29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsبیان القرآن

Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا اور کارساز تجویز کر رکھے ہیں ان لوگوں کی مثال مکڑی کی سی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور کچھ شک نہیں کہ سب گھروں میں زیادہ بودا مکڑی کا گھر ہوتا ہے اگر وہ (حقیقت حال کو) جانتے تو ایسا نہ کرتے۔ (ف 1)

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ (تو) ان سب چیزوں (کی حقیقت اور ضعف) کو جانتا ہے جس جس کو وہ لوگ خدا کے سوا پوج رہے ہیں (پس وہ چیزیں تو نہایت ضعیف ہیں) اور وہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور ہم ان (قرآنی) مثالوں کو لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی لوگ سمجھتے ہیں۔

ف 1۔ پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی پناہ بنائی ہے مگر واقع میں وہ پناہ غایت ضعف سے کالعدم ہے اسی طرح یہ شرک معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ لاشے محض ہے۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو مناسب طور پر بنایا ہے ایمان والوں کے لیے اس میں (اس کے استحقاق عبادت کی) بڑی دلیل ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ اوپر توحید کا ذکر تھا، آگے نبوت کا ذکر ہے، اس ترتیب سے کہ اول حضور ﷺ کو اتل ما اوحی الیک سے تبلیغ قولی اور اقم الصلوة سے تبلیغ فعلی کا حکم اور اس کے بعد کے جملوں میں بیان فضل اعمال وبیان علم الہی سے ترغیب و ترہیب شرائع کی کہ معین مقصود تبلیغ ہے اور لا تجادلوا سے قل کفی باللہ تک منکرین رسالت سے کلام اول اہل کتاب سے پھر غیر اہل کتاب سے پھر آگے یستعجلونک سے بعض منکرین رسالت کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اسے پڑھا کیجیئے اور نماز کی پابندی رکھیے بیشک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے (ف 3) اور اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے۔

ف 3۔ یعنی نماز بلسان حال کہتی ہے کہ جس معبود کی تو اتنی تعظیم کرتا ہے فحشاء و منکر کے ارتکاب سے اس کی بےتعظیمی نہایت نازیبا ہے۔
Ayahs 29:46–51

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مباحثہ مت کرو ہاں جو ان میں زیادتی کریں (ف 4) اور یوں کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور ان کتابوں پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں (ف 5) اور (یہ تم تسلیم کرتے ہو کہ) ہمارا اور تمہار معبود ایک ہے اور ہم تو اسکی اطاعت کرتے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب (کی نافع سمجھ) دی ہے وہ اس (آپ والی) کتاب پر ایمان لے آتے ہیں اور ان ( اہل عرب مشرک) لوگوں میں بھی بعض ایسے (منصف) ہیں کہ اس کتاب پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے بجز (ضدی) کافروں کے اور کوئی منکر نہیں ہوتا۔

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور آپ اس کتاب سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے کہ ایسی حالت میں یہ ناحق شناس لوگ کچھ شبہ نکالتے۔

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ کتاب خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے ذہن میں جن کو علم عطا ہوا ہے اور ہماری آیتوں سے بس ضدی لوگ انکار کیے جاتے ہیں۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کے پاس سے نشانیاں کیوں نہیں نازل ہوئیں آپ یوں کہہ دیجیئے کہ وہ نشانیاں تو خدا کے قبضے میں ہیں اور میں تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کو سنائی جاتی رہتی ہے بلاشبہ اس کتاب میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے۔

ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔ 5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔
Ayahs 29:52–54

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

آپ یہ کہہ دیجیئے اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان گواہ بس ہے اس کو سب چیز کی خبر ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور جو لوگ جھوٹی باتوں پر یقین کرتے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں تو وہ لوگ بڑے زیاں کار ہیں۔ (ف 1)

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور اگر (علم الہیٰ میں عذاب آنے کی) معیاد معین نہ ہوتی تو ان پر عذاب آ چکا ہوتا اور عذاب ان پر دفعتہً آپہنچے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جہنم ان کافروں کو گھیر لے گا۔

ف 1۔ یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت تو اس کا انکار کفر باللہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے، تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں، پس لا محالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے۔
Ayah 29:55

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن کہ ان پر عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے نیچے سے انہیں گھیرے گا اور حق تعالیٰ فرمائے گا کہ جو کچھ کرتے رہے ہو (اب اس کا مزہ) چکھو۔ (ف 2)

ف 2۔ پس وہ عذاب عذاب جہنم ہے اور وہ میعاد یوم قیامت ہے۔
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے ایمان دار بندو میری زمین فراخ ہے سو خالص میری ہی عبادت کرو۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی جب یہ لوگ غایت عداوت و معاندت سے تم کو اقامت شرائع و اختیار دین پر ایذا پہنچاتے ہیں تو یہاں رہنا کیا ضروری ہے میری زمین فراخ ہے، سو اگر یہاں رہ کر عبادت نہیں کرسکتے، تو کہیں اور چالے جاو اور وہاں جاکر خالص میری ہی عبادت کرو۔
Ayahs 29:57–58

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے (ف 4) پھر تم سب کو ہمارے پاس آنا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ہم ان کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے کام کرنے والوں کا کیا اچھا اجر ہے۔

ف 4۔ یعنی اگر ہجرت میں تم کو احباب و اوطان کی مفارقت شاق معلوم ہو تو یہ سمجھ لو کہ ایک نہ ایک روز یہ تو ہونا ہی ہے کیونکہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ضرور ہے، آخر اس وقت سب چھوٹیں گے۔
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا (ف 5) اور اپنے رب پر توکل کیا کرتے تھے۔ (ف 6)

ف 5۔ یعنی واقع سختیوں پر جن میں ہجرت کی سختی بھی داخل ہے صبر کیا۔ 6۔ یعنی محتمل الوقوع تکالیف کے اندیشے کے وقت جن میں دوسری محتمل سختیوں کے ساتھ اندیشہ رزق بھی آگیا وہ اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ ہی ان کو (مقدر) روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی وہ سب کچھ سنتا ہے سب کچھ جانتا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی دل قوی کر کے اللہ پر بھروسہ رکھو، اور وہ بھروسہ کے لائق ہے، کیونکہ وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے، اسی طرح دوسری صفات میں کامل ہے اور جو ایسا کامل الصفات ہو وہ ضرور بھروسہ کے قابل ہے۔
Ayahs 29:61–62

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ وہ کون ہیں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے پھر کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں۔ (ف 2)

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے بیشک اللہ ہی سب چیز کے حال سے واقف ہے۔

ف 2۔ یعنی توحید فی الالوہیة کا جو مبنی ہے یعنی توحید فی التکوین وہ تو ان لوگوں کے نزدیک بھی مسلم ہے، پھر جب توحید فی التکوین کو مانتے ہیں تو پھر توحید فی الاولوہیة کے بارے میں کدھر الٹے جارہے ہیں۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو بعد اس کے کہ خشک پڑی تھی تر و تازہ کردیا تو وہ لوگ بھی یہی کہیں گے وہ بھی اللہ ہی ہے آپ کہیئے کہ الحمد اللہ بلکہ ان میں اکثر سمجھتے بھی نہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ نہ اس وجہ سے کہ عقل نہیں، بلکہ عقل سے کام نہیں لیتے اور غور نہیں کرتے، اس لئے بدیہی بھی خفی رہتا ہے۔
Ayahs 29:64–66

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیوی زندگی (فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل ذندگی عالم آخرت ہے اگر ان کو اس کا علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے۔ (ف 4)

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو وہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو دی ہے اس کی ناقدری کرتے ہیں اور یہ لوگ چندے اور حظ حاصل کرلیں پھر قریب ہی ان سب کو خبر ہوجاتی ہے۔

ف 4۔ کہ فانی میں منہمک ہو کر جاتی کو بھلا دیتے ہیں، اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے اور ایمان لے آتے جیسا کہ مقتضا ان کے اقرار توحید فی التکوین والا بقاء کا ہے۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے امن و الاحرم بنادیا ہے (ف 5) اور ان کے گرد و پیش میں لوگوں کو نکالا جارہا ہے پھر کیا یہ لوگ جھوٹے معبود پر تو ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ (ف 6)

ف 5۔ یعنی شہر مکہ کو۔ 6۔ کیونکہ شرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں کہ نعمت تخلیق و ترزیق و ابقاء و تدبیر وغیرہ وہ عطا فرماوے اور عبادت جو کہ ان نعمتوں کا شکر ہے دوسرے کے لئے تجویز کی جاوے۔
Ayahs 29:68–69

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ناانصاف ہوگا جو اللہ پر جھوٹ افترا کرے اور جب سچی بات اس کے پاس پہنچے وہ اس کو جھٹلا دے (ف 7) کیا ایسے کافروں کا جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا۔ (ف 8)

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنی (قرب وثواب یعنی جنت کے) رستے ضرور دکھا وینگے اور بیشک اللہ تعالیٰ (کی رضا و رحمت) ایسے خلوص والوں کے ساتھ ہے۔

ف 7۔ بےانصافی ظاہر ہے کہ بلا دلیل بات کی تو تصدیق کرے اور دلیل والی بات کی تکذیب۔ 8۔ یعنی ضرور ہوگا۔