Explained with ayahs 18–22
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے
اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 33
" عذاب اکبر " سے مراد آخرت کا عذاب ہے جو کفر و فسق کی پاداش میں دیا جائے گا۔ اس کے مقابلہ میں " عذاب ادنیٰ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو اسی دنیا میں انسان کو پہنچتی ہیں۔ مثلاً افراد کی زندگی میں سخت بیماریاں، اپنے عزیز ترین لوگوں کی موت، المناک حادثے، نقصانات، ناکامیاں وغیرہ۔ اور اجتماعی زندگی میں طوفان، زلزلے، سیلاب، وبائیں، قحط، فسادات، لڑائیاں اور دوسری بہت سی بلائیں جو ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔ ان آفات کے نازل کرنے کی مصلحت یہ بیان کی گئی ہے کہ عذاب اکبر میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی لوگ ہوش میں آجائیں اور اس طرز…
Read the full tafseer →(آیت) ولنذ یقنہم من العذاب الادنیٰ دون العذاب الاکبر، لعلہم یرجون، ادنیٰ بمعنی اقرب ہے، اور عذاب ادنیٰ سے مراد دنیا کے مصائب و آفات اور امراض وغیرہ ہیں، اور عذاب اکبر سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔
دنیا کے مصائب ان لوگوں کے لئے رحمت ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کریں
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں ان پر امراض اور مصائب و آفات مسلط کردیتے ہیں، تاکہ یہ متنبہ ہو کر اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے عذاب اکبر سے نجات پائیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ گنہگاروں کے لئے دنیا کے مصائب و آفات اور امراض و تکالیف بھی ایک قسم کی رحمت ہی ہیں کہ غفلت سے باز آ کر…
Read the full tafseer →ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (21)
’ عذاب ادنی ‘ سے مراد اس دنیا کا عذاب ہے جو تذکیر و تنبیہ کے لئے آتا ہے۔ اوپر کی آیات میں ’ عذاب اکبر ‘ کا ذکر تھا جس سے کفار کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا اس ’ عذاب اکبر ‘ سے پہلے اس دنیا میں بھی ہم ان لوگوں کو اپنے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ ان لوگوں سے مراد ظاہر ہے کہ قریش ہیں۔ یہاں جو باتیں فرمائی گئی ہیں اگرچہ عام الفاط میں فرمائی گئی ہیں لیکن ان کے اول مخاطب قریش ہی ہیں۔ ان کو دھمکی دی ہے کہ وہ متنبہ رہیں کہ اس دنیا میں بھی ان کو سزا ملے گی اور مقصود اس سے یہ ہوگا کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آئیں اور صحیح زندگی کی طرف…
Read the full tafseer →21ا۔-1عذاب ادنی (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں۔ تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔
21ا۔-2یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
10: یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے اسی دنیا میں انسان کو چھوٹی چھوٹی مصیبتیں اس لئے پیش آتی ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں سے باز آجائے، سبق یہ دیا گیا ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے…
Read the full tafseer →8 یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے قبل دنیا میں ذرا کم درجہ کا عذاب بھیجیں گے تاکہ جسے رجوع کی توفیق ہو ڈر کر خدا کی طرف رجوع ہوجائے۔ کم درجہ کا عذاب یہی دنیا کے مصائب، بیماری، قحط، قتل، قید، مال اولاد وغیرہ کی تباہی وغیرہ۔
Read the full tafseer →آیت 21 وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ
اس آیت کی سورة الروم کی آیت 41 کے ساتھ خاص مناسبت ہے : ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب ‘ تاکہ اللہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا ‘ تاکہ وہ لوٹ آئیں۔
دونوں آیات کے مضمون کا تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون سے ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
23 یعنی قیامت کا دن دراصل مجرمین سے بدلہ لینے کا دن ہے۔ اس دن کوئی بھی مجرم اپنے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ اور جو شخص اپنے کبرونخوت کی بنا پر اللہ کی آیات سننا تک گوارا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے ہی منہ جوڑ کر چل دیتا ہے وہ تو سب سے بڑھ کر ظالم ہے۔ وہ بھلا اس دن انتقام سے کیسے بچ سکے گا ؟ واضح رہے کہ اللہ کی آیات کی بہت سی اقسام ہیں۔ مثلاً ایک تو وہ آیات ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں۔ جنہیں ہم آفاقی نشانیاں کہہ سکتے ہیں۔ اور ان میں سورج، چاند، ستارے، گردش لیل و نہار۔ زمین کی قوت روئیدگی۔ ہواؤں اور بارشوں کا نظام وغیرہ وغیرہ امور شامل ہیں۔ دوسری قسم وہ آیات ہیں جو انسان کے اندر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
26۔ (اپنے کفر وشرک سے) (آیت) ” لعلھم “۔ متعلق ہے۔ (آیت) ” لنذیقنھم “۔ سے، گویا مقصود اس عذاب الادنی سے ان کافروں کی اصلاح ہی ہے۔ (آیت) ” عذاب الادنی “۔ سے مراد اسی دنیا کا عذاب ہے۔ اے بلاء الدنیا (ابن عباس ؓ قال الحسن وابو العالیہ والضحاک وابی بن کعب وابراھیم النخعی العذاب الادنی مصائب الدنیا واسقامھا فیما یبتلی بہ العبید حتی یتوبوا (قرطبی) مثلا قحط، قتل، قید، شکست وبا، وغیرہ، جو کفار مکہ کے حق میں تو بالکل پورا اترا۔ (آیت) ” عذاب الادنی “۔ کی تفسیر عذاب الاصغر یا ہلکے عذاب سے بھی کی گئی ہے۔ وقیل الاقل (روح) اور ظاہر ہے کہ دنیا کا عذاب ہر صورت میں عذاب آخرت سے ہلکا ہی ہے۔ ذکر یہاں دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →فلنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون . اور بڑے عذاب (یعنی
عذاب آخرت) سے پہلے ہم ان کو کچھ عذاب دنیا چکھائیں گے تاکہ وہ (ایمان کی طرف) لوٹ آئیں۔
حضرت ابی بن کعب ‘ ضحاک ‘ حسن اور ابراہیم نے کہا : عذاب دنیا سے مراد ہیں دنیاوی مصائب اور بیماریاں۔ والبی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : حدود مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد وہ ہفت سالہ قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا کئے گئے تھے یہاں تک کہ مردار اور ہڈیاں اور کتوں تک کو کھا گئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : بدر کے دن کافروں کا مارا جانا مراد ہے۔ قتادہ اور سدی کا بھی یہی قول مروی ہے۔
ایمان کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →اور ہم ان کفار مکہ کو دنیا کا عذاب بھی یعنی قحط بھوک خشکی قتل وغیرہ یا یہ کہ عذاب قبر بھی دوزخ کے عذاب سے پہلے چکھا دیں گے اور ان کو اس لیے ڈرایا جاتا ہے تاکہ یہ کفر سے باز آئیں اور توبہ کریں۔
Read the full tafseer →وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى۔۔ : یعنی ہم اس بڑے عذاب سے پہلے، جس کا ابھی ذکر ہوا انھیں ایک ادنیٰ عذاب ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا عذاب ہے، جیسا کہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : ”اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ توبہ کرلیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ يَذَّكَّرُوْنَ) [ التوبۃ : 126 ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے…
Read the full tafseer →آیت ولنذیقنھم من العذاب الادنی حضرت حسن بصری، ابوالعالیہ، ضحاک، ابی بن کعب اور ابراہیم نخعی نے کہا : آیت العذاب الادنی سے مراد دنیا کے مصائب اور اس کی بیماریاں ہیں جس کے ساتھ بندوں کو آزمایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کریں گے (1) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد حدود ہیں ؛ حضرت ابن مسعود، حضرت حسن بن علی اور حضرت عبداللہ بن حارث سے مروی ہے۔ اس سے مراد غزوہ بدر کے روز قتل کرنا ہے۔ مقاتل نے کہا : مراد مکہ مکرمہ میں سات سال تک خشک سالی ہے یہاں تک کہ انہوں نے مردار کھائے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آیت العذاب الادنی سے مراد عذاب قبر ہے۔ اس میں اعتراض…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن منیع وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب والبیہقی نے ادلائل میں ابن مسعود رضیا للہ عنہ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی اور ہم چکھائیں گے ان کو دنیا کے عذاب اور وہ غزوہ بدر کا عذاب ہے آیت دون العذاب الاکبر یعنی قیامت کے دن کا عذاب آیت لعلہم یرجعون جو ان میں سے باقی بچ گئے شاید کہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں۔
2۔ ابن ابی شیبہ والنسائی وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے قحط جو ان کو پہنچا آیت لعلہم یرجعون شاید کہ وہ توبہ کرلیں۔
گناہ گاروں پر دنیا کا…
Read the full tafseer →وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ [اور ہم لازما چکھائیں گے ان لوگوں کو ] مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى [نزدیک والے عذاب میں سے ] دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ [بڑے عذاب کے علاوہ ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ] ۔
نوٹ۔ 3: آیت۔ 21 ۔ میں عذاب ادنیٰ سے مراد دنیا کے مصائب، آفات اور امراض وغیرہ ہیں اور عذاب اکبر سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنی میں ان پر مصائب مسلط کردیتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے عذاب اکبر سے نجات پائیں۔ اس طرح گنہگاروں کے لئے دنیا کے مصائب اور تکالیف ایک قسم کی رحمت ہی ہیں کہ غفلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (اور ہم انہیں ضرور ضرور بڑے عذاب سے پہلے قریب والا عذاب چکھا دیں گے تاکہ وہ باز آجائیں) بڑے عذاب سے مراد آخرت کا عذاب اور قریب والے عذاب سے دنیا کا عذاب مراد ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس کی تفسیر میں دو باتیں منقول ہیں، اول یہ کہ اہل مکہ کو جو چند سال قحط میں مبتلا کیا اس سے وہ عذاب مراد ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مشرکین مکہ کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا اور شکست کھانا مراد ہے۔ اگر (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ ) کی ضمیر منصوب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہو تو یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →19:۔ ولنذیقنہم الخ۔ یہ تخویف دنیوی ہے عذاب ادنای سے مصائب دنیا اور عذاب اکبر سے عذاب جہنم مراد ہے یعنی ہم دنیا میں ان فساق و کفار کو مبتلائے مصائب کریں گے تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں اور توبہ کر کے راہ ہدایت اختیار کرلیں۔ قال الحسن و ابو العالیۃ والضحاک و ابی بن کعب و ابراہیم النخعی العذاب الادنی مصائب الدنیا واسقامھا مما یبتلی بہ العبید حتی یتوبوا وقالہ ابن عباس ولا خلاف انا العذاب الاکبر عذاب جہنم الخ (قرطبی ج 14 ص 107) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ
کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔
خفیہ انعامات :
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے…
Read the full tafseer →وَلَنُذِيْـقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 21
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔
لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ولنذیقنھم من العذاب الادنٰی الخ اب یہ بات ارشاد فرماتا ہے کہ اس خیال میں نہ رہنا کہ آخرت ہی میں عذاب آوے گا۔ دنیا میں تو مزے سے گزرتی ہے بلکہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی ہم ان کو عذاب دیں گے، گویا وہ کتنا ہی بڑا ہو مگر عذاب آخرت کے مقابلہ میں ادنیٰ ہے، چناچہ اس پیشین گوئی کے موافق اہل مکہ پر عذاب ادنیٰ آیا سات برس تک وہ قحط 1 ؎ پڑا کہ مردار اور کتوں کے کھانے کی نوبت آگئی۔ اگرچہ آیت میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے، مگر سب فاسقوں کی طرف اشارہ ہے۔
کتب تواریخ شاہد ہیں کہ دنیا میں جس قوم نے بدکاری ‘ شہوت پرستی اختیار کی وہ دنیا ہی میں برباد اور تباہ کئے گئے۔ سلطنتیں چھین لی گئیں، لوگوں کے…
Read the full tafseer →وَلَـنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 21)
(اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب بھی ضرور چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں۔ )
عذابِ ادنیٰ اور عذاب اکبر کا مفہوم
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور کسی طرح بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ہماری طرف مبعوث کیے جانے والے واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ہمیں ان پر ایمان لانا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ انھیں راہ راست پر لانے کے لیے چھوٹی موٹی تکلیفیں پہنچاتا ہے۔ کبھی ان پر کوئی وبا بھیج دیتا ہے، کبھی زلزلہ آتا ہے، کبھی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی آخرت سے پہلے دنیا میں سزا۔
جو لگ اپنے رب کے احکام کا انکار کرتے ہیں اور قیامت کے حساب و کتاب کو جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان سے اعراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے والا شخص بڑا ظالم ہوتا ہے ان مجرموں سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں انتقام لیں گے قیامت کو انہیں بڑا عذاب ہوگا لیکن دنیا میں بھی چھوٹے چھوٹے عذابوں کے ساتھ ان سے انتقام لیا جاتا ہے۔ کافر اور مشرک آخرت کے عذاب سے یہ کبھی چھٹکارا نہیں پائیں گے لیکن دنیا کے چھوٹے عذاب سے انہیں اکثر اوقات اس لیے نجات دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →21: وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی (اور ضرور ہم ان کو قریب کا عذاب چکھائیں گے) دنیا میں قید کا عذاب اور وہ سات سال کا قحط جو ان پر مسلط کیا گیا دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ (بڑے عذاب سے پہلے) بڑے عذاب سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ہم ان کو عذاب آخرت تک پہنچنے سے پہلے چکھائیں گے۔
دارانی کا قول :
عذابِ ادنیٰ سے رسوائی و ذلت مراد ہے اور عذاب ِاکبر سے ہمیشہ کی آگ۔
ایک قول :
عذاب ِادنیٰ سے عذاب ِقبر مراد ہے۔
لَعَلَّھُمْ (شاید کہ وہ) جن کو قریبی عذاب دیا گیا ہے۔ یَرْجِعُوْنَ (باز آئیں) کفر سے توبہ کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21، ولنذیقنھم من العذاب الا دنی دون عذاب الا کبر، سوائے بڑے عذاب کے ۔ ، لعلھم یرجعون ، حضرت ابی بن کعب ضحاک حسن اور ابراہیم نے کہا کہ عذاب الادنی سے مراد ہے دنیاوی مصائب اور بیماریاں ۔ والبی کی روایت میں ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ اس سے حدودمراد ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہفت سالہ قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا کیے گئے تھے یہاں تک کہ مردار اور ہڈیاں اور کتوں تک کو کھاگئے ۔ ابن مسعودؓ کا قول ہے کہ بدر کے دن کافروں کا ماراجانا مراد ہے۔ قتادہ اور سدی کا بھی یہی قول مروی ہے۔ ، دون العذاب الا کبر، سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ، لعلم یرجعون ، تاکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21‘ 22 تفسیر سدی تفسیر عطاء بن یسار اور تاریخ ابن عسا کر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے جو شان نزول ان ہوگئی ولید نے حضرت علی ؓ سے کہا تم میرے آگے کے بچے ہو میں تم کو کیا سمجھتا ہوں حضرت علی ؓ نے ولید کو جواب دیا تو خدا کا منکر کافر ہے میں تجھ کو کیا سمجھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک کافر اور ایماندار لوگ برابر نہیں ہوسکتے ایمانداروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا کہ نہ کی آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنی اسی ذکر میں اب یہ فرمایا کافروں کے لیے دنیا میں بھی دیکھ بیماری تنگی قحط سالی یہ طرح طرح کے عذاب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 21
ہم رسول کی تکذیب کرنے والے فاسقوں کو نمونے کے طور پر کم تر عذاب کا مزا چکھائیں گے اور وہ برزخ کا عذاب ہے۔ پس ہم برزخ کے عذاب کا کچھ مزا ان کے مرنے سے پہلے انہیں چکھائیں گے اس سے مراد قتل وغیرہ کا عذاب ہے ‘ جیسے غزوہ بدر میں مشرکین کو قتل کیا گیا یا اس سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اس کا ذکر آتا ہے : (ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملکۃ باسطوآ ایدیھم اخرجوآ انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون) (الانعام : 6/39) ” اور کاش آپ دیکھتے ‘ جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے عذاب کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے ‘ (اور کہہ رہے ہوں گے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
30 ذریعہء نجات صرف ایمان اور عمل صالح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے انہی کے لیے ہیں جنت کی وہ سدا بہار نعمتیں اور وہاں کی ابدی بادشاہی "۔ وہی بات جو پہلے بھی بارہا گزری کہ نجات ایمان اور عمل صالح پر موقوف ہے اور عمل صالح وہ معتبر ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو اور جو ایمان پر مرتب ہو۔ اور ایمان وہ ہو جس کی تصدیق عمل صالح سے ہو۔ سو باعث نجات صرف ایمان و عمل ہے۔ محض زبانی کلامی دعو وں یا گروہی اور نسلی تفاخر وغیرہ سے کچھ نہیں بنتا۔ پس جو لوگ شخصی یا نسلی اور گروہی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ایمان وعمل کی اس راہ سے پہلو تہی کرتے اور غفلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →ف 1” اور توبہ کریں “۔ چھوٹے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ( قتل و غارت) ، قید و ہند، قحط اور دوسرے مصائب و آلام بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جو کافروں اور نافرمانوں کو قبر ( یعنی بزرخی زندگی) میں دیا جائے۔ مگر یہ آخری جملہ عذاب قبر مراد لینے کی تصنیف کر رہا ہے (شوکانی) ہاں قبر کے عذاب کا ثبوت بعض دوسری آیتوں سے ملتا ہے۔ دیکھئے سورة غافر آیت 46، سورة انعام آیت 93، 94 اور صحیح احادیث میں تو اسے پوری صراحت و تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(32:21) لنذیقنھم مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ تاکید۔ صیغہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ہم ان کو ضرور چکھائیں گے۔
من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر اس میں من تبعیضیہ ہے اور دون معنی پہلے۔
العذاب الادنی سے مراد اس دنیا کا عذاب۔ از قسم قحط۔ قتل۔ قید ، شکست ، وبا وغیرہ۔
عذاب الاودنی کی تفسیر عذاب اصغر یا ہلکے عذاب سے بھی کی گئی ہے وقیل الاقل (روح) اور ظاہر ہے کہ دنیا کا عذاب ہر صورت میں عذاب آخرت سے ہلکا ہی ہے ذکر یہاں مختلف عذابوں کا ہے ایک عذاب الاودنی دوسرا عذاب الاکبر۔ لیکن تقابل کے لئے ہم وزن الفاظ یا عذاب الاصغر و عذاب الاکبر ہونا تھے یا پھر عذاب الادنی اور عذاب الاقصی۔ پھر قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 22) ۔
لا یستون (وہ برابر نہیں ہیں) ۔ الماوی (ٹھکانا) ۔ نزلا (مہمان داری۔ مہمان نوازی) ۔ اعیدوا (لوٹا دیئے گئے) ۔ نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) ۔ الادنی (چھوٹا۔ گھٹیا) ۔ ذکر (یاد دلایا گیا) ۔ اعرض (اس نے منہ پھیرلیا) ۔ منتقمون (انتقام لینے والے۔ بدلہ لینے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (18 تا 22) ۔ ” مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات اور دین کی ہر سچائی کو دل سے قبول کر کے عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف فاسق وہ نافرمان شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف چلتا ہے۔ جب اس کے سامنے دین کی سچائی اور روشنی آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
نبی ﷺ کی اطاعت کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو بھی کتاب توریت عطا فرمائی تھی پھر آپ اے محبوب ﷺ اس کتاب کے ملنے میں شبہ نہ کیجئے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں گمراہی بڑھ گئی تھی بنی اسرائیل کے لیے توریت نازل کی گئی ، اسی طرح آپ کے زمانہ میں تمام عالم گمراہ ہوگیا، ان کی ہدایت کے لیے آپ کو نبی بنانا اور آپ کو کتاب دینا ضروری ہوا نبی ﷺ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا قرآن مجید پاچکے تھے بلکہ یہ اور لوگوں کے لیے فرمایا کہ تم اس میں شبہ نہ کرو، بعض مفسرین فرماتے ہیں جیسا کہ مجاہدہ کلبی وسدی کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے محبوب ﷺ ہم تم سے وعدہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[19] قریب کے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔
[20] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں کم درجے کا عذاب بھیجتا ہے مثلاً بیماریاں، قحط، سیلاب وغیرہ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے بڑے عذاب سے نجات پائیں۔ انبیائ، اولیا اور مومنین پر جو آفات و مصائب آتے ہیں تو وہ ان کے امتحان اور امتحان کے ذریعے رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں اور پہچان اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو امراض و آفات کے وقت بھی ایک قسم کا قلبی سکون اور اطمینان میسر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے
1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں…
Read the full tafseer →21۔ اور ہم ان کفار مکہ کو اس بڑے عذاب موعود سے پہلے دنیا کے قریبی عذاب کا بھی ضرور مزا چکھائیں گے تاکہ شاید یہ لوگ کفر سے باز آجائیں ۔ یعنی عذاب اکبر فرمایا آخرت کے عذاب کو اس سے پہلے تھوڑا سا عذاب یعنی دنیوی مصائب و آلام خواہ وہ قحط ہو ، بیماری ہو یا جہاد میں قتل و قید ہو ۔ غرض دنیا میں بھی ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے مختلف مصائب سے ان منکروں کو دو چار کروں گا تا کہ یہ کفر سے باز آجائیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں لوٹ مار بندی دیکھ لیں گے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1۔ جیسے امراض و اسقام و مصائب۔
2۔ پھر جو نہ باز آوے اس کے لئے عذاب اکبر ہے ہی۔
Read the full tafseer →ہم ان کو دنیا میں چھوٹے عذاب میں مبتلا کرتے رہتے ہیں تاکہ بڑے عذاب سے بچ جائیں :
21۔ آخرت کا عذاب اگر ہلکا بھی ہو تو دنیا کے عذاب سے بلاشبہ بھاری اور سخت ہی ہوگا کیونکہ دنیا کے مقابلہ میں وہ بہت لمبی مدت کے لئے ہوگا ، دنیوی زندگی آخر کتنی ہے اور خصوصا آخرت کے مقابلہ میں اور پھر وہ آخرت کا عذاب جو کفر وفسق کی پاداش میں دیا جائے گا ۔ فرمایا اس دنیوی زندگی میں ہم ان کو چھوٹی چھوٹی تکلیفوں میں مبتلا کرتے رہتے ہیں اگرچہ یہ بھی ان ہی لوگوں کی کمائی کا حصہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے کہ فطرت انسانی یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا ذہن…
Read the full tafseer →In verse 21:
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And We will certainly make them taste the nearer punishment before the greater punishment, so that they may return),
the word: أَدْنَىٰ (adna) has been used in the sense of 'nearer' and الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ (al adhab-ul-adna) denotes diseases, sufferings and calamities of the world that are made to befall a lot of people by Allah Ta'ala in order to warn them against their sins. The purpose is to chasten and alert them enough so that they leave off their sins and thus earn…
Read the full tafseer →33 "The greater torment" is the torment of the Hereafter, which will be imposed on the guilty ones in consequence of disbelief and disobedience. "The lesser torment", in contrast, implies those calamities which afflict man even in this world, e.g., diseases in the life of individuals, deaths of the near and dear ones, serious accidents, losses, failures, etc. and storms, earthquakes, floods, epidemics, famines, riots, wars and many other disasters, in collective life, which affect hundreds of thousands of the people simultaneously. The reason given for sending these calamities is that the…
Read the full tafseer →