28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبیان القرآن

Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

قارون یہ سن کر کہنے لگا مجھ کو تو یہ سب کچھ میری ذاتی ہنر مندی سے ملا ہے (ف 2) کیا اس (قارون) نے (اخبار متواتر سے) یہ نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے ایسے ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت (مالی) میں (بھی) اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور مجمع (بھی) ان کا (اس سے) زیادہ تھا اور اہل جرم سے ان کے گناہوں کا (تحقیق کرنے کی غرض سے) سوال نہ کرنا پڑے گا۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی میں وجوہ تدابیر معاش کی خوب جانتا ہوں۔ اس سے میں نے یہ سب جمع کیا ہے، پھر میرا تفاخر بےجا نہیں، اور نہ اس کو غیبی احسان کہا جاسکتا ہے، اور نہ کسی کا اس میں کچھ استحقاق ہوسکتا ہے۔ 3۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے، گو تقریع و توبیخ کے لئے سوال ہو، مطلب یہ کہ اگر قارون اس مضمون پر نظر کرتا تو ایسی جہالت کی بات نہ کہتا، کیونکہ ہلاکت دنیویہ سے قدرت حقیقیہ کے تحت میں اور مواخذہ اخرویہ سے حکومت حقیقیہ کے تحت میں داخل ہونا ظاہر ہے۔ پھر ایسے شخص کی کیا قدرت کہ اپنے اکتساب کو علت حقیقیہ سمجھے اور ایسے شخص کی کیا رائے کہ حقوق واجبہ کی نفی کرے۔
Ayahs 28:79–80

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر (ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ) وہ اپنی آرائش (اور شان) سے اپنی برادری کے سامنے سے نکلا جو لوگ (اس کی برادری میں) دنیا کے طالب تھے (گو مومن ہوں) کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ سازو سامان ملا ہوتا جیسا قارون کو ملا ہے وہ اقعی وہ بڑا صاحب نصیب ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (دین کی) فہم عطا ہوئی تھی وہ کہنے لگے کہ ارے تمہارا ناس ہو اللہ تعالیٰ کے گھر کا ثواب ہزار درجہ بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور (پھر) وہ (ثواب کامل طور پر) ان ہی کو دیا جاتا ہے جو (دنیا کی حرص و طمع سے) صبر کرنے والے ہیں۔ (ف 4)

ف 4۔ پس تم لوگ ایمان کی تکمیل و عمل صالح کی تحصیل میں لگو، اور حد شرعی کے اندر دنیا حاصل کرو اس کی حرص و طمع سے صبر کرو۔
Ayahs 28:81–82

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے اس قارون کو اور اس کے محل سرا کو (اس کی شرارت بڑھ جانے سے) زمین میں دھنسا دیا سو کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو اللہ تعالیٰ کے (عذاب سے) بچا لیتی اور نہ وہ خود ہی اپنے آپ کو بچا سکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور کل (یعنی پچھلے قریب کے زمانے میں) جو لوگ اس جیسے ہونے کی تمنا کر رہے تھے وہ (آج اس کو زمین میں دھنسا دیکھ کر) بولے بس جی یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زیادہ روزی دے دیتا ہے اور (جس کو چاہے) تنگی سے دینے لگتا ہے اگر ہم پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو بھی دھنسا دیتا بس جی معلوم ہوا کہ کافروں کو فلاح نہیں ہوتی۔ (ف 5)

ف 5۔ گو چند روزہ مزے لوٹ لیں مگر انجام پھر خسران ہے، پس فلاح معتد بہ اہل ایمان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ عالم آخرت ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور نیک نتیجہ متقی لوگوں کو ملتا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ کوئی ظاہری گناہ کرتے ہیں خصوصا گناہ متعدی جیسا فرعون و قارون علووفساد کے مرتکب ہوئے، اور صرف ترک نواہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو ترک نواہی کے ساتھ امتثال اوامر بھی کرتے ہوں۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آوے گا اس کو اس (کے مقتضا) سے بہتر (بدلہ) ملے گا (ف 7) اور جو شخص بدی لے کر آوے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ زیادہ کرتے تھے۔ (ف 1)

ف 7۔ کیونکہ مقتضا تو صرف اس قدر ہے کہ عمل کی حیثیت کے موافق ملے، مگر وہاں زیادہ ملے گا جس کا اقل درجہ دس حصہ ہے۔ 1۔ یعنی اس کے مقتضاء سے زیادہ نہ ملے گا۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے وہ آپ کو (آپ کے اصلی) وطن یعنی (مکہ) میں پھر پہنچائے گا (ف 2) آپ (ان سے) فرما دیجیئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ (الله کی طرف سے) کون سچا دین لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں مبتلا ہے۔

ف 2 حاصل کلام یہ ہے کہ جس نے آپ کو نبی وصاحب وحی بنایا ہے اور نبی سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ بوجہ قطعی ہونے وحی کے یقینا صادق ہوتا ہے، وہ آپ سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ پس بالیقین واقع ہوگا۔
Ayahs 28:86–88

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور آپ کو (اپنے نبی ہونے کے قبل) یہ توقع نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جاوے گی مگر محض آپ کے رب کی مہربانی سے اس کا نزول شروع ہوا سو آپ ان کافروں کی ذرا تائید نہ کیجیئے۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو ایسا نہ ہونے پاوے کہ یہ لوگ آپ کو ان احکام سے روک دیں اور آپ اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیے اور مشرکوں میں شامل نہ ہوجیے۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور (جس طرح اب تک آپ شرک سے معصوم ہیں اس طرح آئندہ بھی) اللہ کے ساتھ کسی معبود کو نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف 3) (اس لیے کہ) سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں بجز اس کی ذات کے اسی کی حکومت ہے (جس کا ظہور کامل قیامت میں ہے) اور اسی کے پاس سب کو جانا ہے۔

ف 3۔ ان آیتوں میں کفار و مشرکین کو ان کی درخواستوں سے مایوس کرنا ہے اور روئے سخن ان ہی کی طرف ہے کہ تم جو رسول اللہ ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں مگر عادت ہے، کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے، اس سے بات نہیں کیا کرتے اپنے محبوب سے باتیں کر کے اس شخص کو سنایا کرتے ہیں۔