29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsبیان القرآن

Ayah 29:1
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

(بعضے مسلمان جو کفار کی ایذاؤں سے گھبرا جاتے ہیں تو) کیا ان لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ اتنا کہنے پر چھوٹ جاویں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہ جاوے گا۔

Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم تو (ایسے واقعات سے) ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے (مسلمان) ہو گزرے ہیں سو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (ظاہری علم سے) جان کر رہے گا جو (ایمان کے دعوے میں) سچے تھے اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا۔ (ف 5)

ف 5۔ چناچہ جو صدق و اعتقاد سے مسلمان ہوتے ہیں وہ ان امتحانات میں ثابت رہتے ہیں، بلکہ اور زیادہ پختہ ہوجاتے ہیں، اور جو دفع الوقتی کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں وہ ایسے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، یعنی یہ ایک حکمت ہے امتحان کی۔
Ayahs 29:4–6

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

ہاں کیا جو لوگ (برے) برے کام کر رہے ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کہیں نکل بھاگیں گے ان کی یہ تجویز نہایت ہی بیہودہ ہے۔ (ف 6)

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو اللہ تعالیٰ (سے ملنے) کا وہ معین وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے۔

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لیے محنت کرتا ہے (ورنہ) خدا تعالیٰ کو (تو) تمام جہان والوں میں کسی کی حاجت نہیں۔

ف 6۔ یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے جس میں کفار کی بد انجامی سناکر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاوں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور (وہ نفع جو طاعت سے پہنچتا ہے اس کا بیان ہے کہ) جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ہم ان کے گناہ ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے (ان) اعمال (ایمان و اعمال صالحہ) کا (استحقاق سے) زیادہ اچھا بدلہ دیں گے۔ (ف 1)

ف 1۔ کفار طرح طرح سے مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کی فکریں کرتے تھے، بعضے جسمانی ایذائیں پہنچایا کرتے تھے، اور بعضے دوسرے طریقوں سے مجبور کرتے۔ چناچہ سعد بن ابی وقاص کی والدہ نے ان سے کہا کہ اللہ کا حکم ہے والدین کی اطاعت کا، سو میں قسم کھاتی ہوں کہ کھانا پینا نہ چکھوں گی جب تک کہ تو اسلام کو نہ چھوڑے گا، اگرچہ میری جان نکل جاوے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 29:8–9

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھیرائے جس کی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں تو ان کا کہنا نہ ماننا تم سب کو لوٹ کر میرے پاس آنا ہے سو میں تم کو تمہارے سب کام (نیک ہوں یا بد) جتلا دوں گا۔ (ف 2)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور (تم میں) جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کیے ہوں گے ہم ان کو نیک بندوں (کے درجہ) میں (کہ بہشت ہے) داخل کردیں گے۔

ف 2۔ حاصل یہ ہوا کہ واقعہ بالا میں ماں کی عصیان سے وسوسہ گناہ کا نہ کیا جاوے۔
Ayahs 29:10–12

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ایسے ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے پھر جب ان کو راہ خدا میں کچھ تکلیف پہنچائی جاتی ہے (ف 3) تو لوگوں کی ایذا رسانی کو ایسا (عظیم) سمجھ جاتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر (کبھی) کوئی مدد (مسلمانوں کی) آپ کے رب کی طرف سے آپہنچتی ہے تو (اس وقت) کہتے ہیں کہ ہم تو (دین و عقیدے) میں تمہارے ساتھ تھے کیا اللہ تعالیٰ کو دنیا جہاں والوں کے دلوں کی باتیں معلوم نہیں ہیں۔

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

(اور یہ واقعات اس لیے ہوتے رہتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو معلوم کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم (دین میں) ہماری راہ پر چلو اور (قیامت میں) تمہارے گناہ ہمارے ذمہ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں۔

ف 3۔ مقصود درد سے یہ نہیں کہ ان کا اسلام اب مقبول نہیں، بلکہ استمرار علی الاسلام فی الماضی کے دعوے میں تکذیب ہے۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور ( البتہ یہ ہوگا کہ) یہ لوگ اپنے گناہ اپنے اوپر لادے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ گناہ اور . اور یہ لوگ جیسی جیسی جھوٹی باتیں بناتے تھے قیامت میں ان سے باز پرس (اور پھر سزا) ضرور ہوگی۔ (ف 4)

ف 4۔ اوپر کفار کی ایذاوں اور مخالفتوں کا بیان تھا جس سے مسلمان متصر ہوتے ہیں۔ آگے تسلیہ کے لئے بعض قصص امم سابقہ کے مذکور ہیں۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف ( پیغمبر بناکر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) (ف 5) پھر (جب اس پر بھی وہ باز نہ آئے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے۔ (ف 6)

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لیے موجب عبرت بنایا۔

ف 5۔ روح المعانی میں بروایت ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وا بن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ و حاکم و بتصحیح حاکم حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو چالیس برس میں نبوت ملی، اور ساڑھے نو سو برس وعظ فرمایا، پھر طوفان کے بعد ساتح برس زندہ رہے۔ سو اس حساب سے ان کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ واللہ اعلم 6۔ کہ اتنی مدت دراز کی فہمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو (ف 1) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔

ف 1۔ اور ڈر کر شرک چھوڑ دو ۔
Ayahs 29:17–19

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر محض بتوں کو پوج رہے ہو اور (اس کے متعلق) جھوٹی باتیں تراشتے ہو تم خدا کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ تم کو کچھ رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے سو تم لوگ رزق خدا کے پاس سے تلاش کرو (ف 2) اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (ف 3)

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ مجھ کو جھوٹا سمجھو تو تم سے پہلے بہت سی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھوٹا سمجھ چکی ہیں اور (ان کا کچھ نقصان نہیں ہوا وجہ اس کی یہ ہے کہ) پیغمبر کے ذمہ تو صرف (بات کا) صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسطرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (کہ عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی دوبارہ اس کو پیدا کرے گا یہ اللہ کے نزدیک بہت آسان بات ہے۔

ف 2۔ یعنی اس سے مانگو کہ مالک رزق وہی ہے۔ 3۔ ایک تو سبب و وجوب عبادت کا یہ ہے کہ وہ مالک نفع کا ہے، اور دوسرا سبب یہ کہ وہ مالک ضرر کا بھی ہے۔
Ayahs 29:20–21

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ (ان لوگوں سے) کہیئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو کس طرح اول بار پیدا کیا ہے پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (ف 4)

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جس کو چاہے گا عذاب دے گا (یعنی جو اس کا مستحق ہوگا) اور جسپر چاہے رحمت کر دے گا (یعنی جو اس کا اہل ہوگا) اور تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔

ف 4۔ پہلے بدء خلق کے علم عقلی سے اعادہ پر استدلال کیا ہے، جیسا اس پر الم یرو دال ہے، اور پھر بدء خلق کے علم حسی سے اعادہ پرا ستدلال ہے جیسا انظروا اس پر دال ہے، جس میں اول سے ترقی ہے کہ مابہ الاستدلال صرف امر عقلی نہیں بلکہ امر حسی بھی۔
Ayahs 29:22–23

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں چھپ کر (خدا کو) ہرا سکتے ہو اور نہ آسمان میں (اڑ کر) اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار۔ (ف 5)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی آیتوں کے اور (بالخصوص) اس کے سامنے جانے کے منکر ہیں وہ لوگ (قیامت میں) میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور یہی ہیں جن کو عذاب دردناک ہوگا۔

ف 5۔ پس نہ اپنی تدبیر سے بچ سکے، نہ دوسرے کی حمایت سے۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

سو (ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر دلپذیر کے بعد) ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ (آپس میں) کہنے لگے کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو (چنانچہ جلانے کا سامان کیا) سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آگ سے بچا لیا بیشک اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں نشانیاں ہیں۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی یہ واقعہ کئی مدلول کی دلیل ہے اللہ کا قادر ہونا، ابراہیم (علیہ السلام) کا نبی ہونا، کفر و شکر کا باطل ہونا، پس دلیل و احد باعتبار تعدد مدلول کے بجائے متعدد دلائل کے ہوگئی۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے وعظ میں یہ بھی فرمایا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) تجویز کر رکھا ہے بس یہ تمہارے باہمی دنیا کے تعلقات کی وجہ سے ہے (ف 1) پھر قیامت میں (تمہارا یہ حال ہوگا کہ) تم میں ایک دوسرے کا مخالف ہوجاوے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔

ف 1۔ چناچہ مشاہدہ ہے کہ اکثر آدمی اپنے علاقہ اور دوستی اور رشتہ والوں کے طریق پر رہتا ہے، یا تو اس وجہ سے حق میں غور ہی نہیں کرتا، اور یا سمجھ کر بھی ڈرتا ہے کہ یہ سب چھٹ جاویں گے۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

سو صرف لوط (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق فرمائی اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی (بتلائی جگہ کی) طرف ہجرت کر جاؤں گا (ف 2) بیشک وہ زبردست حکمت والا ہے۔

ف 2۔ وہ میری حفاظت کرے گا، اور مجھ کو اس کا ثمرہ دے گا۔
Ayahs 29:27–28

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے (ہجرت کے بعد) ان کو اسحاق (علیہ السلام) (بیٹا) اور یقوب (علیہ السلام) (پوتا) عنات فرمایا اور ہم نے ان کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلہ) کو قائم رکھا اور ہم نے ان کا صلہ ان کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی (بڑے درجہ کے) نیک بندوں میں ہوں گے۔ (ف 3)

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہاں والوں میں نہیں کیا۔

ف 3۔ اس صلہ سے مراد قرب و قبول ہے۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں سے فعل کرتے ہو (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور تم ڈاکے ڈالتے ہو اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (ف 4) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ تم ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب میں) ۔

ف 4۔ اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت اور قبح عقلی ہے۔
Ayahs 29:30–32

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو ان مفسد لوگوں پر غالب اور ان کو عذاب سے ہلاک کر دے۔ (ف 5)

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور ہمارے (وہ) بھیجے ہوئے فرشتے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے تو (اثناء گفتگو میں) ان فرشتوں نے (ابراھیم (علیہ السلام) سے) کہا کہ ہم بت پرستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیوں کہ وہاں کے باشندے بڑے شریر ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (بھی موجود) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں رہتے ہیں ہم کو سب معلوم ہیں ہم ان کو اور ان کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے بجز ان کی بی بی کے وہ عذاب میں رہنے والوں میں سے ہوں گی۔

ف 5۔ اور ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمادیئے، اور دورسا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

(یہ گفتگو تو ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی) اور (پھر وہاں سے فارغ ہو کر) جب ہمارے وہ فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) انکی وجہ سے مغموم ہوئے (ف 1) اور ان کے سبب تنگدل ہوئے اور وہ فرشتے کہنے لگے کہ آپ اندیشہ نہ کریں اور نہ مغموم ہوں ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے بجز آپ کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی۔

ف 1۔ کیونکہ وہ حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو آدمی سمجھا، اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

(اور آپ کو مع متعلقین اس سے بچا کر) ہم اس بستی کے (بقیہ) باشندوں پر ایک آسمانی عذاب ان کی بد کاریوں کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں۔ (ف 2)

ف 2۔ چناچہ وہ بستی الٹ دی گئی اور غیبی پتھروں سے بارش کی گئی۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے بستی کے کچھ ظاہر نشان (اب تک) رہنے دیئے ہیں ان لوگوں (کی عبرت) کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ چناچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آئے تھے۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین والوں کے پاس ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (اور شرک چھوڑ دو ) اور روز قیامت سے ڈرو اور سزمین میں فساد مت پھیلاؤ۔ (ف 4)

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس زلزلے نے ان کو آن پکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں اوندھے گر کر رہ گئے۔

ف 4۔ یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، جیسا کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے تولنے کے بھی خوگر تھے، اور اقامت عدل کے ترک کا فساد ہونا ظاہر ہے۔
Ayahs 29:38–39

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی (ان کے عناد و خلاف کی وجہ سے) ہلاک کیا اور یہ ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے (ف 5) اور شیطان نے ان کے اعمال (بد) کو انکی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور (اس ذریعہ سے) ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے۔

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ان کے کفر کے سبب) ہلاک کیا اور ان (تینوں) کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کھلی دلیلیں (حق کی) لے کر آئے تھے پھر ان لوگوں نے زمین پر سر کشی کی اور (ہمارے عذاب سے) بھاگ نہ سکے۔

ف 5۔ کہ آثار ویرانی اور بربادی کے ان سے نمایاں ہیں، اور یہ مقامات شام جاتے ہوئے ملتے تھے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا میں پکڑ لیا سو ان میں بعضوں پر ہم نے تند ہوا بھیجی (ف 6) اور ان میں بعضوں کو ہولناک آواز نے آ دبا لیا (ف 7) اور ان میں بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا (ف 8) اور ان میں بعضوں کو ہم نے (پانی میں) ڈبو دیا (ف 9) اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن یہی لوگ (شرارتیں کر کے) اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے۔ (ف 10)

ف 6۔ مراد اس سے قوم عاد ہے۔ 7۔ مراد اس سے ثمود ہے۔ 8۔ مراد اس سے قارون ہے۔ 9۔ مراد اس سے فرعون و ہامان ہے۔ 10۔ شروع سورت سوے کفار کے مسلمانوں کو ایذا دینے کے مضمون کا سلسلہ یہاں تک چلا آیا ہے، آگے توحیدو نبوت کی تحقیق ہے، جو بناء تھی اس ایذاء رسانی کی اور اس سے اس ایذا رسانی کا ناحق ہونا بھی واضح ہوجاوے گا۔