28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبیان القرآن

Ayahs 28:1–3

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طسم (علیہ السلام)

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ (مضامین جو آپ پر وحی کیے جاتے ہیں) کتاب واضح (المعنی یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا کچھ قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (یعنی نازل کر کے) سناتے ہیں ان لوگوں کے (نفع کے) لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ کیونکہ مقاصد قصص کے کہ عبرت و استدلال علی النبوة وغیرہما ہیں مومنین ہی کو نافع ہیں، خواہ حقیقة مومن ہوں یا حکما۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون سر زمین (مصر) میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو مختلف قسمیں کر رکھا تھا (ف 4) کہ ان (باشندوں) میں سے ایک جماعت (یعنی بنی اسرائیل) کا زور گھٹا رکھا تھا (اس طرح سے کہ) ان کے بیٹوں کو ذبح کراتا تھا اور ان کی عورتوں (یعنی لڑکیوں) کو زندہ رہنے دیتا تھا واقعی وہ بڑا مفسد تھا۔

ف 4۔ اس طرح کہ قبطیوں کو معزز بنا رکھا تھا اور سبطیوں یعنی بنی اسرائیل کو پست اور خوار کر رکھا تھا۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

(غرض فرعون تو اس خیال میں تھا) اور ہم کو یہ منظور تھا کہ جن لوگوں کا زمین (مصر) میں زور گھٹایا جا رہا تھا ہم ان پر (دنیوی) احسان کرلیں اور (وہ احسان یہ کہ) ان کو (دین میں) پیشوا بنادیں اور (دنیا میں) ان کو (ملک کا) مالک بنائیں۔

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور (مالک ہونے کے ساتھ) ان کو زمین میں حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین کو ان (بنی اسرائیل) کی جانب سے وہ (ناگوار) واقعات دکھلائیں جن سے وہ بچاؤ کر رہے تھے۔ (ف)

ف 5۔ مراد اس سے زوال سلطنت و ہلاکت ہے کہ اسی سے بچاو کرنے کے لئے ابناء بنی اسرائیل کو بنا بر تعبیر ایک خواب کے جو فرعون نے دیکھا تھا اور نجومیوں نے تعبیر دی تھی قتل کر رہا تھا، پس ہمارے قضا و قدر کے سامنے ان لوگوں کی تدبیر کچھ کام نہ آئی۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور (جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کیا کہ تم ان کو دودھ پلاؤ پھر جب تم کو ان کی نسبت (جاسوسوں کے مطلع ہونے کا) اندیشہ ہو تو (بےخوف و خطر) ان کو دریا (نیل) میں ڈال دینا اور نہ تو (غرق سے) اندیشہ کرنا اور نہ (مفارقت پر) غم کرنا (کیونکہ) ہم ضرور ان کو پھر تمہارے ہی پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر اپنے وقت پر) ان کو پیغمبر بنادیں گے۔ (ف 6)

ف 6۔ غرض وہ اسی طرح انکو دودھ پلاتی رہیں، پھر جب افشائے راز کا خوف ہوا تو صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر نیل میں چھوڑ دیا، غرض وہ صندوق کنارے پر لگا۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (یعنی مع صندوق کے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے دشمن اور غم کا باعث بنیں بلا شبہ فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارے میں) بہت چوکے۔ (ف 1)

ف 1۔ کہ اپنے دشمن کو اپنی بغل میں پالا۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ) نے (فرعون سے) کہا کہ یہ (بچہ) میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (ف 2) اس کو قتل مت کرو عجب نہیں کہ (بڑا ہو کر) ہم کو کچھ فائدہ پہنچا دے یا ہم اس کو (اپنا) بیٹا ہی بنالیں اور ان لوگوں کو (انجام کی) خبر نہ تھی۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا۔ 3۔ کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی۔
Ayahs 28:10–14

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور (ادھر یہ قصہ ہوا کہ) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل (خیالات مختلفہ کے ہجوم سے) بےقرار ہوگیا قریب تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال (سب پر) ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کیے رہیں کہ یہ (ہمارے وعدہ پر) یقین کیے بیٹھی رہیں۔

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن (یعنی اپنی بیٹی) سے کہا کہ ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کا سراغ تو لگا سو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دور سے دیکھا اور ان لوگوں کو (یہ) خبر نہ تھی (کہ یہ ان کی بہن ہیں اور اس فکر میں آئی ہیں) ۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے سے موسیٰ (علیہ السلام) پر دودھ پلوانے کی بندش کر رکھی تھی سو وہ (اس موقع کو دیکھ کر) کہنے لگیں کیا میں تم لوگوں کو کسی ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس بچہ کی پرورش کریں اور وہ (دل سے) اس کی خیر خواہی کریں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

غرض ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے پاس (اپنے وعدہ کے موافق) واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تاکہ (فراق کے) غم میں نہ رہیں اور تاکہ اس بات کو جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا (ہوتا) ہے لیکن (افسوس کی بات ہے کہ) اکثر لوگ (اس کا) یقین نہیں رکھتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب (پرورش پا کر) اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ و عقیلہ سے) درست ہوگئے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (ف 4) اور ہم نیکو کاروں کو یونہی صلہ دیا کرتے ہیں (یعنی عمل صالح سے فیضان علم میں ترقی ہوتی ہے) ۔ (ف 5)

ف 4۔ یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی۔ 5۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں (یعنی مصر میں کہیں باہر سے) ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے (اکثر) باشندے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے تو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے دیکھا ایک تو ان کی برادری میں کا تھا اور دوسرا مخالفین میں سے تھا سو وہ جو ان کی برادری کے تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کے مقابلہ میں جو ان کے مخالفین میں تھا مدد چاہی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ( ایک) گھونسا مارا سو اس کا کام ہی تمام کردیا (ف 6) موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان (بھی آدمی کا) کھلا دشمن ہے (غلطی میں ڈال دیتا ہے) ۔

ف 6۔ یعنی اتفاق سے وہ مر ہی گیا۔
Ayahs 28:16–17

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا ہے آپ معاف کر دیجیئے سو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا بلا شبہ وہ بڑا غفور رحیم ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ آپ نے مجھ پر بڑے بڑے انعامات فرمائے ہیں سو کبھی میں مجرموں کی مدد نہ کروں گا۔ (ف 1)

ف 1۔ یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں، کیونکہ گناہ کرانا کسی سے بھی یہ جرم ہے، پس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا، کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے۔ خواہ عمدا یا خطا، مطلب یہ ہوا کہ میں شیطان کا کہنا کبھی نہ مانوں گا، یعنی مواقع محتملہ خطاء میں احتیاط و تنقیظ سے کام لوں گا، اور اصل مقصود اتنا ہی ہے، مگر شمول حکم کے لئے مجرمین جمع کا صیغہ لایا گیا کہ اوروں کو بھی عام ہوجاوے۔
Ayahs 28:18–21

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو شہر میں صبح ہوئی خوف اور وحشت کی حالت میں کہ اچانک (دیکھتے کیا ہیں کہ) وہی شخص جس نے کل گذشتہ میں ان سے امداد چاہی تھی وہ پھر ان کو (مدد کے لیے) پکار رہا ہے موسیٰ (علیہ السلام) اس سے فرمانے لگے بیشک تو صریح بد راہ (آدمی) ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

سو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ بڑھایا جو دونوں کا مخالف تھا وہ اسرائیلی کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا (آج) مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کل ایک آدمی قتل کرچکے ہو (معلوم ہوتا ہے کہ) بس تم دنیا میں اپنا زور بٹھلانا چاہتے ہو اور صلح (اور ملاپ) کروانا نہیں چاہتے۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور (اس مجمع میں) ایک شّخص شہر کے (اس) کنارے سے (جہاں یہ مشورہ ہورہا تھا) دوڑتا ہوا آیا (اور) کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) چل دیجیئے میں آپ کی خیر خواہی کر رہا ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پس (یہ سن کر) موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکل گئے خوف اور وحشت کی حالت میں (اور چونکہ رستہ معلوم نہ تھا دعا کے طور پر) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو ان ظالم لوگوں سے بچا لیجیئے۔ (ف 2)

ف 2۔ اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے۔
Ayahs 28:22–25

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف ہوئے کہنے لگے کہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (کسی مقام کا) سیدھا رستہ چلاوے گا (چنانچہ ایسا ہی ہوا) اور مدین جا پہنچے۔

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی (یعنی کنوئیں) پر پہنچے تو اس پر (مختلف آدمیوں کا ایک مجمع دیکھا جو پانی پلا رہے تھے اور ایک ان لوگوں میں سے ایک طرف (الگ) کو دو عورتیں دیکھیں کہ وہ اپنی بکریاں رو کے کھڑی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا تمہارا کیا مطلب ہے وہ دونوں بولیں کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جبتک کہ یہ چرواہے پانی پلا کر (جانوروں کو) ہٹا نہ لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پس (یہ سن کر) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے پانی کھینچ کر ان کے جانوروں کو پانی پلایا پھر (وہاں سے) ہٹ کر سایہ میں جا بیٹھے پھر (جناب باری میں) دعا کی اے میرے پروردگار (اس وقت) جو نعمت آپ مجھ کو بھیج دیں میں اس کا (سخت) حاجت مند ہوں۔

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

سو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک لڑکی آئی شرماتی ہوئی چلتی تھی (اور آکر) کہنے لگی کہ میرے والد تم کو بلاتے ہیں (ف 1) تاکہ تم کو اس کا صلہ دیں جو تم نے ہماری خاطر (ہمارے جانوروں کو) پانی پلایا تھا (ف 2) سو جب ان کے پاس پہنچے اور ان سے تمام حال بیان کیا تو انہوں نے تسلی دی اور کہا کہ (اب) اندیشہ نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے۔

ف 1۔ یہ بزرگ شعیب (علیہ السلام) تھے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہولئے، گو مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کا بالیقین حصول عوض نہ تھا، لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقضائے وقت جویاں تھے، اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں، اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں، اور ضیافت کی تو استدعا بھی خصوص حاجت کے وقت اور خصوص کریم سے کچھ ذلت نہیں، چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

(پھر) ایک لڑکی نے کہا کہ ابا جان آپ ان کو نوکر رکھ لیجیئے کیوں کہ اچھا نوکر وہ شخص ہے جو مضبوط (ہو اور) امانت دار (بھی) ہو۔ (ف 3)

ف 3۔ اور ان میں دونوں صفتیں ہیں۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

وہ (بزرگ موسیٰ (علیہ السلام) سے) کہنے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو تمہارے ساتھ بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو (ف 4) پھر اگر تم دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں (اس معاملہ میں) تم پر کوئی مشقت ڈالنا نہیں چاہتا (اور) تم مجھ کو انشا اللہ تعالیٰ خوش معاملہ پاؤ گے۔ (ف 5)

ف 4۔ حاصل یہ کہ آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا مہر ہے۔ 5۔ یعنی کام لینے اور وقت کی پابندی وغیرہ تمام امور میں آسانی برتوں گا۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ بات میرے اور آپ کے درمیان (پکی) ہوچکی اور دونوں مدتوں میں سے جس (مدت) کو بھی پورا کر دوں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور ہم جو (معاملہ کی) بات چیت کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا گواہ (کافی) ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ اس کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کو پورا کرنا چاہئے۔
Ayahs 28:29–31

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) اس مدت کو پوری کرچکے اور (با اجازت شعیب (علیہ السلام) کے) اپنی بی بی کو لے کر (مصر یا شام کو) روانہ ہوئے تو ان کو کوہ طور کی طرف سے ایک (روشنی بشکل) آگ دکھلائی دی انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ٹھیرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں تمہارے پاس وہاں سے (رستہ کی) کچھ خبر لاؤں یا کوئی آگ کا (دھکتا ہوا) انگارا لے کر آؤں تاکہ تم سینکو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

سو وہ جب آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اس میدان کی داہنی جانب سے (جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب تھا) اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں اللہ رب العالمین ہوں۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ (بھی آواز آئی) کہ تم اپنا عصا ڈال دو (ف 7) سو انہوں نے جب اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا پتلا سانپ (تیز) ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے (پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آؤ اور ڈرو مت تم ہر (طرح) امن میں ہو۔ (ف 8)

ف 7۔ چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا۔ 8۔ یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے۔
Ayahs 28:32–33

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر ڈالو (اور پھر نکالو) وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا اور خوف (رفع کرنے) کے واسطے اپنا (وہ) ہاتھ (پھر) اپنے سے بدستور (سابق) ملا لینا سو یہ (تمہاری نبوت کی) دو سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے واسطے (جس کا تم کو حکم کیا جاتا ہے) کیوں کہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ (کہیں اول ہی وہلہ میں) وہ لوگ مجھے قتل کردیں۔ (ف 1)

ف 1۔ اور تبلیغ بھی نہ ہونے پاوے۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے تو ان کو بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ رسالت دے دیجیئے کہ وہ میری تقریر کی تائید اور تصدیق کریں گے کیوں کہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں۔ (ف 2)

ف 2۔ تو اس وقت مناظرہ کی ضرورت ہوگی اور زبانی مناظرہ کے لئے رواں زبان عادتا زیادہ مفید ہے۔
Ayahs 28:35–37

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ (بہتر ہے) ہم ابھی تمارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پر دست رسی نہ ہوگی (پس) ہمارے معجزے لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارے پیرو ہوگا (ان لوگوں پر) غالب رہو گے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

غرض جب ان لوگوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہماری صحیح دلیلیں لے کر آئے تو ان لوگوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا کہ یہ تو (محض) ایک جادو ہے کہ (خواہ مخواہ خدا تعالیٰ پر) افتراء کیا جاتا ہے اور ہم نے ایسی بات کبھی نہیں سنی کہ ہمارے اگلے باپ داداؤں کے وقت میں بھی ہوئی ہو۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو صحیح دین اس کے پاس سے لے کر آیا ہے اور جس کا انجام اس عالم سے اچھا ہونے والا ہے (اور) بالیقین ظالم لوگ کبھی فلاح نہ پاویں گے۔ (ف 3)

ف 3۔ مطلب یہ کہ خدا کو خوب معلوم ہے کہ ہم میں اور تم میں کون اہل ہدی ہے، اور کون ظالم، اور کون محمود العاقبت ہے، اور کون محروم عن الفلاح۔ پس ہر ایک کی حالت اور ثمرہ کا جلدی مرنے کے ساتھ ہی ظہور ہوجاوے گا۔