبول ہیں تو اگر مشتے چند احمق آپ کو قبول نہ کریں تو کوئی غم کی بات نہیں۔
5۔ اسی طرح آپ کی کتاب سے بہتوں کو ہدایت ہوگی۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب بھی ہم نے دی اور آپ ﷺ کو بھی کتاب ہم ہی دینے والے ہیں :
23۔ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنے والے نبی ورسول کو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قبول کیا ہو بلکہ ہر ایک کو نبی ورسول ماننے والے کم اور انکار کرنے والے زیادہ تھے ؟ اور یہ بھی کہ جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو اچانک نبوت کے لئے منتخب کرلیا حالانکہ آپ ﷺ کے علم میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی لیکن ہم تو روز اول ہی سے جانتے تھے کہ آپ ﷺ کو رسول بنایا جائے گا بالکل اسی طرح ہر رسول کو حالات پیش آئے اور خصوصا آپ ﷺ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی طرح رسالت کے…
Read the full tafseer →Commentary
The word: لِقَاء (liqa' ) in the first verse (23) cited above: فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ (so do not be in doubt about receiving it) means meeting. Whose meeting with whom? In determining it precisely in the verse, the sayings of commentators differ. According to one of these, the pronoun in: لِّقَائِهِ (liga'ihi) has been taken to be reverting to: اَلکِتَاب (al-hitab: the Book), that is, the Qur'an, which releases the sense that 'the way Allah Ta’ ala gave the Book to Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، you too should entertain no doubt about receiving your Book.' This is…
Read the full tafseer →35 The address apparently is to the Holy Prophet, but the real addressees are the people who doubted his Prophethood and the revelation of the Divine Book to him. From here the discourse turns to the same theme that was mentioned in the beginning of the Surah (vv. 2-3). The disbelievers of Makkah were saying: "No book has come down to Muhammad (upon whom be Allah's peace) from Allah. He 'has himself forged it, but claims that it has been sent down by Allah." The first answer to this was given in the initial verses. This is the second answer. The first thing said in this regard is: "O Prophet,…
Read the full tafseer →