27. Surah An-Naml
النملThe Ant · 93 ayahsبیان القرآن
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader
طس، یہ آیتیں (جو آپ پر نازل کی جاتی ہیں قرآن کی (ہیں) اور ایک واضح کتاب کی۔ (ف 6)
هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader
یہ ( آیتیں) ایمان والوں کے لیے (موجب) ہدایت اور مژدہ سنانے والی ہیں۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader
جو (مسلمان) ایسے ہیں کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ آخرت پر (پورا) یقین رکھتے ہیں (یہ تو ایمان والوں کی صفت ہے) ۔
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظر میں مرغوب کر رکھے ہیں سو وہ (اپنے اس جہل مرکب میں حق سے دور) بھٹکتے پھرتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader
یہ وہ لوگ ہیں جنکے لیے (مرنے کے وقت بھی) سخت عذاب ہے اور وہ لوگ آخرت میں (بھی) سخت خسارہ میں ہیں (کہ کبھی نجات نہ ہوگی) ۔
وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader
اور آپکو بالیقین ایک بڑے حکمت والے علم والے کی جانب سے قرآن دیا جا رہا ہے (لہذا آپ ان کے انکار سے غمگین نہ ہوجیئے۔
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader
(اس وقت کا قصہ یاد کیجیے) جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں ابھی (جا کر) وہاں سے (یا تو راستہ کی) کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس (وہاں سے) آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینکو۔
فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader
سو جب اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب الله) آواز دی گئی کہ جو اس آگ کے اندر ہیں (یعنی فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس کے پاس (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اس پر بھی برکت ہو یہ دعا بطور تحیہ وسلام کے ہے اور رب العالمین پاک ہے۔ (ف 1)
یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader
اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں (جو بےکیف کلام کر رہا ہوں) (الله ہوں) زبردست حکمت والا۔
وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader
اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو سو جب انہوں نے اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا کہ) اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈرو نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے۔ (ف 2)
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader
ہاں مگر جس سے کوئی قصور (یعنی لغزش سرزد) ہوجائے (ف 3) پھر برائی (ہوجانے کے) بعد بجائے اس کے نیک کام کرے (یعنی توبہ کرے) تو میں مغفرت والا رحمت والا ہوں۔ (ف 4)
وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader
اور تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے جاؤ (اور پھر نکالو تو) وہ بلا کسی عیب (یعنی بلا کسی مرض برص وغیرہ) کے روشن ہو کر نکلے گا نو معجزوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ تم کو) فرعون اور اس قوم کی طرف (بھیجا جاتا ہے کیوں کہ) وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader
غرض ان لوگوں کے پاس جب ہمارے (دیے ہوئے) معجزے پہنچے جو نہایت واضح (تھے) تو وہ لوگ (ان سب کو دیکھ کر بھی) بولے یہ صریح جادو ہے۔
وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader
(اور غضب تو یہ تھا کہ) ظلم اور تکبر کی راہ سے ان (معجزات) کے (بالکل) منکر ہوگئے حالانکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا سو دیکھیے کیسا (برا) انجام ہوا ان مفسدوں کا۔ (ف 5)
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader
اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو (شریعت اور ملک داری کا) علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے (اپنے شکر کے لیے) کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزا وار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت دی۔
وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader
اور داؤد (علیہ السلام) (کی وفات کے بعد ان) کے قائم مقام سلیمان (علیہ السلام) ہوئے اور انہوں نے ( اظہار شکر کے لیے) کہا کہ اے لوگو ہم کو پرندوں کی بولی (سمجھنے) کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم کو (سامان سلطنت کے متعلق) ہر قسم کی (ضروری) چیزیں دی گئی ہیں واقعی یہ (الله تعالیٰ ) کا صاف فضل ہے۔
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader
سلیمان (علیہ السلام) کے لیے (جو) ان کا لشکر جمع کیا گیا (تھا ان میں) جن بھی (تھے) اور انسان بھی اور پرندے بھی (جو کسی بادشاہ کے مسخر نہیں ہوتے) اور ( پھرتے بھی اس کثرت سے تھے) کہ ان کو (چلنے کے وقت) روکا جاتا تھا۔ (ف 6)
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے ایک میدان میں آئے تو ایک چیونٹی نے (دوسری چیونٹوں سے) کہا کہ اے چیونٹیو اپنے اپنے سوراخوں میں جا گھسو کہیں تم کو سلیمان (علیہ السلام) اور انکا لشکر بیخبر ی میں نہ کچل ڈالیں۔ (ف 1)
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader
سو سلیمان (علیہ السلام) اس کی بات سے مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے رب مجھ کو اس پر مداومت دیجیئے کہ آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور (اس پر بھی مداومت دیجیئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں اور مجھ کو اپنی رحمت (خاصہ) سے اپنے (اعلیٰ درجے کے) نیک بندوں میں داخل رکھیے۔
وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader
اور ( ایک باریہ قصہ ہوا کہ) سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی حاضری لی تو ہد ہد کو نہ دیکھا فرمانے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا کیا کہیں غائب ہوگیا ہے۔ (ف 2)
لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader
میں اس کو (غیر حاضری پر) سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا کوئی صاف حجت ( اور عذر غیر حاضری کا) میرے سامنے پیش کرے۔ (ف 3)
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader
سو تھوڑی ہی دیر میں وہ آگیا اور (سلیمان (علیہ السلام) سے) کہنے لگا کہ میں ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں ہوئی اور (اجمالی بیان اسکا یہ ہے کہ) میں آپ کے پاس قبیلہ سبا کی ایک تحقیقی خبر لایا ہوں۔ (ف 4)
اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader
میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں پر بادشاہی کر رہی ہے اور اس کو (سلطنت کے لوازم میں سے) ہر قسم کا سامان میسر ہے اور اس کے پاس ایک بڑا (اور قیمتی تخت) ہے۔
وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader
میں نے اس کو اور اس (عورت) کی قوم کو دیکھا کہ وہ خدا کی عبادت) کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے ان اعمال (کفریہ) کو ان کی نظر میں مرغوب کر رکھا ہے اور ان کو راہ (حق) سے روک رکھا ہے سو وہ راہ (حق) پر نہیں چلتے۔
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader
کہ خدا کو سجدہ نہیں کرتے (جو ایسا قادر ہے کہ) آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو (جن میں بارش اور نباتات بھی ہے) باہر لاتا ہے اور (ایسا عالم ہے کہ) تم لوگ جو کچھ (دل میں) پوشیدہ رکھتے ہو اور (جو کچھ زبان وغیرہ سے) ظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader
(پس) اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader
سلیمان (علیہ السلام) نے یہ سن کر فرمایا کہ ہم ابھی دیکھے لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے۔
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader
(اچھا) میرا یہ خط لے جا اور اس کو اس کے پاس ڈال دینا پھر (ذرا وہاں سے) ہٹ جانا اور پھر دیکھنا کہ آپس میں کیا سوال و جواب کرتے ہیں۔ (ف 5)
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader
بلقیس نے (پڑھ کر اپنے سرداروں سے مشورہ کے لیے) کہا کہ اے اہل دربار میرے پاس ایک خط (جس کا مضمون نہایت) با وقعت (ہے) ڈالا گیا ہے۔ (ف 6)
اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader
وہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس میں یہ (مضمون) ہے (اول) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader
(اور اس کے بعد یہ کہ) تم لوگ (یعنی بلقیس اور سب اعیان سلطنت جن کے ساتھ عوام بھی وابستہ ہیں) ۔
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader
میرے مقابلے میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر چلے آؤ بلقیس نے کہا کہ اہل دربار تم مجھ کو اس معاملے میں رائے دو (کہ مجھ کو سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے اور) میں کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو۔
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader
وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں اور (آئندہ) اختیار تم کو ہے سو تم ہی (مصلحت) دیکھ لو جو کچھ (تجویز کر کے) حکم دینا ہو۔
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader
بلقیس کہنے لگی کہ والیان ملک (کا قاعدہ ہے کہ) جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں جو عزت دار ہیں ان کو (ان کا وزن گھٹانے کے لیے) ذلیل کیا کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔
وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader
اور میں ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ وہ فرستاوے (وہاں سے) کیا (جواب) لے کر آتے ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader
سو جب فرستادہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور (تحفے پیش کیے) (تو سلیمان (علیہ السلام) نے) فرمایا کہ کیا تم لوگ (یعنی بلقیس وغیرہ) مال سے میری امداد کرتے رہتے ہو سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ نے جو مجھ کو دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دے رکھا ہے (ف 1) ہاں تم ہی اپنے اس ہدیہ پر اتراتے ہوگے۔
اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader
(سو یہ تحفے ہم نہ لیں گے) تم (ان کو لے کر) ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ سو ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا مقابلہ نہ ہو سکے گا ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ (ہمیشہ کے لیے) ماتحت ہوجائیں گے۔
قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader
سلیمان (علیہ السلام) (کو وحی سے یا کسی اور طیر وغیرہ کے ذریعہ سے اس کا چلنا معلوم ہوا تو انہوں نے) فرمایا کہ اہل دربار تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اس (بلقیس) کا تخت قبل اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آویں حاضر کر دے۔
قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader
ایک قوی ہیکل جن نے جواب میں عرض کیا کہ میں اس کو آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور میں طاقت رکھتا ہوں امانت دار (بھی) ہوں۔