Ayah 30:2غلبت الروم۔ رومی مغلوب ہوگئے۔
Ayah 30:3فی ادنی الارض قریب ترین زمین میں
اَدْنَی الْاَرْضِ سے مراد ہے سرزمین عرب کا وہ حصہ جو رومیوں کے علاقہ کے قریب ہے یا رومیوں کی وہ سرزمین جو ارض عرب کے قریب ہے۔ الْاَرْضِ میں الف لام عہدی ہے اور عربوں کے نزدیک ارض معہود انہی کی سرزمین تھی (اس لئے اول قول صحیح ہے) یا الْاَرْضِ میں الف لام مضاف الیہ کے عوض آیا ہے اس لئے دوسرا قول صحیح ہے۔
عکرمہ نے کہا : اَدْنَی الْاَرْضِ سے اذرعات اور کسکر مراد ہے (یہ دونوں علاقے شام کے تھے) مجاہد نے کہا : ارض جزیرہ مراد ہے (دوسری روایت میں) مجاہد کا قول آیا ہے کہ اردن اور فلسطین مراد ہے۔
وھم من بعد غلبھم سیغلبون . اور وہ (رومی) مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
Ayah 30:4فی بضع سنین . چند سال میں۔ بِضْعٌ کا اطلاق تین سے نو تک یا سات تک یا دس سے کم پر ہوتا ہے۔ جوہری نے لکھا ہے کہ دس کے ساتھ (نیز دس سے کم کے لئے) تو لفظ بِضْع اور بِضْعَۃ کا استعمال ہوتا ہے بیس سے اوپر (کی اکائیوں پر) اس کا اطلاق نہیں ہوتا ‘ لیکن جوہری کا یہ قول استعمال حدیث کے خلاف ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے : اَلْاِیْمَان بضعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعبَۃً ایمان کی کچھ اوپر ستر شاخیں ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ فارس اور روم میں جنگ تھی۔ مشرک دل سے چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ فارس والے مجوسی تھی ‘ ان کے پاس کوئی آسمان کتاب نہیں تھی اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی فتح یاب ہوجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے۔ کسریٰ پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں نے ایک لشکر روم کی طرف بھیجا جس کی قیادت شہر یزاد کے سپرد کی اور قیصر نے ایک لشکر یحیس کی زیرسر کردگی روانہ کیا۔ دونوں فوجوں کا مقابلہ اذرعات علاقہ شام وبصریٰ کے مقام پر ہوا (یہ شامی علاقہ ارض عرب کے بہت قریب تھا اور عجم سے بھی قریب تھا) آخر میں فارس والے رومیوں پر غالب آگئے۔ مسلمانوں کو مکہ میں اس کی اطلاع پہنچی تو ان کو بڑا رنج ہوا ‘ اور کفار مکہ اس خبر کو سن کر بہت خوش ہوئے اور مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہل کتاب ہو اور عیسائی بھی اہل کتاب ہیں اور ہم اُمّی (یعنی بےکتاب) ہیں ‘ ہمارے فارسی بھائی تمہارے رومی بھائیوں پر غالب آگئے۔ اگر تم ہم سے لڑو گے تو ہم بھی تم پر غالب آجائیں گے۔ اس وقت اس آیت کا نزول ہوا۔ نزول آیت کے بعد حضرت ابوبکر کفار کے پاس گئے اور فرمایا : اب تو تم اپنے بھائیوں کے غالب آجانے سے بہت خوش ہو لیکن وا اللہ ! عنقریب رومی فارسیوں پر غالب آجائیں گے ‘ ہمارے نبی ﷺ نے ہم کو اس کی اطلاع دے دی ہے۔ اُبی بن خلف جمحی بولا : تم جھوٹے ہو۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : دشمن خدا تو بڑا جھوٹا ہے۔ اُبی نے کہا : ہمارے درمیان ایک معین مدت کی شرط کرلو ‘ میں دس اونٹنیوں کی شرط باندھتا ہوں۔ اگر رومی فارس والوں پر غالب آگئے تو میں تاوان (یعنی دس اونٹنیاں) تم کو دوں گا اور اگر فارس والے رومیوں پر غالب رہے تو تم کو تاوان ادا کرنا ہوگا۔ شرط طے ہوگئی اور تین سال کی میعاد مقرر کردی گئی۔ حضرت ابوبکر نے خدمت گرامی ﷺ میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کردیا (یہ واقعہ قمار کی حرمت سے پہلے کا ہے) رسول اللہ نے فرمایا : میں نے تو یہ نہیں بیان کیا تھا ‘ بِضْع تو تین سے نو تک ہوتا ہے۔ اب تم مال کی مقدار میں اضافہ کر دو اور میعاد بڑھا دو ۔ حضرت ابوبکر خدمت گرامی ﷺ سے واپس آئے ‘ اُبی سامنے دکھائی دیا۔ اُ بی نے کہا : اب تو شاید تم کو پشیمانی ہوئی ہوگی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : پشیمانی نہیں بلکہ میں تو مال کی مقدار بڑھانا اور میعاد مقرر میں توسیع کرنا چاہتا ہوں۔ چناچہ سو سو اونٹنیوں کی شرط ہوگئی اور نو سال کی مدت مقرر ہوئی۔ بعض روایات میں سات سال کی میعاد آئی ہے۔ اُبی نے کہا : میں نے مان لیا۔ کچھ مدت کے بعد ابی بن خلف کو جب یہ اندیشہ ہوا کہ ابوبکر مکہ سے چلے جائیں گے تو آکر آپ سے چمٹ گیا اور بولا : مجھے اندیشہ ہے کہ تم مکہ سے چلے جاؤ گے اس لئے اپنا کوئی ضامن دو (کہ جب میں شرط جیت جاؤں تو اس سے مال شرط وصول کرلوں) حضرت ابوبکر نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو ضامن بنا دیا۔ حضرت عبد اللہ ضامن ہوگئے۔
اس کے بعد ابی بن خلف (مسلمانوں کے مقابل) احد کی جنگ میں گیا اور مقابلہ کے وقت رسول اللہ کے ہاتھ سے زخمی ہو کر مکہ میں آکر مرگیا۔ ادھر حدیبیہ کے دن رومی فارس پر غالب آگئے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ بدر کے دن رومیوں کا فارسیوں پر غلبہ ہوا۔ یہ واقعہ یوم شرط سے ساتویں سال کے سرے پر پیش آیا۔
شعبی نے لکھا ہے کہ یہ مقررہ مدت گزرنے نہیں پائی تھی کہ رومی فارس والوں پر غالب آگئے ‘ اور اپنے گھوڑے مدائن (ایرانیوں کی عراقی راجدھانی) میں لے جا کر باندھ دئیے (حرمت قمار سے پہلے کا یہ قصہ ہے) حضرت ابوبکر بھی ابی بن خلف سے جیت گئے اور ابی بن خلف کے وارثوں سے آپ نے شرط کا مال وصول کرلیا اور خدمت گرامی ﷺ میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی خیرات کر دو ۔ ترمذی نے بھی حضرت ابوبکر کی روایت سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔
مسئلہ :۔ حضرت ابوبکر کے اس قصہ سے استدلال کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ دارالحرب میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان تمام عقود فاسدہ جیسے سود کا لین دین وغیرہ جائز ہیں ‘ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ حربی کافروں کا مال ہر طرح سے لینا جائز ہے بشرطیکہ ذمہ داری کی شکست نہ ہو۔ کافروں کو امان دے کر ان کا مال لینا جائز نہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حسب بیان عکرمہ رومیوں کی فارس والوں پر غالب آنے کی صورت یہ ہوئی کہ شہر یزاد رومیوں پر غالب آیا اور ان کے شہروں کو روندھتا اجاڑتا ہوا خلیج تک پہنچ گیا۔ ایک روز شہریزاد کا بھائی فرخان شہریزاد کے تخت پر بیٹھا شراب پی رہا تھا کہ (مستی کی حالت میں) اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں کسریٰ کے تخت پر بیٹھنے والا ہوں۔ یہ بات کسریٰ تک پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہیزاد کو لکھا کہ جس وقت میری یہ تحریر تم کو پہنچے ‘ فوراً فرخان کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دو ۔ شہریزاد نے جواب میں لکھا : بادشاہ سلامت ! فرخان کے بڑے کارنامے ہیں اور دشمنوں پر اس کی دھاک ہے ‘ آپ کو ایسا شخص نہیں ملے گا۔ کسریٰ نے دوبارہ لکھا : فارس میں اور بہت سے لوگ ہیں جو اس سے بہتر ہیں ‘ فوراً میرے پاس اس کا سر بھیج دو ۔ شہریزاد نے اس کا بھی ایسا ہی جواب لکھ دیا جس سے کسریٰ غضب ناک ہوگیا اور شہریزاد کو پھر کچھ نہیں لکھا بلکہ فوج کے پاس ڈاک سے یہ حکم بھیج دیا کہ میں نے شہریزاد کو ہٹا کر اس کی جگہ تمہارا آفیسر فرخان کو بنا دیا ‘ پھر ایک چھوٹا سا پرچہ ڈاک لے جانے والے کو الگ سے دے دیا جس میں شہریزاد کو قتل کردینے کا حکم لکھا ہوا تھا اور ڈاک والے سے کہا کہ جب فرخان حکومت کا چارج لے لے اور اس کا بھائی اس کی اطاعت کرلے تو اس وقت یہ پرچہ فرخان کو دے دینا۔ غرض شاہی حکم ملنے کے بعد شہریزاد نے بسروچشم اس کو قبول کیا اور تخت سے اتر آیا ‘ اس کی جگہ فرخان بیٹھ گیا۔ اس وقت ڈاک والے نے وہ پرچہ فرخان کو دیا ‘ فرخان نے فوراً شہریزاد کو بلوانے کا حکم دیا اور گردن مار دینے کے لئے پیشی میں طلب کیا۔ شہریزاد نے کہا : جلدی سے کام نہ لیجئے ‘ مجھے اتنی مہلت دیجئے کہ میں وصیت نامہ لکھ دوں۔ فرخان نے کہا : اچھا۔ شہریزاد نے بستہ منگوایا اور اس میں سے تین تحریریں نکال کردکھائیں اور فرخان سے کہا : میں نے آپ کے سلسلے میں کسریٰ سے یہ ساری مراسلت کی تھی اور آپ صرف ایک تحریر ملنے پر مجھے قتل کرانا چاہتے ہیں۔ فرخان نے فوراً اقتدار حکومت شہریزاد کو واپس کردیا۔
اس کے بعد شہریزاد نے قیصر روم کو لکھا : مجھے آپ سے کام ہے ‘ لیکن وہ نہ پیام رساں کی معرفت زبانی کہلوایا جاسکتا ہے ‘ نہ تحریراً اس کو پہنچایا جاسکتا ہے ‘ ملاقات ہی ضروری ہے۔ اس لئے میری خواہش ہے کہ آپ پچاس رومیوں کو ساتھ لے کر مجھ سے ملئے ‘ میرے ساتھ بھی اس وقت صرف پچاس ایرانی ہوں گے۔ قیصر نے بات مان لی اور پچاس رومیوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگیا لیکن اس کو اندیشہ لگا ہوا تھا کہ شاید شہریزاد نے کوئی فریب کیا ہو اس لئے اپنے آگے آگے اس نے کچھ جاسوس بھیج دئیے تاکہ صحیح اطلاع بہم پہنچائیں۔ جاسوسوں نے آکر کہا کہ شہریزاد کے ساتھ بھی صرف پچاس آدمی ہیں۔ قیصرروم شہریزاد کی جانب چل دیا۔ پھر دونوں کے لئے ایک ریشمی خیمہ لگوایا گیا اور دونوں کی ملاقات اس طرح ہوئی کہ ہر ایک کے پاس خنجر تھا اور دونوں کے درمیان ترجمان تھا۔ شہریزاد نے کہا : آپ کے شہر جن لوگوں نے ویران کئے ‘ وہ میں اور میرا بھائی ہیں۔ ہم نے ہی اپنی تدبیر اور بہادری سے آپ کا ملک اجاڑا ‘ اس سے کسریٰ کو ہم پر حسد ہوگیا اور اس نے میرے بھائی کو میرے ہاتھ سے قتل کرا دینا چاہا ‘ میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو کسریٰ نے میرے بھائی کو حکم دیا کہ وہ مجھے قتل کر دے۔ ہم دونوں ساتھ پیدا ہوئے ہیں ( اس لئے ایک کے قتل ہوجانے سے دوسرا مر ہی جائے گا) اب ہم آپ کے ساتھ مل کر کسریٰ سے لڑنا چاہتے ہیں۔۔ قیصر نے کہا : تم نے ٹھیک کیا۔ پھر ایک نے دوسرے سے (اشارۃً ) کہا کہ راز دو آدمیوں کے درمیان رہتا ہے ‘ جب دو سے آگے بڑھتا ہے تو پھیل جاتا ہے۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے خنجروں سے ترجمانوں کو قتل کردیا ‘ اس وقت سے رومیوں کا فارسیوں پر غلبہ ہوگیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر رومیوں نے ایرانیوں کو قتل کردیا۔ کسریٰ بھی مرگیا اور رسول اللہ کے پاس اس کی اطلاع صلح حدیبیہ کے روز پہنچی جس کو سن کر مسلمان اور خود حضور ﷺ خوش ہوئے۔ اسی قصہ کی طرف غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ الخ میں اشارہ کیا گیا ہے۔
بعض قرأتوں میں غَلَبَتِ الرُّوْمُ وَمِنْم بَعْدِ غَلَبَتِھِمْ سَیُغْلَبُوْنَ آیا ہے ‘ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ رومی ارض فارس پر غالب آگئے لیکن اس غلبہ کے بعد عنقریب مغلوب ہوں گے یعنی مسلمان ان پر غالب آجائیں گے۔ چناچہ غلبۂ روم سے نویں سال مسلمانوں نے جنگ کر کے رومیوں کے کچھ شہر فتح کر لئے۔ اس قرأت کی تائید اس بیان سے ہوتی ہے جو ترمذی نے حضرت ابوسعید کی روایت سے نقل کیا ہے کہ بدر کے دن رومی ایرانیوں پر غالب آگئے اور مسلمان اس سے خوش ہوئے ‘ اس پر آیت الم غَلَبَتِ الرَّوْمُ الخ نازل ہوئی۔
ابن جریر نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اسی طرح نقل کیا ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے ‘ متواتر قرأت اول ہی ہے۔ شاید رسول اللہ کو وحی غیرمتلو کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوگئی ہو کہ اب تو رومی فارسیوں پر غالب آگئے لیکن عنقریب یہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اس اطلاع کے بعد حضور ﷺ نے آیت کو اس طرح پڑھ دیا جو حضرت ابوسعید کی قرأت میں آیا ہے۔
اللہ الامر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المؤمنون پہلے پیچھے اللہ ہی کا حکم چلتا ہے اور اس روز مؤمن خوش ہوں گے۔
Ayah 30:5بنصر اللہ . اللہ کی مدد سے یا اللہ کی عنایت کردہ فتح کی وجہ سے یعنی رومیوں کے غالب آنے سے پہلے اور رومیوں کے غالب آنے کے بعد بہرحال اللہ ہی کا حکم نافذ ہے۔ کوئی بات اس کے فیصلے اور اندازے کے بغیر نہیں ہوتی۔
یَوْمَءِذٍ یعنی جس روز رومیوں کو فارسیوں پر غلبہ حاصل ہوگا۔
بِنَصْرِ اللہ کہ اللہ نے اہل کتاب کو ان لوگوں پر فتح عنایت کی جو اہل کتاب نہیں۔ یعنی مؤمنوں نے جو بات مشرکوں سے کہی تھی ‘ اللہ نے اس کو سچ کر دکھایا اور شرط میں ان کو غالب کردیا اور ان کے یقین و ثبات کو مزید استحکام عطا فرمایا۔
سدی نے کہا : رسول اللہ کو اس بات سے خوشی ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان مشرکوں پر غالب آئے اور اہل کتاب کو ان لوگوں پر غلبہ حاصل ہوا جو کتابی نہیں ہیں۔
جلال الدین محلی نے کہا کہ رومیوں کی فتح بدر کے دن ہوئی ‘ اسی روز مسلمانوں کو حضرت جبرئیل کے ذریعہ سے خبر مل گئی اور مسلمانوں کو دوہری خوشی حاصل ہوئی ‘ ایک تو بدر میں مشرکوں پر فتح پا کر ‘ دوسری رومیوں کے ایرانیوں پر غلبہ کی خبر پا کر۔
ینصر من یشاء . اللہ جس کو چاہتا ہے فتح یاب کرتا ہے۔ یعنی کبھی ایک فریق کو کبھی دوسرے فریق کو۔
وھو العزیز . اور وہی غالب ہے۔ دوسروں کو غالب کر کے اپنے (بعض) بندوں کو سزا دیتا ہے۔
الرحیم . وہی رحمت والا ہے۔ مغلوبوں کو اپنی رحمت اور فضل سے غالب کردیتا ہے۔
Ayah 30:6وعد اللہ . اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ مغلوب ہونے کے بعد رومی غالب آئیں گے۔
لا یخلف اللہ وعدہ . وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کے کلام میں کذب ناممکن ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون . لیکن اکثر لوگ (یعنی کفار مکہ اس کے وعدہ کو اور وعدہ کی سچائی کو) نہیں جانتے۔
Ayah 30:7یعلمون ظاہرًا من الحیوۃ الدنیا . یہ لوگ دنیا کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں۔ یعنی اپنے امور معاش سے
واقف ہیں کہ کیسے کمائی کریں ‘ کیسے تجارت کریں ‘ کیسے کھیتی باری کریں وغیرہ۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون . اور آخرت کی طرف سے وہ بالکل غافل ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں آخرت کا
خیال بھی نہیں آتا ‘ دوسرا ھُمْ پہلے ھُمْ کی تاکید ہے۔ اس جملہ سے سابق جملہ لاَ یَعْلَمُوْنَ کی تاکید ہو رہی ہے ‘ گویا کافروں کو جانوروں سے تشبیہ دی جن کو دنیا کی یزوں کا ظاہری علم بھی پورا نہیں ہوتا ‘ صرف بعض چیزوں کا ہوتا ہے۔ اشیاء حقیقت ‘ خصوصیات ‘ نتائج ‘ اسبب ‘ افعال اور صفات ‘ افعال کا اسباب سے صدور اور کیفیت صدور نیز اشیاء میں تصرفات ‘ ناقص طور پر کسی جانور جانتے ہیں اسی لئے ظَاھِرًا کو بصورت نکرہ ذکر کیا۔ رہا دنیا کا اندرونی علم ‘ یعنی یہ جاننا کہ دنیا آخرت کی گزرگاہ ہے ‘ حصول آخرت کا ذریعہ ہے اور احوال آخرت کا نمونہ ہے ‘ اس سے تو جانور قطعاً ناواقف ہیں اسی طرح کافر بھی اس علم سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ آیت سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ دنیا کا ظاہری کچھ علم عدم علم کی طرح (بےمقدار) ہے۔
Ayah 30:8اولم یتفکروا فی انفسم . کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا۔
یعنی کیا انہوں نے اپنے علم کو صرف ظاہری دنیا پر منحصر رکھا اور دلوں کے اندر باطن پر غور نہیں کیا کہ ان پر دنیا کے اندرونی گوشوں کا انکشاف ہوتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے کیا اپنے نفسوں کے متعلق غور نہیں کیا باوجودیکہ ان کے نفوس ان سے اتنے قریب ہیں کہ دوسری کوئی چیز اتنی قریب نہیں۔ اپنے نفس کے اندر غور کرنے والے کو وہ انکشافات ہوتے ہیں جو سارے عالم امکان پر غور کرنے والے کو ہوتے ہیں۔ انسان عالم صغیر ہے (اور عالم کبیر کا نمونہ ہے) اگر وہ اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا اور وہ کہہ اٹھتے کہ
ما خلق اللہ السمٰوٰت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمیً . اللہ نے آسمان اور زمین اور ان کی درمیانی کائنات کو برحق ہی پیدا کیا ہے (یعنی حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے) اور یہ مقرر مدت (بقاء) کو (اپنے ساتھ) لئے ہوئے پیدا کئے گئے ہیں۔ یعنی بےکار ‘ لاحاصل ‘ بغیر کسی کامل حکمت کے نہیں پیدا کئے اور ان کی تخلیق دوامی نہیں ہے بلکہ ان کا ایک خاص مدت کے لئے ہے ‘ اس کے بعد قیامت آجائے گی اور حساب فہمی کا وقت آپہنچے گا اور سزا جزا دی جائے گی۔ اللہ نے فرمایا : اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ کیا تم یہ خیال کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کیا اور ہماری طرف تم کو نہیں لوٹایا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ کی طرف بازگشت نہ ہو اور اللہ سب کو یوں ہی چھوڑ دے تو تخلیق بےکا رہے ‘ لاحاصل ہے۔
نظام عالم پر غور کرنے والے جانتے ہیں کہ اس کا خالق حکیم ہے اور حکیم بےکار کام نہیں کرتا ‘ تخلیق عالم کی حکمت خالق کی ذات وصفات کی معرفت ہے۔ اب اگر قیامت نہ آئے اور جزا سزا نہ ملے تو عارف و کافر دونوں برابر ہیں۔ اس کائنات پر غور کرنے والا ہی آخرت کو جانتا ہے اور علم آخرت حاصل ہونے کے بعد اس کے دل سے غفلت دور ہوجاتی ہے۔
وان کثیرًا من الناس بلقآی ربھم لکفرون . اور بہت آدمی (یعنی کفار مکہ اپنی حماقت اور عدم تدبر کی وجہ
سے) اپنے رب سے ملنے (یعنی دنیا کے ختم ہونے کے بعد جزا سزا پانے) کے بلاشبہ منکر ہیں۔
یعنی وہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ رہے گی ‘ نہ قیامت آئے گی ‘ نہ حساب کتاب ‘ نہ جزا سزا۔
Ayah 30:9اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم . (کیا کفار مکہ ‘ مکہ سے باہر نکلے) اور ملک میں چل پھر کر انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے (کفار) کا انجام کیسا (عبرت انگیز) ہوا۔ یعنی یہ لوگ باہر سفر پر گئے ہیں اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ان سے پہلے والے کفار جنہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی ‘ تکذیب انبیاء کی ہی وجہ سے تباہ کر دئیے گئے۔ پچھلے کافروں کے فرسودہ نشانات یہ دیکھ چکے ہیں۔
کانوا اشد منھم قوۃ واثاروا الارض و عمروھا اکثرمما عمروھا . وہ لوگ ان سے زیادہ قوت والے تھے انہوں نے زمین کو الٹ کر رکھ دیا اور ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا (بڑی بڑی اونچی عمارتیں بکثرت بنائی تھیں) ۔ زمین کو الٹنے کا یہ مطلب ہے کہ پانی نکالنے ‘ معاون برآمد کرنے اور کھیتی کرنے کے لئے انہوں نے زمین کو کھودا تھا۔
اہل مکہ ایسی زمین پر آباد تھے جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوسکتی تھی ‘ بالکل وادی غیر ذی زرع تھی ‘ ادھر ادھر ان کا پھیلاؤ نہ تھا۔ آیت میں ایک طرح کا طعن ہے مکہ والوں پر کہ وہ دنیا پر ریجھے ہوئے ہیں ‘ فریفتہ ہیں ‘ غرور سے سرمست ہیں باوجود یہ کہ ان کا حال کمزور ہے ‘ دنیا کی فراخی ان کو حاصل نہیں۔ دنیا نام ہے وسعت ملک کا ‘ تسلط عام کا ‘ تعمیرات کی کثرت کا اور ان کو کچھ بھی میسر نہیں ‘ ان کی بستی میں کسی چیز کی پیداوار نہیں۔ اگر موسم سرما و گرما میں یمن و شام کا سفر نہ کریں اور وہاں سے غلہ ‘ کپڑا نہ لائیں تو بھوکے ننگے مرجائیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود اپنی حقیر دنیا پر پھولے نہیں سماتے۔
وجآء تھم رسلھم بالبینٰت . اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزات لے کر پہنچے۔
لیکن انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ ان کو جھوٹا قرار دیا۔ آخر اللہ نے ان کو تباہ کردیا ‘ مٹا دیا۔
فما کان اللہ لیظلمھم ولکن کانو انفسھم یظلمون . سو اللہ ایسا تو نہیں کہ ان پر ظلم کرتا (اور بےقصور ان کو تباہ کردیتا) بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (کہ ہلاکت میں خود انہوں نے اپنے آپ کو ڈال دیا) ۔
Ayah 30:10ثم کان عاقبۃ الذین اساء وا السوای . پھر (یعنی تباہی اور ہلاکت کے بعد) ان لوگوں کا انجام جنہوں نے بدی کی تھی ‘ بہت برا ہوا۔
اَلسُّوْٓای ‘ اَسْوَءُ کا مؤنث ہے اور اَسْوَءُ اسم تفضیل ہے جیسے حُسْنٰی اَحسَن کا مؤنث ہے یعنی بدترین عذاب یا بُشْرٰی کی طرح سُوَای مصدر ہے بطور مبالغہ صیغۂ صفت کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے جنت کے ناموں میں سے حسنی ایک نام ہے۔
ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزء ون . اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو جھٹلایا تھا اور ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان بدکاروں کا انجام برا ہوا ‘ انہوں نے اللہ کے احکام کی تکذیب کی۔ یعنی بدکاریوں نے ان کو اس بات پر آمادہ کردیا کہ وہ اللہ کے احکام کے منکر ہوگئے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہی کا ایک نکتہ پیدا ہوجاتا ہے ‘ پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے اور گناہ سے نکل آتا ہے اور مغفرت کا طلبگار ہوجاتا ہے تو (دل سے وہ سیاہ نکتہ دور ہوجاتا ہے) دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر مزید گناہ کرتا رہا تو سیاہی کا نکتہ بھی بڑھتا رہا ہے یہاں تک کہ (پورے) دل پر سیاہی چڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ‘ اور فرمایا : بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ بلکہ جو اعمال وہ کرتے تھے ان کا زنگ ان کے دلوں پر چڑھ گیا۔ رواہ احمد والترمذی والنسائی۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان گناہ گاروں کا انجام یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر چھاپ لگا دی یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کے احکام کی تکذیب کی۔
اللہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون . اللہ ہی مخلوق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر اسی کے پاس واپس لائے جاؤ گے۔
Ayah 30:11اَﷲُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ یعنی اللہ ہی شروع میں پیدا کرتا ہے۔
ثمَُّ یُعِیْدُہٗ پھر مرنے کے بعد وہی زندہ کر کے اٹھائے گا۔
ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجِعُوْنَ پھر جزا سزا کے لئے اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہوگا۔
Ayah 30:12ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون . اور جس روز قیامت برپا ہوگی (اس روز) مجرم ناامید ہوں گے۔
قتادہ اور کلبی نے کہا : ہر بھلائی سے ناامید ہوں گے۔ مجاہد نے کہا : رسوا ہوں گے۔ فراء نے کہا : ان کا کلام اور عذر منقطع ہوجائے گا۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے : بَلَسٌ وہ شخص جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ مُبْلِس وہ شخص جو اپنے دل کی بات دل میں گھوٹے رکھے اور چپ ہو۔ اَبْلَسَ ناامید ہوگیا ‘ ہکابکا ہوگیا۔ اسی سے لفظ ابلیس بنا ہے ‘ یا ابلیس عمجی لفظ ہے۔ جزری نے النہایہ میں لکھا ہے کہ غم یا خوف کی وجہ سے جو شخص خاموش ہو ‘ اس کو مُبْلِس کہا جاتا ہے۔ اِبْلاس متحیر ہونا۔
Ayah 30:13ولم یکن لھم من شرکاءھم شفعوا . اور جن کو انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا۔
یعنی اللہ کی عبادت میں جن کو انہوں نے اس خیال سے شریک قرار دے لیا تھا کہ وہ معبود ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے تو (ان کا یہ خیال غلط نکلے گا اور) کوئی شریک بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گا۔ چونکہ آنے والا یہ واقعہ یقینی ہے اس لئے بصیغۂ ماضی بیان کیا۔
وکانوا بشرکاءھم کفرین . اور وہ اپنے (بنائے ہوئے) شرکاء کے منکر ہوجائیں گے۔ یعنی شفاعت سے
نراس ہوجائیں گے تو اپنے معبودوں کا انکار کردیں گے۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا میں وہ اپنے ان شرکاء کی وجہ سے کافر ہوئے تھے۔
Ayah 30:14ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون . اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز (لوگ) فریق فریق ہوجائیں گے۔ مقاتل نے کہا کہ حساب کے بعد فریق فریق ہوجائیں گے۔ مؤمنوں کو جنت کی طرف اور کافروں کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا ‘ پھر یہ دونوں فریق کبھی جمع نہیں ہوں گے۔ اس کی تفصیل اگلی آیت میں کی گئی ہے۔
Ayah 30:15فما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحبرون . سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک
کام کئے وہ باغ میں مسرور ہوں گے۔
فِیْ رَوْضَۃٍ یعنی جنت کے چمن میں جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھول کھلے ہوں گے۔
یُحْبَرُوْنَ کا ترجمہ حضرت ابن عباس نے کیا : ان کی عزت کی جائے گی۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : عیش میں ہوں گے۔ ابوعبیدہ نے کہا : وہ خوش ہوں گے۔ حَبرَۃٌ کا معنی ہے خوشی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حبرَۃٌ ہر اچھی نعمت کو کہتے ہیں اور تحبیر کا معنی ہے خوبصورت بنا دینا (آراستہ کرنا) ۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے : حَبرَۃٌ بفتح حاء نعمت اور خوش حالی۔ حَبرَۃٌ بکسر حاء نیز بفتح حاء خوبصورتی اور حسن شکل۔ صاحب قاموس نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابوموسیٰ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور میری قرأت کو سن رہے ہیں تو میں تحبیر سے کام لیتا ‘ یعنی مزید خوش آواز سے پڑھتا۔
بغوی نے بروایت اوزاعی یحییٰ بن کثیر کا قول نقل کیا ہے کہ یُحْبَرُوْنَ جنت کے آسمان کا نام ہے۔ ہناد اور بیہقی کی روایت میں بھی یحییٰ بن کثیر کا یہ قول آیا ہے۔
اوزاعی کا بیان ہے : جب وہ گانا شروع کرتا تو جنت کا کوئی درخت بغیر سرسبز ہونے نہیں رہتا۔ یہ بھی امام اوزاعی کا بیان ہے کہ اللہ کی کوئی مخلوق اسرافیل سے زیادہ خوش آواز نہیں۔ جب وہ گانا شروع کرتا ہے تو ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کی نماز اور تسبیح ختم ہوجاتی ہے۔
ابن عساکر نے اوزاعی کا بیان نقل کیا ہے : یُحْبَرُوْنَ گانا ہے جب جنت والے کچھ طرب حاصل کرنا چاہتے ہیں (یعنی گانا سننا چاہتے ہیں) تو اللہ جنت کی ہوا کو جس کو عفافہ کہا جاتا ہے ‘ حکم دیتا ہے اور عفافہ حسب الحکم تازہ موتیوں کے نیستاں میں داخل ہو کر اس کو حرکت دیتی ہے اور نیستاں کے درخت باہم لگ کر بجتے ہیں جس سے اہل جنت کو سماع کا لفظ آتا ہے۔ جب وہ درخت بجتے ہیں تو جنت کا ہر درخت ورزق پوش ہوجاتا ہے۔
طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو بندہ بھی جنت میں داخل ہوگا اس کے سرہانے اور پائنتی دو (2) حوریں بیٹھی ایسی خوش آوازی سے گائیں گی جو کسی جن یا انسان نے نہ سنی ہوگی۔ وہ شیطانی گانا نہ ہوگا بلکہ اللہ کی حمد و تقدیس ہوگی۔
میں کہتا ہوں : گانے سے اور شعر سے اس دنیا میں لذت اندوزی کے لئے تین باتوں کی ضرورت ہے : اشعار میں محبوب کا ذکر ہو ‘ کلام موزوں ہو اور آواز میں حسن ہو ‘ لیکن جنت والوں کے لئے اللہ سے بڑی مرغوب تو کوئی چیز نہ ہوگی ‘ اس کے جمال سے زیادہ کسی کا حسن بھی نہیں ہے اس لئے جب اس کے دیدار سے بہرہ ور ہوں گے تو اسی کی یاد خوش الحانی کے ساتھ سن کر لذت اندوز ہوں گے۔
بعض احادیث میں آیا ہے کہ غزالہ چشم حوریں اپنے شوہروں کے سامنے ایسی حسین آوازوں سے گائیں گی جن کی مثل کسی نے کوئی گانا کبھی نہ سنا ہوگا۔ روایت میں آیا ہے کہ منجملہ دوسرے کلام کے یہ اشعار بھی گائیں گی ‘ ترجمہ : ہم سب سے اعلیٰ ہیں ‘ ہم عزت والے لوگوں کی بیبیاں ہیں ‘ ہم ہمیشہ رہیں گی ‘ کبھی نہیں مریں گی ‘ ہم امن میں رہیں گی ‘ ہم کو کسی بات کا ڈر نہ ہوگا ‘ ہم یہاں مقیم رہیں گی ‘ کبھی یہاں سے کوچ نہیں کریں گی۔ امام احمد نے الزہد میں مالک بن دینار کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ حضرت داؤد سے فرمائے گا : اسی خوش آوازی کے ساتھ میری مجد بیان کرو۔ داؤد ایسی آواز سے گانا شروع کردیں گے جو جنت کی ساری نعمتوں پر غالب آجائے گی۔
اصبہانی نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ اللہ جنت کے درخت کو حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو گانا سنا جنہوں نے میری یاد میں تمام گانوں اور باجوں کو چھوڑ رکھا تھا۔ درخت اللہ کی تسبیح و تقدیس ایسی آواز سے گائے گا جس کی مثل کسی مخلوق نے کبھی نہیں سنی ہوگی۔
اس موضوع کی احادیث بکثرت ہیں۔ حکیم نے نوادر الاصول میں حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے (دنیا میں) گانے کی آواز سنی ‘ اس کو روحانیات کی آواز سننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! روحانی کون ؟ فرمایا : اہل جنت کے سامنے پڑھنے والے۔
دینوری نے مجاہد کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ اپنی آوازوں کو اور کانوں کو بیہودہ گانوں اور شیطانی مزامیر سے پاک رکھتے ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ ان کو مشکی باغوں میں قیام پذیر کرے گا اور فرشتوں کو حکم دے گا کہ میرے بندوں کو میری ثناء و مجد سناؤ اور ان کو اطلاع دے دو کہ آئندہ ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا ‘ نہ یہ غمگین ہوں گے۔ دیلمی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بھی یہ بیان اسی طرح نقل کیا ہے۔
Ayah 30:16واما الذین کفروا وکذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ فاولئک فی العذاب محضرون . اور جن
لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا ‘ وہی لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ آخرت سے مراد ہے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا۔ مُحْضَرُوْنَ یعنی عذاب میں داخل کئے جائیں گے ‘ عذاب سے کبھی غیرحاضر نہیں ہوں گے۔
Ayah 30:17فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو جیسی اس کے لئے زیبا ہے شام کے وقت اور صبح کے وقت
Ayah 30:18ولہ الحمد فی السمٰوٰت والارض وعشیًا وحین تظہرون . اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے اور (پاکی بیان کرو) پچھلے پہر اور ظہر کے وقت۔
فَسُبْحَانَ اللہ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق (بیان نوع کے لئے) ہے اور فاء کا ما بعد نیتجہ ہے ماقبل کا یعنی اللہ ہی جب خالق اول اور معید آخر ہے تو اس کی تسبیح بیان کرو۔ تسبیح سے نماز مراد ہے۔
حِیْنَ تُمْسُوْنَ جب تم وقت شام میں داخل ہوجاتے ہو ‘ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ تاریخ اور مہینوں کا حساب کرنے کے لئے شرعاً رات پہلے آتی ہے جس کا آغاز مغرب سے ہوتا ہے اس لئے نماز مغرب کا پہلے ذکر کیا۔ اللہ کے فضل سے دن سلامتی سے گزر گیا اور اللہ نے اپنی فطری (عام اور خصوصی) نعمتوں سے بہرہ اندوز کیا اور رات خیر و عافیت کے ساتھ آگئی اس لئے ادائے شکر کیلئے نماز پڑھنی لازم ہے۔
وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ اور جب تم صبح کرتے ہو یعنی فجر کی نماز پڑھو۔ رات سلامتی اور چین سے گزر گئی اور دن کسب معاش و معاد کے لئے آگیا۔ مغرب کے مقابلہ میں صبح کا ذکر کیا کیونکہ شام و صبح کا باہم تقابل فطری ہے۔
وَلَہُ الْحَمْدُ حضرت ابن عباس نے فرمایا : آیت کی مراد یہ ہے کہ تمام باشندگان ارض و سماء اللہ کی حمد (تکوینی طور پر ‘ مترجم) کرتے اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
وَعَشِیًّا اور پچھلے پہر ‘ آخر نہار ‘ اس سے مراد ہے عصر کی نماز۔ عَشی العْین آنکھ کی روشنی کم ہوگئی (اس وقت سورج کی بھی روشنی گھٹ جاتی ہے) یہ وقت بازاری کاروبار اور مشاغل میں مصروف ہونے کا زیادہ ہوتا ہے اس لئے دنیوی مشاغل میں غرق نہ ہوجانا چاہئے بلکہ نماز پڑھنا بھی ضروری ہے تاکہ تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے غافل نہ بنا دے۔ نماز عصر صلوٰۃ وسطی (درمیانی نماز) ہے۔
وَحِیْنَ تُظْھِرُوْنَ اور جب دوپہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو یعنی سورج کی گرمی کا غلبہ ہوتا ہے (ظہر کے بعد اگر لفظ علی آئے تو غلبہ کا معنی ہوتا ہے۔ ظہر کو ظہر کرنے کی یہی وجہ ہے) اور جہنم کی گرمی کی یاد دلاتا ہے۔
اوقات مذکورہ کو نماز کے لئے اس لئے مخصوص کردیا کہ ان اوقات میں اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے ‘ اللہ کی نعمتوں کی تجدید ہوتی ہے۔ ان اوقات میں ہم کو آفاقی ثبوت ملتا ہے اللہ کی پاکی اور ہر عیب و نقص سے منزہ ہونے کا اور اہل ارض و سماء کی طرف سے اللہ کا شکر ادا کرنے اور اسی کی حمد کرنے کا۔ آیت مذکورہ میں صرف چار نمازوں کا ذکر کیا (عشاء کا ذکر نہیں کیا) بعض اہل علم کے نزدیک تُمْسُوْنَ سے مغرب و عشاء دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ ابن جریر ‘ طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔ تُمْسُوْنَ سے مغرب و عشاء دونوں مراد ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس سے پوچھا : کیا پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن مجید میں کہیں ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ پھر یہی دونوں آیتیں پڑھ دیں اور فرمایا : یہ آیت پانچوں نمازوں اور ان کے اوقات کو حاوی ہے۔
حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کو سُبْحٰنَ اللہ حِیْنَ تُمْسَوْنَسے وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ تک پڑھے گا ‘ اس سے رات میں جو کچھ فوت ہوگیا ہے (یعنی گناہ ہوگیا ہے) اس کا تدارک ہوجائے گا اور جو شخص شام کو پڑھے گا تو دن میں فوت شدہ امر کا تدارک ہوجائے گا۔
ثعلبی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ اس کو پورا پور اناپ (یعنی کامل بھرپور ثواب) دیا جائے ‘ وہ پڑھے : فَسُبْحَانَ اللہ حِیْنَ تُمْسَوْنَ الخ۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص رات دن میں سو مرتبہ سُبْحَانَ اللہ وبِحَمْدِہٖ پڑھے گا اس کے سارے گناہ ساقط کر دئیے جائیں گے خواہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں۔ متفق علیہ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح شام سُبْحَانَ اللہ وبِحَمْدِہٖ سو مرتبہ پڑھے گا ‘ قیامت کے دن اس سے بڑھ کر کوئی عمل اور کوئی نہ لائے گا سوائے اس شخص کے جس نے اسی کی طرح پڑھا ہو یا اس سے زائد پڑھا ہو۔ متفق علیہ۔ رواہ ابوہریرہ۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتے ہیں) میزان میں (یعنی میزان قیامت میں یا وزن میں) بھاری ہوں گے ‘ رحمن کو پیارے ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم 1 متفق علیہ۔
حضرت جویریہ بنت الحارث جن کا نام برہ تھا ‘ مسجد میں تھیں۔ رسول اللہ ان کے پاس سے ایک صبح کو اٹھ کر مسجد سے باہر چلے گئے ‘ پھر دن چڑھے واپس تشریف لائے اور فرمایا : جب سے میں یہاں سے گیا ہوں اس وقت سے اب تک تم یہیں بیٹھی (وظیفہ پڑھ رہی) ہو ؟ حضرت جویریہ نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : میں نے تو تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین بار پڑھے تھے ‘ اگر تمہارے (وظیفہ کے) الفاظ سے ان کا موازنہ کیا جائے تو وہ بھاری پڑیں گے۔ (چار کلمے یہ ہیں) سُبحَان اللہ وبِحَمدِہ عَددَ خَلِقہٗ ورِضَاء نفسِہٖ وزِنَۃَ عَرشِہٖ ومِدَاد کَلِمَاتہٖ ۔ رواہ مسلم۔
حضرت سمرہ بن جندب راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب سے بڑھیا چار جملے ہیں : سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ کو سب سے پیارے جملے چار ہیں : سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر۔ جس سے شروع کرو کوئی حرج نہیں (یعنی ترتیب ضروری نہیں ہے) رواہ مسلم۔
حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا : سب سے اعلیٰ کونسا کلام ہے ؟ فرمایا : (افضل کلام) وہ ہی ہے جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لئے پسند فرمایا ہے (یعنی ملائکہ پڑھتے ہیں) سبحان اللہ وبحمدہ۔ رواہ مسلم۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہا اس کے لئے جنت کے اندر ایک درخت خرما بو دیا گیا (یعنی جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ان الفاظ کا بھی ہوگا) رواہ الترمذی۔
Ayah 30:19یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی . وہ نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے (جیسے انسان
کو نطفہ سے اور پرندہ کو انڈے سے) اور نکالتا ہے بےجان کو جاندار سے (یعنی نطفہ اور انڈے کو حیوان سے) ۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کے پیچھے موت اور موت کے پیچھے زندگی لاتا ہے ‘ موت وحیات کا تبادل کرتا ہے) ۔
ویحی الارض بعد موتھا . اور زمین کو (سبزہ پیدا کر کے) زندہ کرتا ہے اس کے مرنے کے (یعنی خشک ہوجانے) کے بعد۔
وکذلک تخرجون اور اسی طرح تم مرنے کے بعد زندہ کر کے قبروں سے نکالے جاؤ گے۔ یعنی جب تم مشاہدہ کر رہے ہو کہ بےجان کو اللہ جاندار بنا کر نکالتا ہے تو پھر مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھائے جانے کا تم کیوں انکار کرتے ہو۔ یُخْرِجُ الْحَیَّ سے پورا کلام وقوع قیامت کی دلیل ہے۔
Ayah 30:20ومن ایتہ ان خلقکم من تراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون . اور اللہ کی نشانیوں میں سے (یعنی اس
امر کے دلائل میں سے کہ اللہ قیامت برپا کرنے پر قادر ہے) یہ بات ہے کہ اس نے تم کو (یعنی تمہاری اصل بنیاد آدم کو) خاک سے بنایا ‘ پھر کچھ ہی مدت کے بعد تم آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔
یعنی پہلے تم بالکل جماد تھے۔ نہ تمہارے اندر حس تھی ‘ حرکت ‘ بس مٹی تھے پھر اللہ نے تم کو انسان بنا دیا اور یکدم تم انسان ہو کر زمین پر پھیل گئے۔
Ayah 30:21ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجًا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃً ورحمۃً
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیویاں بنائیں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم (میاں بیوی) میں محبت اور ہمدردی پیدا کی۔
مِنْ اَنْفُسِکُمْ میں مِنْ ابتدائیہ ہے کیونکہ حضرت حواء کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا پھر مردوں کے نطفہ سے عورت کو پیدا کرنے کا سلسلہ جاری کیا۔ یا مِنْ بیانیہ ہے کیونکہ عورتیں بھی مردوں ہی کی جنس سے ہیں ‘ کسی اور حیوان کی جنس سے نہیں ہیں۔
لِتَسْکُنُوْا یعنی تم عورتوں کی طرف مائل ہو اور ان سے انسیت کرو۔ اتحاد جنسیت موجب انسیت ہے اور اختلاف جنسیت باعث نفرت۔
بَیْنَکُمْ تمہارے درمیان یعنی مردوں اور عورتوں کے درمیان یا افراد جنس کے درمیان۔
مَوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً یعنی صنفی خواہش کے غلبہ کے وقت ازدواجی تعلق قائم کرنے کے ذریعہ سے۔ تمہارے اندر اللہ نے باہم محبت اور شفقت پیدا کردی تاکہ معاشی نظم درست ہوجائے یا باہمی رحمت و محبت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس پر تعاون موقوف ہے اور باہمی تعاون پر انسانی معیشت کا مدار ہے۔
ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون . بلاشبہ اس میں (ا اللہ کی حکمت وقدرت میں) غور کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں کیا حکمت ہے اور تناسل کا سلسلہ اس سے کس طرح جاری ہے۔
Ayah 30:22ومن ایتہ خلق السموت والارض واختلاف السنتکم والوانکم ان فی ذلک لایت للعلمین
اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا اور تمہاری بولیوں کا اور رنگوں کا مختلف ہونا اس میں بڑی نشانیاں ہیں اہل عالم کے لئے۔
اِخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ سے مراد ہے زبانوں اور بولیوں کا اختلاف۔ اللہ نے ہر قوم کو ایک خاص زبان سکھا دی اور اس میں خاص الفاظ القاء کر دئیے اور اس زبان کے بولنے پر اس کو قدرت عطا کی ‘ یا زبانوں کے اختلاف سے مراد ہے بولنے کے طریقوں کا اور آوازوں کی کیفیتوں کا اختلاف کہ ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے ‘ ایک کا دوسرے سے اشتباہ نہیں ہوتا۔
اَلْوَانِکُمْ سے مراد ہے جلد ‘ بدن کے رنگ کا اختلاف۔ کسی کا رنگ کالا ہے ‘ کسی کا گورا وغیرہ وغیرہ ‘ یا اختلاف الوان سے مراد ہے ہر شخص کے اعضاء کی تشخیص ‘ اعضاء کی ہیئت ‘ اعضاء کی ساخت ‘ اعضاء کے رنگ اور حلیہ کا اختلاف۔ یہ اختلاف ایسا ہے کہ کوئی دوسرے کے کامل مشابہ نہیں۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلَمِیْنَ یعنی ہر ذی عقل کے لئے اس میں قدرت خدا کی نشانیاں ہیں۔ نہ کسی فرشتہ سے یہ پوشیدہ ہیں ‘ نہ جنات سے ‘ نہ انسانوں سے۔
Ayah 30:23ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاؤکم من فضلہ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون
اور اسی کے نشانہائے قدرت میں سے ہے تمہارا رات کو اور دن کو سونا اور اللہ کے فضل کو (رات میں اور دن میں) طلب کرنا۔ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (بصیرت اور فہم کے کانوں سے) سنتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ رات میں تمہارا سونا اور دن میں روزی کو طلب اور تلاش کرنا قدرت و مصلحت کی نشانی ہے۔ دو حروف عطف کے ساتھ دو فعلوں کو دو اوقات میں ساتھ ملا دیا تاکہ اس بات کی تنبیہ ہوجائے کہ اگر ایک فعل دن کے ساتھ اور ایک فعل رات کے ساتھ (عادتاً ) مخصوص ہے لیکن ہر کام ہر وقت ہوسکتا ہے (رات کو کمائی اور دن کو نیند بھی ہوسکتی ہے) اس کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے جو اسی مضمون کی حامل ہے۔
Ayah 30:24ومن ایاتہ یریکم البرق خوفًا وطعمًا وینزل من السماء ماءً فیحی بہ الارض بعد موتھا
ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون اور اسی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی اور وہ ہی اوپر سے پانی برساتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
خَوْفًا یعنی بجلی گرنے کا ڈر ہوتا ہے جب کہ سفر کی حالت میں ہو۔
وَطَمَعًا اور بارش کی امید ہوتی ہے جب کہ اپنے اپنے گھروں میں ہو۔
خَوْفًا وَّطَمَعًا دونوں فعل مذکور یا محذوف کی علت ہیں ‘ یا حال۔ زمین کے مرنے سے مراد ہے خشک ہوجانا اور زندہ کرنے سے مراد ہے سرسبز کردینا۔
یَعْقِلُوْنَ یعنی ان لوگوں کے لئے یہ چیزیں صانع کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں اور کمال قدرت و حکمت کو سمجھتے ہیں۔
Ayah 30:25ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ ثم اذا دعا کم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون
اور اسی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے (اپنے اپنے دائرہ میں) قائم ہیں پھر جب وہ تم کو بلائے گا تو یکدم تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے۔
لفظ ثُمَّ تاخیر زمانہ کو بتارہا ہے یا قیامت کی عظمت شان کو۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک مِنَ الْاَرْضِ کا تعلق تَخْرُجُوْنَ سے ہے یعنی تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ غلط ہے کیونکہ اِذَا کا تعلق دعا سے ہے یعنی جب اللہ تم کو زمین کے اندر سے بلائے گا۔ ابن عسکر نے لکھا ہے کہ زید بن جابر شافعی نے آیت واسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍکی توضیح میں بیان کی کہ اسرافیل صحزۂ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر پکاریں گے : اے بوسیدہ ہڈیو اور پارہ پارہ کھالو اور کٹے ہوئے بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ فیصلۂ حساب کے لئے جمع ہوجاؤ۔
دوسرا اِذَا مفاجات کے لئے ہے ‘ یعنی یکدم اچانک تم برآمد ہوجاؤ گے۔
Ayah 30:26ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون . اور اسی کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک) ہیں وہ جو آسمانوں
میں ہیں اور زمین میں ہیں سب کے سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔
کلبی نے کہا : آیت میں صرف وہ (اہل عقل) مراد ہیں جو اللہ کے اطاعت گزار اور فرماں بردار ہیں (کافر اور گنہگار مسلمان مراد نہیں ہیں) صحیح یہ ہے کہ اطاعت سے مراد ہے تخلیقی اور تکوینی فرمان پذیری (جس میں ارادہ اور اختیار کو دخل نہیں ہے۔ ہر سرکش کافر بھی حکم تکوینی سے سرکشی نہیں کرسکتا ‘ امر تشریعی کی خلاف ورزی کرتا ہے) آیت میں امر تکوینی کا عموم مراد ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہر ایک (بغیر کسی اختیار کے) پیدا ہونے ‘ جینے ‘ مرنے اور قیامت کے دن اٹھنے میں حکم کا بندہ ہے ‘ خواہ حکم عبادت سے سرکشی کرتا ہو۔
ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے لکھا ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے پر کافروں کو تعجب تھا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 30:27وھو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ وھوا ھون علیہ . اور وہی تو ہے جو ابتدائی تخلیق کرتا ہے پھر دوبارہ
اسی کو پیدا کر دے گا۔
اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے (ابتدائی تخلیق سے) زیادہ آسان ہے۔
ربیع بن خثیم ‘ حسن ‘ قتادہ اور کلبی نے کہا : اَھْوَنُ (زیادہ آسان) سے اس جگہ ھَیِّنٌ (سہل) مراد ہے کیونکہ اللہ کے لئے کوئی امر دشوار ہی نہیں ہے (کہ ایک فعل کے مقابلہ میں دوسرے فعل کو زیادہ آسان کہا جاسکے) وزن اسم تفضیل بمعنی صفت مشبہ عربی میں آتا ہے۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
مجاہد اور عکرمہ نے کہا : اس جگہ اَھْوَنُ کا استعمال بطور ضرب المثل کیا ہے (حقیقت مراد نہیں ہے) یعنی دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہوتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہو ‘ یہ بات تمہاری عقل کے بھی مطابق ہے۔
بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارے نزدیک اعادہ ابتدا سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ مخلوق کے لئے دوبارہ پیدا ہوجانا پہلی مرتبہ پیدا ہوجانے سے سہل ہوگا کیونکہ وہ صرف ایک آواز سے اٹھ کر نکل آئیں گے۔ پہلی پیدائش دشوار تھی ‘ نطفہ بنا ‘ پھر بستہ خون ہوا ‘ پھر بوٹی بنا ‘ پھر مرد یا عورت بنا ‘ پھر پیدا ہوا۔ حبان نے بحوالۂ کلبی اور صالح کی روایت سے حضرت ابن عباس کا جو قول نقل کیا ہے اس کا یہی معنی ہے۔
ولہ المثل الاعلٰی . اسی کی اعلیٰ شان ہے۔ یعنی اس کی صفات اتنی عالی ہیں کہ کسی دوسرے کی کوئی صفت نہ اس کی
صفت کی ہم پلڑہ ہے ‘ نہ برابری کے قریب۔ جیسے اس کی قدرت ہمہ گیر ہے اور اس کی حکمت محیط کل ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کی مثل اعلیٰ یہی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی نہیں۔ عبدالرزاق نے بروایت ابن ابی حاتم اس آیت کی تشریح میں قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ مَثَلُ الْاَعْلٰی لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ میں کہتا ہوں : اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت مَثَلُ الْاَعْلٰی ہے۔
فی السموت والارض . آسمانوں میں اور زمین میں۔ یعنی جو چیز زمین آسمان میں اس کی صفت بیان کرتی ہے ‘ زبان مقال سے ہو یا زبان حال سے۔
وھو العزیز . اور وہی غالب ہے۔ ملکیت اور خلاقیت میں غالب اور قادر ہے ‘ کوئی چیز اس کی قدرت اور غلبہ سے
خارج نہیں ‘ نہ ابتدائی تخلیق ‘ نہ اعادہ۔
الحکیم . وہی حکیم ہے اپنی حکمت کے موافق کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس کا بیان طبرانی نے نقل کیا ہے کہ اہل شرک حج کی لبیک کہنے کے موقع پر لبیک کے ساتھ کہا کرتے تھے : لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک اے اللہ ! تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے شریک کرلیا ہے تو اس کا مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 30:28ضرب لکم مثلاً من انفسکم . اللہ ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں بیان کرتا ہے جو تمہاری ہی حالت سے اخذ کی گئی ہے۔ یہ مثال تمہارے حالات سے بہت قریب ہے۔
ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم فاتنتم فیہ سواء تخافونھم
کخیفتکم انفسکم . کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ‘ شریک ہے کہ تم اور وہ اس میں برابر ہوں جن کا تم ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس کا خیال کرتے ہو۔
ضَرَبَ ، اللہ نے بیان کیا۔
لَکُمْ ، یہ مشرکوں سے خطاب ہے۔
مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ، یعنی تمہارے مملوکوں میں سے۔
تَخَافُوْنظھُمْ کہ صرف کرنے میں تم کو ان کا اندیشہ لگا رہتا ہو۔
کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ، جیسے تم کو اپنے لوگوں کا اندیشہ رہتا ہے جو تمہاری طرح آزاد ہیں۔ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوتا ‘ اس کو تم عار سمجھتے ہو ‘ باوجود یہ کہ تم سب آدمی ہو پھر بھی غلاموں کے ساتھ مالی شرکت اور مساویانہ تصرف گوارا نہیں ‘ پھر تعجب ہے کہ ان پتھروں کو جو عاجز ترین مخلوق ہیں اس اللہ کا شریک قرار دیتے جو زمین آسمان کا خالق ہے۔
کذلک نفصل الایت لقوم یعقلون . اسی طرح ہم کھول کر دلائل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یعنی تمثیلات پر غور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ طبرانی کی طرح جویبر نے بھی داؤد بن ہند کی روایت سے بوساطت حضرت ابو جعفر محمد بن علی زین العابدین آیت کا سبب یہی بیان کیا ہے۔
Ayah 30:29بل اتبع الذین ظلموا اھواء ھم بغیر علم . (ا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے) بلکہ ظالم اپنی خواہشات کے پیچھے بغیر جانے چلتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یعنی جن لوگوں نے شرک کر کے اپنے اوپر خود ظلم کیا کہ اپنی جانوں کو عذاب کا مستحق بنایا۔
بِغَیْرِ عِلْمٍ یعنی ان باتوں کو جانے بغیر جن کو جاننا ان پر لازم تھا۔
فمن یھدی من اضل اللہ . سو جس کو اللہ نے گمراہ کردیا اس کو کون ہدایت کرسکتا ہے۔ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی جب وہ خواہشات نفسانی کے پیرو ہوگئے اور اللہ کی بھیجی ہوتی ہدایت کو انہوں نے ٹھکرا دیا تو اب کون ان کو ہدایت کرسکتا ہے۔
وما لھم من نصرین . اور ان کا کوئی مددگار نہیں (کہ ان کو نفسانی آفات سے رہائی دلا سکے) ۔