Explained with ayahs 8–10
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الروم 8
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دو چار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران میں کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے، اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کرلیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکار آخرت جس صورت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر شتر بےمہار بن گئے، انہوں نے ظلم و فساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ، یعنی یہ اہل مکہ تو ایک ایسی زمین کے باشندے ہیں جہاں نہ زراعت ہے نہ صنعت نہ تجارت کے مواقع اور نہ بلند وبالا حسین تعمیرات، مگر ملک شام اور یمن کے سفر ان لوگوں کو اپنے تجارتی مقاصد کے لئے پیش آتے ہیں کہ ان سفروں میں ان لوگوں نے اپنے سے پہلی اقوام دنیا کے انجام کا مشاہدہ نہیں کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے تصرفات کرنے کا سلیقہ دیا تھا کہ زمین کو کھود کر اس سے پانی نکالنا اور اس سے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرنا اور چھپے ہوئے معادن سے سونا چاندی اور دوسری قسم کی معدنی دھاتیں نکالنا اور ان سے انسانی فوائد کے لئے مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنا ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اولم یسروا فی الارض ینظرو اکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ط کانواشد منھم قوۃ واثما روا الارض و عمر و ھا اکثر مما عمروھا وجاء تھم وسلھم بالبینت، فما کان اللہ لیطلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوای ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزون (9۔ 10)
یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہوچکا ہے ! شارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے…
Read the full tafseer →9-1یہ آثار کھنڈرات اور نشانات عبرت پر غور و فکر نہ کرنے پر ملامت کی جا رہی ہے۔ مطلب ہے کہ چل پھر کر وہ مشاہدہ کرچکے ہیں۔
9-2یعنی ان کافروں کا جن کو اللہ نے ان کے کفر باللہ، حق کے انکار اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا۔
9-3یعنی قریش اور اہل مکہ سے زیادہ۔
9-4یعنی اہل مکہ تو کھیتی باڑی سے ناآشنا ہیں لیکن پچھلی قومیں اس وصف میں بھی ان سے بڑھ کر تھیں۔
9-5اس لئے کہ ان کی عمریں بھی زیادہ تھیں، جسمانی قوت میں بھی زیادہ تھے اسباب معاش بھی ان کو زیادہ حاصل تھے۔ پس انہوں نے عمارتیں بھی زیادہ بنائیں، زراعت و کاشتکاری بھی کی اور وسائل رزق بھی زیادہ مہیا کئے۔
9-6لیکن وہ ان پر ایمان نہیں لائے۔ لہذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
3: یعنی اگر آخرت کو نہ مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات یونہی بغیر کسی مقصد کے پیدا کردی ہے جس میں نہ کسی ظالم اور بدکار سے کوئی حساب کبھی لیا جائے گا اور نہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی انعام کبھی مل سکے گا، نیز یہ کائنات غیر محدود مدت تک اسی طرح بےمقصد چلتی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10)
ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین
یہ اس بات کی دعوت ہے…
Read the full tafseer →6 یعنی بڑی بڑی طاقتور قومیں (عادوثمود) جنہوں نے زمین کو بو، جوت کر لالہ و گلزار بنایا، اسے کھود کر چشمے اور کانیں نکالیں، ان منکرین سے بڑھ کر تمدن کو ترقی دی، لمبی عمریں پائیں اور زمین کو ان سے زیادہ آباد کیا۔ وہ آج کہاں ہیں ؟ جب اللہ کے پیغمبر کھلے نشان اور احکام لے کر آئے اور انہوں نے تکذیب کی تو کیا نہیں سنا کہ انجام کیا ہوا۔ کس طرح تباہ و برباد کئے گئے۔ ان کے ویران کھنڈر آج بھی ملک میں چل پھر کر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ان میں ان بےفکروں کے لئے کوئی عبرت نہیں۔
7 اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو ظلم کا امکان نہیں۔ ہاں یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی جڑ پر کلہاڑی مارتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں۔ جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”
یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →7 یعنی ظلم کی عمارت ہمیشہ عقیدہ آخرت سے انکار کی بنیاد پر اٹھتی ہے۔ اور جن ظالم اقوام کو اللہ تعالیٰ نے تباہ کیا ان سب میں قدر مشترک یہی تھی کہ آخرت کے منکر تھے۔ کیونکہ جو شخص یا جو قوم آخرت میں اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کی قائل ہوگی وہ ظلم کر ہی نہیں سکتی۔ ان تباہ ہونے والی قوموں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو تم سے بہت زیادہ طاقتور تھے۔ فنون دنیا کے ماہر تھے۔ انہوں نے زرعی میدان میں بھی خوب ترقی کی تھی اور زمین کو چیر کر اس میں سے خزانے بھی نکالے تھے۔ اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے تم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ لیکن جب انہوں نے ظلم اور زیادتی پر کمر باندھی تو اللہ نے انھیں تباہ و…
Read the full tafseer →9۔ مراد یہ ہے کہ یہ اپنی مادیت میں مست وسرشار رہنے والے مشرکین مکہ تو اپنی تجارت کین سلسلہ میں برابر شام ویمن کی آمد ورفت رکھتے ہی ہیں۔ کیا اس پر غور نہیں کرتے کہ اس سے قبل کی بڑی بڑی مہذب ومتمدن وپرشوکت، لیکن خدا فراموش وآخرت فراموش قومیں مثلا عاد وثمود کس طرح اپنے طغیان وعدو ان کی پاداش میں برباد ہو کو رہی ہیں۔ ان کے آثار اور انکے کھنڈر، انہیں یاد نہیں دلاتے کہ اللہ کی نافرمانی کے قدرتی انجام کو دنیا کی کوئی خوش تدبیری، کوئی اقبال مندی، کوئی مرفہ الحالی روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ ان بدبختوں پر کوئی گرفت اللہ کی طرف سے خواہ مخواہ تھوری ہی ہوئی ہے۔ یہ تو خود اپنی حرکتوں سے یہ وقت اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…
Read the full tafseer →اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم . (کیا کفار مکہ ‘ مکہ سے باہر نکلے) اور ملک میں چل پھر کر انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے (کفار) کا انجام کیسا (عبرت انگیز) ہوا۔ یعنی یہ لوگ باہر سفر پر گئے ہیں اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ان سے پہلے والے کفار جنہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی ‘ تکذیب انبیاء کی ہی وجہ سے تباہ کر دئیے گئے۔ پچھلے کافروں کے فرسودہ نشانات یہ دیکھ چکے ہیں۔
کانوا اشد منھم قوۃ واثاروا الارض و عمروھا اکثرمما عمروھا . وہ لوگ ان سے زیادہ قوت والے تھے انہوں نے زمین کو الٹ کر رکھ دیا اور ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا (بڑی بڑی اونچی عمارتیں بکثرت بنائی…
Read the full tafseer →اور یہ مکہ والے زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کا انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے پر کیا انجام ہوا۔
حالانکہ وہ ان سے جسمانی طاقت میں بہتر تھے اور ان سے زیادہ انہوں نے سفر و تجارت کیا تھا یا یہ کہ ان سے بڑھ کر انہوں نے زمین کو بویا جوتا تھا اور ان مکہ والوں سے زائد انہوں نے زمین کو آباد کیا تھا اور اس میں باقی رہے تھے اور ان کے پاس بھی ان کے رسول احکام و معجزات لے کر آئے تھے اور وہ بھی ایمان نہیں لائے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔
اللہ تعالیٰ ہلاک کر کے ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی کفر و شرک اور انبیاء کرام کی تکذیب…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا۔۔ : آخرت کے حق ہونے کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اس کی تکذیب کرنے والی پہلی اقوام کے برے انجام سے ڈرایا ہے۔ کیونکہ ان اقوام کے آثار مکہ مکرمہ کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ عاد وثمود ہوں یا اصحاب مدین اور قوم لوط ہو یا قوم سبا یا قوم فرعون، مکہ مکرمہ کے لوگ تجارت کے لیے ان تمام علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ ”الارض“ سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے ہیں، جن کا قرآن میں جا بجا ذکر ہے۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی وحدانیت، اس کے رسولوں کی رسالت اور آخرت کو جھٹلانے والے ہیں، کیا اس زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان جھٹلانے…
Read the full tafseer →وہ اپنی آنکھوں اور دلوں سے دیکھیں یعنی زمین کو زراعت کے لئے الٹ پلٹ کیا کیونکہ اہل مکہ کا شتکار نہ تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البقرۃ 71)
ان لوگوں نے اسے آباد کیا اس سے بڑھ کر جس قدر ان لوگوں نے اسے آباد کیا ان کی عمارت اور مدت کی طوالت نے انہیں کوئی نفع نہ دیا بینات سے مراد معجزات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد احکام ہیں انہوں نے کفر کیا اور ایمان نہ لائے۔ انہیں ان گناہوں کے بغیر، رسولوں کے معبوث کئے بغیر اور دلیل کے بغیر ہلاک کرے وہ شرک اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا [اور کیا انھوں نے سیر نہیں کی ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [نتیجتاً (تاکہ) وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ان سے پہلے تھے ] كَانُوْٓا [وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ان سے زیادہ شدید ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] وَّاَثَارُوا ] اور انہوں نے جوتا ] الْاَرْضَ [زمین کو ] وَعَمَرُوْهَآ [اور آباد کیا اس کو ] اَكْثَرَ مِمَّا [اس سے زیادہ جو ] عَمَرُوْهَا [ان لوگوں نے آباد کیا اس کو ] وَجَاۗءَتْهُمْ [اور پہنچے ان کے پاس ] رُسُلُهُمْ [اس کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۭ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَمَا كَانَ…
Read the full tafseer →زمین پر چلنے پھرنے کی تلقین اور امم سابقہ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم
اس کے بعد فرمایا (اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا تاکہ پرانے لوگوں کے احوال سے عبرت حاصل کرتے، ان سے پہلے جو لوگ تھے وہ ان سے زیادہ قوت والے تھے انہوں نے زمین کو جوتا اور بویا بیج ڈالا اور اس کی پیداوار کو اپنے تصرف میں لائے، نیز کھیتی باڑی کے علاوہ بھی انہوں نے زمین کو آباد کیا، اپنے مکانات بنائے، قلعے تعمیر کیے، باغات لگائے، نہریں جاری کیں، اور بہت کچھ کیا لیکن وہ اس سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے رسول بھیجے جو ان کے پاس دعوت حق لے کر آئے لیکن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔
اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →10:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ کیا ان معاندین نے زمین چل پھر کر پہلے زمانے کے معاندین حق کا انجام نہیں دیکھا ؟ جو جسمانی طاقت اور قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ اور زراعت، باغبانی اور تعمیرات وغیرہ فنون میں ان سے زیادہ ماہر تھے۔ وہ دنیا میں بڑی شان و شوکت کے مالک تھے، عالیشان محلوں اور قلعوں میں رہتے تھے۔ جب ان کے پاس ہمارے پیغمبر پیغام توحید لے کر آئے تو انہوں نے اپنی دولت و شوکت کے غرور میں ان کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو دردناک عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کردیا۔ یہ عذاب ان کے اعمال کا نتیجہ تھا ہم نے ان پر ظلم و زیادتی نہیں کی۔ ثم کان عاقبۃ الذی الخ۔ یہ ان معاندین کے انجام بد کا بیان ہے۔ عاقبۃ الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربطہ آیات
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ مغلوب رومی عیسائی چند سالوں میں دوبارہ غالب آجائیں گے۔ چناچہ یہ پیشن گوئی نو سال کے اندر اندر پوری ہوگئی۔ ادھر عیسائیوں نے اپنے مقدس مقدمات مجوسیوں سے واگذار کر الیے اور ادھر اللہ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ اس پیشن گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی ابن خلف کے درمیان ایک ایک سو اونٹ کی شرط بھی لگ چکی تھی۔ عیسائیوں کے دوبارہ غلبہ پر حضرت صدیق ؓ شرط تو جیت چکے مگر ابی ابن خلف میدان بدر میں مارا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے سو اونٹ ابی ابن خلف کے رشتہ داروں سے وصول کیے تھے۔
قمار…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0ۭ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَــرُوْہَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَــرُوْہَا وَجَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ 0 ۭ فَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ 9 ۭ
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
مگر انہوں نے نہ مانا آخر اپنے کیے کی سزا کو پہنچے ہلاک ہوئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَشَدَّمِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْھَآ اَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْھَا وَجَآئَ ْتھُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبـَـیِّـنٰـتِ ط فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وا السُّوْٓ آٰی اَنْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔
(الروم : 9، 10)
(اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ ان سے قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی غفلت کا ایک سبب اسے دنیا میں ملنے والی مہلت ہے جس کی طرف انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال رکھنا چاہیے۔
انسان دنیا کی سہولیات اور زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر آخرت کے احتساب کو بھول جاتا ہے۔ خاص طور پر کافر اور مشرک کی جب دنیا میں گرفت نہیں ہوتی تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شائد مرنے کے بعد بھی مجھے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو بالخصوص ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اپنے آپ اور زمین آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اس پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اور کیونکر پیدا کیا ہے۔ اس نے کوئی چیز بھی بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ ہر چیز کے پیدا…
Read the full tafseer →قولِ زجاج :
اپنے رب کی ملاقات سے انکاری ہیں۔
9: اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ (کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کس طرح ان لوگوں) عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (کا انجام ہوا جو ان سے پہلے ہوئے) یہ استفہام تقریری ہے کہ وہ شہروں میں چلے پھرے ہیں اور انہوں نے عادو ثمود وغیرہ سرکش اقوام کے تباہ شدہ مقامات دیکھے ہیں۔ پھر ان اقوام کی تھوڑی حالت ذکر فرمائی کَانُوْا اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً (وہ ان سے طاقت میں زیادہ تھے) ۔ وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ (انہوں نے زمین کو آباد کیا) زمین میں کھیتی باڑی کی۔ وَعَمَرُوْھَآ (اور اس کو آباد کیا) ان تباہ ہونے والوں نے…
Read the full tafseer →9” اولم یسیروافی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “ کیا وہ زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھ سکتے کہ ان سے پہلے والی قوموں کا انجام کیا ہوا اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔ کانو اشدمنھم قوۃ و آثارا الارض “ وہ لوگ قوت کے اعتبار سے بہت زیادہ مضبوط تھے۔ انہوں نے زمین کو الٹ کرکے رکھ دیا اور ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا تھا۔ زمین کو الٹنے کا مطلب یہ ہے کہ پانی نکالنے معاون برآمد کرنے اور کھیتی باڑی کرنے کے لئے انہوں نے زمین کو کھودا تھا۔” وعمروھا اکثرمما عمروھا “ اور تعمیرات کے حوالے سے اہل مکہ نے کثرت سے تعمیریں کی ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اہل مکہ کو خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کہ اہل مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت نمبر 8-10
کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا (فی انفسھم) ” اپنے آپ پر ؟ “ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی ‘ وہ ہستی جس نے انہیں نطفہ ‘ جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا ‘ پھر اس میں روح پھونکی ‘ پھر اسے بچہ بنایا ‘ اس بچے سے اسے جوان بنایا ‘ پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بےکار چھوڑ دے کہ انہیں کسی چیز کا…
Read the full tafseer →9 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ماضی کی ان قوموں کے جرم تکذیب و انکار اور ان کے آخری انجام کے ذکر وبیان سے تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ لیکن تکذیب و انکارِ حق خود اپنی جانوں پر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر کسی طرح کا کوئی ظلم کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے "۔ مگر وہ لوگ تکذیب وانکارِ حق سے خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ سو دین حق سے منہ موڑنے والا خود اپنی ہی محرومی کا سامان کرتا اور اپنی جان ہی پر ظلم ڈھاتا ہے مگر وہ سمجھتا نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کلمہ حق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
گزرے ہوئے لوگ باعث عبرت
تشریح : یہ آیات نظام قدرت واضح کر رہی ہیں دنیا کے تغیر و تبدل قوموں کے عروج وزوال اور کائنات کے بنانے کا مقصد کیا ہے ؟۔ سلطان بشیر محمود صاحب نے بہت اچھی وضاحت کی ہے لکھتے ہیں ” کائنات میں قیامت کے واقعات اس کی تقدیر ہے۔ اور اپنے اپنے وقت پر یہ واقعات ضرور ہی ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ قیامت ی عوامل (قیامت کی قسمیں) مندرجہ ذیل ہیں۔
1 کسی فرد کی موت ( اس کی قیامت کا آغاز ہے)
2 زمین کے کسی حصہ میں کوئی آفت ناگہانی۔ (کسی قبیلہ یا قوم کی قیامت)
3 کرہ ارض یا شمسی نظام کی مکمل تباہی۔ (یہ تمام نوع انسانی کی قیامت ہوگی)
4 کسی کہکشاں کی تباہی۔ (یہ ہمارے قریبی عالم کی تباہی ہوگی)
5…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة روم۔
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10
اسرارومعارف
رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی اس میں کھیتی باڑی کی اور باغ لگائے اور زمین کو خوب آباد کیا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(30:9) فینظروا۔برائے عطف سببی۔ ینظروا کا عطف یسیروا پر ہے۔ تاکہ وہ دیکھتے۔
اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ سخت۔ قوۃ تمیز ہے یعنی وہ قوت میں شدید تر تھے۔ قوت میں بڑھے ہوئے تھے۔ منصوب بوجہ خبر کانوا۔
اثاروا ماضی جمع مذکر غائب اثارۃ (افعال) مصدر۔ بمعنی ہل جوتنا۔ بونا۔ اثاروا الارض۔ انہوں نے زمین کو جوتا۔ زمین میں ہل چلائے۔ اثار کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو اس طرح متحرک کرنا اور اسے جنبش دیتا ہے کہ اس سے گردو غبار اڑنے لگے۔
اثر۔ نشان ۔ اثر۔ اثارو اثور جمع ۔ علم الآثار۔ اگلی قوموں کی چھوڑی ہوئی یادگاروں کا علم۔
عمروھا : ای عمرو الارض ، عمررا عمارۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب انہوں نے اس کو بسایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔
غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Read the full tafseer →تعلیمات اسلامی عقل پر مبنی ہیں
1: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ وہ اپنی تعلیمات کی بنیاد فکروغور پر رکھتا ہے ۔ اور ہر شخص سے مطالبہ کرتا ہے ۔ کہ وہ سوچے سمجھے اور حقیقت کو خوب اچھی طرح پرکھے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ لوگ محض مرعوب ہوکر اس کو تسلیم کرلیں ۔ اور ان کے دل مطمئن نہ ہوں ۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ طالق حق ہر طرح کے شکوک سے دماغ کو پاک کرلے اور پوری طرح حلاوت ایمان سے بہرہ ور ہو ۔ قرآن حکیم کو اپنے عقائد پر اس درجہ یقین ہے ۔ کہ وہ عقل وخرد کی جانچ کے سوال کو خود پیدا کرتا ہے اور نبرو آزمائی کی دعوت دیتا ہے اس کی رائے میں جہاں تک سچائی اور صداقت کا تعلق ہے ۔ اسکو فطرت اور عقل سے کوئی خطرہ نہیں ہے…
Read the full tafseer →9۔ کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں چلتے پھرتے تو دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا حال یہ تھا کہ وہ ان سے قوت میں بھی زیادہ تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین کو بویا جوتا بھی تھا اور جس قدر ان لوگوں نے سامان اور تعمیرات سے زمین کو آباد کر رکھا ہے انہوں نے ان سے کہیں زیادہ آباد کر رکھا تھا اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبرکھلی اور صاف نشانیاں لیکر آئے تھے پس اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان لوگوں پر ظلم اور زیادتی کرتا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔ یعنی تم سے پہلے ے منکرین بڑے قدر آور اور زورآور تھے کھیتی باڑی بھی خوب کرتے تھے درخت لگاتے…
Read the full tafseer →ف 6۔ کہ انکار رسل کا کر کے مستحق ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →کیا وہ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں کہ ان کو معلوم ہوتا کہ پہلے منکروں کے ساتھ کیا گزری ؟ :
9۔ سیاحت اتنی ضروری ہے چیز ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو جہاد کے برابر درجہ دیا ہے اور قرآن کریم نے (اولم یسیروا) اور (افلم یسیروا) کے الفاظ سات بار استعمال کئے ہیں اور اس طرح حکم دے کر (سیروا) اور (فسیروا) کے الفاظ بھی سات بار کہے ہیں اور پھر آپ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ فقال النبی ﷺ ان سیاحۃ امتی الجھاد فی سبیل اللہ عزوجل بلاشبہ سیاحت میری امت کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد ہے ۔ (رواہ ابو داؤد باسناد جید) ہاں ! بلاشبہ جانوروں کی طرح آوارہ پھرتے رہنے کا نام سیاحت نہیں اور نہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ (Have they not travelled on earth - 30:9). It means that the Makkans live in a land where there is neither any cultivation and industry nor any tall and beautiful buildings, but for the sake of trade they do travel to Syria and Yemen. So, have they not seen, during the course of their trips, what was the fate of the earlier people, whom Allah Ta’ ala had endowed with skills to make use of the land? For instance, they had the skill to draw underground water by excavating the earth for irrigating fields and gardens, and dig out concealed precious minerals,…
Read the full tafseer →8 This is an historical argument for the Hereafter. It means this: "The Hereafter has not been denied only by a couple of the people in the world, but a large number of them have been involved in this disbelief in human history. Even there have been entire nations which either denied it altogether or lived heedless of it, or invented such false beliefs about life-after-death as rendered the concept of the Hereafter meaningless. Then the continuous experience of history reveals that in whatever form the Hereafter has been denied, its inevitable result has been that the people became corrupted…
Read the full tafseer →