30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsبیان القرآن

Ayahs 30:1–2

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے۔ (ف 1)

ف 1۔ ایک بار روم اور فارس میں مقام اذرعات و بصری کے درمیان لڑائی ہوئی اور رومی مغلوب ہوگئے، مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم اور رومی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی غیر اہل کتاب ہیں، پس روم پر فارس کا غالب آنا فال ہے اس کی کہ ہم بھی تم پر غالب رہیں گے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں پیشنگوئی ہے کہ نو سال کے اندر رومی فارسیوں پر غالب آجاویں گے، چناچہ اس سے ساتویں برس پھر دونوں کا مقابلہ ہوا اور رومی غالب آگئے جس سے وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔
Ayahs 30:3–6

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب تین سال سے لے کر نو سال تک کے اندر اندر غالب آ جاویں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

پہلے بھی اختیار اللہ ہی کو تھا اور پیچھے بھی اور اس روز مسلمان اللہ تعالیٰ کی اس امداد پر خوش ہوں گے۔

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبر دست ہے رحیم ہے۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اس کا وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف نہیں فرماتا (ف 2) و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

ف 2۔ اس لئے یہ پیشنگوئی ضرور پوری ہوگی۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ اس لئے ان کو نہ اسباب عقوبت سے کہ کفر و انکار ہے اندیشہ ہے، نہ اسباب نجات کی کہ تصدیق و ایمان ہے فکر ہے۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان میں ہیں کسی حکمت ہی سے اور ایک معیاد معین کے لیے پیدا کیا ہے (ف 4) اور بہت سے آدمی اپنے رب کے ملنے کے منکر ہیں۔ (ف 5)

ف 4۔ ان حکمتوں میں سے ایک مجازاة ہے اور میعاد معین قیامت ہے۔ 5۔ اگر اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان واقعات کا امکان عقل سے اور ان کا وقوع نقل سے اور اس نقل کا صدق صفت اعجاز سے منکشف ہوجاتا، اور آخرت کے منکر نہ ہوتے، مگر غور نہ کرنے سے منکر ہورہے ہیں۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جسمیں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا وہ ان سے قوت میں بھی بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے زمین کو بھی بویا جوتا تھا اور جتنا انہوں نے اس کو آباد کر رکھا ہے اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے لے کر آئے تھے سو خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا و لیکن وہ تو خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ (ف 6)

ف 6۔ کہ انکار رسل کا کر کے مستحق ہلاک ہوئے۔
Ayah 30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر ایسے لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کام کیا تھا برا ہی ہوا (ف 7) اس وجہ سے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔

ف 7۔ وہ انجام سزائے دوزخ ہے۔
Ayahs 30:11–12

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ خلق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر اس کے پاس لائے جاؤ گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز مجرم لوگ حیرت زدہ رہ جاویں گے۔ (ف 8)

ف 8۔ یعنی کوئی معقول بات ان سے بن نہ پڑے گی۔
Ayahs 30:13–16

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

ان کے شریکوں میں سے ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے شریکوں سے منکر ہوجاویں گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب آدمی جدا جدا ہوجائیں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

یعنی جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کیے تھے وہ تو باغ میں مسرور ہوں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا وہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ (ف 1)

ف 1۔ یہ معنی ہیں جدا جدا ہونے کے۔
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

سو تم اللہ کی تسبیح کیا کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت۔

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور تمام آسمان اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے (ف 2) اور بعد زوال اور ظہر کے وقت۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی آسمان میں فرشتے اور زمین میں بعض اختیارا اور بعض اضطرارا اس کی حمدو ثنا کرتے ہیں، پس جب وہ ایسا محمود الصفات کامل الذات ہے تو تم کو بھی ضرور اس کی تسبیح کرنا چاہئے۔ 3۔ اس لئے کہ یہ اوقات تجدد نعمت و زیادت ظہور آثار قدرت کے ہیں، ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے اور بےجان کو جاندار سے باہر لاتا ہے (ف 4) زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ نکالے جاؤ گے۔

ف 4۔ مثلا نطفہ اور بیضہ سے انسان اور بچہ، انسان اور پرندہ سے نطفہ اور بیضہ۔
Ayahs 30:20–22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تھوڑے ہی روزوں بعد تم آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائيں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا بنانا ہے اور تمہارے لب و لہجہ اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا ہے (ف 5) اس میں دانشمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (ف 6)

ف 5۔ لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو۔ 6۔ نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے تمہارا سونا لیٹنا ہے رات میں اور دن میں (ف 7) اور اسی کی روزی کو تمہارا تلاش کرنا ہے اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

ف 7۔ گو رات کو زیادہ اور دن کو کم ہو۔
Ayahs 30:24–25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اسی سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں (ف 1) پھر جب تم کو پکار کر زمین میں سے بلاوے گا تو تم یک بارگی نکل پڑو گے۔ (ف 2)

ف 1۔ اس میں بیان ہے ان کے ابقاء کا، اور اوپر خلق السموات والارض میں ذکر تھا ان کے حدوث کا، اور یہ تمام نظام عالم جو مذکور ہوا یعنی تمہارا سلسلہ توالد و تناسل کا جاری ہونا اور باہم ازدواج ہونا اور آسمان و زمین کا بہیت کذائیہ موجود و قائم ہونا اور السنہ و الوان کا اختلاف اور لیل و نہار کے انقلاب میں خاص مصلحتوں کا ہونا اور بارش کا نزول اور اس کے مبادی آثار کا ظہور۔ یہ سب اسی حیوة اولی کے بقاء سلسلہ تک ہے، اور ایک روز یہ سب ختم ہوجاوے گا۔ 2۔ اور دوسرا نظام شروع ہوجاوے گا جو مقصد و مقام ہے۔
Ayahs 30:26–28

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور جتنے آسمان اور زمین میں موجود ہیں سب اسی کے تابع ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے نزدیک زیادہ آسان ہے اور آسمان اور زمین میں اسی کی شان اعلیٰ ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم سے ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں سے بیان فرماتے ہیں کیا تمہارے غلاموں میں کوئی شخص تمہارا اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے شریک ہے کہ تم اور وہ اس میں برابر ہوں جن کا تم ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس کا خیال کرتے ہو (ف 3) ہم اسی طرح سمجھ داروں کے لیے دلائل صاف صاف بیان کرتے رہتے ہیں۔

ف 3۔ ظاہر ہے کہ غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔
Ayahs 30:29–30

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ ان ظالموں نے بلا دلیل ان خیالات کا اتباع کر رکھا ہے سو جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کون راہ پر لاوے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

سو تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو اللہ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (ف 4) اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہ چاہیئے پس سیدھا دین یہی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

ف 4۔ مطلب فطرت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں خلقة یہ استعداد رکھی ہے کہ اگر حق کو سنے اور سمجھنا چاہے تو وہ سمجھ میں آجاتا ہے، اور اس کے اتباع کا مطلب یہ ہے کہ اس استعداد اور قابلیت سے کام لے اور اس کے مقتضا پر کہ ادراک حق ہے عمل کرے، غرض اس فطرت کا اتباع چاہئے۔
Ayahs 30:31–32

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

تم خدا کی طرف رجوع ہو کر فطرت الہٰیہ کا اتباع کرو اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو اور شرک کرنے والوں میں سے مت رہو۔

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور بہت سے گروہ ہوگئے (ف 5) ہر گروہ اپنے اس طریقہ پر نازاں ہے جو ان کے پاس ہے۔

ف 5۔ یعنی حق تو ایک تھا اور باطل بہت ہیں، انہوں نے حق کو چھوڑ دیا، اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں، یہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے کہ ایک نے ایک لے لیا، دوسرے نے دوسرا۔
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اپنے رب کو اس کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتے ہیں (ف 6) پھر جب اللہ تعالیٰ انکو اپنی طرف سے کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو بس ان میں سے بعضے لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

ف 6۔ یعنی جس توحید کی طرف ہم بلاتے ہیں اضطرار کے وقت عام طور پر حال و قال سے باوجود اس خلاف و انکار کے اس کا اظہار و اقرار بھی ہونے لگتا ہے جس سے اس کے فطری ہونے کی بھی تائید ہونی ہے۔
Ayahs 30:34–39

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں سو چند روز اور حظ حاصل کرلو پھر جلدی تم معلوم کرلو گے۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے کہ وہ ان کو شرک کرنے کو کہہ رہی ہے۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور ہم جب لوگوں کو کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کے اعمال کے بدلہ جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو بس وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے روزی زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہے کم کردیتا ہے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پھر قرابت دار کو اس کا حق دیا کر اور مسکین اور مسافر کو بھی یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجاوے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو زکوٰة دو گے جس سے اللہ کی رضا طلب کرتے رہو گے تو ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑھاتے رہیں گے۔ (ف 1)

ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو جلائے گا کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے (ف 2) وہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔

ف 2۔ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں۔