Explained with ayahs 18–22
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے
اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 34
" رب کی آیات " یعنی اس کی نشانیوں کے الفاظ بہت جامع ہیں جن کے اندر تمام اقسام کی نشانیاں آجاتی ہیں۔ قرآن مجید کے جملہ بیانات کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں حسب ذیل چھ قسموں پر مشتمل ہیں
1۔ وہ نشانیاں جو زمین سے لے کر آسمان تک ہر چیز میں اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں۔
2۔ وہ نشانیاں جو انسان کی اپنی پیدائش اور اس کی ساخت اور اس کے وجود میں پائی جاتی ہے۔
3۔ وہ نشانیاں جو انسان کے وجدان میں، اسکے لاشعور میں، اور اس کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں۔
4۔ وہ نشانیاں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں۔
5۔ وہ نشانیاں جو انسان پر…
Read the full tafseer →بعض جرائم کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملتی ہے
انا من المجرمین منتقمون، بظاہر لفظ مجرمین میں ہر قسم کے مجرم شامل ہیں اور انتقام بھی عام ہے خواہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں میں۔ مگر بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملی ہے۔ ایک حق کے خلاف جھنڈوں اور نعروں کے ساتھ اعلاناً کوشش کرنا، دوسرے والدین کی نافرمانی، تیسرے ظالم کی امداد۔ (رواہ ابن جریر عن معاذ بن جبل)
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون (22)
اوپر کی آیت میں عذاب کی جو دھمکی دی ہے یہ اس کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ آخر ہم ان کو عذاب کیوں نہ دیں ! ان سے بڑھ کر ظالم و مجرم کون ہوسکتا ہے جن کو ہماری آیات کے ذریعہ سے تذکیر و تنبیہ کی جائے اور وہ ان سے روگردانی کریں ! تذکیر و تنبیہ کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کی کتاب اور اس کا رسول ہی ہوسکتا ہے۔ جو لوگ اس آخری ذریعہ تذکیر و تنبیہ سے بھی نہ جاگے اب سنت الٰہی کے تحت ان کے جگانے کے لئے کوئی دوسری چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب لاریب وہ مجرم ہیں اور ہم ایسے مجرموں سے لازماً انتقام لے کے رہیں گے۔ کسی قوم میں رسول کی بعثت کے بعد اللہ…
Read the full tafseer →22-1یعنی اللہ کی آیتیں سن کر جو ایمان و اطاعت کی موجب ہیں، جو شخص ان سے اعراض کرتا ہے، اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ یعنی سب سے بڑا ظالم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
10: یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے اسی دنیا میں انسان کو چھوٹی چھوٹی مصیبتیں اس لئے پیش آتی ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں سے باز آجائے، سبق یہ دیا گیا ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے…
Read the full tafseer →9 یعنی سمجھنے کے بعد پھر گیا۔
10 جب تمام گنہگاروں اور ظالم مجرموں سے بدلہ لینا ہے تو یہ اظلم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ آگے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے ظلم و اعراض سے دلگیر نہ ہوں۔ پہلے موسیٰ کو ہم نے کتاب دی تھی جس سے بنی اسرائیل کو ہدایت ہوئی۔ اور اس کی پیروی کرنے والوں میں بڑے بڑے دینی پیشوا اور امام ہو گزرے۔ آپ کو بھی بلاشبہ اللہ کی طرف سے عظیم الشان کتاب ملی ہے جس سے بڑی مخلوق ہدایت پائے گی۔ اور بنی اسرائیل سے بڑھ کر آپ کی امت میں امام اور سردار اٹھیں گے۔ رہے منکر، ان کا فیصلہ حق تعالیٰ خود کردے گا۔
Read the full tafseer →آیت 22 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَا ط
اگر کوئی شخص کسی عام نصیحت کی پروا نہ کرے اور کسی شخصی فلسفہ ومنطق کو ٹھکرا دے تو اور بات ہے ‘ چہ جائیکہ کوئی بدنصیب اللہ کی آیات پر مبنی تذکیر و نصیحت کو نظر انداز کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
23 یعنی قیامت کا دن دراصل مجرمین سے بدلہ لینے کا دن ہے۔ اس دن کوئی بھی مجرم اپنے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ اور جو شخص اپنے کبرونخوت کی بنا پر اللہ کی آیات سننا تک گوارا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے ہی منہ جوڑ کر چل دیتا ہے وہ تو سب سے بڑھ کر ظالم ہے۔ وہ بھلا اس دن انتقام سے کیسے بچ سکے گا ؟ واضح رہے کہ اللہ کی آیات کی بہت سی اقسام ہیں۔ مثلاً ایک تو وہ آیات ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں۔ جنہیں ہم آفاقی نشانیاں کہہ سکتے ہیں۔ اور ان میں سورج، چاند، ستارے، گردش لیل و نہار۔ زمین کی قوت روئیدگی۔ ہواؤں اور بارشوں کا نظام وغیرہ وغیرہ امور شامل ہیں۔ دوسری قسم وہ آیات ہیں جو انسان کے اندر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
27۔ (بلکہ ان کی نظیر سے، اور انہیں راہ تبلیغ و اشاعت دین میں جو جو مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔ ان سے صبر کا سبق حاصل کیجئے) (آیت) ” لقآۂ “۔ ضمیر ” ہ “۔ (آیت) ” الکتب “۔ کی طرف ہے۔ اے من لقائک الکتاب (بیضاوی) اے لقائک ذلک الجنس (روح) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد جنس کتاب ہے۔ اے جنس الکتاب (روح) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی تخصیص شاید اس لئے ہو کہ آپ ﷺ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بہت وجوہ مشابہت جمع تھے۔
28۔ (اسی طرح آپ ﷺ کی کتاب سے ابتداء اور اصلا قوم عرب کی اصلاح ہوگی، اور پھر بتدریج سارے عالم کی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون . اور اس شخص
سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی گئی ‘ پھر اس نے آیات کی طرف سے رخ موٹ لیا ؟ ہم مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے۔
رخ موڑ لیا ‘ یعنی آیات رب پر غور نہیں کیا۔ ثُمَّ (تراخی زمانہ کے لئے نہیں ہے بلکہ) اس بات پر تعجب کرنے کے لئے ہے کہ آیات کھلی ہوئی ہیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ بتارہی ہیں ‘ پھر بھی یہ ظالم ان کی طرف سے کتراتا اور ان پر غور نہیں کرتا۔
مِنَ الْمُجَُرِمِیْنَ یعنی ہم تو ہر مجرم سے انتقام لینے والے ہیں ‘ پھر یہ شخض تو سب سے بڑا مجرم ہے اس کو بغیر انتقام کے کیسے چھوڑ دیں…
Read the full tafseer →اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں اور پھر وہ ان کا انکار کرے تو ہم ایسے مشرکین پر عذاب نازل کریں گے یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ قرآن حکیم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ۔۔ : یہ استفہام انکاری ہے کہ ”اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟“ یعنی کوئی نہیں، وہی بڑا ظالم ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ ”ثم“ (پھر) کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات بہت بعید اور تعجب والی ہے کہ آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کے بعد بھی اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ وہ آیات (نشانیاں) جن کے ساتھ آدمی کو نصیحت ہوتی ہے، کئی طرح کی ہیں، ایک آفاقی نشانیاں، جو کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، مثلاً سورج، چاند، ستارے، دن رات، ہوا، بارش، سمندر، کشتیاں اور زمین کی نباتات وغیرہ۔ دوسری وہ جو خود انسان کے نفس میں موجود ہیں، یعنی اس کی…
Read the full tafseer →یعنی اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کو اس کے رب کی آیات یعنی دلائل اور علامات کے ساتھ نصیحت کی گئی پھر اس نے قبول کو ترک کر کے ان سے اعراض کیا تو ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں کیونکہ انہوں نے جھٹلایا اور اعراض کیا۔
Read the full tafseer →1۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تین کام جس نے کیے اس نے رم کیا جس نے ناحق جھنڈا باندھا یا اپنے والدین کی نافرمانی کی یا کسی ظالم کے ساتھ چلا تاکہ اس کی مدد کرے تو یقینی بات ہے اس نے جرم کیا اللہ عز وجل فرماتے ہیں آیت انا من المجرمین منتقمون۔ ہم مجرمین سے انتقام لینے والا ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ [اور کون زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنْ [اس سے جس کو ] ذُكِّرَ [یاد دہانی کرائی گئی ] بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ [اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے ] ثُمَّ اَعْرَضَ [پھر اس نے اعراض کیا ] عَنْهَا ۭ [اس سے ] اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ [بیشک ہم ان مجرموں سے ] مُنْتَقِمُوْنَ [انتقام لینے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَا) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے) (اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ ) (اور بلاشبہ ہم مجرمین سے بدلہ لینے والے ہیں) اس میں مکذبین کے مستحق عذاب ہونے کی وجہ بتائی ہے کہ ہماری آیات کو جھٹلا کر بڑے ظالم بن گئے، نیز امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی تسلی ہے کہ یہ لوگ جو تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ہم ان سے بدلہ لے لیں گے۔
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ پہلے ان حضرات کی تعریف فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر سجدے میں گرپڑتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →20:۔ ومن اظلم الخ، زجر مع تخویف دنیوی۔ ایک وہ مومنین کاملین ہیں جو آیات الٰہی سن کر سر بسجود ہوجاتے ہیں اور اللہ کی تسبیح و تمجید کرتے ہیں۔ اور ایک وہ مجرمین ہیں جو آیات الٰہی کو سن کر کمال بےاعتنائی کے ساتھ ان سے اعراض کرتے ہیں یہ لوگ سے سے بڑے بےانصاف ہیں اور ہم ان سے اس اعراض و انکار کا ضرور انتقام لیں گے۔ ای لا اظلم ممن ذکرہ اللہ بایاتہ وبینہا لہ ووضحہا ثم بعد ذلک ترکہا وجحدہا واعرض عنہا وتناساہا کانہ لا یعرفھا (ابن کثیر ج 3 ص 462) ۔ مجرمین سے مشرکین مراد ہیں من المجرمین یعنی المشرکین (خازن و معالم ج 5 ص 88) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ
کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔
خفیہ انعامات :
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَا 0 ۭ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ 2 2ۧ
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ولنذیقنھم من العذاب الادنٰی الخ اب یہ بات ارشاد فرماتا ہے کہ اس خیال میں نہ رہنا کہ آخرت ہی میں عذاب آوے گا۔ دنیا میں تو مزے سے گزرتی ہے بلکہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی ہم ان کو عذاب دیں گے، گویا وہ کتنا ہی بڑا ہو مگر عذاب آخرت کے مقابلہ میں ادنیٰ ہے، چناچہ اس پیشین گوئی کے موافق اہل مکہ پر عذاب ادنیٰ آیا سات برس تک وہ قحط 1 ؎ پڑا کہ مردار اور کتوں کے کھانے کی نوبت آگئی۔ اگرچہ آیت میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے، مگر سب فاسقوں کی طرف اشارہ ہے۔
کتب تواریخ شاہد ہیں کہ دنیا میں جس قوم نے بدکاری ‘ شہوت پرستی اختیار کی وہ دنیا ہی میں برباد اور تباہ کئے گئے۔ سلطنتیں چھین لی گئیں، لوگوں کے…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰ یٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَاط اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ ۔ (السجدۃ : 22)
(اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے پھر وہ اس سے اعراض کرے، ہم ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے۔ )
باغی کی سزا کا سبب
گزشتہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے باغی ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ذرا غور کرو کہ ہم نے انسانوں کو زمین پر آباد کیا تو انھیں شعور اور عقل سے بہرہ ور فرمایا، انھیں حواس بھی عطا فرمائے، غور و فکر کی قوتوں سے نوازا، پھر اسی پر بس نہیں کی ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کو دنیا میں ہلکے پھلکے عذاب اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت کے حقدار بن جائیں مگر ظالم پھر بھی اعراض کیے رکھتے ہیں۔
اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ ہم لوگوں کو بڑا عذاب دینے سے پہلے اس لیے چھوٹے، چھوٹے عذاب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ لیکن ظالم لوگ نہ نصیحت قبول کرتے ہیں اور نہ ہی وہ چھوٹے، چھوٹے عذابوں سے ڈرتے ہیں۔ جب لوگوں کی یہ حالت ہوجائے تو پھر ظالموں سے انتقام لیا جاتا ہے اور ایک طرف ان کے گناہوں کی سزا دی جاتی اور دوسری طرف مظلوموں کا بدلہ چکایا جاتا ہے تاکہ دنیا کا نظام درہم برہم ہونے سے بچ جائے اور…
Read the full tafseer →اعراضِ حق عقل سلیم سے بعید تر ہے :
22: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ (اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس کو یا دد لائی جائیں) نصیحت کی جائے بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ (اس کے رب کی آیات) یعنی قرآن مجید کے ذریعہ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَا (پھر وہ ان سے اعراض کرے) ان سے منہ موڑے اور ان میں تدبر نہ کرے۔
نحو : ثمؔ استبعاد کیلئے آتا ہے۔ ایسی آیات جو اس قدر واضح، روشن اور سیدھے راستہ کی طرف راہنما اور سعادت عظمیٰ سے نوازنے والی ہوں ان سے نصیحت کرنے کے بعد جو آدمی اور اعراض کرے گا اس کا اعراض عقل سلیم سے بہت دور ہے۔ جیسا کہ تم اپنے دوست کو کہو۔ تو نے ایسی فرصت پائی مگر پھر اس سے فائدہ نہ اٹھایا ؟ درحقیقت یہ بات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21، ولنذیقنھم من العذاب الا دنی دون عذاب الا کبر، سوائے بڑے عذاب کے ۔ ، لعلھم یرجعون ، حضرت ابی بن کعب ضحاک حسن اور ابراہیم نے کہا کہ عذاب الادنی سے مراد ہے دنیاوی مصائب اور بیماریاں ۔ والبی کی روایت میں ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ اس سے حدودمراد ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہفت سالہ قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا کیے گئے تھے یہاں تک کہ مردار اور ہڈیاں اور کتوں تک کو کھاگئے ۔ ابن مسعودؓ کا قول ہے کہ بدر کے دن کافروں کا ماراجانا مراد ہے۔ قتادہ اور سدی کا بھی یہی قول مروی ہے۔ ، دون العذاب الا کبر، سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ، لعلم یرجعون ، تاکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21‘ 22 تفسیر سدی تفسیر عطاء بن یسار اور تاریخ ابن عسا کر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے جو شان نزول ان ہوگئی ولید نے حضرت علی ؓ سے کہا تم میرے آگے کے بچے ہو میں تم کو کیا سمجھتا ہوں حضرت علی ؓ نے ولید کو جواب دیا تو خدا کا منکر کافر ہے میں تجھ کو کیا سمجھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک کافر اور ایماندار لوگ برابر نہیں ہوسکتے ایمانداروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا کہ نہ کی آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنی اسی ذکر میں اب یہ فرمایا کافروں کے لیے دنیا میں بھی دیکھ بیماری تنگی قحط سالی یہ طرح طرح کے عذاب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 22
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور زیادتی کرنے والا کون ہوسکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی ہو جنہیں اس کے رب نے اس کے پاس پہنچایا ہو اور وہ اپنے رسولوں کے ہاتھوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان اور اپنی نعمت کی تکمیل کرنا چاہتا ہو۔ وہ آیات اسے اس کے دینی اور دنیاوی مصالح کے بارے میں نصیحت کرتی اور حکم دیتی ہیں ‘ اسے دینی اور دنیاوی ضرر رساں امور سے روکتی ہیں۔ وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو ایمان و تسلیم اور شکر و اطاعت کے ساتھ قبول کیا جائے ‘ مگر اس ظالم نے ایسے طریقے سے ان آیات کا استقبال کیا جو ان کے لائق نہ تھا۔ یہ ظالم ان پر ایمان لایا نہ ان کی پیروی کی بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →38 آیات خداوندی سے منہ موڑنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے تاکیدی اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جسکو نصیحت کی جائے اللہ کی آیتوں کے ذریعے پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے۔ آیتوں سے مراد عام ہے کہ آیات کونیہ ہوں یا آیات قرآنیہ۔ انسان کے اندر کی دنیا سے تعلق رکھتی ہوں یا کہ باہر کی کائنات سے کہ ان سب کی شان یہ ہے کہ انسان ان میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے لئے ہدایت اور راہ راست کا سامان کرے۔ لیکن اگر وہ ان سب سے ہی اپنی آنکھیں بند کرکے اندھا بن جائے تو پھر اس کو حق و ہدایت کی روشنی کہیں سے بھی نہیں مل سکتی اور وہ ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی عام مجرموں سے بھی بدلہ لیں گے تو اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے والا اس میں بالا ولی داخل ہے۔ ابن جریر (رح) اور طربانی (رح) وغیرہ نے حضرت معاذ بن جبل سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تین کاموں کا کرنے والا مجرم ( گناہ گار) ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم مجرموں سے بدلہ لیں گے۔ ایک وہ جو ناحق اپنی سرداری اور حکمرانی کا جھنڈا اٹھائے۔ دوسرا وہ جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ جو ظالم کے ساتھ ہو کر اس کی مدد کرے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(32:22) من اظلم : مناستفہام انکاری کے لئے ہے۔ کون ؟ یعنی کوئی نہیں اظلم افعل التفضیلکا صیغہ ، واحد مذکر ہے زیادہ ظالم
ممن۔ مرکب ہے من حرف جر اور من اسم مفعول سے۔
ذکر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تذکیر (تفعیل) سے۔ اس کو سمجھایا گیا۔ اس سے ذکر کیا گیا۔ اس کو بتایا گیا۔ اس کو نصیحت کی گئی۔
ثم۔ پھر ۔ یہاں استعاد کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی خداوند تعالیٰ کی آیات سے باوجود ان کے وضاحت و صراحت کے اور ان کے ہادی الی سواء السبیل وفوزالکبیر ہونے کے ان سے روگردانی کرنا عقل و عدل سے بعید ہے (اور ایسا کرنے والا شخص بہت بڑا ظالم ہے)
اعرض۔ ماضی واحد مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 22) ۔
لا یستون (وہ برابر نہیں ہیں) ۔ الماوی (ٹھکانا) ۔ نزلا (مہمان داری۔ مہمان نوازی) ۔ اعیدوا (لوٹا دیئے گئے) ۔ نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) ۔ الادنی (چھوٹا۔ گھٹیا) ۔ ذکر (یاد دلایا گیا) ۔ اعرض (اس نے منہ پھیرلیا) ۔ منتقمون (انتقام لینے والے۔ بدلہ لینے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (18 تا 22) ۔ ” مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات اور دین کی ہر سچائی کو دل سے قبول کر کے عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف فاسق وہ نافرمان شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف چلتا ہے۔ جب اس کے سامنے دین کی سچائی اور روشنی آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
نبی ﷺ کی اطاعت کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو بھی کتاب توریت عطا فرمائی تھی پھر آپ اے محبوب ﷺ اس کتاب کے ملنے میں شبہ نہ کیجئے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں گمراہی بڑھ گئی تھی بنی اسرائیل کے لیے توریت نازل کی گئی ، اسی طرح آپ کے زمانہ میں تمام عالم گمراہ ہوگیا، ان کی ہدایت کے لیے آپ کو نبی بنانا اور آپ کو کتاب دینا ضروری ہوا نبی ﷺ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا قرآن مجید پاچکے تھے بلکہ یہ اور لوگوں کے لیے فرمایا کہ تم اس میں شبہ نہ کرو، بعض مفسرین فرماتے ہیں جیسا کہ مجاہدہ کلبی وسدی کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے محبوب ﷺ ہم تم سے وعدہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[21] یعنی تورات۔
[22] خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کلام الہٰی ہونے میں شک کر رہے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی اسی طرح محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا۔
[23] مطلب یہ ہے کہ جس طرح تورات بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی اسی طرح یہ قرآن تمہارے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے
1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…
Read the full tafseer →22۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے اور اس کو اس کے پروردگار کی آیتیں یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے اور منہ پھیر لے یقینا ہم ایسے گناہ گاروں سے بدلا لے کر رہیں گے۔ یعنی وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیات یاد دلائی جائیں اور اس کو ان آیات کے واسطے سے نصیحت کی جائے اور وہ ان آیات کی طرف سے منہ پھیر لے اور تحقیر کا برتائو کرے تو ایسے گناہ گار یقینا اس قابل ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اس کے استحقاق عذاب میں کیا شبہ ہے۔
Read the full tafseer →اس سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے جس کو آیات دلائی جائیں تو وہ منہ پھیر جائے :
22۔ اس ایک سورت کو مدنظر رکھو اور دیکھو کہ اس میں کتنے نشانات توحید ہیں جو بیان کئے گئے ، کتاب اللہ کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ‘ ان کے لگائے گئے الزامات میں سے ایک ایک کا دندان شکن جواب ان کو دیا گیا ۔ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی طرف ان کو رغبت دلائی گئی کہ غور کرکے دیکھو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا کون ہے اور ان کی تفہیم کے لئے چھ ادوار کا ذکر کرکے اس کی تفصیل بتائی گئی انسانوں کے حساب اور گنتی کی کیا حیثیت ہے اللہ کے اس دن کے مقابلہ میں جو ہزار یا پچاس ہزار سال کا ایک دن ہے پھر ان پر واضح کیا…
Read the full tafseer →There are some crimes the punishment of which comes even within the mortal world much before the Hereafter.
The last sentence of the set of verses cited above reads:إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ (We have to take vengeance upon the sinners - 22). Obviously, the word: الْمُجْرِمِينَ (al-mujrimin: the criminals) includes all kinds of criminals. Then, the word: اِنتِقَام (intiqam: revenge, retribution, return) is also general. It may be in the mortal world or in the Hereafter or in both. But, from some Hadith accounts it appears that there are three sins the punishment of which is…
Read the full tafseer →34 "The Signs of his Lord" include alI kinds of the Signs. A perusal of aII the Qur'anic verses in this regard shows that these Signs are of the following six kinds: (1) The Signs which are found in everything from the earth to the heavens and in the system of the universe as a whole. (2) The Signs which are found in man's own creation and in his constitution and body. (3) The Signs which are found in man's intuition, his unconscious and subconscious mind and in his moral concepts. (4) The Signs which are found in the continuous experience of human history. (5) The Signs which are found in…
Read the full tafseer →