28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبیان القرآن

Ayahs 28:38–42

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور (دلائل موسویہ دیکھ کر سن کر) فرعون کہنے لگا کہ اہل دربار مجھ کو تمہارا اپنے سوا کوئی خدا معلوم نہیں ہوتا تو اے ہامان تم ہمارے لیے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) کو آگ میں (پزادہ لگا کر) پکواؤ پھر ان پختہ اینٹوں سے میرے واسطے ایک بلند عمارت بنواؤ تاکہ میں (اس میں چڑھ کر) موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں بھالوں اور میں تو (اس دعویٰ میں کہ میرے سوا کوئی اور خدا ہے) موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے تابعین نے ناحق دنیا میں سر اٹھا رکھا تھا اور یوں سمجھ رہے تھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں ہے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے (تکبر کی سزا میں) اس کو اور اس کے تابعین کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا یعنی غرق کردیا سو دیکھیئے کہ ظالموں کا کیا انجام ہوا (اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کا ظہور ہوگیا) ۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو ایسا رئیس بنانا تھا جو (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے رہے اور (اسی واسطے) قیامت کے روز (ایسے بےکس رہ جاویں گے کہ) کوئی ان کا ساتھ نہ دے گا۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور (یہ لوگ دونوں عالم میں مبتلائے خسران ہوئے چنانچہ) دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت (ف 1) لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بد حال لوگوں میں سے ہوں گے۔ (ف 2)

ف 1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اگلی امتوں (یعنی قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود) کے ہلاک کئے پیچھے کتاب (یعنی توریت) دی تھی جو لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی (ف 3) تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں۔ (ف 4)

ف 3۔ طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے، پھر احکام درست کرتا ہے، یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے، یہ رحمت ہے۔ 4۔ اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا اور لوگ پھر محتاج تجدید ہدایت ہوئے تو اپنی سنت مستمرہ کے موافق ہم نے آپ کو رسول بنایا جس کے دلائل میں ایک یہی واقعہ موسویہ کی یقینی خبر دینا ہے۔
Ayahs 28:44–45

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور آپ (طور کی) مغربی جانب میں موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیے تھے اور (وہاں خاص تو کیا موجود ہوتے) آپ (تو) ان لوگوں میں (بھی نہ تھے جو اس زمانہ میں) موجود تھے۔

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

و لیکن (بات یہ ہے کہ) ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد) بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا (ف 5) اور آپ اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہ تھے کہ آپ (وہاں کے حالات دیکھ کر ان حالات کے متعلق) ہماری آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر سنا رہے ہوں (لیکن) ہم ہی (آپ کو) رسول بنانے والے ہیں۔

ف 5۔ جس سے پھر علوم صحیحہ نایاب ہوگئے، اور لوگ پھر محتاج ہدایت ہوئے، اور گو درمیان انبیاء (علیہم السلام) آیا کئے مگر ان کے علوم بھی اسی طرح نایاب ہوئے، اس لئے ہماری رحمت مقتضی ہوئی کہ ہم نے آپ کو وحی و رسالت سے مشرف فرمایا۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور (اسی طرح) آپ طور کی جانب (غربی مذکور) میں اس وقت (بھی) موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) پکارا تھا لیکن (اس کا علم بھی اسی طرح ہوا کہ) آپ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنائے گئے تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا (نبی) نہیں آیا کیا عجب ہے کہ نصیحت قبول کریں۔ (ف 6)

ف 6۔ حضور ﷺ کے معاصرین بلکہ ان کے آباء اقربین نے بھی کسی نبی کو نہیں دیکھا۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور ہم رسول نہ بھیجتے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے کرداروں کے سبب کوئی مصیبت نازل ہوتی تو یہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم آپ کے احکام کا اتباع کرنے اور (ان کے احکام اور رسول پر) ایمان لانے والوں میں ہوتے۔ (ف 7)

ف 7۔ اگر یہ لوگ ذرا تامل کریں تو سمجھ سکتے ہیں کہ پیغمبر بھیجنے سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کا فائدہ ہے کہ یہ لوگ حسن و قبح پر مطلع ہو کر عقوبت سے بچ سکتے ہیں، ورنہ جن امور کا قبح عقل سے دریافت ہوسکتا ہے اس پر عذاب بلا ارسال بھی ہونا ممکن تھا، لیکن اس وقت ان کو ایک گونہ حسرت ہوتی کہ ہائے اگر رسول آجاتا تو ہم کو زیادہ تنبہ ہوجاتا، اور اس مصیبت میں نہ پڑتے، اس لئے رسول بھی بھیج دیا تاکہ اس حسرت سے بچنا ان کو آسان ہو۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

سو جب ہماری طرف سے ان لوگوں کے پاس امر حق پہنچا (تو اسمیں شبہ نکالنے کے لیے یوں) کہنے لگے کہ ان کو ایسی کتاب کیوں نہ ملی جیسی موسیٰ (علیہ السلام) کو ملی تھی (ف 8) کیا جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو ملی تھی اس کے قبل یہ لوگ اس کے منکر نہیں ہوئے یہ لوگ تو یوں کہتے ہیں کہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم تو دونوں میں سے کسی کو نہیں مانتے۔

ف 8۔ یعنی قرآن دفعة واحدة مثل توراة کے کیوں نہ نازل ہوا۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ اچھا تو (علاوہ توراة و قرآن کے) تم کوئی اور کتاب اللہ کے پاس سے لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا اگر تم (اس دعوی میں (ف 1) سچے ہو) ۔

ف 1۔ غرض یہ کہ میں حق ثابت کردوں تو تم اس کا اتباع کرو اور اگر تم حق ثابت کردو تو میں اتباع کے لئے آمادہ ہوں۔
Ayahs 28:50–51

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر (اس احتجاج کے بعد) اگر یہ لوگ آپ کا (یہ) کہنا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیجیئے کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہو بدولت اس کے کہ منجانب اللہ کوئی دلیل (اس کے پاس) ہو (اور) اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم نے اس کلام (یعنی قرآن) کو ان لوگوں کے لیے وقتاً فوقتاً یکے بعد دیگرے بھیجا تاکہ یہ لوگ (بار بار تازہ بتازہ) سننے سے نصیحت مانیں۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی ہم تو دفعة واحدة بھیجنے پر بھی قادر ہیں مگر ان ہی کی مصلحت سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں۔
Ayahs 28:52–56

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (آسمانی) کتابیں دی ہیں ان میں جو منصف ہیں وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے (جو) ہمارے رب کی طرف سے (نازل ہوا ہے اور) ہم تو اس (کے آنے سے) پہلے ہی مانتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو انکی پختگی کی وجہ سے دہرا ثواب ملے گا اور وہ لوگ نیکی (اور تحمل) سے (بدی اور ایذا) کا دفعیہ کردیتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب لغو بات سنتے ہیں تو اس کو ٹال جاتے ہیں اور (سلامت روی کے طور پر) کہہ دیتے ہیں کہ (ہم کچھ جواب نہیں دیتے) ہمارا کیا ہمارے سامنے آوے گا اور تمہارا کیا تمہارے سامنے آوے گا (بھائی) ہم تم کو سلام کرتے ہیں ہم بےسمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدیت کردیتا ہے اور ہدایت پانے والوں کا علم (بھی) اسی کو ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی ہدایت کرنے کی قدرت تو بجز خدا کے کسی کو کیا ہوتی کسی کو اس کا علم تک بھی تو نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر (اس دین کی) ہدایت پر چلنے لگیں توفی الفور اپنے مقام سے مار کر نکال دیئے جائیں گے کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے (یعنی ہماری قدرت اور رزاقی سے) کھانے کو ملتے ہیں و لیکن ان میں اکثر لوگ (اس کو) نہیں جانتے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی حرم ہونے کی وجہ سے جس کا سب احترام کرتے ہیں، لحوق مضرت کا بھی اندیشہ نہیں، اور اس مضرت کے منتفی ہونے کی وجہ سے احتمال فوت منفعت رزق کا بھی نہیں، پس ان کو چاہئے تھا کہ اس حالت کو غنیمت سمجھتے اور اس کو نعمت سمجھ کر قدر کرتے اور ایمان لے آتے، لیکن وہ اس کا خیال نہیں کرتے۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھے سو (دیکھ لو) یہ ان کے گھر (تمہاری آنکھوں کے سامنے پڑے) ہیں کہ ان کے بعد آباد ہی نہ ہوئے مگر تھوڑی دیر کے لیے (ف 1) اور آخر کار (ان کے ان سب سامانوں میں) ہم ہی مالک رہے۔

ف 1۔ یعنی کسی مسافر کا اتفاقا ادھر کو گزر ہوجاوے اور وہ تھوڑی دیر وہاں سستانے کو پا تماشا دیکھنے کو بیٹھ جاوے۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب بستیوں کو (اول ہی بار میں) ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان میں (ان بستیوں) کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے وہ ان لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم ان بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے (ف 2) مگر اسی حالت میں کہ وہاں کے باشندے بہت ہی شرارت کرنے لگیں۔

ف 2۔ یعنی ایک مدت معتد بہ تک بار بار کی تذکیر سے تذکر حاصل نہ کریں، اس وقت ہلاک کردیتے ہیں، اسی قانون کے موافق تمہارے ساتھ عملدرآمد ہورہا ہے۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا وہ محض (چند روزہ) دنیوی زندگی برتنے کے لیے ہے اور یہیں کی (زیب و) زینت ہے (ف 3) اور جو (اجر وثواب) اللہ کے یہاں ہے وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور زیادہ (یعنی ہمشہ) باقی رہنے والا ہے کیا تم لوگ نہیں سمجھتے۔

ف 3۔ یعنی خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجاے گا۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے (ف 4) پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں سے ہوگا جو گرفتار کر کے لائے جاویں گے۔

ف 4۔ مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے، اور دوسرے سے مراد کافر ہے جو مجرم ہو کر آوے گا۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کو تم (ہمارا شریک) سمجھ رہے تھے۔ (ف 5)

ف 5۔ مراد اس سے شیاطین ہیں کہ ان ہی کی اطاعت مطلقہ سے شکر کرتے تھے اس لئے ان کا شرکاء کہا۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

جن پر خدا کا فرمودہ ثابت ہوچکا ہوگا وہ بول اٹھیں گے اے ہمارے پروردگار بیشک یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ہم نے ان کو ویسا ہی بہکایا جیسا ہم خود بہکے تھے اور ہم آپ کی پیشی میں ان سے دستبرداری کرتے ہیں اور یہ لوگ ہم کو نہ پوجتے تھے۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی جب یہ اپنے اختیار سے بہکے ہیں نہ کہ مجرد ہمارے بہکانے سے تو اس اعتبار سے یہ خواہش پرست تھے نہ صرف شیطان پرست، مطلب یہ کہ یہ خود اپنی خواہش سے خراب ہوئے، اس درجہ میں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں، البتہ جس قدر ہماری خطاء ہے کہ ہم نے ان کو اغا کیا اس کے ہم مقر ہیں، مقصود اس سب حکایت سے یہ ہے کہ جن کے بھروسے پر بیٹھے ہیں وہ ان سے کانوں پر ہاتھ رکھیں گے۔
Ayahs 28:64–66

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور (اس وقت ان مشرکین سے تحکماً ) کہا جائے گا کہ (اب) ان شرکاء کو بلاؤ چناچہ وہ (افراط حیرت سے بالاضطرار) ان کو پکاریں گے سو وہ جواب بھی نہ دیں گے اور (اس وقت) یہ لوگ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں گے اے کاش یہ لوگ (دنیا میں) راہ راست پر ہوتے (تو یہ مصیبت نہ دیکھتے) ۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان کافروں سے پکار کر پوچھے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا۔

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

سو اس روز ان (کے ذہن) سے سارے مضامین گم ہوجاویں گے تو وہ (نہ خود سمجھیں گے اور) آپس میں پوچھ پاچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ (ف 7)

ف 7۔ اوپر توبیخ علی الشرک کی حکایت میں شرک کی مذمت مذکور ہوئی ہے، آگے توحید کا اور اس کے ضمن میں انعامات و احسانات کا اثبات ہے۔
Ayahs 28:67–70

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جو شخص توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کیا کرے تو ایسے لوگ امید ہے کہ (آخرت میں) فلاح پانے والے لوگوں میں سے ہوں گے۔

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جس حکم کو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے ان لوگوں کو تجویز (احکام) کا کوئی حق حاصل نہیں اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا رب سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ رہتا ہے اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں۔

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور اللہ وہی ( ذات کامل الصفات) ہے اس کے سوا کوئی معبود (ہونے کے قابل) نہیں حمد (وثناء) کے لائق دنیا و آخرت میں وہی ہے (ف 1) اور حکومت بھی اسی کی ہوگی اور تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔

ف 1۔ کیونکہ اس کے تصرفات دونوں عالم میں ایسے ہیں جو دال ہیں صفات کمال پر کہ مدار ہیں اہلیت حمد کے۔
Ayahs 28:71–72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

آپ (ان لوگوں سے کہہ دیجیئے) کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات رہنے دے تو خدا کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی کو لے آوے تو کیا تم (توحید کے ایسے صاف دلائل کو) سنتے نہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

آپ کہیے کہ یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن رہنے دے (ف 2) تو خدا کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لے آوے جس میں تم آرام پاؤ کیا تم (اس مشاہدہ قدرت کو) دیکھتے نہیں۔

ف 2۔ رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے، یا اس کا نور سلب کرلے، اور دن کا ہمیشہ ہونا اس طرح کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے، یا بلا شمس ایسا نور پیدا کر دے۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور (وہ منعم ایسا ہے کہ) اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور تاکہ (دن میں) اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (ان دونوں نعمتوں پر) تم (الله) کا شکر ادا کرو۔ (ف 3)

ف 3۔ کل صفات کمال جو اس مقام پر استدلال کے لئے مذکور ہیں یہ ہوئے۔ (1) خالق ہونا (2) مختار تشریع ہونا (3) علم (4) حکومت (5) قوت و وسعت سلطنت (6) قدرت کا اضافہ نعمت۔
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرماوے گا کہ جن کو تم میرے شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے۔

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ نکال کر لائیں گے (ف 4) پھر ہم کہیں گے کہ اپنی (کوئی) دلیل پیش کرو سو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات خدا ہی کی تھی اور (دنیا میں) جو کچھ باتیں گھڑا کرتے تھے (آج) کسی کا پتہ نہ رہے گا۔ (ف 5)

ف 4۔ مراد اس سے انبیاء میں کہ وہ ان کے کفر کی گواہی دیں گے۔ 5۔ کیونکہ انکشاف حق کے لئے باطل کا غائب ہوجانا لازم ہے۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری میں سے تھا سو (وہ کثرت مال کی وجہ سے) ان لوگوں کے مقابلے میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور شخصوں کو گرا نبار کردیتی تھیں (ف 6) جب کہ اس کو اس کی برادری نے (سمجھانے کے طور پر) کہا کہ تو (اس مال و حشمت پر) اترا مت واقعی اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ف 6۔ یعنی ان سب بتکلف اٹھتی تھیں، تو جب کنجیاں اس کثرت سے تھیں تو ظاہر ہے کہ خزانے بہت ہی ہوں گے۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

(اور یہ بھی کہا) تجھ کو خدا نے جتنا دے رکھا ہے اس میں عالم آخرت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) فراموش مت کر اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (بندوں کے ساتھ) احسان کیا کر اور دنیا میں فساد کا خواہاں مت ہو (ف 1) بیشک اللہ تعالیٰ اہل فساد کو پسند نہیں کرتا۔

ف 1۔ یعنی گناہ کرنے سے دنیا میں فساد ہوتا ہے۔